خون آلود خنجر

Sublimegate Urdu Stories

سردیوں کے دن تھے اور صبح سے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے شیخاں والے محلے سے جھگڑے کی اطلاع ملی تھی، چنانچہ میں نے ایک حوالدار کو تفتیش کے لیے بھیج دیا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد حوالدار واپس آیا اور بولا، "جناب! ادھر تو کچھ اور ہی معاملہ ہے۔" میں نے پوچھا، "کیا معاملہ ہے؟" اس نے کہا، "آپ کو یاد ہوگا، چند روز پہلے شیخ وزیر علی نامی بوڑھا فوت ہوا تھا۔" شیخ وزیر علی کو میں معمولی سا جانتا تھا؛ وہ خاصا بوڑھا آدمی تھا، اس کی عمر اسی سال سے زیادہ تھی۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھا، کچھ زمینیں بھی تھیں اور وہ اکثر اپنے دروازے کے سامنے آرام کرسی پر بیٹھا اونگھتا رہتا تھا۔
sublimegate
حوالدار نے بات جاری رکھی، "مرحوم کا ایک بیٹا ہے، اختر علی، عمر چالیس پینتالیس سال کے قریب۔ کوئی کام دھندا نہیں کرتا، یونہی پھرتا رہتا ہے؛ کبھی ایک دکان پر، کبھی دوسری پر، کبھی کسی کی بیٹھک میں گپ شپ کرتا۔ آج اس کا ایک عورت سے جھگڑا ہو رہا ہے، عمر اس عورت کی بھی چالیس کے لگ بھگ ہے۔" میں نے کہا، "تفصیل بعد میں سنانا، پہلے بتاؤ جھگڑا کس بات پر ہے؟" حوالدار نے کہا، "جناب، تفصیل تقریباً ختم ہو گئی۔ عورت کا نام حسینہ بیگم ہے اور اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی ہے، آٹھ نو سال کی، جس کا نام ملکہ ہے۔ حسینہ بیگم کا دعویٰ ہے کہ وہ مرحوم وزیر علی کی بیوہ ہے اور مرحوم نے اپنا گھر اس کے نام منتقل کر دیا تھا۔ مگر اختر علی کہتا ہے کہ حسینہ بیگم ان کی ملازمہ تھی، ابا جی نے ترس کھا کر اسے گھر میں رہنے کی جگہ دی تھی، اور اب وفات کے بعد ملازمہ کی ضرورت نہیں، اس لیے اسے فارغ کر دیا ہے۔"

میں نے پوچھا، "یہ حسینہ بیگم کہاں کی رہنے والی ہے؟ اس کا کوئی گھر بار ہے؟" حوالدار بولا، "بے سہارا ہے جناب، کہتی ہے کوئی ٹھکانہ نہیں۔ گلی میں ایک منجی، ایک صندوق اور دو چار بستر پڑے ہیں، چولہا چوکی کچھ نہیں۔ اگر رات باہر رہی تو پالے میں ٹھٹھر کر مر جائے گی۔ میں نے اختر علی سے بہت کہا کہ بے چاری کو کسی کھولی میں جگہ دے دے، مگر وہ نہیں مانا۔ کہتا ہے پہلے ہی بہت مہلت دے چکا ہے۔" میں نے پوچھا، "اور حسینہ بیگم تو کہتی ہے کہ وہ بیوہ ہے؟" "ہاں جناب، کہتی تو یہی ہے مگر کوئی ثبوت نہیں۔ محلے والے کھل کر بات نہیں کرتے، اختر علی سے ڈرتے ہیں۔ حسینہ بیگم سے پوچھا تو کہتی ہے اللہ کے سوا کوئی نہیں۔"

حوالدار نے مزید کہا، "اوئے، اس اختر علی کو تو کوئی دبکا مارنا چاہیے!" میں نے سوچا معاملہ پیچیدہ ہے، اگر حسینہ بیگم کا بیان سچ ہے تو وہ مرحوم شوہر کے گھر میں رہنے کی حقدار ہے۔ چنانچہ میں خود حوالدار کے ہمراہ شیخ وزیر علی کے مکان پر پہنچ گیا۔ شام کے ساڑھے پانچ بج چکے تھے، سورج غروب ہو چکا تھا اور گلی سردی کی وجہ سے سنسان پڑی تھی۔ دروازے کے سامنے ایک صندوق، چارپائی اور چند بستر پڑے تھے۔ پہلی نظر میں کوئی نظر نہیں آیا، پھر بستروں میں حرکت ہوئی اور دو سر دکھائی دیے۔ حسینہ بیگم اور اس کی بیٹی ملکہ رضائیوں میں دبکی بیٹھی تھیں۔

میں نے پوچھا، "بی بی، کیا بات ہے؟" وہ روتے ہوئے بولی، "کیا بتاؤں جی، ہماری تو قسمت ہی خراب ہے۔ جدھر جائیں دھکے ہی ملتے ہیں۔ میں شیخ صاحب کی بیوہ ہوں مگر ان کے بیٹے نے مجھے نوکرانی کہہ کر گھر سے نکال دیا۔ یہ میری معصوم بچی ہے، ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں، کہاں جائیں؟" عورت خوش شکل اور سمجھدار لگ رہی تھی، بچی بھی خوبصورت مگر سہمی ہوئی تھی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، کوئی جواب نہ آیا۔ حسینہ بیگم نے بتایا، "اختر علی اندر ہی ہے، تھوڑی دیر پہلے تھا۔ اس کے بیوی بچے نہیں، ابھی کنوارہ ہے۔ جب تک بہنیں تھیں کچھ نہ کہتا، بہنیں چالیسویں کے بعد چلی گئیں تو اس نے مجھ پر بری نظر رکھنی شروع کر دی۔ دو تین بار زبردستی کی کوشش کی، جب انکار کیا تو گھر سے نکال دیا۔"

حوالدار نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا اور آواز دی، "اختر علی، دروازہ کھولو ورنہ توڑ دیں گے!" دروازہ تھوڑا کھلا اور اختر علی برہمی سے بولا، "کیا بات ہے، کیوں شور مچا رہے ہو؟ میں کوئی مجرم نہیں، شریف آدمی ہوں۔" اس نے کمبل اوڑھ رکھا تھا، داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرہ کھردرا لگ رہا تھا۔ حوالدار بولا، "دروازہ کھولو، تھانے دار صاحب خود آئے ہیں۔" اس نے دروازہ کھول دیا اور بولا، "اگر اس عورت کی سفارش کرنے آئے ہیں تو معافی چاہتا ہوں، ابا جی نے اسے ملازم رکھا تھا، اب ضرورت نہیں۔ وفات کے دوسرے دن ہی کہہ دیا تھا کہ بندوبست کر لو۔"

میں نے کہا، "اندر تو آنے دو، سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔" اس نے تامل کے بعد دروازہ کھول دیا اور کہا، "آ جائیں مگر فائدہ نہیں ہوگا۔" اندر داخل ہوئے تو آتش دان میں آگ جل رہی تھی، خاصی گرمی تھی۔ میں نے تعارف کرایا اور پوچھا، "معاملہ کیا ہے؟" وہ بولا، "کچھ نہیں جی، غریب کو سہارا دو تو سر پر سوار ہو جاتا ہے۔ ابا جی نے خدمت کے لیے رکھا تھا، اب یہ مالکن بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔" میں نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا، "اچھا مکان ہے، کتنے کمرے ہیں؟" اس نے کہا، "چھ کمرے ہیں، ابا جی کی ہمت تھی۔" میں باتیں کرتا اگلے کمروں میں چلا گیا اور حوالدار کو اشارہ کیا۔ واپس آئے تو حسینہ بیگم بیٹی اور سامان سمیت اندر پہنچ چکی تھی۔

اختر علی تیزی سے لپکا، "تمہیں کس نے اندر آنے دیا؟ اٹھاؤ یہ سامان اور باہر نکلو!" وہ سامان پھینکنے لگا مگر حوالدار رکاوٹ بن گیا، "حوصلہ اختر علی، قانون ہاتھ میں نہ لو!" اختر علی نے کمبل پھینکا اور غصے سے بولا، "یہ نہیں ہو سکتا، میں اتنا گیا گزرا نہیں!"

میں نے دیکھا کہ اختر علی خاصے مضبوط جسم کا مالک تھا۔ حوالدار نے سخت لہجے میں کہا، "اوہو، کیا نہیں ہو سکتا؟ دھمکی کس کو دے رہے ہو؟" اختر علی بولا، "ملک صاحب، ان کو سمجھائیں، یہ میرے باپ کا گھر ہے، کوئی یتیم خانہ نہیں!" میں نے کہا، "شور مت کرو، ساری بات بتاؤ۔" وہ بولا، "کون سی بات؟ یہاں کوئی جھگڑا ہی نہیں۔ میں اس مکان کا واحد وارث ہوں اور اس عورت کو ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔"

میں نے حسینہ بیگم سے پوچھا، "بی بی، تم بتاؤ کیا بات ہے؟" وہ بولی، "اس کے باپ نے میرے ساتھ نکاح کیا تھا اور یہ مکان میرے نام کر دیا تھا۔ مولوی اللہ بخش نے نکاح پڑھایا تھا، آپ مولوی صاحب کو بلا کر پوچھ لیں۔" میں نے اختر علی سے کہا، "اس بات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟" وہ بولا، "یہ جھوٹ بک رہی ہے جی، میرے بوڑھے باپ کا دماغ تو ٹھیک تھا، اسی سال کی عمر میں شادی کرتا بھلا؟" میں نے کہا، "کوئی بات نہیں، مولوی اللہ بخش کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، ابھی سچ جھوٹ کا پتا چل جائے گا۔" اختر علی بولا، "او جی، میں کسی مولوی کو نہیں جانتا!" حوالدار نے کہا، "جانتے نہیں تو جان لیں گے، مولوی صاحب کا گھر تو مسجد کے ساتھ ہی ہے۔"

میں نے ایک سپاہی کو مولوی صاحب کے پاس بھیجا، وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور بتایا کہ مولوی صاحب گھر پر نہیں، کسی کام سے گئے ہوئے ہیں اور کل تک واپس آئیں گے۔ ادھر اختر علی مسلسل شور مچا رہا تھا اور حسینہ بیگم کو گھر سے نکالنے پر تلا ہوا تھا۔ میں نے کہا، "اختر علی، اس معاملے کے دو پہلو ہیں: ایک اخلاقی اور دوسرا قانونی۔ اخلاقی پہلو یہ ہے کہ فی الحال ان دونوں بے سہارا عورت اور بچی کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں، گلی میں رات گزارنا ممکن نہیں۔ تمہارے پاس کافی جگہ ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں رہنے دو۔" اس نے ہاتھ جھٹک کر کہا، "اوہ جی، جگہ تو اور لوگوں کے پاس بھی بہت ہے۔ اس نے یہاں بہت دن گزار لیے، اب کوئی اور دروازہ دیکھ لے۔ کیا ثواب کمانے کے لیے میں اکیلا ہی رہ گیا ہوں؟"

میں نے کہا، "تو پھر قانونی پہلو سے بات کرنی پڑے گی۔ حسینہ بیگم کافی عرصے سے یہاں رہ رہی ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ تمہارے باپ نے نکاح کیا اور مکان ہبہ کر دیا۔ قانون کے مطابق جب تک یہ دعویٰ جھوٹا ثابت نہیں ہوتا، تم اسے بے دخل نہیں کر سکتے۔" وہ بولا، "یہ کیسا قانون ہے جناب؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ میں شیخ وزیر علی کا بیٹا اور جائیداد کا وارث ہوں۔" میں نے کہا، "جائیداد میں بیوی کا بھی حق ہوتا ہے۔ اگر ثابت ہو گیا کہ حسینہ بیگم منکوحہ تھی اور مکان ہبہ ہوا تو یہ مکان متروکہ جائیداد میں شمار نہیں ہوگا۔" وہ بولا، "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" میں نے وضاحت کی، "تمہارا باپ حیات میں مالک تھا، اگر فروخت کر دیتا تو کیا تم وراثت مانگتے؟ ہبہ بھی ویسے ہی ہے۔" اس نے کہا، "اگر ایسی بات ہے تو عدالت میں جا کر ثابت کرے، کوئی کاغذ دکھائے۔ یہ مکان میرا ہے اور قبضہ بھی میرا۔" میں نے کہا، "قبضہ تو دونوں کا ہے، تم تسلیم کر چکے ہو کہ وہ یہاں رہتی تھی۔"

وہ نرم پڑ گیا اور مجھے ایک طرف لے جا کر بولا، "ملک صاحب، مجھے قانونی چکر میں نہ ڈالیں، لین دین کی بات کریں۔" میں نے کہا، "اختر علی، اگر تم سمجھتے ہو کہ میں پیسے لے کر اس عورت اور اس معصوم بچی کو گلی میں پھینک دوں گا تو یہ تمہاری بھول ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔" اس نے کہا، "ٹھیک ہے، اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو ایک رات رہنے دوں گا، اس سے زیادہ نہیں۔"

میں نے اس کی بات کا جواب نہ دیا اور حوالدار کو بھیج کر پڑوس کے تین چار معززین کو بلا لیا۔ انہوں نے میرے استفسار پر اقرار کیا کہ حسینہ بیگم اور اس کی بیٹی گذشتہ تین چار سال سے اسی مکان میں رہ رہی تھیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ حسینہ بیگم مرحوم کی بیوہ ہونے اور مکان ہبہ ہونے کی دعویدار ہے۔ یہ سن کر وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ میں نے مزید کہا، "جب تک معاملے کا تصفیہ نہیں ہوتا، حسینہ بیگم یہاں رہے گی اور اختر علی اسے بے دخل نہیں کر سکتا۔ آپ لوگوں کو اس لیے بلایا ہے کہ اس بیوہ کا خیال رکھیں، یہ آپ کا دینی اور اخلاقی فرض ہے۔" حسینہ بیگم ساری مدت نظر جھکائے چپ بیٹھی رہی، جبکہ اس کی بیٹی ملکہ خوفزدہ نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

میں نے معززین کی موجودگی میں حسینہ بیگم کا سامان ایک کمرے میں رکھوایا اور اختر علی کو محتاط رہنے کی تلقین کر کے رخصت ہو گیا۔ اگلے روز میں نے ایک اے ایس آئی کو حکم دیا کہ حسینہ بیگم کے بارے میں حقائق اکٹھے کرے اور وزیر علی کے گھر کی خبر بھی رکھے۔ وہ شام تک چھان بین میں مصروف رہا۔ شام کو اس کی رپورٹ خاصی دلچسپ تھی۔ میں نے پوچھا، "اختر علی نے کوئی شرارت تو نہیں کی؟" اے ایس آئی بولا، "ملا تھا جناب، بہت شور مچا رہا تھا۔ حسینہ بیگم نے بتایا کہ وہ کچھ دے دلا کر معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے، مگر میں نے اسے کہہ دیا کہ اب معاملہ پولیس کے ہاتھ میں ہے، ہم سے مشورہ کیے بغیر کوئی سمجھوتہ نہ کرے۔"

