وقت سکون سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس پرسکون جھیل میں کسی نے پتھر مار دیا۔ ہوا یہ کہ ان ہی دنوں میرا کزن مراد ہمارے گھر آکر رہنے لگا۔ ان کے گاؤں میں اسکول میٹرک تک تھا، کالج میں داخلہ لینے کے لیے شہر جانا پڑتا تھا، جب کہ ہمارے شہر میں یہ مسئلہ نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مراد پڑھنے کے لیے ہمارے شہر آگیا، کیونکہ مراد کے ابو نے میرے ابو سے درخواست کی تھی۔
وہ مجھ سے تین سال بڑا تھا۔ میں اس کی عزت کرتی تھی۔ اسے ہمارے گھر میں ایک الگ کمرہ دے دیا گیا، جہاں وہ ہمہ وقت اپنے کورس کی کتابیں پڑھتا رہتا۔ وہ کسی سے بلا ضرورت بات نہیں کرتا تھا اور نہ ہی ہماری فیملی میں گھل مل کر رہتا تھا۔ ایف ایس سی میں اس کے بہت اچھے نمبر آئے اور اسے میڈیکل میں داخلہ مل گیا۔ ان دنوں میں بھی میٹرک میں پہنچ گئی تھی۔ اس تمام عرصے میں مراد نے کبھی مجھ سے خود بات نہیں کی۔ اگر میں کوئی بات پوچھتی، تو مختصر جواب مل جاتا۔ مجھے بڑی حسرت تھی کہ یہ شخص کبھی خود سے مجھ سے بات کرے۔ مہمان تو ایک دو دن کا ہوتا ہے، جب کہ اس کو آئے دو برس ہو چکے تھے۔ وہ ابھی تک میرے لیے اجنبی تھا، پھر خدا نے میری دعا سن لی۔ اس دن کے بعد مراد مجھے اپنا اپنا سا دکھائی دینے لگا۔
میں نے اس کی آنکھوں میں اپنائیت کی چمک دیکھ لی تھی، مگر میں اس وجہ سے چپ تھی کہ پہل وہ کرے۔ جس دن کا انتظار تھا، آخر وہ دن آ ہی گیا۔ جب میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا، تو سب گھر والوں نے مجھے مبارک باد دی، تب مراد نے ایک لفافہ میرے ہاتھ میں تھما کر کہا، “اپنے کمرے میں جا کر کھولنا۔” اپنے کمرے میں آکر میں نے لفافہ کھولا، اس میں پرائز بانڈ اور ایک خط بھی تھا۔ اس میں مبارک باد کے ایسے خوب صورت الفاظ تحریر تھے کہ میرے حواس جاتے رہے۔ میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ مراد مجھے اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہ تحفہ پا کر میں بہت خوش ہوئی۔ اب ہم سب کی نظریں بچا کر ایک دوسرے کو دیکھ لیتے تھے اور کبھی موقع پا کر میں اس کے کمرے کی طرف چلی جاتی تھی، تب ہم کافی ساری باتیں کرتے۔ مجھے یہ اقرار ہے کہ جب تک میں اور مراد ایک دوسرے سے بے نیاز تھے، گھر میں بھی امن رہا اور ہماری روحیں بھی پرسکون تھیں۔ اب ہر وقت کھٹکا سا لگا رہتا کہ ہمیں کوئی دیکھ نہ لے، امی بات کرنے سے نہ ٹوک دیں یا مراد کو ہی کوئی دشواری پیش نہ آجائے۔
ایک دن میں نے اس سے کہا، “آخر کب تک ہم یوں خوف کے سایے میں زندہ رہیں گے؟ اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا، تو ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے؟ بہتر ہے کہ تم گھر جا کر اپنی امی سے بات کرو تاکہ وہ آکر میرے امی ابو سے رشتہ مانگیں اور پھر ہم ایک ہو جائیں۔” مراد نے کہا، “تم فکر نہ کرو، میں کل ہی اپنے گاؤں جا کر امی جان کو منا کر لاؤں گا۔” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنی جلدی مجھے میری منزل مل جائے گی۔ مراد گھر چلا گیا۔ اس نے کہا تھا کہ میں دو دن بعد امی کو لے کر آجاؤں گا اور یہ جمعہ کا دن ہو گا۔ میں اس دن بہت خوش تھی اور اپنی تقدیر کی راہ دیکھ رہی تھی، مگر قسمت ہمارے ساتھ کچھ اور ہی کرنے والی تھی۔ جب مراد نے اپنی ماں کے سامنے دامنِ مراد پھیلایا، تو وہ خوش ہونے کی بجائے برہم ہو گئیں، کیونکہ وہ اس کی شادی کہیں اور کرنا چاہتی تھیں۔ ماں نے اس کو بہت سمجھایا۔ جب مراد نے ایک نہ سنی، تو وہ جھگڑ پڑیں کہ میں ہرگز زیبا سے تیرا رشتہ نہ ہونے دوں گی۔
