میں خوبصورت تھی، بہت اچھے رشتے آتے تھے مگر میں انکار کر دیتی تھی۔ ایک بیوہ ماں اور چھوٹی بہن میرے پاؤں کی زنجیریں تھیں۔ چھوٹی ابھی پڑھ رہی تھی۔ ان دونوں کی کفالت کے لیے ہی میں نے اپنی شادی کا خیال ترک کر کے ملازمت کا فیصلہ کیا تھا۔
کئی جگہ اپلائی کیا، کہیں کامیابی نہ ملی۔ انٹرویو دے کر آتی، امید بندھ جاتی لیکن پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا، ہر جگہ سفارش چاہیے تھی۔ ایک سہیلی شازیہ کی بڑی بہن ایئر ہوسٹس تھی۔ اس نے کہا، “تم اس قدر خوبصورت ہو، اگر بطور فضائی میزبان درخواست دو تو مجھے یقین ہے کہ تم منتخب ہو جاؤ گی”۔
میں نے گریجویشن اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ ایف اے میں تھی کہ والد صاحب ایک حادثے میں داغِ مفارقت دے گئے۔ بڑی مشکل سے تعلیم مکمل کی، تب سے ملازمت کے لیے سرگرداں تھی۔ شازیہ کی باجی کی بات مان لی، ان دنوں ہوائی میزبان کے لیے کچھ آسامیاں نکلی تھیں، درخواست دے دی۔ اللہ کو یہی منظور تھا، مجھے اس شعبے میں ملازمت مل گئی اور جینے کا آسرا ہو گیا۔
میں دوسری لڑکیوں سے مختلف تھی۔ سوشل نہ تھی، بس اپنے کام سے کام رکھتی، زیادہ سہیلیاں نہ بناتی۔ ڈیوٹی سے تھکی ہاری سیدھی گھر اور پھر گھر سے ڈیوٹی، بس یہی میری زندگی تھی۔ اس کے سوا کسی سیر و تفریح کا میری حیات میں دخل نہ تھا۔
تین برس تک یہی معمول رہا۔ تنخواہ اچھی تھی، حالات بہتر ہوتے گئے۔ بہن نے میٹرک کر لیا، وہ ایک اچھے کالج میں چلی گئی، امی کا بھی علاج ہونے لگا۔ ایک دن حسبِ معمول ڈیوٹی دے کر میں گیٹ سے نکل رہی تھی کہ ایک مسافر سے ٹکرا گئی۔ یہ ایک نوجوان تھا جو بہت عجلت میں تھا۔ نوجوان کے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھ کر میں نے نگاہیں نیچی کر لیں۔
“آئی ایم سوری، میں جلدی میں آپ کو نہ دیکھ سکا،” اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ ایک پل اسے دیکھا، اس کی نشیلی آنکھوں میں بلا کی کشش تھی، اتنا حسین چہرہ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ دورانِ ملازمت بہت سے خوبرو نوجوان ملے تھے۔ کئی صاحبِ حیثیت، تعلیم یافتہ اور مہذب مردوں نے رابطہ رکھنا چاہا لیکن میں نے کبھی کسی کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ آج میرے لبوں سے بمشکل یہ الفاظ نکل سکے، “کوئی بات نہیں” اور میں تیزی سے آگے بڑھ گئی۔
دراصل میں نروس ہو گئی تھی کہ ہمارے اس تصادم کو کافی لوگ دیکھ رہے تھے۔ کئی دن تو کھوئی کھوئی رہی، اپنی کیفیت پر خود حیران تھی۔ لاشعور میں شاید یہ خواہش کہیں چھپ گئی تھی کہ ایک بار اس نوجوان کو پھر سے دیکھ سکوں۔
اس روز میری چھٹی تھی۔ لمبی فلائٹ کے بعد دو دن کی رخصت ملی تھی۔ ایک روز آرام کیا، خوب سوئی اور اگلے دن بازار چلی گئی۔ کچھ کپڑے درزی سے سلوانے تھے۔ واپسی پر جونہی ٹیلر کی دکان سے سڑک پر آئی، برا حال ہو گیا۔ دراصل آج دھوپ بہت تیز تھی، ٹیکسی کے انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ پسینے کی وجہ سے چہرہ شرابور ہو گیا تھا۔ آج سوچا کہ کچھ رقم پس انداز ہو تو گاڑی لے لوں، اپنی سواری بڑی نعمت ہوتی ہے۔
منہ اٹھائے ہر گزرتی ٹیکسی کو دیکھتی تھی کہ اچانک ایک گاڑی سامنے آکر رکی۔ وہی پرکشش آنکھوں والا نوجوان اس میں بیٹھا تھا۔ مجھے پہچان کر بولا، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں”۔ اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں کسی غیر مرد کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی۔