اے ایس آئی نے جن لوگوں سے حسینہ بیگم کے بارے میں تفصیلات لی تھیں، ان میں سے کچھ کو میں نے تھانے بلا کر اور کچھ سے خود مل کر بات کی، علاوہ ازیں کچھ اور متعلقہ لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ ان سب ملاقاتوں سے جو واقعات سامنے آئے، انہیں میں اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

اس قصے کا آغاز سوا چار سال پہلے ہوا تھا۔ حسینہ بیگم کے پہلے شوہر کا نام منظور تھا۔ وہ اکھڑ مزاج اور آوارہ قسم کا آدمی تھا، کوئی کام ٹک کر نہیں کرتا تھا۔ کبھی کسی کا تانگہ چلا لیتا، کبھی نان کباب کی دکان لگا لیتا، کبھی چھابڑی ڈال کر سودا بیچتا اور کبھی ریلوے اسٹیشن پر مزدوری کر لیتا۔ جو کچھ کماتا، اس کا بڑا حصہ باہر ہی اڑا دیتا۔ حسینہ بیگم کے ساتھ اس کا سلوک بہت برا تھا؛ ایک تو گھر کا خرچہ پورا نہ دیتا، دوسرا مار پیٹ بھی کرتا رہتا۔

ان کے تین بچے تھے جن میں سے ایک بچپن میں ہی فوت ہو گیا تھا۔ ایک لڑکا گیارہ بارہ سال کی عمر میں باپ کی سختیوں اور گھر کی تنگدستی سے تنگ آ کر بھاگ گیا تھا۔ ملکہ بھی منظور ہی کی بیٹی تھی۔ حسینہ بیگم سات آٹھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھی اور سلیقہ مند عورت تھی۔ جب ملنے جلنے والے اس کے شوہر کا سلوک دیکھتے تو کہتے کہ منظور کو چھوڑ کر کیوں نہیں چلی جاتی؟ وہ جواب دیتی، "کہاں جاؤں؟ ماں فوت ہو چکی، باپ غریب ہے، بہن بھائی اپنی اپنی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ منظور برا بھلا جیسا بھی ہے، کچھ نہ کچھ کما کر تو لے آتا ہے۔"

حسینہ ان صابر و شاکر عورتوں میں سے تھی جو تکلیفوں کو مقدر سمجھ کر حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ ایک رات منظور نے زیادتی کی انتہا کر دی۔ رات کے گیارہ بجے گھر آیا اور پیسے مانگنے لگا۔ حسینہ نے پوچھا، "اس وقت پیسوں کی کیا ضرورت پڑ گئی؟" منظور نے سختی سے کہا، "ہے کوئی ضرورت، جلدی سے پانچ سو روپے نکال دے، مجھے واپس بھی جانا ہے۔" حسینہ کے پاس مشکل سے دو تین سو روپے تھے جو راشن کے لیے سنبھال کر رکھے تھے۔ اس نے کہا، "میرے پاس تو پچاس روپے بھی نہیں۔"

منظور نے آنکھیں نکال کر کہا، "کہاں جاتی ہے میری کمائی؟ اتنا کما کر لاتا ہوں، کون سے یاروں کو کھلا دیتی ہو؟ جلدی نکال پانچ سو روپے، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔" حسینہ نے کہا، "تجھے میری زبان پر یقین نہیں تو خود دیکھ لے، ہر چیز کھلی پڑی ہے۔ اور یہ برے سلوک کی دھمکیاں نہ دیا کر، تو نے میرے ساتھ اچھا سلوک کب کیا جو میں تیرے برے سلوک سے ڈروں گی؟" منظور نے اس کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور بولا، "آگے سے زبان چلاتی ہے؟ مار مار کر شکل بگاڑ دوں گا۔ جلدی پیسے نکال، میں کوئی خیرات نہیں مانگ رہا، اپنی کمائی کے پیسے مانگ رہا ہوں۔"

حسینہ نے ٹین کے پرانے ڈبے سے دو سو روپے نکال کر اس کی طرف پھینک دیے اور کہا، "یہ سبزی ڈالنے کے لیے رکھے تھے، یہ بھی لے جا۔ کل گھر میں چولہا نہ جلا تو مجھ سے نہ کہنا۔" منظور نے طنز سے کہا، "تجھ سے نہ کہوں گا تو تیرے باپ سے کہوں گا۔ اور یہ کیا، صرف دو سو؟ مجھے پورے پانچ سو چاہییں، عزت کا معاملہ ہے۔" حسینہ نے پوچھا، "جوئے کے لیے؟" منظور نے ہٹ دھرمی سے کہا، "ہاں جوئے کے لیے۔ پانچ سو ادھار لے کر ہار گیا ہوں، وہ لوگ میری جان کے پیچھے پڑے ہیں۔"

حسینہ بولی، "میرے پاس تو یہی کچھ تھا۔" منظور نے کہا، "میں تیری چالیں اسی طرح سمجھتا ہوں۔ پڑوسیوں سے جا کر ادھار لے آ۔" حسینہ نے حیرت سے کہا، "اس وقت؟ رات کے گیارہ بجے؟" منظور بولا، "جہاں سے بھی کر، مجھے پیسے چاہییں۔ تیرا دماغ الٹ گیا ہے؟ صابرہ کی ماں کے پہلے ہی تین سو دینے ہیں۔" منظور نے دو سو روپے جیب میں ڈال لیے اور سر کھجاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد بولا، "تیرے پاس جو سونے کی بالیاں تھیں، وہ کہاں ہیں؟"

یہ سنتے ہی حسینہ کا دل بیٹھ گیا۔ اس کا باقی زیور پہلے ہی بک چکا تھا، صرف جہیز کی بالیاں بچی تھیں۔ اس نے کہا، "بالیاں تو میں کبھی نہیں دوں گی، ان پر تیرا کوئی حق نہیں۔" منظور بولا، "حق کیوں نہیں؟ میں تجھے اپنی کمائی کھلاتا ہوں۔ اگر تیری بالیاں میری عزت بچا لیں تو کوئی آفت نہیں آئے گی، اور بن بھی جائیں گی۔" حسینہ نے کہا، "کچھ بھی ہو، میں بالیاں نہیں دوں گی، بے شک جان سے مار دے۔" منظور غصے سے بولا، "تیرا باپ بھی دے گا بالیاں، تو کیا چیز ہے!"

حسینہ نے سختی سے کہا، "نہیں، ہرگز نہیں۔" منظور نے اسے لاتوں اور تھپڑوں سے مارنا شروع کر دیا۔ حسینہ چیخنے لگی، ملکہ جاگ کر زور زور سے رونے لگی۔ رونے پیٹنے کی آوازیں سن کر پڑوسی اکٹھے ہو گئے۔ منظور اوباش تھا، کسی کی پروا نہ کرتا۔ پڑوسیوں کے سامنے بولا، "آخری بار کہہ رہا ہوں، پانچ منٹ میں بالیاں نہ دیں تو تین طلاق!"

طلاق کا نام سن کر حسینہ گھبرا گئی اور جلدی سے بالیاں تلاش کرنے لگی۔ ہنگامے اور گھبراہٹ میں وہ جگہ بھول گئی جہاں بالیاں چھپائی تھیں۔ دس منٹ گزر گئے تو ایک بوڑھے پڑوسی نے وثوق سے کہا، "بی بی، اب تلاش کرنے کا فائدہ نہیں۔ منظور نے پانچ منٹ کی شرط رکھی تھی اور دس منٹ سے زیادہ ہو چکے۔ تمہیں طلاق ہو چکی، اب یہ تمہارا خاوند نہیں رہا، تم اس پر حرام ہو گئی ہو۔"

دیگر پڑوسی بھی اس بوڑھے کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ حسینہ رونے لگی اور بولی، "پتہ نہیں بالیاں کہاں چلی گئیں، میں نے کسی مسالے کے ڈبے میں رکھی تھیں۔" ایک دوسرے پڑوسی نے کہا، "اللہ کو یہی منظور تھا۔" ایک ہمدرد قسم کے پڑوسی نے کہا، "او بھئی، اتنی جلدی فیصلہ نہ کرو، مولوی صاحب سے مشورہ کر لو۔" ایک بڑے پڑھے لکھے شخص نے منظور سے پوچھا، "میاں، تمہاری کیا مرضی ہے؟"

منظور بڑے غصے میں تھا، بولا، "میں مردوں والی بات کرتا ہوں، جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ یہ عورت میرے گھر میں رہنے کے قابل ہی نہیں۔" ہمدرد پڑوسی نے کہا، "پھر بھی مولوی صاحب سے فتویٰ لے لینا چاہیے، شرع کے معاملے میں کوئی شک شبہ نہیں رہنا چاہیے۔" سب نے طے کیا کہ صبح یہ معاملہ مولوی صاحب کے سامنے رکھا جائے گا۔ حسینہ بیگم لوگوں سے منتیں کرتی رہی مگر کسی نے اس کی حوصلہ افزائی نہ کی، سب یہی کہتے رہے کہ اب فیصلہ مولوی صاحب کے فتوے سے ہوگا۔

پڑوسیوں کے جانے کے بعد منظور ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگا اور دو منٹ بعد بالیاں اس کے ہاتھ لگ گئیں۔ اس نے بالیاں جیب میں ڈالیں اور گھر سے نکل گیا۔ حسینہ ساری رات روتی رہی۔

اگلی صبح چند پڑوسی مولوی اللہ بخش کو لے کر اس کے بوسیدہ مکان میں پہنچ گئے۔ اس وقت منظور کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور وہ رات والی حرکت پر ندامت محسوس کر رہا تھا۔ مولوی صاحب کے استفسار پر اس نے کہا کہ رات کو ہوش میں نہیں تھا، غصے میں نہ جانے کیا کیا بک گیا۔ مولوی اللہ بخش نے پوچھا، "کیا تم نشے میں تھے؟" منظور نے نفی میں سر ہلایا، "نشے میں نہیں تھا۔" "کیا تم سکر کی حالت میں تھے؟" منظور نے حیرانی سے کہا، "سکر! سکر کیا ہوتا ہے؟" مولوی صاحب نے وضاحت کی، "سکر ایسی حالت کو کہتے ہیں جس میں آدمی کو ہوش نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔" منظور نے کہا، "شاید میں سکر کی حالت میں ہی تھا۔"

مولوی صاحب نے چالاکی سے پوچھا، "بات کہاں سے شروع ہوئی تھی؟" منظور نے بتایا، "مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، اس سے مانگے تو دو سو روپے نکال کر منہ پر مارے، حالانکہ مجھے پانچ سو چاہییں تھے۔ کہا اگر پیسے نہیں تو بالیاں دے دو، گروی رکھ کر بندوبست کر لوں گا، اس نے انکار کر دیا۔" مولوی صاحب نے پوچھا، "پھر کیا ہوا؟" بوڑھے پڑوسی نے لقمہ دیا، "پھر اس نے غصے میں کہا کہ پانچ منٹ میں بالیاں نہ دیں تو تین طلاق۔" مولوی صاحب نے پوچھا، "کیا یہ سچ ہے، تم نے یہی الفاظ کہے؟" منظور نے کہا، "الفاظ تو یہی تھے مگر اس وقت سکر کی حالت میں تھا۔"

مولوی صاحب نے ترس کھاتے ہوئے سر ہلایا، "اسے سکر کی حالت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ تم جو کہہ رہے تھے اس کا مطلب بخوبی جانتے تھے۔" پھر حسینہ بیگم سے پوچھا، "کیا تمہارے شوہر نے کہا تھا کہ پانچ منٹ میں بالیاں نہ دیں تو تین طلاق ہو جائیں گی؟" حسینہ نے اثبات میں سر ہلایا، "کہا تو تھا مگر غصے میں پاگل ہو رہا تھا۔" مولوی صاحب نے اس جواز کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا، "کیا تم نے پانچ منٹ میں بالیاں دے دی تھیں؟" حسینہ بولی، "بالیاں کہیں رکھ کر بھول گئی تھی۔" منظور نے حماقت میں کہہ دیا، "یہ جھوٹ بولتی ہے، اس کی بالیاں دینے کی مرضی ہی نہیں تھی۔"

مولوی صاحب اٹھتے ہوئے بولے، "فیصلہ ہو گیا، حسینہ بیگم تمہیں تین طلاقیں ہو چکی ہیں، اب تم منظور پر حرام ہو۔" حسینہ نے کہا، "مولوی صاحب، لوگوں کے جانے کے بعد یہ بالیاں نکال کر لے گیا تھا۔ خدا کے لیے اتنی جلدی فیصلہ نہ کرو، میں برباد ہو جاؤں گی، میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں۔" منظور نے غصے سے کہا، "اب تجھے میری قدر معلوم ہو گی۔" پھر مولوی صاحب سے بولا، "یہ عورت کسی رعایت کے لائق نہیں مگر مجھے ترس آتا ہے، دوبارہ نکاح کے لیے تیار ہوں، کوئی راستہ نکالیں۔" مولوی صاحب نے کہا، "اب حلالہ کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔" منظور نے کہا، "چلیں، حلالہ بھی کر لیں گے، کیا کوئی صدقہ ودقہ دینا پڑے گا؟" مولوی صاحب نے وضاحت کی، "اس کی کسی اور سے شادی ہو گی، جب وہ طلاق دے گا تب تم دوبارہ نکاح کر سکو گے۔"

بوڑھے پڑوسی نے کہا، "میاں، شرع میں جرح نہیں کرنی چاہیے، منہ کھولنے سے پہلے سوچنا تھا۔" حسینہ نے پوچھا، "مولوی صاحب، اب میرا کیا ہو گا، کہاں جاؤں گی؟" مولوی صاحب دروازے پر رک کر بولے، "تم اب اس کے ساتھ ایک چھت تلے نہیں رہ سکتیں، شام کو میرے پاس آ جانا، کوئی راستہ نکالتا ہوں۔"

مولوی صاحب اور پڑوسیوں کے جانے کے بعد منظور نے کہا، "مجھے مولوی صاحب کا فیصلہ منظور نہیں، تین لفظ منہ سے نکل گئے اور سارا کھیل چوپٹ۔ جو ہوا بھول جاؤ، ہم اب بھی میاں بیوی ہیں۔" حسینہ نے کہا، "نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ مولوی صاحب نے محلے والوں کے سامنے فتویٰ دے دیا، اگر میاں بیوی کی طرح رہے تو لوگ لعن طعن کریں گے، میں یہ گناہ نہیں کر سکتی۔" منظور نے کہا، "تو پھر وہ حلالہ ہی کرنا پڑے گا۔" حسینہ خاموش رہی، اسے امید ہی نہ تھی کہ کوئی اس سے شادی پر راضی ہو گا۔

