سچا شوہر

urdu short stories

ہم کل چھ بہن بھائی ہیں۔ شامیہ، میری چھوٹی بہن ہم سب سے لاڈلی تھی۔ وہ ابو کی بے حد چہیتی تھی۔ بدقسمتی سے ابو ساٹھ سال کی حسین عمر میں فالج کا شکار ہو کر چل بسے اور سارا بوجھ بڑے بھائی قادر پر آ پڑا۔ اس وقت وہ بی اے فائنل میں تھے، جبکہ شاہد اور شامیہ میٹرک میں تھے۔ میں ان دنوں ایف اے کر چکی تھی۔ ہماری چند بیگھے زمین تھی، جس کی دیکھ بھال بھائی کے ذمے تھی۔ جب اخراجات پورے نہ ہوئے، تو امی سے مشورہ کر کے قادر بھائی نے زمین بیچ کر شہر میں دکان کھول لی، یوں ہم شہر آ بسے۔
sublimegate
بھائی دکانداری کرنے لگے، تو گھر کا خرچ چلنے لگا۔ قادر بھائی نے بی اے اور دونوں چھوٹوں نے میٹرک کر لیا، تو بھائی نے شامیہ اور شاہد کو شہر کے کالجوں میں داخلہ دلوا دیا۔ دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں گزرنے لگے۔ میری زندگی پر ایف اے کے بعد جمود طاری ہو گیا، ایف اے بھی میں نے اپنی لگن سے پرائیویٹ طور پر کیا تھا، اس کے بعد اللہ نے خود ہی میری گھٹن بھری زندگی کو خوشیوں کے تحفے عطا کر دیے اور میری شادی میری پسند سے ہو گئی۔

امجد بالکل اکیلا تھا۔ ماں، نہ باپ، بہن نہ بھائی، گھر میں تنہا رہتا اور پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا تھا۔ اچھی تنخواہ تھی۔ اس کی بھائی کے ساتھ دوستی ہو گئی، تو گھر میں آنے جانے لگا اور ہم میں گھل مل گیا، پھر امی سے میرا رشتہ مانگا، تو امی نے انکار نہ کیا۔ وہ بھی امجد کو جانچ چکی تھیں کہ اچھا لڑکا ہے، ایسے رشتے کب جلدی ملتے ہیں۔ امی کے برابر والا فلیٹ ہمارا تھا، جہاں شادی کے بعد میں اور امجد رہنے لگے۔ یوں میں رخصت ہو کر دور نہ گئی تھی۔ میں بڑی خوش تھی، سارا دن امی کے گھر ہوتی، جب امجد ڈیوٹی سے واپس آتے تو گھر چلی جاتی۔

ایک دن امجد گھر لوٹے، تو بہت پریشان دکھائی دیتے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی، تو کہا: “نجو! آج میں نے تمہاری بہن شامیہ کو ایک غیر مسلم لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے۔ وہ ایک پارک میں چائے پی رہے تھے۔” اس سے قبل میری ایک سہیلی نے بھی مجھے بتایا تھا کہ تمہاری بہن ایک غیر مسلم لڑکے کے ساتھ گھومتی ہے، تب میں نے یقین نہیں کیا تھا، لیکن آج شوہر کے منہ سے سن کر میری سٹی گم ہو گئی۔ میں اسی وقت امی کے پاس گئی اور انہیں مجبور کر دیا کہ آپ شامی کو کالج سے نکال لیں۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، کہنے لگیں: “ہوش میں تو ہو! کیا کہہ رہی ہو؟ ان کو پڑھانے کی خاطر تو زمین بیچی اور شہر آکر دکان کی، اور اب میں اسے کالج سے نکال لوں، آخر کیوں؟” تب میں نے بھی غصے میں کہہ دیا: “امی جان! آپ کی صاحبزادی کالج پڑھنے کب جاتی ہے، وہ عشق لڑانے جاتی ہے اور وہ بھی ایک غیر مسلم لڑکے سے، جس کو امجد بھی جانتے ہیں اور ان کے دوست بھی۔”