“آپ نے کہاں جانا ہے؟” اس نے دھیمی آواز میں سوال کیا۔ میں سوچوں سے باہر نکل آئی، اسے راستہ بتا دیا اور خاموش ہو گئی۔
وہ بھی کچھ دیر چپ رہا، پھر بولا، “آپ بات بہت کم کرتی ہیں۔ دراصل میں اس روز بہت جلدی میں تھا، میری فلائٹ کا وقت قریب تھا اور میں لیٹ ہو چکا تھا۔ تبھی رک کر آپ سے اچھی طرح معافی نہیں مانگ سکا تھا۔”
“اس دن کے ذکر کو رہنے دیجیے، آپ نے سوری کہہ دیا تھا۔ میں جانتی ہوں وہ سب اچانک اور جلدی میں ہوا تھا،” یہ کہتے ہوئے میں نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اس کی پرکشش نگاہیں مجھے آئینے میں دیکھ رہی تھیں۔ ان نگاہوں کی تاب نہ لا کر میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ کار کے ماحول میں ایک عجب سی بے قراری تھی؛ باتیں کرنے میں بھی اور خاموش رہنے میں بھی۔
سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ چاہتی تھی کہ چشم زدن میں منزل آ جائے اور میں اتر جاؤں۔ میری منزل آ گئی، میں نے جلدی سے ہاتھ بڑھایا۔ دروازہ کھول کر اترنے لگی تو اس نے کہا، “کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟” جانے کیوں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے میری زبان لڑکھڑانے لگی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے نام بتا دیا، “شبانہ”۔ اور پھر تیزی سے اتر گئی۔
اس واقعے کے کئی دن بعد تک وہ دو پرکشش نشیلی آنکھیں میرا تعاقب کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ اس روز رات بھر میں اپنی نگاہوں سے اس کی صورت کا عکس نہ ہٹا سکی تھی۔ جانے کون سے پہر بڑی مشکل سے نیند آئی تھی، لیکن… وہ جو جاگتی آنکھوں میں میرے خیالوں سے نہ نکل سکا تھا، وہ بند آنکھوں میں بھی آ کر ستاتا رہا۔
“یا اللہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں تو ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ ایسی باتوں سے خود کو اب تک دور رکھا تھا اور اب ایسی بے اختیار ہوئی ہوں کہ جی ہر وقت پریشان و بے چین رہنے لگا ہے، جیسے ہر لمحہ کسی کی تلاش ہو۔”
اب جب گھر سے نکلتی تو لگتا وہی نشیلی آنکھیں میرا تعاقب کر رہی ہیں۔ میں ٹیلر کے پاس جا رہی تھی تاکہ جو کپڑے سلنے کو دیے تھے انہیں اٹھا سکوں۔ میں نے کپڑے تبدیل کیے اور چل پڑی۔ ہمیشہ اسی طرح میری تیاری ہوتی تھی مگر آج آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو لگا کہ کچھ کمی ہے… آج کنگھا کرنے کے علاوہ بھی کچھ درکار تھا خود کو سنوارنے کے لیے… حالانکہ بازار جاتے ہوئے کبھی ہلکے میک اپ کی بھی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔ اپنے اندر بجنے والے جل ترنگ مجھے زندگی کی ایک نئی سمت کی طرف لے جا رہے تھے۔
ٹیلر ماسٹر کی شاپ سے سلے ہوئے کپڑوں کا شاپر اٹھا کر باہر نکلی تو قدم اسی جگہ رک گئے جہاں چند روز قبل میں اس اجنبی نوجوان مسافر کی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ مجھے لگا جیسے آج بھی وہ قد آور نوجوان یہاں آ جائے گا اور کہے گا، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں”۔
ابھی اسی خیال میں کھوئی تھی کہ اس کی مانوس اور دھیمی آواز کانوں سے ٹکرائی، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں”۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ کیا میں کوئی سپنا دیکھ رہی تھی؟ یہ میرا جذبۂ دل تھا یا محض اتفاق کہ آج پھر وہ میرے سامنے تھا۔ میں جھٹ اس کی گاڑی کے کھلے دروازے سے سیٹ پر بیٹھ گئی۔
