کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں، جو وقت کی دھول میں بھی نہیں دھندلاتے۔ذہن کے افق پر چاند کی مانند ہمیشہ جگمگاتے رہتے ہیں۔ جب ماں، باپ، بہن بھائی خوشگوار دنوں کے دامن میں ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے، ہمارا بھی دل سکون اور طمانیت سے بھر اٹھتا۔ باپ کی شفقت کے ساتھ ساتھ ممتا کی وہ میٹھی میٹھی دھوپ بھی ہمیں میسر تھی، جو سردیوں کی نرم دھوپ جیسی ہوتی ہے۔سچ ہے، وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ امی کی وفات کے بعد ہماری زندگی کا رنگ بھی بدل گیا۔امی کے بعد بچپن کے سات سال ہم نے خالہ کے ساتھ گزارے۔ اس عرصے میں ہمارے ناسمجھ ذہن نے زندگی کے کئی تلخ حقائق کو محسوس کیا، اور وقت سے پہلے دنیا کی سمجھ آنے لگی۔ ان دنوں ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ ابو دبئی میں ملازمت کرتے تھے۔ وہ وہاں سے باقاعدگی سے خالہ کو ہمارے اخراجات بھجواتے تھے۔ میرے والد ایک فرض شناس باپ تھے۔
انہوں نے ہمیں کسی شے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، تاکہ ہماری عزت نفس برقرار رہے۔وقت گزرتا رہا۔ پھر وہ دن بھی آیا جب خالہ نے چاہا کہ ہم اپنے والد کے گھر میں رہیں۔ ان دنوں ابو دبئی سے آئے ہوئے تھے۔ خالہ نے خاندان کے بزرگوں سے مشورہ کر کے ان کی دوسری شادی کروا دی۔ ان کی دوسری بیوی شروع میں ہم سے الجھتی رہی، لیکن خالہ کے سمجھانے پر اس نے وہ تمام حربے بند کر دیے جو اکثر سوتیلی مائیں شوہر کے بچوں پر آزماتی ہیں۔ بلکہ جلد ہی وہ ہم بہن بھائی کے ساتھ گھل مل گئی۔ابو ملازمت کی خاطر دوبارہ دبئی چلے گئے کیونکہ انہوں نے کمانا تھا اور ہمیں کھانا تھا۔ گھر میں سوتیلی ماں اور ہم بہن بھائی رہ گئے۔ مجھے ابو کی بہت یاد آتی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں۔وقت گزرتا گیا۔ ہماری زندگی میں کئی نئے موڑ آئے اور نئے لوگوں سے واسطہ پڑا، جن سے ہم نے نئے سبق سیکھے۔ وہ کچھ سیکھا جو عام حالات میں نہیں سیکھا جا سکتا — خاص طور پر مخلص اور غیر مخلص لوگوں کی پہچان۔
ان ہی لوگوں میں ایک میری سہیلی رافعہ تھی۔ میں اس سے دل کی ہر بات کہتی تھی۔ کزن ہونے کے ناطے میرا اس کے گھر آنا جانا بھی تھا۔ میں کبھی اکیلی نہیں جاتی تھی، ہمیشہ بھائی نیاز کے ساتھ جایا کرتی۔ میرے بھائی کو بھی اس میں دلچسپی تھی۔رافعہ کی نسبت بچپن سے ہی اس کے چچا زاد اظفر سے طے تھی، مگر وہ کہتی تھی کہ اظفر سے نہیں، بلکہ میرے بھائی نیاز سے شادی کرے گی۔بظاہر وہ اظفر کو ناپسند کرتی تھی، ہمارے سامنے اس کی برائیاں کرتی، مگر درپردہ میرے بھائی کو سناتی تھی۔ میں اس کی چالوں کو خوب سمجھتی تھی۔ہمارے خاندان میں ابو کی ان لوگوں سے زیادہ بنتی نہیں تھی، یہی وجہ تھی کہ میں نے کبھی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میرے بھائی کے دل میں رافعہ کے لیے جذبات ہیں۔ اگر یہ بات ظاہر ہو جاتی تو قیامت برپا ہو جاتی۔ چاروں طرف سے رشتہ دار سانپوں کی طرح پھن اٹھا لیتے۔