حضرت خالدبن ولیدؓ - قسط 5

 urdu font stories


حضرت خالدبن ولیدؓ۔
اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی
  قسط 5


سیدنا خالدؓ اس قدر آزاد طبیعت کے مالک تھے کہ سیدی رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کے علاوہ کسی اور کے لیے ان کو سنبھالنا ممکن ہی نہ تھا۔اس بات سے اندازہ کیجیئے کہ ایک موقع پر عراق کی ایک جنگ میں فتح کے بعدجب آپؓ مرکز کی طرف لوٹ رہے تھے، تو حج کا موقع آگیا۔ سیدنا خالدؓ نے حج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس میں بہت خطرہ تھا ،کیونکہ مسلمان فوجیں رومی اور ایرانی فوجوں سے عراق میں برسرپیکار تھیں، اور سپہ سالار ان سے دور ہونا خطرناک ہوسکتا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ اسوقت خلیفہ تھے اور سیدنا خالدؓ نے ان سے حج کی اجازت بھی نہیں لی تھی۔ لیکن خالدؓ خطرات مول لینے والے شخص تھے۔ انہوں نے پورے لشکر کو ’’حیرہ‘‘ کی طرف روانہ کیا اور بغیر کسی کو بتائے چند ساتھیوں کے ہمراہ انتہائی خاموشی اور سرعت سے مکہ پہنچ گئے اور حج اداکیا۔ آپؓ نے اپنے تئیں بہت رازداری سے یہ حج ادا کیا اور مسلمان لشکر کو بھی پتا نہ چلا کہ خالدؓ چند روز کے لیے غائب ہیں۔ آپؓ خاموشی سے حج کیلئے گئے بھی اور واپس بھی لوٹ آئے،لیکن جب اپنے لشکر میں واپس پہنچے توایک قاصد خلیفہ کا خط لے کر آیا اور اس خط میں انہیں بڑے پیار سے ڈانٹا گیا تھا کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا!
خالد بن ولیدؓ جیسے شاہینوں کو قابو کرناکوئی آسان کام نہ تھا۔ حضورﷺ بھی آپؓ سے بہت درگزر فرماتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سیدنا خالدؓ کوبہت جلال اور ہیبت عطا کی گئی تھی اور آپؓ سے امت رسولﷺ کی ایک غیر معمولی ڈیوٹی لینا مقصود تھا


