نفرت کا زہر

Sublimegate Urdu Stories

کاشف سے میری ماں کی مالاقات حج کے دوران ہوئی اور ماں نے دل میں ٹھان لی کہ اسے اپنا داماد بنائے گئی۔ آخر ماں نے اسے شیشے میں اتار لیا اور کاشف نے گھر والوں سے چوری چھپے مجھ سے شادی کر لی۔ ماں نے میرے دماغ میں سسرال والوں کے لئے خوب زہر بھر دیا۔ وپ مجھے اپنے ساتھ جدہ لے گئے لیکن اچانک ایک دن ان کی کار کو شدید حادثہ پیش آیا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ میری زندگی کی بھیانک شروعات ہو چکی تھیں۔
👇cknwrites👇 
آپا کی صورت لاکھوں میں ایک تھی۔ کسی کی شادی میں اقبال بھائی نے انہیں دیکھا، تبھی سے دل میں بسا لیا اور اسی کے پاس رشتہ بھیج دیا۔ امی کو گھر داماد کی ضرورت تھی کیونکہ والد صاحب وفات پا چکے تھے اور بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ گھر میں کوئی مرد موجود نہ تھا اور ہمیں سہارے کی ضرورت تھی۔ ہم معاشی طور پر خود کفیل تھے۔ والد صاحب دو دکانیں اور ایک مکان چھوڑ گئے تھے جن کے کرایے پر گزر بسر ہو رہی تھی۔ اقبال بھائی بھی اکیلے تھے۔ ان کے والدین وفات پا چکے تھے۔ ان کی پھوپھی نے انہیں پالا تھا اور انہی نے ان کی شادی بھی کروائی۔ وہ امی کی پرانی واقف کار تھیں۔ انہوں نے اقبال بھائی کو سمجھایا کہ اب تمہیں میری اور مجھے تمہاری ضرورت نہیں رہی، میری اپنی اولاد موجود ہے، تم اپنا گھر بساؤ۔

 جب یہ بات دلہا بھائی کی سمجھ میں آئی تو انہوں نے گھر داماد بننا قبول کر لیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ ہم بے سہارا لوگوں کے لیے نیکی تھی۔ شادی کے بعد انہوں نے میری ماں کو حج بھی کروایا۔ جب امی حج پر جا رہی تھیں تو بہت خوش تھیں۔ سچ ہے کہ اتنا اچھا داماد قسمت والوں کو ملتا ہے۔ اب امی جان کو میری فکر رہنے لگی تھی۔ دلہا بھائی کے جاننے والے سعودی عرب میں تھے۔ انہی کے ذریعے امی جان کی ملاقات ایک واقف فیملی سے ہوئی۔ اس فیملی کا بھانجا کاشف بہت اچھا لڑکا تھا اور روزگار کے سلسلے میں وہاں مقیم تھا۔ حج کے دوران کاشف نے امی جان کی بہت خدمت کی اور ان کا دل جیت لیا۔ امی کو وہ بیٹوں جیسا لگا۔ انہوں نے کاشف سے وعدہ لیا کہ جب تم پاکستان آؤ تو میرے پاس ضرور آنا۔ چار ماہ بعد وہ پاکستان آیا تو ہمارے گھر بھی آیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اتنا مالدار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان کس قدر سادہ اور نیک دل ہے۔ اس میں ذرا بھی بناوٹ نہیں تھی۔جب امی جان نے اپنی مجبوریاں بتا کر اسے داماد بنانے کی خواہش ظاہر کی تو وہ سوچ میں پڑ گیا۔