“آج نہیں پوچھوں گا کہ کہاں جانا ہے،” وہ کہہ رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ میں کس راہ پر چل پڑی ہوں۔ کس منزل کا انتخاب کر لیا ہے میں نے کہ رستے کا بھی علم نہیں۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا نام کیا ہے۔
انسان بھی کس قدر بے بس ہے، دل کے آگے مجبور ہو جاتا ہے۔ میں بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھی کہ دوبارہ اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ دل کے کسی گوشے نے سرگوشی کی، “اس کا نام تو پوچھ لوں”۔ اس نے میرے دل کی سرگوشی کو جیسے سن لیا تھا۔
“میرا نام شہزادہ ہے”۔ ٹھیک ہی رکھا گیا تھا اس کا نام… واقعی وہ شہزادہ لگتا تھا۔ وہ باتیں کرتا جا رہا تھا جنہیں میں سن نہیں پا رہی تھی کیونکہ میں اپنی سوچوں کے گرداب میں پھنسی تھی اور ان سے نکل نہ پا رہی تھی۔ اچانک ایک عمدہ ہوٹل کے سامنے اس کی گاڑی رکی۔ “ایک کپ چائے پی لیں، اگر آپ کو برا نہ لگے”۔ انکار کرنے کی ہمت اس کی قربت میں کھو چکی تھی۔ بات کرنا چاہتی تھی تو الفاظ اور زبان کا تال میل نہ ہو پاتا۔ میں اس کی قربت کے جادو میں راکھ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔
زندگی میں پہلی مرتبہ کسی غیر شخص کے ساتھ ہوٹل میں قدم رکھے تو سخت نروس ہوئی۔ “گھبرایئے نہیں، ہم زیادہ وقت نہیں بیٹھیں گے،” اس نے تسلی دی۔ اس نے چائے کا آرڈر دیا اور کچھ باتیں کرنے لگا، مگر میری زبان جیسے بولنا بھلا چکی تھی۔ جب اس نے بل ادا کیا تو میں نے کہا، “شکریہ”۔ وہ مسکرا کر بولا، “بڑی مشکل سے آپ کی زبان کو ایک لفظ ملا تو سہی۔” چائے پینے کے بعد ہم باہر آئے تو اس نے مجھے گھر کے پاس لا کر ڈراپ کر دیا۔ وہ چلا گیا، لیکن اس دوسری ملاقات نے میرے بے چین خیالوں کو مزید ہوا دے دی؛ گویا جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ میرے من مندر میں ہر طرف اس کی تصویریں سج گئی تھیں اور روح کے نہاں خانے اس کے قرب کی خوشبو سے مہک رہے تھے۔
میرے دن رات اب اس کی یاد میں گزرنے لگے۔ شہزادہ اپنی بھرپور شخصیت کی بنا پر میرے سپنوں کا شہزادہ بن چکا تھا۔ وہ ہر ملاقات پر میرے دل کے گلدان میں اپنی یاد کے ایک خوبصورت پھول کا اضافہ کر دیتا تھا، جس کی خوشبو سے میرے جسم و جاں معطر رہتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کس سمت سفر کر رہی ہوں اور میری منزل کہاں ہے۔ شہزادے نے بھی کبھی زبان سے نہ کہا کہ “میں تم سے محبت کرتا ہوں” یا “کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”۔ محبت اور شادی کے الفاظ ادا کرنا لگتا تھا اس کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے، جبکہ میں ان الفاظ کو اس کی زبان سے سننے کے لیے ترس رہی تھی۔
وہ جب فون کرتا اور پوچھتا، “آج آف ہے آپ کا؟” تو میں اثبات میں جواب دیتی اور پھر جہاں وہ بلاتا، میں چلی جاتی۔ جہاں وہ لے جاتا، میں ایک معمول کی مانند اس کے تابع ہو جاتی۔ تاہم، اس نے کبھی کوئی نازیبا بات کی اور نہ کبھی میری عزت و آبرو کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ لگتا تھا اسے میرے ساتھ ہونے سے ایک ایسی روحانی خوشی اور سرور ملتا ہے جو کسی اور سے نہیں مل سکتا۔ ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ سال بھر چلتا رہا۔ اس نے اپنے گھر کا پتا بھی بتا دیا تھا مگر میں کبھی وہاں نہ جا سکی؛ کوئی انجانی طاقت تھی جو مجھے وہاں جانے سے روکتی تھی۔ وہ ایک بہترین انسان تھا، اس نے میری وارفتگی جان کر بھی اپنی محبت کو پاکیزہ رکھا تھا۔ میں منتظر تھی کہ وہ کہے، “مجھے اپنے گھر لے چلو،” تو میں اسے اپنے گھر لے جاؤں، امی سے ملاؤں اور انہیں بتاؤں کہ جس شہزادے کا مجھے انتظار تھا وہ یہی ہے۔
