نام تو سجل تھا لیکن جوان ہوتے ہی کالے کرتوتوں کی وجہ سے اس کی عرفیت “ناگ” پڑ گئی اور لوگ اسے اسی نام سے پکارنے لگے، کیونکہ اس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا تھا۔ شروع میں وہ ایک سیدھا سادہ دیہاتی لڑکا تھا لیکن جب اس کی علیک سلیک زمیندار صاحب خان کے بیٹے سے ہوئی، تو اس کے پر نکل آئے۔ بہت جلد طور طریقوں میں ایسی تبدیلی آئی کہ گائوں کے لوگ اسے ناگ پکارنے لگے اور سجل کے سائے سے بھی ڈرنے لگے۔
سجل اب آوارہ اور بدکردار مشہور ہو چکا تھا۔ جس حسین لڑکی کو دیکھتا، اس کے درپے ہو جاتا۔ کسی شریف زادی کا گھر سے نکلنا یا گائوں کی نہر تک جانا محال ہو گیا۔ وہ جب تک کسی لڑکی کی زندگی برباد نہ کر لیتا، اسے چین نہ آتا تھا۔ اسی خوف کی وجہ سے گائوں کی لڑکیوں نے کھیتوں میں کام کرنا اور کنویں سے پانی بھر لانا چھوڑ دیا۔
سبھی گائوں والے اس سے نفرت کرتے تھے لیکن کوئی اس کے منہ نہیں لگتا تھا، کیونکہ سجل ناگ کو چھیڑنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ خدا جانے علاقے کے زمیندار اس سے کون سا کام لیتے تھے کہ پولیس بھی اس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی تھی۔ زمیندار کی پشت پناہی کے باعث وہ اب علاقے کا نامی گرامی غنڈہ بن چکا تھا۔
سجل نے نجانے کتنی معصوم لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی تھیں۔ اس کے والد چچا رحیم اپنے بیٹے کی اصلاح کے لیے مسجد میں دعائیں مانگا کرتے تھے، جس نے اس شریف انسان کی پگڑی کا شملہ مٹی میں ملا دیا تھا۔ جب لوگ سجل کی شکایتیں لے کر چچا رحیم کے پاس جاتے، تو وہ خوفِ خدا سے کانپ اٹھتے اور شرمندگی سے پانی پانی ہو جاتے۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو لگام ڈالو اور اس کی شادی کر دو تاکہ وہ گھر کا ہو کر رہ جائے۔
چاچا کا جواب ہوتا: “اسے اپنی بیٹی کون شریف آدمی دے گا؟ اسے تو کوئی اٹھا کر ہی لانی پڑے گی۔”
سجل ایک خوبرو، تندرست اور اونچے قد کاٹھ کا جوان تھا۔ اس کی صورت اچھی تھی اور آنکھیں گہری کالی تھیں، لیکن دل کالا تھا، اسی لیے گائوں کی کسی لڑکی کی ہمت نہ پڑتی کہ اس کا سامنا کرے۔ جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو سچ مچ دل ہار گئی۔ کہتے ہیں نا کہ محبت بے اختیار ہو جاتی ہے، کی نہیں جاتی؛ یہ سچ ہی ہے۔ میں بھی پہلی نظر میں اسے دیکھ کر فریفتہ ہو گئی۔ جانتی تھی کہ وہ کتنا بدکردار اور خوفناک ہے، لیکن وہ جیسا بھی تھا، اس کی وجاہت ایک بار تو دل گرما دیتی تھی۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں نے گائوں میں آج تک ایسا بااعتماد اور سجیلا گبرو نہیں دیکھا تھا۔ میں سوچنے لگی کہ کاش اسے راہِ راست پر لا سکوں۔ سنا تھا کہ محبت اور موت میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ ہر شے کو بدل دیں، اسی لیے میں نے اس “شیش ناگ” کو بدل ڈالنے کی قسم کھا لی۔
وہ جب کسی لڑکی کو دیکھ لیتا تو وہ اس کے حسن کے لیے بدبختی کی علامت بن جاتا، مگر میں نے اسے اپنے حسن کے جال میں جکڑنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ میرے والد کے تایا زاد بھائی کا بیٹا تھا، اس لیے میرا اس سے پردہ نہیں تھا، لیکن ہم لڑکیاں خود ہی اس سے بچنے کی کوشش کرتی تھیں۔ بچپن میں ہم ساتھ کھیلے تھے، مگر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی دوری ہو گئی تھی۔
میرا اس سے سامنا سولہ برس کی عمر میں اس وقت ہوا جب ایک روز میں کھیت سے ساگ کا گٹھا سر پر رکھ کر گھر لوٹ رہی تھی اور وہ سامنے پگڈنڈی سے آتا دکھائی دیا۔ میں نے اسے دیکھ کر جان بوجھ کر ساگ کا گٹھا گرا دیا اور وہیں بیٹھ کر اپنا پائوں پکڑ لیا۔ میں اس انداز سے اداکاری کرنے لگی جیسے پائوں میں کانٹا چبھ گیا ہو۔