 امی کو میرے رشتے کی فکر دن رات کھائے جا رہی تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے میں ہمدردی سے سوچے گا، مگر فیصلہ کرنے کے لیے اسے کچھ وقت چاہیے۔امی ان دنوں بہت مضطرب تھیں۔ چاہتی تھیں کہ کسی طرح کاشف کو راضی کر لیں اور وہ نکاح کر کے ہی جائے۔ وہ ہر طرح سے اس کا دل جیت لینا چاہتی تھیں۔ کاشف پندرہ روز ہمارے گھر ٹھہرا۔ اس دوران امی نے اس کی ایسی خاطر تواضع کی کہ میں حیران رہ گئی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ماں میری خاطر کسی کی اتنی خوشامد کر سکتی ہے۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ صرف آپا سے محبت کرتی ہیں۔امی جہاندیدہ عورت تھیں، وہ اس معاملے کو راز میں رکھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے اقبال بھائی سے بھی یہ بات چھپا لی اور کاشف سے کہا کہ ابھی کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ پندرہ روز بعد امی نے کاشف کو فون کیا۔بیٹا، میں دل کی مریضہ ہوں، میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ تم جلدی بتاؤ کہ تم نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ میں بیمار ہوں، تاخیر سے مجھے پریشانی ہوگی۔ بہتر ہے تم ہاں یا نہ جو بھی کہنا ہے، ابھی کہہ دو تاکہ میں امید میں نہ رہوں۔ میں بے آسرا عورت ہوں، چاہتی ہوں مرنے سے پہلے اپنی جوان بیٹی کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار دوں۔

امی نے کچھ اس طرح رقت سے بات کی کہ کاشف کو ہاں کہتے ہی بنی۔ اس وقت لوہا گرم تھا، چوٹ لگانے سے کام بن گیا۔ ہمدردی کے جذبات سے سرشار اس نوجوان نے ایک مجبور بیوہ کا دل رکھ لیا۔ امی نے اسے اتنی مہلت بھی نہ دی کہ وہ اپنے والدین کو ہمارے حالات سے آگاہ کر سکتا۔ امی کا خیال تھا کہ اگر وہ والدین کو بتائے گا تو وہ کاشف کی شادی میں رکاوٹ ڈال دیں گے۔ان کی کاوشیں رنگ لائیں اور آناً فاناً میری شادی ہوگئی۔ یہ شادی صیغۂ راز میں رہی۔ وہ تین ماہ بعد آنے کا وعدہ کر کے جدہ روانہ ہوگئے۔ امی نے سکون کا سانس لیا۔ اب میں سہاگن تھی اور میری ماں خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ وہ بڑے فخر سے کہتی تھیں کہ مجھے دونوں داماد ایسے ملے ہیں جو میرے گھر کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ماں کی بات درست تھی۔ اقبال بھائی نے اپنوں کو ہماری خاطر چھوڑ دیا تھا اور اب کاشف بھی اپنے والدین سے کٹ چکے تھے۔ امی جان نے ایک بات میرے ذہن میں اچھی طرح بٹھا دی تھی کہ سسرال والوں کو زیادہ لفٹ نہیں کرانا، ورنہ وہ تیرے میاں کی کمائی لوٹ جائیں گے۔ میں ان دنوں سترہ برس کی تھی۔ عقل سے نہیں سوچتی تھی۔ جو ماں کہتی، میں اس پر بنا چون و چرا عمل کرتی۔ امی جان نے مجھے سکھا دیا تھا کہ ساس سسر کے خطوط شوہر تک نہ پہنچنے دینا۔ اگر وہ رہنے آئیں تو ان سے سیدھے منہ بات نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے گلے پڑ جائیں گے۔

ٹھیک تین ماہ بعد کاشف جدہ سے لوٹے۔ انہوں نے والدین کو بتا دیا تھا کہ وہ شادی کر چکے ہیں۔ والدین کی آرزو تھی کہ بیٹے کا سہرا اپنی آنکھوں سے دیکھیں، لیکن جب پتا چلا کہ بیٹے نے انہیں اپنی خوشی میں شامل کیے بغیر ہی یہ کام کر لیا ہے تو وہ سخت آزردہ ہوئے۔ تاہم مجھے دیکھتے ہی ان کی تمام آزردگی دور ہوگئی۔ انہوں نے مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور سونے کے زیورات بھی دیے۔ میری ساس کی آرزو تھی کہ وہ بیٹے کی اچھی سی بارات بنائیں اور دھوم دھام سے بہو کو بیاہ کر لائیں۔ انہوں نے یہ خواہش بھی پوری کر لی۔ مجھے خود بازار لے کر گئیں، عمدہ جوڑے خریدے، مٹھائی بانٹی، غرض اپنی خوشی پوری کی۔ میں مانتی ہوں کہ میں ان دنوں بہت نادان تھی۔ ساس سسر اور ان کے گھر والوں کا حسنِ سلوک بھی میرے دل کو موم نہ کر سکا۔ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھی، جو ماں نے سکھایا، وہی میرے دل پر پتھر کی لکیر بن گیا۔

