نادانی کی سزا

urdu stories

صوفیہ باجی میری کزن ہیں۔ ان کے والدین اور بہن بھائی کا اس وقت ایک کار حادثے میں انتقال ہو گیا تھا جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھیں۔ ان کی عمر اس وقت تیرہ برس تھی۔ فیصلہ ہوا کہ صوفیہ اپنے چچا چچی کے گھر رہے گی۔ یوں اس کے والدین کے گھر کو تالا لگ گیا۔ اس برس وہ سالانہ امتحان بھی نہ دے پائی کیونکہ وہ بہت غمزدہ تھی۔ رفتہ رفتہ اسے صبر آتا گیا۔ چچی نے اسے کافی سمجھایا بجھایا، تب وہ دوبارہ اسکول جانے پر آمادہ ہو گئی۔ اس نے خوب جی لگا کر پڑھا اور کلاس میں اچھی پوزیشن لینے لگی۔

وقت گزرتا گیا۔ اس نے بی اے اور بی ایڈ کر لیا اور ایک اچھے سرکاری اسکول میں ٹیچر بن گئی۔ اب ذرا اس کی زندگی میں سکون آیا۔ روز صبح اٹھنا، تیار ہو کر اسکول جانا اور پھر چھٹی کے بعد گھر آ جانا؛ وہ اس روٹین کی عادی ہو گئی۔ ملازمت ملی تو کچھ مناسب رشتے آئے، مگر صوفیہ کے دل پر اب تک والدین اور بہن بھائی کی جدائی کا صدمہ تازہ تھا۔ اس نے زندگی کی اس خوشی سے منہ موڑ رکھا تھا کیونکہ سر پر ہاتھ رکھ کر رخصت کرنے والے ماں باپ موجود نہیں تھے۔ ہمارے محلے میں ریحان صاحب رہتے تھے۔ ان کی اپنی فرم تھی اور بیرون ملک تک کاروبار پھیلا ہوا تھا۔ سہیل ان کا اکلوتا بیٹا تھا، یہ نوجوان نہایت محنتی اور ہونہار تھا۔ باپ کا لاکھوں کا کاروبار تھا، اس کے باوجود کبھی کسی نے سہیل کو وقت ضائع کرتے نہیں دیکھا تھا؛ وہ ہمہ وقت کام میں مصروف رہنے والا شخص تھا۔ صبح اٹھتے ہی وہ اپنے باپ کے دفتر چلا جاتا اور تمام معاملات کو خود دیکھتا۔ ریحان صاحب عمر رسیدہ ہو کر بیمار رہنے لگے تو انہوں نے تمام کاروبار بیٹے کے سپرد کر دیا اور اس کا سہرا دیکھنے کی حسرت لیے ایک دن دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے راہیِ ملکِ عدم ہو گئے۔

باپ کے انتقال سے ساری ذمہ داری سہیل پر آ پڑی اور وہ ہر بات بھلا کر کام میں مگن ہو گیا۔ وہ عجیب شخص تھا جس نے کبھی کسی لڑکی کی جانب نظر بھر کر نہیں دیکھا تھا۔ شام کو گھر آتا تو ماں کے قدموں میں بیٹھ جاتا۔ ماں سمجھاتی: “بیٹا! میں بوڑھی ہو چکی ہوں، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ تو شادی کر لے، تیرا گھر آباد دیکھ کر میں سکون سے مر سکوں گی”، مگر وہ ٹال جاتا۔ اس نے یہ کہہ کر ماں کو رشتہ ڈھونڈنے سے منع کر دیا کہ “میں آپ کی خدمت میں ساری عمر گزار دینا چاہتا ہوں”۔ ماں سمجھتی تھی کہ وہ سعادت مندی میں ایسا کہتا ہے، لیکن سہیل اس معاملے میں واقعی سنجیدہ تھا۔ وہ بہت دیکھ پرکھ کر کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جو اس کی ماں کو اپنی ماں سمجھے اور ان کی تابعداری کرے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ فی زمانہ ایسی لڑکی ملنی بے حد مشکل ہے، اسی لیے وہ شادی سے گریزاں تھا۔