اپنے گھر جانے کا حسین خواب آنکھوں میں بسائے میں اس سے ملتی رہی۔ کسی لڑکی کے لیے اس سے بہتر، خوبصورت اور قیمتی خواب کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جب لڑکی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس کی آنکھوں کی چلمن پر یہی خواب ستارہ بن کر جھلملانے لگتا ہے۔ اب میں شادی کے خوابوں میں کھوئی ڈیوٹی پر جاتی اور شہزادے کا تصور میرے ساتھ ہوتا۔ میں دعا کرتی کہ اللہ کرے آج فلائٹ پر وہ جا رہا ہو، مجھے جہاز میں بھی اس کا چہرہ نظر آ جائے اور وہ تمام سفر میں میرے سامنے رہے۔
بالآخر دعا قبول ہو گئی۔ اس روز جب میں فلائٹ پر تھی اور مسافروں کو خوش آمدید کہہ رہی تھی تو اچانک شہزادہ سامنے آ گیا۔ میری مسکراہٹ میں سچی خوشی بھر گئی اور میں اسے خوش آمدید کہنے ہی والی تھی کہ اس کے پیچھے ایک خاتون نظر آئی۔ شہزادے نے اس کے ہاتھ سے بیگ تھام لیا تھا۔ وہ ایک ڈھائی سالہ بچے کی انگلی تھامے ہوئے تھی۔ تبھی جھک کر میرے شہزادے نے اس بچے کو اٹھا لیا۔
میں محبت کی راہ پر اتنا آگے نکل گئی تھی کہ لوٹ جانے کے سب در مجھ پر بند تھے، مگر افسوس کہ میں اس سفر پر ایک سائے کے ساتھ نکلی تھی۔ گرے ہوئے آنسو اٹھائے نہیں جاتے اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آ سکتا۔ میں یہ حقیقت اچھی طرح جانتی تھی، پھر بھی اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے کو بے تاب تھے۔ وہ اپنی شریکِ حیات کے ساتھ آگے بڑھتا گیا اور پھر اپنی مخصوص نشستوں پر دونوں پاس پاس بیٹھ گئے۔ یہ میری نگاہوں کے لیے ایک دردناک منظر تھا اور یہ ایک ہولناک پرواز تھی جس میں میرا سب کچھ لٹ گیا؛ میرے خواب اور میری دنیا کی ہر خوبصورت شے۔
خالی ہاتھ گھر پہنچی تو آنسوؤں پر قابو نہ رہا۔ ماں نے رونے کا سبب پوچھا، لیکن انہیں کچھ نہ بتا سکی۔ اس درد کو اب عمر بھر مجھے اکیلے ہی سہنا تھا۔ میرے خواب مجھے دھوکا دے گئے تھے۔ سپنوں میں الجھ کر میں نے اپنی سکون بھری زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔ کچھ دنوں بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ شہزادہ تھا جو کال کر رہا تھا؛ شاید ایک اور ملاقات کے لیے۔ دل بہت تڑپا مگر میں نے فون نہ اٹھایا۔ گھنٹیاں بجتی رہیں اور آخر میں نے فون کا کنکشن ہی نکال دیا۔
کاش میں اس سے ایک بار تو پوچھ لیتی کہ “تم شادی شدہ تو نہیں ہو؟” یا پھر وہ خود مجھے بتا دیتا تو میں “اپنے گھر” کے خواب نہ سجاتی۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت کو بتانے سے ڈرتا تھا اور میں اس حقیقت کو جاننے سے خوف زدہ تھی، ورنہ ضرور ہم دونوں میں سے کوئی تو اس راز کو کھول ہی دیتا۔ اب سوچتی ہوں کہ قصور میرا تھا یا اس کا؟ جس کا بھی دوش تھا، سزا تو مجھے ملی۔ اس کے بعد پھر کبھی میں اپنے من کے گلدان میں کسی کی محبت کا پھول نہ سجا سکی۔ یہ گلدان آج بھی خالی ہے اور یہ دل اب تک ویران ہے، حالانکہ اس واقعے کو اب چالیس برس ہونے کو ہیں۔
کئی جگہ اپلائی کیا، کہیں کامیابی نہ ملی۔ انٹرویو دے کر آتی، امید بندھ جاتی لیکن پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا، ہر جگہ سفارش چاہیے تھی۔ ایک سہیلی شازیہ کی بڑی بہن ایئر ہوسٹس تھی۔ اس نے کہا، “تم اس قدر خوبصورت ہو، اگر بطور فضائی میزبان درخواست دو تو مجھے یقین ہے کہ تم منتخب ہو جاؤ گی”۔
