درد ناک گھڑی

Urdu Stories urdu font

 وہ اب باقاعدہ پردہ کرنے لگی تھی۔ بھائی کو اس کی ایک جھلک دیکھانا ضروری تھا تاکہ وہ اس سے شادی کے لیے آ مادہ ہو سکے۔ میں نے کسی نہ کسی طرح گل رخ کی ایک جھلک بھائی کو دکھا دی۔ وہ اسے بہت اچھی لگی۔ اس کی ایک جھلک نے میرے بھائی کے ذہن کی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ لیکن بد قسمتی سے تین سال گزر گئے اور چچی ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، پھر ایک رات میرے بھائی نے وہ سب کر دیا جس کا ڈر تھا۔
👇cknwrites👇
گل رخ کی کوئی بہن نہ تھی، اس لیے وہ خود کو تنہا محسوس کرتی تھی۔ ہماری دوستی بچپن سے تھی، وہ سارا دن میرے ساتھ گزارتی اور امی بھی اسے بہت پیار کرتی تھیں۔ وہ ابو کی بھی چہیتی تھی؛ جو شے میرے لیے آتی، وہ اس کے لیے بھی لاتے۔ غرض ایسا لگتا تھا کہ اس کا گھر برابر والا نہیں بلکہ ہمارا ہی گھر اس کا اپنا گھر ہے۔ ہمارا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا اور زندگی کی تمام آسائشیں مہیا تھیں۔ میرے دو بھائی تھے۔ بڑے بھائی کی شادی تایا کی بیٹی سے ہو چکی تھی اور چھوٹا بھائی زاہد ابھی نویں جماعت میں ہی تھا کہ والدہ نے گل رخ کے ساتھ اس کی منگنی کا ارادہ کیا۔ ان دنوں زاہد کو گل رخ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ 
 
وہ خوش شکل تھی مگر زاہد کو بری لگتی تھی۔ وہ چڑ کر کہتا، “اماں! اس لڑکی کا اپنا کوئی گھر نہیں ہے؟ جب دیکھو یہاں بیٹھی ہوتی ہے۔” والدہ اسے سمجھاتیں، “بیٹا! یہ اکیلی ہوتی ہے، تبھی شہلا کے پاس آ جاتی ہے، تمہیں اس پر کیا اعتراض ہے؟” وہ کہتا، “کچھ نہیں، بس الجھن ہوتی ہے۔” خدا جانے میرے بھائی کو گل رخ سے کیوں چڑ تھی۔ بہر حال وقت گزرتا رہا اور بھائی نے نویں جماعت پاس کر لی۔ تب والدہ نے دوبارہ رشتے کا ذکر چھیڑا تو زاہد نے کہا، “ابھی میں نے میٹرک بھی پاس نہیں کیا اور آپ کو منگنی اور شادی کی فکر پڑ گئی۔ مجھے پہلے اپنی تعلیم تو مکمل کرنے دیں۔” وہ میٹرک کے بعد کالج کی پڑھائی کے لیے شہر چلا گیا۔ اسی دوران والدہ نے چچی جان سے گل رخ کو بہو بنانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے انکار نہیں کیا، بلکہ چچا جان نے تو اس پر دلی خوشی کا اظہار کیا۔

زاہد نے چار سال ہوسٹل میں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس دوران وہ کبھی کبھار ہی چھٹیوں میں گھر آتا تھا۔ اب گل رخ بھی سمجھدار ہو چکی تھی اور ہمارے گھر کم ہی آتی تھی۔ خاص طور پر جب زاہد گھر آیا ہوتا، تو وہ ہمارے ہاں آنے سے بالکل گریز کرتی۔ اگر اتفاق سے سامنا ہو بھی جاتا تو منہ پھیر کر کمرے میں چلی جاتی۔ خود مختار اور آزاد خیال ہونے کے باوجود میرے بھائی گاؤں کے رسم و رواج کے پابند تھے اور اپنی کزنوں کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے تھے؛ اسی لیے زاہد بھی گل رخ کی صورت بھلا چکا تھا۔ اب وہ زیادہ تر اپنے گھر کی چار دیواری میں قید رہتی تھی، کیونکہ اس کے والدین چاہتے تھے کہ اسے دنیا کی برُی ہوا بھی نہ چھو پائے۔ جب امی نے بھائی سے پوچھا، “اب جبکہ تم نے تعلیم مکمل کر لی ہے، تو کیا ہم تمہارا رشتہ گل رخ سے طے کر دیں؟ یا ایک نظر تمہیں اسے دکھا دیں؟ بچپن والی صورت تو اب تمہارے ذہن سے محو ہو چکی ہو گی۔”