سیدنا خالدؓ اس طرح کے بہت سے کام کرتے تھے کہ جن پر لوگوں کو اعتراض ہوتا ۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ ہمیشہ لوگوں کی شکایات پر ان سے درگزر کرتے تھے۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ سیدنا خالدؓ کو معزول کردیا جائے۔ حضرت ابو بکرؓ کا جواب یہی ہوتا کہ جس تلوار کو اللہ نے دین کی سر بلندی کیلئے بے نیام کیا ہے، میں اس کو واپس نیام میں نہیں ڈال سکتا۔ یہی فرق ہے ایک عام سپہ سالار اور ایک عظیم سپہ سالار میں۔سیدنا خالدؓ ایک عظیم سپہ سالار تھے، اور اسی نسبت سے سیدی رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ ان کا خاص لحاظ بھی کرتے۔
فتح عراق کی خوشخبری جب سیدنا ابوبکرؓ تک مدینے میں پہنچی، تو آپؓ نے مدینہ میں اعلان کروایا کہ’’ مبارک ہو! تمہارے شیرنے ایرانی شیرکو زیر کرلیا۔ مائیں قیامت تک خالدؓ جیسا بیٹا پیدا نہیں کرسکتیں!‘‘
یہ وہ وقت تھا کہ جب حضرت ابو بکرؓ نے شام میں بھی مہم جوئی شروع کردی تھی۔مسلمان دستوں کو یہ حکم تھا کہ صرف جاسوسی کریں ،زیادہ آگے تک نہ جائیں اورجہاں تک ممکن ہو تصادم سے گریز کریں۔لیکن جب حضرت خالدؓ کے کارناموں کی خبر مسلمانوں کو پہنچی تو قدرتی طور پر شام میں مسلمان کمانڈروں میں بھی کوئی معرکہ سرانجام دینے کا ولولہ پیدا ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے وہ دستے کہ جو شام گئے تھے،رومیوں کے گھیرے میں آگئے۔ شام اس وقت بازنطینی سلطنت کاصوبہ تھا کہ جسکا مرکز قسطنطنیہ تھا۔حضورﷺقسطنطنیہ کی فتح کی بشارت بھی دے چکے تھے۔ آپﷺ کے مطابق جو فوج اسکو فتح کرے گی وہ جنت میں جائے گی اور جو امیر اسکو فتح کرے گا وہ جنتی ہوگا! لہذا جس طرح مسلمانوں کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ وہ ایران پر قبضہ کریں گے، اسی طرح مسلمانوں کو یہ بھی یقین تھا کہ وہ بازنطینی سلطنت پر بھی قبضہ کرلیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے دونوں محاذوں پربیک وقت لشکر روانہ کیے۔ خالدؓ اس وقت عراق میں تھے۔وہ مسلمان کہ جو شام گئے تھے، دشمنوں کے گھیرے میں آگئے اور انہیں کمک کی ضرورت تھی۔ تب سیدنا ابو بکرؓ نے خط کے ذریعے سیدنا خالدؓ کو حکم دیا کہ عراق کا محاذ دوسرے صحابہؓ کے حوالے کریں اور شام میں محصور مجاہدین کی مدد کیلئے روانہ ہوجائیں۔ سیدنا خالدؓ کو جب یہ خط ملا تو انہوں نے پھر ایسا کام کیا کہ جو جنگی حکمت عملی کے تحت ناممکنات میں سے تھا ۔ کوئی جنگی حکمت عملی کا ماہر یا سپہ سالاروہ کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔


عر اق سے شام جانے کے دو باقاعدہ راستے تھے۔ ایک راستے پررومی قلعے بنے ہوئے تھے اور وہاں سے بغیر جنگ کے گزرنا ممکن نہ تھا۔ دوسرا راستہ بہت طویل تھا اور وہاں سے شام کے مجاہدین تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لگ جاتا۔ ایک تیسرا راستہ ریگستان سے ہو کرجاتا، مگر یہ راستہ کوئی بھی استعمال نہ کرتا، کیونکہ یہ انتہائی خطرناک تھا۔کوئی بھی فوج یا قافلہ اس راستے سے گزر نہ سکتا تھا،کیونکہ اس راستے میں پانی کا ملنا محال تھا۔گرمی میں راستہ بھولنے کا اندیشہ بھی تھا اور بھٹک جانے کی صورت میں موت یقینی تھی۔سیدنا خالد بن ولیدؓ نے اسی خطرناک راستے سے گزرنے کا فیصلہ کرلیا، اور پھر وہ کام کیا کہ جوعرب کی تاریخ میں اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ ایک بوڑھا عرب کہ جو کئی برس پہلے اس راستے سے گزرا تھا، ا سکو فوج کا رہنما یا گائیڈ بنا کرپوری فوج لیکراس ریگستان میں داخل ہوگئے۔کئی روز کی شدید مسافت کے بعد کہ جس میں دھوپ کی شدت سے وہ بوڑھا عرب بھی نابینا ہوچکاتھا، کہ جس کے باعث پوری مسلمان فوج کے تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، آپؓ حیرت انگیز طور پر بالآخر شام جا پہنچے۔خالدؓ کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ یہ ریگستان انکا راستہ نہیں روک سکے گا۔
سیدنا خالد کے پرچم پر عقاب بنا ہوا تھا۔وہ شام میں جب داخل ہوئے توجس وادی سے گزر کر گئے،وہاں اپنا پرچم نصب کرگئے۔ آج تک اس وادی کو ’’ثنیۃ العقاب‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی عقاب والی پہاڑیاں۔ سیدنا خالدؓ کے انتقال کے کئی سو سال بعد تک بھی وہ پرچم وہاں نصب رہا۔ عباسی خلیفہ معتصم جب اس علاقے سے گزرا تو کسی نے اس کو وہ جھنڈا دکھایا کہ جو قلعے پر لگا ہوا تھا۔ اسکو بتایا گیا کہ یہ وہ جھنڈا ہے کہ جو خالدؓ نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا ، تو خلیفہ اسی جگہ پر اتر ا، اس جھنڈے کو بوسہ دیا اور اپنی تمام فوج کو حکم دیا کہ جو کوئی بھی اس علاقے سے گزرے ،اس جھنڈے کے احترام میں با ادب پیدل گزرے۔اسکے بعد جب مسلمانوں کا زوال ہوا، تو وہ جھنڈا بھی اپنی جگہ سے اکھڑ گیا۔ یہ خالد بن ولیدؓ کا وہ شاندار کارنامہ تھاکہ جو تاریخ اسلام کے اوراق میں صدیوں تک سنہرے حروف سے لکھا گیا۔