امی پریشان ہو گئیں۔ پہلے تو چپ رہیں، لیکن پھر یہ چپ انہیں کھانے لگی۔ ان سے برداشت ہی نہ ہو رہا تھا۔ شامیہ سے پوچھتیں، تو صاف جواب ملتا کہ یہ جھوٹ ہے۔ آپ سے کس نے کہہ دیا، ایسی کوئی بات نہیں۔ خیر، پھر امی کی پریشانی سے بھائی کو بھی اس بات کا پتہ چل گیا اور گھر میں پریشانی بڑھ گئی۔ چھوٹے بھائی شاہد نے شامیہ کو مارا، پھر اس لڑکے کو ڈھونڈنے نکل پڑا کہ اسے بھی مار دوں گا۔ قادر بھائی نے اسے زبردستی روکا۔ شامیہ رو رو کر کہتی تھی کہ کیا ثبوت ہے آپ لوگوں کے پاس کہ وہ غیر مسلم ہے؟ وہ مسلمان ہے اور اس کا نام مغل حسین ہے۔ میں نے کہا کہ امجد اچھی طرح جانتے ہیں، وہ غیر مسلم ہے۔ خیر، میں شامیہ کو گھر لائی، امجد نے اسے تسلی دی اور کہا: “اگر وہ مسلمان ہوا، تو میرا وعدہ ہے کہ میں خود اس کے ساتھ تمہاری شادی کروا دوں گا۔ تم حوصلہ رکھو، پریشان نہ ہو اور ماں اور بھائیوں کو بھی پریشان نہ کرو۔ فی الحال تم اس کے ساتھ سرِعام گھومنا پھرنا بند کر دو۔” شامیہ نے بات مان لی۔

اگلے دن امجد نے شامیہ سے کہا کہ آج ذرا میرے ساتھ چلو۔ وہ اسے مندر لے گیا، جہاں وہ لڑکا پوجا کرنے جاتا تھا۔ شامیہ نے اسے مندر کے اندر جاتے دیکھا تو خود بھی اندر چلی گئی، جبکہ لڑکے نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ جب اس نے لڑکے کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا، تو صدمے سے وہیں بے ہوش ہو گئی۔ لڑکے نے جب دیکھا کہ ایک لڑکی جو اس کے قریب کھڑی تھی، گر گئی ہے، تو اس نے اس کو اٹھانا چاہا، مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ تو وہی لڑکی ہے، جو اسے اچھی لگتی ہے اور مسلمان ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اس کو اپنا نام مغل حسین بتایا تھا۔ خیر، جو ہوا ٹھیک ہوا۔ ایک عبادت گاہ میں جھوٹ کا پول کھل گیا۔
 
لوگوں نے قریبی نلکے سے پانی لا کر اس پر ڈالا، تو وہ ہوش میں آئی۔ سامنے وہ لڑکا مجرم بنا کھڑا تھا، اس نے پوچھا: “شامیہ! تمہارا اس مندر میں کیا کام تھا اور یہاں کیوں آئی ہو؟” تب شامیہ نے الٹا اس سے سوال کر دیا: “تمہارا اس مندر میں کیونکر آنا ہوا، جبکہ تم تو مغل حسین ہو؟” وہ شرمندہ ہو گیا۔ “مجھے معاف کر دو شامیہ، میں نے تمہاری محبت میں جھوٹ بولا تھا اور شنکر سے مغل حسین بنا، لیکن بھگوان کی قسم! اب میں سچ مچ مغل حسین بنوں گا، صرف تمہارے لیے۔” شامیہ سخت ناراض اور بہت آزردہ تھی۔ بولی: “تم نے میری سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھایا، میری شرافت کا مذاق بنایا، مجھے اور میرے گھر والوں کو دھوکا دیا۔ اب میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔” “میں جانتے ہوں، تم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہو اور تمہاری شادی کسی مسلمان سے ہی ہو سکتی ہے، جبکہ میں مسلمان نہیں ہوں، لیکن اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں نے جان بوجھ کر تو اپنا مذہب نہیں چنا، لیکن اب تمہاری خاطر میں اپنے لیے مذہب چنوں گا۔ میرا دل پہلے ہی تمہارے دین کی طرف راغب تھا، اب تمہیں پانے کے لیے میں اسلام قبول کر لوں گا، اب تو مجھے معاف کر دو۔”

