پرانی ٹرین

Sublimegate Urdu Stories

خالدہ میری خالہ زاد بہن ہے، اسی کی شادی کے سلسلے میں ہم لوگ اس دن اسٹیشن پر پہنچے تھے اور اب ٹرین کا انتظار تھا۔ سیٹیں ریزرو تھیں، اسی لیے کچھ فکر نہ تھی۔ اگر فکر تھی، تو دلہن کے زیورات کی، جو ہم ساتھ لے جا رہے تھے۔ خالہ نے مجھے رقم بھجوا دی تھی کہ تم اپنی پسند سے زیور تیار کروا دو، ہمارے شہر کے صرافہ بازار میں زیورات اچھے بنتے ہیں۔ میں نے زیورات کے ڈبوں کو نہایت احتیاط سے اپنے نئے اٹیچی کیس میں کپڑوں کے نیچے چھپا کر رکھ دیا تھا۔ میں انہیں ساتھ لے جاتے ہوئے ڈر بھی رہی تھی کہ چوری چکاری تو دور کی بات، آج کل ریلوں میں کسی کی جان بھی محفوظ نہیں۔ خدانخواستہ دورانِ سفر کچھ ہوا تو یہی زیورات وبالِ جان بن جائیں گے، پھر یہ تو پرائی امانت تھی۔

میں جتنی دیر اسٹیشن پر رہی، میری نظر اسی اٹیچی کیس پر رہی۔ سب گھر والے خوش خوش اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے، اسٹیشن کی رونق دیکھ رہے تھے مگر میرے سانس کی ڈور اٹیچی کیس سے بندھی ہوئی تھی۔ ٹرین آگئی، ہم بڑی مشکل سے سوار ہوئے کیونکہ گھمسان کا رش تھا۔ جن کی سیٹیں بک نہ تھیں، وہ ڈبوں میں سوار ہونے کے لیے بد حواسی کی حالت میں اِدھر اُدھر دوڑتے نظر آرہے تھے۔ اگرچہ ہماری سیٹیں بک تھیں، پھر بھی ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈبہ مسافروں سے بھرا ہوا تھا، شومئی قسمت کہ لائٹ بھی کم تھی۔ ٹرین رکنے کے تھوڑی دیر بعد وہ لائٹ بھی بجھ گئی، یوں ڈبے میں تاریکی چھا گئی۔ اب لوگوں کو اپنی سیٹیں ڈھونڈنے میں کافی دشواری پیش آرہی تھی۔ وہ رش میں پھنس کر رہ گئے تھے۔
 
 عورتیں مردوں سے ٹکرا رہی تھیں اور سمٹ سمٹا کر اپنا دفاع کر رہی تھیں۔ لوگ ماچس کی تیلیاں جلا جلا کر اپنی سیٹیں ڈھونڈ رہے تھے۔ جن کے پاس کچھ نہ تھا، وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے پر مجبور تھے۔ کوئی دوسرا ماچس جلاتا تو وہ بھی موقع دیکھ کر آنکھیں پھیلانے لگتے کہ شاید ان کو اپنا سیٹ نمبر نظر آجائے۔ کھڑکیوں سے پلیٹ فارم کی جگمگاہٹ چھن چھن کر ڈبے میں آرہی تھی۔ اکثر مسافر اسی روشنی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ہمیں اپنی سیٹیں مل چکی تھیں۔ ہم نے اطمینان کا سانس لیا، پھر اچانک سارا ڈبہ جگمگا اٹھا۔ ابھی ٹرین اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ ہم نے فرحت محسوس کی کہ چلو لائٹ تو آئی، ورنہ اندھیرے میں تو لگتا تھا جیسے انسانوں کا جنگل ہو، مگر ہماری خوشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔
 