مراد دل برداشتہ ہو کر واپس آگیا۔ میں منتظر تھی کہ وہ خوش آئے گا، لیکن وہ مرجھایا ہوا تھا. امی نے بھی محسوس کر لیا کہ کوئی بات ضرور ہے، تب انہوں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا، “کوئی بات نہیں ہے چچی جان، بس میری طبیعت خراب ہے” اور بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں بے قرار تھی، چائے کے بہانے اس کے کمرے میں گئی اور پوچھا، “امی جان کو نہیں لائے؟” “وہ نہیں آئیں گی، وہ میری شادی اپنی بہن کی بیٹی سے کرنا چاہتی ہیں۔” یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے، تب اس نے کہا، “زیبا تم روؤ مت، میں تو تم سے ہی شادی کروں گا، ورنہ کسی سے نہیں کروں گا۔ تم میری دلہن بنو گی، تم کو مجھ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔” یہ کہتے ہوئے مراد کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
میں اپنے کمرے میں جا کر خوب روئی اور سوچا کہ اگر ابو مراد کو اپنے گھر نہ ٹھہراتے، تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی اور میں بھی اتنے دکھ سے دوچار نہ ہوتی۔ میں پہلے کتنی لگن اور شوق سے کالج کی پڑھائی میں لگی ہوئی تھی، کسی بات کی پروا نہ تھی اور اب کتابیں بے جان پتھر معلوم ہوتی تھیں، جن کو اٹھانے سے میرے ہاتھ ٹوٹتے تھے۔ اے کاش! میں اس چکر میں پڑنے کے بجائے اپنی تعلیم میں ہی گم رہتی، تو یوں میرے کلیجے میں پھانس نہ لگتی۔ یہ وہ دیمک تھی، جو چپکے چپکے میرے وجود کو چاٹ رہی تھی اور میں کوئی اچھا کام کرنے کی بجائے گھل گھل کر ختم ہو رہی تھی۔ مجھ سے بھی زیادہ نقصان مراد کا ہوا، مجھے اپنانے کی فکر میں اس کی تعلیم متاثر ہوئی۔ وہ میڈیکل کا طالب علم تھا، محنت اور تعلیم سے ہی اس کا مستقبل وابستہ تھا۔ اسے مجھ سے بھی زیادہ یکسوئی کی ضرورت تھی۔ وہ گھر واپس نہیں جا سکتا تھا، کیونکہ میڈیکل کالج ہمارے شہر میں تھا اور وہ ہاسٹل میں اس لیے نہیں رہ سکتا تھا کہ اتنے وسائل نہ تھے۔ ہمارے گھر رہنے سے اس کے تعلیمی اخراجات نصف سے بھی کم رہ جاتے تھے۔
مراد امی کی خالہ زاد بہن کا بیٹا تھا، جب کہ اس کے ابو میرے والد صاحب کے رشتے میں دور کے کزن تھے، گویا ہمارا ان سے دونوں طرف کا رشتہ تھا۔ امی جان کا خیال شاید یہ ہو گا کہ اگر مراد پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن گیا، تو یہ لوگ احسان مند ہوں گے اور ممکن ہے مراد کے گھر والے خود زیبا کا رشتہ مانگ لیں، لیکن انسان جو سوچتا ہے، وہ نہیں ہوتا۔ لوگ بھی ویسے نہیں ہوتے، جیسے وہ نظر آتے ہیں۔ ہم کسی کے بارے میں کچھ اندازہ لگا لیتے ہیں اور وہ کچھ اور ہی نکلتا ہے۔ ایسا ہی اندازہ میرے والدین نے مراد کے والدین کے بارے میں لگایا ہو گا۔ وہ ہمارے گھر آئے اور میرے والدین سے کہا، “ہمارا بیٹا آپ کے گھر رہتا ہے، اس لیے آپ لوگ ہم پر احسان جتا رہے ہیں اور اپنی بیٹی ہمارے سر ڈال رہے ہیں۔ اپنی بیٹی کو سنبھال کر رکھیے۔” امی اس توہین پر آبدیدہ ہو گئیں۔ والد صاحب شریف اور منکسر المزاج آدمی تھے۔ بجائے اس کے کہ وہ ان سے سختی سے پیش آتے، انہوں نے الٹا معافی مانگی کہ ہمیں اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ “آپ خاطر جمع رکھیں، ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ میں تو گاؤں سے ایک ہونہار بچے کی زندگی بنانے کی خاطر اس کو لایا تھا تاکہ یہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے، تو آپ لوگوں کا بھی بھلا ہو گا اور آپ مجھے دعائیں دیں گے۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ الٹا نیکی کا زیاں ہو گا۔” بہر حال وہ لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر چلے گئے، مگر میرے والدین کو اندیشوں کے سپرد کر گئے۔ ان کے جانے کے بعد ابو نے مجھے بلایا اور کہا کہ ہر بات سچ بتا دو، کیا ہوا ہے۔ میں نے سچ سچ ابو کو بتا دیا کہ میرے کہنے پر مراد اپنی امی کو لینے گاؤں گیا تھا اور وہاں رشتے کی بات پر اس کا اپنی ماں سے اختلاف ہو گیا، تو وہ گھر سے روٹھ کر آگیا۔ اس کی والدہ اس کا رشتہ اپنی بہن کے گھر کرنا چاہتی ہیں، مگر وہ نہیں مانتا۔ اب تمام صورت حال میرے والد صاحب پر واضح ہو گئی۔ ابو نے مجھے برا بھلا کہا نہ ڈانٹ ڈپٹ کی، بلکہ بہت آرام سے سمجھایا کہ بات ابھی بڑھی نہیں ہے، تم خود کو سنبھال لو اور اپنے ارادے سے باز آ جاؤ۔ ہماری عزت کو یوں نہ اچھالو، بے شک ہم بڑے شہر میں رہتے ہیں، لیکن ہمارا تعلق گاؤں سے بھی ہے۔ ہماری برادری گاؤں میں ہے، وہاں تک بات پہنچ گئی ہے۔ ایسی باتیں ہمارے لیے موت کا پروانہ ہوتی ہیں۔ ہم بے عزت ہو جانے سے مر جانا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمال کیا۔
مجھے تھپڑ مارنے کی بجائے، اپنی پگڑی میرے پاؤں پر رکھ دی۔ اس بات سے میں سر سے پاؤں تک کانپ گئی۔ میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ والد صاحب اپنی عزت کی خاطر اس حد تک مجبور و بے بس ہو جائیں گے اور ان کی عزت اب میرے ہاتھ میں تھی، جو بہت پیاری شے تھی۔ ظاہر ہے، دنیا میں آزادی اور عزت سے بڑھ کر اور کوئی شے انمول نہیں اور آزادی کا مطلب بھی دراصل عزت ہی سے جینا ہوتا ہے۔ اب آزمائش کی میری باری تھی۔ میں نے کہا، “ابو جان! آپ جو کہتے ہیں، میں وہ ماننے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے آپ کی عزت پیاری ہے، آپ جو چاہتے ہیں وہ ہو جائے گا۔ آپ فکر نہ کریں، میں اس جذبے کو بھلا دوں گی۔” ابو نے مجھے گلے سے لگا لیا اور مراد کو بھی سمجھایا کہ جیسے تمہاری ماں کہتی ہے مان لو۔ وہ جہاں کہتی ہیں، وہیں شادی کے لیے رضامند ہو جاؤ، ورنہ تم والدین کا دل دکھا کر خوش نہ رہ سکو گے۔ ابو نے مراد سے یہ بھی کہا کہ، “بیٹا! میں نے اچھی نیت سے تم کو اپنے گھر رکھا کہ گاؤں کا ایک لڑکا پڑھ لکھ جائے گا اور ڈاکٹر بن جائے گا، تو اس سے سارے گاؤں کو فائدہ ہو گا، مگر اس نیکی کا مجھے بدلہ برائی کی صورت میں ملنے والا ہے اور تمہارے والدین میری نیت پر شک و شبہ رکھتے ہیں، حالانکہ میری کوئی غرض تم سے وابستہ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ تم ہمارے گھر سے چلے جاؤ اور کوئی اور ٹھکانہ کر لو۔”
مراد نے ابو کا کہنا مان لیا۔ میرے والد صاحب نے جانے سے پہلے مراد کو یہ بھی نصیحت کی کہ جو باتیں ہو چکی ہیں، انہیں یہیں دفن کر کے باہر قدم رکھنا اور باہر جا کر کوئی ایسی ویسی بات مت کرنا، جس سے ہماری سبکی ہو۔ یہ کہہ کر والد صاحب کام پر چلے گئے اور مراد جانے کی تیاری کرنے لگا۔ تب میں نے ہمت سے کام لیا اور آخری بار بات کرنے کی خاطر اس کے کمرے کی طرف گئی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ رونے لگا، “کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ میں نے تمہارا کہنا مان لیا۔ اگر میں جلدی نہ کرتا اور امی سے جا کر یہ بات نہ بتاتا، تو آج مجھے تمہارے گھر سے یوں جانا نہ پڑتا، نہ ہی میرے والدین یہاں آکر تمہارے والدین پر بگڑتے۔ ہمیں اپنا راز بھی گھر والوں پر نہیں کھولنا چاہیے تھا، صبر سے کام لینا چاہیے تھا، جب تک کہ میں پوری طرح ڈاکٹر بن کر اپنے پیروں پر نہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے بعد میں خود مختار ہو جاتا۔” وہ تاسف سے ہاتھ مل رہا تھا۔ “جو ہونا تھا ہو چکا مراد! سیانے کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آسکتا۔ سانپ نکل گیا، اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے آنسو پونچھ لو، میں بھی دل کا زخم چھپا لوں گی۔ میں نے اپنے ابو سے وعدہ کر لیا ہے کہ میں ان کی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گی، چاہے موت ہی کیوں نہ آجائے۔ مجھے اب زندگی بھر اس وعدے کا پاس رکھنا ہو گا۔ تم بھی اپنے والدین کا کہا مان لو اور جہاں وہ چاہتے ہیں شادی کر لو۔”
یہ آخری باتیں میں نے اس سے کہی تھیں، اس طرح مراد اپنے آنسو پونچھتا ہوا ہم سے رخصت ہو گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں اس کے کمرے میں بیٹھ کر بہت روئی۔ اس کمرے کے در و دیوار میں مراد کی یادیں لپٹی تھیں، فضا میں اس کی خوشبو ابھی تک موجود تھی، پھر میں نے ان سب کو الوداع کہا اور کمرہ بند کر کے اس پر تالا لگا دیا، جیسے کمرے کو تالا نہیں لگا رہی، بلکہ اپنے دل کی کوٹھری میں اس کی یادوں کو قید کر کے ڈال رہی ہوں۔ کچھ دنوں بعد میں نے سنا کہ اس کا نکاح اس کی خالہ کی بیٹی شیبا کے ساتھ سادگی سے ہو گیا ہے۔ گاؤں سے جب ہمارے رشتہ دار شہر آئے، تو مراد کے ماں باپ نے ان کے ہاتھ ہمیں اس کے نکاح کے چھوہارے اور لڈو بھجوائے۔ گویا یہ ایک سندیسہ تھا کہ اگر مراد کے لیے کوئی آس ہے، تو تمہاری کشتیاں ہم نے جلا دی ہیں۔
جس دن لڈو آئے، میرے دل کو ٹھیس لگی۔ میں چھپ چھپ کر روتی رہی، یہاں تک کہ بیمار ہو گئی اور مجھے اسپتال داخل ہونا پڑا۔ اتفاق سے، اسی وارڈ میں میڈیکل کے کچھ طالب علم اپنے پروفیسر کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ مجھے مراد نے دیکھ لیا۔ وہ دوڑا ہوا ہماری طرف آیا اور ہمیں کمرہ لے کر دیا، مجھے روز دیکھنے آتا اور ڈاکٹر کو لاتا۔ اس نے میری بہت پروا کی۔ میں بھی اس کی توجہ پا کر ٹھیک ہو گئی اور جب میری طبیعت سنبھل گئی تو گھر آگئی۔ جب میں اسپتال میں داخل تھی، تو امی ابو نے مراد کے سامنے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے فلاں دن کسی کی شادی میں جانا ہے اور زیبا کی طبیعت سنبھل نہیں رہی، جب کہ اس شادی میں ضروری شرکت کرنی ہے۔
میری طبیعت سنبھل گئی، ہم گھر آگئے، تو امی ابو بھی شادی پر چلے گئے۔ گھر میں میرے سوا کوئی نہیں تھا۔ اچانک بیل ہوئی، میں لیٹی ہوئی تھی، اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے مراد کھڑا تھا۔ میں نے اسے اندر بٹھایا اور چائے بنانے جانے لگی، تو اس نے مجھے روک دیا اور کہا، “میرے پاس بیٹھو، مجھے پتا ہے کہ تم میری وجہ سے پریشان رہتی ہو اور بیماری کی وجہ بھی یہی ہے۔ میں پورا ڈاکٹر نہ سہی، آدھا تو ہوں، تمہارا روگ پہچانتا ہوں۔ میں مجبور نہ ہوتا، تو کبھی شادی نہ کرتا۔ تم اگر اتنی دکھی ہو، تو میں تم کو اس دکھ سے اب بھی بچا سکتا ہوں۔ تم اگر چاہو تو ہم ایک ہو سکتے ہیں۔ میں شیبا کو طلاق دے کر تم سے شادی کر لوں گا۔” اس کی باتیں سن کر میں اور پریشان ہو گئی کیونکہ اس کی باتوں میں سچائی تھی اور مجھے اس کی سچائی سے خوف آنے لگا، کیونکہ میں اپنے والدین سے وعدہ کر چکی تھی کہ ان کی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گی۔ میں نے مراد سے کہا، “یہ وقتی جذبہ ہے، وقت کے ساتھ ساتھ سب زخم بھر جاتے ہیں، مجھے بھی صبر آ جائے گا، لیکن تمہارا نکاح ہو چکا ہے اور وہ تمہاری سگی خالہ زاد ہے۔ اب تمہیں اس مقدس بندھن کو نبھانا ہو گا۔ شادی کوئی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں ہے۔ میں کسی کا گھر برباد کر کے خوش نہیں رہ سکتی، وہ بھی ایک عورت ہے اور میری طرح دل رکھتی ہے۔” مراد نے کہا، “مجھے اس کی یا کسی کی پروا نہیں ہے۔ اگر پروا ہے، تو بس تمہاری ہے۔ میں تمہیں گھل گھل کر مرتے نہیں دیکھ سکتا۔”
