بے وفا مرد

urdu short stories

ہماری پھوپی بیوہ ہوئیں تو والد صاحب نے ان کو اپنے گھر کے قریب مکان لے دیا تاکہ اُن کے دُکھ سکھ نظروں کے سامنے رہیں۔ ان کا ایک بیٹا تھا جس کا نام اقبال تھا؛ جن دنوں پھوپا کی وفات ہوئی، اقبال دسویں کا طالب علم تھا۔ باپ کے غم کی وجہ سے میٹرک کے پرچے دینا مشکل ہو گئے، تب ہم سب نے ڈھارس بندھائی۔ خاص طور پر ابو نے سر پر ہاتھ رکھا، حوصلہ دیا اور سمجھا بجھا کر امتحان دینے پر آمادہ کیا۔ اقبال بھائی شروع سے ہی ہونہار اور لائق طالب علم تھے۔ والد صاحب کچھ مدد کرتے اور کچھ پھوپی سلائی کڑھائی کر کے اُسے پڑھا رہی تھیں اور گھر بھی چلا رہی تھیں۔ یہ اُن پر کڑا وقت تھا، بہت صبر اور حوصلے سے حالات کا مقابلہ کرنا تھا۔ اقبال بھائی نے تعلیم جاری رکھی، یہاں تک کہ وہ ایف ایس سی تک پہنچ گئے۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن انجینئرنگ کالج میں داخلہ ملا۔ ان کی محنت اور لگن رنگ لانے لگی اور کالج کے ذہین لڑکوں میں اُن کا شمار ہونے لگا۔ جب رزلٹ آتا تو وہ شاندار نمبروں سے کامیاب ہوتے، پھوپی کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ اُن دنوں میں نویں جماعت میں تھی اور انگریزی میں کمزور تھی۔ اقبال بھائی روز شام کو آکر گھنٹہ آدھ گھنٹہ پڑھا جاتے تھے۔ ایک دن میں چھت پر گئی تو دیکھا کہ سامنے والے مکان میں نئے پڑوسی آئے ہیں، جو غیر لوگ تھے؛ اس لیے ابھی تک کوئی ان سے نہیں ملا تھا۔
sublimegate
اگلے دن جب میں اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلی تو کسی نے مجھے آواز دی، “سنو، ذرا ٹھہرو۔” میں نے اس جانب دیکھا جدھر سے آواز آئی تھی۔ ایک لڑکی سامنے والے مکان کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ وہ مجھ سے عمر میں تقریباً چار سال بڑی ہوگی، صحت مند اور خوبصورت تھی۔ رنگ اُجلا اور آنکھیں روشن تھیں، غرض کہ خاصی پرکشش تھی۔ میں نے اس کے پاس جا کر پوچھا، “آپی! کیا بات ہے، آپ نے مجھے بلایا؟” اس نے کہا، “ہاں، تمہارا نام پوچھنا تھا۔” میں چونک گئی، “جی کیوں؟” وہ بولی، “ارے بھئی، ہم نئے آئے ہیں، آخر کسی سے تو دوستی کرنی ہے۔” اس نے کچھ اس طرح اپنائیت سے کہا کہ میں نے اپنا نام بتا دیا، “عارفہ۔” وہ بولی، “واہ! نام تو خوب ہے۔ جانتی ہو میرا نام کیا ہے؟ عاطفہ، اچھا ہے نا؟ کون سی کلاس میں پڑھتی ہو؟” میں نے کہا، “نویں میں۔” وہ بولی، “دراصل ہم نئے آئے ہیں، کوئی جاننے والا نہیں تو سوچا کہ تم سے ہی بات کر لوں۔” ابھی اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ سامنے سے آواز آئی، “عارفہ! کیا لیٹ ہونے کا ارادہ ہے؟ جلدی آؤ۔” یہ اقبال بھائی تھے، جنہوں نے اپنے کالج جانے سے پہلے مجھے اسکول ڈراپ کرنا تھا۔ میں نے جلدی سے عاطفہ کو خدا حافظ کہا اور اقبال بھائی کی طرف لپکی جو موٹر بائیک نکال چکے تھے اور اب اُسے اسٹارٹ کرنے والے تھے۔ انہوں نے پوچھا، “کیا کہہ رہی تھی؟” میں نے بتایا کہ وہ مجھ سے دوستی کرنا چاہ رہی ہے۔ وہ بولے، “لگتا ہے پڑھنے لکھنے نہیں جاتی۔ چلو کر لو دوستی، بیچاری اکیلی جو ہے۔” میرا اسکول آ گیا اور انہوں نے مجھے ڈراپ کر دیا۔ اُس دن کے بعد وہ اکثر ہمارے گھر آ جاتی اور مجھ سے باتیں کرتی؛ وہ کافی ذہین تھی اور اس کی عمر اٹھارہ انیس سال تھی۔ امی نے بھی اعتراض نہیں کیا کہ بچی ہے، ہم میں اپنائیت تلاش کرتی ہے، تبھی آ جاتی ہے۔ اب میں بھی چھٹی والے دن اس کے گھر جانے لگی۔ ایک روز عاطفہ نے پوچھا، “عارفہ! یہ بتاؤ کہ اس روز تم جس کے ساتھ اسکول جا رہی تھیں، وہ تمہارا کون ہے؟” میں نے جواب دیا، “میرے بھائی ہیں، ان کا نام اقبال ہے اور وہ انجینئرنگ کالج کے طالب علم ہیں، میری پھوپی کے بیٹے ہیں۔” میں نے دو چار باتیں اور بڑھا چڑھا کر بتا دیں۔ پھر خدا جانے کیا ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد کہانی ہی بدل گئی۔

