میری والدہ کا انتقال تب ہوا جب میں صرف دو برس کی تھی۔ میری پھوپھی جان مجھے اپنے گھر لے گئیں، بعد میں والد صاحب بھی وہیں آگئے اور یوں میری پرورش پھوپھی کے گھر میں ہوئی۔ میری پھوپھی کا نام زرمینہ جان تھا۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا، شہباز خان، جو عمر میں مجھ سے پندرہ برس بڑا تھا۔ انہوں نے میری منگنی شہباز خان سے کر دی۔ ہم کافی عرصہ ایک ساتھ رہتے رہے۔ میں اپنی پھوپھی کو ہی اپنی ماں سمجھتی تھی؛ وہ میرا بہت خیال رکھتی تھیں اور میں ایک پل بھی ان کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔
شومئی قسمت کہ والد صاحب کا پھوپھا جان سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور وہ مجھے وہاں سے لے کر چلے گئے۔ میں نے اس جدائی پر رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا اور سخت بیمار ہو گئی۔ جب پھوپھی کو میری بیماری کی خبر ملی تو ان سے رہا نہ گیا اور وہ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے آئیں۔ یوں میں پھر سے ان کے پاس رہنے لگی، تاہم ابا جان اب ہمارے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ مجھے اس بات کا کوئی ملال نہ تھا کیونکہ مجھے اپنی پھوپھی سے بہت انسیت تھی اور شہباز خان بھی مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ ان دنوں ایک چھوٹا سا ہوٹل چلاتا تھا اور مجھے اکثر وہاں لے جا کر چائے بسکٹ کھلاتا تھا۔ میں نادان بچی تھی جبکہ وہ سترہ اٹھارہ برس کا کڑیل جوان تھا۔
پھر اچانک پھوپھی بیمار ہو گئیں۔ ان دنوں میرے والد لاپتہ تھے، چنانچہ پھوپھی اور پھوپھا نے میرا نکاح شہباز سے پڑھوا دیا۔ انہیں خوف تھا کہ اگر ان کی آنکھ بند ہو گئی تو میرا کیا بنے گا؟ اب تو ابا بھی ملنے نہیں آتے تھے، وہ اکیلے آدمی تھے، بھلا مجھے کیسے سنبھالتے؟ تاہم ان کے سوا میرا دنیا میں کوئی تھا بھی نہیں۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ پھوپھی انتقال کر گئیں۔ اب میں گھر میں اکیلی تھی اور انہیں یاد کر کے روتی رہتی۔ پھوپھا پریشان تھے کہ کیا کریں؟ وہ اپنی بہن کو بڑی منت سماجت کے بعد چند دنوں کے لیے گھر لے آئے، وہ صاحبِ خانہ تھیں اور آنا نہیں چاہتی تھیں مگر مجبوری میں چار ماہ میرے پاس رہیں۔ جب ان کا شوہر انہیں لینے آیا تو وہ چلی گئیں۔ ان دنوں پھوپھا بھی بیمار تھے اور علاج کے لیے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے۔
میں گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے بہت روتی تھی، اس لیے شہباز مجھے اپنے ساتھ ہوٹل لے جاتا۔ وہاں مجھے ناشتہ کراتا اور ٹافیاں دے کر بہلاتا تھا۔ جب میں پھوپھی کو یاد کرتی تو وہ مجھے جھوٹی تسلی دیتا کہ وہ جلد آ جائیں گی۔ انہی دنوں پھوپھا کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب شہباز ہی میرا واحد سہارا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ میں اس کے ساتھ رہنے کی عادی ہو گئی اور ہم ہوٹل میں ہی رہنے لگے۔ میں ہوٹل کے چھوٹے موٹے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتی۔ جب لوگ پوچھتے کہ شہباز تمہارا کون ہے، تو میں کہتی “ماموں” ہے، کیونکہ مجھے تب تک رشتوں کی پہچان نہ تھی۔