 جونہی ٹرین چلی، بوگی پھر اندھیرے میں ڈوب گئی۔ یقیناً پرانی ٹرین کا نظام بھی بوسیدہ ہو چکا تھا۔ کچھ وائرنگ کا مسئلہ ہو گا کہ بار بار لائٹ کا نظام متاثر ہو رہا تھا۔ مجھے چکر سے آنے لگے۔ اپنا ہوش نہیں تھا، فکر تھی تو اس اٹیچی کیس کی، جس میں دلہن کے زیورات تھے۔ میرا دم تو اسی میں فنا ہوا جا رہا تھا۔ دل ہی دل میں دعائیں مانگنے لگی کہ خداوندِ کریم! میری عزت رکھنا، میں پرائی امانت کو بخیریت اس کے مالکوں کے سپرد کر سکوں، تو نفلِ شکرانہ پڑھوں گی۔ اگرچہ میں نے حفاظت کے ساتھ یہ اٹیچی کیس خود اپنے ہاتھوں سے سیٹ کے نیچے رکھوایا تھا اور اسی سیٹ پر میں بیٹھی تھی، پھر بھی وہم ہوتا تھا کہ کہیں اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر کوئی اٹیچی کیس لے کر چلتا نہ بنے، اسی لیے اندھیرے میں بھی بار بار جھک کر میں اٹیچی کیس کو ہاتھ لگا رہی تھی۔

کئی اسٹیشن گزر گئے، ایک جنکشن پر گاڑی ٹھہری تو ایک بار پھر ہماری بوگی روشنی میں نہا گئی۔ تب ہم نے دیکھا جس جگہ ڈبے جڑتے ہیں، وہاں ریلوے کے چند ملازم تاریں جوڑنے میں مصروف ہیں۔ چیکنگ پر تعینات عملے کے خوف سے لائٹ درست کر دی گئی تھی۔ روشنی بحال ہو گئی تو ہم نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ میری نند صوفیہ نے ہم سفر خواتین سے سلام دعا کی۔ میں تو منہ لپیٹ کر اونگھنے لگی۔ صوفیہ بڑی باتونی ہے، وہ خاموش نہیں رہ سکتی۔ ہر کسی سے دوستی کر لینا اس کی جبلت (یا عادت) تھی اور مجھ کو اس کی یہ عادت بالکل پسند نہیں تھی۔ 
 
میں تنہائی پسند ہوں، زیادہ لوگوں سے گھلتی ملتی نہیں، نہ زیادہ بات کرتی ہوں۔ بس اپنے کام سے کام رکھتی ہوں، جب کہ صوفیہ کا یہ حال ہے کہ شاپنگ کرنے جائے یا سفر کر رہی ہو، دورانِ سفر اس کی دو چار سہیلیاں بن ہی جاتی ہیں، پھر تمام راستہ ان سے گپ شپ کرتی جاتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ یوں سفر اچھا کٹ جاتا ہے اور اچھی سہیلیاں بھی مل جاتی ہیں۔ میں کہتی ہوں کہ یہ ہم سفر تو اپنی منزلوں پر پہنچ کر پھر سے اجنبی بن جاتے ہیں، چونکہ یہ جان پہچان پائیدار نہیں ہوتی، لہذا ان سے دوستی کا کوئی فائدہ نہیں۔ مفت کی بک بک سے سوائے سر میں درد کے اور کیا حاصل ہوتا ہے۔ بہتر ہے کسی سے دوستی نہ بڑھاؤ اور خاموشی سے کھڑکی کے باہر بھاگتی زمین کے اوپر دوڑتے مناظر کا نظارہ کرتے رہو۔

گھر سے چلتے ہوئے میں نے صوفیہ کو سمجھا دیا تھا کہ زیادہ وبال نہیں پالنا۔ ہم سفر عورتوں سے سلام و دعا کافی ہے، تمام عمر کے قصے کہانیاں کہنے نہ بیٹھ جانا۔ میرے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ صوفیہ مگر کہاں باز آنے والی تھی۔ جونہی قریبی سیٹ والی خاتون نے مسکرا کر دیکھا، یہ اُس پر فریفتہ ہو گئی اور ذرا دیر میں ایسی گھل مل گئی، جیسے برسوں کی سہیلیاں ہوں۔ تمام راستے میں کوفت میں مبتلا رہی، مگر اس اللہ کی بندی پر کچھ اثر نہ ہوا۔ ایک منٹ کو وہ چپ نہ ہوئی۔ اس عورت کا نام جمیلہ تھا، غرض جمیلہ سے میری نند صاحبہ کا پکا دوستانہ ہو گیا۔ خط و کتابت کے لیے ایک دوسرے کو ایڈریس بھی دے دیے گئے۔