امی نے ایک دن خالہ سے کہا: “تم نے کبھی صوفیہ کے بارے میں سوچا ہے؟ وہ بھی تو شادی نہیں کرتی۔ ماں باپ اور بہن بھائی کی موت سے اس کا دل ایسا ٹوٹا ہے کہ شادی کا نام لو تو رونے لگتی ہے۔ تم کیوں اپنے بیٹے کے لیے اس کا رشتہ نہیں لے لیتیں؟” خالہ نے جا کر بیٹے کو یہ بات سمجھائی کہ صوفیہ چھوٹی عمر میں یتیمی کا دکھ جھیل چکی ہے، ماں کی محبت کو ترسی ہوئی یہ لڑکی یقیناً مجھے اپنی ماں سمجھے گی۔ سہیل نے توجہ سے بات سنی اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ ماں سمجھ گئی کہ تیر نشانے پر بیٹھا ہے۔ اس نے صوفیہ کی دکھی زندگی کا ایسا نقشہ کھینچا کہ سہیل کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ اس نے کہا: “اچھا ماں، میں اس بارے میں غور کروں گا، پھر تمہیں بتاؤں گا”۔ خدا کو جب کسی کی جوڑی بنانی ہوتی ہے، تو وہ ایسے ہی اسباب پیدا کر دیا کرتا ہے۔ ادھر سہیل نے ماں کی خواہش پر غور کرنا شروع کیا، اور ادھر صوفیہ کے چچا، جو بیمار رہتے تھے، انہوں نے بار بار صوفیہ سے کہنا شروع کیا: “بیٹی، اب اگر کوئی اچھا رشتہ آیا تو میں ضرور تمہارا گھر بسا دوں گا کیونکہ میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں۔ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا؟”

اسی دوران ایک دن جب صوفیہ اسکول سے گھر آ رہی تھی، اسے ایک موٹر سائیکل والے نے ٹکر مار دی اور خود ہوا ہو گیا۔ وہ بیچاری سڑک پر گر گئی۔ ہاتھ میں کچھ کاپیاں اور بیگ تھا، وہ بھی سڑک پر بکھر گئے۔ اتفاق سے، سامنے سے سہیل اپنی کار پر آ رہا تھا، اس نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ وہ صوفیہ کو نہیں پہچانتا تھا، سمجھا کہ کوئی محلے دار ہو گی۔ وہ کار سے اتر کر آیا اور اس سے کہا: “آپ کو چوٹ لگی ہو گی، میری گاڑی میں بیٹھ جائیے. جہاں آپ کہتی ہیں، میں آپ کو پہنچا دیتا ہوں”۔ صوفیہ کو واقعی چوٹ لگی تھی اور وہ چلنے کے لائق نہ تھی۔ اس نے اپنے چچا کا نام بتایا اور کار میں بیٹھ گئی۔ اس نے اسے گھر پر اتار دیا۔ بعد میں ماں کی زبانی پتہ چلا کہ یہی لڑکی صوفیہ ہے۔ یہ خاتون سہیل کو اچھی لگی تھی۔ اس نے ماں سے کہا کہ “لو اب تمہاری تمنا بر آئی ہے۔ لڑکی کو میں نے دیکھ لیا ہے، یہ تمہیں ضرور عزت اور خوشی دے گی”۔ بیٹے کی رضامندی ملتے ہی خالہ جان دوڑی ہوئی احسان صاحب کے گھر آئیں اور رشتے کی بات کی۔ وہ پہلے ہی سے دعا مانگ رہے تھے کہ اللہ کوئی اچھا رشتہ بھیج دے.
 
 ان دنوں صوفیہ کی عمر چالیس برس ہونے والی تھی اور سہیل بھی چالیس کے ہو چکے تھے۔ سڑک پر گرنے سے صوفیہ کے ٹخنے میں ایسی چوٹ آئی تھی کہ اسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس دوران خالہ جان اور سہیل روز اس کی عیادت کو جاتے تھے۔ ایک ہفتے بعد جب وہ گھر آئی، تو سہیل کی امی رشتہ مانگنے آ گئیں۔ صوفیہ، سہیل کو اچھی طرح دیکھ پرکھ چکی تھی اور اس کی انسانی ہمدردی نے اس کے دل میں جگہ کر لی تھی۔ جب چچا نے اس کی رضامندی پوچھی، تو اس نے اپنا سر جھکا لیا۔ وہ خوش ہو گئے کہ چلو یہ مشکل مرحلہ کسی طرح حل ہو گیا۔ سہیل کے بارے میں کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی؛ وہ ایک سلجھا ہوا شریف نوجوان تھا جس کی مالی پوزیشن بے حد مستحکم تھی اور اس کے بارے میں کبھی کسی کو کوئی شکایت نہ ہوئی تھی۔