میں رافعہ کو تسلی دیتی کہ میں ابو کو منا لوں گی اور تمہیں اپنی بھابھی بنا لوں گی۔ وہ وقت تو آنے دو۔وہ ہنس کر “اچھا” کہہ دیا کرتی۔وہ نیاز بھائی سے دو سال بڑی تھی، لیکن کم عمر لگتی تھی۔ ممکن ہے کہ وہ ہماری باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیتی ہو، لیکن ہم سنجیدہ تھے۔ اس کی عادتیں، باتیں، صورت، ہر شے دل کو بھاتی تھی۔جب نیاز بھائی کالج جانے لگے تو سنا کہ رافعہ کے گھر اس کی شادی کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ابو ہم سے دور تھے، سوتیلی ماں سے کیا کہتے؟بھائی نیاز بہت پریشان رہنے لگے۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں ماند پڑنے لگیں۔ سارا دن صحن میں ٹہلتے رہتے، رات کو نیند نہ آتی۔رافعہ نے ایف اے کے پرچے دینے تھے، اور نیاز ایف ایس سی کر رہے تھے۔
وہ کالج کے بہترین طلبا میں شمار ہوتے تھے، تقریری مقابلوں میں اول آتے تھے۔ انہی دنوں ان کی کلاس میں ایک نیا لڑکا داخل ہوا جس کا نام اظفر تھا۔بھائی کی اس سے دوستی ہو گئی۔ اظفر خوش مزاج، کھلنڈرا لڑکا تھا، جو لڑکیوں کو بیوقوف بنا کر ان سے کام نکالتا۔ حالانکہ امیر باپ کا بیٹا تھا، مگر شوخی مزاجی غالب تھی۔اسی وجہ سے بھائی کو وہ اچھا لگا، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہی اظفر رافعہ کا منگیتر ہے۔میرے امتحان شروع ہو گئے، تو میں نے رافعہ کے گھر جانا بند کر دیا۔ ان دنوں رافعہ اور بھائی نیاز کے درمیان قربت بڑھتی جا رہی تھی۔ ان کی خاموش محبت کا کسی کو علم نہ تھا — حتیٰ کہ رافعہ کی ماں کو بھی نہیں۔ادھر اظفر کئی بار بھائی نیاز کو اپنے گھر مدعو کر چکا تھا، لیکن بھائی نہیں جا سکے۔ اظفر کا گھر بہت بڑا اور شاندار تھا۔ اس کے والد امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے تھے۔پھر اچانک اظفر سنجیدہ رہنے لگا۔ پتہ چلا کہ اس کی والدہ کو بلڈ کینسر ہو گیا ہے۔ تب وہ شوخیاں چھوڑ کر ہر وقت ماں کے ساتھ لگا رہتا۔اس کی والدہ کی خواہش تھی کہ اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھیں۔ چنانچہ منگنی کا دن طے ہوا۔جب بھائی نیاز تحفہ لے کر اس کے گھر گئے تو پتا چلا کہ اظفر کی منگنی رافعہ سے ہو رہی ہے۔یہ جان کر بھائی کے دل پر جیسے بجلی گر گئی۔ مگر دوست کی خاطر وہ خاموش رہے اور محفل میں شریک ہوئے۔منگنی کے موقع پر رافعہ سے بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔
گھر آ کر بھائی کی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔اگلے روز اظفر کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ ہم افسوس کے لیے ان کے گھر گئے۔ وہاں رافعہ سے بھی ملاقات ہوئی، مگر وہ مجھے دیکھ کر انجان بن گئی۔مجھے بہت دکھ ہوا کہ اس نے ایسا رویہ کیوں اپنایا؟میں نے سوچا، شاید وہ جان گئی کہ میرے بھائی اس کو وہ خوشیاں نہیں دے سکتے تھے جو کروڑ پتی اظفر کے والدین دے سکتے تھے۔اظفر اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا اور ان کی جائیداد کا واحد وارث تھا۔اس دن سے میری سوچوں کا رخ بدل گیا۔ بار بار افسوس کرتی تھی کہ میں نے اپنے ابو کو کیوں نہیں بتایا کہ میں اپنی کزن رافعہ کو بھابی بنانا چاہتی ہوں۔ کیا خبر، وہ منت سماجت کر کے یہ رشتہ اپنے بیٹے کے لیے حاصل کر لیتے، لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ مگر وہ رافعہ میرے بھائی کے ذہن سے نہ اُتری۔ وہ اس کی یاد میں غلطاں رہتے تھے۔ کئی بار سمجھایا کہ اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ اب کسی اور کی بیوی بن چکی ہے، مگر وہ کہاں سنتے تھے؟ میں ان کی چھوٹی بہن تھی۔ یوں بھی بڑے، چھوٹوں کی بات کب مانتے ہیں؟ گرچہ بھیا سے صرف ڈیڑھ سال ہی چھوٹی تھی، تاہم بھائی سے یہ عہد لے لیا کہ وہ اب رافعہ کے گھر کو کسی طور ڈسٹرب نہیں کریں گے۔ اس سے رابطہ نہ رکھیں گے، نہ کوئی پیغام بھجوائیں گے اور نہ ہی خط وغیرہ لکھیں گے۔بھائی نے وعدہ تو کر لیا، مگر جس طرح سینے پر پتھر رکھ کر بات کہی تھی، وہ صرف میں ہی جانتی توق گزرنے لگا، میرا بھائی مردہ سا رہنے لگا۔
جب بھی رافعہ سے سامنا ہوتا، تو اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سلام کر لیا کرتا، اور وہ نظریں جھکا لیتی تھی۔ شادی کے دوسرے سال وہ ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ تب مجھ سے رہا نہ گیا اور ناراضی کے باوجود میں اس کے گھر چلی گئی۔ اسے بیٹے کی مبارکباد دی۔ اس نے سرد مہری سے میرا استقبال کیا۔ وہ اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، تبھی ہم سے نظریں چرانے لگی تھی۔ میں نے جانا کہ ایسا کر کے اس نے بہت اچھا کیا۔ وہ میرے بھائی کو مایوس کر دینا چاہتی تھی اور اپنا گھر سکون سے بچائے رکھنا چاہتی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اپنے بھائی کو سمجھاؤ، میری شادی ہو چکی ہے۔ وہ کسی اور لڑکی کو پسند کر لے اور میرا خیال دل سے نکال دے۔میں نے بھائی کو پیغام پہنچایا۔ نیاز نے بات مان لی اور اس کے راستے سے ہٹ گیا۔ وہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے رافعہ کی عزت پر کوئی حرف آئے۔
ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ ماں سوتیلی تھی۔ ہم اپنے مسائل انہیں نہیں بتا سکتے تھے۔ وہ بھی ہمیں زیادہ روک ٹوک کرنے سے ڈرتی تھیں کہ کہیں ہم والد سے شکایت نہ کر دیں۔ ابو تو بیرونِ ملک ابھی تک کمانے میں لگے تھے، اولاد کے روز و شب پر کیونکر نظر رکھ سکتے تھے؟اُدھر حالات نیاز بھائی کے مخالف جا رہے تھے، مگر اظفر کے ساتھ دوستی برقرار تھی، جسے یہ علم نہ تھا کہ ماضی میں ان کا رافعہ سے محبت کا رشتہ قائم رہ چکا ہے۔ وہ پہلے کی طرح نیاز بھائی کا شیدائی تھا۔ ہر وقت نیاز، نیاز کرتا۔ ہر دوسرے، چوتھے ہمارے گھر آ جاتا، جب کہ میں چاہتی تھی کہ وہ بھائی سے دوستی ترک کر دے۔ اس کنبے سے اب ہمارا دور کا تعلق بھی نہ رہے۔ شاید بھائی ایسا کر بھی لیتے، مگر اظفر نے یہ بات ناممکن بنا دی۔مصیبت کبھی کہہ کر نہیں آتی۔ اظفر کے والد کی دولت و جائیداد پر ان کے قریبی اور بےرشتہ داروں کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ یہ خاندانی معاملات تھے اور انکل نے جو مناسب سمجھا، وہی کیا۔ ان کے فیصلوں نے درپردہ ان کے اپنے ہی خون کے ساتھ دشمنی کا بیج بو دیا تھا، جس کی خبر نہ اظفر کو تھی، نہ رافعہ کو۔