جب سامان زیادہ ہو تو جگہ بنائی جاتی ہے، ہمارے پاس بھی کافی سامان تھا، مگر ہم نے ایسی کسی اسکیم کو نہ اپنایا، لہذا ہمارا سامان بے ترتیبی کا شکار تھا۔ ایسی صورت میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہی ہے، جب کہ اسٹاپ بھی محدود وقت کا ہو اور سامان کو جلدی اتارنا ہو۔ ہم نے جس اسٹیشن پر اترنا تھا، وہاں ٹرین بمشکل دو منٹ ٹھہرتی تھی۔ اب صبحِ کاذب کا اجالا ہر سو پھیل رہا تھا، پو پھٹ رہی تھی اور ہمارا شہر قریب آرہا تھا۔ ہم سب ایک دوسرے کو ہوشیار کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ہم سب نے ادھر ادھر پڑی اپنی جوتیاں پہن لیں۔ بکھری ہوئی چادروں کو، جو بچھونے کے طور پر استعمال ہوئی تھیں، سمیٹا۔ اب وقت کم تھا اور شہر نزدیک تھا۔

ٹرین آہستہ ہوتے ہوتے اسٹیشن پر رک گئی۔ تبھی ہماری ساس نے ایک ہنگامہ اٹھا دیا۔ “چلو، سب لوگ جلدی کرو، نیچے اترو۔” مجھے کہنے لگیں کہ تم بچوں کو احتیاط سے اتارو، میں سامان اتروا لیتی ہوں۔ وہ سامان نکالنے لگیں اور میں بچوں کو سمیٹ کر رش میں آگے ہی آگے بڑھنے لگی۔ ظاہر ہے کہ سامان سے زیادہ بچے قیمتی تھے۔ میں نے سوچا، رش میں کہیں کوئی بچہ ادھر ادھر نہ ہو جائے اور ٹرین رفتار پکڑ لے۔ جس پلیٹ فارم پر گاڑی کھڑی تھی، اس طرف سے سوار ہونے والے لوگ کسی کو اترنے کا موقع نہیں دے رہے تھے۔ ہماری ساس نے دوسرا حکم اپنے بیٹوں کو فرمایا۔ “مجیب اور نجیب! تم دونوں لائن پر اتر جاؤ اور کھڑکی کے راستے ہم سے سامان لیتے جاؤ۔” اب یہ عالم کہ میرے میاں ایک کھڑکی سے بچے پکڑتے جا رہے ہیں اور میں انہیں بوگی سے بچے اٹھا کر پکڑاتی جا رہی ہوں۔ اس طرح ہم نے اپنے پانچوں بچوں کو اتار لیا۔ دوسری کھڑکی سے میرے دونوں دیور سامان تھام رہے تھے۔ میری نندیں صوفیہ اور فوزیہ انہیں سامان دیتی جا رہی تھیں جب کہ ساس صاحبہ سامان اٹھا اٹھا کر آگے کھڑکی کی طرف کرتی جا رہی تھیں۔
جب سامان اتر چکا اور بچے بھی میرے شوہر اور دیوروں نے پکڑ لیے، تو ہم عورتیں بھی ریلوے لائن پر اتر گئیں۔ ہم سب سامان اور بچے پلیٹ فارم پر چڑھانے کے بعد ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر خود بھی اوپر چڑھ گئے۔ سامان کی گنتی شروع ہوئی تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، وہ نیا اٹیچی کیس غائب تھا! جلدی میں جمیلہ بیگم کا سامان ہمارے سامان میں آ گیا تھا اور ہمارا اٹیچی کیس شاید وہ اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔ تبھی ٹرین نے سیٹی دی اور رینگنے لگی۔