شام کو وہ مولوی صاحب کے گھر گئی۔ مولوی صاحب اسے شیخ وزیر علی کے پاس لے گئے کیونکہ وزیر علی کو خادمہ کی ضرورت تھی۔ وہ اکثر شکایت کرتا کہ اولاد اس کی پروا نہیں کرتی۔ ان دنوں اس کی چھوٹی بیٹی بھی ساتھ رہتی تھی۔ بیٹا تو ویسے ہی آوارہ تھا، بیٹی بھی اپنے بچوں اور معاملات میں الجھی رہتی تھی، اس کا شوہر ایئر فورس میں آفیسر تھا اور ان دنوں پشاور میں تھا۔

مولوی صاحب نے رسمی باتوں کے بعد کہا، "شیخ صاحب، آپ کے لیے ایک خادمہ لایا ہوں۔ نام حسینہ بیگم ہے، یہ اس کی بیٹی ملکہ۔ بے سہارا ہے، ادھر کسی کونے میں رہے گی اور دن رات آپ کی خدمت کرے گی۔" بوڑھا وزیر علی خوش ہوا کیونکہ اسے ایسی ہی خادمہ چاہیے تھی جو ہر وقت موجود رہے۔ عورت خوش شکل اور سلیقہ مند لگ رہی تھی۔ اس نے پوچھا، "بی بی، تنخواہ کتنی لو گی؟" حسینہ نے کہا، "صاحب، مجھے تنخواہ نہیں، بس آسرا چاہیے۔ دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کی جگہ مل جائے تو بہت ہے۔"

"تمہارا گھر بار کہاں ہے؟" مولوی صاحب نے بتایا، "اس کے ساتھ بڑا ظلم ہوا، خاوند نے طلاق دے دی، اب پچھتا رہا ہے، دوبارہ بسانا چاہتا ہے۔" وزیر علی نے پوچھا، "غصے میں طلاق دی تھی؟" حسینہ نے سارا واقعہ سنا دیا۔ مولوی صاحب نے کہا، "اب حلالہ کے بغیر منظور سے نکاح نہیں ہو سکتا، ویسے میں خیال رکھوں گا، شاید کوئی اللہ کا بندہ مل جائے۔"

وزیر علی سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے بیٹی ممتاز کو بلایا، حسینہ کا احوال بتایا اور کہا، "آج سے یہ گھر میں رہے گی اور سارے کام کرے گی۔" ممتاز نے حسینہ کو دیکھ کر تیوری چڑھائی، "ہمیں کام والی کی ضرورت نہیں تھی، آپ نے خواہ مخواہ رکھ لیا۔ کھانا میں خود پکا لیتی ہوں، صفائی اور کپڑے کے لیے مائی رکھی ہے، یہ کون سا کام کرے گی؟" وزیر علی برہمی سے بولا، "مجھے معلوم تھا تم یہی کہو گی۔ گھر کی صفائی اور کھانا تو ہو جاتا ہے مگر مجھے کوئی نہیں پوچھتا۔ اختر آوارہ گردی کرتا رہتا ہے، تم اپنے بچوں میں لگی رہتی ہو، میرا کام کوئی نہیں کرتا۔"

"آپ کو دو وقت کی روٹی مل جاتی ہے، پانی میز پر رکھا رہتا ہے، اور کیا چاہیے آپ کو؟" ممتاز نے کہا۔ وزیر علی غصے میں آ گیا، "میں بڈھا اور ناکارہ ہو گیا ہوں؟ مجھے دو وقت کی روٹی اور چار گلاس پانی کے سوا اور کیا چاہیے؟ اتنا تو دروازے پر پڑے فقیر کو بھی مل جاتا ہے۔ اب اس بڈھے کی یہی اوقات رہ گئی ہے!"

ممتاز بھی غصے سے بولی، "بس ہو گیا، شروع ہو گئے بولنا۔ آپ کی یہ باتیں ہمیں اچھی نہیں لگتیں۔ یہ عورت یہاں رہے گی تو اسے کھانا پینا، کپڑا لتا بھی دینا پڑے گا، اور ساتھ یہ دم چھلا بھی ہے۔" اس نے ملکہ کی طرف اشارہ کیا۔ "ان کا خرچہ کون برداشت کرے گا؟"

وزیر علی نے کہا، "میں برداشت کروں گا، اور کون؟ میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں۔ زمین کی آمدنی بھی ہے، پینشن بھی ملتی ہے۔ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے مجھے اولاد کا محتاج نہیں بنایا۔"

مولوی صاحب نے ممتاز سے کہا، "بیٹی، بوڑھے باپ سے اونچی آواز میں بات نہیں کرنی چاہیے، اللہ ناراض ہوتا ہے۔" ممتاز بولی، "آپ رہنے دیں جی، آپ کو ہمارے معاملات کا علم نہیں۔ ابا جی ہر کسی سے ہماری برائیاں کرتے ہیں، ہم کیسے نہ اونچی آواز میں بولیں؟ اور آپ کو کیا ضرورت تھی اس عورت کو یہاں لانے کی؟ ابا جی تو یہی چاہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے ساری جمع پونجی لوگوں میں بانٹ دیں۔"

وزیر علی کی آواز کانپنے لگی، "یہ میری محنت کا پیسہ ہے۔ میں تم جیسے ناشکروں کے لیے کچھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ تم لوگ اس بڑھاپے میں میری مٹی پلید کر رہے ہو۔ نہ وقت پر کھانا ملتا ہے، نہ کوئی اور کام ہوتا۔ ایک گلاس پانی کے لیے دس دفعہ آواز دینی پڑتی ہے۔ کھانا دے کر بھول جاتے ہو کہ برتن بھی اٹھانے ہیں۔ ایک رومال دھلوانا ہو تو سو منتیں کرنی پڑتیں۔ بیمار ہو جاؤں تو کوئی پاس نہیں پھٹکتا، دوا پھینک کر چلے جاتے ہو۔ ہر وقت اسی فکر میں رہتے ہو کہ کب بڈھا مرے اور کب تمہاری جان چھوٹے۔"

ممتاز نے سختی سے جواب دیا، "ہاں یہی چاہتے ہیں ہم۔ سارے گھر کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں آپ۔ مر جائیں گے تو آپ کی مصیبتیں بھی ختم ہو جائیں گی اور ہماری بھی۔"

"لاحول ولاقوة الا باللہ!" مولوی صاحب نے بے اختیار کہا، "انا للہ... قیامت بہت قریب معلوم ہوتی ہے۔" ممتاز نے سر جھٹکا، "اونہہ، آپ لوگ ذرا سی بات پر قیامت کو آوازیں دینے لگتے ہیں۔ اگر کبھی قیامت آئی تو آپ لوگوں کی وجہ سے آئے گی۔" مولوی صاحب قیامت کی بات سن کر چپ ہو گئے۔

وزیر علی نے فیصلہ کن لہجے میں کہا، "بی بی، تم آج سے کام شروع کر دو۔ تم نے دیکھ ہی لیا کہ یہاں میرے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ ان لوگوں کی بالکل پروا نہ کرنا۔ یہ گھر میرا ہے اور سامان بھی میرا۔ اگر کسی نے روک ٹوک کی تو پولیس بلا لوں گا۔ تمہاری رہائش ادھر کونے والے کمرے میں ہو گی۔"

حسینہ بیگم نے کہا، "صاحب جی، میں آپ کے گھر میں فساد نہیں ڈالنا چاہتی۔ اللہ میرا کہیں اور بندوبست کر دے گا۔" وزیر علی بولا، "اللہ نے تمہارا بھی بندوبست کر دیا ہے اور میرا بھی۔ ان لوگوں کی فکر مت کرو، میں ان سے نمٹنا خوب جانتا ہوں۔" اس نے حسینہ بیگم کے لیے سونے کا کمرہ کھول دیا اور اپنی نگرانی میں وہاں دو چارپائیاں اور بستر رکھوا دیے۔

رات کو اختر علی گھر آیا تو ممتاز نے بتا دیا کہ ابا جی نے ایک عورت اور اس کی بیٹی کو گھر میں ڈال لیا ہے۔ اختر علی نے دیکھا کہ گھر میں ہر چیز صفائی اور سلیقے سے رکھی ہوئی تھی، باورچی خانے میں گندے برتنوں کا ڈھیر بھی نہیں تھا۔ تاہم وہ ان چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے باپ کے کمرے میں پہنچا اور بے ہودگی سے کہا، "ابا جی، سنا ہے آپ نے کوئی عورت گھر میں ڈال لی ہے۔"

وزیر علی نے غصے کو دبا کر جواب دیا، "کام کے لیے خادمہ رکھی ہے، بے سہارا عورت ہے، ادھر ہی رہے گی۔" اختر علی بولا، "آپ کو پوچھ تو لینا چاہیے تھا، پتہ نہیں کس آوارہ عورت کو رکھ لیا ہے۔" وزیر علی نے کہا، "وہ آوارہ نہیں، شریف عورت ہے۔ اور تم خود کیا ہو؟ دن بھر آوارگی کر کے گھر آ جاتے ہو۔" اختر علی بولا، "آپ تو ہمیشہ الٹی بات کرتے ہیں۔" وزیر علی نے کہا، "شاباش بیٹا شاباش، اگر میں الٹی باتیں کرنے والا ہوتا تو آج یہ گھر بار اور ساز و سامان نظر نہ آتا۔"

"پر اس عورت کو رکھنے کی ضرورت کیا تھی؟ گھر کے کام تو چل ہی رہے تھے، اب اسے روٹی کپڑے کے علاوہ تنخواہ بھی دینی پڑے گی۔" وزیر علی نے کہا، "تم لوگوں کو ساری پریشانی پیسوں کی ہے، یہی اصل بات ہے۔ یہ میرے پیسے ہیں، میری محنت کی کمائی۔ اگر اس بڑھاپے میں آرام نہ ملا تو لعنت ہے ایسے پیسوں پر۔" اختر علی بولا، "آپ تو ہر وقت ایک ہی بات رٹتے رہتے ہیں۔ آخر آپ کو تکلیف کیا ہے؟ دو وقت کی روٹی آرام سے بیٹھے مل جاتی ہے، اور کیا چاہیے؟"

وزیر علی نے کہا، "وہ بھی یہی کہتی ہے، تم بھی یہی کہتے ہو۔ جب تم اس عمر میں پہنچو گے تب پتہ چلے گا کہ بوڑھے آدمی کے کتنے مسائل اور کام ہوتے ہیں۔ تمہیں تو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ دو گھڑی میرے پاس بیٹھ کر سکھ دکھ کی باتیں سن لو۔" اختر علی نے کہا، "آپ ساری عمر یہی رونا روتے رہیں گے۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر وقت یہاں بیٹھ کر آپ کی شکایتیں یا جوانی کے قصے سنتا رہوں۔ اگر آپ نے عورت کو اس لیے رکھا ہے کہ وہ آپ کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سنتی رہے تو یہ ہمیں پسند نہیں۔ بہتر ہے اس کی چھٹی کر دیں۔"

وزیر علی ایک دم غصے میں آ گیا، "زیادہ بک بک کی ضرورت نہیں۔ میں تمہاری چھٹی کیوں نہ کر دوں؟ نہ تم کوئی کام کرتے ہو، نہ میری خدمت۔ مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہو اور صبح شام بے ہودگیوں سے تکلیف دیتے ہو۔ میں محلے کے دس آدمی اکٹھے کر کے تمہارے کرتوت رکھوں گا اور پوچھوں گا کہ ایسی ناشکر اولاد کو گھر سے نکال دینا چاہیے یا رکھنا؟"

اختر علی یہ سن کر دب گیا۔ اسے سب سے زیادہ ڈر یہی تھا کہ کہیں باپ اسے جائیداد سے محروم کر کے گھر سے نہ نکال دے۔ وہ باپ کی موت کے انتظار میں تھا کہ کب بوڑھا اللہ کو پیارا ہو اور جائیداد پر گلچھرے اڑانے کا موقع ملے۔

حسینہ بیگم نے چند روز میں گھر کے سارے کام سنبھال لیے۔ اگرچہ وزیر علی کی اولاد اس سے اچھا سلوک نہ کرتی تھی، مگر اس نے زیادہ پروا نہ کی کیونکہ اپنے شوہر کے ہاتھوں اس سے بھی زیادہ تکلیفیں برداشت کر چکی تھی۔ یہاں اسے روٹی کپڑے کی تنگی نہ تھی۔ چند ہفتوں بعد اختر علی اور ممتاز کا رویہ ٹھیک ہو گیا کیونکہ وہ اس کے عادی ہوتے جا رہے تھے۔ حسینہ نے گھر کا ہر کام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا، ممتاز کو کچھ نہ کرنا پڑتا، یہاں تک کہ اس کے دو بچوں کی دیکھ بھال بھی حسینہ ہی کرتی تھی۔ اختر علی گھر آتا تو کمرہ صاف ستھرا ملتا، ایک اشارے پر گرم کھانا حاضر، کپڑے دھلے استری کیے ہوئے۔ بالآخر دونوں بہن بھائی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ باپ نے حسینہ کو رکھ کر غلط نہیں کیا تھا۔
٭٭٭٭
شیخ وزیر علی کے چند پرانے دوست تھے جو کبھی کبھار اس سے ملنے آتے رہتے تھے۔ ان دوستوں میں ایک بوڑھا زمیندار میاں علی نواز بھی تھا۔ اس کی وزیر علی سے بڑی بے تکلفی تھی اور ایک دوسرے کے ساتھ مذاق بھی چلتا تھا۔

وزیر علی اسے حسینہ بیگم کے بارے میں سب کچھ بتا چکا تھا۔ میاں علی نواز یہ بھی سن چکا تھا کہ حسینہ کا سابق شوہر اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لانا چاہتا تھا اور اس کے لیے حلالہ کی ضرورت تھی۔

ایک شام دونوں بوڑھے دوست بیٹھک میں بیٹھے جوانی کی یادیں تازہ کر رہے تھے کہ حسینہ بیگم ان کے لیے چائے بنا کر لائی۔ اس نے چائے کی ٹرے میز پر رکھی اور بولی، "صاحب جی، کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دے دیں۔"

"ابھی تو کسی چیز کی ضرورت نہیں۔" 
"صاحب جی، کھانا بھی تیار ہے،" حسینہ نے کہا، "اگر میاں صاحب نے بھی کھانا ہو تو دو روٹیاں زیادہ پکا لوں۔"

"ہاں پکا لو، پکا لو، میاں صاحب بھی کھانا کھائیں گے۔" حسینہ کے جانے کے بعد میاں علی نواز نے دھیمی آواز میں کہا، "یار وزیر علی، تیرا تو بڑھاپا سنور گیا۔ ایسی خدمت گزار عورت تو کسی کسی کو ملتی ہے۔"

"یہ تو تم سچ کہتے ہو۔ جب سے یہ عورت آئی ہے، میرے سارے مسئلے حل ہو گئے ہیں۔ وقت پر گرم کھانا، صاف کپڑے، کمرے میں صفائی۔ ذرا سی ٹھنڈ ہو جائے تو نہانے کے لیے گرم پانی رکھ دیتی ہے۔ طبیعت خراب ہو جائے تو فوراً ڈاکٹر بلا لائے گی۔ بڑی خدمت گزار عورت ہے۔"