اس نے مجھے بیٹھے دیکھا تو پکار کر پوچھا: “کیا ہوا تجھے؟”
“تجھے کیا؟” میں نے نفرت سے جواب دیا اور دوبارہ پائوں کی طرف جھک گئی۔ میرے اس اندازِ تخاطب نے گویا اس کے اندر کے ناگ کو ٹھوکر مار دی اور وہ تلملا کر نزدیک چلا آیا۔
“حسنہ! یہ تو ہے؟”
“ہاں، میں ہوں حسنہ۔ کیا تجھے میرا نام ابھی تک یاد ہے؟”
“کتنے برس ہوئے؟ ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب تو ہماری گلی میں ننگے پائوں دوڑتی پھرتی تھی۔”
“آج بھی ننگے پائوں ہی ہوں، پیر میں جوتی ہوتی تو کانٹا کیوں چبھتا؟”
سجل ناگ کو شاید اس بات کی توقع نہ تھی کہ مجھ جیسی نازک لڑکی اس درندہ صفت انسان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گی جس کے نام سے پورا گائوں تھرّاتا تھا۔
وہ مجھ پر جھکا اور کہنے لگا: “میں نکال دوں تیرے پیر کا کانٹا؟”
میں نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا: “مجھے مت چھونا، کیا تجھے لاج نہیں آتی؟”
“لاج؟” وہ زور سے ہنسا، “کیا ہوتی ہے لاج؟”
“کسی دوشیزہ کی آبرو ہی اس کی لاج ہوتی ہے، مگر تو کیا جانے! تیرا تو کام ہی دوسروں کی زندگی اجاڑنا ہے۔”
“بڑی دلیر بن رہی ہے، کیا تجھے مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟ اگر میں تیرا حسن چھین لوں تو؟”
“ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تو واقعی دلیر ہے تو عزت کے ساتھ مجھے اپنا بنا لے۔”
“کیا؟” وہ حیران ہو کر بولا۔
“یہی کہ میرا ہاتھ میرے ابا سے مانگ لے۔ آخر تو میرے چچا کا بیٹا ہے۔”
“اچھا۔۔۔ چل سوچوں گا۔” اسے توقع نہیں تھی کہ میں اسے ایسا جواب دوں گی۔ وہ ایک درخت سے ٹیک لگا کر مجھے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔
ابھی میں دو قدم ہی چلی تھی کہ اس نے آواز دی: “اے خوبصورت! اپنا ساگ کا گٹھا تو لیتی جا۔”
“دیکھ نہیں رہے میرے پیر میں کانٹا چبھا ہے؟ میں اسے کیسے اٹھائوں؟ تو ہی اسے میرے گھر تک پہنچا دے۔”
سجل کا گھر ہمارے مکان کے پاس ہی تھا۔ کسی انجانی قوت کے زیرِ اثر اس نے ساگ کا گٹھا اٹھا لیا اور میرے پیچھے پیچھے ایک پالتو جانور کی مانند چلنے لگا۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے گٹھا میرے سر پر رکھ دیا۔
“لے اب جا۔۔۔ اور دوبارہ مجھے نظر نہ آنا، ورنہ۔۔۔”
“ورنہ کیا؟” میں بھی ڈھیٹ بن گئی۔
“جاہ۔۔۔” وہ جیسے زچ آ گیا ہو۔ “وہ دیکھ، سامنے سے تیرا باپ آ رہا ہے۔ اگر ان کا لحاظ نہ ہوتا تو ابھی بانہہ سے کھینچ کر لے جاتا۔”
“بانہہ کھینچنے کی ضرورت نہیں ہے، ابا سے میرا ہاتھ مانگ لے۔” یہ کہہ کر میں لپک کر گھر کے اندر چلی گئی۔
ضرور ابا نے اسے مجھ سے بات کرتے دیکھ لیا تھا، اسی لیے جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور وہ پسینے میں شرابور تھے۔ آتے ہی سوال کیا: “یہ سجل ہمارے در پر کیوں کھڑا تھا؟”
“وہ آپ کا پوچھ رہا تھا ابا۔”
“میرا پوچھ رہا تھا؟ اس بدمعاش کو مجھ سے کیا کام پڑ گیا؟”
“جب ملے تو اسی سے پوچھ لیجیے گا۔” ابا گہری سوچ میں ڈوب گئے، شاید وہ سجل کے ہمارے دروازے پر آنے کا مطلب سمجھ گئے تھے۔
اماں چولہے کے پاس بیٹھی جلتی لکڑیوں پر پانی کے چھینٹے ڈال رہی تھیں کیونکہ کھانا تیار تھا اور اب صرف انگارے ہی کافی تھے۔
“یہ سجل بدمعاش کیوں یہاں آیا تھا؟” ابا نے فکرمندی سے اماں کو مخاطب کیا۔
“میں کیا جانوں؟”
“تو تو نجانے کب جانے گی۔ سنا ہے ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے، ہمارا تو ان سے چوتھا گھر ہے۔”