سہیل کا گھر صوفیہ کے آ جانے سے سج گیا، وہ بھی خوش تھا۔ جیسی شریکِ زندگی وہ چاہتا تھا، اسے مل گئی۔ وہ پڑھی لکھی، باکردار تھی اور اپنے حسنِ اخلاق سے ہر ایک کا دل جیت لیتی تھی۔ سہیل کی ماں نے تو بہو کو ایسے گلے لگایا جیسے وہ ان کی اپنی بیٹی ہو۔ خالہ جان کا دل بہو کے لیے ہی نہیں بلکہ بیٹی کے لیے بھی ترسا ہوا تھا۔ بیٹے سے انہوں نے ہزاروں خواب وابستہ کر رکھے تھے اور صوفیہ ان خوابوں کی ایک خوبصورت تعبیر تھی۔ اگرچہ وہ معمولی شکل و صورت کی تھی، لیکن اس کی سیرت سے نہایت احسن توقعات وابستہ تھیں۔ خالہ جان ہر طرح سے بہو کا خیال رکھتی تھیں۔ 
 
سہیل کی آرزو تھی کہ اس کی بیوی اب ملازمت ترک کر کے گھر کی ہو بیٹھے، مگر یہ بات صوفیہ کو منظور نہ تھی، لہٰذا ماں نے سمجھایا: “بیٹے! تم اپنی بیوی کی خواہش کا احترام کرو۔ اگر وہ ملازمت جاری رکھنا چاہتی ہے، تو تمہیں اس پر کیا اعتراض ہے؟” سہیل نے کہا: “صوفیہ کی ملازمت کی وجہ سے آپ گھر میں اکیلی رہیں گی ماں۔ بہو کو آپ کے ساتھ گھر پر ہونا چاہیے۔ اس عمر میں آپ کو کسی کی ضرورت ہے جو آپ کی دیکھ بھال کرے”۔ ماں نے جواب دیا: “میری دیکھ بھال کے لیے نوکر چاکر ہیں، بہو کی خوشی مجھے زیادہ عزیز ہے۔ اس کے اسکول میں ساتھی استانیاں ہیں، وہ ان کے ساتھ وقت گزار کر خوش رہتی ہے۔ تم تو صبح کے گئے رات کو گھر لوٹتے ہو، ایسے میں بیچاری بہو تمام دن کیا کرے گی؟ میرے ساتھ کتنے گھنٹے گزار سکتی ہے؟” ماں نے اسے قائل کر لیا۔ صوفیہ نے نوکری نہ چھوڑی۔ اس دوران ماں گھر پر اکیلی رہتی، بہو اسکول چلی جاتی اور بیٹا اپنے کام پر ہوتا، تاہم سہیل اپنی ماں کو مطمئن دیکھ کر خوش تھا۔

صوفیہ کو اور کیا چاہیے تھا۔ ایک نہایت مالدار گھرانے کے اکلوتے چشم و چراغ نے اسے قبول کر لیا تھا، جبکہ اب اس کی شادی کی عمر بھی نکل چکی تھی۔ ایسا رشتہ قسمت سے ملتا ہے۔ صوفیہ کی چچی اور ان کے لڑکے تو اس وجہ سے خوش تھے کہ چلو اتنے مالدار گھر سے ناتا جڑ گیا ہے تو انہیں بھی فائدہ ہی پہنچے گا۔ شادی کے چند دن بعد ہی صوفیہ کا رنگ بدلنے لگا۔ اس نے ایک دن بھی میاں اور گھر کی جانب توجہ نہ دی۔ اسکول جاتی، واپس آ کر تھکی ہوئی کمرے میں لیٹ جاتی، اور شام کو کوئی نہ کوئی اسکول کی سہیلی آ بیٹھتی۔ وہ جاتی تو یہ کاپیاں چیک کرنے بیٹھ جاتی۔ ساس یا میاں سے بات کرنے کا اس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔
 
 سہیل نے شروع میں تو اسے کچھ نہ کہا، لیکن جب اس کی لاپرواہی بڑھ گئی تو ایک روز اسے سمجھایا کہ “گھر میں کسی شے کی کمی نہیں ہے۔ تم جتنی تنخواہ لیتی ہو، اتنی تو ہمارا ڈرائیور لے لیتا ہے جو تمہیں روز اسکول لینے اور پہنچانے جاتا ہے۔ آخر تمہیں ملازمت کی کیا ضرورت ہے؟ امی بوڑھی ہو گئی ہیں، تم ان کے ساتھ رہا کرو، وہ گھر میں تنہا رہتی ہیں”۔ صوفیہ نے جواب دیا: “اماں جی گھر میں تنہا رہتی ہیں تو میں کیا کروں؟ ایک عرصے سے میں اسی قسم کی زندگی کی عادی ہو چکی ہوں، میرے لیے یہ سب یکدم چھوڑ دینا مشکل ہے”۔ سہیل نے کہا: “شادی کے بعد تم نے چھٹی نہیں لی، اس لیے ہم کہیں گھومنے پھرنے بھی نہیں گئے۔ میں تو تمہیں یورپ کی سیر کرانا چاہتا تھا، مگر تم نے منع کر دیا کہ لڑکیوں کے پیپرز ہونے والے ہیں۔ اتنے برس میں نے جس آئیڈیل عورت کا انتظار کیا، وہ عکس مجھے تم میں نظر آیا تھا۔ تمہیں دیکھ کر خیال ہوا تھا کہ بس ایسی ہی شریکِ حیات کی مجھے ضرورت تھی۔ تمہارے حالات سن کر دل میں گداز اور ہمدردی پیدا ہوئی اور میں نے جانا کہ تم ہی ہو وہ جس کا میں نے اتنے برس انتظار کیا۔” مگر سہیل کی کسی بات کا صوفیہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ تو اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔

ساس تو پھر ساس ہوتی ہے۔ وہ اسی وقت تک ماں ہوتی ہے جب تک بہو بھی بیٹی بن کر رہے، ورنہ پھر اسے ساس بنتے کون سی دیر لگتی ہے۔ خالہ کو صوفیہ کے طور طریقے دل سے پسند نہ تھے، پھر بھی وہ کچھ بھی نہیں کہہ رہی تھیں کیونکہ وہ اپنے بیٹے کا گھر بسا دیکھنا چاہتی تھیں۔ صوفیہ نے کہا کہ وہ گرمیوں کی چھٹیاں اپنے چچا کے ہاں گزارے گی۔ ایک ماہ بعد جب ساس اسے لینے آئیں، تو اس نے عجیب سا برتاؤ کیا، وہ دل میں آنسو لے کر واپس چلی آئیں اور یہ صدمہ بھی دل پر سہ گئیں۔ انہوں نے بیٹے کو جا کر کچھ نہ کہا، یہی کہا کہ بہو کی طبیعت ٹھیک نہ تھی، لہٰذا میں نے اسے وہاں رہنے دیا ہے؛ جب ٹھیک ہو جائے گی تو لے آؤں گی۔ ایک ماہ بعد بڑی مشکل سے چچا چچی کے سمجھانے پر صوفیہ گھر لوٹی، لیکن مزاج آسمان پر تھا؛ گھر میں دل نہ لگایا، شوہر کو کچھ نہ سمجھتی تھی، ساس کی توہین کرتی، اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ خوش اخلاق صوفیہ کہاں چلی گئی تھی۔
 
 وہ بات بے بات نوکروں کو پھٹکارتی اور ساس کو بہانے بہانے سے ستاتی تھی۔ یہ بات اب سہیل نے محسوس کرنا شروع کر دی تھی کہ اس کی بیوی نے اپنی قیمت اپنی اوقات سے زیادہ لگا لی ہے۔ اس نے آخری بار جب اسے سمجھانے کی کوشش کی، تو وہ اکڑ گئی۔ اس نے کہا: “میرے پاس ہے کیا؟ سب کچھ تو تمہارے پاس ہے، میں تو خالی ہاتھ ہوں”۔ سہیل نے کہا: “میرا جو کچھ ہے، وہ تمہارا ہی تو ہے۔ جو چیز میرے نام ہے، وہ تمہاری ہی ہے۔ آخر تم کیا کہنا چاہتی ہو، مجھے بتاؤ تاکہ میں تمہیں وہ دے دوں”۔ صوفیہ بولی: “میں چاہتی ہوں کہ آپ یہ کوٹھی اور فیکٹری میرے نام کر دیں”۔ اس کا یہ مطالبہ سن کر سہیل پریشان ہو گیا۔ اس نے کہا: “یہ سب کچھ تمہیں کون سکھاتا ہے؟ تمہارے گھر والوں نے شادی کے وقت ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا”۔ صوفیہ نے جواب دیا: “مجھے میری کولیگ کہتی ہیں کہ کیا پتہ زیادہ عمر کی وجہ سے تمہیں اولاد نہ ہو اور تمہارا خاوند بھی آگے چل کر وفا نہ کرے”۔ بیوی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر سہیل حیران رہ گیا۔ اس نے صوفیہ سے کہا: “میرے مرنے کے بعد بھی تم ہی مالک ہو گی، میرا کوئی اور رشتہ دار نہیں جو تم سے جائیداد اور روپیہ پیسہ چھینے۔ افسوس کہ تم نے مجھے غلط سمجھا اور میں نے بھی تمہیں غلط پہچانا۔”