"لیکن میں نے سنا ہے کہ مولوی صاحب اس کے لیے کوئی بر تلاش کر رہے ہیں۔ کوئی حلالہ شلالہ کا چکر ہے، وہ منظور بھی مولوی صاحب سے ملتا رہتا ہے۔"

یہ بات وزیر علی کو ہمیشہ فکر مند کر دیتی تھی۔ وہ سوچتا کہ اگر حسینہ چلی گئی تو پھر مشکلات کا دور شروع ہو جائے گا۔ اس نے کہا، "حسینہ دوسری شادی نہیں کرے گی، اس نے کئی بار یہ بات کہہ چکی ہے۔"

"وزیر علی، حسینہ حیا دار عورت ہے، اپنے منہ سے کیسے دوسری شادی کی بات کرے گی؟ کسی دن تم منہ دیکھتے رہ جاؤ گے۔" 
"تمہارا مطلب کیا ہے علی نواز؟"

میاں علی نواز نے رازدارانہ لہجے میں کہا، "اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو حسینہ سے نکاح پڑھوا لیتا۔"

وزیر علی چونک کر پیچھے ہٹا جیسے علی نواز نے اسے سوئی چبھو دی ہو۔ "کیسی بات کر رہے ہو؟ میں شادی کروں گا! میری اولاد تو پہلے ہی موقع کی تلاش میں ہے۔ پھر حسینہ بیگم کی عمر دیکھو اور میری عمر دیکھو۔ میں نے سنا ہے کہ اس کا وہ منظور بھی ادھر منڈلاتا رہتا ہے۔"

"اولاد کو بتانے کی کیا ضرورت؟ چپ چاپ نکاح پڑھوا لو۔ حسینہ تو تمہارے گھر میں ہی رہ رہی ہے اور منظور کی فکر نہ کرو، اس سے میں بات کر لوں گا۔"

"اور حسینہ سے کون بات کرے گا؟" 
"اس سے بھی بات ہو جائے گی۔"

وزیر علی کو یہ تجویز کچھ معقول معلوم ہوئی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا، "میاں علی نواز، اصل مسئلہ تو حلالہ کا ہے۔ اگر شادی کے چار روز بعد حسینہ یا منظور طلاق کے لیے اصرار کرنے لگے تو پھر کیا ہوگا؟"

میاں علی نواز ہولے ہولے سر ہلانے لگا، "یہ مسئلہ تو ہے۔" وہ سوچ میں پڑ گیا۔ ایک طویل توقف کے بعد اس نے وزیر علی کے گھٹنے پر ہاتھ مارا، "حل ہو گیا مسئلہ! تم ایسا کرو کہ حق مہر میں یہ مکان حسینہ کے نام کر دو اور شرط یہ رکھ دو کہ طلاق یا خلع کی صورت میں حسینہ مکان کی حقدار نہیں ہوگی۔"

"منظور اس بات پر راضی ہو جائے گا؟"

"اس کے راضی نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن پھر بھی ہم اس سے بات کر لیں گے۔ اگر اڑی تڑی کی تو پیسوں سے منہ بند کر دیں گے۔" 
"دیکھ لو، آخری عمر میں کہیں مٹی خراب نہ ہو جائے۔" 
"مٹی کیوں خراب ہوگی؟ سارا کام شرع کے مطابق کریں گے۔"

میاں نواز نے منظور اور مولوی اللہ بخش سے الگ الگ بات کر کے دونوں کو ہموار کر لیا۔ ابتدائی بات چیت میں اس نے وزیر علی کا ذکر نہیں کیا، صرف یہ کہا کہ ایک عمر رسیدہ آدمی کو شادی پر راضی کیا ہے۔

ایک روز اس نے مولوی اللہ بخش اور منظور کو حتمی بات طے کرنے کے لیے اپنے گھر بلایا۔ شیخ وزیر علی پہلے سے وہاں موجود تھا۔ رسمی بات چیت کے بعد میاں علی نواز نے بیٹھک کے دروازے بند کر دیے اور اصل بات کی طرف آتے ہوئے کہا، "مولوی صاحب، میں نے جس شخص کا ذکر کیا تھا، وہ یہی میرے دوست شیخ صاحب ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ حسینہ بیگم ان کے گھر میں کام کر رہی ہے اور وہاں اسے ہر طرح کی آسائش حاصل ہے۔"

یہ سن کر مولوی اللہ بخش بھی حیران ہوئے اور منظور بھی۔ مولوی اللہ بخش نے کہا، "شیخ صاحب، آپ اس عمر میں شادی کرنا چاہتے ہیں؟"

وزیر علی خاموش رہا۔ میاں علی نواز نے کہا، "مولوی صاحب، آپ ماشاءاللہ فقہ کے عالم ہیں۔ یہ بتائیں کہ کیا شادی کے لیے عمر کی کوئی قید یا پابندی ہے؟" 
"پابندی تو نہیں ہے۔"

"تو پھر اس بات کو چھوڑیں، اگلی بات کریں۔ میں نے شیخ صاحب کو بڑی مشکل سے اس نیک کام پر راضی کیا ہے۔"

منظور نے کہا، "شیخ صاحب کے بچے راضی ہو جائیں گے؟" 
"ان سے یہ معاملہ خفیہ رکھا جائے گا،" میاں علی نواز نے کہا۔ "حسینہ بیگم پہلے ہی شیخ صاحب کے گھر میں رہتی ہے۔ چار گواہوں کی موجودگی میں مولوی صاحب نکاح پڑھا دیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔" 
منظور نے پوچھا، "اور وہ... کیا کہتے ہیں علاوہ؟"

"وہی تو ہے یہ،" میاں علی نواز نے کہا، "لیکن اس میں طلاق کی شرط نہیں ہوتی۔ ایسی شرط رکھنا گناہ ہے۔ کیوں جی مولوی صاحب، میں نے غلط تو نہیں کہا؟" 
"ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ شیخ صاحب کی مرضی پر منحصر ہے کہ طلاق دیں یا نہ دیں۔" 
منظور کا منہ لٹک گیا، "او جی، یہ تو پھر کوئی بات نہ ہوئی، میرا مقصد تو پورا نہ ہوا۔"

میاں علی نواز منظور کو ایک طرف لے گیا اور آہستہ بولا، "اوئے، نادانوں جیسی بات نہ کر۔ دیکھتا نہیں شیخ صاحب قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ آج مرے پرسوں سوئم۔ میں نے تمہارے لیے شیخ صاحب سے پچاس ہزار کی بات کی ہے۔"

پچاس ہزار روپے اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ منظور خوش ہو کر پوچھا، "کیا واقعی؟" 
"ہاں، پورے پچاس ہزار روپے۔ اس کے علاوہ میں ایک اور تجویز ڈالنے والا ہوں۔" 
"وہ کیا جی؟"

"شیخ صاحب کو اپنا مکان حسینہ بیگم کے نام لگانا پڑے گا۔ تو خاموشی سے میری ہاں میں ہاں ملاتا رہ۔" 
"ٹھیک ہے جی، میں آپ کا تابعدار ہوں۔"

دونوں واپس آ گئے۔ میاں علی نواز نے کہا، "شیخ صاحب، میری ایک تجویز ہے۔ حسینہ بیگم کا کچھ تحفظ ہونا چاہیے۔ آپ ایسا کریں کہ اپنا مکان اس کے نام لگا دیں۔"

شیخ وزیر علی نے پروگرام کے مطابق تھوڑی سی رد و کد کے بعد تجویز قبول کر لی، "ٹھیک ہے، میں اپنا مکان حسینہ بیگم کے نام لگانے پر تیار ہوں، لیکن اس کے ساتھ میری ایک شرط ہوگی۔ یہ مکان میری موت کے بعد ہی حسینہ بیگم کو مل سکے گا۔ خلع یا طلاق کی صورت میں حسینہ بیگم مکان کی حقدار نہیں ہوگی۔"

"کیوں بھئی منظورے، بات تو معقول ہے،" میاں علی نواز نے کہا۔ "اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ شیخ صاحب بیوی سے بھی جائیں اور مکان سے بھی۔"

"آپ سمجھدار ہیں جی، جو مناسب سمجھیں فیصلہ کر لیں،" منظور نے کہا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی تھی کہ بوڑھا وزیر علی چل چلاؤ کی عمر میں تھا۔

"ایک بات اور ہے،" وزیر علی نے کہا، "یہ مکان حق مہر کی صورت میں ہوگا۔"

منظور نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔

میاں علی نواز نے منظور سے کہا، "یہ معاملہ تو طے ہو گیا۔ اب حسینہ بیگم کو راضی کرنا تمہارا کام ہے۔ تم کل کسی وقت شیخ صاحب کے گھر چلے جاؤ اور حسینہ بیگم سے بات کرو۔"

وزیر علی نے اسے سمجھا دیا کہ وہ کس وقت ان کے گھر آئے اور کون سا دروازہ کھٹکھٹائے۔

حسینہ بیگم نے اپنے سابق شوہر کو دیکھ کر غصے سے منہ بنایا اور بولی، "کیا لینے آئے ہو یہاں؟" اس وقت دن کے تین بج چکے تھے اور گھر کے تمام افراد سو رہے تھے۔ منظور نے کہا، "تم سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں، مجھے مولوی صاحب نے بھیجا ہے۔" حسینہ نے کہا، "کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں، میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔" منظور بولا، "تمہارے فائدے کی بات ہے، دو چار منٹ لگیں گے، اجازت دو تو اندر آ جاؤں۔" حسینہ بیگم نے چند منٹ تذبذب کیا اور پھر اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔ منظور نے مالکانہ نظروں سے مکان کا جائزہ لیا، حسینہ بیگم کے صاف ستھرے کمرے کو دیکھا، اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو دیکھا اور دل میں سوچا کہ عنقریب وہ بڑے ٹھاٹھ سے اس مکان میں رہے گا۔

حسینہ نے کہا، "جلدی کہو جو کہنا ہے، کوئی جاگ گیا تو اچھا نہیں ہوگا۔" منظور نے تہمید باندھتے ہوئے کہا، "شیخ صاحب کے ایک دوست ہیں، میاں علی نواز، انہوں نے مولوی صاحب سے بات کی، مولوی صاحب نے میرے ساتھ بات کی اور اب میں تیرے پاس یہ بات کرنے آیا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میاں علی نواز نے تمہیں دیکھا اور بہت پسند کیا، وہ چاہتے ہیں کہ تم نوکرانی کی بجائے شیخ صاحب کی گھر والی بن جاؤ۔" حسینہ نے حیرت سے کہا، "تمہارا دماغ تو نہیں پھر گیا؟ کہاں شیخ صاحب اور کہاں میں! اگر شیخ صاحب نے یہ بات سن لی تو وہ مجھے جوتے مار کر گھر سے نکال دیں گے۔" منظور نے دھیمی آواز میں کہا، "شیخ صاحب سے بات ہو چکی ہے، میاں صاحب نے انہیں راضی کر لیا ہے۔"

حسینہ نے پوچھا، "یہ وہی چکر تو نہیں جو مولوی صاحب نے بتایا تھا؟ یعنی شیخ صاحب میرے ساتھ شادی کریں گے، پھر طلاق دیں گے، پھر مولوی صاحب تمہارے ساتھ میرا نکاح پڑھائیں گے؟ نہ بابا، میں اسی طرح خوش ہوں، بہت جوتے کھا لیے تمہارے۔ اس وقت کی بات اور تھی، اس وقت میں بے سہارا تھی۔" منظور نے چلاکی سے کہا، "طلاق کی بات کون کر رہا ہے؟ میں تو تیرے بھلے کی بات کر رہا ہوں۔ میاں صاحب نے شیخ صاحب کو اس بات پر بھی راضی کر لیا ہے کہ وہ اپنا یہ مکان تمہارے نام کر دیں گے۔" حسینہ نے کہا، "کیسی باتیں کر رہے ہو؟" منظور بولا، "حد ہو گئی، تجھے یقین ہی نہیں آ رہا۔ یہ بھی سن لے کہ یہ ساری باتیں میرے سامنے ہوئی ہیں۔ شیخ صاحب نے خود یہ مکان تمہارے نام کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ساتھ یہ شرط رکھی ہے کہ وہ تمہیں طلاق نہیں دیں گے۔ یہ مکان تمہیں ان کی موت کے بعد ملے گا، اگر تم نے ان کی زندگی میں علیحدگی اختیار کر لی تو مکان نہیں ملے گا۔"

حسینہ نے پوچھا، "اچھا! پھر تم کیوں پریشان ہو رہے ہو؟" منظور نے کہا، "یہ بھی تو سوچ کہ شیخ صاحب کی عمر ہی کتنی ہے، پتہ نہیں کب اللہ کو پیارے ہو جائیں۔" حسینہ نے پوچھا، "تو پھر تمہیں کیا فائدہ ہوگا؟" منظور بولا، "تو پھر ہم دوبارہ نکاح کر لیں گے، یہ مکان ہوگا اور ہم ہوں گے اور عیش ہوگا۔" حسینہ نے کہا، "یہ بات اب اپنے دل سے نکال دے۔ میں اپنی مرضی سے فیصلہ کروں گی۔ میری مرضی ہوگی تو شادی کروں گی، نہیں ہوگی تو نہیں کروں گی۔" منظور نے اس بات پر زیادہ زور نہ دیا اور کہا، "چل یونہی سہی، تو شیخ صاحب کے ساتھ شادی پر تو راضی ہے نا؟" حسینہ بولی، "پتہ نہیں، مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔ شیخ صاحب کی اولاد تو اس بات پر قیامت کھڑی کر دے گی۔" منظور نے کہا، "یہ سارا معاملہ خفیہ ہوگا، چار گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوگا اور بات باہر نہیں جائے گی، لکھت پڑھت پکے کاغذ پر ہوگی۔ تو فکر کیوں کرتی ہے؟ نکاح ہو جائے تو پھر کوئی مائی کا لال کچھ نہیں کر سکتا۔" حسینہ بیگم نے کہا کہ وہ سوچ کر جواب دے گی، لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ راضی ہو چکی تھی۔

تین ہفتے بعد مولوی اللہ بخش نے چار آدمیوں کی موجودگی میں حسینہ بیگم اور شیخ وزیر علی کا نکاح پڑھا دیا۔ جن گواہوں نے نکاح نامے پر دستخط کیے تھے، ان میں سے ایک کا نام محمد یاسین تھا اور دوسرا میاں علی نواز تھا۔ محمد یاسین ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم اور معتبر آدمی تھا۔ یہ تمام حالات مجھے مختلف لوگوں کی زبانی معلوم ہوئے۔ منظور کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ شیخ وزیر علی کی وفات سے تین چار مہینے پہلے سرگودھا چلا گیا تھا، شاید وہ شیخ وزیر علی کے مرنے کا انتظار کرتے کرتے تھک گیا تھا۔