جب میں نے مراد کے لہجے کی مضبوطی کو محسوس کیا، تو اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ اپنی محبت کا واسطہ دیا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے اور میری خاطر اپنی بیوی کو طلاق نہ دے بلکہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرے۔ میں نے اس سے یہ بھی وعدہ لیا کہ اب وہ یوں چھپ کر مجھ سے ملنے بھی نہیں آئے گا۔ اگر آتا ہے تو والدین کے روبرو آنا ہو گا۔ مراد چلا گیا، میں نے صبر کا خنجر اپنے دل میں اتار لیا۔ اس طرح کئی ماہ گزر گئے، وہ دوبارہ ہمارے گھر نہ آیا۔ میں تو ان کے گھر جا ہی نہ سکتی تھی، اب اس کو بھلا دینا ہی میرا مقدر تھا۔ وقت مجھے دکھ دے دے کر گزرتا گیا۔ لمحے مجھ پر اپنے بھاری قدم رکھ رکھ کر اپنا سفر طے کرتے رہے، یہاں تک کہ کئی سال گزر گئے اور میں گزرتے ہوئے بے رحم وقت کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکی۔
ایک دن میں نے اس سے کہا، “آخر کب تک ہم یوں خوف کے سایے میں زندہ رہیں گے؟ اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا، تو ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے؟ بہتر ہے کہ تم گھر جا کر اپنی امی سے بات کرو تاکہ وہ آکر میرے امی ابو سے رشتہ مانگیں اور پھر ہم ایک ہو جائیں۔” مراد نے کہا، “تم فکر نہ کرو، میں کل ہی اپنے گاؤں جا کر امی جان کو منا کر لاؤں گا۔” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنی جلدی مجھے میری منزل مل جائے گی۔ مراد گھر چلا گیا۔ اس نے کہا تھا کہ میں دو دن بعد امی کو لے کر آجاؤں گا اور یہ جمعہ کا دن ہو گا۔ میں اس دن بہت خوش تھی اور اپنی تقدیر کی راہ دیکھ رہی تھی، مگر قسمت ہمارے ساتھ کچھ اور ہی کرنے والی تھی۔ جب مراد نے اپنی ماں کے سامنے دامنِ مراد پھیلایا، تو وہ خوش ہونے کی بجائے برہم ہو گئیں، کیونکہ وہ اس کی شادی کہیں اور کرنا چاہتی تھیں۔ ماں نے اس کو بہت سمجھایا۔ جب مراد نے ایک نہ سنی، تو وہ جھگڑ پڑیں کہ میں ہرگز زیبا سے تیرا رشتہ نہ ہونے دوں گی۔
مراد دل برداشتہ ہو کر واپس آگیا۔ میں منتظر تھی کہ وہ خوش آئے گا، لیکن وہ مرجھایا ہوا تھا. امی نے بھی محسوس کر لیا کہ کوئی بات ضرور ہے، تب انہوں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا، “کوئی بات نہیں ہے چچی جان، بس میری طبیعت خراب ہے” اور بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں بے قرار تھی، چائے کے بہانے اس کے کمرے میں گئی اور پوچھا، “امی جان کو نہیں لائے؟” “وہ نہیں آئیں گی، وہ میری شادی اپنی بہن کی بیٹی سے کرنا چاہتی ہیں۔” یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے، تب اس نے کہا، “زیبا تم روؤ مت، میں تو تم سے ہی شادی کروں گا، ورنہ کسی سے نہیں کروں گا۔ تم میری دلہن بنو گی، تم کو مجھ سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔” یہ کہتے ہوئے مراد کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