اس سے پہلے کہ ہم شام کی مہم پر بات کریں، اس ماحول اور ان واقعات پر بات کرنابھی ضروری ہے کہ جس میں عالمی سطح پر یہ مہم اور خالد بن ولیدؓ کی فتوحات عمل پذیر ہورہی تھیں۔ قرآن میں سورہ روم میں’’ غلبت الروم‘‘ کے حوالے سے جو آیات آئی ہیں، وہ فارسی اور رومی سلطنتوں کے آپس میں تصادم کے حوالے سے ہیں۔ قرآن میں یہ درج ہے کہ رومیوں اورایرانیوں کی جو جنگ جاری ہے، اس میں رومیوں کو شکست ہوگئی ہے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد رومی خود کو منظم کرکے دوبارہ حملہ کریں گے اور ایرانیوں کو شکست ہوگی اور مسلمان خوش ہوجائیں گے۔ قرآن پاک میں رومی اور فارسی سلطنتوں کی آپس کی جنگوں کے متعلق بات کی گئی ہے کہ جو اس وقت کی عالمی طاقتیں تھیں اور صدیوں سے قائم تھیں۔ یعنی دنیا کے تمام تجارتی راستے مشرق وسطیٰ ،افریقہ، یورپ اور مشرق کی طرف ایران سے لیکر خراسان اورہند کی سرحد تک کے تمام علاقے انہی دو بڑی سلطنتوں میں تقسیم تھے۔ قرآن پاک میں خاص طور پر بڑی قوتوں کے تصادم اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر ہونیوالی تبدیلیوں اوربین الاقوامی طاقتوں کے مابین تصادم کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات پر نظر رکھیں ۔ عالمی جغرافیائی سیاست اور حربی حکمت عملی کو سمجھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا، ہمارے دین اور ایمان کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
دوسری طرف حضورﷺ نے کچھ بشارتیں عطا فرمائی تھیں۔ ایران کے خسرو پرویز نے جب حضورﷺ کا نامہ مبارک، یعنی خط، پھاڑ کر پھینکا تو اسی وقت حضورﷺ نے فرمادیا تھا کہ کچھ ہی عرصے میں اس خط کی مانند اس کی ریاست بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ پھر حضرت سراقہؓ کو کسریٰ کے کنگن پہننے کی بشارت اور مسلمانوں کو قسطنطنیہ فتح کرنے کی نوید ملنا۔۔۔۔ اس طرح کے بہت سے حالات و واقعات رونما ہوئے تھے کہ جن کی وجہ سے مسلمانوں کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ کچھ ہی عرصے میں مسلمان فارس اور روم جیسی عظیم سلطنتوں کے ساتھ ٹکرائیں گے اور ان پر غالب بھی آجائیں گے۔