میں نے گریجویشن اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ ایف اے میں تھی کہ والد صاحب ایک حادثے میں داغِ مفارقت دے گئے۔ بڑی مشکل سے تعلیم مکمل کی، تب سے ملازمت کے لیے سرگرداں تھی۔ شازیہ کی باجی کی بات مان لی، ان دنوں ہوائی میزبان کے لیے کچھ آسامیاں نکلی تھیں، درخواست دے دی۔ اللہ کو یہی منظور تھا، مجھے اس شعبے میں ملازمت مل گئی اور جینے کا آسرا ہو گیا۔
میں دوسری لڑکیوں سے مختلف تھی۔ سوشل نہ تھی، بس اپنے کام سے کام رکھتی، زیادہ سہیلیاں نہ بناتی۔ ڈیوٹی سے تھکی ہاری سیدھی گھر اور پھر گھر سے ڈیوٹی، بس یہی میری زندگی تھی۔ اس کے سوا کسی سیر و تفریح کا میری حیات میں دخل نہ تھا۔
تین برس تک یہی معمول رہا۔ تنخواہ اچھی تھی، حالات بہتر ہوتے گئے۔ بہن نے میٹرک کر لیا، وہ ایک اچھے کالج میں چلی گئی، امی کا بھی علاج ہونے لگا۔ ایک دن حسبِ معمول ڈیوٹی دے کر میں گیٹ سے نکل رہی تھی کہ ایک مسافر سے ٹکرا گئی۔ یہ ایک نوجوان تھا جو بہت عجلت میں تھا۔ نوجوان کے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھ کر میں نے نگاہیں نیچی کر لیں۔
“آئی ایم سوری، میں جلدی میں آپ کو نہ دیکھ سکا،” اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ ایک پل اسے دیکھا، اس کی نشیلی آنکھوں میں بلا کی کشش تھی، اتنا حسین چہرہ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ دورانِ ملازمت بہت سے خوبرو نوجوان ملے تھے۔ کئی صاحبِ حیثیت، تعلیم یافتہ اور مہذب مردوں نے رابطہ رکھنا چاہا لیکن میں نے کبھی کسی کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ آج میرے لبوں سے بمشکل یہ الفاظ نکل سکے، “کوئی بات نہیں” اور میں تیزی سے آگے بڑھ گئی۔
دراصل میں نروس ہو گئی تھی کہ ہمارے اس تصادم کو کافی لوگ دیکھ رہے تھے۔ کئی دن تو کھوئی کھوئی رہی، اپنی کیفیت پر خود حیران تھی۔ لاشعور میں شاید یہ خواہش کہیں چھپ گئی تھی کہ ایک بار اس نوجوان کو پھر سے دیکھ سکوں۔
اس روز میری چھٹی تھی۔ لمبی فلائٹ کے بعد دو دن کی رخصت ملی تھی۔ ایک روز آرام کیا، خوب سوئی اور اگلے دن بازار چلی گئی۔ کچھ کپڑے درزی سے سلوانے تھے۔ واپسی پر جونہی ٹیلر کی دکان سے سڑک پر آئی، برا حال ہو گیا۔ دراصل آج دھوپ بہت تیز تھی، ٹیکسی کے انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ پسینے کی وجہ سے چہرہ شرابور ہو گیا تھا۔ آج سوچا کہ کچھ رقم پس انداز ہو تو گاڑی لے لوں، اپنی سواری بڑی نعمت ہوتی ہے۔
منہ اٹھائے ہر گزرتی ٹیکسی کو دیکھتی تھی کہ اچانک ایک گاڑی سامنے آکر رکی۔ وہی پرکشش آنکھوں والا نوجوان اس میں بیٹھا تھا۔ مجھے پہچان کر بولا، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں”۔ اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں کسی غیر مرد کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی۔
“آپ نے کہاں جانا ہے؟” اس نے دھیمی آواز میں سوال کیا۔ میں سوچوں سے باہر نکل آئی، اسے راستہ بتا دیا اور خاموش ہو گئی۔
وہ بھی کچھ دیر چپ رہا، پھر بولا، “آپ بات بہت کم کرتی ہیں۔ دراصل میں اس روز بہت جلدی میں تھا، میری فلائٹ کا وقت قریب تھا اور میں لیٹ ہو چکا تھا۔ تبھی رک کر آپ سے اچھی طرح معافی نہیں مانگ سکا تھا۔”
“اس دن کے ذکر کو رہنے دیجیے، آپ نے سوری کہہ دیا تھا۔ میں جانتی ہوں وہ سب اچانک اور جلدی میں ہوا تھا،” یہ کہتے ہوئے میں نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اس کی پرکشش نگاہیں مجھے آئینے میں دیکھ رہی تھیں۔ ان نگاہوں کی تاب نہ لا کر میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ کار کے ماحول میں ایک عجب سی بے قراری تھی؛ باتیں کرنے میں بھی اور خاموش رہنے میں بھی۔
سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ چاہتی تھی کہ چشم زدن میں منزل آ جائے اور میں اتر جاؤں۔ میری منزل آ گئی، میں نے جلدی سے ہاتھ بڑھایا۔ دروازہ کھول کر اترنے لگی تو اس نے کہا، “کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟” جانے کیوں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے میری زبان لڑکھڑانے لگی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے نام بتا دیا، “شبانہ”۔ اور پھر تیزی سے اتر گئی۔
اس واقعے کے کئی دن بعد تک وہ دو پرکشش نشیلی آنکھیں میرا تعاقب کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ اس روز رات بھر میں اپنی نگاہوں سے اس کی صورت کا عکس نہ ہٹا سکی تھی۔ جانے کون سے پہر بڑی مشکل سے نیند آئی تھی، لیکن… وہ جو جاگتی آنکھوں میں میرے خیالوں سے نہ نکل سکا تھا، وہ بند آنکھوں میں بھی آ کر ستاتا رہا۔
“یا اللہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں تو ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ ایسی باتوں سے خود کو اب تک دور رکھا تھا اور اب ایسی بے اختیار ہوئی ہوں کہ جی ہر وقت پریشان و بے چین رہنے لگا ہے، جیسے ہر لمحہ کسی کی تلاش ہو۔”
اب جب گھر سے نکلتی تو لگتا وہی نشیلی آنکھیں میرا تعاقب کر رہی ہیں۔ میں ٹیلر کے پاس جا رہی تھی تاکہ جو کپڑے سلنے کو دیے تھے انہیں اٹھا سکوں۔ میں نے کپڑے تبدیل کیے اور چل پڑی۔ ہمیشہ اسی طرح میری تیاری ہوتی تھی مگر آج آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو لگا کہ کچھ کمی ہے… آج کنگھا کرنے کے علاوہ بھی کچھ درکار تھا خود کو سنوارنے کے لیے… حالانکہ بازار جاتے ہوئے کبھی ہلکے میک اپ کی بھی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔ اپنے اندر بجنے والے جل ترنگ مجھے زندگی کی ایک نئی سمت کی طرف لے جا رہے تھے۔
ٹیلر ماسٹر کی شاپ سے سلے ہوئے کپڑوں کا شاپر اٹھا کر باہر نکلی تو قدم اسی جگہ رک گئے جہاں چند روز قبل میں اس اجنبی نوجوان مسافر کی گاڑی میں بیٹھی تھی۔ مجھے لگا جیسے آج بھی وہ قد آور نوجوان یہاں آ جائے گا اور کہے گا، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں”۔
ابھی اسی خیال میں کھوئی تھی کہ اس کی مانوس اور دھیمی آواز کانوں سے ٹکرائی، “آئیے، آپ کو ڈراپ کر دوں”۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ کیا میں کوئی سپنا دیکھ رہی تھی؟ یہ میرا جذبۂ دل تھا یا محض اتفاق کہ آج پھر وہ میرے سامنے تھا۔ میں جھٹ اس کی گاڑی کے کھلے دروازے سے سیٹ پر بیٹھ گئی۔
“آج نہیں پوچھوں گا کہ کہاں جانا ہے،” وہ کہہ رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ یہ میں کس راہ پر چل پڑی ہوں۔ کس منزل کا انتخاب کر لیا ہے میں نے کہ رستے کا بھی علم نہیں۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا نام کیا ہے۔
انسان بھی کس قدر بے بس ہے، دل کے آگے مجبور ہو جاتا ہے۔ میں بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھی کہ دوبارہ اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ دل کے کسی گوشے نے سرگوشی کی، “اس کا نام تو پوچھ لوں”۔ اس نے میرے دل کی سرگوشی کو جیسے سن لیا تھا۔
