محبت کا جال

Urdu Short Stories

میری شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی اور اٹھارہ سال کی ہوتے ہی میں بیوگی کی بے رونق چادر اوڑھ کر میکے واپس آگئی۔ شادی کے دو سالہ مختصر عرصے میں اولاد نہ ہوئی تو یہ اچھا ہی ہوا، کیونکہ نہ تو میں اور نہ ہی میرے والدین اس کی پرورش کے قابل تھے۔ ابا کی عمر ساٹھ برس تھی مگر بلڈ پریشر اور شوگر نے انہیں دل کا مریض بنا دیا تھا؛ وہ ساٹھ کے ہوکر بھی اسی (80) برس کے لگتے تھے۔
cknwrites
ہمارا ایک ذاتی مکان تھا جو ورثے میں دادا سے میرے والد کو ملا تھا۔ یہ دو حصوں میں بٹا ہوا تھا؛ ایک میں ہم رہتے تھے اور دوسرا حصہ کرائے پر دیا ہوا تھا۔ بس اسی کرائے پر گزر بسر تھی اور اس کے سوا آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا۔ جب میں بیس برس کی ہوئی تو ابا چل بسے، جس کے بعد میں اور اماں ایک دوسرے کے سہارے دن کاٹنے لگے۔ ماں کی خواہش تھی کہ میری دوسری شادی ہوجائے کیونکہ ان کے بعد میرا کوئی سہارا نہ تھا، مگر میرا ذہن ابھی اس کے لیے تیار نہ تھا۔ ہمیں ہر ماہ جو کرایہ ملتا وہ ہماری گزر بسر کے لیے کافی تھا، لیکن امی کو میری بھری جوانی میں بیوگی کا دکھ تڑپاتا رہتا تھا۔ ابا نے وفات سے قبل مکان میرے نام کر دیا تھا، البتہ والدہ کا شرعی حصہ انہی کے نام رہنے دیا۔ ایک دو رشتے مکان کے لالچ میں بھی آئے مگر والدہ نے منع کر دیا، کیونکہ وہ جہیز میں مکان دولہا کے نام کرانا چاہتے تھے جو ہم دو بے سہارا عورتوں کی کل پونجی تھی۔ تب میں سوچتی کہ دنیا بہت مطلبی ہے، اگر دوبارہ شادی کی ضرورت پڑی تو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کروں گی۔

ابھی اماں حیات تھیں جب پرانے کرایہ داروں نے گھر خالی کیا تو ہم نے اپنے پڑوسی سے کسی اچھے کرایہ دار کے لیے کہا۔ ہمارے گھر کے قریب فصیح انکل رہتے تھے جو والد کے بھائیوں کی طرح تھے، وہی ہمیں کرایہ دار لا دیا کرتے تھے۔ اس بار بھی امی نے یہ فریضہ انہی کو سونپ دیا۔ انکل کے توسط سے ایک بزرگ خاتون کو ہم نے اپنا مکان کرائے پر دے دیا۔ ان خاتون کا بیٹا طالب علم تھا اور گاؤں سے شہر پڑھنے آیا تھا۔ ماں اسی وجہ سے ساتھ آئی تھی کہ بیٹے کو گھر کا کھانا ملے اور اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ انکل نے امی سے کہا کہ یہ سیدھے سادے شریف لوگ ہیں، فیملی بھی مختصر ہے اور کرایہ بھی اچھا دے رہے ہیں، اس لیے آپ مکان انہی کو دے دیں۔ سو، امی نے مکان انہیں دے دیا۔