اب جب وہ مجھے ٹیوشن پڑھانے آتے، تو یہ بھی آ جاتی اور دونوں ایک دوسرے کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھتے۔ پھر اقبال بھائی نے مجھے ٹیوشن پڑھانا چھوڑ دیا۔ جب میں نے نہ آنے کا سبب پوچھا تو بولے، “طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” لیکن ایسا نہیں تھا۔ اب اقبال بھائی الجھے الجھے سے رہنے لگے تھے۔ اُدھر وہ ہمارے گھر نہیں آ رہے تھے تو عاطفہ نے بھی آنا کم کر دیا۔ میں پریشان سی ہو گئی۔ ایک دن میں عاطفہ کے گھر گئی تو وہ اپنے کمرے میں چادر اوڑھے لیٹی تھی۔ میں نے پوچھا، “کیا ہوا؟” وہ بولی، “عارفہ! پتا نہیں کیا بات ہے، کسی چیز میں دل نہیں لگتا اور بات کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔” میں کچھ نہ سمجھ سکی۔ پھر اس نے پوچھا، “عارفہ… اقبال کہاں ہے؟” میں چونک گئی، پھر سنبھل کر بولی، “ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، گھر پر ہی رہتے ہیں۔” اس نے سوال کیا، “کیا اقبال کی منگنی ہو گئی ہے؟” میں نے کہا، “نہیں تو… پھوپی ان کی شادی اپنی خالہ کی بیٹی سے کرانا چاہتی ہیں۔ پہلے اقبال بھائی راضی تھے لیکن اب انکار کر رہے ہیں، نجانے کیوں، حالانکہ شہر ناز بہت اچھی لڑکی ہے۔” میرے جواب پر وہ پرسکون ہو گئی جیسے کسی بڑے طوفان کا خطرہ ٹل گیا ہو۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ ان دونوں کے بیچ کچھ معاملہ ضرور ہے۔ تھوڑی دیر عاطفہ کے پاس بیٹھ کر میں اس کے گھر سے نکلی تو پھوپی کے گھر آ گئی۔ وہ کچن میں تھیں اور اقبال بھائی اپنے کمرے میں تھے۔ میں نے پھوپی کو آواز دی، غالباً انہوں نے میری آواز نہ سنی، لیکن بھائی نے سن لی۔
 
 وہ اپنے کمرے سے پکارے، “عارفہ! ادھر آ جاؤ، میں یہاں ہوں۔” میں نے پوچھا، “آپ ٹھیک تو ہیں؟” وہ ہاتھ میں کتاب لیے بیڈ پر نیم دراز تھے۔ انہوں نے بتایا، “میں ٹھیک ہوں۔” میں نے پوچھا، “پھوپی کے ساتھ شہر ناز والا جھگڑا ختم ہوا؟” “شش…” انہوں نے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا، “کہیں والدہ نہ سُن لیں۔” میں نے کہا، “کوئی پریشانی ہے تو بتائیے، آپ کی چھوٹی بہن ہوں، شاید کچھ مدد کر سکوں۔” بات وہی تھی جو میں نے عاطفہ سے ملتے ہی محسوس کر لی تھی۔ وہ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد گویا ہوئے، “کیا عاطفہ کے گھر جانا ہوا تھا؟” میں نے کہا، “ہاں گئی تھی، ابھی تھوڑی دیر پہلے۔” انہوں نے پوچھا، “کیا کر رہی تھی وہ؟” میں نے بتایا، “بالکل آپ کی طرح بیڈ پر لیٹی آرام کر رہی تھی۔” انہوں نے پوچھا، “اس نے تمہارے گھر آنا کم کر دیا ہے؟” میں نے کہا، “کم نہیں بلکہ بالکل بند کر دیا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ مجھ سے ملنے کی بجائے کسی اور سے ملنے آتی تھی۔” میرے اس طنز پر وہ زیرِ لب مسکرا کر بولے، “تم ایک بات بتاؤ، کیا وہ میرے بارے میں تم سے سوالات کرتی ہے؟” میں نے کہا، “نہیں…” اور یوں میں نے اُن کو مایوس کر دیا۔ وہ بولے، “اچھا، تم اس کے بارے میں کیا جانتی ہو؟” میں نے کہا، “کچھ زیادہ نہیں۔” میری یہ بات سنکر ان کو مزید مایوسی ہوئی اور ان کا منہ لٹک گیا۔ میں ان کو اداس نہیں دیکھنا چاہتی تھی، تبھی کہا، “آج اس نے آپ کے بارے میں پوچھا تھا۔” انہوں نے پوچھا، “کیا؟” اُن کی آنکھیں چمک اٹھیں اور لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے کہا، “کچھ نہیں، بس ویسے ہی پوچھ رہی تھی کہ اقبال بہت دنوں سے نظر نہیں آ رہے، ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔”