جب میں نو سال کی ہوئی تو اچانک والد صاحب واپس آگئے۔ وہ بیرون ملک چلے گئے تھے اور اب انہوں نے شہباز سے صلح کر لی تھی۔ ابا کو پھوپھا اور پھوپھی کے انتقال کا بہت دکھ ہوا۔ شہباز نے انہیں ہمارا نکاح نامہ دکھایا جسے انہوں نے تسلیم کر لیا، حالانکہ یہ نکاح بہت چھوٹی عمر میں ہوا تھا۔ والد یہ کہہ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے کہ جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو رخصتی کر دیں گے۔ ابا کے گھر میرا دل بالکل نہ لگا۔ انہوں نے میری خاطر ایک عورت سے نکاح کیا مگر مجھے اس سے کبھی ماں جیسی محبت نہ ملی۔ میں ہوٹل کی آزاد زندگی کی عادی تھی، اس لیے ہر وقت شہباز کے پاس جانے کی ضد کرتی اور رو رو کر کہتی کہ مجھے “شہباز ماموں” کے پاس جانا ہے۔ مجھے اتنی عقل نہ تھی کہ اپنے شوہر کو ماموں نہیں کہنا چاہیے، مگر تب مجھ میں شعور کہاں تھا! سوتیلی ماں سمجھاتی کہ تمہارا اس سے نکاح ہو چکا ہے، اسے ماموں نہ کہا کرو ورنہ نکاح ٹوٹ جائے گا۔ جسے نکاح کا مطلب ہی معلوم نہ ہو، اسے ٹوٹنے کی کیا تمیز ہوتی! خیر، جب بھی شہباز ہمارے گھر آتا، میں بہت خوش ہوتی اور اسے واپس جانے سے روکتی۔
ایک دن میں نے اس کے ساتھ جانے کی ایسی ضد کی کہ جب وہ بس میں بیٹھا تو میں بس کے پیچھے بھاگنے لگی۔ مجبوراً اس نے والد سے بات کی اور مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ میں پھر سے ہوٹل میں رہنے لگی، گلے پر بیٹھ کر پیسے گنتی اور گاہکوں کو چائے بسکٹ دیتی۔ یوں ایک سال مزید گزرا۔ اب میں سمجھدار ہو رہی تھی تو ابا دوبارہ آئے اور سمجھا بجھا کر مجھے گھر لے گئے۔ پانچ سال بعد جب میں پندرہ سولہ سال کی ہوئی تو میری رخصتی کر دی گئی۔ اب شہباز کے لیے میرے جذبات بدل چکے تھے، مجھے سمجھ آگئی تھی کہ ہمارا رشتہ کیا ہے۔ میں اسے اپنا شوہر تسلیم کر چکی تھی اور ہم دونوں میں بے حد محبت تھی۔ ایک سال بعد ہماری بیٹی “شہزادی” پیدا ہوئی جو ہماری جان تھی۔
ہماری زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی کہ ایک دن ہوٹل پر شہباز کا کسی شخص سے جھگڑا ہو گیا۔ اس شخص نے رقم لی تھی اور جب شہباز نے واپسی کا تقاضا کیا تو اس نے شہباز پر چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی۔ شہباز نے پھرتی سے اپنا بچاؤ کیا اور اپنی جان بچانے کی خاطر جوابی وار کیا جس سے وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ یوں ہماری ہنستی بستی دنیا اجڑ گئی۔ گرفتاری کے ڈر سے شہباز نے ہوٹل اپنے کزن ارباز کے حوالے کیا اور ہم پہاڑوں میں جا چھپے۔ اب ہمیں در بدر کی زندگی گزارنی پڑی۔ میں نے بیٹی اپنی سوتیلی ماں کے حوالے کی اور خود مردانہ لباس پہن کر شہباز کے ساتھ بھاگتی رہی۔ آخر کار ہم نے ایک گاؤں کے سردار کے پاس پناہ لی اور انتہائی غربت میں ان کی زمینوں پر کام کرنے لگے۔
ایک دن گھر کی بجلی خراب ہوئی تو شہباز نے خود اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ نادانی میں اس کا ہاتھ ننگی تار پر جا پڑا اور اسے زوردار کرنٹ لگا۔ وہ بے ہوش ہو کر گرا تو لوگ اسے ہسپتال لے گئے جہاں پتا چلا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو میں اسے گھر لے آئی۔ انہی دنوں والد صاحب اور سوتیلی ماں بیٹی کو لے کر ہمارے پاس آئے اور کچھ دن رہ کر چلے گئے۔ اب میں اکیلی شوہر کی تیمار داری اور بچی کی دیکھ بھال کرتی۔ شہباز تکلیف سے روتا اور میں اسے دیکھ کر آنسو بہاتی۔ ایک ماہ کی اذیت کے بعد وہ مجھے تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