 سسرال میں پندرہ دن شہزادیوں کی طرح گزرے، پھر ہم جدہ روانہ ہوگئے۔ جب میں روانہ ہونے لگی تو ساس مجھے گلے لگا کر رونے لگیں اور بولیں کہ بیٹی، ہمارا دل تجھ سے لگ گیا تھا۔ تیرے آنے سے رونق ہوگئی تھی اور تیرے جانے سے ہمارا گھر سونا ہو گیا ہے۔ وہاں جا کر خط لکھنا، ہمیں بھول نہ جانا۔ ساس ماں کی جگہ ہوتی ہے، مگر میں ان کے احسانات کو نہ سمجھ سکی۔ ان کی محبت کو خوشامد جانا، ان کے آنسوؤں اور دعاؤں کی قدر نہ کی۔جدہ میں میرے خاوند اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ میں نے اتنی سہولتیں خواب میں بھی نہ دیکھی تھیں۔ میں بہت خوش قسمت تھی، میری تقدیر کھل گئی تھی۔ کاشف میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ نجی خطوط گھر کے پتے پر منگواتے تھے۔ میں ان کے والدین کے خطوط کھول کر پڑھتی اور پھاڑ دیتی۔ انہیں نہ بتاتی کہ ان کے والدین اداس ہیں یا انہیں کوئی تکلیف ہے۔ ہم دس سال جدہ میں رہے۔ وہ تین بار پاکستان آئے، لیکن میں سسرال نہ گئی۔

میں نے کاشف کو مجبور کیا کہ وہ میری والدہ کے گھر ٹھہریں۔ اپنے والدین سے ملنے وہ ایک دو بار سرسری طور پر ہی گئے۔ اب میں چار بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ انہیں بھی میں ددھیال نہ جانے دیتی تھی، اور یہ سب میری والدہ کی منشاء تھی۔ ان کا خیال تھا کہ بچے دادا دادی سے دور رہیں، ورنہ وہ بچوں کی محبت کا بہانہ بنا کر ہمارے گھر گھسنے کی کوشش کریں گے۔ انسان خطا کا پتلا سہی، لیکن جب رعونت حد سے بڑھ جائے تو خدا کی بے آواز لاٹھی اس کے سر پر آتی ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ دوسرے انسانوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ سُکھ کے دن تھوڑے ہوتے ہیں۔ میری بادشاہی بھی اس دن ختم ہوگئی جس دن کاشف کی کار حادثے کا شکار ہوئی اور وہ ناگہانی طور پر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ سارے چراغ یک لخت گل ہوگئے۔ میرے چاروں طرف اندھیرا پھیل گیا۔ میں دیارِ غیر میں تنہا اور غیر محفوظ ہوگئی۔ ایسے برے وقت میں کاشف کے چند دوست کام آئے۔ انہوں نے میرے اور بچوں کے پاکستان آنے کا انتظام کیا اور جو رقم کمپنی نے دینی تھی وہ بھی ان کی کوششوں سے مجھے مل گئی۔ میں جتنا عرصہ جدہ میں رہی، ہمیشہ والدہ اور بھائیوں کو تحفے، تحائف اور رقوم بھیجتی رہی۔ دراصل والدہ کا گھر میرے خاوند کی کمائی سے چلتا تھا۔ اب مجھ پر برا وقت آیا تو مجھے میکے کی طرف دیکھنا پڑا۔ میری بڑی آؤ بھگت ہوئی، بھائیوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ماں نے بھی پذیرائی کی۔ 