“ہاں ہے تو، مگر سجل گھر میں رہتا ہی کب ہے؟ زیادہ تر تو بدمعاشوں کے اڈوں پر ہوتا ہے۔”
“مجھے تو اس کا گلی میں آنا بھی گوارا نہیں، نجانے کب کسے ڈس لے۔”
“حسنہ کے ابا! اب یہ باتیں چھوڑیں اور کھانا کھا لیں۔”
والد نے ٹھنڈی آہ بھری اور ہاتھ منہ دھو کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ بظاہر وہ کھانا کھا رہے تھے مگر ہر لقمے کے ساتھ جیسے خدشات کو چبا رہے ہوں۔ تھوڑی دیر بعد بولے: “حسنہ سے کہو اب باہر نہ جایا کرے۔”
“یہ کب جاتی ہے؟ کبھی کبھار ہی نکلتی ہے۔ پہلے ہی تم نے اس کا اسکول چھڑوا دیا، بیچاری چھٹی جماعت بھی پاس نہ کر سکی۔”
اماں کے دکھ کا ابا نے کوئی اثر نہ لیا۔ ان کے من میں نجانے کون سے اندیشے پل رہے تھے، لیکن میں آج بہت خوش تھی کہ وہ سجل جس سے سب ڈرتے تھے، آج وہ میرے حصار میں آ گیا تھا۔
کہتے ہیں عشق کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا۔ کوئی کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، یہ امید باقی رہتی ہے کہ وہ سدھر جائے گا۔ میرے دل میں یہ ارادہ اس وقت پکا ہوا تھا جب گائوں کی ایک لڑکی لیلیٰ نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ سجل نے اسے کیسے برباد کیا۔ تبھی میں نے قسم کھائی تھی کہ میں لیلیٰ کا بدلہ لوں گی اور سجل کو راہِ راست پر لائوں گی، چاہے مجھے اس سے شادی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ یہ ایک دیوانگی تھی، مگر میں نے اسے سدھارنے کی ٹھان لی تھی۔
امید کے برعکس، مجھے بہت جلد کامیابی مل گئی۔ میرا ماننا تھا کہ برے سے برا مرد بھی سدھر سکتا ہے اگر وہ کسی نیک عورت کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔ چچا رحیم کی دعا قبول ہوئی اور سجل میرے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ اسے خود بھی یقین نہ آتا ہوگا کہ وہ بھی کسی کے لیے راتوں کی نیندیں حرام کر سکتا ہے۔
وہ اپنی تمام غنڈہ گردی بھول گیا۔ شاید اس کے مقدر میں ہدایت لکھی تھی یا ماں باپ کی دعائیں رنگ لائی تھیں۔ خدا ہر گناہ گار کو سدھرنے کا ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ سجل ناگ اپنی زہرناکی بھول کر میرے عشق میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ وہ اب گھر سے کم نکلتا اور گم صم رہتا۔ اس کے والدین حیران تھے کہ جو کسی کے قابو میں نہ آتا تھا، اسے کس نے ایسا مسخر کر لیا ہے۔
باپ کے بار بار پوچھنے پر وہ بالاآخر بول پڑا: “میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
“کون بدبخت تجھے اپنی بیٹی دے گا؟”
“اپنے ہی دیں گے ابا۔ آپ چچا فضل دین کے پاس جائیں اور ان کے پائوں میں اپنی پگڑی رکھ دیں، آگے نصیب۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر حسنہ مل گئی تو سجل کبھی کوئی برا کام نہیں کرے گا۔”
سجل کے باپ نے میرے ابا کے قدموں میں پگڑی رکھ دی اور اس کی ماں نے جھولی پھیلا کر التجا کی: “ہمیں مایوس نہ کرنا۔ یہ میرے بیٹے کے سدھرنے کا آخری موقع ہے۔”
کافی سوچ بچار کے بعد ابا مان گئے۔ وہ جانتے تھے کہ سجل اگر در تک آ چکا ہے تو اسے دہلیز پار کرتے دیر نہ لگے گی۔ ابا نے رحیم چچا سے کہا: “آپ بڑے بھائی ہیں، میری پگڑی اچھال کر مجھے گناہ گار نہ کریں۔” انہوں نے پگڑی اٹھا کر ان کے سر پر رکھ دی۔
خوشخبری سنتے ہی سجل نہال ہو گیا۔ چند ہی دنوں میں میں دلہن بن کر اس کے گھر آ گئی۔ گائوں والے اس رشتے پر دنگ تھے اور کچھ میرے والد کے فیصلے پر افسوس کر رہے تھے، مگر ابا یہی کہتے: “اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔ بازو ٹوٹ جائے تو اسے گلے ہی لگایا جاتا ہے۔ اللہ سے امید ہے کہ سجل سدھر جائے گا۔”