واقعی وہ بہت اچھے اور پرامن لوگ تھے۔ خاتون نیک طبیعت، نرم دل اور دکھ سکھ میں کام آنے والی تھیں۔ امی جان سے ان کی خوب دوستی ہوگئی اور ان کے بیٹے کا یہ حال تھا کہ بھولے سے سامنے آجائے تو بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔ اس کا نام نصیر تھا۔ امی نے اس نوجوان کے حسنِ اخلاق اور شرافت کو دیکھتے ہوئے اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ سال بھر ہمیں ان لوگوں سے کوئی تکلیف نہ ہوئی، بلکہ ان ماں بیٹے نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ کبھی روپے کی ضرورت پڑتی تو وہ خاتون، جنہیں ہم خالہ عظمت پکارتے تھے، ایڈوانس کرایہ دے دیتیں۔ دکھ سکھ میں وہ اپنوں کی طرح کام آنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کرایہ داروں کے آنے سے ہمیں بہت سکون ملا؛ ہمارے چھوٹے موٹے مسائل انہوں نے اپنے ذمے لے لیے تھے۔

نصیر کی والدہ ہر دو ماہ بعد چند دنوں کے لیے گاؤں چلی جاتی تھیں کیونکہ انہیں وہاں اپنے آبائی گھر کے معاملات دیکھنے ہوتے تھے، تب نصیر اپنے ایک رشتہ دار چچا کے ہاں رہنے چلا جاتا۔ خدا جانے کیوں ان دنوں مجھے اس کا یوں غیر حاضر ہونا شاق گزرتا تھا۔ امی بھی پریشان ہو جاتیں کیونکہ گھر کے سودا سلف اور دیگر چھوٹے موٹے کام جو نصیر کی بدولت حل ہوتے تھے، ان میں رکاوٹ آ جاتی تھی۔ ایک روز امی نے خالہ عظمت سے کہا، “میرا کوئی بیٹا نہیں ہے اور میں نے نصیر کو بیٹا مانا ہے تو پھر یہ تکلف کیسا؟ تمہیں گھر کو تالا لگا کر کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ جب تم نے ہمیں اپنا کہا ہے تو پھر حقیقی معنوں میں اپنا ہی سمجھو۔” امی کے اصرار پر خالہ عظمت رضا مند ہوگئیں کہ جب وہ گاؤں جائیں گی تو نصیر کے کھانے پینے کی ذمہ داری ہم پوری کریں گے۔ اس کی موجودگی سے ہمیں تحفظ کا احساس رہتا تھا، ورنہ رات کو ہمیں ڈر محسوس ہوتا تھا۔

خالہ عظمت کو سکون مل گیا۔ وہ بیٹے کی فکر سے آزاد ہو کر جب چاہتیں گاؤں چلی جاتیں اور جتنے دن چاہتیں وہاں رہتیں۔ ان کی غیر موجودگی میں ہم نصیر کا گھر کے فرد کی طرح خیال رکھتے۔ جب وہ کالج چلا جاتا، میں اس کے کمرے کی صفائی کر دیتی اور اس کے لوٹنے پر چائے اور کھانا تیار رکھتی تھی۔ وہ گھر آکر زیادہ وقت اپنے کمرے میں رہتا۔ میں سمجھتی تھی کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے وہ اپنا مستقبل بنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ مگر اچانک مجھے احساس ہوا کہ وہ اپنی ماں کی غیر موجودگی میں اب زیادہ وقت گھر سے باہر گزارنے لگا ہے اور اکثر اس کا کھانا ویسے ہی پڑا رہ جاتا۔ منزل قریب تھی، ہمت جوان تھی اور حالات بھی سازگار تھے، پھر اس کا دھیان کدھر بھٹک گیا تھا؟ لگتا تھا کہ دل کی نازک کونپل چاہت کے کانٹوں میں الجھ کر زخمی ہوچکی ہے۔ وہ کھویا کھویا سا رہنے لگا تھا۔ خالہ عظمت اب زیادہ وقت گاؤں میں رہنے لگی تھیں، گویا وہ اپنے بیٹے کو میری ماں کے سپرد کر کے بے فکر ہوگئی تھیں۔