پھر انہوں نے پوچھا، “تو تم نے کیا جواب دیا؟” وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ میں نے کہا، “ایک شرط پر بتاؤں گی؛ اگر آپ مجھے دوبارہ پڑھانے آئیں گے تب۔” وہ بولے، “ہاں… ہاں آؤں گا، آج شام کو ہی آؤں گا۔” تب میں نے بتایا، “میں نے اس سے کہا تھا کہ اقبال بھائی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، یہ سن کر وہ پریشان ہو گئی تھی۔” یہ سن کر اقبال بھائی نے گہرا سانس لیا۔ شام کو وہ مجھے پڑھانے آ گئے اور رہ رہ کر دروازے کی سمت دیکھتے تھے۔ خدا جانے عاطفہ کو کیسے خبر ہو گئی، وہ بھی اسی شام ہمارے گھر آ گئی۔ امی کچن میں تھیں، وہ ان کے پاس جا کر چائے بنانے میں مدد کرنے لگی۔ ہم صحن میں بیٹھے تھے کہ تھوڑی دیر میں وہ چائے کی ٹرے لے آئی اور اقبال کے سامنے رکھ کر بولی، “خالہ نے بھجوائی ہے۔” اقبال بھائی کو امی کے ہاتھ کی چائے بہت پسند تھی، شام میں جب بھی آتے چائے کی فرمائش کرتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا لیکن آج کچھ زیادہ ہی اہتمام ہوا تھا؛ ساتھ میں بسکٹ اور سموسے بھی تھے جو عاطفہ اپنے گھر سے ساتھ لائی تھی۔ وہ ٹرے رکھ کر واپس جانے لگی تو بھائی نے پلیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، “تم بھی لو نا…” اس نے ذرا نخرے سے کہا، “نہیں، آپ کھائیے، میں ہی تو لائی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ چلی گئی، گویا کسی کے دل کی لگی کو اور شعلہ دکھا گئی۔ اگلے دو دن وہ نہ آئی اور بھائی کی نظریں منتظر رہیں۔ 
 
میں اُن کی بے چینی کو محسوس کر رہی تھی لیکن میں نے ذکر نہ کیا، بھلا پڑھائی کے بیچ عاطفہ کا ذکر کیسے کرتی۔ اقبال بھائی کا دل پڑھانے میں نہیں لگ رہا تھا اور ان کی سوچ کہیں اور تھی، بالآخر سوال لبوں پر آ ہی گیا۔ کچھ دیر بعد بولے، “تیری دوست نہیں آئی؟” میں نے کہا، “جی نہیں، اقبال بھائی۔” انہوں نے پوچھا، “تم نے اس کی خیریت دریافت نہیں کی؟” میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ تھوڑا سا پڑھانے کے بعد چلے گئے۔ اگلے دن میں عاطفہ کے گھر گئی، وہ اپنے صحن میں نیم کے درخت تلے چارپائی پر بیٹھی تھی۔ میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی اور کہا، “واہ! کیسی ٹھنڈی چھاؤں ہے اس درخت کی، بڑا مزہ آ رہا ہے۔” وہ مسکرا دی۔ میں نے پوچھا، “تم گھر کیوں نہیں آتیں، تین دن گزر گئے؟” وہ بن کر بولی، “روز آنا کیا ضروری ہے؟ کیا آنٹی کو میرا انتظار رہتا ہے؟” میں نے کہا، “باجی، نہیں! انہیں نہیں، کسی اور کو انتظار رہتا ہے۔” وہ بات کو انجان بنتے ہوئے بولی، “تو تم آ جایا کرو نا۔” میں نے کہا، “عاطفہ! تم خوب سمجھتی ہو لیکن جان بوجھ کر انجان بنتی ہو۔ اچھا یہ بتاؤ، آج آؤ گی؟” اس نے ہنس کر کہا، “آ جاؤں گی۔” پھر وہ ٹھیک اقبال بھائی کے آنے کے پانچ منٹ بعد آ گئی، جیسے اس کے کان گیٹ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر لگے ہوئے تھے۔ امی بازار گئی تھیں اور میری چھوٹی بہن اور بھائی کھیلنے میں مشغول تھے۔ اقبال بھائی بولے، “آج آنٹی گھر پر نہیں ہیں، ہمیں چائے کون پلائے گا؟”

