ملاپ کا انجام

Urdu Short Stories

ہم لوگ پہاڑی علاقے کے رہنے والے ہیں، جہاں روایات سخت ہیں اور قبائلی قانون کی پاسداری کی جاتی ہے۔ یہاں دو مشہور قبائل آباد ہیں جن کی برسوں سے آپس میں دشمنی چلی آرہی ہے۔ دونوں طرف کے کئی مرد مارے جا چکے ہیں، مگر یہ خونی تنازع ابھی تک ختم نہیں ہوا کیونکہ یہاں دشمنیاں نسل در نسل چلتی ہیں۔ ان خونی معرکوں میں نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ نئی کہانیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

ہمارے آبائی گائوں میں بخت بلند کا گھر تھا، جو شروع سے ہی غربت کا شکار تھا۔ بخت بلند گائوں کے اسکول کا ماسٹر تھا۔ وہ ایک راست گو اور سادہ دل شخص تھا، جس کا جرم و سزا سے دور کا واسطہ نہ تھا۔ اس کا کام تو علم کی روشنی پھیلانا اور بچوں کو درس دینا تھا۔
sublimegate
ایک بار پھر جھگڑا ہوا تو ان قبائل میں سے ایک نوجوان نے دوسرے قبیلے کے نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اس وقت اتفاق سے بخت بلند اسکول کی طرف رواں دواں تھا۔ اس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اسکول جا کر دیگر اساتذہ سے اس واقعے کا ذکر کیا۔ واقعے کے بعد جب فیصلے کے لیے جرگہ ہوا، تو سب نے کہا کہ بخت بلند واقعے کا چشم دید گواہ ہے، لہٰذا اس کی گواہی لی جائے گی۔ بخت بلند کو بلایا گیا۔ وہ ایک باضمیر اور دین دار شخص تھا، اس نے وہی گواہی دی جو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہی بات اس کی موت کا سبب بن گئی۔ قاتل کے خلاف فیصلہ ہوتے ہی اس کے ورثا نے بخت بلند کے لیے دل میں بغض پال لیا اور اس کے بھائیوں نے قسم کھائی کہ ہم اس شخص کو، جس کا نام بخت بلند ہے، موت کے گھاٹ اتار کر دم لیں گے۔

اس واقعے کو چھ ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ ایک دن قبیلے کے سردار کے ایما پر بخت بلند کو موت کے شکاری نے اس وقت آ دبوچا جب وہ صبح سویرے گھر سے پیدل درس گاہ جا رہا تھا۔ اچانک ایک طرف سے گولی سنسناتی ہوئی آئی اور بے چارا ماسٹر مٹی کا ڈھیر ہو گیا۔ ماسٹر صاحب کے مرتے ہی ان کی بیوی اور بچوں کے برے دن شروع ہو گئے۔ بخت کے قتل کا حساب کون لیتا؟ وہ تو نزدیکی ضلع سے یہاں تعینات ہوا تھا اور یہ اس کا آبائی علاقہ نہ تھا۔ تاہم اب اس کا خاندان کہیں اور جا بھی نہ سکتا تھا کیونکہ رہنے کے لیے گھر اور جینے کے لیے ذریعہ معاش چاہیے تھا۔ ان غریبوں کے پاس وطن کے کسی بھی حصے میں اپنا گھر تھا نہ کوئی وسیلہ۔ بخت کی بیوہ سکینہ خاتون ان پڑھ اور زادِ راہ سے محروم تھی۔ علاقے کے کچھ نیک لوگوں نے اس کی ڈھارس بندھائی کہ “تم کہیں مت جاؤ، نقل مکانی کر کے مشکل حالات میں پھنس جاؤ گی۔ بچے چھوٹے ہیں، گھر پر محلے کی بچیوں کو درسِ قرآن دو، اللہ پاک رازق ہے۔”

سکینہ نے بزرگوں کی بات مان لی اور گھر پر ہی بچیوں کو قرآن پڑھانے لگی۔ جو بچیاں سپارہ پڑھنے آتی تھیں، ان کے گھر والوں نے سکینہ بی بی کی کفالت کا ذمہ اٹھا لیا۔ اس کی تین بیٹیاں تھیں اور ایک ہی بیٹا سلطان، جو ان دنوں بارہ برس کا تھا اور اسکول جاتا تھا۔ بچہ تو بچہ ہوتا ہے، اس سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی تھی؟ جس سے شکوہ تھا، سردار نے اسے مروا دیا تھا۔ بخت بلند کے کنبے کو وہیں رہنے دیا گیا جہاں وہ پہلے سے مقیم تھے۔ یہ ایک سرکاری کوارٹر تھا جسے کسی نے خالی نہ کروایا۔ وقت گزرتا رہا اور سلطان سولہ سترہ برس کا ہو گیا۔ اب وہی ماں کی امیدوں کا مرکز تھا۔ وہ ایک حساس نوجوان تھا جو ماں کے دکھ سمجھتا اور ان کا مداوا کرنا چاہتا تھا۔ کبھی کبھی مالی تنگی ہوتی تو وہ محنت مزدوری کر لیا کرتا تھا۔