ان دنوں میں حاملہ تھی اور شہباز کے چالیسویں والے دن میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ارباز خان، جسے ہم نے ہوٹل دیا تھا، وہ ہمیں خرچہ بھیجتا رہا۔ عدت کے بعد اس نے آ کر مجھے نکاح کی پیشکش کی تاکہ وہ میرے بچوں کی بہتر کفالت کر سکے۔ اس میں میرا فائدہ تو تھا مگر میرا دل شہباز کے سوا کسی کو قبول کرنے پر تیار نہ تھا۔ میں نے ہوٹل اسی کے پاس رہنے دیا اور شہباز کی یادیں دل میں بسائے والد کے گھر آگئی۔ وہاں سلائی کڑھائی کر کے بچوں کو پالتی رہی کہ ایک دن بیٹا بڑا ہو کر اپنی جائیداد سنبھال لے گا۔
وقت گزرتا گیا اور پندرہ سال بیت گئے۔ میرا بیٹا ریاض خان جوان ہو گیا اور بیٹی بھی شادی کے قابل ہو گئی۔ ابا اب بوڑھے ہو چکے تھے مگر ان کا سایہ میرے لیے بہت بڑا سہارا تھا۔ ارباز خان اب بھی کبھی کبھار مالی مدد کر دیتا تھا۔ اس کا چھوٹا ہوٹل اب ایک بڑے ہوٹل میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ایک دن اس نے دوبارہ پیشکش کی کہ ہوٹل میں تمہارے شوہر کا حصہ زیادہ تھا، میں تمہارے بچوں کا حق دینا چاہتا ہوں۔ اس نے تجویز دی کہ ہم “وٹہ سٹہ” کی شادی کر لیں، یعنی میرے بیٹے کی منگنی اس کی بیٹی سے اور میرے بیٹے کی شادی اس کی بیٹی سے ہو جائے (باہمی رشتے داری) تاکہ کاروبار بھی محفوظ رہے اور خاندان بھی ایک ہو جائے۔
والد صاحب کے مشورے پر میں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ یوں میں ایک بار پھر شہباز خان کے گھر لوٹ آئی اور سکون سے رہنے لگی۔ کچھ عرصہ بعد والد صاحب انتقال کر گئے تو سوتیلی ماں بھی میرے پاس آگئی کیونکہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ آج ہوٹل کا مالک میرا بیٹا اور داماد ہیں۔ میں اب سکون سے زندگی کے آخری دن گزار رہی ہوں، مگر جب جوانی کے دکھ اور شہباز خان کی یاد آتی ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بہرحال، یہ میری قسمت کے لکھے دکھ تھے جنہیں کوئی نہیں مٹا سکتا۔ ہر انسان کو اپنے نصیب کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
شومئی قسمت کہ والد صاحب کا پھوپھا جان سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور وہ مجھے وہاں سے لے کر چلے گئے۔ میں نے اس جدائی پر رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا اور سخت بیمار ہو گئی۔ جب پھوپھی کو میری بیماری کی خبر ملی تو ان سے رہا نہ گیا اور وہ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے آئیں۔ یوں میں پھر سے ان کے پاس رہنے لگی، تاہم ابا جان اب ہمارے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ مجھے اس بات کا کوئی ملال نہ تھا کیونکہ مجھے اپنی پھوپھی سے بہت انسیت تھی اور شہباز خان بھی مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ ان دنوں ایک چھوٹا سا ہوٹل چلاتا تھا اور مجھے اکثر وہاں لے جا کر چائے بسکٹ کھلاتا تھا۔ میں نادان بچی تھی جبکہ وہ سترہ اٹھارہ برس کا کڑیل جوان تھا۔
پھر اچانک پھوپھی بیمار ہو گئیں۔ ان دنوں میرے والد لاپتہ تھے، چنانچہ پھوپھی اور پھوپھا نے میرا نکاح شہباز سے پڑھوا دیا۔ انہیں خوف تھا کہ اگر ان کی آنکھ بند ہو گئی تو میرا کیا بنے گا؟ اب تو ابا بھی ملنے نہیں آتے تھے، وہ اکیلے آدمی تھے، بھلا مجھے کیسے سنبھالتے؟ تاہم ان کے سوا میرا دنیا میں کوئی تھا بھی نہیں۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ پھوپھی انتقال کر گئیں۔ اب میں گھر میں اکیلی تھی اور انہیں یاد کر کے روتی رہتی۔ پھوپھا پریشان تھے کہ کیا کریں؟ وہ اپنی بہن کو بڑی منت سماجت کے بعد چند دنوں کے لیے گھر لے آئے، وہ صاحبِ خانہ تھیں اور آنا نہیں چاہتی تھیں مگر مجبوری میں چار ماہ میرے پاس رہیں۔ جب ان کا شوہر انہیں لینے آیا تو وہ چلی گئیں۔ ان دنوں پھوپھا بھی بیمار تھے اور علاج کے لیے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے۔