میرے ارادے نیک تھے، اس لیے دعا قبول ہوئی۔ سجل نے واقعی توبہ کر لی اور ایک شریف انسان بن گیا۔ اس نے ڈکیتی، چوری، غنڈہ گردی اور شراب نوشی سمیت ہر برائی سے ناطہ توڑ لیا۔ وہ اکثر کہتا: “حسنہ! تم مجھے پہلے کیوں نہ ملیں؟ میں اتنے گناہوں سے بچ جاتا۔” میں جواب دیتی: “صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ ماضی کو چھوڑو اور حال کی فکر کرو۔”
وقت گزرتا گیا اور اللہ نے ہمیں دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ سجل پڑھا لکھا نہیں تھا، اس لیے اس نے اپنے والد کے ساتھ کھیتی باڑی سنبھال لی۔ ہماری زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔ وقت کو پر لگے ہوتے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے بچے جوان ہو گئے۔
سجل کو اب بیٹیوں کی شادی کی فکر تھی، مگر اس کا ماضی اب بھی بیٹیوں کے رشتوں کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ وہ لڑکیوں کو پڑھانے کے خلاف تھا، مگر میری ضد پر دونوں نے اسکول کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران ان کے مراسم گائوں کے دو نوجوانوں سے ہو گئے۔ جوانی دیوانی ہوتی ہے، سمرہ اور نمرہ ان لڑکوں سے چوری چھپے ملنے لگیں۔ میں نے ان کی اچھی تربیت کی تھی، مگر وہ جذبات کی رو میں بہہ گئیں۔
ایک روز میرے پندرہ سالہ بیٹے خالد کو کسی نے بتا دیا کہ اس کی بہنیں کھیتوں میں لڑکوں سے ملتی ہیں۔ جب خالد نے باپ کو بتایا کہ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں، تو سجل کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اب وہ وقت آ گیا تھا جب مقدر اپنا انتقام لینے والا تھا۔ اب سجل کو صحیح معنوں میں احساس ہوا کہ جن کی عزتیں اس نے روندی تھیں، ان پر کیا گزری ہوگی۔
وہ ان لڑکوں کو سبق سکھانا چاہتا تھا، مگر میں نے اسے روکا اور سمجھایا کہ بہتر ہے ان سے ہی بیٹیوں کا نکاح کر دو۔ تمہارا ماضی داغدار ہے، کوئی اور رشتہ آنا مشکل ہے۔ وہ لڑکے شریف گھرانوں کے تھے۔ سجل نے انہیں بلا کر کہا: “بہتر ہے رشتہ مانگ کر میری بچیوں کو عزت سے بیاہ لے جائو، ورنہ میں تم کو زندہ درگور کر دوں گا۔”
وہ نوجوان، امجد اور اطہر، ڈر گئے اور انہوں نے منگنی کر لی۔ سجل خوش تھا کہ اب یہ تعلق جائز رشتے میں بدل جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ان دونوں کی منگنی بچپن سے اپنے عزیزوں میں طے تھی۔ جب ان لڑکیوں کے والدین کو پتہ چلا، تو انہوں نے امجد اور اطہر کے والد پر دبائو ڈالا۔ بات اتنی بڑھی کہ ان کی بہنوں کو طلاق کی دھمکی دی گئی۔ اس خاندانی دبائو کے باعث دونوں لڑکوں کے والدین نے ہماری لڑکیوں سے رشتہ ختم کر دیا۔
یہ سجل کی غیرت پر کاری ضرب تھی۔ اس نے اپنے پرانے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور لڑکوں کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ میں نے بہت روکا، پر وہ نہ مانا۔ اس کے اندر کا سویا ہوا ناگ برسوں بعد جاگ اٹھا تھا۔ یہ جھگڑا ایک خونی فساد میں بدل گیا۔ سجل نے امجد اور اطہر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پولیس کے آنے سے پہلے خود کو بھی زخمی کر لیا۔
یہی مکافاتِ عمل تھا۔ قانون سے پہلے قدرت نے اپنا حساب برابر کر لیا تھا۔ وہ جس عزت کی خاطر نکلا تھا، وہ تو خاک میں مل چکی تھی۔ اب دونوں بیٹیاں اپنے نصیب کو رو رہی تھیں۔ سجل نے خودکشی کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر کے ہتھکڑیاں پہنا دیں۔
