جس گھر میں آنکھ کھولی، دولت کو اس گھرانے کی دہلیز پر لونڈی پایا۔ والد کا اپنا بزنس تھا اور کاروبار سے دھن برستا تھا۔ شاید یہ میری والدہ کے نصیب سے تھا، جب ان کی ابو سے شادی ہوئی تو کاروبار میں روز بہ روز ترقی ہوتی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے والد صاحب کروڑ پتی سے ارب پتی ہو گئے۔ جہاں ایسی نعمتیں ہوں، وہاں کسی نہ کسی شے کی کمی رہ ہی جاتی ہے۔ میں والدین کی اکلوتی اولاد تھی اور اولادِ نرینہ سے میرے ماں باپ محروم تھے۔ بس میری ذات ہی ان کی کل کائنات تھی، وہ میری ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرتے تھے۔ ایک بار ڈرائیونگ کا شوق ہوا، جبکہ میری عمر اس وقت بمشکل سولہ سال تھی۔ میری خوشی کی خاطر بابا نے یہ ارمان بھی پورا کیا اور انہوں نے خود مجھے ڈرائیونگ سکھائی۔ ہر سال میری سالگرہ دھوم دھام سے منائی جاتی اور ہر دفعہ مجھے وہی تحفہ ملتا جس کی میں فرمائش کرتی۔ زندگی کے دن بادِ صبا کے پروں پر اڑتے گئے، یہاں تک کہ میں نے میٹرک کر لیا۔ کالج میں داخلے کا مرحلہ تھا، بابا چونکہ نامور بزنس مین تھے، اس لیے جہاں چاہا، وہاں داخلہ مل گیا۔
cknwrites
علی وہ لڑکا تھا جس نے کلاس میں قدم رکھتے ہی مجھے ویلکم کیا۔ پہلی ہی نظر میں وہ میرے من میں سما گیا۔ ہم نے چار سال دوستوں کی طرح گزارے، پھر سالانہ امتحان ہو رہے تھے اور اب وہ موڑ آ گیا تھا جب ہمیں جدا ہونا تھا۔ میری یہ عادت پختہ ہو چکی تھی کہ جو چاہوں مل جائے۔ اب مجھے ہر وقت یہ بات پریشان رکھتی کہ کالج کو خیر باد کہنے کے بعد علی سے کیونکر مل پاؤں گی۔ والد صاحب نے مجھ سے بڑی امیدیں وابستہ کر لی تھیں؛ وہ مجھے ایسی اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے کہ میں ان کا بزنس سنبھال سکوں، لیکن علی سے محبت کا رشتہ استوار ہونے کے بعد مجھے پڑھائی میں دلچسپی نہ رہی اور ہر وقت اس کا خیال رہتا۔ مزید پڑھنے کے بجائے میں جلد از جلد اس کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جانا چاہتی تھی، تاکہ جدائی کے درد سے نجات مل جائے۔
سالانہ امتحان ختم ہو گئے، کالج جانا موقوف ہوا اور اب رزلٹ کا انتظار تھا۔ اس عرصے میں فون پر علی سے بات ہوتی, لیکن میں اسے گھر نہیں بلا سکتی تھی۔ ڈر تھا کہ اگر ابو نے اعتراض کیا تو پھر ہم ایک نہ ہو سکیں گے۔ انہی دنوں میری سالگرہ آ گئی، آج مجھے اجازت تھی کہ اپنے کلاس فیلوز اور دوستوں میں سے جس کو چاہوں بلاؤں، چنانچہ میں نے علی کو بھی مدعو کر لیا۔ پارٹی ختم ہونے کے بعد جب سب مہمان ایک ایک کر کے جانے لگے تو میں نے علی کو روک لیا، کیونکہ میں اسے امی ابو سے بطورِ خاص ملوانا چاہتی تھی۔ مہمانوں کے رخصت ہو جانے کے بعد میں نے بابا سے مخاطب ہو کر کہا، “بابا! یہ میرے خاص مہمان ہیں۔ کئی دنوں سے سوچتی تھی کہ آپ سے ملواؤں گی، آج موقع ملا ہے۔” جب میں نے اس کو اتنی اہمیت دی تو والدین نے بھی بہت خوش دلی سے اس کے ساتھ باتیں کیں۔