وہ رقم جو کمپنی والوں نے ادا کی تھی، والدہ نے لے لی۔ کہنے لگیں، اگر تمہارے سسرال والوں کو پتا چل گیا تو وہ اس رقم کے دعویدار بن جائیں گے، لہٰذا یہ پیسہ میرے نام جمع کروا دو۔ یوں امی نے رقم بڑے بیٹے کے نام جمع کروا دی۔ اب بھائی مجھے ہر ماہ قلیل رقم بچوں کے خرچ کے لیے دیتے تھے۔ میرے بچے عیش و آرام میں پلے تھے، انہوں نے تنگی نہیں دیکھی تھی۔ اب وہ جھوٹی جھوٹی خواہشات کے لیے ترس رہے تھے۔ میرے ساس سسر ایک بار ملنے آئے تو والدہ نے بچوں کو آپا کے پاس بھجوا دیا اور ان سے ملاقات نہ ہونے دی۔ خود بھی نہ ملیں اور مجھے بھی کہا کہ زیادہ لفت کرانے کی ضرورت نہیں۔ کہنے لگیں، جس کے ساتھ ناتا تھا جب وہی نہ رہا، تو اب ان لوگوں کی کہاں گنجائش ہے۔ وہ سیدھے سادے، شریف لوگ تھے۔ مجھ سے کہا، بہو، اگر ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں، بلا تکلف بتا دینا کہ تمہیں کیا چاہیے۔ امی نے بعد میں مجھے سمجھایا کہ یہ تمہارا دل جیتنے کو ایسا کہہ رہے ہیں۔
ان کو پتا تھا کہ مجھے کمپنی سے کافی پیسہ ملا ہے۔ اب میں لاکھوں کی آسامی تھی۔ امی کا کنٹرول میرے دل و دماغ پر بچپن سے تھا۔ ماں قابلِ احترام ہستی ہے، مجھے ان کی برائی مقصود نہیں، لیکن کبھی کبھی یہی ہستی بہت ظالم ہو جاتی ہے۔ جب اپنے بیٹوں کی خاطر خود غرض بن جائے اور بیٹی کا حق غصب کر لے۔امی بیٹے کے لیے اونچے گھروں میں رشتہ تلاش کر رہی تھیں تاکہ ان کو مضبوط سہارا مل جائے۔ بھائی سارا دن میری ہی گاڑی پر گھومتے پھرتے اور میرے بچے پیدل اسکول جاتے۔ میں چپ تھی، اُف تک نہیں کر سکتی تھی۔ ماں جیسا چاہتی تھیں، ویسا ہی کرتی تھی۔ انہوں نے ایک خوشحال گھرانے میں بڑے بھائی کا رشتہ کر دیا۔ زیور اور بری سب میرے پیسوں سے بنوائی گئی اور دلہن کا کمرہ بھی سجا دیا گیا۔ گھر کی دوبارہ تعمیر بھی کروا لی۔ اچھے گھروں میں رشتے ہوں تو خرچے بھی اچھے کرنے پڑتے ہیں۔ بھائی کی شادی پر ماں نے دل کھول کر خرچ کیا، شاندار ولیمہ دیا۔ میں اپنے بچوں کا حق مارے جانے پر مہر بہ لب تھی۔ یہ وہ رقم تھی جس سے میرے بچوں کا مستقبل وابستہ تھا، اور ماں مجھے جھوٹی تسلیاں دیتی تھیں کہ حوصلہ رکھ، تیری ایک ایک پائی چکا دوں گی۔ تیرے بھائی جیتے رہیں گے، کما کر تیرا قرضہ ادا کر دیں گے۔ جب تیرے بچے جوان ہوں گے تو تیرے بھائی اس قابل ہو جائیں گے کہ انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد کر سکیں۔