مجھے ابھی علم نہ تھا کہ نصیر کس بھنور میں پھنس چکا ہے، تاہم بعد میں پتا چلا کہ یہ ایک عورت کی کہانی ہے۔ اس عورت نے نصیر کے سکون کے ساتھ ساتھ اسے تعلیم کی ڈگر سے بھی بھٹکا دیا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں، اس کے کزن فیضان کی خالہ زاد ‘نرمین’ تھی، جس کا گھر قریب ہی تھا۔ نصیر اور فیضان کلاس فیلو تھے، اس لیے نصیر اکثر اس کے گھر چلا جاتا۔ وہاں دونوں ساتھ پڑھتے تو نرمین بھی آجاتی۔ وہ کافی خوبصورت اور چنچل تھی اور اپنی طرف توجہ مبذول کرانا جانتی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ فیضان اس کا منگیتر ہے، وہ نصیر کی جانب راغب ہونے لگی اور اشاروں کنایوں میں باتیں کرتی جس پر نصیر خفا ہو جاتا۔ میں جانتی تھی کہ نصیر نیک سیرت ہے مگر جوان بھی تھا۔ جانے اس لڑکی میں کیا کشش تھی کہ اس کا دل نرمین کی طرف کھنچنے لگا۔ وہ چپکے چپکے نصیر کو تحفے دینے لگی، کبھی پرفیوم تو کبھی گھڑی۔ نصیر فیضان کے خوف سے خاموش رہتا، مگر نرمین موقع ملتے ہی اس کے بیگ میں تحفے رکھ دیتی جو گھر آکر پتا چلتے۔

نصیر نہ اپنے کزن کی دل آزاری چاہتا تھا نہ نرمین کی، لہٰذا اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس لڑکی کی بے لگام محبت نے نصیر کو ذہنی طور پر منتشر کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم سے بھی غافل کر دیا۔ جب میں نے نصیر کا یہ حال دیکھا تو خود بات چیت میں پہل کی تاکہ اسے صحیح راستے پر لا سکوں۔ مجھے خالہ عظمت کا خیال آتا جو ہم پر بھروسہ کر کے اپنا ہونہار بیٹا ہمارے حوالے کر گئی تھیں۔ میں نصیر کی ہم عمر تھی اور اس کے مسائل سمجھ سکتی تھی، جبکہ امی ان باتوں سے ناواقف تھیں۔ میں کھانے یا چائے کے بہانے نصیر کو بلا لیتی اور باتوں باتوں میں اس کا دل ٹٹولنے لگتی۔ اصل بات تو یہ تھی کہ میں بھی ان دنوں اس میں دلچسپی لینے لگی تھی کیونکہ وہ مجھے اچھا لگنے لگا تھا۔

رفتہ رفتہ وہ مجھ پر کھلنے لگا۔ اس نے بتایا کہ نرمین نے اس سے ٹوٹ کر محبت کی ہے جس نے اس کی زندگی میں نئی روح پھونک دی ہے۔ ایک دن نصیر نے بتایا کہ وہ جانتا ہے کہ نرمین کی منگنی فیضان سے ہے اور یہ الجھن اسے پریشان کرتی ہے۔ ایک روز جب فیضان اپنی والدہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا، نصیر ان کے گھر پہنچا۔ وہاں کوئی نہ تھا، اس لیے وہ نرمین کو پائیں باغ (بگیچے) میں لے آیا۔ وہاں جب نصیر نے نرمین سے اس کی محبت کے بارے میں پوچھا تو وہ الفاظ کے بجائے اس کے قدموں میں جھک گئی۔ نصیر نے گھبرا کر اسے اٹھایا اور کہا کہ اتنا نہ جھکو۔ پھر اس نے فیضان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