علی کو رخصت کرنے کے بعد میں اپنا مدعا زبان پر لائی کہ مجھے یہ لڑکا پسند ہے اور میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا، “شادی میں تمہاری مرضی اور خواہش کو ضرور مدنظر رکھیں گے لیکن ابھی دیر ہے، اتنی جلدی کیا ہے؟ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے، پہلے اسٹڈی مکمل کر لو، پھر دیکھیں گے۔” بابا نے سمجھایا لیکن میں اڑ گئی۔ کوئی چارہ نہ دیکھ کر انہوں نے علی کو بلوایا اور اسے سمجھایا کہ ابھی جلدی نہ کرو، پہلے مزید تعلیم حاصل کر لو، ابھی تم لوگوں کی عمر پڑی ہے اور شادی بھی ہو جائے گی، بلکہ تمہارا بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک داخلہ کرا دوں گا۔ مگر میں تو اپنے محبوب کے بغیر ایک پل بھی نہ رہنا چاہتی تھی؛ دن رات کٹتے نہ تھے، سخت بے چینی تھی اور دل کسی بات میں لگتا نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں بیمار پڑ گئی اور بس رونے سے کام تھا۔ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ والد کے مسلسل انکار نے میری امید کے سارے دیے بجھا دیے تھے۔
بالآخر والدین میری اس حالت کو برداشت نہ کر سکے کیونکہ میں ان کی خوشیوں کا واحد مرکز تھی، اگرچہ میری یہ ضد غلط تھی۔ والد صاحب نے دل سے نہ علی کو پسند کیا تھا اور نہ قبول کیا، ان کے خیال میں وہ میرے لائق نہ تھا۔ میرے لیے کوئی دوسرا اچھا رشتہ ان کی نظر میں تھا، مگر میرے آنسوؤں نے ان کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔ بابا بہت پریشان تھے، وہ میری شادی آناً فاناً کرنا نہیں چاہتے تھے اور کچھ دن علی کو پرکھنا چاہتے تھے، مگر والدہ نے ان کو یہ کہہ کر آمادہ کر لیا کہ بچے جوان ہیں اور ہماری بیٹی لاڈلی ہے، ایسا نہ ہو کہ ہمارے علم میں لائے بغیر یہ عجلت میں کوئی غلط قدم اٹھا لیں، اس لیے انہیں مایوس مت کرو۔ چنانچہ والدین علی کے گھر گئے تاکہ اس کی فیملی کو دیکھیں۔ یہ ایک مختصر فیملی تھی؛ علی کے ابو باہر گئے ہوئے تھے، ایک بڑی بہن شادی شدہ تھی اور اپنے گھر میں تھی، جبکہ علی اور اس کی والدہ، بس یہ دو ہی افراد گھر میں رہتے تھے۔
لاٹری نکلی تھی تو وہ کیوں انکار کرتیں، علی کی والدہ نے فوراً یہ رشتہ قبول کر لیا۔ میں خوبصورت تھی، کم عمر تھی اور دولت مند والدین کی بیٹی تھی، سبھی کچھ تو میرا تھا۔ چھ ماہ بعد کی تاریخ مقرر ہوئی، اس دوران بھی بابا نے مجھے بہت سمجھایا مگر مجھ پر بس ایک ہی دھن سوار تھی۔ شاید میں بھول گئی تھی کہ شادی کوئی وقتی سودا نہیں ہوتا، یہ عمر بھر کا معاملہ ہوتا ہے۔ بالاخر وہ دن آ گیا جب میری شادی نہایت دھوم دھام سے میرے من پسند لڑکے سے ہو گئی۔ سلامی میں بابا نے داماد کو قیمتی گاڑی کے علاوہ بھی بہت کچھ دیا۔ رخصت ہو کر میں اپنے محل نما گھر سے ایک چھوٹے سے بنگلے میں آ گئی، تاہم میں خوش تھی؛ میرا محبوب میرا جیون ساتھی تھا تو ہر جگہ اس کے ساتھ میرے لیے جنت تھی۔ شادی کے چار ماہ بعد میری طبیعت خراب رہنے لگی، لیڈی ڈاکٹر نے خوش خبری دی کہ میں امید سے ہوں اور ساتھ ہی آرام کی تاکید بھی کی۔ میرے لیے یہ خوش خبری عجب تھی، ابھی تو میں خود کو بچہ سمجھتی تھی جبکہ ایک بچے کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آنے والی تھی۔
