وہ بھی کیا دن تھے جب میں خوشیوں کے باغ میں کسی رنگین تتلی کی مانند اڑتی پھرتی تھی! دنیا کس قدر حسین نظر آتی تھی، میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی کانٹوں کے بستر پر زندگی کی گھڑیاں گنتے ہوئے وقت گزاروں گی۔ ہمارا گھرانہ چھ افراد پر مشتمل تھا۔ بڑے بھائی الیکٹریشن تھے اور انہیں بیرون ملک جانے کا شوق تھا، جبکہ ان سے چھوٹے بھائی کی کڑھائی کی دکان تھی۔ میں تیسرے نمبر پر تھی اور مجھ سے چھوٹا بھائی ابھی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ والد صاحب نوکری پیشہ تھے اور گھریلو ذمہ داریاں زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اولاد کو بہت کم وقت دے پاتے تھے۔ والدہ تعلیم یافتہ نہ تھیں اور ہمہ وقت گھریلو امور میں مصروف رہنے کی وجہ سے وہ مجھ پر بالکل توجہ نہ دیتی تھیں۔ میری کوئی بہن نہ تھی، اس وجہ سے میں احساسِ محرومی کی لپیٹ میں آگئی اور لڑکوں کے بیچ پلی بڑھی۔ بھائیوں کو دیکھ دیکھ کر میری چال ڈھال بھی لڑکوں جیسی ہو گئی۔
cknwrites
بلند آواز میں بات کرنا، چھلانگیں لگانا، جو چیز راستے میں پڑی ہو اس کو ٹھوکر مار دینا، کھلونے توڑنا اور برتن ہوا میں اچھال دینا، مردانہ چال چلنا، حتیٰ کہ کپڑے بھی لڑکوں جیسے پہننا میری عادت بن چکا تھا۔ میری دوستی بھی لڑکوں ہی سے تھی، جبکہ لڑکیاں تو مجھ سے بات کرتے ہوئے گھبراتی تھیں۔ جب میں ذرا سمجھدار ہوئی، تو والدہ نے میرے گھر سے باہر نکلنے اور گلیوں میں پھرنے پر پابندی لگا دی۔ بس یہیں سے ذہنی کشمکش اور احساسِ محرومی کی ابتدا ہوئی کہ بھائیوں پر تو کوئی روک ٹوک نہ تھی، مگر میں والدین کی نظروں میں ایک ایسا قیمتی ہیرا تھی جس کو کوئی چرا کر لے جانے والا تھا۔ اس وقت میری عمر دس بارہ برس تھی اور مجھے سماج میں مرد و زن کے مرتبے کی تفریق کا بالکل ادراک نہ تھا۔
اسی سبب میرے طور اطوار پر والدہ کو بار بار ٹوکنا پڑتا تھا، یہ بات مجھ کو سخت ناپسند تھی، تبھی میں ماں سے برگشتہ رہنے لگی۔ بھائی صبح ہی کام پر نکل جاتے تھے، گھر میں بات کرنے والا کوئی نہ ہوتا تھا، چنانچہ اب میں تنہائی کی وجہ سے بہن کی کمی شدت سے محسوس کرنے لگی۔ میں نے کبھی کسی لڑکی کو سہیلی نہیں بنایا تھا اور اسکول میں بھی لڑکیوں سے دوستی نہ ہو سکی۔ اکثر لڑکیاں میری چال ڈھال دیکھ کر مجھے “مندا” (ٹام بوائے) کہا کرتی تھیں، جبکہ مجھ کو اس لفظ سے سخت چڑ تھی۔ شروع سے مجھے جیب خرچ زیادہ ملتا تھا۔ ابو بھی دیتے اور امی سے میں الگ لے لیتی تھی۔ اس لیے میرا ہاتھ کھلا رہتا تھا، اور اسی عادت کی وجہ سے کلاس فیلوز میرے پاس آ جاتیں، میں انہیں کھلاتی پلاتی تھی، لیکن انہیں صرف میرے پیسوں اور چیزوں سے چاہت تھی، اسی لیے مطلب پورا ہوتے ہی وہ کنارہ کشی اختیار کر لیتی تھیں۔ ان دنوں میں زمانے کے چلن کو نہیں سمجھ پائی تھی، مجھے تو بس کسی ایسی مخلص دوست کی چاہت تھی جو مجھے بہن جیسا پیار اور اپنائیت دے سکے۔