جب شامیہ امجد کے ساتھ گھر پہنچی، تو انہیں دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ امجد ٹھیک کہتا تھا۔ وہ بھی آتے ہی مجھ سے لپٹ گئی اور رو کر کہنے لگی: “آپا! امجد بھائی ٹھیک کہتے تھے۔ وہ جھوٹا تھا، اس نے مجھے برباد کرنے کے لیے خود کو مسلمان ظاہر کیا۔” یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں اس کے پیچھے گئی۔ پوچھا: “اب تم اپنی کہو، کیا ارادہ ہے؟ وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے، اگر آپ لوگ راضی ہوں۔” امجد بھی میرے پیچھے آگئے، کہنے لگے: “ٹھیک ہے، اگر وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے، تو تمہاری شادی اس کے ساتھ ہو سکتی ہے، یہ ذمہ داری میں لیتا ہوں۔” “امجد! تم اس معاملے میں مت پڑو، کیونکہ بعد میں بہت سے مسائل ہوں گے۔ ہم برادری میں گھر جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ خاندان کو چھوڑ کر کسی غیر کو بیٹی دے دی، وہ بھی غیر مذہب کو۔” “کہنے دو برادری کو، اگر ایک شخص مسلمان ہوتا ہے اور ہمارے طور طریقے اپناتا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کے دل میں سچی لگن ہے۔ وہ اپنے پیار کی خاطر اتنی بڑی قربانی دے سکتا ہے، تو ہم کیوں نہ اسے قبول کر لیں؟” مگر امی نے اس معاملے میں میرا ساتھ نہ دیا۔ انہوں نے کہا: “یہ سب بے سود ہے۔ شنکر عارضی طور پر ایسا کہہ رہا ہے۔ وہ اس تبدیلی کو نبھا نہ سکے گا۔ ہم بھی پھر کہیں کے نہ رہیں گے، برادری ہمیں برادری سے خارج کر دے گی۔”

لیکن شنکر اچھا انسان نکلا۔ اس نے ہمیں دھوکا دینے کی بجائے سچائی کا راستہ اپنایا اور اپنے گھر والوں کو بتا دیا کہ وہ مسلمان ہونے جا رہا ہے، تاکہ شامیہ سے شادی کر سکے۔ اس پر اس کے گھر والے بپھر گئے، مگر بعد میں اس کی ماں نے اجازت دے دی۔ ایک دن وہ امجد کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے اپنے ساتھ مولوی صاحب کے پاس لے چلیں، میں صدق دل سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ امجد، قادر بھائی کے پاس گئے، شاہد کو بھی ساتھ لیا اور مسجد میں جا کر مولوی صاحب کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا۔ شنکر کا اسلامی نام مغل حسین ہی رکھا گیا کیونکہ اس نے پہلے شامیہ کو یہی نام بتایا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد امجد اس کو گھر لے آئے، پھر جا کر اس کی والدہ کو بھی لائے اور استدعا کی کہ جب تک تمہارے بیٹے کا شامیہ سے نکاح نہیں ہو جاتا، تم ہمارے پاس رہو، کیونکہ بیٹے کی شادی میں ماں کی شمولیت ازحد ضروری ہوتی ہے۔