عاطفہ بولی، “میں بنا لاتی ہوں۔” میں نے کہا، “نہیں عاطفہ، تم بیٹھو، میں لاتی ہوں چائے… اقبال بھائی بھی کیا یاد کریں گے۔” میں کچن میں چلی گئی تاکہ ان کو کھل کر باتیں کرنے کا موقع مل سکے۔ میرے ہاتھ اگرچہ کام کر رہے تھے لیکن کان اُدھر ہی لگے ہوئے تھے۔ کچن سے چائے کی ٹرے لاتے ہوئے میرے قدم تھم گئے؛ اقبال عاطفہ سے کہہ رہے تھے، “اس وقت میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ عاطفہ، تیری قسم! مجھے روپے تجھ سے زیادہ عزیز نہیں ہیں۔ ابھی امی سے اکیڈمی کی فیس نہیں ملی، وہ جیسے ہی میرے ہاتھ پر رکھیں گی، میں تم کو دے دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ تمہیں زیادہ ضرورت ہے۔” وہ بولی، “اچھا ٹھیک ہے، میری تم سے ناراضی ختم۔ اقبال، تمہاری قسم! امی کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی، اُن کے علاج اور دوا میں وقفہ آ جائے تو وہ اور زیادہ بیمار ہو جاتی ہیں۔ تمہاری سپورٹ سے ہی تو ان کا علاج چل رہا ہے۔ میں تم سے پیسوں کی خاطر ناراض نہیں تھی، یہ میری ایک بہت بڑی مجبوری ہے۔ بھائی جان کی تنخواہ تو اپنے بیوی بچوں کے لیے ہی ناکافی ہوتی ہے، پھر ہم کدھر جائیں؟” وہ روہانسی ہو رہی تھی۔ میں نے جان بوجھ کر آہٹ کی تاکہ وہ سنبھل جائیں۔ بھائی نے جلدی سے بات کو ختم کرتے ہوئے کہا، “بس دو دن کی مہلت اور دے دو، رقم دے دوں گا۔”

میں حیران رہ گئی، گویا یہ باہر کہیں ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے تھے۔ پھوپی کے گھر فون نہیں تھا، اس لیے یہ ضرور کسی دوست کے گھر سے ایک دوسرے کو فون کرتے تھے۔ اب میری سمجھ میں آیا کہ عاطفہ ہمارے گھر کیوں نہیں آ رہی تھی اور اقبال بھائی مجھے ٹیوشن پڑھانے کیوں نہیں آتے تھے؛ دراصل دونوں میں ان بن ہو گئی تھی۔ عاطفہ نے آخری جملہ ادا کیا، “اقبال! تم نہ ملے تو میں مر جاؤں گی۔” جواب ملا، “میری سب سے عزیز چیز تم ہی ہو عاطفہ… تم کو حاصل کرنے کے لیے میں اپنا سب کچھ قربان کر دوں گا، بس تم میرا ساتھ نہ چھوڑنا۔” کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے عاطفہ کو ایک موبائل گفٹ کیا، جس کے بعد ان کی فون پر باتیں ہونے لگیں۔

میرا یہ پھوپی زاد انتہائی مخلص اور سادہ لوح تھا، وہ واقعی سچے دل سے اس لڑکی کو چاہنے لگا تھا اور اس کو راضی رکھنے کے لیے اپنی اکیڈمی کی فیس—جو بڑی مشکلات سے پھوپی محنت مزدوری کر کے مہیا کرتی تھیں—ہر ماہ اس لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دیا کرتا تھا۔ ابو بھی اقبال کو تعلیمی اخراجات میں مدد کے طور پر رقم دیا کرتے تھے اور وہ سب کچھ ان دنوں عاطفہ کے پاس جا رہا تھا۔ واقعی بھائی نے اُسے عزیز از جان سمجھ کر اپنا مستقبل اس پر قربان کر دیا، لیکن وہ صرف آنکھوں کا دھوکا نکلی۔ وہ اب اپنی تعلیم اور اپنی بیوہ ماں کے دُکھوں سے غافل ہو کر عاطفہ کے چکر میں اپنی زندگی کے قیمتی دن ضائع کر رہے تھے۔ انہوں نے اکیڈمی جانا بھی بند کر دیا تھا، لیکن کسی کو بتایا نہیں تھا۔ شام کے وقت جب ان کے کلاس فیلوز پروفیسر صاحب سے پڑھنے اکیڈمی جاتے، تو یہ گھر سے باہر عاطفہ کے ساتھ ملاقاتیں کرتے یا پھر اس سے فون پر گفتگو میں وقت کا زیاں کر رہے ہوتے۔