ساس نے جب یہ گفتگو سنی، تو بیٹے کو سمجھانے لگی کہ “بہو کی خوشی کے لیے تم یہ کوٹھی اس کے نام لکھ دو۔ آخر یہ ہماری ہی ہے، اتنی معمولی بات پر جھگڑا مت کرو”۔ تبھی صوفیہ نے ساس سے کہا: “آپ بیچ میں مت آئیں، میں آپ کی پالیسی خوب سمجھتی ہوں۔ آپ یہی چاہتی ہیں کہ یہ دولت اور جائیداد آپ کے بھتیجوں کے نام ہو جائے۔ ظاہر ہے، اگر ہم بے اولاد رہ گئے تو وہی مالک ہوں گے”۔ ماں بیٹا دونوں حیرت سے اس کی باتیں سن رہے تھے، جو اتنی دور کی کوڑی لا رہی تھی۔ ایسا تو کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا، جو وہ سوچ رہی تھی۔ سہیل نے کہا: “میں نے بڑی محنت سے یہ دولت کمائی ہے۔ اتنی آسانی سے اسے کسی کے نام نہیں کر سکتا، جب تک کہ میں آزما نہ لوں کہ وہ شخص واقعی دل سے میرا ہے بھی کہ نہیں”۔ سہیل اپنی والدہ کی ایسی بے عزتی برداشت نہ کر سکتا تھا۔ صوفیہ نے ایک دن بھی ان لوگوں کو سکون نہ دیا تھا، اور آج بھی وہ روایتی زبان دراز بہو کی طرح بول رہی تھی، تبھی غصے میں اس نے کہا: “بہتر ہے کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ۔ میں تمہیں کچھ بھی لکھ کر نہ دوں گا، جب تک کہ تم ایک اچھی بیوی ثابت ہو کر نہ دکھاؤ گی”۔ وہ اسی وقت چچا کے گھر چلی گئی اور وہاں جا کر روئی پیٹی کہ سہیل نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، لہٰذا اب اسے اس کے گھر میں نہیں رہنا۔ چچا چچی اس صورت حال سے پریشان تھے، لیکن صوفیہ بالکل پریشان نہ تھی۔ 
 
وہ آرام سے اسکول آتی جاتی تھی۔ شاید وہ اسی غرور میں تھی کہ ساس اور شوہر چند دن بعد آ کر اسے منا کر لے جائیں گے۔ اس کی ساتھی استانیاں بھی کہتی تھیں کہ “ہرگز تم مت جانا، جب تک کہ وہ لوگ آ کر ناک نہ رگڑیں اور کوٹھی لکھ کر نہ دیں۔ تمہیں آخر مستقبل کی ضمانت تو چاہیے”۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو زندگی میں ایک بار ضرور آباد ہونے کا موقع دیتا ہے، اب یہ آدمی کی اپنی فراست ہوتی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے یا اسے برباد کر دے۔ صوفیہ نادان تھی، ان کی باتوں میں آ گئی تھی، لیکن سہیل نادان نہ تھا۔ اس نے بڑی محنت سے دولت کمانا سیکھا تھا۔ اس نے اپنی والدہ کو اس کے چچا کے گھر بھیجا کہ صوفیہ سے کہو: “اب بھی کچھ نہیں بگڑا، تم واپس لوٹ آؤ۔ میں تمہارے نام بینک میں معقول رقم جمع کرا دوں گا”، لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور ساس کو عزت دینے کی بجائے چار باتیں سنا کر کہا: “جب تک سہیل رقم جمع نہ کرائے گا اور خود میرے پاس آ کر معافی نہ مانگے گا، میں اس کے گھر نہیں جاؤں گی”۔ ساس افسردہ سی واپس لوٹ آئی۔ یہ نیک عورت ہر طرح سے بیٹے اور بہو میں صلح چاہتی تھی، مگر سہیل پختہ عمر کا سخت مزاج مرد تھا۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ یہ عورت اس کا گھر آباد نہ کر سکے گی، کیونکہ وہ ایک خاص انداز میں زندگی گزارنے کی عادی ہو گئی تھی۔ بس اب اسے طلاق دے دینا ہی ٹھیک ہے۔

صوفیہ شادی کے بندھن کو بہت مضبوط سمجھ بیٹھی تھی۔ اب اسے پتہ چلا کہ یہ بندھن جس قدر مضبوط ہے، اسی قدر کچا بھی ہے۔ جب اسے طلاق نامہ ملا تب اسے ہوش آیا اور اپنی غلطیوں کا احساس ہوا۔ اس طرح آخری موقع بھی اس نادان نے کھو دیا۔ بعد میں وہ بہت پچھتائی بھی، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