میں گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے بہت روتی تھی، اس لیے شہباز مجھے اپنے ساتھ ہوٹل لے جاتا۔ وہاں مجھے ناشتہ کراتا اور ٹافیاں دے کر بہلاتا تھا۔ جب میں پھوپھی کو یاد کرتی تو وہ مجھے جھوٹی تسلی دیتا کہ وہ جلد آ جائیں گی۔ انہی دنوں پھوپھا کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب شہباز ہی میرا واحد سہارا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ میں اس کے ساتھ رہنے کی عادی ہو گئی اور ہم ہوٹل میں ہی رہنے لگے۔ میں ہوٹل کے چھوٹے موٹے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتی۔ جب لوگ پوچھتے کہ شہباز تمہارا کون ہے، تو میں کہتی “ماموں” ہے، کیونکہ مجھے تب تک رشتوں کی پہچان نہ تھی۔
جب میں نو سال کی ہوئی تو اچانک والد صاحب واپس آگئے۔ وہ بیرون ملک چلے گئے تھے اور اب انہوں نے شہباز سے صلح کر لی تھی۔ ابا کو پھوپھا اور پھوپھی کے انتقال کا بہت دکھ ہوا۔ شہباز نے انہیں ہمارا نکاح نامہ دکھایا جسے انہوں نے تسلیم کر لیا، حالانکہ یہ نکاح بہت چھوٹی عمر میں ہوا تھا۔ والد یہ کہہ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے کہ جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو رخصتی کر دیں گے۔ ابا کے گھر میرا دل بالکل نہ لگا۔ انہوں نے میری خاطر ایک عورت سے نکاح کیا مگر مجھے اس سے کبھی ماں جیسی محبت نہ ملی۔ میں ہوٹل کی آزاد زندگی کی عادی تھی، اس لیے ہر وقت شہباز کے پاس جانے کی ضد کرتی اور رو رو کر کہتی کہ مجھے “شہباز ماموں” کے پاس جانا ہے۔ مجھے اتنی عقل نہ تھی کہ اپنے شوہر کو ماموں نہیں کہنا چاہیے، مگر تب مجھ میں شعور کہاں تھا! سوتیلی ماں سمجھاتی کہ تمہارا اس سے نکاح ہو چکا ہے، اسے ماموں نہ کہا کرو ورنہ نکاح ٹوٹ جائے گا۔ جسے نکاح کا مطلب ہی معلوم نہ ہو، اسے ٹوٹنے کی کیا تمیز ہوتی! خیر، جب بھی شہباز ہمارے گھر آتا، میں بہت خوش ہوتی اور اسے واپس جانے سے روکتی۔
ایک دن میں نے اس کے ساتھ جانے کی ایسی ضد کی کہ جب وہ بس میں بیٹھا تو میں بس کے پیچھے بھاگنے لگی۔ مجبوراً اس نے والد سے بات کی اور مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ میں پھر سے ہوٹل میں رہنے لگی، گلے پر بیٹھ کر پیسے گنتی اور گاہکوں کو چائے بسکٹ دیتی۔ یوں ایک سال مزید گزرا۔ اب میں سمجھدار ہو رہی تھی تو ابا دوبارہ آئے اور سمجھا بجھا کر مجھے گھر لے گئے۔ پانچ سال بعد جب میں پندرہ سولہ سال کی ہوئی تو میری رخصتی کر دی گئی۔ اب شہباز کے لیے میرے جذبات بدل چکے تھے، مجھے سمجھ آگئی تھی کہ ہمارا رشتہ کیا ہے۔ میں اسے اپنا شوہر تسلیم کر چکی تھی اور ہم دونوں میں بے حد محبت تھی۔ ایک سال بعد ہماری بیٹی “شہزادی” پیدا ہوئی جو ہماری جان تھی۔