سچ ہے کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ بدقسمتی یہ کہ ان ہی دنوں والد صاحب اپنی ملازمت چھوڑ کر زیادہ کمانے کے چکر میں سعودی عرب چلے گئے۔ چونکہ اقبال کے اپنے باپ نہیں تھے، اس لیے اب سر پر ماموں کا ہاتھ اور نگرانی بھی نہ رہی، تو ان کے دل میں کسی کا خوف بھی نہ رہا۔ اس دوران انہوں نے عاطفہ سے کہا کہ “میں اپنی ماں کو راضی کر کے تمہارے رشتے کی بات تمہاری والدہ اور بھائی سے کرنا چاہتا ہوں۔” لیکن اس لڑکی نے یہ کہہ کر روک دیا کہ “ابھی کچھ دن صبر کرو۔ رشتے کی بات اُس وقت کرنا جب میں کہوں، ابھی یہ وقت مناسب نہیں ہے۔” جب بھائی کے تھرڈ ایئر (سالِ سوم) کا نتیجہ آیا تو وہ فیل تھے۔ پھوپی کو سخت صدمہ ہوا کہ ان کے لائق بیٹے کے ساتھ ایسی کیا افتاد گزر گئی جو اتنا برا نتیجہ آ گیا۔ ظاہر ہے، جو کالج سے غیر حاضر ہو، اکیڈمی کی ٹیوشن چھوڑ دے اور پڑھائی کو وقت دینے کی بجائے عشق کے اسباق رٹتا ہو، اس کا ایسا ہی رزلٹ آنا تھا۔ ان کے فیل ہو جانے کا صدمہ ہر ایک کو تھا لیکن انہیں خود بالکل نہیں تھا۔ انہوں نے ماں کو روتے پا کر وعدہ کیا، “اس سال کمی پوری کروں گا اور ٹاپ کروں گا۔ بس آپ روئیے نہیں… آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔” پھوپی کو بیٹے اور عاطفہ کے معاملے کی کچھ خبر نہ تھی؛ وہ سارا دن گھر کے کاموں اور سلائی کڑھائی میں لگی رہتی تھیں۔ وہ سارے محلے کے کپڑے سیتی تھیں اور یہ محنت اس لیے کر رہی تھیں کہ ایک دن ان کا بیٹے پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے گا تو ان کے دن پھر جائیں گے۔

ایک روز میں عاطفہ کے گھر گئی تو اس کی والدہ اور بھائی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ وہ جلد عاطفہ کی شادی کر رہے ہیں۔ شادی کے لیے اس کا بڑا بھائی اسلام آباد سے چھٹی لے کر آ رہا تھا۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کہ عاطفہ ابھی تک اقبال بھائی کو جھوٹے آسرے میں رکھے ہوئے تھی۔ میں سوچ میں پڑ گئی کہ اقبال بھائی سے کہوں یا نہ کہوں… اور کہوں بھی تو کیسے کہوں، کہیں ان کو صدمے سے کچھ ہو نہ جائے۔ انہی سوچوں میں دس دن گزر گئے کہ عاطفہ کی شادی کا کارڈ ہمارے گھر پہنچ گیا۔ میں نے حیرت سے اُس کی بھابھی سے کہا، “ارے یہ کیا! اتنی جلدی؟” تو وہ بولی، “اتنی جلدی کیا؟ اس کی منگنی کو ایک برس ہو گیا ہے اور تیاریاں چھ ماہ سے چل رہی تھیں، تو کیا اب بھی شادی نہ کرتے؟” میں نے کہا، “لیکن مجھے تو عاطفہ نے بتایا ہی نہیں!” وہ بولی، “ضروری نہیں کہ ایسی باتیں ہر کسی کو بتائی جائیں۔” جب میں نے اقبال بھائی کو وہ کارڈ دکھایا تو ان کا رنگ اڑ گیا۔ انہوں نے اسی وقت عاطفہ کو فون کیا، تو اس لڑکی کا حوصلہ دیکھو کہ اس نے اب بھی یہی کہا، “اقبال! تم فکر نہ کرو، میں تمہارے ساتھ نکل چلوں گی مگر یہ شادی نہیں کروں گی۔”