کبھی کبھی گناہوں کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان ڈوب کر ہی رہتا ہے۔ سجل نے نجانے کتنے لوگوں کے دل دکھائے تھے کہ وہ عبرت ناک انجام سے نہ بچ سکا۔ اس کا انتقال جیل میں عمر قید کے دوران ہوا۔ وہ پھانسی سے تو بچ گیا، لیکن جس ذہنی اذیت سے وہ گزرا، وہ پھانسی سے بھی بدتر تھی۔
سجل اب آوارہ اور بدکردار مشہور ہو چکا تھا۔ جس حسین لڑکی کو دیکھتا، اس کے درپے ہو جاتا۔ کسی شریف زادی کا گھر سے نکلنا یا گائوں کی نہر تک جانا محال ہو گیا۔ وہ جب تک کسی لڑکی کی زندگی برباد نہ کر لیتا، اسے چین نہ آتا تھا۔ اسی خوف کی وجہ سے گائوں کی لڑکیوں نے کھیتوں میں کام کرنا اور کنویں سے پانی بھر لانا چھوڑ دیا۔
سبھی گائوں والے اس سے نفرت کرتے تھے لیکن کوئی اس کے منہ نہیں لگتا تھا، کیونکہ سجل ناگ کو چھیڑنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ خدا جانے علاقے کے زمیندار اس سے کون سا کام لیتے تھے کہ پولیس بھی اس پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتی تھی۔ زمیندار کی پشت پناہی کے باعث وہ اب علاقے کا نامی گرامی غنڈہ بن چکا تھا۔
سجل نے نجانے کتنی معصوم لڑکیوں کی زندگیاں برباد کی تھیں۔ اس کے والد چچا رحیم اپنے بیٹے کی اصلاح کے لیے مسجد میں دعائیں مانگا کرتے تھے، جس نے اس شریف انسان کی پگڑی کا شملہ مٹی میں ملا دیا تھا۔ جب لوگ سجل کی شکایتیں لے کر چچا رحیم کے پاس جاتے، تو وہ خوفِ خدا سے کانپ اٹھتے اور شرمندگی سے پانی پانی ہو جاتے۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو لگام ڈالو اور اس کی شادی کر دو تاکہ وہ گھر کا ہو کر رہ جائے۔
چاچا کا جواب ہوتا: “اسے اپنی بیٹی کون شریف آدمی دے گا؟ اسے تو کوئی اٹھا کر ہی لانی پڑے گی۔”
سجل ایک خوبرو، تندرست اور اونچے قد کاٹھ کا جوان تھا۔ اس کی صورت اچھی تھی اور آنکھیں گہری کالی تھیں، لیکن دل کالا تھا، اسی لیے گائوں کی کسی لڑکی کی ہمت نہ پڑتی کہ اس کا سامنا کرے۔ جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو سچ مچ دل ہار گئی۔ کہتے ہیں نا کہ محبت بے اختیار ہو جاتی ہے، کی نہیں جاتی؛ یہ سچ ہی ہے۔ میں بھی پہلی نظر میں اسے دیکھ کر فریفتہ ہو گئی۔ جانتی تھی کہ وہ کتنا بدکردار اور خوفناک ہے، لیکن وہ جیسا بھی تھا، اس کی وجاہت ایک بار تو دل گرما دیتی تھی۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں نے گائوں میں آج تک ایسا بااعتماد اور سجیلا گبرو نہیں دیکھا تھا۔ میں سوچنے لگی کہ کاش اسے راہِ راست پر لا سکوں۔ سنا تھا کہ محبت اور موت میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ ہر شے کو بدل دیں، اسی لیے میں نے اس “شیش ناگ” کو بدل ڈالنے کی قسم کھا لی۔
وہ جب کسی لڑکی کو دیکھ لیتا تو وہ اس کے حسن کے لیے بدبختی کی علامت بن جاتا، مگر میں نے اسے اپنے حسن کے جال میں جکڑنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ میرے والد کے تایا زاد بھائی کا بیٹا تھا، اس لیے میرا اس سے پردہ نہیں تھا، لیکن ہم لڑکیاں خود ہی اس سے بچنے کی کوشش کرتی تھیں۔ بچپن میں ہم ساتھ کھیلے تھے، مگر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی دوری ہو گئی تھی۔
میرا اس سے سامنا سولہ برس کی عمر میں اس وقت ہوا جب ایک روز میں کھیت سے ساگ کا گٹھا سر پر رکھ کر گھر لوٹ رہی تھی اور وہ سامنے پگڈنڈی سے آتا دکھائی دیا۔ میں نے اسے دیکھ کر جان بوجھ کر ساگ کا گٹھا گرا دیا اور وہیں بیٹھ کر اپنا پائوں پکڑ لیا۔ میں اس انداز سے اداکاری کرنے لگی جیسے پائوں میں کانٹا چبھ گیا ہو۔
اس نے مجھے بیٹھے دیکھا تو پکار کر پوچھا: “کیا ہوا تجھے؟”