میں نے مولوی اللہ بخش، میاں علی نواز اور محمد یاسین کو اختر علی کے گھر میں جمع کیا اور علی نواز سے کہا کہ وہ اپنے مرحوم دوست کے بیٹے کو ساری صورت حال سمجھائیں۔ میاں علی نواز نے نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر اختر علی کے سامنے رکھ دیا اور سارے حالات بتانے کے بعد کہا، "یہ پکا کاغذ تمہارے سامنے ہے، نکاح نامہ بھی دیکھ لو۔ تمہارے باپ کو صرف اسی وجہ سے دوسری شادی کی ضرورت پیش آئی تھی کہ تم لوگ اس کی خدمت نہیں کرتے تھے۔" اختر علی کبھی نکاح نامے کو اور کبھی اسٹیمپ پیپر کو دیکھتا رہا، اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جس عورت کو وہ چار سال تک ملازمہ سمجھتا رہا، وہ اس کی سوتیلی ماں تھی۔ ایک طویل توقف کے بعد اس نے کہا، "یہ سب کچھ غلط ہے جی، میں اسے نہیں مانتا۔ ابا جی ایسی حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چلے اور شادی ہو جائے؟ یہ مکان میرا ہے، میں اس معاملے میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔"

میاں علی نواز نے کہا، "دیکھ اختر علی، اگر تیرے باپ نے چھپ کر شادی کی تو کوئی گناہ نہیں کیا، اسے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تمہیں اپنے باپ کی شادی کا علم تھا یا نہیں۔ یہ کاغذات اصلی ہیں اور گواہ تمہارے سامنے موجود ہیں۔ مولوی صاحب بھی تشریف فرما ہیں، وہ نیک اور دیانت دار آدمی ہیں، نکاح انہوں نے پڑھایا تھا۔ حسینہ بیگم کا پہلا خاوند بھی نکاح میں موجود تھا۔ تم کس کس کو جھٹلاؤ گے؟ یہ اسٹیمپ پیپر بھی تمہارے سامنے ہے، اس پر گواہوں کے دستخط اور عدالت کی مہر موجود ہے۔ اس شادی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ حسینہ بیگم تمہارے باپ کی موت تک اس کے ساتھ رہی اور اب بھی اس کے گھر میں موجود ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ سمجھداری سے کام لو۔" میاں علی نواز بڑی عمدگی سے حسینہ بیگم کا کیس پیش کر رہا تھا، یوں لگتا تھا کہ وہ باقاعدہ تیاری کر کے آیا ہے۔ اختر علی نے کہا، "اوہ چاچا جی، آپ کو اس معاملے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ میرا اور حسینہ بیگم کا معاملہ ہے۔ آپ کو میری حمایت کرنی چاہیے کیونکہ آپ ابا جی کے پرانے دوست ہیں، الٹا آپ مخالف پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں۔"

میاں علی نواز نے کہا، "اوہ، یہاں مخالف پارٹی کوئی نہیں ہے۔ تم میرے دوست کے بیٹے ہو اور حسینہ بیگم میرے دوست کی بیوہ ہے۔ بیوہ ہی نہیں، ایک مظلوم اور بے سہارا عورت ہے۔ اس نے تیرے باپ کی بہت خدمت کی ہے، اس کی ہی نہیں تمہاری بھی خدمت کی ہے۔ وزیر علی نے مجھے اس کا خیال رکھنے کی سخت تاکید کی تھی۔"

"ہم نے ابا جی کی بہت خدمت کی ہے،" اختر علی نے کہا، "آخری عمر میں ابا جی کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہے تھے۔ میں یہ کیس عدالت میں لے جاؤں گا، جو ہوگا سو دیکھا جائے گا۔" میاں علی نواز نے برہمی سے کہا، "اوئے پاگل نہ بن، عدالت میں جائے گا تو تیرے مرحوم باپ کی بدنامی ہوگی۔" میں خاموشی سے یہ ساری بحث سن رہا تھا۔ بیٹھک کے ایک کونے میں حسینہ بیگم اور اس کی بیٹی خاموش بیٹھی تھیں۔ یہ دیوانی کیس تھا اور ہمارے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ میاں علی نواز نے مجھ سے کہا، "ملک صاحب، اس نادان کو سمجھائیں کہ عدالت میں جانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، چار پیشیوں میں حسینہ بیگم کے حق میں ڈگری ہو جائے گی۔" میں نے کہا، "میاں صاحب، میں کوئی شوشل ورکر نہیں ہوں۔ جب تک حسینہ بیگم اس گھر میں رہ رہی ہے، اس وقت تک ہم کوئی دخل نہیں دے سکتے، لیکن اگر اختر علی نے اسے گھر سے نکالنے کی کوشش کی تو پھر یہ قابل دست اندازی پولیس کیس ہوگا۔"

میری بات سن کر اختر علی کچھ مطمئن سا نظر آنے لگا۔ قدرے توقف کے بعد بولا، "میاں صاحب، میرا آپ کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔ آپ اس معاملے میں دخل نہ دیں۔ ملک صاحب نے فیصلہ سنا دیا ہے، یہ عورت بے شک اس گھر میں رہے، اب میں اسے نہیں نکالوں گا، عدالت نکالے گی۔" اس نے ہولے سے اضافہ کیا، "میں اسے عدالتوں میں خوار کروں گا، یہ عدالت میں میرا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔" یہ سن کر میاں علی نواز نے برہمی سے کہا، "اوہ، اسے اکیلا نہ سمجھنا، میں اس کے ساتھ ہوں۔" بات ختم کرتے ہی اس نے کاغذات طے کر کے تھیلے میں رکھے اور سلام کر کے رخصت ہو گیا۔ گواہ محمد یاسین اور مولوی صاحب بھی اٹھ گئے۔ اختر علی مجھے دروازے تک چھوڑنے گیا اور میری ہمدردیاں حاصل کرنے والی باتیں کرتا رہا، اور آپ جانتے ہی ہیں کہ پولیس کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کس قسم کی باتیں کی جاتی ہیں۔

چند ہفتوں کے بعد مجھے پتہ چلا کہ منظور واپس آ گیا تھا اور حسینہ بیگم سے ملا بھی تھا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی تھی، آیا حسینہ بیگم اس کے ساتھ شادی کرنے پر راضی ہوئی تھی یا نہیں۔ البتہ یہ سننے میں آیا کہ اختر علی نے کوئی کیس داخل نہیں کیا تھا، نہ ہی اس نے حسینہ بیگم کو دوبارہ گھر سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ دونوں نے آپس میں کوئی سمجھوتہ کر لیا تھا۔ لیکن ایک شخص کو یہ سمجھوتا پسند نہیں آیا۔

اپریل کے مہینے میں یہ اطلاع ملی کہ اختر علی کو نیند کی حالت میں کسی نے قتل کر دیا ہے۔ صبح جب میں ڈیوٹی پر پہنچا تو سب سے پہلے اس واردات کی رپورٹ ملی۔ میں چند آدمیوں کے ہمراہ فوراً جائے واردات پر پہنچ گیا۔ مکان کے باہر کافی لوگ جمع تھے۔ اختر علی کی لاش خون میں لت پت بستر پر پڑی تھی۔ اس کے جسم پر تیز دھار آلے سے تقریباً پانچ وار کیے گئے تھے، ان میں سے تین زخم سینے پر اور دو پیٹ پر آئے تھے۔ یہ میں آپ کو سرسری معائنے کی رپورٹ بتا رہا ہوں۔ ایک زخم عین دل کے اوپر تھا، غالباً قاتل نے پہلا وار دل پر کیا تھا، لیکن ایک وار سے مطمئن نہیں ہوا تھا اور مزید وار کرتا چلا گیا تھا۔ مقتول کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا مگر زخم کوئی نہیں تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اسے مزاحمت کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ قاتل نے اسے نیند کی حالت میں ہی ختم کر دیا تھا۔ موسم گرم ہو چکا تھا اور اختر علی صحن کی طرف والے برآمدے میں سوتا تھا۔ جائے واردات پر آلہ قتل موجود نہیں تھا۔ قاتل اگر باہر سے آیا تھا تو یقیناً دیوار پھاند کر اندر داخل ہوا تھا۔

گھر کے اندر حسینہ بیگم اور اس کی بیٹی کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ فوری طور پر میرے ذہن میں یہی بات آئی کہ یہ قتل جائیداد کی وجہ سے کیا گیا تھا اور ایسی صورت میں حسینہ بیگم کی پوزیشن شبہے سے بالا نہیں تھی۔ وہ خاصی توانا عورت تھی اور سوئے ہوئے آدمی پر بآسانی وار کر سکتی تھی۔ میں نے ایک اے ایس آئی کو واردات کا نقشہ تیار کرنے کے لیے کہا اور خود حسینہ بیگم کے کمرے میں پہنچ گیا۔ وہ محلے کی دو تین عورتوں کے درمیان سہمی ہوئی بیٹھی تھی، اس کی دس سالہ بیٹی بھی وہاں موجود تھی۔ میں نے کہا، "بی بی، میں تم سے اس واردات کے بارے میں چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔" اس نے اپنی بیٹی سے کرسی لانے کے لیے کہا، وہ اٹھی اور ایک کرسی لا کر دروازے کے پاس رکھ دی۔

حسینہ بیگم، یہ واردات کیسے پیش آئی؟ میں نے کرسی پر بیٹھنے کے بعد پوچھا۔ اس نے جواب دیا، "مجھے تو جی کچھ پتہ نہیں ہے۔ میں صبح اٹھی تو دیکھا کہ اختر علی خون میں لت پت پڑا ہے۔ لاش دیکھ کر میرے ہاتھ پیر پھول گئے، میں چیختی ہوئی باہر بھاگی۔ میری چیخیں سن کر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔" میں نے پوچھا، "تم کتنے بجے اٹھی تھیں؟" "میں روزانہ چھ سوا چھ بجے اٹھ جاتی ہوں۔" بعد میں دیگر گواہوں کے بیانات سے اس بات کی تصدیق ہو گئی، دو تین پڑوسیوں نے بتایا کہ انہوں نے چھ بجے سے کچھ دیر پہلے چیخوں کی آواز سنی تھی۔ میں نے پوچھا، "اختر علی کتنے بجے اٹھتا تھا؟" "اختر علی دیر سے اٹھتا تھا، کبھی سات اور کبھی آٹھ بجے۔"

کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ اس نے صبح صبح اٹھ کر اختر علی کا خاتمہ کر دیا تھا اور پھر چیختی ہوئی گلی میں نکل گئی تھی؟ میں نے اس کے ہاتھوں اور کپڑوں کا جائزہ لیا مگر کہیں خون کا دھبا دکھائی نہ دیا۔ میں نے پوچھا، "تم کس دروازے سے نکل کر گلی میں گئی تھیں؟" اس نے باہر کی طرف اشارہ کیا، "میں صحن والے دروازے سے باہر گئی تھی۔" قدرے سوچ کر اضافہ کیا، "وہ دروازہ کھلا ہوا تھا، حالانکہ رات کو میں نے خود دروازہ بند کیا تھا۔" میں نے سوچا، کیا یہ مجھے سمجھانا چاہ رہی ہے کہ قاتل دیوار پھاند کر اندر داخل ہوا تھا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا تھا؟

"تم نے رات کو چیخنے یا لڑنے جھگڑنے کی آواز نہیں سنی؟" "میں نے کوئی آواز نہیں سنی، ہم ماں بیٹی دروازہ بند کر کے اس کمرے میں سوتے ہیں۔" "اندر تمہیں گرمی نہیں لگتی؟" "گرمی تو لگتی ہے جی، پر کیا کریں، عزت کا خیال بھی کرنا پڑتا ہے۔" یہ بات نادانستگی میں اس کے منہ سے نکل گئی تھی۔ میں نے سوچا، کہیں یہ جائیداد سے بڑھ کر عزت کا معاملہ تو نہیں تھا؟ یہ بات وہ پہلے بھی بتا چکی تھی کہ اختر علی اس پر بری نظر رکھتا تھا اور دو تین دفعہ دست درازی کی کوشش بھی کر چکا تھا۔

میں نے پوچھا، "کیا اختر علی نے تمہاری عزت پر ہاتھ ڈالا تھا؟" اس نے تامل کرتے ہوئے جواب دیا، "نیت تو اس کی اچھی نہیں تھی پر اس کی ہمت نہیں پڑی، کیونکہ میاں علی نواز میری خیریت پوچھنے آتے رہتے تھے۔" "میاں علی نواز تمہارا بہت خیال رکھتے ہیں؟" "ہاں جی، نیک آدمی ہیں۔" "میں نے سنا ہے کہ تمہارا پہلا خاوند منظور بھی تم سے ملتا رہتا ہے، کیا وہ تم سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے؟" "وہ تو چاہتا ہے مگر میں نہیں چاہتی۔" "کیوں؟ میں نے تو سنا ہے کہ تم نے اس سے شادی کا وعدہ کر رکھا تھا۔ کیا تم دونوں میں یہی طے نہیں ہوا تھا کہ شیخ وزیر علی کی موت کے بعد دوبارہ شادی کر لو گے؟" "جی نہیں، میں نے اسے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ عورت سہارے کے لیے شادی کرتی ہے، مار کھانے کے لیے نہیں کرتی۔ اگر میرے پاس سہارا نہ ہوتا تو شاید میں اس کے ساتھ شادی کر لیتی۔" "کون سا سہارا ہے تمہارے پاس؟" میں نے پوچھا، "سہارے کے بارے میں بتاؤ اور یہ بھی بتاؤ کہ منظور کے ساتھ تمہاری کیا بات ہوئی تھی؟"

اس نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب منظور کو پتہ چلا کہ شیخ وزیر علی فوت ہو گئے ہیں تو وہ بہت خوش ہوا اور آ کر اسے مبارکباد دی۔ حسینہ نے کہا کہ یہ سن کر اسے بہت غصہ آیا، اس نے منظور سے کہا، "میں ایسی مبارکباد پر لعنت بھیجتی ہوں۔ مجھے شیخ صاحب کی موت کا بہت دکھ ہوا ہے، انہوں نے مجھے بہت سکھ دیا تھا، کبھی اف تک نہیں کہا تھا۔" منظور نے مکاری سے کہا، "ہاں یہ تو ہے، شیخ صاحب آدمی تو بہت اچھے تھے، ویسے مجھے بھی ان کی موت پر دکھ ہوا ہے۔ یہ بتا، مکان تو تیرے قبضے میں ہے نا؟" حسینہ بولی، "میرے قبضے میں کچھ نہیں ہے، اختر علی نے مجھے نکال باہر کیا تھا۔" اس نے منظور کو ساری تفصیل بتائی، پھر بولی، "اللہ بھلا کرے میاں علی نواز کا، انہوں نے بھاگ دوڑ کر کے معاملہ سیدھا کر دیا، ورنہ کچھ بھی نہیں ہونا تھا۔"