روپیہ کچی مٹی کے ڈھیلے کی طرح بکھرتا رہا۔ بھائیوں نے گھر درست کرایا اور دو مکان، جو کرایے پر لگے ہوئے تھے، آپس میں بانٹ لیے۔ مجھے والد اور والدہ کی جائیداد سے بھی محروم کر دیا گیا۔ میں اور امی بچوں کے ساتھ اسی پرانے گھر میں رہتے رہے، اور بھائی اپنی بیویوں کے ہمراہ بڑے مکانوں میں جا بسے۔ گویا آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل  ہم بھی اوجھل ہو گئے۔ جب وہ اپنے گھروں میں آباد ہو گئے تو انہوں نے مجھے اور ماں کو بھلا دیا۔ میری رقم سے انہوں نے اپنی زندگیاں سنوار لیں، آسائشیں حاصل کر لیں، اور اس کے بعد پلٹ کر بھی نہ دیکھا کہ بہن اور اس کے یتیم بچے کس حال میں ہیں۔ جب میرا بیٹا وسیم پانچویں جماعت میں تھا، تو میں کوڑی کوڑی کی محتاج ہو چکی تھی۔ پڑھی لکھی نہ تھی کہ کہیں ملازمت کی کوشش کرتی۔ ماں سے کچھ کہتی تو وہ اپنی مجبوری ظاہر کرتیں، کبھی بیٹوں کو، کبھی مجھے برا بھلا کہتیں۔ وہ خود اب کوڑی کوڑی کی محتاج ہو چکی تھیں۔ تمام روپیہ اپنے بیٹوں کو کھلا بیٹھی تھیں۔اب کوئی راستہ نہ تھا۔ ادھر یہ حال کہ میرے بچے تعلیمی اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے اسکول سے باہر ہو چکے تھے۔ میں کئی بار بھائیوں کے پاس گئی۔ انہوں نے آئیں بائیں شائیں کی، اور بھابھیوں نے تو پانی تک کا نہ پوچھا۔ بھائی بولے، ابھی ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہیں، جب پیسے آئیں گے، لوٹا دیں گے۔

تھک ہار کر گھر بیٹھ گئی۔ اب فاقوں کی نوبت آ گئی تھی۔ بیوگی کے کڑے حالات میں ایک روز سسر صاحب کا خیال آیا۔ میں نے ساس سسر میں برائیاں تلاش کرنے کی کوشش کی مگر کوئی برائی نہ ڈھونڈ سکی۔ اب دل کی عدالت میں خود کو مجرم پایا۔ ان کا کیا قصور تھا؟ وہ تو محبت کرتے تھے میرے بچوں سے، پیار کرتے تھے، انہیں گود میں لینے کو ترستے تھے۔ لیکن میں نے کیا کیا؟ میں نے ان کی اولاد کو ان سے دور رکھا اور بچوں کو انہیں چھونے تک نہ دیا۔
ایک دن میں بازار سے گزر رہی تھی، چھوٹے بیٹے کی دوا لینی تھی کہ اچانک سسر صاحب کلینک پر مل گئے۔ مجھے دیکھ کر فوراً میری طرف آئے اور بولے، کیا بات ہے بہو؟ خیریت تو ہے؟میں نے کہا، خرم بیمار ہے، اس کی دوا لینی تھی۔ یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ بھی مجھے رنجیدہ دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔ کہنے لگے، آؤ، میں ڈاکٹر کو دکھا دیتا ہوں، یہ ڈاکٹر میرا بیٹا بنا ہوا ہے۔انہوں نے پوتے کو گود میں اٹھا لیا۔ وہ بخار سے تپ رہا تھا۔ ڈاکٹر کو دکھایا، پھر بولے، بیٹی، ناراض نہ ہونا۔ اگر کہو تو دو منٹ کے لیے گھر چلیں، بچوں کی دادی ان کے لیے بہت اداس ہے۔ انہیں دیکھنے کو ہماری آنکھیں ترستی رہتی ہیں۔انہوں نے میرے لباس اور بچوں کے نحیف و نزار جسم دیکھ کر ہماری خستہ حالی کا اندازہ لگا لیا تھا۔ میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر ان کے گھر چلی گئی۔ جیسے ہی میں نے دروازے سے گھر میں قدم رکھا، میری ساس نے کہا بسم اللہ، خدا تمہیں سلامت رکھے۔ آج میری آنکھیں روشن ہو گئی ہیں، تم کیسے آ گئیں؟ یقین نہیں آتا۔وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور لپک کر میرے بیٹے کو گود میں بھر لیا، سینے سے لگایا، پیار کرتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں۔ اپنے مرحوم بیٹے کی اولاد میں وہ اپنے بیٹے کی روح کو تلاش کرتی جاتی تھیں۔