پھر وہ دن بھی آگیا، جب مغل حسین، شامیہ کا دولہا بن گیا۔ امجد نے اس کی طرف سے شادی کا تمام انتظام کیا اور اسے دولہا بنایا اور ہم نے اپنے رسم و رواج کے مطابق شادی کرا دی۔ اس بات پر گھر کا کوئی فرد خوش نہیں تھا، بس وہ امجد کے اصرار پر مجبوراََ ساتھ تھے اور شامیہ کی خوشی کے لیے، جو ہم سب کو عزیز تھی، ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ شنکر نے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن نہ تو ہم اسے دل سے اپنا رہے تھے اور نہ ہی اب اس کا اس کے اپنے گھر والوں سے ناتا باقی تھا، سوائے اس کی ماں کے۔ شاید خدا کو یہی منظور تھا، سو ہوا۔ شامیہ نے بھی اسے سب سے بڑھ کر پیار دیا، کیونکہ اس نے اپنا دین، مذہب، گھر بار، جائیداد، رشتے دار، ماں باپ غرض سبھی کچھ چھوڑا تھا، محض شامیہ کی خاطر۔ امی جان کو اس بات کا قلق تھا کہ مغل حسین کے والد اور بہن بھائی اس سے چھوٹ گئے تھے۔ وہ بار بار کہتی تھیں کہ ماں تمہیں نہیں چھوڑ سکتی مغل حسین! خواہ سارا زمانہ چھوڑ دے، تم ماں سے رابطہ رکھنا اور اسے مت چھوڑنا۔

شامیہ بھی ساس کو پسند کرتی تھی۔ وہ شوہر کے کان کھاتی رہتی تھی کہ ماں جی کے پاس لے چلو۔ آخر ایک دن دوست کے ذریعے مغل حسین نے ماں سے رابطہ کیا اور وہ ہمارے گھر آنے جانے لگیں. وہ جب آتیں، ہم ان کی اپنی حیثیت سے بھی بڑھ کر خدمت اور خاطر مدارات کرتے۔ اس طرح ماں جی ہم سب سے محبت کرنے لگیں، گویا ہم نے ان کا دل جیت لیا تھا۔ ماں جی کے توسط سے دیگر رشتے داروں سے رفتہ رفتہ حسین کا رابطہ بحال ہوتا گیا۔ وہ اب بھی اسے شنکر ہی کہہ کر پکارتے تھے۔ میری بہن کو بھی وہ قبول کرنے لگیں، دو سال بعد خدا نے انہیں بیٹی دی، تو مغل حسین بیٹی لے کر اپنے والد کے پاس گیا اور بچی ان کی گود میں ڈال دی۔ انہوں نے بھی اس کو گلے سے لگا لیا اور معاف کر دیا۔ ان کی شادی کے تین سال بعد جب حسین کے دوسرے رشتہ دار اور باقی گھر والے ہمارے ہاں آنے جانے لگے، انہوں نے ہمارے رسم و رواج اور طور طریقے دیکھے، تو بہت متاثر ہوئے اور ان کے دل میں دینِ اسلام کو اپنانے کی آرزو جاگی۔

انہوں نے امی اور بھائیوں سے دین کے بارے میں کتابیں اور معلومات حاصل کیں اور اپنے طور پر مطالعہ کرنے کے بعد جب ہمیں یہ مژدہ سنایا کہ ہم بھی دینِ اسلام کے دائرے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، تو ہم سب خوشی سے پھولے نہیں سمائے۔ خاص طور پر شامیہ اور امی۔ اس بات کی خبر ان کی برادری کو ہوئی، تو انہوں نے گٹھ جوڑ کر کے اس کنبے کو اس امر سے روکنے کی کوشش کی۔ وہ حسین کے والد سے ملے اور کہا کہ اگر آپ نے اسلام قبول کرنے والی حرکت کی، تو آپ ہماری برادری سے نہ صرف خارج ہو جاؤ گے، بلکہ آپ نے جو رقم ہمارے ساتھ کاروبار میں لگا رکھی ہے، وہ بھی ہم آپ کو نہ دیں گے۔ غرض یہ کہ کافی دباؤ پڑا، لیکن اب ان کے دل پوری طرح اسلام قبول کرنے پر مائل ہو چکے تھے، لہذا انہوں نے کسی دباؤ کو قبول نہ کیا، حتیٰ کہ حسین کے والد نے اپنے سالے اور سمدھی سے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہیں جو کرنا ہے کر لو، بے شک کاروبار کی تمام رقم پر قبضے جما لو، لیکن میں اسلام قبول کر کے رہوں گا اور بعد میں تم سے اپنا روپیہ اور حق کورٹ سے وصول کر لوں گا۔