میرے بھولے بھائی کو اس کی ہر بات پر یقین آ جاتا تھا، اس لیے وہ تسلی میں آ گئے۔ اب میں یہ کیسے اُن کو بتاتی کہ “بھائی میرے! یہ شادی اس کی اپنی پسند سے ہو رہی ہے، آپ کس خیال میں ہو؟” اس بے وفا لڑکی کی خاطر میرے پھوپی زاد نے اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ خیر، خوشی خوشی اس کی شادی ہو گئی اور وہ بیاہ کر چلی بھی گئی۔ شہنائیاں اور شادیانے ہمارے گھر کے آگے بج رہے تھے، گلی میں شامیانہ لگایا گیا تھا اور اقبال بھائی کے دروازے کے سامنے بارات آکر بیٹھی تھی، جبکہ وہ اپنے کمرے میں بند ہو کر سگریٹ نوشی کر رہے تھے، حالانکہ پہلے کبھی انہوں نے سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ عاطفہ چلی گئی اور میرے بھائی کا پرخلوص اور سادہ دل اجڑ گیا۔ وہ دُنیا سے کٹ کر رہ گئے؛ ماں کچھ کہتی تو ان پر چلا پڑتے۔ وہ اپنی والدہ کے بھی نافرمان بن گئے اور تعلیم کو خیرباد کہہ دیا… چند دنوں کی جھوٹی محبت نے ان کو برباد کر ڈالا۔

اس کے بعد عاطفہ دو تین بار اسلام آباد سے اپنے میکے آئی مگر وہ مجھ سے ملی اور نہ ہی اقبال بھائی سے کوئی رابطہ کیا۔ اس کی محبت اب اپنے شوہر کے ساتھ تھی۔ میرے بھائی سے تو بس وہ تحفے اور رقم بٹورتی تھی، جس کے لیے بھائی نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ اس لڑکی نے کبھی پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ اس بے وفا نے میرے بھائی کو اندھیرے میں رکھ کر ایک بیوہ ماں سے اس کی امیدیں اور خوشیاں چھین لیں۔ اقبال بھائی نے اپنی منزل گم کر دی اور وہ پھر زندگی میں کچھ نہ کر سکے۔ پڑھائی چھوڑ کر وہ ایک اسٹور پر سیلز مین لگ گئے اور اسی تھوڑی سی تنخواہ ہی کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیا۔

سچ ہے کہ جب آدمی کا دل ٹوٹ جاتا ہے تو وہ خود بھی سلامت نہیں رہتا۔ وہ سمجھتے تھے کہ میری انتہائی قیمتی شے کھو گئی ہے، اب میں کس کے لیے محنت کروں، کیوں کروں اور کس لیے مستقبل کی خاطر ہلکان ہوتا رہوں۔ وہ یہ بھول گئے کہ جس ہستی نے دن رات محنت کر کے ان کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج تک پہنچایا، اس کا بھی تو ان پر کچھ حق تھا۔ اس کی بھی کچھ آرزوئیں اور ارمان تھے، لیکن بچے اپنی خوشیوں ہی کو اہم جانتے ہیں، وہ کب ماں باپ کی پروا کرتے ہیں۔

اس میں صرف اقبال بھائی کا بھی قصور نہ تھا۔ انسان ہزار بار کہے کہ اُسے کسی سے پیار نہیں ہو گا یا وہ کسی سے پیار نہیں کرے گا، لیکن یہ ایک ایسا سنجوگ ہے جسے دلوں کا سنجوگ کہا جاتا ہے، جو نظروں کے راستے خود بخود دل میں اتر جاتا ہے۔ میں عاطفہ کی نیت سمجھ چکی تھی، اس لیے بعد میں کبھی کبھی اقبال بھائی کو ڈھارس دیا کرتی تھی کہ “آپ اس کی بے وفائی پر دُکھی نہ رہا کریں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیاں مجبور ہوتی ہیں، وہ بھی مجبور ہو گی؛ بھلا کیا کرتی جب بڑے بھائی نے اس کی شادی زبردستی کرا دی تو اس کا کیا قصور؟ اُسے معاف کر دو بھائی اور بھلا دو۔ جو آپ کی دُنیا سے چلا گیا، اس کو اپنی یادوں سے بھی نکال دو۔ اپنی امی کا خیال کرو اور نئی زندگی کے لیے پھر سے سوچو۔” مگر اقبال بھائی کے مقدر کو جیسے تالے لگ گئے تھے، وہ زندگی میں ترقی نہ کر سکے۔ جب میں نے بی اے کر لیا تو والدین نے میری شادی ایک اچھے خاندان میں کر دی اور میں بیاہ کر اسلام آباد چلی گئی۔