انہیں دنوں الیکشن ختم ہوئے تو ملازمت کے لیے کچھ آسامیاں نکلیں، جن کا فیصلہ سردار صاحب کی صوابدید پر ہونا تھا۔ محکمہ تعلیم سے وابستہ ایک شخص، جو بخت بلند کو جانتا تھا اور اس کے خونِ ناحق پر رنجیدہ تھا، اس نے سلطان کو سردار کے سامنے پیش کر دیا۔ اس شخص کا نام ارباب جہاں تھا۔ سردار نے گہری نظروں سے سلطان کا جائزہ لیا۔ سلطان ابھی درباری آداب سے واقف نہ تھا کہ یہاں سر جھکا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ وہ ایک روشن ضمیر نوجوان تھا۔ جب سردار نے اسے مخاطب کیا، تو اس نے سردار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ یہ حرکت سردار کو سخت ناگوار گزری اور اس نے غضب ناک ہو کر پوچھا: “اس نامعقول انسان کو یہاں کون لایا ہے؟ اسے یہاں کے آداب کا علم نہیں۔ لے جاؤ اسے اور اس گستاخ کو شوٹ کر دو!”

سارا دربار دم بخود رہ گیا، مگر کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ تھی کہ اس غریب کا قصور کیا ہے؟ بے شک وہ درباری آداب سے ناواقف تھا، لیکن ابھی اس نے لب بھی نہیں کھولے تھے۔ صرف ایک نگاہ بھر کے سردار کے چہرے کی طرف دیکھا تھا، مگر سردار کی نظر میں یہ قصور ناقابلِ معافی تھا۔ تبھی ارباب جہاں سردار کے پیروں میں گر گیا۔ اس نے آہ و زاری کی: “سردار صاحب! میں معافی کا طلب گار ہوں۔ یہ لڑکا درباری آداب سے واقف نہیں تھا، قصور میرا ہے کہ اسے بتا کر نہیں لایا۔” سردار نے پوچھا: “یہ لڑکا کون ہے؟” ارباب جہاں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اگر وہ بتا دیتا کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کے باپ نے سردار کے رشتہ دار کے خلاف گواہی دی تھی، تو سردار آنِ واحد میں لڑکے کے ساتھ اس کا سر بھی قلم کرا دیتا۔ تبھی ارباب نے دل میں خدا سے دعا مانگی اور جھوٹ کا سہارا لیا: “سردار صاحب! سلطان میری بہن کا بیٹا ہے، اس کی گستاخی معاف کر کے جان بخشی کی جائے۔” ارباب سردار کا خاص آدمی تھا، اس کی سفارش اور گڑگڑانے پر سلطان کی جان بچ گئی اور سردار نے اسے دربار سے نکال دیا۔ یہ عجیب نظارہ تھا، سرداری تاریخ میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی کی اتنی آسانی سے جان بخشی ہو جائے۔ جہاں معافی کا تصور ہی نہ ہو اور صرف سزا کا رواج ہو، وہاں ایسی معافی پورے قبیلے کے لیے باعثِ حیرت تھی۔

سلطان خوش قسمت تھا کہ نہ صرف گستاخی پر اس کی جان بچ گئی بلکہ اس کا حسب نسب بھی دریافت نہیں کیا گیا۔ اگر سردار کو علم ہو جاتا کہ وہ بخت بلند کا بیٹا ہے، تو یقیناً اسے دہکتے انگاروں میں پھینکوا دیا جاتا۔ ماں نے خیر منائی اور گڑ والے چاول پکا کر محلے میں تقسیم کیے کہ سلطان موت کے منہ سے زندہ لوٹ آیا ہے۔ اس دن کے بعد سکینہ بی بی نے توبہ کر لی کہ جب تک وہ اس علاقے میں ہے، کبھی سلطان کے لیے ملازمت کی خواہش نہیں کرے گی۔ چاہے اسے پتھر ہی کیوں نہ ڈھونے پڑیں۔ علاقے سے پتھروں کے ٹرک شہر جاتے تھے۔ سلطان بھی ان ٹرکوں پر پتھر لادنے اور توڑنے کی مزدوری کرنے لگا۔ یوں چار پیسے کما کر جب وہ شام کو ماں کی ہتھیلی پر رکھتا تو اس کے اپنے ہاتھوں پر نیل پڑے ہوتے۔ پتھر توڑنے سے اکثر ہاتھ زخمی ہو جاتے، لیکن وہ یہ سخت کام کرنے پر مجبور تھا کیونکہ اس پتھریلے علاقے میں روزی کمانا آسان نہ تھا۔