یہ بڑا مشکل مرحلہ تھا کیونکہ وہ اب باقاعدہ پردہ کرنے لگی تھی۔ امی نے مجھ سے کہا کہ کسی طرح اس کی ایک جھلک بھائی کو دکھا دو، کیونکہ جب تک وہ اسے ایک نظر دیکھ نہیں لے گا، شادی پر آمادہ نہ ہو گا۔ میں نے کسی نہ کسی طرح گل رخ کی ایک جھلک بھائی کو دکھا دی۔ وہ اسے بہت اچھی لگی۔ وہ لڑکی جو کبھی زاہد کو بری لگتی تھی، اب اس کی ایک جھلک نے میرے بھائی کے ذہن کی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ اس نے فوراً ماں سے کہا، “آپ رشتے کے لیے چچی سے بات کر لیں۔ مجھے گل رخ سے شادی کرنا منظور ہے۔” امی نے جب چچی سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا، “تسلی رکھیے، یہ آپ ہی کی بچی ہے اور بہو بھی آپ ہی کی بنے گی۔” امی کو تسلی ہو گئی اور انہوں نے شادی کی تیاریاں شروع کر دیں، لیکن جب بھی وہ تاریخ طے کرنے کے سلسلے میں بات کرتیں تو چچی کا ایک ہی جواب ہوتا، “کچھ دن صبر کرو… گل رخ تمہاری ہی ہے۔” بار بار یاد دہانی کرانے کے باوجود چچی نے نہ تو منگنی کی کوئی رسم کی اور نہ ہی شادی کی تاریخ طے کی، بلکہ یوں ہی تسلیاں دیتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں تین سال گزر گئے۔

ان کا یہ رویہ ہماری سمجھ سے باہر تھا اور اب والد صاحب بھی پریشان تھے۔ وہ کئی بار چچا سے بات کر چکے تھے، جن کی طرف سے اقرار تو تھا لیکن وہ ہر بار مزید مہلت مانگ لیتے تھے۔ ایک روز ان کی گھریلو ملازمہ رضیہ ہمارے گھر آئی۔ امی نے باتوں باتوں میں اس سے ٹٹولا اور اپنی پریشانی بتا کر مدد چاہی تو وہ بولی، “بی بی! آپ بہت بھولی ہیں۔ آپ کی دیورانی کب سے ٹال مٹول کر رہی ہے، اب تک تو آپ کو سمجھ جانا چاہیے تھا کہ معاملہ اتنا سیدھا اور صاف نہیں ہے۔” امی نے وضاحت چاہتے ہوئے پوچھا، “رضیہ! تم کیا کہنا چاہتی ہو کھل کر بتاؤ؟” وہ بولی، “بی بی! وہ آپ کا رشتہ ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہیں لیکن ساتھ ہی کسی اور اچھے رشتے کی تلاش میں بھی ہیں۔ اگر آپ سے زیادہ اچھا رشتہ مل گیا تو وہ صاف انکار کر دیں گی۔” ملازمہ کی یہ بات سن کر امی دنگ رہ گئیں، کیونکہ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ دوسرے رشتوں پر کیوں غور کرتیں اور ہر ملنے والے سے کیوں کہتیں کہ “کوئی اچھا رشتہ ہو تو بتانا، میں غیروں میں ناتا کروں گی، کیونکہ بعض اوقات اپنوں سے غیر اچھے ہوتے ہیں۔”