اچھا! منظور نے گردن پھلائی، "تو نے مجھے کیوں نہیں اطلاع بھجوائی؟ اس علاقے کے سارے غنڈے بدمعاش میرے یار بیلی ہیں، میں اختر علی کو ایک منٹ میں سیدھا کر دیتا۔ مکان کا کاغذ کہاں ہے؟" "وہ میں نے میاں علی نواز کے پاس رکھوایا ہوا ہے۔" "اب تو کوئی فکر نہ کر، میں آ گیا ہوں۔ میں نے مولوی صاحب سے بات کر لی ہے، انہوں نے بتایا ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعد نکاح ہوگا، اس کے بعد اختر علی کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔" حسینہ نے کہا، "میں اب شادی نہیں کروں گی، اپنے دل سے امید نکال دے۔" "اوئے، کیا ہو گیا ہے تجھے؟ یاد نہیں تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ شیخ صاحب سے تیری شادی کا سارا بندوبست میں نے ہی کیا تھا، یہ شادی تو تو نے شرع کی شرط پوری کرنے کے لیے کی تھی۔" "جھوٹ نہ بول، تو نے کچھ نہیں کیا تھا، تو تو میری قیمت کھری کر کے لے گیا تھا۔ شیخ صاحب نے مجھے ساری کہانی سنا دی تھی۔ شیخ صاحب نے تجھے پچاس ہزار روپے نہیں دیے تھے؟" "وہ تو انہوں نے اپنی خوشی سے دیے تھے۔" "کس بات کی خوشی؟ چل چھوڑ ان باتوں کو۔ میں اب بڑا ستھرا بندہ بن کر آیا ہوں، وہ پہلے والا منظور نہیں ہوں، میں اب تجھے پھولوں کی طرح سنبھال کر رکھوں گا۔" "مجھے تیری باتوں کا اعتبار نہیں ہے۔" "میں تیرے بچوں کا باپ ہوں، میرے ساتھ شادی نہیں کرے گی تو کس کے ساتھ کرے گی؟ اکیلی عورت کچھ نہیں کر سکتی، اختر علی کو جب موقع ملا تجھے نکال باہر کرے گا، لیکن میرے ہوتے ہوئے یہ ایسی جرات نہیں کر سکتا۔" اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا، "شادی کے دوسرے دن اسے اٹھا کر باہر نہ پھینکا تو میرا نام بھی منظور خان نہیں۔" "ابھی تو جا، میں سوچوں گی،" حسینہ نے جان چھڑانے کے لیے کہا۔ منظور دوبارہ آنے کا کہہ کر واپس چلا گیا۔
٭٭٭٭
شام کو جب اختر علی گھر آیا تو حسینہ نے اسے منظور کے بارے میں بتایا۔ "کیا کہتا تھا؟" "مجھ سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے۔" "تم نے کیا جواب دیا؟" "میں نے کہا میں سوچ کر جواب دوں گی۔ وہ آپ کے بارے میں بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا۔" "میرا اس سے کیا واسطہ؟" "کہہ رہا تھا کہ شادی کے دوسرے ہی روز اختر علی کو باہر پھینک دوں گا، یہ بھی کہتا تھا کہ علاقے کے سارے غنڈے بدمعاش اس کے دوست ہیں۔" یہ سن کر اختر علی کچھ فکر مند نظر آنے لگا اور غالباً حسینہ بیگم نے یہ بات اسے ڈرانے کے لیے ہی کہی تھی اور واضح طور پر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب رہی تھی۔ "تو پھر تم نے کیا فیصلہ کیا ہے؟" اختر علی نے پوچھا۔ حسینہ بولی، "میں نے کیا فیصلہ کرنا ہے، عورت تو مرد کے سہارے کی محتاج ہوتی ہے، تمہارا کیا بھروسہ، تم مجھے دوبارہ دھکا دے سکتے ہو۔" اختر علی اس وقت چپ ہو گیا۔

رات کے کھانے کے بعد اس نے کہا، "حسینہ بی بی، میں نے تمہارے لیے ایک طریقہ سوچا ہے، اگر تم راضی ہو تو تمہیں زندگی بھر کا سہارا مل سکتا ہے۔" "کیا سوچا ہے؟" "اگر تم آئندہ شادی نہ کرنے کا وعدہ کرو تو میں ادھر کے دو کمرے اور باورچی خانہ تمہارے حوالے کر دوں گا، بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دوں گا۔ اگر تم کہو گی تو اس حصے کی تمہارے نام رجسٹری بھی کروا دوں گا، لیکن اس سے پہلے تمہیں ابا جی کا نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر میرے حوالے کرنا ہو گا۔" حسینہ نے کہا، "صرف دو کمرے؟ تمہارے ابا جی تو پورا مکان میرے نام لگا گئے تھے۔" "یہ مکان تمہیں اتنی آسانی سے نہیں مل سکے گا، عدالتوں میں بندے کی عمر گل جاتی ہے، دیوانی کیس نسل در نسل چلا کرتے ہیں، تمہیں ان باتوں کا تجربہ نہیں ہے۔" حسینہ بیگم عدالتوں کے چکر میں پڑنے کے لیے تیار نہیں تھی، اس کے لیے دو کمرے بہت تھے۔ پورا مکان دو کنال کے رقبے میں بنا ہوا تھا، دو کمروں کے ساتھ حسینہ بیگم کے حصے میں دس مرلے سے زیادہ زمین آ جاتی۔ اسے تامل کرتے دیکھ کر اختر علی نے کہا، "میں تمہیں ضروری سامان بھی دے دوں گا، اس کے علاوہ تمہاری دو وقت کی روٹی بھی میرے ذمے ہے، اس کے بدلے تم میرے گھر کا کام کاج کر دیا کرنا۔" حسینہ بیگم نے سوچ کر جواب دینے کا وعدہ کیا اور دو روز کے بعد میاں علی نواز سے اس معاملے میں مشورہ کیا۔

میاں علی نواز نے اختر علی کی تجویز کو پسند نہیں کیا اور حسینہ بیگم سے کہا کہ وہ نہ تو اختر علی کے چکر میں آئے اور نہ ہی منظور سے میل جول رکھے، کیونکہ وہ لوگ اسے پھانسنا چاہتے ہیں۔ حسینہ بیگم میاں علی نواز کو اپنا محسن سمجھتی تھی اور اس کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ تین چار روز بعد منظور دوبارہ اسے ملنے آیا اور پوچھا کہ اس نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ حسینہ بیگم نے جواب دیا، "میرا اختر علی سے معاملات طے ہو گیا ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس مکان کے دو کمرے میرے نام لگا دے گا اور بیچ میں دیوار کھینچ دے گا، تاکہ میرا حصہ بالکل الگ ہو جائے۔" "اوہ، یہ تو پورا مکان تیرا ہے، تو دو کمروں پر راضی ہو گئی!" "میں نے کیا کرنا ہے پورا مکان، میرے لیے دو کمرے ہی بہت ہیں، میں کسی مقدمے بازی میں نہیں پڑنا چاہتی۔" منظور نے حسینہ بیگم کو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مانی۔

حسینہ بیگم کے اس بیان کی بعض باتیں وضاحت طلب تھیں، مثلاً ایک یہ کہ جب میاں نواز نے اسے اختر علی سے سمجھوتہ کرنے سے منع کر دیا تھا تو اس نے منظور سے کیوں یہ کہا تھا کہ اس کا اختر علی سے سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ تاہم اس کے بیان سے بظاہر یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ اختر علی کے قتل میں منظور کا ہاتھ تھا۔ میں نے جائے واردات پر ضابطہ کی کارروائی مکمل کی اور دو آدمیوں کے ہمراہ منظور کے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ وہ ایک تنگ سے مکان میں رہتا تھا، کمرے کا دروازہ ایسا تھا کہ اگر ذرا زور سے دھکا دے دیا جاتا تو وہ چوکھٹ سمیت باہر آ جاتا۔

ہمیں دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا، بولا، "کیسے آنا ہوا سرکار؟" اس کی عمر چالیس پینتالیس سال کے درمیان تھی، جسم مضبوط نظر آتا تھا، بال چھوٹے تھے، چہرے پر اکھڑ پن پایا جاتا تھا۔ میں نے اسے ایک طرف کیا اور کمرے کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ وہ مختصر سا کمرہ تھا اور اس میں زیادہ سامان نہیں تھا۔ ایک پرانے سے ٹرنک میں بوسیدہ کپڑوں کے چند جوڑے رکھے تھے، میں نے ایک ایک کپڑے کا جائزہ لیا مگر کسی پر خون کے دھبے دکھائی نہیں دیے۔ کچھ میلے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے، ان پر بھی دھبہ نہیں تھا۔ البتہ قمیض کی جیب سے ایک کمانی دار چاقو برآمد ہو گیا، میں نے بڑی باریکی سے اس کا جائزہ لیا مگر وہ صاف تھا۔

"مسئلہ کیا ہے سرکار؟" منظور نے پوچھا، "کچھ مجھے بھی تو پتہ چلے۔" تلاشی مکمل کرنے کے بعد میں نے کہا، "گھر کو تالا لگاؤ، مسئلہ تھانے میں چل کر بتائیں گے۔" "جج... جناب! میں شریف آدمی ہوں۔" حوالدار نے کہا، "وہ تو تمہاری شکل سے ہی ظاہر ہے، زیادہ باتیں نہیں بناؤ اور دروازے کو تالا لگاؤ۔" اس نے حکم کی تعمیل کی۔ ہم اسے لے کر تھانے پہنچ گئے۔ ایک اے ایس آئی کو میں اختر علی کے پڑوسیوں سے پوچھ گچھ کے لیے پیچھے چھوڑ آیا۔ ویسے منظور کا محرک خاصہ واضح تھا، اس کے خیال میں چونکہ حسینہ بیگم کو اختر علی کا سہارا مل گیا تھا اس لیے وہ شادی سے گریزاں تھی، لہٰذا اسے سیدھے راستے پر لانے کے لیے اختر علی کا کانٹا نکالنا ضروری تھا۔ بہرحال یہ ایک تھیوری تھی، اس کی تصدیق کی ضرورت تھی۔ چنانچہ میں نے منظور کو اپنے کمرے میں بلایا اور پوچھا، "تم نے اختر علی کو قتل کیوں کیا؟"

"قق... قتل! اختر علی قتل ہو گیا ہے؟" اس نے حیرانی سے کہا۔ اگر وہ اداکاری تھی تو عمدہ اداکاری تھی۔ میں نے کہا، "حسینہ بیگم نے ہمیں سب کچھ بتا دیا ہے، سیدھی طرح سے اپنے جرم کا اقرار کر لو گے تو تکلیف سے بچ جاؤ گے۔" وہ قسمیں کھانے لگا، "مجھے تو کچھ پتہ نہیں ہے جی، میں نے تو کئی روز سے اختر علی کی شکل بھی نہیں دیکھی۔" میں نے کہا، "جب حسینہ بیگم نے شیخ وزیر علی سے شادی کا فیصلہ کیا تھا تو تمہارے ساتھ کیا وعدہ کیا تھا؟" "سرکار، جب مجھے غصہ آتا ہے تو میرا مغز الٹ جاتا ہے، مجھے کچھ ہوش نہیں رہتا۔ میں نے غصے میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، ایسا پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکا تھا، میں بعد میں توبہ کر لیتا تھا اور گھر کی بات گھر میں ہی رہ جاتی تھی۔ لیکن اس روز پڑوسی مولوی صاحب کو بلا لائے، مولوی صاحب نے فتوے کی ایسی مار ماری کہ بنے بنائے گھر کی جڑ کاٹ دی۔ میری بیوی مجھ پر حرام کر دی اور کہا کہ اب یہ کسی اور سے شادی کرے گی اور جب ادھر سے طلاق ملی تو پھر میرے لیے حلال ہوگی۔ پھر یہ معاملہ شیخ صاحب تک پہنچا۔ حسینہ نے وعدہ کیا کہ وہ شیخ صاحب سے طلاق لے کر دوبارہ میرے ساتھ نکاح پڑھوا لے گی، لیکن بعد میں مکر گئی۔ میں نے اسے دھمکی دی کہ میں ساری کہانی شیخ صاحب کی اولاد کو بتا دوں گا، اس پر وہ ڈر گئی اور وعدہ کیا کہ وہ چند روز کے اندر شیخ صاحب سے بات کرے گی۔ میں نے کہا آج ہی بات کرو، ورنہ میں سارے محلے میں اعلان کر دوں گا۔ یہ دھمکی میں نے صبح دی تھی، شام کو شیخ صاحب نے مجھے اپنے پاس بلایا اور نئی پخ لگا دی۔ اس وقت میاں علی نواز بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب نے اپنا مکان حسینہ کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن شرط یہ ہوگی کہ حسینہ ان سے طلاق نہیں مانگے گی، شیخ صاحب کی موت کے بعد مکان ہمارا ہو جائے گا۔ میاں صاحب نے مجھے یہ پٹی پڑھائی کہ شیخ صاحب بوڑھے آدمی ہیں، کسی وقت بھی اللہ کو پیارے ہو سکتے ہیں۔ سرکار، میں ان کی باتوں میں آ گیا، دل میں لالچ آ گیا، سوچا ایک دو سال کی تو بات ہے، پھر ہمیں اتنا بڑا مکان مل جائے گا۔"

میں نے کہا، "تمہارا یہ مطلب ہے کہ مکان کا اسٹیمپ پیپر بعد میں تیار کیا گیا تھا؟" "آہو جی، یہ اشٹام شادی کے چار پانچ روز بعد لکھا گیا تھا اور میری ضد کی وجہ سے لکھا گیا تھا۔" میں نے سوچا گویا مجھے جو کچھ بتایا گیا تھا اس میں بہت سا جھوٹ شامل تھا۔ اب میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ میری معلومات کا بڑا ذریعہ میاں علی نواز تھا، دوسرا بڑا ذریعہ حسینہ بیگم تھی۔ سوال یہ تھا کہ اس نے میاں علی نواز کی حمایت میں جھوٹ کیوں بولا تھا؟ یہ باتیں تصدیق طلب تھیں۔ اگر اسٹیمپ پیپر شادی کے پانچ روز بعد تیار کیا گیا تھا تو پھر منظور کا یہ بیان درست معلوم ہوتا تھا کہ حسینہ بیگم نے اس سے دوبارہ شادی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اس سے منظور کے محرک میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بلکہ اس کا محرک پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا تھا۔