میں اپنے کمرے میں جا کر خوب روئی اور سوچا کہ اگر ابو مراد کو اپنے گھر نہ ٹھہراتے، تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی اور میں بھی اتنے دکھ سے دوچار نہ ہوتی۔ میں پہلے کتنی لگن اور شوق سے کالج کی پڑھائی میں لگی ہوئی تھی، کسی بات کی پروا نہ تھی اور اب کتابیں بے جان پتھر معلوم ہوتی تھیں، جن کو اٹھانے سے میرے ہاتھ ٹوٹتے تھے۔ اے کاش! میں اس چکر میں پڑنے کے بجائے اپنی تعلیم میں ہی گم رہتی، تو یوں میرے کلیجے میں پھانس نہ لگتی۔ یہ وہ دیمک تھی، جو چپکے چپکے میرے وجود کو چاٹ رہی تھی اور میں کوئی اچھا کام کرنے کی بجائے گھل گھل کر ختم ہو رہی تھی۔ مجھ سے بھی زیادہ نقصان مراد کا ہوا، مجھے اپنانے کی فکر میں اس کی تعلیم متاثر ہوئی۔ وہ میڈیکل کا طالب علم تھا، محنت اور تعلیم سے ہی اس کا مستقبل وابستہ تھا۔ اسے مجھ سے بھی زیادہ یکسوئی کی ضرورت تھی۔ وہ گھر واپس نہیں جا سکتا تھا، کیونکہ میڈیکل کالج ہمارے شہر میں تھا اور وہ ہاسٹل میں اس لیے نہیں رہ سکتا تھا کہ اتنے وسائل نہ تھے۔ ہمارے گھر رہنے سے اس کے تعلیمی اخراجات نصف سے بھی کم رہ جاتے تھے۔
مراد امی کی خالہ زاد بہن کا بیٹا تھا، جب کہ اس کے ابو میرے والد صاحب کے رشتے میں دور کے کزن تھے، گویا ہمارا ان سے دونوں طرف کا رشتہ تھا۔ امی جان کا خیال شاید یہ ہو گا کہ اگر مراد پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن گیا، تو یہ لوگ احسان مند ہوں گے اور ممکن ہے مراد کے گھر والے خود زیبا کا رشتہ مانگ لیں، لیکن انسان جو سوچتا ہے، وہ نہیں ہوتا۔ لوگ بھی ویسے نہیں ہوتے، جیسے وہ نظر آتے ہیں۔ ہم کسی کے بارے میں کچھ اندازہ لگا لیتے ہیں اور وہ کچھ اور ہی نکلتا ہے۔ ایسا ہی اندازہ میرے والدین نے مراد کے والدین کے بارے میں لگایا ہو گا۔ وہ ہمارے گھر آئے اور میرے والدین سے کہا، “ہمارا بیٹا آپ کے گھر رہتا ہے، اس لیے آپ لوگ ہم پر احسان جتا رہے ہیں اور اپنی بیٹی ہمارے سر ڈال رہے ہیں۔ اپنی بیٹی کو سنبھال کر رکھیے۔” امی اس توہین پر آبدیدہ ہو گئیں۔ والد صاحب شریف اور منکسر المزاج آدمی تھے۔ بجائے اس کے کہ وہ ان سے سختی سے پیش آتے، انہوں نے الٹا معافی مانگی کہ ہمیں اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ “آپ خاطر جمع رکھیں، ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ میں تو گاؤں سے ایک ہونہار بچے کی زندگی بنانے کی خاطر اس کو لایا تھا تاکہ یہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے، تو آپ لوگوں کا بھی بھلا ہو گا اور آپ مجھے دعائیں دیں گے۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ الٹا نیکی کا زیاں ہو گا۔” بہر حال وہ لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر چلے گئے، مگر میرے والدین کو اندیشوں کے سپرد کر گئے۔ ان کے جانے کے بعد ابو نے مجھے بلایا اور کہا کہ ہر بات سچ بتا دو، کیا ہوا ہے۔ میں نے سچ سچ ابو کو بتا دیا کہ میرے کہنے پر مراد اپنی امی کو لینے گاؤں گیا تھا اور وہاں رشتے کی بات پر اس کا اپنی ماں سے اختلاف ہو گیا، تو وہ گھر سے روٹھ کر آگیا۔ اس کی والدہ اس کا رشتہ اپنی بہن کے گھر کرنا چاہتی ہیں، مگر وہ نہیں مانتا۔ اب تمام صورت حال میرے والد صاحب پر واضح ہو گئی۔ ابو نے مجھے برا بھلا کہا نہ ڈانٹ ڈپٹ کی، بلکہ بہت آرام سے سمجھایا کہ بات ابھی بڑھی نہیں ہے، تم خود کو سنبھال لو اور اپنے ارادے سے باز آ جاؤ۔ ہماری عزت کو یوں نہ اچھالو، بے شک ہم بڑے شہر میں رہتے ہیں، لیکن ہمارا تعلق گاؤں سے بھی ہے۔ ہماری برادری گاؤں میں ہے، وہاں تک بات پہنچ گئی ہے۔ ایسی باتیں ہمارے لیے موت کا پروانہ ہوتی ہیں۔ ہم بے عزت ہو جانے سے مر جانا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمال کیا۔