امی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ “آج کل” کرتے کرتے انہوں نے تین سال گزار دیے تھے۔ معاملے کے یوں لٹکنے پر زاہد بھی شدید پریشان تھا۔ بھائی کو اس حال میں دیکھ کر میں نے اس سے کہا، “تم فکر مت کرو، میں خود گل رخ سے بات کر کے اس کی مرضی معلوم کرتی ہوں، اصل بات تک پہنچنا کوئی مشکل نہیں۔” میں نے ایک دن تنہائی میں گل رخ سے بات کی اور اس کی مرضی پوچھی تو اس نے کہا، “مجھے تمہاری بھابھی بننا پسند ہے لیکن میری امی ڈانواں ڈول ہیں۔ تم اپنے ابو سے کہو کہ وہ کچھ کریں، ایسا نہ ہو کہ امی کسی دوسرے رشتے کے لیے ہاں کر دیں۔” یہ کہہ کر گل رخ نے مجھ پر واضح کر دیا کہ وہ بھی زاہد کو اپنے خوابوں میں بسا چکی ہے اور اپنی ماں کے اس رویے کی وجہ سے سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ گل رخ کے جذبات سے آگاہی نے ہمیں حوصلہ دیا، مگر آخری فیصلہ تو چچا اور چچی نے ہی کرنا تھا۔ اب جب کبھی گل رخ ہمارے ہاں آتی، تو بھائی خود اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے اور کہتے، “تم مجھ سے کیوں پردہ کرتی ہو، جبکہ بزرگوں نے پردہ کرنے کو نہیں کہا؟”

رفتہ رفتہ وہ زاہد بھائی سے بات کرنے لگی اور ان کے سوالات کے جواب دینے لگی۔ زاہد اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہتا، “فکر نہ کرو، میں تمہارا رشتہ کسی اور سے نہیں ہونے دوں گا۔ بچپن سے ہماری نسبت طے ہے تو شادی بھی ہماری ہی ہو گی، ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔” ان کا خیال تھا کہ یہ سب وقتی باتیں ہیں اور وہ دن جلد آئے گا جب جدائی کی یہ خلیج مٹ جائے گی اور وہ دونوں ایک ہو جائیں گے۔ لیکن افسوس کہ وہ دن کبھی نہ آ سکا۔ اسی دوران ایک پولیس آفیسر کا رشتہ گل رخ کے لیے آ گیا۔ وہ بہت دولت مند لوگ تھے اور لڑکے کے دوسرے بھائی بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ گل رخ کی والدہ نے اپنے شوہر کو قائل کر لیا کہ اس رشتے کو ہرگز ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہیے، کیونکہ اس سے بہتر رشتہ پھر کبھی نہیں ملے گا۔ ایک اعلیٰ آفیسر کی فیملی سے ناتا جوڑنا ایک زمیندار کے لیے سود مند اور باعثِ فخر ہو گا۔ انہوں نے رشتہ قبول کر لیا اور وہ گتھی سلجھ گئی جو تین برس سے الجھی ہوئی تھی۔ شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی؛ انہیں اپنی بیٹی کے جذبات سے زیادہ اس کے مستقبل کی فکر تھی، اور دراصل ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کو داماد بنا کر وہ علاقے میں ایک مضبوط سماجی تحفظ چاہتے تھے۔ ادھر بھائی زاہد، گل رخ کی شادی کا سن کر تڑپ اٹھے اور ادھر گل رخ کا برا حال تھا؛ اسے ہم سے دلی لگاؤ اور زاہد سے سچی محبت تھی، وہ ہر صورت ہماری ہونا چاہتی تھی۔ وہ سخت افسردہ اور پریشان تھی اور رات دن بس روتی رہتی تھی۔