میرا دیور جلدی سے لائن میں کود گیا، اس نے ڈبے کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر کسی بوگی کا ہینڈل اس کے ہاتھ نہ آسکا اور ٹرین نکل گئی۔ میں یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی اور پسینے میں نہا چکی تھی۔ میں تو سانس لینا بھول چکی تھی۔ کلیجہ تھام کر دہائی دیتے ہوئے میں نے اپنے شوہر کو بتایا کہ اس اٹیچی کیس میں تو میں نے دلہن کے زیورات رکھے تھے، اب انہیں کیا جواب دوں گی۔ میں رونے لگی۔ ٹرین نکل گئی تھی، میں اسباب پر سر تھامے بیٹھی تھی، مگر صوفیہ کا چہرہ چمک رہا تھا۔ کہنے لگی: “بھابھی فکر نہ کرو، میں تھوڑی دیر کی ملاقات میں انسان کو پہچان لیتی ہوں۔ تمہارا اٹیچی کیس کہیں جانے کا نہیں، وہ اچھے لوگ تھے۔ میں نے جمیلہ سے اس کا پتا لے لیا تھا۔ میں اور مجیب ابھی ان کے پیچھے روانہ ہوتے ہیں، تم اٹیچی کی چابیاں مجھے دو۔” میں نے دل ہی دل میں آیتیں پڑھتے ہوئے چابیاں صوفیہ کے حوالے کیں۔

اب یہ حال کہ میں بچوں کی وجہ سے صوفیہ کے ساتھ نہ جانے پر مجبور، مگر دل نہ چاہتا تھا کہ خالہ کے گھر جاکر اتروں۔ بھلا جاتے ہی ان کو کیا جواب دوں گی، بہرحال ہم سب خالہ کے گھر چلے گئے اور ان سے یہی کہا کہ زیورات والا اٹیچی کیس صوفیہ اور مجیب لا رہے ہیں اور وہ پچھلی گاڑی سے آرہے ہیں۔ صوفیہ، مجیب کے ساتھ جمیلہ کے دیے ہوئے پتے پر پنڈی چلی گئی۔ وہ اسٹیشن سے خالہ کے گھر جانے کی بجائے دوسری ٹرین پر سوار ہو گئی تھی۔ پنڈی پہنچ کر جمیلہ کا پتا ڈھونڈا۔ صوفیہ کو دیکھ کر اس کی ہم سفر خوش ہو گئی کیونکہ وہ جانتی تھی صوفیہ اٹیچی کیس لینے ضرور آئے گی۔ اس طرح صحیح سلامت زیورات والا اٹیچی کیس نکاح سے ایک دن پہلے واپس آگیا اور دلہن والوں کو پتا بھی نہ چلا کہ کتنا بڑا نقصان ہوتے ہوتے رہ گیا ہے۔
اس دن میں اپنے دل میں بڑی شرمندہ ہوئی کہ صوفیہ کے رویے کو غلط سمجھتی تھی۔ آج پتا چلا کہ میرا اپنا رویہ غلط تھا۔ انسان مسافرت میں ہو تب بھی اس کو اس قدر مغرور، لا تعلق اور آدم بیزار بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ کسی سے دوچار باتیں کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صوفیہ اس خاتون اور اپنی ہم سفر جمیلہ بیگم کو اپنی سہیلی نہ بنا لیتی، تو وہ ہمارے سامان کا خیال بھی نہ کرتی اور اگر دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے ایڈریس نہ دیے ہوتے، تب بھی اٹیچی کیس کس طرح مل سکتا تھا۔ جمیلہ امانت دار ہو کر بھی یہ امانت ہم تک پہنچانے سے معذور رہتی کیونکہ جن دنوں کا یہ واقعہ ہے، تب موبائل فون بھی نہیں تھے۔

میری نند آج بھی مجھے کہتی ہے کہ “کہو بھابھی! میری بک بک کرنے کی عادت اچھی ہے یا تمہاری چپ رہنے کی؟” میں نے ہنس کر کہا کہ “تمہاری گھلنے ملنے کی عادت اچھی ہے، جب کہ تم میری جس عادت کو سمجھداری اور وقار سمجھتی تھیں، وہ دراصل محض ایک بے جا خبط اور آدم بیزاری تھی۔ صوفیہ! تم نے ثابت کر دیا کہ مسافروں کے اس ہجوم میں اخلاق کی شمع جلا کر رکھنے سے نہ صرف راستے کٹ جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات ڈوبتی ہوئی ساکھ بھی بچ جاتی ہے۔ اب میں کبھی تمہاری باتوں سے بور نہیں ہوں گی، کیونکہ تمہاری یہی باتیں آج ہماری خوشیوں کی ضامن بنی ہیں۔”


(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