مجھے تھپڑ مارنے کی بجائے، اپنی پگڑی میرے پاؤں پر رکھ دی۔ اس بات سے میں سر سے پاؤں تک کانپ گئی۔ میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ والد صاحب اپنی عزت کی خاطر اس حد تک مجبور و بے بس ہو جائیں گے اور ان کی عزت اب میرے ہاتھ میں تھی، جو بہت پیاری شے تھی۔ ظاہر ہے، دنیا میں آزادی اور عزت سے بڑھ کر اور کوئی شے انمول نہیں اور آزادی کا مطلب بھی دراصل عزت ہی سے جینا ہوتا ہے۔ اب آزمائش کی میری باری تھی۔ میں نے کہا، “ابو جان! آپ جو کہتے ہیں، میں وہ ماننے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے آپ کی عزت پیاری ہے، آپ جو چاہتے ہیں وہ ہو جائے گا۔ آپ فکر نہ کریں، میں اس جذبے کو بھلا دوں گی۔” ابو نے مجھے گلے سے لگا لیا اور مراد کو بھی سمجھایا کہ جیسے تمہاری ماں کہتی ہے مان لو۔ وہ جہاں کہتی ہیں، وہیں شادی کے لیے رضامند ہو جاؤ، ورنہ تم والدین کا دل دکھا کر خوش نہ رہ سکو گے۔ ابو نے مراد سے یہ بھی کہا کہ، “بیٹا! میں نے اچھی نیت سے تم کو اپنے گھر رکھا کہ گاؤں کا ایک لڑکا پڑھ لکھ جائے گا اور ڈاکٹر بن جائے گا، تو اس سے سارے گاؤں کو فائدہ ہو گا، مگر اس نیکی کا مجھے بدلہ برائی کی صورت میں ملنے والا ہے اور تمہارے والدین میری نیت پر شک و شبہ رکھتے ہیں، حالانکہ میری کوئی غرض تم سے وابستہ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ تم ہمارے گھر سے چلے جاؤ اور کوئی اور ٹھکانہ کر لو۔”
مراد نے ابو کا کہنا مان لیا۔ میرے والد صاحب نے جانے سے پہلے مراد کو یہ بھی نصیحت کی کہ جو باتیں ہو چکی ہیں، انہیں یہیں دفن کر کے باہر قدم رکھنا اور باہر جا کر کوئی ایسی ویسی بات مت کرنا، جس سے ہماری سبکی ہو۔ یہ کہہ کر والد صاحب کام پر چلے گئے اور مراد جانے کی تیاری کرنے لگا۔ تب میں نے ہمت سے کام لیا اور آخری بار بات کرنے کی خاطر اس کے کمرے کی طرف گئی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ رونے لگا، “کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ میں نے تمہارا کہنا مان لیا۔ اگر میں جلدی نہ کرتا اور امی سے جا کر یہ بات نہ بتاتا، تو آج مجھے تمہارے گھر سے یوں جانا نہ پڑتا، نہ ہی میرے والدین یہاں آکر تمہارے والدین پر بگڑتے۔ ہمیں اپنا راز بھی گھر والوں پر نہیں کھولنا چاہیے تھا، صبر سے کام لینا چاہیے تھا، جب تک کہ میں پوری طرح ڈاکٹر بن کر اپنے پیروں پر نہ کھڑا ہو جاتا۔ اس کے بعد میں خود مختار ہو جاتا۔” وہ تاسف سے ہاتھ مل رہا تھا۔ “جو ہونا تھا ہو چکا مراد! سیانے کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آسکتا۔ سانپ نکل گیا، اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے آنسو پونچھ لو، میں بھی دل کا زخم چھپا لوں گی۔ میں نے اپنے ابو سے وعدہ کر لیا ہے کہ میں ان کی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گی، چاہے موت ہی کیوں نہ آجائے۔ مجھے اب زندگی بھر اس وعدے کا پاس رکھنا ہو گا۔ تم بھی اپنے والدین کا کہا مان لو اور جہاں وہ چاہتے ہیں شادی کر لو۔”
یہ آخری باتیں میں نے اس سے کہی تھیں، اس طرح مراد اپنے آنسو پونچھتا ہوا ہم سے رخصت ہو گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں اس کے کمرے میں بیٹھ کر بہت روئی۔ اس کمرے کے در و دیوار میں مراد کی یادیں لپٹی تھیں، فضا میں اس کی خوشبو ابھی تک موجود تھی، پھر میں نے ان سب کو الوداع کہا اور کمرہ بند کر کے اس پر تالا لگا دیا، جیسے کمرے کو تالا نہیں لگا رہی، بلکہ اپنے دل کی کوٹھری میں اس کی یادوں کو قید کر کے ڈال رہی ہوں۔ کچھ دنوں بعد میں نے سنا کہ اس کا نکاح اس کی خالہ کی بیٹی شیبا کے ساتھ سادگی سے ہو گیا ہے۔ گاؤں سے جب ہمارے رشتہ دار شہر آئے، تو مراد کے ماں باپ نے ان کے ہاتھ ہمیں اس کے نکاح کے چھوہارے اور لڈو بھجوائے۔ گویا یہ ایک سندیسہ تھا کہ اگر مراد کے لیے کوئی آس ہے، تو تمہاری کشتیاں ہم نے جلا دی ہیں۔