“تجھے کیا؟” میں نے نفرت سے جواب دیا اور دوبارہ پائوں کی طرف جھک گئی۔ میرے اس اندازِ تخاطب نے گویا اس کے اندر کے ناگ کو ٹھوکر مار دی اور وہ تلملا کر نزدیک چلا آیا۔
“حسنہ! یہ تو ہے؟”
“ہاں، میں ہوں حسنہ۔ کیا تجھے میرا نام ابھی تک یاد ہے؟”
“کتنے برس ہوئے؟ ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب تو ہماری گلی میں ننگے پائوں دوڑتی پھرتی تھی۔”
“آج بھی ننگے پائوں ہی ہوں، پیر میں جوتی ہوتی تو کانٹا کیوں چبھتا؟”
سجل ناگ کو شاید اس بات کی توقع نہ تھی کہ مجھ جیسی نازک لڑکی اس درندہ صفت انسان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گی جس کے نام سے پورا گائوں تھرّاتا تھا۔
وہ مجھ پر جھکا اور کہنے لگا: “میں نکال دوں تیرے پیر کا کانٹا؟”
میں نے اسے پرے کرتے ہوئے کہا: “مجھے مت چھونا، کیا تجھے لاج نہیں آتی؟”
“لاج؟” وہ زور سے ہنسا، “کیا ہوتی ہے لاج؟”
“کسی دوشیزہ کی آبرو ہی اس کی لاج ہوتی ہے، مگر تو کیا جانے! تیرا تو کام ہی دوسروں کی زندگی اجاڑنا ہے۔”
“بڑی دلیر بن رہی ہے، کیا تجھے مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟ اگر میں تیرا حسن چھین لوں تو؟”
“ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تو واقعی دلیر ہے تو عزت کے ساتھ مجھے اپنا بنا لے۔”
“کیا؟” وہ حیران ہو کر بولا۔
“یہی کہ میرا ہاتھ میرے ابا سے مانگ لے۔ آخر تو میرے چچا کا بیٹا ہے۔”
“اچھا۔۔۔ چل سوچوں گا۔” اسے توقع نہیں تھی کہ میں اسے ایسا جواب دوں گی۔ وہ ایک درخت سے ٹیک لگا کر مجھے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔
ابھی میں دو قدم ہی چلی تھی کہ اس نے آواز دی: “اے خوبصورت! اپنا ساگ کا گٹھا تو لیتی جا۔”
“دیکھ نہیں رہے میرے پیر میں کانٹا چبھا ہے؟ میں اسے کیسے اٹھائوں؟ تو ہی اسے میرے گھر تک پہنچا دے۔”
سجل کا گھر ہمارے مکان کے پاس ہی تھا۔ کسی انجانی قوت کے زیرِ اثر اس نے ساگ کا گٹھا اٹھا لیا اور میرے پیچھے پیچھے ایک پالتو جانور کی مانند چلنے لگا۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے گٹھا میرے سر پر رکھ دیا۔
“لے اب جا۔۔۔ اور دوبارہ مجھے نظر نہ آنا، ورنہ۔۔۔”
“ورنہ کیا؟” میں بھی ڈھیٹ بن گئی۔
“جاہ۔۔۔” وہ جیسے زچ آ گیا ہو۔ “وہ دیکھ، سامنے سے تیرا باپ آ رہا ہے۔ اگر ان کا لحاظ نہ ہوتا تو ابھی بانہہ سے کھینچ کر لے جاتا۔”
“بانہہ کھینچنے کی ضرورت نہیں ہے، ابا سے میرا ہاتھ مانگ لے۔” یہ کہہ کر میں لپک کر گھر کے اندر چلی گئی۔
ضرور ابا نے اسے مجھ سے بات کرتے دیکھ لیا تھا، اسی لیے جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور وہ پسینے میں شرابور تھے۔ آتے ہی سوال کیا: “یہ سجل ہمارے در پر کیوں کھڑا تھا؟”
“وہ آپ کا پوچھ رہا تھا ابا۔”
“میرا پوچھ رہا تھا؟ اس بدمعاش کو مجھ سے کیا کام پڑ گیا؟”
“جب ملے تو اسی سے پوچھ لیجیے گا۔” ابا گہری سوچ میں ڈوب گئے، شاید وہ سجل کے ہمارے دروازے پر آنے کا مطلب سمجھ گئے تھے۔
اماں چولہے کے پاس بیٹھی جلتی لکڑیوں پر پانی کے چھینٹے ڈال رہی تھیں کیونکہ کھانا تیار تھا اور اب صرف انگارے ہی کافی تھے۔
“یہ سجل بدمعاش کیوں یہاں آیا تھا؟” ابا نے فکرمندی سے اماں کو مخاطب کیا۔
“میں کیا جانوں؟”
“تو تو نجانے کب جانے گی۔ سنا ہے ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے، ہمارا تو ان سے چوتھا گھر ہے۔”
“ہاں ہے تو، مگر سجل گھر میں رہتا ہی کب ہے؟ زیادہ تر تو بدمعاشوں کے اڈوں پر ہوتا ہے۔”
“مجھے تو اس کا گلی میں آنا بھی گوارا نہیں، نجانے کب کسے ڈس لے۔”
“حسنہ کے ابا! اب یہ باتیں چھوڑیں اور کھانا کھا لیں۔”