“میرا نام شہزادہ ہے”۔ ٹھیک ہی رکھا گیا تھا اس کا نام… واقعی وہ شہزادہ لگتا تھا۔ وہ باتیں کرتا جا رہا تھا جنہیں میں سن نہیں پا رہی تھی کیونکہ میں اپنی سوچوں کے گرداب میں پھنسی تھی اور ان سے نکل نہ پا رہی تھی۔ اچانک ایک عمدہ ہوٹل کے سامنے اس کی گاڑی رکی۔ “ایک کپ چائے پی لیں، اگر آپ کو برا نہ لگے”۔ انکار کرنے کی ہمت اس کی قربت میں کھو چکی تھی۔ بات کرنا چاہتی تھی تو الفاظ اور زبان کا تال میل نہ ہو پاتا۔ میں اس کی قربت کے جادو میں راکھ کا ڈھیر ہو گئی تھی۔
زندگی میں پہلی مرتبہ کسی غیر شخص کے ساتھ ہوٹل میں قدم رکھے تو سخت نروس ہوئی۔ “گھبرایئے نہیں، ہم زیادہ وقت نہیں بیٹھیں گے،” اس نے تسلی دی۔ اس نے چائے کا آرڈر دیا اور کچھ باتیں کرنے لگا، مگر میری زبان جیسے بولنا بھلا چکی تھی۔ جب اس نے بل ادا کیا تو میں نے کہا، “شکریہ”۔ وہ مسکرا کر بولا، “بڑی مشکل سے آپ کی زبان کو ایک لفظ ملا تو سہی۔” چائے پینے کے بعد ہم باہر آئے تو اس نے مجھے گھر کے پاس لا کر ڈراپ کر دیا۔ وہ چلا گیا، لیکن اس دوسری ملاقات نے میرے بے چین خیالوں کو مزید ہوا دے دی؛ گویا جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ میرے من مندر میں ہر طرف اس کی تصویریں سج گئی تھیں اور روح کے نہاں خانے اس کے قرب کی خوشبو سے مہک رہے تھے۔
میرے دن رات اب اس کی یاد میں گزرنے لگے۔ شہزادہ اپنی بھرپور شخصیت کی بنا پر میرے سپنوں کا شہزادہ بن چکا تھا۔ وہ ہر ملاقات پر میرے دل کے گلدان میں اپنی یاد کے ایک خوبصورت پھول کا اضافہ کر دیتا تھا، جس کی خوشبو سے میرے جسم و جاں معطر رہتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کس سمت سفر کر رہی ہوں اور میری منزل کہاں ہے۔ شہزادے نے بھی کبھی زبان سے نہ کہا کہ “میں تم سے محبت کرتا ہوں” یا “کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”۔ محبت اور شادی کے الفاظ ادا کرنا لگتا تھا اس کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے، جبکہ میں ان الفاظ کو اس کی زبان سے سننے کے لیے ترس رہی تھی۔
وہ جب فون کرتا اور پوچھتا، “آج آف ہے آپ کا؟” تو میں اثبات میں جواب دیتی اور پھر جہاں وہ بلاتا، میں چلی جاتی۔ جہاں وہ لے جاتا، میں ایک معمول کی مانند اس کے تابع ہو جاتی۔ تاہم، اس نے کبھی کوئی نازیبا بات کی اور نہ کبھی میری عزت و آبرو کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ لگتا تھا اسے میرے ساتھ ہونے سے ایک ایسی روحانی خوشی اور سرور ملتا ہے جو کسی اور سے نہیں مل سکتا۔ ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ سال بھر چلتا رہا۔ اس نے اپنے گھر کا پتا بھی بتا دیا تھا مگر میں کبھی وہاں نہ جا سکی؛ کوئی انجانی طاقت تھی جو مجھے وہاں جانے سے روکتی تھی۔ وہ ایک بہترین انسان تھا، اس نے میری وارفتگی جان کر بھی اپنی محبت کو پاکیزہ رکھا تھا۔ میں منتظر تھی کہ وہ کہے، “مجھے اپنے گھر لے چلو،” تو میں اسے اپنے گھر لے جاؤں، امی سے ملاؤں اور انہیں بتاؤں کہ جس شہزادے کا مجھے انتظار تھا وہ یہی ہے۔
اپنے گھر جانے کا حسین خواب آنکھوں میں بسائے میں اس سے ملتی رہی۔ کسی لڑکی کے لیے اس سے بہتر، خوبصورت اور قیمتی خواب کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جب لڑکی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس کی آنکھوں کی چلمن پر یہی خواب ستارہ بن کر جھلملانے لگتا ہے۔ اب میں شادی کے خوابوں میں کھوئی ڈیوٹی پر جاتی اور شہزادے کا تصور میرے ساتھ ہوتا۔ میں دعا کرتی کہ اللہ کرے آج فلائٹ پر وہ جا رہا ہو، مجھے جہاز میں بھی اس کا چہرہ نظر آ جائے اور وہ تمام سفر میں میرے سامنے رہے۔