آٹھویں جماعت تک میں تنہائی کا یہ دکھ سہتی رہی۔ نویں کلاس میں میری ایک لڑکی صائمہ سے دوستی ہو گئی۔ وہ اکثر مجھ سے کہتی: “ثمینہ! تم اپنا طرزِ زندگی یعنی اپنے طور طریقے اور چال ڈھال بدلو۔ تمہاری اس لڑکوں والی چھب کے باعث لڑکیاں تم سے دور رہتی ہیں اور انہیں تم اپنے سے مختلف لگتی ہو۔ لڑکی کوئی بھی روپ اختیار کر لے، لڑکی ہی رہتی ہے۔” میں خود بھی چاہتی تھی کہ اپنے آپ کو بدلوں اور انہی لڑکیوں جیسی لگوں جو میرے ارد گرد رہتی ہیں، مگر یہ تبدیلی میرے لیے بہت مشکل تھی۔ کہتے ہیں نا کہ جب ارادہ سچا ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے، چنانچہ صائمہ نے میرا اندازِ گفتگو، چال ڈھال اور مردانہ عادتیں بدلنے میں میری بہت مدد کی، جس کے بعد میں خود میں ایک بڑی تبدیلی محسوس کرنے لگی۔
آٹھویں جماعت تک میں تنہائی کا یہ دکھ سہتی رہی۔ نویں کلاس میں میری ایک لڑکی صائمہ سے دوستی ہو گئی۔ وہ اکثر مجھ سے کہتی: “ثمینہ! تم اپنا طرزِ زندگی یعنی اپنے طور طریقے اور چال ڈھال بدلو۔ تمہاری اس لڑکوں والی چھب کے باعث لڑکیاں تم سے دور رہتی ہیں اور انہیں تم اپنے سے مختلف لگتی ہو۔ لڑکی کوئی بھی روپ اختیار کر لے، لڑکی ہی رہتی ہے۔” میں خود بھی چاہتی تھی کہ اپنے آپ کو بدلوں اور انہی لڑکیوں جیسی لگوں جو میرے ارد گرد رہتی ہیں، مگر یہ تبدیلی میرے لیے بہت مشکل تھی۔ کہتے ہیں نا کہ جب ارادہ سچا ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے، چنانچہ صائمہ نے میرا اندازِ گفتگو، چال ڈھال اور مردانہ عادتیں بدلنے میں میری بہت مدد کی، جس کے بعد میں خود میں ایک بڑی تبدیلی محسوس کرنے لگی۔
اب میں لباس بھی لڑکیوں والے اور شوخ رنگوں کے پسند کرنے لگی، بوائے کٹ بال کٹوانا چھوڑ دیے اور بال بڑھا لیے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے صائمہ کے ساتھ کالج میں داخلہ لے لیا۔ میں مستقبل میں بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، اسی لیے کالج میں ہوم اکنامکس میں ٹاپ کیا اور گھریلو امور میں بھی مہارت حاصل کر لی۔ یوں میں سارے خاندان میں ایک سلجھی اور قابل لڑکی کے طور پر مشہور ہو گئی۔ مجھے شادی سے کوئی دلچسپی نہ تھی کیونکہ میں مزید پڑھنا چاہتی تھی، مگر والد کے مجبور کرنے پر میں نے اپنے چچازاد سے منگنی کر لی۔ وہ میڈیکل کا طالب علم تھا، اور میں بھی مطالعے میں اپنا زیادہ وقت صرف کرتی تھی۔ انہی دنوں میرے ہاتھ طب کی ایک کتاب لگی، جس میں دس جڑی بوٹیوں سے روزمرہ کی تکالیف کے نسخے درج تھے۔
امی کے پاس جب خواتین اپنی بیماریاں اور تکالیف بیان کرتیں، تو میں کتاب سے وہ نسخے نقل کر کے انہیں دینے لگی تاکہ کسی کا بھلا ہو سکے۔ یہ نسخے بالکل بے ضرر تھے، لہٰذا جب خواتین کو شفا مل جاتی تو وہ مجھے دعائیں دیتیں، یوں میں سارے خاندان میں مشہور ہو گئی۔ عورتیں دور دور سے میرے پاس آنے لگیں، لیکن جب چچا کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر سخت اعتراض کیا۔ چچی نے تو مجھے “طبیبہ” اور “جادوگرنی” کہنا شروع کر دیا۔ ان کے اس جاہلانہ رویے پر مجھے شدید دکھ ہوا۔ میں چاہتی تھی کہ میرا منگیتر میرا ہم خیال بن کر میرا ساتھ دے، مگر اس نے منگنی قائم رکھنے کے لیے ایک عجیب و غریب شرط رکھ دی۔ اس نے والد صاحب سے کہا کہ میں آپ کی بیٹی سے صرف اسی صورت میں شادی کروں گا، اگر یہ اپنے حصے کی جائداد میرے نام لکھ دے۔ یہ بات جان کر مجھے سخت غصہ آیا، میں نے اسے اپنی شدید اہانت محسوس کیا اور فوراً منگنی کی انگوٹھی انگلی سے اتار کر اس کے منہ پر مار دی، یوں ہمارا یہ رشتہ ختم ہو گیا۔ اس مشکل وقت میں صائمہ میری واحد دوست تھی جس نے مجھے سہارا دیا۔ اس نے میرا داخلہ بی اے میں کروا دیا اور میرا ٹوٹا ہوا تعلیمی سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔ بی اے مکمل ہونے کے بعد صائمہ کی شادی ہو گئی اور وہ پشاور چلی گئی، یوں میرا واحد روحانی اور اخلاقی سہارا بھی مجھ سے دور ہو گیا۔
انہی دنوں بڑے بھائی کی شادی کی تاریخ طے پائی۔ میں نے سوچا کہ بھابھی آ جائے گی تو بہن کی کمی پوری ہو جائے گی اور میری تنہائی بھی دور ہو جائے گی۔ مگر افسوس، بھابھی کے آتے ہی میرا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ وہ بہت تنگ دل نکلی، اس سے میرا مزاج نہ ملا اور اس نے مجھے پہلے سے بھی زیادہ تنہا کر دیا۔ بڑے بھائی اپنی بیوی کے ساتھ اپنی خوشیوں بھری زندگی میں مگن ہو گئے؛ جو بھائی پہلے مجھ پر جان چھڑکتے تھے، اب وہی بھائی مجھ سے سیدھے منہ بات تک نہ کرتے، بلکہ بیوی کی طرفداری میں الٹا مجھ پر طعنہ زنی کرنے لگے، جس سے میرے دل پر گہری چوٹ لگی۔ بالآخر میں اس صدمے سے بیمار پڑ گئی؛ پہلے بخار ہوا اور پھر وہ بگڑ کر ٹائیفائیڈ بن گیا۔ مختلف ڈاکٹروں سے علاج کروایا، مگر بہت زیادہ دوائیں لینے کی وجہ سے میرے گردے متاثر ہو گئے۔ اس بیماری کی وجہ سے میری تعلیم ادھوری رہ گئی، میرے سارے عزائم خاک میں مل گئے اور میری سوچ کی دنیا درہم برہم ہو گئی۔
انہی دنوں بڑے بھائی کی شادی کی تاریخ طے پائی۔ میں نے سوچا کہ بھابھی آ جائے گی تو بہن کی کمی پوری ہو جائے گی اور میری تنہائی بھی دور ہو جائے گی۔ مگر افسوس، بھابھی کے آتے ہی میرا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ وہ بہت تنگ دل نکلی، اس سے میرا مزاج نہ ملا اور اس نے مجھے پہلے سے بھی زیادہ تنہا کر دیا۔ بڑے بھائی اپنی بیوی کے ساتھ اپنی خوشیوں بھری زندگی میں مگن ہو گئے؛ جو بھائی پہلے مجھ پر جان چھڑکتے تھے، اب وہی بھائی مجھ سے سیدھے منہ بات تک نہ کرتے، بلکہ بیوی کی طرفداری میں الٹا مجھ پر طعنہ زنی کرنے لگے، جس سے میرے دل پر گہری چوٹ لگی۔ بالآخر میں اس صدمے سے بیمار پڑ گئی؛ پہلے بخار ہوا اور پھر وہ بگڑ کر ٹائیفائیڈ بن گیا۔ مختلف ڈاکٹروں سے علاج کروایا، مگر بہت زیادہ دوائیں لینے کی وجہ سے میرے گردے متاثر ہو گئے۔ اس بیماری کی وجہ سے میری تعلیم ادھوری رہ گئی، میرے سارے عزائم خاک میں مل گئے اور میری سوچ کی دنیا درہم برہم ہو گئی۔