فتنہ ارتداد کے خاتمے کے بعد جزیرہ نما عرب میں اسلام کا مکمل طور پر غلبہ ہوچکا تھا، مگر اس وقت تک مسلمانوں نے کوئی عسکری مہم جزیرہ نما عرب سے باہر نکل کر نہیں کی تھی۔ اس کے لیے غیر معمولی فراست ، تدبر اور جرأت کی ضرورت تھی۔ایرانی سلطنت کہ جو کئی صدیوں سے قائم و دائم تھی، اب اس کے خلاف ایک مہم روانہ کی جانی تھی۔ اسکے لیے حضرت سیدنا خالد بن ولیدؓ سے بہتر انتخاب ہو ہی نہیں ہوسکتا تھا۔یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔جنگی قانون کاایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ جب ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے تو عسکری تناسب ۵ بمقابلہ ۱ یا کم از کم ۳ بمقابلہ ۱ ہونا چاہیے۔یعنی آپ کی فوج دشمن کی فوج سے پانچ گنا یا کم از کم تین گنا زیادہ ہونی چاہیے تاکہ اس کے دفاع کو روندنے کے بعد بھی آپ کے پاس اتنی اضافی فوج موجود ہو کہ آپ اس کے ملک پر قبضہ کرکے اس کا نظم و نسق چلاسکیں۔دنیا کی تمام فوجیں آج بھی اسی حکمت عملی پر عمل کرتی ہیں۔
رومی اور فارسی سلطنتیں بھی اسی طریقہ کار پر کاربند تھیں۔یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ میدان جنگ میں فتح یا شکست کس کا مقدر ہوگی، ان کے نزدیک بھی عددی اور عسکری برتری بہت اہمیت کی حامل تھیں ۔ان کے تمام جرنیل اپنی فوجی اور عسکری حکمتِ عملی کی بنیاد اسی بات پر رکھتے تھے کہ عددی برتری کس کے پاس ہے اور فوجی ہتھیار اور سازو سامان کس کے پاس زیادہ ہے۔ایک بہت بڑا عنصر کہ جو مسلمانوں کے حق میں جاتا تھا، وہ یہ تھا کہ روم اور ایران ایک دوسرے سے لڑ لڑ کر تھک چکے تھے۔ کئی برس سے ان کی آپس میں خون ریز جنگیں چل رہی تھیں۔سلطنت فارس کے حوالے سے ایک اور اہم عنصر یہ تھا کہ وہاں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا مرکز کمزور ہوچکا تھااورصوبے بکھر رہے تھے۔اگرچہ ابھی بھی افواج فارس بہت بڑی طاقت کی صورت میں اپنی جگہ موجود تھیں، لیکن ان کا مرکز کمزور ہونے کی وجہ سے ایسی فیصلہ سازی کہ جو ایک مضبوط سلطنت کو اکٹھا رکھنے کیلئے ضروری تھی، کا فقدان تھا۔


ان حالات میں کہ جب حضرت خالد بن ولیدؓ کوایران پر یلغار کرنے کیلئے بھیجا گیا تو انہوں نے وہ کچھ کیا کہ جو اس سے پہلے یا اس کے بعد حربی و عسکری تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے تمام جنگی قوانین نئے انداز سے لکھے۔چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا حضرت خالد بن ولیدؓ کی جنگوں سے سبق سیکھتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں آنیوالی مسلمان سلطنتوں نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کی اتنی قدر نہیں کی کہ جتنی مغربی دنیا اپنے سپہ سالاروں اور جرنیلوں کی کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے جرنیل ا ور سپہ سالار مثلاً سکندر اعظم، ہینی بال، چنگیز خان، تیمور حتیٰ کہ جدید دور کے نامور جرنیل بھی جیسے رومیل، منٹگمری، ڈگلس میکارتھر وغیرہ شامل ہیں، سیدنا خالدؓ کے سامنے طفل مکتب نظر آتے ہیں۔