رضیہ وہاں کا سارا حال ہمیں آ کر بتاتی اور وہ گل رخ کے پیغام زاہد تک پہنچانے لگی۔ گل رخ اپنے خطوط میں لکھتی، “زاہد! خدارا کچھ کرو!” میرے والدین بھی چچا چچی کے پاس گئے اور ان سے استفسار کیا کہ “اگر رشتہ نہیں دینا تھا تو اتنے دن ہمیں کیوں آسرے میں رکھا؟” وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ زاہد کی بچپن کی منگیتر کسی اور کی ہو جائے گی۔ زاہد بھی شدید غصے میں تھا اور چاہتا تھا کہ چچا کے گھر جا کر ہنگامہ کرے، مگر اماں اور ابو نے اسے روک دیا اور سمجھایا کہ خاندانی لوگ ایسا نہیں کرتے۔ چچی نے گھٹیا پن کا ثبوت دیا تھا اور چچا نے اپنی بیوی کا ساتھ دیا تھا۔ چچی دراصل ایک غیر خاندان سے تھیں، اس لیے شروع سے ہی ان کا رکھ رکھاؤ ہماری فیملی جیسا نہیں تھا، تاہم چچا جان سے اس طرح کی توقع بالکل نہیں تھی۔ ابو نے اپنے بیٹے کو سمجھایا، “تم کوئی ایسا قدم ہرگز نہیں اٹھاؤ گے جس سے ہماری جگ ہنسائی ہو یا ہماری خاندانی شرافت پر حرف آئے۔ تمہاری چچی بھی ہماری اپنی ہیں اور اسی خاندان کا حصہ ہیں، اس لیے اس زہر کے گھونٹ کو صبر سے پی جاؤ۔” گل رخ کی شادی کی تیاریاں دھوم دھام سے ہونے لگیں اور یہ سارا شور و غل ہم اپنے کانوں سے سن رہے تھے۔ زاہد کو یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا، اسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ شور کسی اور دنیا سے آ رہا ہے، حالانکہ ہمارے اور چچا کے گھر کے درمیان صرف ایک ہی دیوار حائل تھی۔

زاہد اندر سے بالکل مرجھا گیا، جیسے اس سے اس کی زندگی چھینی جا رہی ہو۔ شہنائیوں اور ڈھول کی تھاپ اسے یوں محسوس ہو رہی تھی جیسے کوئی (خدا نخواستہ) موت کا پیغام دے رہا ہو۔ آخر کار بارات کے آنے کا شور بلند ہوا اور شہنائیوں کی آواز تیز ہو گئی۔ زاہد اس منظر کو دیکھنے پر مجبور تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر باراتیوں کے ساتھ آئی ہوئی ٹولی جھومر، ڈانس اور بھنگڑا ڈال رہی تھی اور میرے بھائی کی محبت کسی اور کی جھولی میں ڈالی جا رہی تھی۔ تبھی ڈھول کی آواز یکلخت بہت بلند ہو گئی، زاہد کو لگا جیسے کوئی اس کے دل پر ہتھوڑے برسا رہا ہو۔ اچانک اس پر ایک وحشت سی طاری ہو گئی اور اس کے اندر کا غصہ اور نفرت ابلتے ہوئے لاوے کی شکل اختیار کر گئے۔ والد نے جب زاہد کے چہرے کے تاثرات دیکھے تو وہ اس کے قریب آ بیٹھے، جیسے کوئی انجانا خدشہ انہیں ڈرانے لگا ہو۔ انہوں نے بیٹے سے کہا، “زاہد! تم کیوں اس قدر پریشان ہو رہے ہو؟ دیکھو… تمہاری خاطر میں بھی اس شادی میں شریک نہیں ہوا، حالانکہ گاؤں کے لوگ اس پر طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ تم میرے ساتھ چلو، ہم شہر کا ایک چکر لگا کر آتے ہیں۔”

والد بھائی کو اس ہنگامے سے دور لے جانا چاہ رہے تھے لیکن زاہد اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا اور کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ پھر چند منٹ بعد وہ یکدم اٹھ کر اندر چلا گیا۔ ابھی کوئی یہ سوچ بھی نہ پایا تھا کہ وہ کس وجہ سے امی کے کمرے میں گیا ہے کہ اچانک الماری کھولنے کی آواز آئی۔ والد صاحب فوراً سمجھ گئے، کیونکہ ان کی بندوق والدہ ہی کے کمرے میں رکھی ہوئی تھی۔ جتنی دیر میں ابو کمرے کی طرف لپکے، زاہد باہر نکل آیا۔ اس کے ہاتھ میں بھری ہوئی بندوق تھی اور وہ صحن عبور کر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ والد صاحب بھی اس کے پیچھے بھاگے تاکہ بندوق اس کے ہاتھ سے چھین سکیں۔ والد نے بیٹے کو دروازے پر ہی جا لیا اور اس سے بندوق دینے کو کہا، لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ تبھی ابو نے ماموں کو آواز دی جو سامنے سے آ رہے تھے کہ “زاہد کو پکڑ لو!” ماموں کافی تنومند اور اچھی صحت کے مالک تھے، انہوں نے دوڑ کر میرے بھائی کو اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ ادھر والد صاحب نے بندوق کی نال پکڑی اور زبردستی اسے زاہد کے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش کی۔ اس چھینا جھپٹی کے دوران اچانک بندوق چل گئی اور گولی سیدھی ابو کے سینے میں جا لگی۔ وہ اسی لمحے زمین پر گر کر تڑپنے لگے۔