یہ منظر دیکھ کر میں رونے لگی اور خود کو لعنت ملامت کرنے لگی کہ میں نے ان لوگوں پر کتنا ظلم کیا ہے۔ میں انہیں ظالم سمجھتی تھی، حالانکہ خود ظالم تھی۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میری ذات کی بھی کچھ اہمیت ہے۔ میرے بچوں کو کسی کا تحفظ حاصل ہے اور وہ بے آسرا نہیں ہیں۔جن بھائیوں پر تکیہ تھا، وہ تو ساتھ چھوڑ گئے، اور جنہیں اچھا نہیں سمجھتی تھی، وہ کتنے اچھے نکلے۔ اگرچہ جواں سال بیٹے کی موت نے ان کی کمر توڑ دی تھی، پھر بھی میرے بوڑھے سسر میرے بچوں کو تحفظ دینے کے لیے کمربستہ ہو گئے۔آج ان کا ساتھ میرے لیے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے میری اور بچوں کی بھرپور مالی مدد کی۔ وہ عزت و تکریم مجھے اس گھر سے ملی جو واقعی ایک بہو کا حق تھا۔ یہ خاندانی لوگ تھے، روپے پیسے سے زیادہ عزت کو جانتے تھے۔انہوں نے مرحوم بیٹے کی اولاد کو یہ کہہ کر سینے سے لگایا کہ یہ ہمارا خون ہے، اور میرے سر پر چادر ڈال دی کہ یہ ہماری بہو ہے اور بیٹی جیسی ہے۔ اس گھرانے کی عزت اسی کے دم سے ہے۔میں سسرال میں رہنے لگی۔ ان لوگوں کا سلوک میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔ مجھے اپنے کیے پر شرمندگی ہوتی تھی۔ میں خود کو ان کی مجرم سمجھتی تھی کہ میں نے انہیں تکلیف دی، ان کو ان کے بیٹے سے دور رکھا۔جن لوگوں سے میں اپنے بچوں کو چھپاتی تھی، وہ تو ان پر جان فدا کرتے تھے۔
میرا یہ خیال بھی غلط تھا کہ انہیں دولت کا لالچ ہے۔ انہیں کسی قسم کا لالچ نہ تھا۔ انہوں نے تو مجھ سے یہ تک نہیں پوچھا کہ مجھے جدہ کمپنی سے جو پیسہ ملا تھا وہ کتنا تھا اور وہ رقم کہاں گئی۔بلکہ وہ کہتے تھے: بہو، غم نہ کرو۔ دولت چلی گئی تو کوئی بات نہیں۔ دولت آنی جانی چیز ہے، لیکن رشتے دولت سے افضل ہوتے ہیں۔تب میں نے خود انہیں بتایا کہ والدہ نے کمپنی سے ملنے والی رقم بھائیوں کو امانتاً دی تھی اور انہوں نے خیانت کی۔ سسر کہنے لگے: بیٹی، غم نہ کرو۔ اگر تمہارے بھائیوں کی زندگی میں وہ رقم گئی تو گویا تم نے ماں کی خدمت کی، اور تم جنت کی حق دار ہو گئیں۔ میرے پوتوں پوتیوں کے لیے ہمارے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔اب مجھے پتا چلا کہ اچھے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ وہ واقعی فرشتہ صفت تھے۔ میں نے اب جانا کہ میں کتنی خوش قسمت ہوں کہ مجھے ایسا سسرال ملا، اور کتنی بدنصیب تھی کہ اتنے عرصے ایسے نیک لوگوں سے دور رہی۔اب سمجھ میں آیا کہ ساس سسر بھی ماں باپ کی طرح ہوتے ہیں، اور نیکی کا پھل ضرور ملتا ہے۔ اچھائی رائیگاں نہیں جاتی، جبکہ برائی انسان کو نفرت کے پاتال میں ایسے پھینکتی ہے کہ آدمی دوسروں کو فنا کرنے کی چاہ میں خود ہی فنا ہو جاتا ہے۔ہمیں ماں باپ کی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ ساس سسر کی بھی قدر کرنی چاہیے۔ آج میرے بچے تعلیم یافتہ اور اچھے مقام پر ہیں تو یہ میرے ساس سسر کی دعاؤں اور محبت کا نتیجہ ہے، ورنہ میں نے تو ان کی بربادی میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