سکینہ بی بی کی شرافت کی وجہ سے اس کی دو بیٹیوں کے رشتے ہو گئے۔ ایک بیٹی کا بوجھ ابھی باقی تھا اور اس کی شادی کے لیے رقم جمع کرنی تھی، اسی لیے سلطان سخت مزدوری کرتا رہا۔ جب ٹھیکیدار کو علم ہوا کہ سلطان اسی بخت بلند کا بیٹا ہے جس نے سردار کے آدمیوں کے خلاف سچی گواہی دی تھی، تو اس نے اسے کام سے نکال دیا۔ اس نے کہا: “میں نے یہ ٹھیکہ بڑی مشکل سے لیا ہے، سردار کی ناراضی مول لے کر لاکھوں کا نقصان نہیں کر سکتا۔” اب لڑکا پھر بے روزگار تھا۔ جب بوڑھی ماں اور بہن کا خرچہ چلانا ناممکن ہو گیا، تو اس نے مجبوراً مخالف قبیلے کا رخ کیا اور وہاں کے سردار کو نوکری کی عرضی لکھی: “میں آپ کی پناہ لینے پر مجبور ہوں کیونکہ اپنے علاقے کا سردار میرے باپ کو ہلاک کروا چکا ہے اور اب میری جان کو بھی خطرہ ہے۔ مجھ پر اپنے علاقے کی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔” سردار نے فوراً سلطان کی عرضی پر غور کیا اور اسے اپنے منشی کے حوالے کر کے کہا: “اس کی روزی کا بندوبست ہمارے علاقے میں کر دو، کیونکہ اس کے باپ نے سچی گواہی دے کر ہمارے آدمیوں کی خاطر اپنی جان قربان کی تھی۔ اسے اس قربانی کا صلہ ملنا چاہیے۔”

یوں سلطان مخالف سردار کی عملداری میں کام پر لگ گیا۔ اب وہ صبح تڑکے اٹھتا، ناشتہ کیے بغیر سائیکل سنبھالتا اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں پہنچ جاتا۔ سارا دن وہ منشی کے ساتھ حساب کتاب میں مصروف رہتا اور رات کے اندھیرے میں گھر لوٹتا۔ ماں دن بھر اس کے انتظار میں سلگتی رہتی اور جب تک بیٹا واپس نہ آتا، وہ چارپائی پر نہ لیٹتی۔ سلطان اس کا اکلوتا بیٹا تھا اور سکینہ بی بی کی اس میں جان تھی۔ اس عورت نے عمر بھر تنہا دکھوں کا مقابلہ کیا تھا اور اسی آس پر جی رہی تھی کہ کب بیٹا اس قابل ہو کہ وہ اس کی شادی کر سکے اور گھر میں خوشیاں آئیں۔ سکینہ بی بی کو بس اللہ کا سہارا تھا۔ یہاں اس کے رشتہ دار نہیں تھے، لیکن لوگ اس کے مرحوم خاوند کی قدر کی وجہ سے ان کا خیال رکھتے تھے۔ انہی اچھے لوگوں کی وجہ سے اس نے یہاں زندگی کا طویل عرصہ گزار دیا، تاہم یہ سردار کا علاقہ تھا جس کا خوف ہمیشہ دو دھاری تلوار کی طرح ان کے سروں پر لٹکتا رہتا تھا۔

سلطان ایک سلجھا ہوا اور شریف لڑکا تھا، اس نے کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ سامنے والے گھر میں جاذبہ نامی لڑکی سلطان کو پسند کرتی تھی۔ اس نے قرآن کی تعلیم سکینہ بی بی سے ہی حاصل کی تھی۔ بی بی کو بھی وہ لڑکی پسند تھی اور ان کا جی چاہتا تھا کہ سلطان کی شادی جاذبہ سے ہو جائے، لیکن ابھی وقت نہیں آیا تھا۔ یہاں لڑکی کے بدلے بھیڑ بکریاں دینے کا رواج تھا اور سکینہ بی بی کے پاس صرف دو تین بکریاں تھیں، پورا گلہ نہیں تھا کہ وہ دے کر جاذبہ کو بہو بنا لاتیں۔