کبھی کبھی میری طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو جاتی کہ مجھے فوراً اسپتال لے جانا پڑتا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ زندگی میں ایسا پرخار موڑ بھی آئے گا کہ تکالیف سے میرا دل بالکل بیزار ہو جائے گا۔ میرے دوسرے نمبر والے بھائی ناظر کو میرے دکھ کا احساس تھا، وہی مجھ میں اور میری بیماری میں دلچسی لینے لگے۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ “نائلہ تمہاری بہت اچھی دیکھ بھال کرتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کو تمہاری بھابھی بنا لوں تاکہ وہ گھر پر بھی تمہارا خیال رکھے۔” مجھے بھی نائلہ اچھی لگتی تھی، اس لیے میں بھائی کے اس فیصلے پر بہت خوش ہوئی۔ جب انہوں نے والد صاحب سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا اور ابو نے مجھ سے میری رائے لی، تو میں نے کہا کہ وہ بہت ہمدرد اور اچھے اخلاق والی لڑکی ہے، آپ بھائی کی بات مان لیں۔
چنانچہ والد نے نائلہ کے گھر والوں سے ملاقات کی اور وہ میری بھابھی بن کر ہمارے گھر آ گئی۔ وہ واقعی ایک بہت اچھی لڑکی تھی، اس نے میری بیماری میں میرا پورا ساتھ دیا اور امی ابو کا بھی بہت خیال رکھتی تھی۔ میں بہت خوش تھی کہ اللہ نے بھابھی کی صورت میں میری بہن کی کمی پوری کر دی ہے، لیکن یہ خوشی بھی عارضی ہی ثابت ہوئی۔ دراصل امی جان نے نائلہ کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور وہ روز ہی اس میں کوئی نہ کوئی عیب نکالتی رہتی تھیں۔ جب نائلہ بھابھی کے ہاں پہلی اولاد ہوئی، تو گھر والوں نے منہ بنا لیا کیونکہ انہوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا تھا۔ اسی وجہ سے گھر میں ہر کسی کا منہ پھولا ہوا تھا، جس سے بھابھی کے دل کو سخت ٹھیس پہنچی۔ بھلا اس سب میں ان کا کیا دوش تھا؟ لیکن میرے گھر والوں کی اس جاہلانہ سوچ کی وجہ سے ناظر بھائی اور ان کی بیوی ہم سے علیحدہ ہو کر ایک دوسرے گھر میں رہائش پذیر ہو گئے، اور میں ایک بار پھر بالکل تنہا ہو گئی۔
چونکہ میرا ایک لمبا عرصہ بیماری کی لپیٹ میں گزرا تھا، اس لیے اب گھر کا ہر فرد مجھ سے بیزار نظر آتا تھا۔ گھر والے مجھ سے شدید تغافل برتنے لگے تھے اور میں اکیلی ہی اپنی سب تکلیفیں برداشت کر رہی تھی۔ میرے گردے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو رہے تھے، مگر یہ بھیانک حقیقت جاننے کی کسی کو فرصت نہ تھی۔ وہ بھائی اور بھابھی جو پہلے مجھے اسپتال لے جاتے تھے، انہوں نے بھی اب میری فکر کرنی چھوڑ دی تھی۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ “ہم نے اس کا اتنا علاج کرا دیا ہے، اب اس کی بیماری نے تو ہم سب کو تھکا ڈالا ہے، اللہ نے چاہا تو یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔” وہ بروقت مجھے اسپتال نہ لے گئے اور لاپروائی کی وجہ سے میرے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے۔ ایک طویل عرصے تک بیماری سے لڑتے لڑتے میں اب زندگی سے بالکل تنگ آ چکی تھی۔ اپنوں کی اس بے اعتنائی نے مجھے لفظ ‘محبت’ اور ‘دوستی’ سے ہی دور کر دیا تھا، اور یہ الفاظ اب میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ میرا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا اور میں نے بھابھیوں سے اتنی چوٹیں کھائی تھیں کہ مجھے اس رشتے سے ہی نفرت ہو گئی تھی۔