میں نے پوچھا، "تم نے صرف 'طلاق' کا لفظ بولا تھا یا تین طلاق کہا تھا؟" "صرف طلاق کہا تھا جی، اور وہ تو میں نے صرف ڈرانے کے لیے کہا تھا، اتنی خوبصورت اور سلیقہ شعار بیوی کو کون طلاق دیتا ہے۔" "تو پھر روز جھگڑا کیوں ہوتا تھا؟" "یہ تو جی غریبوں کی شامت اعمال ہے، بھوکے ننگے لوگ لڑنے جھگڑنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔" "آگے کیا ہوا تھا؟" میں نے پوچھا، "کیا تم نے حسینہ بیگم کے سامنے اختر علی کو دھمکی دی تھی؟" "سرکار، دھمکی تو کوئی نہیں دی۔ جب مجھے شیخ صاحب کی موت کے بارے میں پتہ چلا تو میں واپس آیا اور حسینہ کو اس کا وعدہ یاد دلایا، لیکن وہ پھر ٹال مٹول کرنے لگی، کہنے لگی کہ میاں صاحب سے مشورہ کرنے کے بعد جواب دے گی۔ پھر دو تین روز کے بعد کہا کہ میاں صاحب نے منع کر دیا ہے۔ میں میاں صاحب سے ملا، وہ الٹا مجھے دھمکی دینے لگے، کہنے لگے کہ میرا اب حسینہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے میں اس سے دور رہوں۔ میں نے ان سے اشٹام مانگا تو انہوں نے مجھے گالیاں دیں اور کہا کہ بھاگ جاؤ، اس اشٹام سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے، زیادہ تڑ بڑ کرو گے تو اندر کروا دوں گا۔ جناب! میں غریب آدمی ہوں، میاں صاحب کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اس لیے چپ ہو گیا۔"

اس کی باتیں سن کر ایک اور ہی نقشہ میرے ذہن میں ابھرنے لگا تھا۔ میاں علی نواز کی دلچسپی اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی گہری معلوم ہوتی تھی۔ اس حقیقت کے انکشاف کے بعد منظور کا محرک کچھ کمزور پڑ گیا تھا۔ اگر اس نے حسینہ بیگم یا مکان کے لیے اختر علی کو قتل کیا تھا تو وہ بہت بڑا احمق تھا کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کی دسترس سے باہر تھیں، حسینہ شادی سے انکار کر چکی تھی اور ان کا کاغذ علی نواز کے قبضے میں تھا۔ میں نے ایک مخبر کو میاں علی نواز کے بارے میں سن گن لینے پر مامور کر دیا۔ وہ ہوشیار چلتا پرزہ آدمی تھا، ہر ماحول اور محفل میں بڑی آسانی سے مل جاتا تھا، اس کا نام مظہر خان تھا۔

چند روز کے بعد اس نے اطلاع دی کہ میاں علی نواز کی بیوی فوت ہو چکی تھی، تمام بچے شادی شدہ تھے اور زمین کی دیکھ بھال لڑکے کرتے تھے۔ میاں علی نواز ان دنوں فارغ البالی کی زندگی گزار رہا تھا، کچھ عرصہ پہلے تک وہ خاصہ رنگین مزاج آدمی تھا اور مجرے وغیرہ کرواتا رہتا تھا۔ حسینہ بیگم کا وہ خاص ہمدرد تھا، وزیر علی کی موت کے بعد وہ ہر ہفتے حسینہ کی خیریت پوچھنے جاتا تھا۔ جب اختر علی نے حسینہ کو گھر سے نکالا تو اسی نے ایک آدمی کو تھانے بھیجا تھا اور یہ تاکید کر دی تھی کہ اس کا ذکر نہ آئے۔ یہ معلومات حاصل ہونے کے بعد میں نے ایک اے ایس آئی سے کہا کہ وہ میاں علی نواز کو بلا لائے اور حسینہ بیگم کا نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر بھی ساتھ لیتا آئے۔
٭٭٭٭
تقریباً ایک گھنٹے کے بعد میاں علی نواز تھانے میں حاضر ہوا۔ وہ خاصا باوقار اور لحیم شحیم آدمی تھا، بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں جنہیں ہمیشہ خضاب لگا کر رکھتا تھا۔ اس وقت وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا، بڑی سی چادر کندھوں پر ڈال رکھی تھی اور ہاتھ میں ہاتھی دانت کے دستے والی چھڑی تھی۔ اس کے ساتھ دو آدمی بھی تھے، ایک کے کندھے پر ہولسٹر لٹک رہا تھا۔ اکثر زمیندار اس قسم کے لوگوں کو شان بڑھانے کے لیے ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ اکیلا آدمی عموماً ہجوم میں گم ہو جاتا ہے، یعنی پتہ نہیں چلتا کہ وہ بڑی شان والا ہے، تاہم بعض زمینداروں کو محافظوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے دشمنیاں بہت پال رکھی ہوتی ہیں۔

میں نے میاں علی نواز کو کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا اور اس کے محافظوں کو یہ کہہ کر باہر بھیج دیا کہ بات پردے والی ہے۔ "جناب نے کیسے یاد فرمایا؟" علی نواز نے پوچھا۔ میں نے کہا، "آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ ہم نے منظور کو اختر علی کے قتل کے جرم میں گرفتار کر رکھا ہے، اس سلسلے میں آپ سے کچھ باتیں پوچھنا تھیں۔" "کیسی باتیں؟" اس کے لہجے میں ناگواری پائی جاتی تھی جیسے کہہ رہا ہو کہ میرا اس معاملے سے کیا تعلق؟ "آپ وہ نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر لائے ہیں؟" "کون سا نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر؟" "حسینہ بیگم اور آپ کے دوست وزیر علی کا نکاح نامہ،" میں نے جواب دیا، "اس کے ساتھ مکان کا اسٹیمپ پیپر بھی تھا۔" "یہ آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں، جس کی چیزیں ہیں اس سے پوچھیں جا کر۔" "کیا بات ہے میاں صاحب؟ بڑے غصے میں معلوم ہوتے ہیں آپ؟" میں نے ذرا تلخی سے کہا، "غصہ تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر میں نے اس لیے آپ سے مانگا ہے کہ یہ دونوں چیزیں میں نے آپ ہی کی تحویل میں دیکھی تھیں، یہ دونوں کاغذ آپ لے کر آئے تھے اور اختر علی کو دکھا کر واپس لے گئے تھے۔" "تو پھر کیا ہوا، آپ مجھ سے یہ کاغذ نہیں مانگ سکتے۔" "ہوں... گویا کاغذ آپ ہی کے پاس ہیں لیکن آپ دینے پر تیار نہیں ہیں۔" "یہی سمجھ لیں۔"

"میاں صاحب، یہ بتائیں کہ اسٹیمپ پیپر نکاح کے کتنے روز بعد تیار کرایا گیا تھا؟" اس نے تھوڑی دیر تک میری بات پر غور کیا، پھر بولا، "تقریباً پانچ چھ روز کے بعد۔" "پہلے تو آپ نے کچھ اور بتایا تھا؟" "یہی بتایا تھا، آپ نے ٹھیک سے سنا نہیں ہوگا۔" "میاں صاحب، میں اتنا غبی انسان نہیں ہوں۔ آپ نے کہا تھا کہ مکان کے بارے میں نکاح سے پہلے فیصلہ ہو گیا تھا اور اسٹیمپ پیپر پر نکاح فارم کے ساتھ ہی دستخط کیے گئے تھے۔" "ملک صاحب، آج یہ باسی کڑاہی میں ابال کیوں اٹھ رہا ہے؟ اگر میرے منہ سے ایسی کوئی بات نکل بھی گئی تھی تو کون سی آفت آ گئی؟ مکان کی بات شادی سے پہلے طے ہو چکی تھی، اسٹیمپ پیپر بنچار چھ روز بعد تیار کروایا گیا تھا۔" "منظور کا کہنا ہے کہ مکان کی بات بعد میں طے ہوئی تھی، جب اس نے وزیر علی پر طلاق کے لیے زور ڈالا اور شادی کا راز فاش کرنے کی دھمکی دی تو اس نے مکان کا لالچ دے کر منظور کا منہ بند کر دیا۔" "چھوڑیں جی! اس کمینے کی میرے سامنے بات نہ کریں۔" "مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر علی نے حلالہ کی شرط پوری کرنے کے لیے حسینہ سے شادی کی تھی لیکن بعد میں اس نے اس لیے طلاق دینے سے انکار کر دیا کہ اس طرح مفت کی ملازمہ اس کے ہاتھ سے جاتی۔" "جو اس دنیا سے گزر گیا اس کی بات کرنے کا کیا فائدہ!" وہ ہر بات سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کر رہا تھا اور میں آہستہ آہستہ اس کے گرد گھیرا تنگ کر رہا تھا۔

"میاں صاحب، اس بات کو چھوڑیں کہ مکان کی بات پہلے ہوئی تھی یا بعد میں، لیکن منظور کو آپ ہی نے حسینہ بیگم سے بات کرنے پر آمادہ کیا تھا اور اسے یہ سمجھایا تھا کہ وزیر علی کے مرنے کے بعد وہ دونوں مکان کے مالک بن جائیں گے، میں نے غلط تو نہیں کہا؟" "ہاں کہا تھا، لیکن وہ عورت اب اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنے پر تیار نہیں ہے، میرا اس میں کیا قصور ہے؟" "آپ کا قصور یہ ہے کہ جب منظور آپ کے پاس مدد کے لیے آیا تو آپ نے اسے گالیاں دے کر بھگا دیا۔" "میں کوئی کمیشن ایجنٹ نہیں ہوں جی۔" "آپ نے حسینہ بیگم کا نکاح نامہ اور اسٹیمپ پیپر اپنی تحویل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟" "حسینہ بیگم نے یہ چیزیں حفاظت کے لیے میرے پاس رکھوائی ہوئی ہیں۔" میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے پوچھا، "کیا آپ حسینہ بیگم کے کمیشن ایجنٹ ہیں؟" وہ ایک دم کھڑا ہو گیا، "ملک صاحب، میں عزت دار آدمی ہوں۔"

میں نے اس کی بات پر توجہ دینے کی بجائے ایک اے ایس آئی کو بلایا اور کہا، "دو آدمی ساتھ لے جاؤ اور حسینہ بیگم کو یہاں لے آؤ، ایک آدمی مولوی اللہ بخش کی طرف بھیج دو، اس سے کہنا کہ مولوی صاحب کو ساتھ ہی لیتا آئے۔" میاں علی نواز آہستہ آہستہ کرسی پر بیٹھ گیا، بولا، "حسینہ بیگم سے آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟" "آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ آپ کا کیا تعلق ہے حسینہ سے؟" وہ حیرت انگیز طور پر نرم پڑ گیا، بولا، "تعلق تو کوئی نہیں ہے... بس یوں ہی پوچھ رہا ہوں، وہ بیوہ عورت مجھ پر بہت بھروسہ کرتی ہے۔" "میاں صاحب، عورت سے تو آپ کو بہت ہمدردی ہے مگر اس کے بچوں کے باپ کو آپ دھکے دیتے ہیں۔" "ملک صاحب، میں اس قاتل بدمعاش سے کیا ہمدردی کروں گا، وہ تو دو دفعہ حسینہ بیگم کا سودا کر چکا ہے۔" لفظ "دو دفعہ" سن کر میں چونکا اور میں نے دیکھا کہ میاں علی نواز بھی یہ بات کہہ کر قدرے پریشان ہو گیا تھا۔ میں نے یہ بات ذہن میں رکھ لی مگر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ قدرے توقف کے بعد اس نے کہا، "ملک صاحب، آپ ایسا کریں کہ حسینہ بیگم سے گھر جا کر بات کر لیں، عورت کو تھانے بلانا کچھ اچھا نہیں لگتا۔"

میں نے چالاکی سے کہا، "چلیں، آپ کی یہ بات مان لیتا ہوں۔" پھر میں نے اسے سنانے کے لیے ایک حوالدار کو بلا کر کہا، "تم اے ایس آئی سے کہو کہ حسینہ بیگم کے گھر نہ جائے، میں کل کسی وقت خود چلا جاؤں گا۔" بات کرتے وقت میں نے اسے اشارہ بھی کیا مگر وہ سمجھا نہیں۔ اے ایس آئی ابھی تھانے میں ہی تھا، اس نے اس کے گھر جانے سے منع کر دیا، لیکن یہ غلطی فائدے مند ہی ثابت ہوئی۔ میری چھٹی کا وقت ہو چکا تھا، علی نواز کو رخصت کر کے میں گھر پہنچا اور ہاتھ منہ دھو کر کپڑے تبدیل کیے۔ اس سارے وقت میں یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ حسینہ بیگم کے گھر ضرور جائے گا، غالباً وہ اسے کچھ باتیں سمجھانا چاہتا تھا۔ سوچتے سوچتے میں نے اچانک فیصلہ کیا اور سادہ کپڑوں میں حسینہ بیگم کے گھر پہنچ گیا۔ ایک ہمسائی عورت اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جو میری آمد پر اٹھ کر چلی گئی۔

رسمی کلمات کے بعد میں نے حسینہ بیگم سے کہا، "بی بی، میں نے منظور کو قتل کے الزام میں بند کر رکھا ہے، لیکن اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ قاتل نہیں ہے۔" "اچھا جی، اگر وہ قاتل نہیں ہے تو اسے چھوڑ دیں۔" "وہ تو چھوٹ ہی جائے گا، لیکن تم یہ بتاؤ کہ قاتل کون ہے، یعنی تمہیں کس پر شبہ ہے؟" "مجھے جو کچھ معلوم تھا، وہ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں۔" "جو کچھ تم مجھے بتا چکی ہو اس میں بہت سارا جھوٹ ہے،" میں نے سخت لہجے میں کہا، "میں نے تمہیں تھانے بلانے کا فیصلہ کیا تھا مگر میاں علی نواز کی سفارش پر نہیں بلایا۔ تھانہ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے، سوچ سمجھ کر بات کرنا۔" اس کی بیٹی ملکہ بھی بیٹھک میں موجود تھی، دونوں میری بات سن کر گھبرا گئیں۔

میں نے پوچھا، "کیا یہ سچ ہے کہ وزیر علی نے یہ مکان منظور کی دھمکی کے بعد تمہارے نام کیا تھا؟" "دراصل جی، منظور مجھے طلاق دلوانا چاہتا تھا، لیکن شیخ صاحب طلاق نہیں دینا چاہتے تھے۔ منظور نے زیادہ ضد کی تو شیخ صاحب نے یہ مکان میرے نام کر دیا، اس کے بعد منظور خاموش ہو گیا۔" "خاموش کیوں ہو گیا؟" وہ میرے سوال کا مطلب نہیں سمجھ سکی، بولی، "اس نے سوچا کہ شیخ صاحب کے مرنے کے بعد اتنا بڑا مکان ہمارے ہاتھ لگ جائے گا، اس لیے خاموش ہو گیا۔" "بی بی، تمہاری اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت تم دونوں میں یہی طے تھا کہ شیخ صاحب کی موت کے بعد تم دوبارہ شادی کر لو گے، میں نے غلط تو نہیں کہا؟" "مم... میں نے اس کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔"