جب مسلمانوں نے عراق(جو اس وقت سلطنت فارس کا صوبہ تھا) پر حملہ کیا تو جو فوج بھی مسلمانوں کے مقابلے پر آئی، وہ ان سے کم از کم پانچ گنا بڑی ہوتی ۔ حالانکہ جنگی اصول تو یہ تھا کہ یلغار کرنے والی فوج کو پانچ گنا زیادہ ہونا چاہیے۔لیکن یہاں دفاعی فوج پانچ گنا زیادہ ہوتی۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس عسکری وسائل، سازو سامان اور ہتھیاروں کا تناسب بھی خطرناک حد تک کم ہوتا۔ مسلمانوں کی وہ فوج ایک غیر معمولی فوج تھی کہ جس میں نہ کوئی افسرتھا نہ کوئی جوان۔جس کی ضرورت ہوتی ،اس کو افسر لگا دیا جاتا۔جب وہ معزول ہوتے تو سپاہیوں کی صف میں آجاتے ۔یہ تمام فوج جذبہء جہاد سے سرشاراور رضا کار فوج تھی کہ جس کو تنخواہیں بھی نہیں ملتی تھیں۔ اس فوج کے پاس اتنی بڑی مہم کیلئے نہ جنگی سازو سامان تھا اورنہ ہی وسائل ۔جس کو گھوڑا مل گیا وہ گھوڑے پر سوار ہوگیا، جس کو اونٹ مل گیا، وہ اونٹ پر بیٹھ گیا۔ان کے پا س تیر اندازی کے سامان ، تلواروں اور نیزوں کے علاوہ کوئی جدید بھاری جنگی سازو سامان بھی نہ ہوتا۔
مسلمانوں کی فوج میں نہ کوئی ہاتھی تھے اور نہ ہی منجینقیں، نہ ہی گھوڑوں سے چلنے والے جنگی رتھ۔فوج کے پاس کوئی باقاعدہ یونیفارم بھی نہیں تھے ،فقط پھٹے پرانے کپڑے ۔یہاں تک کہ ڈھالیں (Shields) بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔بعض اوقات تو تلواریں بھی بغیر نیام کے ہی ہوتیں۔ان کے گرد صرف کپڑا لپٹا ہوتا۔ اندازہ کیجیے یہ وہ فوج تھی کہ جو سیدنا حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں جزیرہ نما عرب سے نکل کر دنیا کی عظیم ترین سلطنت فارس کو چیلنج کرنے جارہی تھی۔


عراقی مہم کے دوران جو جنگیں لڑی گئیں ان میں ہلاکتوں کا تناسب انتہائی حیران کن تھا۔ ایک طرف سلطنتِ فارس کی مضبوط فوج تھی اور دوسری طرف یہ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک رضا کار فوج کہ جو جذبہ جہاد سے سرشار تھی، کہ جس نے اس وقت کی معلوم عسکری حکمت عملیوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ ان کے پاس نہ وسائل تھے، نہ ہی عددی برتری ۔ یہ جنگ بھی اپنے وطن سے سینکڑوں میل دور جا کر لڑ رہے تھے کہ جس کی وجہ سے رسد اور کمک کا راستہ بھی خاصا طویل ہوگیا تھا، مگر اس کے باوجود جب جنگ ہوتی، تو ہلاکتوں کا تناسب کچھ یوں ہوتا کہ جیسے پچاس ہزار دشمن جہنم واصل اور صرف چار سو مسلمان شہید ، یعنی ہلاکتوں کا تناسب ہی عقل دنگ کردینے والا ہوتا۔آج تک دنیا کے تمام عسکری ماہر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس قدر قلیل فوج کے ساتھ مسلمان کس طرح اتنی بڑی تعداد میں دشمنوں کو ہلاک کرنے کے قابل ہوتے تھے ، جبکہ ان کا اپنا نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا۔ دنیا کا کوئی سپہ سالار یا جرنیل تاریخ کے کسی بھی دور میں ایسی مثال پیش نہیں کرسکتا کہ جیسی خالد بن ولیدؓ نے کرکے دکھائی۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

حضرت خالدبن ولیدؓ اردو کہانی - پارٹ 6

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,


hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں,ج, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,