چونکہ میرا ایک لمبا عرصہ بیماری کی لپیٹ میں گزرا تھا، اس لیے اب گھر کا ہر فرد مجھ سے بیزار نظر آتا تھا۔ گھر والے مجھ سے شدید تغافل برتنے لگے تھے اور میں اکیلی ہی اپنی سب تکلیفیں برداشت کر رہی تھی۔ میرے گردے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو رہے تھے، مگر یہ بھیانک حقیقت جاننے کی کسی کو فرصت نہ تھی۔ وہ بھائی اور بھابھی جو پہلے مجھے اسپتال لے جاتے تھے، انہوں نے بھی اب میری فکر کرنی چھوڑ دی تھی۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ “ہم نے اس کا اتنا علاج کرا دیا ہے، اب اس کی بیماری نے تو ہم سب کو تھکا ڈالا ہے، اللہ نے چاہا تو یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔” وہ بروقت مجھے اسپتال نہ لے گئے اور لاپروائی کی وجہ سے میرے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے۔ ایک طویل عرصے تک بیماری سے لڑتے لڑتے میں اب زندگی سے بالکل تنگ آ چکی تھی۔ اپنوں کی اس بے اعتنائی نے مجھے لفظ ‘محبت’ اور ‘دوستی’ سے ہی دور کر دیا تھا، اور یہ الفاظ اب میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ میرا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا اور میں نے بھابھیوں سے اتنی چوٹیں کھائی تھیں کہ مجھے اس رشتے سے ہی نفرت ہو گئی تھی۔
جن دنوں میں اسپتال میں داخل تھی، وہاں میری ملاقات ایک نرس صنوبر سے ہوئی۔ نائلہ کی طرح وہ بھی بہت اچھی اور میرا خیال رکھنے والی خاتون تھی۔ ایک روز صنوبر ہمارے گھر مجھ سے ملنے آئی، تو اس نے میری ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر امی سے کہا: “آپ انہیں فوراً اسپتال لائیں، مجھے ان کی حالت بالکل ٹھیک نہیں لگتی۔” صنوبر کو لوگ عموماً سخت مزاج کہتے تھے کیونکہ وہ اپنے اسٹاف سے بہت سختی سے پیش آتی تھی، لیکن میرے ساتھ اس کا رویہ ہمیشہ انتہائی نرم ہوتا تھا۔ صنوبر کے اصرار پر امی ابو مجھے اسپتال لے گئے، جایی ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کروائے اور رپورٹس دیکھنے کے بعد مجھے فوراً اسپتال میں داخل کر لیا۔ کوئی انسان کتنا ہی سخت دل کیوں نہ ہو، جب اس کے دل میں کسی کے لیے ہمدردی کے سچے جذبات پیدا ہو جائیں، تو اسے اللہ کی طرف سے رحمت کا انعام ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ میری زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔
میرا ڈائیلاسز ہوتا تھا اور صنوبر مجھے ایک بڑی بہن جیسی محبت دیتی تھی، وہ میرا خیال میری ماں سے بھی بڑھ کر رکھتی تھی۔ ایسے وقت میں جب اپنے بھی بیگانے بن جاتے ہیں اور انسان اپنوں کی محبت سے بالکل مایوس ہو جاتا ہے، تو کسی غیر کی تھوڑی سی توجہ اور محبت سے بھی یوں لگتا ہے جیسے دوبارہ زندگی مل گئی ہو۔ صنوبر دیر تک میرے پاس بیٹھی رہتی، مجھے اپنا وقت دیتی اور میری ہر بات اتنی توجہ سے سنتی کہ میرا دکھ اور تکلیف آدھے رہ جاتے۔ وہ میرے دل کے بہت قریب ہو گئی تھی اور میں اسے بے پناہ چاہنے لگی تھی۔ برسوں سے جس بہن جیسی مخلص دوست کی تلاش تھی، اسے پا کر میری روح کی تشنگی مٹ گئی۔ صنوبر کی محبت نے مجھے اس وقت سہارا دیا جب میرے اپنے مجھے چھوڑ چکے تھے، یہاں تک کہ میں اس کی وجہ سے اپنی بیماری کی سنگینی کو بھی فراموش کر چکی تھی۔