"میں جھوٹ سننے نہیں آیا،" میں نے کہا، "اگر تم نے دوبارہ شادی کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو منظور کو مکان تمہارے نام لگنے کی کوئی خوشی نہ ہوتی اور نہ وہ خاموش ہوتا۔ سچ بتاؤ کیا بات ہوئی تھی۔" اس نے پھر توقف کے بعد کہا، "وعدے سے کیا ہوتا ہے جی، اگر منگنی اور نکاح ٹوٹ سکتا ہے تو وعدہ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ منظور نے مجھے طلاق دے دی تھی، اس کا مجھ پر کوئی حق نہیں تھا۔" "حسینہ بی بی، وعدہ تم نے اس لیے توڑا کہ تمہارے پاس ٹھکانا موجود ہے، اس بات کا تم خود بھی اقرار کر چکی ہو۔ لیکن یہ بات تمہیں یاد نہیں رہی کہ یہ ٹھکانا تمہیں منظور کی وجہ سے ملا ہے۔ اگر اس نے وزیر علی پر دباؤ ڈال کر یہ مکان تمہارے نام نہ کروایا ہوتا تو اس وقت تم کسی کے دروازے پر پڑی ہوتیں۔" "وہ تو ٹھیک ہے جی، پر..." "وعدہ توڑنے کی اس کے علاوہ بھی ایک وجہ ہے،" میں نے کہا، "اور میں وہ وجہ جانا چاہتا ہوں۔" "اور کوئی وجہ نہیں جی۔" "ہے... اپنے دماغ پر ذرا زور دو۔ تم نے اپنے کاغذات میاں علی نواز کے پاس کیوں رکھوائے ہوئے ہیں؟" "وہ... شروع سے ہی ان کے پاس ہیں۔" "وہ تمہیں ملنے کیوں آتا ہے، اس کا اب تمہارے ساتھ کیا تعلق ہے؟" "تعلق تو کوئی نہیں ہے، یونہی خیریت پوچھنے آ جاتے ہیں۔" "جب منظور نے تمہیں دوبارہ نکاح پڑھوانے کے لیے کہا تو تم نے جواب دیا تھا کہ تم میاں صاحب سے مشورہ کر کے کوئی فیصلہ کروں گی، کیوں؟ میاں صاحب سے مشورہ کیوں؟" "وہ... وہ تو میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا۔"

"اب میں تم سے پھر یہ سوال کرتا ہوں کہ وعدہ توڑنے کی دوسری وجہ کیا ہے؟ اگر تم نے صحیح جواب نہ دیا تو میں تمہیں تھانے لے جاؤں گا۔" گھبراہٹ کے باعث اس کا منہ کھل گیا، بولی، "وہ جی... بات یہ ہے کہ... میاں صاحب چاہتے ہیں کہ... میں ان کے ساتھ شادی کر لوں۔" میرا شک صحیح ثابت ہوا تھا۔ جب میاں علی نواز نے کہا تھا کہ منظور دو دفعہ حسینہ بیگم کا سودا کر چکا ہے تو مجھے اسی وقت اس بات کا شک ہوا تھا، پہلی دفعہ اس نے وزیر علی کے ساتھ سودا کیا تھا اور دوسری دفعہ میاں علی نواز کے ساتھ۔ "حسینہ بی بی، بات چھپانے کی کوشش نہ کرو، تم بھی میاں علی نواز کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہو، ہے نا یہی بات؟" قدرے توقف کے بعد اس نے یہ بات تسلیم کر لی، بولی، "تھانیدار صاحب، میں جھوٹ نہیں بولوں گی، مجھے سہارے کی ضرورت ہے، منظور سہارا دینے کے قابل نہیں ہے، اگر میں نے اس کے ساتھ شادی کر لی تو وہ یہ مکان بیچ کر کھا جائے گا۔ میاں صاحب بہت دنوں سے شادی کے لیے اصرار کر رہے تھے، میں نے مجبور ہو کر ہاں کر دی تھی، لیکن جب اختر علی نے مجھے دو کمرے کا وعدہ کیا تو میری نیت ڈانواں ڈول ہو گئی تھی۔"

"کیا تم نے علی نواز سے اس بات کا ذکر کیا تھا؟" "میں نے کھل کر انکار نہیں کیا تھا، اشارتاً یہ کہا تھا کہ اختر علی نے مجھے دو کمرے اور روٹی کپڑا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ سن کر میاں صاحب غصے میں آ گئے، بولے، تم پاگل عورت ہو، اس طرح کے سہارے پائیدار نہیں ہوتے، اختر علی کو جب موقع ملا وہ تمہیں نکال باہر کرے گا، خیر تم فکر نہیں کرو، اختر علی کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔"

آہستہ آہستہ بات کھلتی جا رہی تھی۔ میں نے کہا، "اس کا مطلب یہ ہے کہ علی نواز نے اپنے وعدے کے مطابق اختر علی کا بندوبست کر دیا۔ اب تم میری بات سنو، ہم آج علی نواز کو گرفتار کر لیں گے، وہ لازماً تمہیں بھی اس قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کرے گا، اس لیے جو کچھ تمہیں معلوم ہے، تم ابھی بتا دو، اگر بعد میں کوئی بات میرے علم میں آئی تو میں نرمی نہیں کروں گا۔" "مم... میں آپ سے کوئی بات نہیں چھپاؤں گی، میرا اختر علی کے قتل میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، قتل سے ایک روز پہلے میاں صاحب نے کہا تھا کہ میں رات کو صحن والا دروازہ کھول دوں، لیکن مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ ان کا دروازہ کھلوانے سے کیا مقصد ہے، میں اپنی بچی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہوں کہ میں بالکل بے گناہ ہوں، مجھے میاں صاحب کے منصوبے کا کچھ علم نہیں تھا۔" "ٹھیک ہے ٹھیک ہے، اور بتاؤ علی نواز سے کیا بات ہوئی تھی؟" "انہوں نے اختر علی کے بارے میں بہت سی باتیں پوچھی تھیں کہ وہ رات کو کتنے بجے سوتا ہے، کہاں سوتا ہے اور اپنے پاس کوئی ہتھیار وغیرہ تو نہیں رکھتا۔"

اسی لمحے دروازے پر دستک سنائی دی، ساتھ ہی کسی کے کھانسنے کی آواز آئی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ میاں علی نواز تھا۔ میں نے دھیمی آواز میں حسینہ بیگم سے کہا، "شاید میاں علی نواز ہے، میں دوسرے کمرے میں جا رہا ہوں، میرا ذکر نہ کرنا اور اطمینان سے بات کرنا، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا، تمہاری بیٹی میرے ساتھ رہے گی۔" میں ملکہ کو ساتھ لے کر دوسرے کمرے میں چلا گیا اور درمیانی دروازہ بھیڑ دیا۔ وہ شام کا وقت تھا اور کمروں میں نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ ملکہ گھبرا رہی تھی، لگتا تھا کہ وہ کسی وقت بھی رو پڑے گی، میں نے اسے تسلی دی اور بستر پر بٹھا دیا۔

اتنے میں دوسرے کمرے سے علی نواز کی آواز آئی، "حسینہ، سب خیر خیریت ہے نا؟ میں ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں، بیٹھوں گا نہیں۔ وہ تھانیدار بڑی اچھل کود مچا رہا ہے، آج اس نے مجھے تھانے بلایا تھا، اسے ہم پر شک ہو گیا ہے، کل وہ تمہارے پاس آئے گا، گھبرانا بالکل بھی نہیں، میں سب ٹھیک کر لوں گا، جو بیان پہلے دے چکی ہو اسی پر قائم رہنا۔" "بہت اچھا میاں صاحب،" میرے کانوں میں حسینہ بیگم کی آواز آئی۔ میں دروازے کی جھری سے ادھر دیکھ رہا تھا۔ "آج رات کے دس بجے میں تمہیں ایک چیز دے جاؤں گا، کل جب تھانیدار تم سے ملنے آئے تو یہ چیز اس کے حوالے کر دینا، کہنا کہ اسے منظور نے رکھوایا تھا۔" "چیز کیا ہے؟" "تمہیں چیز کی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے، میں یہ سب کچھ تمہاری بھلائی کے لیے کر رہا ہوں، یہ لے کچھ پیسے رکھ لے، تھانیدار کے ساتھ حوصلے سے بات کرنا، اگر اس نے زیادہ تھانیداری دکھانے کی کوشش کی تو اس کا بھی انتظام ہو جائے گا، میری بہت اوپر تک پہنچ ہے، اچھا اللہ حافظ۔"

اس کے جانے کے بعد حسینہ نے دروازہ بند کر دیا۔ میں کمرے میں گیا تو حسینہ چند نوٹ ہاتھ میں پکڑے پریشان کھڑی تھی، مجھے دیکھ کر بولی، "میاں صاحب نے کہا ہے کہ وہ رات کے دس بجے آئیں گے۔" "میں نے ساری بات چیت سن لی ہے، رات کے دس بجے ہم بھی ادھر ہی ہوں گے۔" میں فوراً تھانے پہنچا اور دو سادہ لباس سپاہیوں کو حسینہ بیگم کے گھر کی نگرانی کرنے بھیج دیا، انہیں تاکید کر دی کہ حسینہ بیگم کو گھر سے باہر نہ جانے دیں۔ رات کے دس بجے میں چار آدمیوں کے ہمراہ حسینہ بیگم کے گھر میں موجود تھا، دو سادہ لباس آدمی گلی میں چھپے ہوئے تھے۔ تقریباً سوا دس بجے دروازے پر دستک سنائی دی، حسینہ بیگم میری ہدایت کے مطابق اس وقت بیٹھک میں موجود تھی، دستک کی آواز سن کر وہ اٹھی اور دروازہ کھولا، اس وقت بیٹھک کے سوا مکان کی تمام بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔

میں اندرونی دروازے سے بیٹھک میں جھانک رہا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی میاں علی نواز کمرے میں داخل ہوا اور فوراً اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا، اس کے ہاتھ میں ایک کینوس کا تھیلا تھا، اس نے ادھر ادھر دیکھا اور بولا، "یہ تھیلا کسی محفوظ جگہ پر رکھ دو۔" "اس میں کیا چیز ہے؟" حسینہ بیگم نے پوچھا، اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔ "اس کو کھولنا نہیں،" علی نواز نے کہا، وہ بدستور ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، "ٹھہرو، میں خود اسے کسی جگہ پر رکھ دیتا ہوں، تم اسے تھانیدار کے حوالے کر دینا۔" بات کرتا ہوا وہ سیدھا اس دروازے کی طرف آیا جس کی دوسری طرف میں اور میرے آدمی کھڑے تھے۔

میں نے ریوالور نکالا اور دروازہ کھول کر سامنے آ گیا۔ مجھے دیکھ کر وہ بری طرح اچھلا اور تھیلا پھینک کر دروازے کی طرف بھاگا، لیکن میرے آدمی باہر سے دروازہ بند کر چکے تھے۔ "میاں علی نواز، کھیل ختم ہو چکا ہے،" میں اس کے سر پر پہنچ گیا، "مکان کے باہر بھی میرے آدمی موجود ہیں، اب تم بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے۔" وہ غصے سے حسینہ بیگم کی طرف جھپٹا، "ذلیل عورت، میں تیری بھلائی کے لیے پریشان ہو رہا ہوں اور تو مجھے اندر کروانے کی فکر میں ہے، میں تیرا بیڑا غرق کر دوں گا۔" ایک حوالدار اس کے راستے میں حائل ہو گیا۔ "ملک صاحب، میں اس عورت کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر یہ دغا باز نکلی، اس نے منظور کے ساتھ مل کر اختر علی کو قتل کیا تھا، ثبوت اس تھیلے میں موجود ہے۔"

میں نے تھیلا کھول کر دیکھا تو اس میں کپڑوں کا ایک میلا سا جوڑا تھا جس میں ایک خون آلود خنجر لپٹا ہوا تھا۔ کپڑوں کو میں نے فوراً پہچان لیا، وہ منظور کے کپڑے تھے، یہ وہ کپڑے تھے جنہیں میں اس کے گھر میں کھونٹی پر لٹکا ہوا دیکھ چکا تھا، اب ان پر خون کے دھبے بھی موجود تھے، واضح طور پر وہ کسی مرغی یا بکری کا خون تھا۔ "علی نواز! اب جھوٹ سے کام نہیں چلے گا،" میں نے کہا، "آج شام جب تم حسینہ بیگم سے ملنے آئے تھے تو میں اندر کمرے میں موجود تھا، میں نے تمہاری ساری بات چیت سن لی تھی اور یہ جو تم ثبوت لائے ہو اس کی حقیقت بھی مجھے معلوم ہے، یہ کپڑے منظور کے ہیں، واردات والی صبح جب ہم نے اس کو گرفتار کیا تھا تو یہ کپڑے اس کی کھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے، اس وقت ان پر خون کے دھبے نہیں تھے، یہ دھبے تم نے لگائے ہیں۔" حوالدار نے میرے اشارے پر اسے ہتھکڑی لگا دی، وہ بوڑھا آدمی تھا، کوئی مزاحمت نہ کر سکا۔

"علی نواز، میرے پاس تمہارے خلاف کافی شہادتیں جمع ہو چکی ہیں، بہتر یہی ہے کہ اقرار جرم کر لو۔" میں نے اے ایس آئی سے کہا، "آس پاس رہنے والے چار معززین کو بلا لاؤ، یہاں کی ساری کارروائی ان کے سامنے ریکارڈ ہوگی۔" "ملک صاحب، ٹھہریں، میں عزت دار آدمی ہوں، اگر آپ نے میرے خلاف کوئی کارروائی کی تو میں اپنی اولاد کے سامنے آنکھیں اٹھانے کے قابل نہیں رہوں گا، میری ہتھکڑی کھول دیں، میں آپ کو قاتل کا نام پتہ بتا دیتا ہوں، وہ اقرار جرم بھی کر لے گا، اس بات کی میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں۔" مجھے اندازہ تھا کہ قتل اس نے خود نہیں کیا تھا، کسی سے کروایا تھا۔ میں نے اس کی ہتھکڑی کھلوا دی، اس نے بتایا کہ قاتل اس کا ایک مزارع تھا جس کا نام مظہر دین تھا۔ میں نے علی نواز سے اس کا پتہ پوچھا اور دو آدمی اس کے پیچھے روانہ کر دیے جو تقریباً ایک گھنٹے میں اسے گرفتار کر کے لے آئے۔

مظہر دین پچیس چھبیس سال کا ایک صحت مند نوجوان تھا، اس نے قتل کا سارا الزام اپنے سر لے لیا اور کہا کہ اختر علی کو اس نے پرانی دشمنی کی بنا پر قتل کیا تھا۔ میں نے میاں علی نواز کو بھی شامل تفتیش رکھا مگر عدالت نے اسے بری کر دیا کیونکہ کوئی شخص اس کے خلاف گواہی دینے پر تیار نہیں ہوا تھا، حسینہ بیگم بھی اپنے بیان سے منحرف ہو گئی تھی، مظہر دین کو عمر قید ہو گئی۔
 
(ختم شد)
romantic stories 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