اتفاق سے ایک روز میری ملاقات اپنی پڑوسن کے گھر عاطفہ سے ہو گئی۔ اسے دیکھ کر میں حیران رہ گئی؛ وہ بالکل ہشاش بشاش، پہلے سے زیادہ دلکش اور خوش و خرم تھی۔ میری پڑوسن اس کی سسرالی رشتے دار تھی جس سے وہ ملنے آئی تھی۔ میں نے باتوں باتوں میں اس سے پوچھا، “عاطفہ! تم خوش ہو؟” وہ بولی، “ہاں، اللہ کا شکر ہے۔” میں نے کہا، “لیکن میرا بھائی چارہ تو برباد ہو گیا ہے۔ ایک بات پوچھوں؟ میرے دل کی تسلی کے لیے سچ بتا دو کہ تم نے اقبال بھائی کو دھوکا کیوں دیا؟ اُن کے ساتھ ایسا ناٹک کیوں کھیلا کہ وہ بیچارے پڑھائی سے بھی گئے؟” اس وقت پڑوسن کچن میں خاطر مدارات کا سامان تیار کرنے چلی گئی تھی۔ میرے قسم دینے پر عاطفہ نے کہا، “میں سچ سچ بتائے دیتی ہوں، میرے دل پر بھی ایک بوجھ ہے، تم سے کہہ کر شاید یہ بوجھ ہلکا ہو سکے۔”

پھر وہ یوں گویا ہوئی: “دیکھو، مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت شوق تھا مگر میں پڑھائی میں اتنی لائق نہ تھی کہ یہ آرزو پوری کر سکتی۔ پس، میرے شوق کو دیکھتے ہوئے گھر والوں نے میرا نرسنگ ٹریننگ سینٹر میں داخلہ کرا دیا۔ شروع میں، میں بہت گھبراتی تھی اور کسی کو انجکشن لگانے سے بھی ڈرتی تھی، پھر رفتہ رفتہ یہ جھجک دُور ہو گئی اور میں نے کورس مکمل کر لیا۔ جب سرکاری نوکری نہ مل سکی تو میں نے گھر کے پاس ہی ایک پرائیویٹ کلینک میں جاب کر لی۔ وہاں میرے علاوہ دو لڑکے ڈسپنسر تھے؛ وہ میری عزت کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ احترام سے پیش آتی تھی۔

انہی دنوں میرے بھائی کی شادی قریب آ گئی۔ چونکہ والدہ بیمار تھیں، اس لیے مجھے یہ ملازمت چھوڑنی پڑی۔ ڈاکٹر احسان، جو کلینک کا مالک اور ہمارا محلے دار بھی تھا، اس نے میری جگہ ایک اور لڑکی کو رکھ لیا، لیکن وہ لڑکی ٹھیک نہ تھی۔ کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد جب ڈاکٹر احسان کو شکایات ملنے لگیں تو اس نے اس لڑکی اور مسٹر سنیل کو نکال دیا اور پھر وہ ہمارے گھر آئے۔ انہوں نے بھائی سے درخواست کی کہ ‘میں عاطفہ کو دوبارہ کلینک میں جاب آفر کرنے آیا ہوں۔ یہ گھر میں بے کار بیٹھی ہے جبکہ ٹریننگ یافتہ ہے، اس لیے اس کو ملازمت کی اجازت دے دیں۔’

بھابھی کے آ جانے سے امی کو گھر کے کام کاج میں سہولت ہو گئی تھی، اس لیے مجھے دوبارہ جاب کی اجازت مل گئی۔ اس بار ڈاکٹر صاحب کو میری قدر آئی اور وہ مجھے اہمیت دینے لگے، جس کی وجہ سے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئی اور میری طرف سے ان کی جانب جھکاؤ ہو گیا۔ مرد چاہے کتنا ہی شریف ہو، لیکن اگر کوئی خوبصورت لڑکی خود اس کی جانب ملتفت ہو جائے تو اکثر مرد دامن نہیں بچا سکتے۔ ڈاکٹر احسان کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی، اس نے میری کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور محبت کا جواب محبت سے دینے لگا۔ اب ہم موقع پا کر باہر گھومنے بھی چلے جاتے تھے۔ ایک روز جب کلینک میں کوئی موجود نہ تھا، ہم ایک خالی کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور پھر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میں بھی جذبات کی رو میں بہہ گئی۔ اس دن ہم نے اخلاقیات کی سب ڈوریاں مٹا دیں۔

میں سمجھ رہی تھی کہ یہ میری بہت بڑی کامیابی ہے اور اب وہ مجھ سے ضرور شادی کر لیں گے، لیکن یہ میری بھول تھی۔ جب میں نے شادی کے لیے اصرار کیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ان کی والدہ ہرگز نہیں مانیں گی، کیونکہ وہ ان کی شادی اپنی ایک رشتے دار لڑکی سے ہی کریں گے۔ وہ اپنی بھانجی کو بہو بنانے کا پختہ ارادہ کر چکی تھیں اور وہ لڑکی ابھی ہاؤس جاب کر رہی تھی۔ ڈاکٹر احسان کی بات سن کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں اپنے دل کے ہاتھوں مزید کھلونا نہیں بننا چاہتی تھی، لہذا میں نے ملازمت چھوڑ دی اور پھر بھابھی کے اصرار پر بھائی جان نے ہمیں وہاں کرائے کا گھر لے دیا جہاں بھابھی کے والدین قیام پذیر تھے، کیونکہ بھابی اپنے ناتواں ماں باپ کی خبر گیری کے لیے ان کے گھر کے نزدیک رہنا چاہتی تھیں۔ اتفاق سے یہ گھر تم لوگوں کے گھر کے سامنے تھا اور یوں تم سے اور اقبال سے ملاقات ہو گئی۔