انہی دنوں، دوستی کی وجہ سے نیاز بھائی ایک بار پھر رافعہ کے گھر جانے لگے۔ اظفر خود انہیں گاڑی میں بٹھا کر لے جاتا۔ یہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھتے، رافعہ چائے اور کھانے کا اہتمام کر کے بھجوا دیتی۔ اس دوران کبھی کبھار انکل کا فون آ جاتا، تو اظفر نیاز بھائی سے کہتا: تم بیٹھو، میرے واپس آنے تک جانا نہیں۔ ابا جی کا فون آیا ہے، وہ دفتر میں بلا رہے ہیں۔گویا قسمت خود موقع دے رہی تھی، اور راکھ میں دبی چنگاریاں پھر سے سلگنے لگیں۔ رافعہ کھانا لا کر نیاز بھائی کے سامنے رکھتی اور دونوں باتیں کرنے لگتے۔ ان چنگاریوں کی تپش کا کسی کو احساس نہ تھا۔پھر اچانک وہ ہوا جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ پتا چلا کہ انکل دفتر میں بیٹھے تھے کہ برین ہیمرج کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ خبر اظفر کے لیے صدمہ تھی۔ ہم بھی دلجوئی کے لیے اس کے ساتھ تھے۔ابھی اس بری خبر سے کوئی سنبھلنے نہ پایا تھا کہ ایک اور بڑا سانحہ ہو گیا۔ اس روز رافعہ میکے گئی ہوئی تھی اور اظفر گھر میں اکیلا تھا کہ کسی نے گھر میں گھس کر اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ وار اتنا کاری تھا کہ اظفر جاں بحق ہو گیا۔ وہ شخص کب آیا، کب چلا گیا، کسی کو کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ تاہم اندازہ یہی لگایا گیا کہ حملہ آور اظفر کا کوئی جان پہچان والا تھا، کیونکہ اس کے آنے پر اظفر نے اسے اپنے کمرے میں بٹھایا۔ کسی اجنبی کے ساتھ تو ایسی خاطر تواضع نہیں کی جاتی۔
افسوس، کوئی بھی اسے گھر میں آتے جاتے نہ دیکھ سکا۔ اظفر کی کسی سے دشمنی نہ تھی کہ کسی پر شک کیا جا سکتا۔ جب نوکر سودا لے کر گھر واپس آیا، تو اس نے گیٹ کھلا پایا اور اظفر کے کمرے سے خون کی لکیر باہر آتی دیکھی۔ اس نے فوراً پڑوسی کو اطلاع دی، جس نے پولیس کو خبر دی۔پولیس نے سب سے پہلے نوکر کو حراست میں لیا اور گھر کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران رافعہ کی الماری سے کچھ خطوط برآمد ہوئے، جو نیاز بھائی نے رافعہ کو لکھے تھے۔ ان میں اس نے اپنی دلی کیفیات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے نیاز بھائی کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔نوکر سے پوچھ گچھ ہوئی تو اس نے بتایا کہ اظفر کا یہ گہرا دوست اکثر گھر آیا کرتا تھا اور دونوں اکٹھے کھانا کھاتے تھے۔ رافعہ شوہر کی غیر موجودگی میں بھی نیاز کی خاطر تواضع کرتی تھی۔ دونوں آپس میں باتیں بھی کرتے۔ ملازم نے جو کچھ دیکھا تھا، وہی بیان دیا۔ پڑوسیوں نے بھی یہی گواہی دی کہ اظفر کا یہ دوست گھر میں آتا جاتا تھا اور دیر تک بیٹھا رہتا تھا۔جب رافعہ سے پوچھ گچھ ہوئی، تو اس نے بھی یہی بتایا کہ نیاز گھر میں آتا جاتا تھا، کیونکہ وہ اس کے شوہر کا دوست تھا۔ خطوط کے بارے میں اس نے بتایا کہ نیاز کی خواہش تھی کہ میری شادی اس سے ہو، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ چونکہ وہ اظفر کا کلاس فیلو اور قریبی دوست تھا، اس لیے اسی نسبت سے گھر آتا تھا، اور وہ ہمیشہ اظفر ہی سے ملنے آتا تھا، شوہر کی اجازت سے۔