جس دن لڈو آئے، میرے دل کو ٹھیس لگی۔ میں چھپ چھپ کر روتی رہی، یہاں تک کہ بیمار ہو گئی اور مجھے اسپتال داخل ہونا پڑا۔ اتفاق سے، اسی وارڈ میں میڈیکل کے کچھ طالب علم اپنے پروفیسر کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ مجھے مراد نے دیکھ لیا۔ وہ دوڑا ہوا ہماری طرف آیا اور ہمیں کمرہ لے کر دیا، مجھے روز دیکھنے آتا اور ڈاکٹر کو لاتا۔ اس نے میری بہت پروا کی۔ میں بھی اس کی توجہ پا کر ٹھیک ہو گئی اور جب میری طبیعت سنبھل گئی تو گھر آگئی۔ جب میں اسپتال میں داخل تھی، تو امی ابو نے مراد کے سامنے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے فلاں دن کسی کی شادی میں جانا ہے اور زیبا کی طبیعت سنبھل نہیں رہی، جب کہ اس شادی میں ضروری شرکت کرنی ہے۔
میری طبیعت سنبھل گئی، ہم گھر آگئے، تو امی ابو بھی شادی پر چلے گئے۔ گھر میں میرے سوا کوئی نہیں تھا۔ اچانک بیل ہوئی، میں لیٹی ہوئی تھی، اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے مراد کھڑا تھا۔ میں نے اسے اندر بٹھایا اور چائے بنانے جانے لگی، تو اس نے مجھے روک دیا اور کہا، “میرے پاس بیٹھو، مجھے پتا ہے کہ تم میری وجہ سے پریشان رہتی ہو اور بیماری کی وجہ بھی یہی ہے۔ میں پورا ڈاکٹر نہ سہی، آدھا تو ہوں، تمہارا روگ پہچانتا ہوں۔ میں مجبور نہ ہوتا، تو کبھی شادی نہ کرتا۔ تم اگر اتنی دکھی ہو، تو میں تم کو اس دکھ سے اب بھی بچا سکتا ہوں۔ تم اگر چاہو تو ہم ایک ہو سکتے ہیں۔ میں شیبا کو طلاق دے کر تم سے شادی کر لوں گا۔” اس کی باتیں سن کر میں اور پریشان ہو گئی کیونکہ اس کی باتوں میں سچائی تھی اور مجھے اس کی سچائی سے خوف آنے لگا، کیونکہ میں اپنے والدین سے وعدہ کر چکی تھی کہ ان کی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گی۔ میں نے مراد سے کہا، “یہ وقتی جذبہ ہے، وقت کے ساتھ ساتھ سب زخم بھر جاتے ہیں، مجھے بھی صبر آ جائے گا، لیکن تمہارا نکاح ہو چکا ہے اور وہ تمہاری سگی خالہ زاد ہے۔ اب تمہیں اس مقدس بندھن کو نبھانا ہو گا۔ شادی کوئی گڑیا گڈے کا کھیل نہیں ہے۔ میں کسی کا گھر برباد کر کے خوش نہیں رہ سکتی، وہ بھی ایک عورت ہے اور میری طرح دل رکھتی ہے۔” مراد نے کہا، “مجھے اس کی یا کسی کی پروا نہیں ہے۔ اگر پروا ہے، تو بس تمہاری ہے۔ میں تمہیں گھل گھل کر مرتے نہیں دیکھ سکتا۔”
جب میں نے مراد کے لہجے کی مضبوطی کو محسوس کیا، تو اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ اپنی محبت کا واسطہ دیا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے اور میری خاطر اپنی بیوی کو طلاق نہ دے بلکہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرے۔ میں نے اس سے یہ بھی وعدہ لیا کہ اب وہ یوں چھپ کر مجھ سے ملنے بھی نہیں آئے گا۔ اگر آتا ہے تو والدین کے روبرو آنا ہو گا۔ مراد چلا گیا، میں نے صبر کا خنجر اپنے دل میں اتار لیا۔ اس طرح کئی ماہ گزر گئے، وہ دوبارہ ہمارے گھر نہ آیا۔ میں تو ان کے گھر جا ہی نہ سکتی تھی، اب اس کو بھلا دینا ہی میرا مقدر تھا۔ وقت مجھے دکھ دے دے کر گزرتا گیا۔ لمحے مجھ پر اپنے بھاری قدم رکھ رکھ کر اپنا سفر طے کرتے رہے، یہاں تک کہ کئی سال گزر گئے اور میں گزرتے ہوئے بے رحم وقت کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکی۔
(ختم شد)