فائر کی آواز سن کر قریبی عزیز دوڑے آئے اور انہوں نے زاہد کو دبوچ کر بندوق اس کے ہاتھوں سے لے لی، جبکہ وہ مسلسل چلا رہا تھا، “چھوڑو مجھے! چھوڑو مجھے! میں ان دھوکے بازوں کو آج تباہ کر دوں گا اور یہ کبھی اپنی خوشیوں کے شادیانے نہیں بجا سکیں گے۔” چچا کے گھر کا دروازہ ہمارے دروازے سے بالکل ملا ہوا تھا، اس لیے باراتی یہ خوفناک منظر دیکھ کر سہم گئے۔ ڈھول اور شہنائیاں یکدم خاموش ہو گئیں اور شادی میں آئے ہوئے لوگ دم بخود رہ گئے کہ یہ سب کیا اور کیوں ہوا۔ بڑے بھائی راشد کو ابو نے پہلے ہی شادی میں شرکت کے لیے بھیجا ہوا تھا تاکہ گاؤں والوں کو دونوں بھائیوں کے بیچ کی رنجش کا علم نہ ہو سکے۔

گاؤں میں بھائیوں کے درمیان پھوٹ پڑ جائے تو اسے کمزوری سمجھا جاتا ہے اور پھر دشمنوں کو وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جب لوگ سوال کرنے لگے کہ کیا ہوا ہے، تو راشد بھائی نے بات سنبھالتے ہوئے کہا، “زاہد کزن کی شادی پر باراتیوں کے استقبال کی خاطر ہوائی فائرنگ کر رہا تھا کہ گولی غلطی سے ابو کو لگ گئی۔” بہر حال، اتنے سارے لوگوں کے سامنے یہ سانحہ ہوا تھا، اس لیے کسی نہ کسی نے پولیس کو اطلاع کرنی ہی تھی۔ علاقے کا ایس ایچ او اپنے چند سپاہیوں کے ہمراہ پہنچ گیا اور اتنے میں ایمبولینس بھی آ گئی۔ والد صاحب کو اسپتال اور پوچھ گچھ کے لیے زاہد کوتھانے لے جایا گیا۔ چچا جان کو اب اچھی طرح علم ہو چکا تھا کہ اصل معاملہ کیا ہے اور زاہد نے بندوق کیوں اٹھائی تھی۔ بہر حال، اب خاندان کی عزت کا سوال تھا۔ انہوں نے باجے تاشے بند کروا کر آناً فاناً بیٹی کو رخصت کیا اور خود تھانے پہنچ گئے۔ وہاں ایس ایچ او سے کچھ معاملات طے پائے اور ہوائی فائرنگ کا بہانہ بنا کر زاہد کو آزاد کروا کر گھر لے آئے اور مقدمے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بھلا مقدمہ آگے کیسے بڑھتا، جب مدعی خود ہی کہہ رہے تھے کہ ہمارے بچے سے خطا ہوئی ہے۔ خاندان کی عزت بچانی تھی اور زاہد کو بھی چھڑانا تھا، اس لیے اس واقعے کو ایک اتفاقی حادثہ قرار دے دیا گیا۔

