ہوس پرست

urdu short stories

اماں زہرا سب میں مقبول تھیں۔ سارا محلہ برسوں سے انہیں جانتا تھا۔ جس گھر میں بچے کی پیدائش متوقع ہوتی، وہ وہاں وقتاً فوقتاً جاتی دکھائی دیتیں۔ وہ بے حد ماہر اور مخلص تھیں، اسی لیے سارے علاقے میں انہیں ہی بلایا جاتا تھا اور وہ ایک اچھی دایہ کے طور پر مشہور تھیں۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب زچگی کے کیس گھروں میں ہی ہوتے تھے۔ ہمارا علاقہ ویسے بھی پسماندہ تھا جہاں لیڈی ڈاکٹرز آسانی سے میسر نہ تھیں۔ سرکاری ہسپتال بھی ہمارے گاؤں سے کافی فاصلے پر تھا، البتہ حکومت کی طرف سے ایک ہیلتھ سینٹر قائم تھا جس میں ایک ڈاکٹر، لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور ہیلتھ ورکرز تعینات تھے۔ ان حالات میں پرانے گھرانے اپنی اسی قدیمی دایہ پر زیادہ اعتماد کرتے تھے، کیونکہ پردے کی پابندی ہوتی تھی اور خواتین کو گھر سے ہسپتال لے جانے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔

ان دنوں میرے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش متوقع تھی۔ جب دن قریب آئے تو اماں زہرا کو بلوایا۔ وہ ہمیشہ ہی آیا کرتی تھیں؛ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ہنستی مسکراتی۔ جب تک میں سوا مہینہ (چھلہ) پورا نہ کر لیتی، وہ روز آتیں۔ نومولود کو نہلانے اور اس کے کپڑے دھونے کے علاوہ وہ میری بھی دیکھ بھال کرتیں۔ وہ میرے سر میں تیل ڈالتیں اور مالش کرتیں جس سے بہت راحت اور سکون ملتا تھا۔

مگر اس بار جب وہ آئیں تو بہت افسردہ اور گم صم تھیں۔ ان کی آنکھیں آبدیدہ اور سوجی ہوئی تھیں، جیسے کوئی بڑا سانحہ گزرا ہو۔ میں نے حیرت سے سوال کیا:
“اماں جی! آپ کو کیا ہوا ہے؟ آج اس قدر اداس کیوں ہیں؟ آپ تو ہمیشہ ہنستی مسکراتی گھر میں داخل ہوتی تھیں۔”

میری اتنی سی بات پر وہ رو پڑیں اور کہنے لگیں: “کیا آپ کو معلوم نہیں؟”
“نہیں تو، بتائیے آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے؟” میں نے پوچھا۔
وہ بولیں: “دکھ ایسا ہے کہ بتا نہیں سکتی اور چھپا بھی نہیں سکتی کہ مجھ پر چند دنوں سے کیا قیامت بیت رہی ہے۔ آپ کو مانو کی خبر تو ہوگی؟ اس کی موت پر تمام علاقے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں اور مجھے ایسا زخم ملا ہے کہ اس بڑھاپے میں ملامتیں دیمک بن کر میرا کلیجہ چاٹ رہی ہیں۔”

مجھے علم نہ تھا کہ اماں زہرا کی بیٹی مر چکی ہے۔ تین ماہ پہلے جب وہ اپنی ماں کے ساتھ ہمارے گھر آئی تھی تو بھلی چنگی اور تندرست تھی، اچانک اسے موت کیسے اچک لے گئی؟ وہ بہت حسین لڑکی تھی، اس کی موت کا سن کر مجھے بے حد دکھ ہوا۔