ایک دن سلطان صبح تڑکے کام پر جا رہا تھا کہ گھر کے باہر اسے جاذبہ مل گئی جو اپنی بکریاں چرانے جا رہی تھی۔ سلطان کو دیکھ کر وہ اس کی طرف آئی اور باتیں کرنے لگی۔ سلطان نے کہا: “میرے راستے سے ہٹ جاؤ، کام کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” وہ بولی: “روز صبح تڑکے چلے جاتے ہو اور رات گئے لوٹتے ہو۔ دن ڈھل جائے تو مجھے گھر سے نکلنے نہیں دیا جاتا، بتاؤ میں کب تم سے بات کروں؟” سلطان نے کہا: “ابھی کر لو۔” وہ بولی: “ابھی تو کہتے ہو کہ دیر ہو رہی ہے۔” سلطان نے جواب دیا: “دیر تو ہو رہی ہے لیکن خیر، تمہاری خاطر رک جاتا ہوں۔ بولو کیا کہنا ہے؟” جاذبہ نے کہا: “یہاں نہیں، یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔ ذرا آگے چراگاہ تک آؤ، وہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔” سلطان نے کہا: “جب ہم چھوٹے تھے تو وہاں بیٹھ جاتے تھے، لیکن اب بڑے ہو گئے ہیں۔ کسی نے دیکھ لیا تو اعتراض ہوگا۔” جاذبہ کی ضد پر سلطان نے سائیکل کا رخ وہاں کر لیا۔

پہاڑ کے پہلو میں جہاں گھاس اگی ہوئی تھی، جاذبہ کی بکریاں چر رہی تھیں۔ جاذبہ ایک پتھر پر بیٹھ گئی اور سلطان سائیکل کھڑی کر کے پتھر سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ “ہاں اب کہو، کیا کہنا ہے؟” سلطان نے پوچھا۔ جاذبہ بولی: “سلطان! تم نے کہاں نوکری کر لی ہے؟ سارا دن نظر ہی نہیں آتے۔ شام سے رات ہو جاتی ہے اور تم ہمیشہ اندھیرے میں گھر آتے ہو۔” سلطان نے جواب دیا: “کیا کروں، ماں اور بہن کا پیٹ بھی تو پالنا ہے۔” جاذبہ نے کہا: “سلطان، یہ نوکری چھوڑ دو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ مخالف سردار کا گاؤں ہے؟ ہمارے علاقے کا آدمی وہاں کام نہیں کر سکتا۔ اگر سردار کو پتا چل گیا تو وہ سخت سزا دے گا۔” سلطان نے کہا: “جانتا ہوں، لیکن یہ میری مجبوری ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ہم یہاں سے نقل مکانی کر جائیں، ورنہ سردار ہمیں جیتا نہیں چھوڑے گا۔” جاذبہ تڑپ اٹھی: “ایسا مت کہو سلطان! تمہارے جانے کے خیال سے میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔ تم کوئی اور مزدوری کر لو، مگر یہاں سے مت جاؤ۔”

ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک شخص کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ دونوں گھبرا گئے۔ سلطان نے فوراً سائیکل پکڑی: “اچھا میں چلتا ہوں، کوئی آ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں دیکھ لے، میں نکل جاؤں۔” وہ نکلنے ہی والا تھا کہ بدقسمتی سے چھپنے کے باوجود آنے والے کو جاذبہ کی اوڑھنی کا پلو نظر آ گیا اور وہ وہیں پہنچ گیا۔ وہاں اس کا سامنا سلطان سے ہوا جو پگڈنڈی تک پہنچ چکا تھا۔ “ادھر کیا کر رہے ہو؟” اس نے رعونت سے پوچھا۔ سلطان نے گھبرا کر کہا: “کام پر جا رہا تھا۔” اس شخص نے پوچھا: “وہ پتھر کے پیچھے کون ہے؟” سلطان نے کہا: “ہماری ہمسائی جاذبہ ہے، بکریاں چرانے آئی ہے۔” اس شخص نے سختی سے سلطان کا گریبان پکڑ لیا: “تو صبح صبح اس سے ملنے ادھر آیا تھا؟ گاؤں کی عزتیں خراب کرتا ہے! اپنا اور اپنے باپ کا نام بتا۔” سلطان کو بتانا پڑا: “نام سلطان ہے اور باپ کا نام بخت بلند ہے۔” “وہی ماسٹر جو گواہی دینے کے بدلے مارا گیا؟ گویا تو ہمارے سردار کے دشمن کا بیٹا ہے، تبھی تیرے کرتوت ایسے ہیں۔ ابھی جا کر خبر کرتا ہوں۔ جانتا ہے میں کون ہوں؟ میں سردار صاحب کا خاص مشیر ہوں!”