ہماری زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی کہ ایک دن ہوٹل پر شہباز کا کسی شخص سے جھگڑا ہو گیا۔ اس شخص نے رقم لی تھی اور جب شہباز نے واپسی کا تقاضا کیا تو اس نے شہباز پر چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی۔ شہباز نے پھرتی سے اپنا بچاؤ کیا اور اپنی جان بچانے کی خاطر جوابی وار کیا جس سے وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ یوں ہماری ہنستی بستی دنیا اجڑ گئی۔ گرفتاری کے ڈر سے شہباز نے ہوٹل اپنے کزن ارباز کے حوالے کیا اور ہم پہاڑوں میں جا چھپے۔ اب ہمیں در بدر کی زندگی گزارنی پڑی۔ میں نے بیٹی اپنی سوتیلی ماں کے حوالے کی اور خود مردانہ لباس پہن کر شہباز کے ساتھ بھاگتی رہی۔ آخر کار ہم نے ایک گاؤں کے سردار کے پاس پناہ لی اور انتہائی غربت میں ان کی زمینوں پر کام کرنے لگے۔
ایک دن گھر کی بجلی خراب ہوئی تو شہباز نے خود اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ نادانی میں اس کا ہاتھ ننگی تار پر جا پڑا اور اسے زوردار کرنٹ لگا۔ وہ بے ہوش ہو کر گرا تو لوگ اسے ہسپتال لے گئے جہاں پتا چلا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو میں اسے گھر لے آئی۔ انہی دنوں والد صاحب اور سوتیلی ماں بیٹی کو لے کر ہمارے پاس آئے اور کچھ دن رہ کر چلے گئے۔ اب میں اکیلی شوہر کی تیمار داری اور بچی کی دیکھ بھال کرتی۔ شہباز تکلیف سے روتا اور میں اسے دیکھ کر آنسو بہاتی۔ ایک ماہ کی اذیت کے بعد وہ مجھے تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
ان دنوں میں حاملہ تھی اور شہباز کے چالیسویں والے دن میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ارباز خان، جسے ہم نے ہوٹل دیا تھا، وہ ہمیں خرچہ بھیجتا رہا۔ عدت کے بعد اس نے آ کر مجھے نکاح کی پیشکش کی تاکہ وہ میرے بچوں کی بہتر کفالت کر سکے۔ اس میں میرا فائدہ تو تھا مگر میرا دل شہباز کے سوا کسی کو قبول کرنے پر تیار نہ تھا۔ میں نے ہوٹل اسی کے پاس رہنے دیا اور شہباز کی یادیں دل میں بسائے والد کے گھر آگئی۔ وہاں سلائی کڑھائی کر کے بچوں کو پالتی رہی کہ ایک دن بیٹا بڑا ہو کر اپنی جائیداد سنبھال لے گا۔
وقت گزرتا گیا اور پندرہ سال بیت گئے۔ میرا بیٹا ریاض خان جوان ہو گیا اور بیٹی بھی شادی کے قابل ہو گئی۔ ابا اب بوڑھے ہو چکے تھے مگر ان کا سایہ میرے لیے بہت بڑا سہارا تھا۔ ارباز خان اب بھی کبھی کبھار مالی مدد کر دیتا تھا۔ اس کا چھوٹا ہوٹل اب ایک بڑے ہوٹل میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ایک دن اس نے دوبارہ پیشکش کی کہ ہوٹل میں تمہارے شوہر کا حصہ زیادہ تھا، میں تمہارے بچوں کا حق دینا چاہتا ہوں۔ اس نے تجویز دی کہ ہم “وٹہ سٹہ” کی شادی کر لیں، یعنی میرے بیٹے کی منگنی اس کی بیٹی سے اور میرے بیٹے کی شادی اس کی بیٹی سے ہو جائے (باہمی رشتے داری) تاکہ کاروبار بھی محفوظ رہے اور خاندان بھی ایک ہو جائے۔
والد صاحب کے مشورے پر میں نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ یوں میں ایک بار پھر شہباز خان کے گھر لوٹ آئی اور سکون سے رہنے لگی۔ کچھ عرصہ بعد والد صاحب انتقال کر گئے تو سوتیلی ماں بھی میرے پاس آگئی کیونکہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ آج ہوٹل کا مالک میرا بیٹا اور داماد ہیں۔ میں اب سکون سے زندگی کے آخری دن گزار رہی ہوں، مگر جب جوانی کے دکھ اور شہباز خان کی یاد آتی ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بہرحال، یہ میری قسمت کے لکھے دکھ تھے جنہیں کوئی نہیں مٹا سکتا۔ ہر انسان کو اپنے نصیب کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
(ختم شد)