جب نصیر نے فیضان سے پوچھا کہ وہ نرمین سے کب شادی کر رہا ہے، تو فیضان نے طنزیہ انداز میں کہا، “میں اس سے شادی نہیں کر رہا، کیونکہ وہ ٹھیک کردار کی لڑکی نہیں ہے۔” نصیر حیران رہ گیا کیونکہ اسے لگا تھا کہ فیضان ناراض ہوگا، مگر اس نے تو حقیقت ہی کچھ اور بتائی۔ فیضان نے مزید کہا کہ نرمین نصیر کے قابل بھی نہیں ہے کیونکہ اس کے کئی غلط رشتے رہ چکے ہیں اور اب اس نے ایک دولت مند شخص کو پھانسا ہوا ہے۔ یہ سن کر نصیر کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے لگا کہ اگر کسی نے اسے نہ سنبھالا تو وہ تباہ ہو جائے گا۔ یہ سب بتاتے ہوئے نصیر نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، “ماہم، پلیز تم ہی مجھے اس دوزخ سے بچا لو۔” میں نے آنکھیں موند لیں تاکہ میرے آنسو دل کا حال ظاہر نہ کر دیں اور لب سی لیے کہ کوئی بات مجھے اس کی نظر میں رسوا نہ کر دے۔ میں ایک بیوہ عورت تھی جو بڑی مشکل سے اپنا بے داغ آنچل سنبھالے ہوئے تھی۔

نصیر کئی روز بیمار رہا۔ امی اس کی دیکھ بھال کرتیں اور میں اسے یخنی اور چائے بنا کر دیتی۔ کچھ دنوں بعد وہ بہتر ہوا تو امی اسے اپنے گھر لے آئیں، تب نصیر نے بتایا کہ نرمین کی شادی ہوگئی ہے۔ فیضان درست کہتا تھا؛ وہ شاطر لڑکی سب کو بے وقوف بنا کر ایک عیاش دولت مند کی جھولی میں جا گری تھی۔ اس وقت تک مجھے نصیر سے محبت ہو چکی تھی اور اگر نرمین درمیان میں نہ آتی تو میں نکاحِ ثانی کے لیے تیار تھی کیونکہ ہماری ماؤں کی بھی یہی خواہش تھی۔ مگر موجودہ صورتحال میں وہ خاموش تھا اور میں بھی۔ میں نے اس کے غم سے سمجھوتہ کر کے اپنی خوشیوں سے توبہ کر لی اور تنہائی میں آنسو پونچھتی رہی۔

پھر حالات نے کروٹ لی اور امی بیمار پڑ گئیں۔ نصیر اچانک اسلام آباد چلا گیا جہاں ایک تقریب میں اس کی دوبارہ نرمین سے ملاقات ہوگئی۔ وہ اسے اپنے گھر لے گئی اور پرانی دوستی پھر سے جاگ اٹھی۔ نصیر نے جب اس سے فیضان کی باتوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے اعتراف کیا کہ اس سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر وہ اب اپنے شوہر سے نفرت کرتی ہے۔ اس نے دوبارہ نصیر کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا لیا اور اس کے سامنے گڑگڑانے لگی۔ نرمین کا جادو پھر چل گیا اور وہ دونوں پھر سے قریب آگئے۔ نرمین نے خلع کا کیس دائر کر دیا تاکہ وہ نصیر سے شادی کر سکے، اور نصیر اس کے جال میں کسی ننھے پتنگے کی طرح جکڑا گیا۔

لیکن نرمین کا شوہر نہایت بارسوخ اور طاقتور آدمی تھا۔ اس نے نصیر کو ایسے قانونی کیسز میں پھنسایا کہ وہ کنگال ہوگیا۔ نصیر کا آبائی مکان اور زمین تک بک گئی۔ جب نرمین کو پتا چلا کہ اب نصیر کے پاس کچھ نہیں بچا، تو اس نے فوراً اپنا ارادہ بدل لیا اور اس سے منہ موڑ لیا۔ لٹا پٹا نصیر ایک بار پھر ہمارے در پر آیا اور میری ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ خالہ عظمت نے جھولی پھیلا کر ہم سے سہارا مانگا۔ میرا دل رو رہا تھا اور میں نصیر سے منہ موڑ چکی تھی، مگر میری بیمار ماں نے میرا دامن پکڑ کر التجا کی، “نصیر کا رشتہ مت ٹھکرانا، میرے بعد تمہارا کون ہے؟” خالہ عظمت اور میں گلے لگ کر روتے رہے۔ بالآخر میں نے اپنی ماں کی آخری خوشی کے لیے ہاں کر دی۔ اس طرح نصیر کا اجڑا ہوا دل اور میرا گھر بس گیا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