والد نے ٹھنڈی آہ بھری اور ہاتھ منہ دھو کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ بظاہر وہ کھانا کھا رہے تھے مگر ہر لقمے کے ساتھ جیسے خدشات کو چبا رہے ہوں۔ تھوڑی دیر بعد بولے: “حسنہ سے کہو اب باہر نہ جایا کرے۔”
“یہ کب جاتی ہے؟ کبھی کبھار ہی نکلتی ہے۔ پہلے ہی تم نے اس کا اسکول چھڑوا دیا، بیچاری چھٹی جماعت بھی پاس نہ کر سکی۔”
اماں کے دکھ کا ابا نے کوئی اثر نہ لیا۔ ان کے من میں نجانے کون سے اندیشے پل رہے تھے، لیکن میں آج بہت خوش تھی کہ وہ سجل جس سے سب ڈرتے تھے، آج وہ میرے حصار میں آ گیا تھا۔
کہتے ہیں عشق کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا۔ کوئی کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، یہ امید باقی رہتی ہے کہ وہ سدھر جائے گا۔ میرے دل میں یہ ارادہ اس وقت پکا ہوا تھا جب گائوں کی ایک لڑکی لیلیٰ نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ سجل نے اسے کیسے برباد کیا۔ تبھی میں نے قسم کھائی تھی کہ میں لیلیٰ کا بدلہ لوں گی اور سجل کو راہِ راست پر لائوں گی، چاہے مجھے اس سے شادی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ یہ ایک دیوانگی تھی، مگر میں نے اسے سدھارنے کی ٹھان لی تھی۔
امید کے برعکس، مجھے بہت جلد کامیابی مل گئی۔ میرا ماننا تھا کہ برے سے برا مرد بھی سدھر سکتا ہے اگر وہ کسی نیک عورت کی محبت میں گرفتار ہو جائے۔ چچا رحیم کی دعا قبول ہوئی اور سجل میرے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ اسے خود بھی یقین نہ آتا ہوگا کہ وہ بھی کسی کے لیے راتوں کی نیندیں حرام کر سکتا ہے۔
وہ اپنی تمام غنڈہ گردی بھول گیا۔ شاید اس کے مقدر میں ہدایت لکھی تھی یا ماں باپ کی دعائیں رنگ لائی تھیں۔ خدا ہر گناہ گار کو سدھرنے کا ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ سجل ناگ اپنی زہرناکی بھول کر میرے عشق میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ وہ اب گھر سے کم نکلتا اور گم صم رہتا۔ اس کے والدین حیران تھے کہ جو کسی کے قابو میں نہ آتا تھا، اسے کس نے ایسا مسخر کر لیا ہے۔
باپ کے بار بار پوچھنے پر وہ بالاآخر بول پڑا: “میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
“کون بدبخت تجھے اپنی بیٹی دے گا؟”
“اپنے ہی دیں گے ابا۔ آپ چچا فضل دین کے پاس جائیں اور ان کے پائوں میں اپنی پگڑی رکھ دیں، آگے نصیب۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر حسنہ مل گئی تو سجل کبھی کوئی برا کام نہیں کرے گا۔”
سجل کے باپ نے میرے ابا کے قدموں میں پگڑی رکھ دی اور اس کی ماں نے جھولی پھیلا کر التجا کی: “ہمیں مایوس نہ کرنا۔ یہ میرے بیٹے کے سدھرنے کا آخری موقع ہے۔”
کافی سوچ بچار کے بعد ابا مان گئے۔ وہ جانتے تھے کہ سجل اگر در تک آ چکا ہے تو اسے دہلیز پار کرتے دیر نہ لگے گی۔ ابا نے رحیم چچا سے کہا: “آپ بڑے بھائی ہیں، میری پگڑی اچھال کر مجھے گناہ گار نہ کریں۔” انہوں نے پگڑی اٹھا کر ان کے سر پر رکھ دی۔
خوشخبری سنتے ہی سجل نہال ہو گیا۔ چند ہی دنوں میں میں دلہن بن کر اس کے گھر آ گئی۔ گائوں والے اس رشتے پر دنگ تھے اور کچھ میرے والد کے فیصلے پر افسوس کر رہے تھے، مگر ابا یہی کہتے: “اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔ بازو ٹوٹ جائے تو اسے گلے ہی لگایا جاتا ہے۔ اللہ سے امید ہے کہ سجل سدھر جائے گا۔”