ایک روز میرا جی گھبرانے لگا تو میں نے شوہر سے فرمائش کی کہ آؤٹنگ پر چلتے ہیں۔ وہ بولے کہ دور نہیں جائیں گے کیونکہ تم کو ڈاکٹر نے ریسٹ کا کہا ہے۔ جب ہم گاڑی میں بیٹھے تو میں نے ضد کی کہ ڈرائیونگ میں کروں گی۔ علی نے بہت سمجھایا کہ اس حال میں ڈرائیونگ ٹھیک نہیں ہے، مجھے گاڑی چلانے دو، مگر میں سدا کی ضدی، نہ مانی اور زبردستی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ وہ بے بس و مجبور ہو کر خاموش ہو رہے، البتہ تاکید کرتے رہے کہ گاڑی آہستہ اور احتیاط سے چلاؤ، مگر مجھے تو تیز ڈرائیونگ کا شوق تھا اور اس میں لطف آتا تھا۔ میں بھول گئی کہ میں امید سے ہوں۔ جوں ہی ہم شہر سے نکل کر موٹروے پر آئے، میں نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔ علی روکتے رہ گئے لیکن میں نے ایک نہ سنی۔ امی نے بھی کہا تھا کہ ان دنوں میں لمبا سفر نہیں کرتے اور تم لونگ ڈرائیونگ ہرگز مت کرنا۔
جس لڑکی نے ہمیشہ من مانی کی ہو، بھلا وہ کسی کی کب سنے گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اچانک سامنے سے آتے ہوئے ٹرک سے ہماری گاڑی کو حادثہ پیش آ گیا؛ گاڑی میرے قابو سے باہر ہو گئی اور میرا بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ شکر کرو جان بچ گئی، مگر اب تم کبھی دوبارہ ماں نہیں بن سکو گی۔ یہ خبر میرے لیے جان لیوا تھی، میں بہت دنوں تک روتی رہی اور بڑا صدمہ لیا، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ جب میں دن رات اداس رہنے لگی تو علی نے مجھے کچھ دن کے لیے میکے بھیج دیا، مگر وہاں بھی میرا دل نہ بہلتا تھا۔ مجھے خوش رکھنے کے لیے ماں باپ نے سارے جتن کر لیے، پر جی کو سکون نہ آیا۔ ایک روز امی کی ایک سہیلی ان سے ملنے آئیں، میری حالت دیکھ کر جب انہوں نے احوال سنا تو مشورہ دیا کہ اگر میں کوئی بچہ گود لے لوں تو دل بہل جائے گا اور میں اس افسردگی کے عالم سے نکل جاؤں گی۔
جب میں نے شوہر سے اس کا ذکر کیا تو وہ ناراض ہو گئے کہ کیا پتا وہ کس کا خون ہو، کیسا بچہ ہو، ہمیں یہ سب نہیں کرنا۔ مگر میں بس ایک امید، ایک سہارا چاہتی تھی، اس لیے بضد ہو گئی کہ کوئی نوزائیدہ بچہ گود لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ علی نے میری فطرت جان لی تھی کہ میں جس بات پر اڑ جاتی ہوں، اسے پورا کر کے ہی چھوڑتی ہوں، چنانچہ انہوں نے بادلِ نخواستہ کہہ دیا کہ جو مرضی آئے کرو۔ امی کی اس سہیلی نے، جن کا تعلق ایک فلاحی ادارے سے تھا، مجھے ایک نوزائیدہ بچہ دلوا دیا۔ میری ساس اس فیصلے سے ناخوش تھیں، بلکہ بہت خفا تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہو بانجھ ہوتی ہے، میرا بیٹا تو بانجھ نہیں ہے، وہ اولاد پیدا کرنے کے لائق ہے تو کیوں ہم پرائی اولاد گود لیں؟ میں اپنے بیٹے کی دوسری شادی کروں گی تاکہ اس کی حقیقی اولاد کی خوشی دیکھوں۔ مگر مجھے یقین تھا کہ علی اپنی ماں کی ہرگز نہیں سنیں گے اور دوسری شادی کسی صورت نہیں کریں گے، کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