جب اللہ تعالیٰ انسان سے قربانی لیتا ہے، تو اسی طرح لیتا ہے کہ قربانی دینے والے کو بھی کسی بات کی پروا نہیں رہتی۔ ہم غریبوں نے بھی ایک ہندو کو قبول کر کے اپنا بنایا، اس کو مسلمان بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پسند کر لیا اور پھر ایک فرد کے بعد اس کا پورا خاندان مسلمان ہو گیا۔ اسلام قبول کر کے چند دن تو یہ لوگ خاصی مشکل میں رہے، لیکن پھر سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ قادر بھائی نے ان کی کافی مدد کی، گھر بھی اپنے مکان کے نزدیک لے کر دیا۔

آج شامیہ کے تین بچے ہیں اور اس کی نند فاطمہ جو پہلے روپا تھی، میرے بھائی شاہد کی بیوی ہے۔ آج ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں، جیسا کہ اسلام میں ہے کہ عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں، سوائے اس کے کہ جو پرہیزگار اور متقی ہو۔ اصل میں تو اعلیٰ مقام اسی کا ہے اور تقویٰ کے لحاظ سے یہ نو مسلم کنبہ ہم سے بھی بازی لے گیا، کیونکہ یہ لوگ کسی مسلمان گھرانے میں تو پیدا نہیں ہوئے تھے۔ سوچ سمجھ کر اسلام کو قبول کیا تھا، اسی لیے اسلام کے ارکان پر سختی سے عمل پیرا ہو گئے۔

ان دنوں قادر بھائی کا کاروبار اچھا چل رہا تھا، لیکن وہ مطمئن نہ تھے۔ ابھی دو چھوٹے بھائیوں کی شادیاں کرنا تھیں۔ خود انہوں نے اسی لیے شادی نہیں کی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پہلے تمام بہن بھائیوں کے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں تو پھر اپنا گھر بساؤں۔ شاہد بھائی ایک پرائیویٹ کمپنی میں جہاں امجد کام کر رہے تھے، وہاں ملازم ہو گئے۔ اصل میں امجد ہی نے انہیں کام دلوایا تھا، وہ تو اپنے کنبے کا بوجھ اٹھا رہے تھے۔ قادر بھائی البتہ اب اپنی اس زندگی سے اکتا گئے تھے، جس میں یکسانیت ہی یکسانیت تھی۔ خدا گواہ ہے کہ ہم نے ان غیر مسلم لوگوں سے کسی طمع کی وجہ سے رشتہ نہیں جوڑا تھا۔ ہمارا تو دل بیٹی کا رشتہ دے کر بھی انہیں قبول نہیں کر پاتا تھا، لیکن خدا نے خود ان میں اور ہم میں محبت ڈال دی۔ ہم نے ان کے لیے اور انہوں نے ہمارے لیے صرف دینِ اسلام کی خاطر قربانی دی اور اب یہ محبت ایک پائیدار اور انوکھے رشتے میں بدل چکی تھی، جس کو ہم صرف دین کا رشتہ ہی کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے ہماری محبت سے فائدہ اٹھایا اور میرے بھائیوں نے ان کے تجربے اور تعلقات کی بدولت خوش نصیبی کا راستہ اپنایا، تو ہم سب کے گھروں میں برکت آگئی۔

آج ہمارے پاس اتنی دولت ہے کہ جس کا کوئی شمار نہیں، لیکن ہم اب بھی وہ قربانی نہیں بھولے، جو ہم نے ایک دوسرے کے لیے دی تھی اور جس کی بنیاد کسی طمع اور لالچ پر نہیں، صرف اللہ کی خوشنودی تھی، اسی وجہ سے اللہ نے ہمیں مایوس نہیں کیا بلکہ اس نے نہ صرف ہمیں خوشحالی بلکہ امارت اور خوشیاں سب کچھ دے دیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