اب تو یہ عالم تھا کہ جب میں تنہائی اور اکیلے پن سے اکتا جاتی، تو اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات پر شاعری شروع کر دیتی اور اپنے دل کی بے شمار باتیں خط کی صورت میں لکھ کر اسے دے دیتی۔ وہ مسکرا کر وہ خط لے لیتی اور پھر میری شاعری کی تعریف بھی کرتی۔ اس نے میری برسوں کی بکھری ہوئی زندگی کو اپنی محبت اور توجہ سے لمحوں میں سمیٹ کر رکھ دیا تھا، اور مجھے اپنی یہ ادھوری زندگی بھی اچھی لگنے لگی تھی۔ میرا اس کے ساتھ ایک ایسا روحانی رشتہ قائم ہو چکا تھا جو سگے خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر تھا۔ بھابھی نائلہ اور صنوبر نے برسوں ایک ساتھ کام کیا تھا، اس لیے جب کبھی بھابھی مجھ سے ملنے آتیں، تو میں انہیں بتاتی کہ صنوبر نے مجھے اتنی محبت دے کر ایک نئی زندگی دی ہے، اور اب تو میں بس اسی کی توجہ اور محبت کے سہارے زندہ ہوں۔ میری بھابھی کو میری یہ باتیں پسند نہ آئیں، چنانچہ انہوں نے میری طرف سے الٹی سیدھی باتیں گھڑ کر صنوبر کو جا سنائیں اور اس کا دل میری طرف سے خراب کر دیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب جب میں اسپتال ڈائیلاسز کے لیے جاتی، تو صنوبر کا رویہ پہلے جیسا نہ ہوتا تھا، بلکہ وہ مجھے دیکھ کر ادھر ادھر ہو جانے کی کوشش کرتی۔ اس کے اس بدلے ہوئے رویے پر مجھے سخت تکلیف ہوئی اور میں تڑپ کر رہ گئی کہ اتنی محبت کرنے والی دوست بالآخر کیوں مجھ سے یوں دور ہو گئی۔ میں نے جب بھابھی سے اس بات کا شکوہ کیا، تو انہوں نے جواب دیا: “تمہاری حالت کو دیکھتے ہوئے اس کے دل میں تمہارے لیے صرف وقتی ہمدردی جاگی ہو گی، مگر وہ کسی سے بہنوں جیسی محبت نہیں کر سکتی۔ وہ تو ایک پیشہ ور نرس ہے، تم اس کی محبت سے زیادہ امیدیں مت باندھو۔ وہ کب تک تمہارا دل رکھنے کے لیے تمہاری باتیں برداشت کرے گی؟ بالآخر ایک روز تو اسے اکتا ہی جانا تھا۔” میں ایک بیمار انسان تھی جو بستر پر پڑی ہوئی تھی، اب مجھ میں محبت میں کسی کی بے رخی اور کوئی نئی چوٹ برداشت کرنے کی سکت کہاں تھی!
چنانچہ ایک روز اسی پریشانی کے عالم میں، میں نے اپنی بھابھی کی کہی ہوئی تمام باتیں ایک خط میں لکھ کر صنوبر کو دے دیں۔ شاید اسے یہ بات بہت بری لگی، کیونکہ اس کے بعد اس کا رویہ میرے ساتھ انتہائی بے رخی کا ہو گیا، اور وہ پیار, محبت، توجہ، اعتبار اور سہارا جو مجھے چند مہینوں میں ملا تھا، وہ چند لمحوں میں مجھ سے چھن گیا۔ یہ وہ پہلی ہستی تھی جس سے میرے دل نے اتنے گہرے رشتے قائم کر لیے تھے، مگر اس نے میرے ہر احساس کو یہ کہہ کر چکنا چور کر دیا کہ “تم صرف ایک مریضہ ہو اور یہاں اپنا علاج کرانے آتی ہو، اور میں یہاں اپنی ڈیوٹی کرنے آتی ہوں، اس کے سوا تمہارا مجھ سے اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔” یہ الفاظ میرے دل پر بجلی بن کر گرے۔