سلطان پریشان ہو کر کام پر جانے کے بجائے گھر آ گیا اور شکست خوردہ انداز میں چارپائی پر گر گیا۔ ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ ہوا تھا کہ دروازے پر بندوق کے بٹ کی آواز آئی۔ وہ سمجھ گیا کہ سردار کے آدمی آ پہنچے ہیں۔ باہر نکلا تو چار مسلح گارڈز نے اسے قابو کیا اور جیپ میں ڈال کر لے گئے۔ دو دن وہ ان کی تحویل میں رہا اور تیسرے دن اسے دربار میں پیش کیا گیا۔ اس بار سلطان نے نظریں نیچی رکھیں اور سر جھکا کر کھڑا ہوا کیونکہ وہ اب آداب سے واقف ہو چکا تھا۔ سردار نے اسے پہچان لیا: “اچھا! تو وہی گستاخ ہے جو پہلے بھی یہاں سے دھتکارا گیا تھا۔ اب اس کا جرم بتایا جائے۔” مشیرِ خاص نے کہا: “اس کا جرم یہ ہے کہ یہ ایک لڑکی کے ساتھ ملاقات کرتے پکڑا گیا ہے۔ لڑکی کو کہیں دور فروخت کر دینا چاہیے اور اس لڑکے کو سزائے موت ملنی چاہیے۔” سلطان نے کانپتی آواز میں کہا: “یہ جھوٹ ہے سردار صاحب!” سردار نے ثبوت مانگا تو مشیر نے کہا کہ “ثبوت میں خود ہوں۔” سلطان نے کہا: “میں خدا کو گواہ بنا کر قسم اٹھانے کو تیار ہوں۔” سردار نے کہا: “ٹھیک ہے، ہمیں قبول ہے، لیکن پہلے اس کے باپ کا نام بتاؤ۔” مشیر نے بتایا: “یہ اسی بخت بلند کا بیٹا ہے جس نے آپ کے بیٹے کے خلاف گواہی دی تھی، اور یہ اب بھی مخالف سردار کے پاس کام کرتا ہے۔”

سردار کو جیسے کسی نے کوڑا مار دیا ہو۔ “رہتا ہمارے علاقے میں ہے اور ملازم دشمن کا ہے؟ یہ ہماری رعایا ہو کر غدار نکلا۔ اس کے دونوں جرم سنگین ہیں۔ پہلے کی سزا موت ہے اور دوسرے کی جلا وطنی۔” فیصلے کے لیے آگ کا ایک الاؤ تیار کیا گیا اور خندق دہکتے انگاروں سے بھر دی گئی۔ مولوی صاحب نے دعا پڑھی اور سلطان نے قسم کھائی کہ وہ بے گناہ ہے۔ قبائلی رواج کے مطابق اگر وہ سچا تھا تو آگ اسے نہیں جلائے گی۔ سلطان کو انگاروں پر چلنے کا حکم ملا۔ سردار کے دو آدمیوں نے اسے پکڑ کر خندق پار کروائی، مگر اس کے پاؤں بری طرح جھلس گئے اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ سلطان بچ تو گیا لیکن وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔

چھ ماہ بعد اسے دوسرے جرم کی سزا سنانے کے لیے دوبارہ پیش کیا گیا۔ اسے بغاوت اور بے وفائی کے جرم میں جلا وطنی کی سزا دی گئی۔ سلطان، اس کی ماں اور بہن کو مختصر سامان کے ساتھ ایک خچر پر لاد کر صبح سویرے علاقے سے باہر نکال دیا گیا۔

قبائلی سردار آپس میں جھگڑتے ہیں، خون خرابہ کرتے ہیں اور پھر جب چاہتے ہیں مصالحت کر لیتے ہیں، لیکن ان کی رعایا ان کی ‘آن’ کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے۔ تعلیم انسان کے حالات بدلتی ہے، لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کوئی بھی ان سرداروں کے قدیم اور ظالمانہ رسم و رواج کو نہیں بدل سکا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