یہ سچ تھا کہ نیاز کے دل میں ابھی تک رافعہ کی محبت باقی تھی۔ وہ اسے خطوط لکھتا تھا، مگر رافعہ ان کا جواب نہیں دیتی تھی، بلکہ اسے سمجھاتی تھی۔ خطوط میں بھی یہی تحریر تھا کہ وہ یک طرفہ محبت کر رہا ہے، اور شکوہ کرتا تھا کہ رافعہ جواب کیوں نہیں دیتی۔یہ سب باتیں اپنی جگہ، مگر پولیس کے لیے بس اتنا کافی تھا کہ محبت نامے نیاز کے لکھے ہوئے تھے اور وہ اظفر کی بیوی کے نام تھے۔ رافعہ نے انہیں تلف بھی نہیں کیا تھا، بلکہ سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ اب رات کے وقت قتل کا شبہ کئی لوگوں پر ہو سکتا تھا، مگر پولیس نے مزید تفتیش ضروری نہ سمجھی۔ انہیں نہ یہ جاننے کی فکر تھی کہ اظفر کا قاتل کوئی اور بھی ہو سکتا ہے، نہ یہ کہ دشمنی کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔انہوں نے سیدھا سیدھا نیاز بھائی کو ہی قاتل قرار دے دیا، اور یوں ایک بے گناہ کو نا کردہ جرم کی سزا میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔اس ناگہانی آفت کی خبر جب والد صاحب کو ہوئی، تو وہ دبئی میں سارا کام چھوڑ کر فوراً پاکستان آگئے اور ایک نامور وکیل کی خدمات حاصل کیں۔ پانچ برس تک کیس چلتا رہا۔
بالآخر، اظفر کے قریبی جاننے والے ایک شخص نے اصل قاتل کی نشان دہی کر دی۔ اسے گرفتار کر کے جب پوچھ گچھ کی گئی، تو قاتل نے اقرارِ جرم کر لیا کہ اس نے جائیداد کی تقسیم میں ناانصافی پر رنجیدہ ہو کر اظفر کو قتل کیا تھا۔ کیونکہ اس کے والد کے انتقال کے بعد اظفر کے والد نے بڑے بھائی کی جائیداد کا ایک بڑا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ ان کی زرعی زمین بھی مشترکہ تھی۔ جب بٹوارہ ہوا، تو پٹواری کے ساتھ ملی بھگت کر کے اظفر کے والد نے زیادہ زمین اپنے قبضے میں رکھ لی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ تمام زمین اظفر کو مل گئی، جس پر قاتل کے دل میں شدید رنجش پیدا ہوئی۔ یوں روپیہ، پیسہ اور جائیداد کی خاطر اظفر کی جان چلی گئی۔پانچ سال کے جان لیوا ذہنی عذاب کے بعد، اللہ تعالیٰ کے کرم سے میرے بھائی کو رہائی ملی اور وہ قتل کے بھیانک الزام سے بری ہوگیا۔ تاہم، کسی اور کی بیوی کا خیال دل میں بسائے رکھنے کی سزا تو ملنی ہی تھی، سو مل گئی۔اور یہ رافعہ کی بھی نادانی تھی کہ اس نے نیاز بھائی کے خطوط سنبھال کر رکھے، جانے کیوں؟ وہ کم از کم مجھے ہی آگاہ کر دیتی، تو میں نیاز کو خط لکھنے سے روک دیتی۔ جب رافعہ کی شادی ہو چکی تھی، تو اس کے بعد خطوط لکھنا، ماضی کا رونا رونا۔ ان باتوں کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ الٹا مصیبت گلے پڑنی تھی، سو پڑ گئی۔ یہ ایک اخلاقی جرم تھا، مگر شاید میرے بھائی کو اس کی سمجھ نہ تھی۔