مانو، اماں زہرا کی واحد اولاد تھی۔ دایہ گیری کر کے اور اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی بیٹی کو میٹرک تک تعلیم دلوائی تھی۔ اس بیوہ کو بہت شوق تھا کہ اس کی بچی پڑھ لکھ جائے اور اسے بھی معاشرے میں عزت نصیب ہو۔ اماں نے مانو کو اسکول میں داخل کرایا، وقت گزرتا رہا اور وہ ان کے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ رشتہ داروں نے بہت مخالفت کی مگر اماں نے کسی کی نہ سنی، اسے میٹرک کروایا اور تگ و دو کر کے ہیلتھ ورکر بھی لگوا دیا۔ اماں سمجھی تھیں کہ اب خوشحالی کے دن آ گئے ہیں۔

مانو گاؤں کے ہیلتھ سینٹر جانے لگی۔ یہ وہی عمر تھی جب قدم قدم پر بہکنے کا امکان رہتا ہے۔ نجانے کیسے اس کی شناسائی شہر کے ایک خوشحال شخص سے ہو گئی۔ دو چار ملاقاتوں میں ہی وہ نادان لڑکی اس امیر آدمی کی دیوانی ہو گئی۔ وہ شمشاد خان سے ملنے لگی جو روزانہ اپنی گاڑی لے کر سینٹر سے کچھ دور اس کا انتظار کرتا اور مانو اس کے ساتھ چلی جاتی۔ زہرا اماں اس بات سے قطعی بے خبر تھیں کہ ان کی بیٹی کسی غلط راہ پر نکل پڑی ہے۔

سینٹر قریبی دیہات میں تھا، مانو ڈیوٹی کے بہانے گھر سے نکلتی اور شمشاد اسے دور دراز علاقوں کی سیر کو لے جاتا۔ مانو شمشاد کی دیوانی تھی اور وہ اس کے حسن کا متوالا؛ اسے مانو کی بدنامی یا اچھائی برائی سے کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ ایک شادی شدہ اور بال بچے دار آدمی تھا، اسے دایہ کی بیٹی سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟ سوائے اس کے کہ دونوں کے درمیان ہوس کا رشتہ تھا۔

شمشاد کا مانو کے ساتھ کوئی ذہنی یا دلی لگاؤ نہ تھا۔ پہلے تو وہ اس نادان لڑکی کے حسن سے اپنی ہوس مٹاتا رہا، جب جی بھر گیا تو اپنے دوستوں سے تذکرہ کیا۔ اب اس کے شوقین مزاج دوست بھی اس “خزانے” کے پیچھے پڑ گئے۔ دوستوں کے اصرار پر شمشاد نے مانو سے مری چلنے کو کہا۔ اس نے انکار کیا کہ “دن کی بات اور ہے، میں راتوں کو باہر نہیں رہ سکتی، اماں خفا ہوں گی۔”
شمشاد نے اسے باتوں میں الجھایا: “ارے بھئی! ایک دن رہ کر دوسرے دن آ جائیں گے، تم ڈیوٹی کا کہہ کر ماں سے چھٹی لے لینا۔” جب اس نے محبت کے واسطے دیے تو نادان مانو نرم پڑ گئی۔

محبوب منت کرے، لڑکی کا سرپرست سر پر نہ ہو اور عمر جذباتی ہو، تو قدم بہک ہی جاتے ہیں۔ سردیوں کی ایک صبح شمشاد نے برف باری دکھانے کا بہانہ کر کے مانو کو ساتھ چلنے پر راضی کر لیا۔ جب وہ مری پہنچے تو ایک ہوٹل میں کمرہ پہلے سے بک تھا، جہاں عیش و نشاط کا تمام سامان موجود تھا۔ کمرے میں غیر مردوں کو دیکھ کر مانو گھبرا گئی، لیکن شمشاد نے تسلی دی کہ “یہ دوست تھوڑی دیر کے لیے ملنے آئے ہیں، ساتھ والے کمرے میں ٹھہرے ہوئے ہیں، ابھی چلے جائیں گے۔”