یہ سچ ہے کہ زاہد کی نیت والد صاحب کو قتل کرنے کی ہرگز نہیں تھی اور یہ ایک اتفاقی حادثہ ہی تھا، لیکن اگر وہ اشتعال میں وہ بھری ہوئی بندوق لے کر باہر نکل جاتا تو کتنی معصوم جانیں ضائع ہوتیں، یہ کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ ابو نے اپنی جان کی قربانی دے کر شادی میں آئے ہوئے بے گناہ لوگوں کی زندگیاں بچا لیں۔ بھائی جب گھر آیا تو بالکل خاموش تھا، جیسے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی مفقود ہو چکی ہو۔ راشد بھائی نے اسے کمرے میں بند کر دیا اور ڈاکٹر کو بلایا، جس نے اسے نیند کا انجکشن لگا کر سلا دیا۔ جس وقت ابو کی تدفین ہو رہی تھی، زاہد اپنے کمرے میں بے سدھ سو رہا تھا۔ ایک روز بعد جب اس کی آنکھ کھلی تو راشد بھائی نے اسے سنبھالا اور سمجھاتے رہے کہ “یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا، اب اس کے بارے میں کچھ مت سوچو۔ جو چیز قسمت میں نہیں ہوتی وہ نہیں ملتی، اور اسی میں اللہ کی کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔” مگر عرصہ دراز تک زاہد اسی افسردگی اور ملامت میں ڈوبا رہا کہ اس کے وقتی اشتعال کی وجہ سے اس کا باپ موت کے منہ میں چلا گیا اور اس کے ہاتھوں یہ ناگہانی المیہ وقوع پذیر ہو گیا۔

انسان کو اپنی خطا کی سزا قانون یا دنیا سے نہ بھی ملے، تو اس کا ضمیر اسے ضرور سزا دیتا ہے۔ گل رخ تو بیاہ کر اپنے گھر چلی گئی، لیکن میرے بھائی کو عمر بھر کے لیے پچھتاوے کی آگ میں جلنا پڑا۔ ابو کی وفات کے گیارہ سال بعد راشد بھائی اور امی نے زبردستی اس کی شادی خالہ کی بیٹی سے کرا دی اور جیسے تسیے اسے زندگی کے اس نئے رنگ کو قبول کرنا ہی پڑا۔ زاہد بھائی نے اس نئی زندگی کو بادلِ نخواستہ قبول تو کر لیا مگر وہ دل سے کبھی خوش نہ ہو سکے۔ انہیں آج تک یہ ملال ہے کہ انہوں نے کیوں غصے میں بندوق اٹھائی کہ انہیں اپنے ہی باپ کا قاتل بننا پڑا، جبکہ سچ تو یہ ہے کہ ابو سے سب سے زیادہ محبت بھی زاہد ہی کو تھی اور والد بھی اپنی اولاد میں زاہد کو سب سے زیادہ چاہتے تھے کیونکہ وہ نہایت فرمانبردار اور شریف لڑکا تھا۔ کہتے ہیں کہ انسان کو کل کا پتا نہیں ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے، مگر اس کی ایک چھوٹی سی لغزش اسے عمر بھر کے پچھتاوے سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ میرا بھائی بھی جب تک زندہ رہے گا، اسی پچھتاوے کی آگ میں جلتا رہے گا۔

گل رخ اپنے گھر میں آباد ہے، مگر اس کا دل آج بھی جب زاہد کو یاد کرتا ہے تو وہ چپکے چپکے رو لیتی ہے۔ وہ میری سہیلی ہے اور اس کے اس پوشیدہ دکھ کو صرف میں ہی جانتی ہوں۔ امی بھی والد کی وفات کے بعد ہنسنا مسکرانا بالکل بھول چکی ہیں اور وہ آج بھی اس گھڑی کو کوستی ہیں جب انہوں نے زاہد سے کہا تھا کہ وہ گل رخ سے شادی کر لے، جبکہ اس وقت میرا بھائی اسے خاطر میں بھی نہیں لاتا تھا۔ اے کاش! چچی نے ہم سے منافقت نہ کی ہوتی اور پہلے ہی دن سیدھی اور سچی بات کہہ دی ہوتی، تو آج ہمارے خاندان میں ایسا دردناک المیہ نہ ہوتا جس کا سبھی کو افسوس ہے، اور خاص طور پر زاہد کو، جو خود کو عمر بھر کے لیے اس المیے کا مجرم سمجھتا ہے۔
 
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