بالآخر دعا قبول ہو گئی۔ اس روز جب میں فلائٹ پر تھی اور مسافروں کو خوش آمدید کہہ رہی تھی تو اچانک شہزادہ سامنے آ گیا۔ میری مسکراہٹ میں سچی خوشی بھر گئی اور میں اسے خوش آمدید کہنے ہی والی تھی کہ اس کے پیچھے ایک خاتون نظر آئی۔ شہزادے نے اس کے ہاتھ سے بیگ تھام لیا تھا۔ وہ ایک ڈھائی سالہ بچے کی انگلی تھامے ہوئے تھی۔ تبھی جھک کر میرے شہزادے نے اس بچے کو اٹھا لیا۔
خوش آمدید” کے الفاظ کے ساتھ لبوں پر آئی مسکراہٹ وہیں ٹوٹ گئی۔ دل مرجھا گیا اور اس میں سجے گلاب کے پھولوں کی پتیاں بکھر گئیں۔ میں سمجھ گئی کہ محبت اور شادی کے یہ دو الفاظ اس کے لبوں سے کیوں نہ نکلے تھے۔ یہ الفاظ کسی اور سے کہنا واقعی اس کے لیے ایک آزمائش ہی تھی اور وہ اس آزمائش سے گزرنا نہیں چاہتا تھا، کیونکہ میرے خوابوں کا شہزادہ پہلے ہی شادی شدہ تھا اور ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا تھا۔ وہ شہزادہ ضرور تھا لیکن میرے خوابوں میں نہیں جی رہا تھا، وہ حقیقی زندگی بسر کر رہا تھا۔ خوابوں میں تو صرف میں جی رہی تھی اور اپنی ہی سوچوں میں مست اس کی قربت پا کر مستقبل کے خوبصورت محل تعمیر کر رہی تھی۔ میں نے کبھی اس سے یہ پوچھا ہی نہ تھا کہ “کیا تم شادی شدہ ہو؟”
میں محبت کی راہ پر اتنا آگے نکل گئی تھی کہ لوٹ جانے کے سب در مجھ پر بند تھے، مگر افسوس کہ میں اس سفر پر ایک سائے کے ساتھ نکلی تھی۔ گرے ہوئے آنسو اٹھائے نہیں جاتے اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آ سکتا۔ میں یہ حقیقت اچھی طرح جانتی تھی، پھر بھی اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے کو بے تاب تھے۔ وہ اپنی شریکِ حیات کے ساتھ آگے بڑھتا گیا اور پھر اپنی مخصوص نشستوں پر دونوں پاس پاس بیٹھ گئے۔ یہ میری نگاہوں کے لیے ایک دردناک منظر تھا اور یہ ایک ہولناک پرواز تھی جس میں میرا سب کچھ لٹ گیا؛ میرے خواب اور میری دنیا کی ہر خوبصورت شے۔
خالی ہاتھ گھر پہنچی تو آنسوؤں پر قابو نہ رہا۔ ماں نے رونے کا سبب پوچھا، لیکن انہیں کچھ نہ بتا سکی۔ اس درد کو اب عمر بھر مجھے اکیلے ہی سہنا تھا۔ میرے خواب مجھے دھوکا دے گئے تھے۔ سپنوں میں الجھ کر میں نے اپنی سکون بھری زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔ کچھ دنوں بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ شہزادہ تھا جو کال کر رہا تھا؛ شاید ایک اور ملاقات کے لیے۔ دل بہت تڑپا مگر میں نے فون نہ اٹھایا۔ گھنٹیاں بجتی رہیں اور آخر میں نے فون کا کنکشن ہی نکال دیا۔
میں نے اس تعلق کو بہت مضبوط سمجھ لیا تھا، اسے لوہے کی زنجیر جانا، حالانکہ وہ کانچ کا ایک گلدان ہی تھا جس میں اس کی قربت اور میری خوش فہمی نے مل کر پیار کے پھول سجا لیے تھے۔ دل اب چور چور ہو چکا تھا۔ ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹنا اور پھر سے جوڑنا اب میرے بس کی بات نہ رہی تھی۔
کاش میں اس سے ایک بار تو پوچھ لیتی کہ “تم شادی شدہ تو نہیں ہو؟” یا پھر وہ خود مجھے بتا دیتا تو میں “اپنے گھر” کے خواب نہ سجاتی۔ لیکن شاید وہ اس حقیقت کو بتانے سے ڈرتا تھا اور میں اس حقیقت کو جاننے سے خوف زدہ تھی، ورنہ ضرور ہم دونوں میں سے کوئی تو اس راز کو کھول ہی دیتا۔ اب سوچتی ہوں کہ قصور میرا تھا یا اس کا؟ جس کا بھی دوش تھا، سزا تو مجھے ملی۔ اس کے بعد پھر کبھی میں اپنے من کے گلدان میں کسی کی محبت کا پھول نہ سجا سکی۔ یہ گلدان آج بھی خالی ہے اور یہ دل اب تک ویران ہے، حالانکہ اس واقعے کو اب چالیس برس ہونے کو ہیں۔
(ختم شد)