خیر، ہم نے جو بچہ گود لیا، میں نے اس کا نام ایان رکھا۔ علی کو اس بچے سے محبت نہ تھی، وہ صرف میری خاطر اسے اٹھاتے اور پیار کر لیتے تھے، دل سے نہیں کرتے تھے۔ مگر میں نے تو ایان کے لیے دن رات ایک کر دیے، یہاں تک کہ اپنے شوہر کو بھی نظر انداز کر دیا۔ پتا نہیں میری اس روش نے کب علی کو مجھ سے دور کر دیا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے باہر جانے کی اجازت مانگی کہ وہ کام کے سلسلے میں اپنے والد کے پاس دبئی جانا چاہتے ہیں۔ اب چونکہ ایان ایک سال کا ہو گیا تھا اور “پاپا پاپا” کر کے علی کے پیچھے بھاگتا تھا، میں نے ان کو روکا کہ مت جائیے، ہمارا بیٹا اداس ہو جائے گا، لیکن ان کو کب ایان کی پروا تھی، وہ چلے گئے۔ جب وہ کافی دن تک نہ لوٹے تو مجھے افسوس ہوا کہ شاید میرا فیصلہ غلط تھا اور میں نے اس بچے کے ساتھ ظلم کیا ہے، جس کو علی قبول نہیں کر پا رہے اور اب اس معصوم کو باپ کا پیار نصیب نہ ہو گا۔
چھ ماہ بعد وہ واپس آئے، مگر چند روز رہ کر اپنی والدہ کو بھی ہمراہ لے گئے کہ والد نے کہا ہے ماں کو لے کر آؤ، والدہ کو وہاں پہنچا کر واپس آ جاؤں گا۔ ان کی ماں کا معاملہ تھا، میں کیا کر سکتی تھی اور کیسے روکتی، کیونکہ میری بھی ایک کمزوری تھی یعنی ایان، جس کے وجود کو میں ساس اور شوہر سے ہر صورت قبول کروانا چاہتی تھی۔ اب میری توجہ کا مرکز صرف ایان تھا اور میں اس کی دیکھ بھال میں مصروف تھی۔ ادھر علی آتے، چند دن رہ کر واپس چلے جاتے اور کہتے کہ والد بوڑھے ہو گئے ہیں، اس لیے ان کے کاروبار کو میں دیکھ رہا ہوں۔
دس سال کا عرصہ یونہی گزر گیا، اس بار جب وہ گئے تو کہہ کر گئے کہ امریکہ جا رہا ہوں اور وہاں جا کر فون کروں گا، مگر وہ ایسے گئے کہ پھر نہ کوئی رابطہ کیا اور نہ فون۔ بڑی مشکل سے ان کے ایک دوست کے ذریعے جب میں رابطہ کر سکی تو انہوں نے یہ شرط رکھی کہ میں تم کو ایک ہی صورت میں یہاں بلوا سکتا ہوں اگر تم ایان کو وہاں چھوڑ کر آؤ۔ یہ سن کر میں سکتے میں آ گئی۔ میں کیسے اپنے لختِ جگر کو چھوڑ سکتی تھی، جس کو میں نے ایک دن کا تھا تب سے گود میں لیا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ علی کو اس بچے سے ایسی نفرت کیوں تھی اور ان کے دل میں اس معصوم کے لیے تھوڑی سی بھی جگہ نہ تھی۔ میں نے صاف منع کر دیا اور ایان کو لے کر والدین کے گھر چلی آئی۔ ایک سال تک میں یہ سوچ کر شوہر کا انتظار کرتی رہی کہ شاید ان کو احساس ہو جائے کہ وہ میرے ساتھ غلط کر رہے ہیں، مگر وہ یہ چاہتے تھے کہ ایان کی ذمہ داری میں اپنے والدین کو سونپ دوں یا اسے دوبارہ یتیم خانے میں دے دوں۔ لیکن میں نے تو اسے بہت توجہ سے پالا تھا، میرے نزدیک وہ کوئی کھلونا نہ تھا کہ جب تک چاہا کھیلا اور پھر اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیا؛ وہ تو ایک جیتا جاگتا معصوم بچہ تھا، جس کو ماں کے پیار کے ساتھ راتیں جاگ کر پالا تھا۔ وہ بھی مجھے ہی اپنی ماں سمجھتا تھا اور ایک منٹ میرے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