میں نے صنوبر کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ مجھ سے بات کر لے تو میں اس سے معافی مانگنا چاہتی ہوں، اور اگر میری کوئی بات اسے بری لگی ہے تو وہ اسے درگزر کر دے، لیکن اب مجھ سے بات کرنا بھی اس کو گوارا نہ تھا۔ یہاں تک کہ میری وجہ سے اس نے وہ اسپتال بھی بدل لیا اور کسی دوسرے اسپتال میں چلی گئی۔ میں آج بھی اپنی بیماری کی وجہ سے زیرِ علاج ہوں اور صنوبر کی منتظر ہوں کہ شاید کبھی اسے میرا خیال آ ہی جائے؛ کیونکہ اپنوں کی بے رخی ملے یا غیروں کی بے وفائی، مجھ جیسے انسان کو، جو بسترِ مرگ پر اپنی آخری سانسیں گن رہا ہو، زندگی کے باقی ماندہ دن کسی نہ کسی سہارے کی آس میں ہی گزارنے پڑتے ہیں۔
میں نے صنوبر کو پیغام بھجوایا کہ اگر وہ مجھ سے بات کر لے تو میں اس سے معافی مانگنا چاہتی ہوں، اور اگر میری کوئی بات اسے بری لگی ہے تو وہ اسے درگزر کر دے، لیکن اب مجھ سے بات کرنا بھی اس کو گوارا نہ تھا۔ یہاں تک کہ میری وجہ سے اس نے وہ اسپتال بھی بدل لیا اور کسی دوسرے اسپتال میں چلی گئی۔ میں آج بھی اپنی بیماری کی وجہ سے زیرِ علاج ہوں اور صنوبر کی منتظر ہوں کہ شاید کبھی اسے میرا خیال آ ہی جائے؛ کیونکہ اپنوں کی بے رخی ملے یا غیروں کی بے وفائی، مجھ جیسے انسان کو، جو بسترِ مرگ پر اپنی آخری سانسیں گن رہا ہو، زندگی کے باقی ماندہ دن کسی نہ کسی سہارے کی آس میں ہی گزارنے پڑتے ہیں۔
میں صنوبر کو کبھی نہیں بھلا سکتی، کیونکہ بے شک میرا دل رکھنے ہی کے لیے سہی، اس نے کچھ وقت کے لیے میری مایوس روح کو ایک بڑا سہارا تو دیا تھا۔ جب میرے اپنے بیگانے بن گئے تھے، تبھی میں نے ایک غیر کی طرف دیکھا تھا۔ آج بھی جب مایوسی کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں، تو میں خود کو سمجھاتی ہوں کہ اس دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن کا کوئی چاہنے والا نہیں ہوتا، مگر آخر وہ بھی تو کسی نہ کسی طرح جی ہی لیتے ہیں۔ میرے نزدیک خوش نصیب صرف وہی لوگ ہیں جو اس خود غرض دنیا میں کسی دکھی انسان کا دکھ بانٹتے ہیں، اور کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود محروم لوگوں کو بے لوث اور بے غرض محبت کا احساس دلاتے ہیں۔
محبت خود بری نہیں ہوتی، محبت ہی سے تو یہ دنیا قائم ہے؛ محبت زندگی کی نوید اور حیاتِ نو کی امید ہے۔ یہ ایک ایسا چراغ ہے جس کے جلنے سے اندھیری زندگی بھی روشن ہو جاتی ہے۔ میں نے بھی اپنی اس بیمار زندگی کو کسی کی محبت سے روشن کرنے کی آرزو کی تھی اور صنوبر کو ایک سگی بہن کی طرح مانا تھا، مگر انسان جو چاہے سوچے، ہوتا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ کسی بھی انسان کے بدلتے ہوئے رویوں کو سمجھنا بہت مشکل ہے، بلکہ انسان کو کلی طور پر سمجھنا ہی نامکن ہے کیونکہ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ مخلوق ہے۔ سب سے بڑھ کر مجھے نائلہ بھابھی پر مان تھا، مگر انہوں نے میری زندگی کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو سہارا دینے کے بجائے میری کشتی کے لنگر ہی کاٹ دیے؛
جس ہستی کو میں نے بڑی بہن جیسے پیار اور تقدس سے دیکھا تھا، اسی نے میرے بارے میں گری پڑی باتیں گھڑ کر صنوبر کو جا سنائیں۔ اے کاش! میری زندگی کے یہ باقی ماندہ دن صنوبر کی محبت کے سائے میں بسر ہو جاتے، تو شاید میری یہ گھٹتی ہوئی عمر کچھ اور بڑھ جاتی، یا پھر میرے سفرِ زندگی کا یہ آخری حصہ طے کرنا میرے لیے آسان ہو جاتا۔
(ختم شد)