میرا ارادہ اقبال کو دھوکا دینے کا نہیں تھا مگر خدا کی کرنی دیکھیے کہ ہمارے وہاں سے جانے کے بعد احسان کو احساس ہوا کہ اس نے میری محبت کو ٹھکرا کر زیادتی کی ہے۔ اس کی خالہ زاد، جو ڈاکٹری کر چکی تھی، اس نے ہاؤس جاب مکمل کرتے ہی احسان کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا۔ احسان کے دل پر چوٹ لگی اور اس نے محسوس کیا کہ جب کوئی کسی کو ٹھکرا دے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ احسان مجھے برباد کر چکا تھا، لہذا اب اس کا ضمیر جاگ گیا۔ اس نے سوچا کہ شاید اسے میری بددعا لگی ہے کہ اس کا دل دُکھانے پر اس کی خالہ زاد نے اُسے ٹھکرا دیا ہے۔ اپنے کیے کی تلافی کے لیے وہ اپنی والدہ کے ہمراہ میرے بھائی کے پاس میرا رشتہ مانگنے آیا۔ چونکہ وہ ہمارے پرانے پڑوسی تھے اور بھائی ان لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے انہوں نے فوراً احسان کا رشتہ قبول کر لیا۔ میں جس شخص کے لیے عرصے تک چپکے چپکے روئی اور اس کے حاصل ہونے کی دُعائیں مانگتی تھی، وہ خود میرا طلب گار ہو کر ہمارے دروازے پر آ گیا تھا۔

مجھے جب یہ خبر ملی تو میں حیران رہ گئی۔ میرے دل سے احسان کی محبت کبھی گئی ہی نہیں تھی، پھر میں نے اس کے ہاتھوں اپنی دوشیزگی کا گوہرِ نایاب بھی گنوایا تھا؛ چنانچہ عقل نے یہی فیصلہ کیا کہ اب اسی کی ہو جاؤں جس نے غلطی کرنے کے بعد بھی تم کو نہیں بھلایا، کیونکہ کسی اور سے اس غلطی کے بعد شادی کرنا بھی تو دھوکا دینے کے مترادف ہوتا۔ سو، میں نے ڈاکٹر احسان سے شادی کر لی۔ مجھے اقبال کو دکھ دینے کا افسوس ہے، تم میری طرف سے ان سے معافی مانگ لینا، کیونکہ شادی کے بعد میرے لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ میں اس سے مل کر معافی مانگتی۔” عاطفہ نے ابھی اپنی بات مکمل ہی کی تھی کہ ہماری میزبان چائے اور پکوڑے بنا کر کمرے میں لوٹ آئیں اور ہم دونوں کو خاموش ہو جانا پڑا۔ 
 
جب میں لاہور گئی تو میں نے اقبال بھائی کو میلے کپڑوں میں، مست ملنگ بنے دیکھا۔ مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے تمام داستان اُن کے گوش گزار کر دی… میں نے ان کو سمجھایا کہ “اب جبکہ عاطفہ کی گتھی سلجھ گئی ہے تو بہتر ہے کہ اس کا غم دل سے مٹا دیں، کیونکہ آپ کی اماں اب ناتواں ہیں، ان کا خیال کریں… زندگی میں دلچسپی لیں اور اس لڑکی سے شادی کر کے والدہ کو خوشی دے دیں جس سے وہ آپ کی شادی کرانا چاہتی ہیں۔” اقبال بھائی نے میری بات مان لی۔ قدرت نے پھوپی کی بیوگی پر رحم کیا؛ بہو بن کر سلمیٰ نے نہ صرف اُن کو بہت سکھ دیا بلکہ رفتہ رفتہ اپنی محبت سے اقبال کا بھی دل جیت لیا… وہ دوبارہ پڑھائی کی طرف راغب ہو گئے۔ انجینئر تو نہ بن سکے، بہرحال ڈپلوما کرنے کے بعد والد صاحب نے اُن کو سعودی عرب بلوا لیا۔ اب انہیں اچھی تنخواہ ملنے لگی ہے اور یوں میری پھوپی کے دن پھر گئے۔ مفلسی کا علاج تو محنت اور کام میں ہے؛ انسان ہمت نہ ہارے تو سب کچھ پا لیتا ہے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