علی نے بالآخر وہاں دوسری شادی کر لی اور مجھے طلاق بھجوا دی۔ یہ صدمہ مجھ پر پہاڑ بن کر ٹوٹا۔ تین سال بعد امریکہ سے آنے والے کچھ جاننے والوں نے مجھے بتایا کہ علی دو بچوں کا باپ بن چکا ہے اور وہاں خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے۔ یہ سب سن کر میں اور زیادہ بکھر گئی اور اب مجھے خود کا ہوش نہ تھا۔ فکر تھی تو بس ایان کی کہ اب اس کا کیا ہو گا۔ وقت گزرتا رہا، میں بیٹے کے سہارے زندگی کے روز و شب گزارتی رہی، یہاں تک کہ وہ جوان ہو گیا اور کالج جانے لگا۔ اب وہی میری امیدوں کا مرکز تھا اور میں اسے دیکھ کر جیتی تھی۔ جب اس کے کالج سے آنے کا وقت ہوتا تو میں دروازے پر کھڑی ہو جاتی اور اس کے انتظار میں ٹہلتی۔ کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہی تھی کہ اس کا رویہ کچھ بدلا بدلا سا ہے؛ وہ دیر سے گھر آنے لگا تھا، پڑھائی میں بھی دلچسپی نہ لیتا اور اکثر شام کو گھر سے نکلتا تو رات گئے لوٹتا۔
میں ایان کے لیے سخت فکر مند رہنے لگی کہ انہی دنوں ایک روز کالج سے فون آیا اور اس کے پرنسپل نے مجھے بلوایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایان کا اٹھنا بیٹھنا کچھ غلط قسم کے لڑکوں میں ہے اور شک ہے کہ انہوں نے اسے نشے کی لت لگا دی ہے، کلاس میں بھی اس کی حاضری کم رہتی ہے اور اس کی حالت بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔ حقیقت کھل گئی کہ میرا بیٹا چرس پینے لگا تھا۔ ہم نے اسے بہت سمجھایا اور بابا نے بھی سختی کی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ یہ لت ایسی پختہ ہو گئی کہ کئی بار اس نے میرے پرس سے پیسے بھی چرائے۔ بابا نے کئی دن اس کو کمرے میں بند رکھا اور چرس نہ لینے دی، جس سے وہ بیمار ہو گیا، پھر ہم نے اس کا علاج کروایا۔ وہ اب اس قدر کمزور ہو گیا تھا کہ ٹھیک سے چل بھی نہ سکتا تھا، شاید اس نے اس بات کا بہت اثر لیا تھا۔ ایک دن امی اور میں علی کے بارے میں باتیں کر رہے تھے، ہمیں خبر نہ ہوئی کہ ایان اچانک آ گیا ہے اور اس نے ہماری باتیں سن لیں کہ وہ لے پالک ہے، تبھی علی نے اس کو چھوڑا اور بیرونِ ملک جا کر اولاد کے لیے دوسری شادی کر لی۔ وہ تو اسے اپنا سگا باپ سمجھا کرتا تھا، اس حقیقت کو وہ برداشت نہ کر پایا کہ علی اس کا سگا باپ نہ ہونے کے باعث اس سے نفرت کرتا تھا۔
اس سچائی نے اس کو توڑ کر رکھ دیا، وہ خود کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو گیا اور اسے اپنے آپ سے ہی نفرت ہو گئی۔ اس نے مجھے تو کچھ نہ بتایا مگر نشے میں پناہ لے لی۔ علاج کروانے کے باوجود اس نے نشہ ترک نہ کیا، بابا بھی اب تھک گئے تھے اور مایوس ہو چکے تھے۔ ایک دن وہ دل کے دورے سے جاں بحق ہو گئے، ان کے بعد امی بھی صرف دو سال جی پائیں۔ بابا کا کاروبار سنبھالنا میرے بس کی بات نہ تھی، چنانچہ چچا جان اور ان کے لڑکوں نے بزنس کو سنبھال لیا۔ رفتہ رفتہ وہ ہر شے پر قابض ہوتے گئے اور مجھے صرف اتنا خرچہ دیتے کہ آسانی سے گزارہ کر سکتی تھی۔ نشے نے دیمک کی طرح ایان کو چاٹ لیا تھا اور وہ بستر سے لگ گیا۔ ایک روز موت سے لڑتے لڑتے وہ زندگی کی بازی ہار گیا اور میں اس بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی۔ سوچتی ہوں کہ اپنی ممتا کی تسکین کی خاطر شوہر کو ناراض کیا، مگر یہ تسکین بھی راس نہ آئی۔ شوہر کو ہی نہیں، زندگی کی ساری متاع کھو دی۔ اب صرف اللہ کی ذاتِ پاک ہے، دن رات اس کی عبادت میں گزرتے ہیں۔ جب تک سانس ہے، میرے رب کی ذات میرے ساتھ ہے اور کوئی نہیں ہے۔ اگر کچھ پاس ہے، تو بس ممتا کی پیاس ہے۔