میرے ارادے نیک تھے، اس لیے دعا قبول ہوئی۔ سجل نے واقعی توبہ کر لی اور ایک شریف انسان بن گیا۔ اس نے ڈکیتی، چوری، غنڈہ گردی اور شراب نوشی سمیت ہر برائی سے ناطہ توڑ لیا۔ وہ اکثر کہتا: “حسنہ! تم مجھے پہلے کیوں نہ ملیں؟ میں اتنے گناہوں سے بچ جاتا۔” میں جواب دیتی: “صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ ماضی کو چھوڑو اور حال کی فکر کرو۔”
وقت گزرتا گیا اور اللہ نے ہمیں دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ سجل پڑھا لکھا نہیں تھا، اس لیے اس نے اپنے والد کے ساتھ کھیتی باڑی سنبھال لی۔ ہماری زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔ وقت کو پر لگے ہوتے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے بچے جوان ہو گئے۔
سجل کو اب بیٹیوں کی شادی کی فکر تھی، مگر اس کا ماضی اب بھی بیٹیوں کے رشتوں کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ وہ لڑکیوں کو پڑھانے کے خلاف تھا، مگر میری ضد پر دونوں نے اسکول کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران ان کے مراسم گائوں کے دو نوجوانوں سے ہو گئے۔ جوانی دیوانی ہوتی ہے، سمرہ اور نمرہ ان لڑکوں سے چوری چھپے ملنے لگیں۔ میں نے ان کی اچھی تربیت کی تھی، مگر وہ جذبات کی رو میں بہہ گئیں۔
ایک روز میرے پندرہ سالہ بیٹے خالد کو کسی نے بتا دیا کہ اس کی بہنیں کھیتوں میں لڑکوں سے ملتی ہیں۔ جب خالد نے باپ کو بتایا کہ لوگ اسے طعنے دیتے ہیں، تو سجل کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اب وہ وقت آ گیا تھا جب مقدر اپنا انتقام لینے والا تھا۔ اب سجل کو صحیح معنوں میں احساس ہوا کہ جن کی عزتیں اس نے روندی تھیں، ان پر کیا گزری ہوگی۔
وہ ان لڑکوں کو سبق سکھانا چاہتا تھا، مگر میں نے اسے روکا اور سمجھایا کہ بہتر ہے ان سے ہی بیٹیوں کا نکاح کر دو۔ تمہارا ماضی داغدار ہے، کوئی اور رشتہ آنا مشکل ہے۔ وہ لڑکے شریف گھرانوں کے تھے۔ سجل نے انہیں بلا کر کہا: “بہتر ہے رشتہ مانگ کر میری بچیوں کو عزت سے بیاہ لے جائو، ورنہ میں تم کو زندہ درگور کر دوں گا۔”
وہ نوجوان، امجد اور اطہر، ڈر گئے اور انہوں نے منگنی کر لی۔ سجل خوش تھا کہ اب یہ تعلق جائز رشتے میں بدل جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ان دونوں کی منگنی بچپن سے اپنے عزیزوں میں طے تھی۔ جب ان لڑکیوں کے والدین کو پتہ چلا، تو انہوں نے امجد اور اطہر کے والد پر دبائو ڈالا۔ بات اتنی بڑھی کہ ان کی بہنوں کو طلاق کی دھمکی دی گئی۔ اس خاندانی دبائو کے باعث دونوں لڑکوں کے والدین نے ہماری لڑکیوں سے رشتہ ختم کر دیا۔
یہ سجل کی غیرت پر کاری ضرب تھی۔ اس نے اپنے پرانے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور لڑکوں کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ میں نے بہت روکا، پر وہ نہ مانا۔ اس کے اندر کا سویا ہوا ناگ برسوں بعد جاگ اٹھا تھا۔ یہ جھگڑا ایک خونی فساد میں بدل گیا۔ سجل نے امجد اور اطہر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پولیس کے آنے سے پہلے خود کو بھی زخمی کر لیا۔
یہی مکافاتِ عمل تھا۔ قانون سے پہلے قدرت نے اپنا حساب برابر کر لیا تھا۔ وہ جس عزت کی خاطر نکلا تھا، وہ تو خاک میں مل چکی تھی۔ اب دونوں بیٹیاں اپنے نصیب کو رو رہی تھیں۔ سجل نے خودکشی کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر کے ہتھکڑیاں پہنا دیں۔
کبھی کبھی گناہوں کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان ڈوب کر ہی رہتا ہے۔ سجل نے نجانے کتنے لوگوں کے دل دکھائے تھے کہ وہ عبرت ناک انجام سے نہ بچ سکا۔ اس کا انتقال جیل میں عمر قید کے دوران ہوا۔ وہ پھانسی سے تو بچ گیا، لیکن جس ذہنی اذیت سے وہ گزرا، وہ پھانسی سے بھی بدتر تھی۔
(ختم شد)