جب رات ہوئی تو وہ دوست، جو اب نشے میں دھت تھے، دوبارہ کمرے میں آ گئے۔ لمحوں میں وہ سب انسان سے شیطان بن گئے۔ شمشاد نے بھی پی رکھی تھی، اسے کسی کے دکھ درد کا احساس نہ رہا۔ ان ہوس پرستوں کی درندگی کی تاب نہ لا کر وہ نازک سی لڑکی دم توڑ گئی۔ اگلی صبح جب انہیں ہوش آیا تو دیکھا کہ مانو مر چکی ہے۔ نشہ اترا تو حالات کی نزاکت کا احساس ہوا۔ آپس میں مشورے کے بعد وہ لاش کو گاڑی میں ڈال کر واپس شہر لے آئے۔

مانو دو دن سے غائب تھی اور ماں سخت پریشان تھی۔ وہ ہیلتھ سینٹر گئی تو پتا چلا کہ وہ دو دن سے چھٹی پر ہے۔ بدنامی کے خوف سے دایہ اماں خاموش لوٹ آئیں؛ کسی سے کیا کہتیں کہ بیٹی کہاں ہے؟ انہیں بیٹی کے معاشقے کی تھوڑی بہت سن گن ایک ساتھی ورکر نے دی تھی کہ شاید وہ کسی کے ساتھ گئی ہے۔ ماں خاموشی سے بیٹی کی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔

سردیوں کی ایک اندھیری رات تھی، جب علاقے کے ایک شخص کے ہاں بچے کی ولادت متوقع ہوئی تو اسے دایہ کی ضرورت پڑی۔ وہ شخص اماں زہرا کو لینے موٹر سائیکل پر ان کے گھر روانہ ہوا۔ آدھی رات کا وقت تھا، جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ایک عجیب منظر دیکھا؛ دایہ کے گھر کی ڈیوڑھی میں ایک عورت دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ کون ہے اور یہاں کیوں کھڑی ہے؟ دیہات میں ایسے قصے مشہور ہوتے ہیں، اس لیے اسے لگا شاید کوئی بدروح ہو۔ ورنہ آدھی رات کو اس طرح کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی؟ عورت چادر میں اچھی طرح لپٹی ہوئی تھی۔

وہ دایہ کو بلانے آیا تھا، اس لیے ہمت کر کے آگے بڑھا اور پوچھا: “کون ہو تم؟ اور یہاں کیوں کھڑی ہو؟” جب وہ نہ بولی تو اس نے کندھا ہلایا، جس کے ساتھ ہی وہ لکڑی کے بت کی طرح دھڑام سے زمین پر گر گئی۔ اس نے اماں زہرا کو جگا کر اطلاع دی کہ تمہاری دہلیز پر ایک عورت گری ہوئی ہے۔ دایہ اماں آنکھیں ملٹی لالٹین لے کر باہر آئیں۔ مدھم روشنی میں انہوں نے مانو کو پہچان لیا؛ یہ انہی کی بیٹی تھی جو دو دن سے لاپتہ تھی۔ اماں نے اسے پکارا، جھنجھوڑا، لیکن وہ مر چکی تھی، اور مر جانے والے کب کسی کی پکار کا جواب دیتے ہیں۔

شمشاد پر مقدمہ چلا، لیکن وہ بااثر آدمی تھا۔ روپیہ پانی کی طرح بہا کر اس نے اپنی جان چھڑا لی۔ اماں کا دکھ سن کر اس روز میں بہت افسردہ تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ اتنے بڑے دکھ کا بوجھ سینے پر لیے وہ میری خدمت کے لیے آ گئی تھیں۔ غربت بھی عجب شے ہے، انسان کو اپنے پیاروں کا سوگ بھی ٹھیک سے منانے نہیں دیتی کیونکہ پیٹ کا دوزخ بھرنا ناگزیر ہوتا ہے۔

سچ ہے کہ اس دنیا میں انصاف بھی پیسے والوں کو ہی ملتا ہے۔ دایہ اماں جیسی غریب عورت کو انصاف کہاں مل سکتا تھا؟ یہاں نہیں تو شاید روزِ محشر ملے گا، لیکن ایسی کہانیاں ہمارے معاشرے میں آئے دن جنم لیتی رہتی ہیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