مجھے یاد نہیں کہ کبھی امی، ابو میں پیار رہا ہو۔ جب ہوش سنبھالا تو انہیں آپس میں لڑتے جھگڑتے ہی دیکھا۔ ابو تیز مزاج تھے اور بات بات پر چلانے لگتے، جب کہ ماں بہت دھیمے مزاج کی تھیں۔ وہ لڑائی جھگڑے کو پسند نہیں کرتی تھیں، مگر یہ بات والد صاحب کبھی نہ سمجھ سکے۔
sublimegate
ہم کل تین بہن بھائی تھے۔ میں سب سے بڑی تھی، میرے بعد لبنیٰ اور پھر احسن تھا۔ میں بچپن سے ہی حساس تھی اور گھر کے تلخ ماحول کی وجہ سے پریشان رہتی تھی۔ والدین کے بیچ ہر وقت کی ان بن نے ہم بچوں کا دماغ ماؤف کر ڈالا تھا۔ میرا بس نہیں چلتا تھا کہ اس ناچاقی کو کیسے ختم کروں۔ جب گھر کا ماحول تلخ ہو اور والدین جھگڑتے ہوں، اس وقت بچوں پر کیا گزرتی ہے، کاش یہ بات والدین سمجھ سکیں۔ میں ایک ذہین بچی تھی، پڑھائی میں اچھی تھی اور کلاس میں فرسٹ پوزیشن لیتی تھی، اس لیے سب ٹیچرز مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ رفتہ رفتہ میں پڑھائی میں کمزور ہوتی گئی اور میری پڑھائی کا گراف تیزی سے نیچے آنے لگا۔ یہاں تک کہ میں فیل ہونے لگی اور ہر ٹیسٹ میں زیرو لینے لگی۔ میری اس تنزلی پر سب اساتذہ حیران تھے اور وہ سمجھ نہ پا رہے تھے کہ اس اچھی بھلی ہونہار بچی کو کیا ہو گیا ہے۔ میں ان کو کیسے بتاتی کہ یہ سب میرے والدین کی وجہ سے ہے، جن کو لڑتے ہوئے یہ ہوش بھی نہیں ہوتا کہ ہم تین معصوم جانوں کا کس قدر نقصان ہو رہا ہے۔
مجھے خبر نہیں کہ گھر کے اس بے سکون ماحول میں میری بہن اور بھائی کیا محسوس کر رہے تھے؟ یقیناً وہ بھی میری طرح پریشان رہتے ہوں گے۔ آخر کار اس ناچاقی کی وجہ سے امی جان روٹھ کر میکے جا بیٹھیں۔ ابو نے ہمیں امی کے ساتھ نہیں جانے دیا، بلکہ وہ ہمیں دادی جان کے سپرد کر کے خود اپنی ڈیوٹی پر دوسرے شہر چلے گئے۔ اس بار گویا امی پکی روٹھ کر گئی تھیں۔ ابو بھی اس گھمنڈ میں تھے کہ جیسے گئی ہے، خود ہی آ جائے گی، میں کیوں منانے جاؤں؟ شاید ان کو یہ احساس نہیں تھا کہ ہم بچے ماں کے بغیر کیا محسوس کرتے ہیں؟ دن تو جوں توں گزر جاتا، لیکن رات اندھیری بلا کی طرح ہم پر حملہ آور ہو جاتی تھی۔ ہمیں بن ماں کے نیند نہیں آتی تھی۔ لبنیٰ اور احسن میرے ارد گرد سو جاتے اور میں تادیر جاگتے ہوئے تارے گنتی رہتی کہ جانے کون سی رات کا ایسا سویرا ہوگا، جب ماں ہمارے پاس واپس آ جائے گی۔
امی خود نہیں آ رہی تھیں یا انہیں میکے والے روکے ہوئے تھے؟ اللہ جانے۔ پھر سنا کہ امی نے عدالت میں ابو پر کیس کر دیا ہے اور ان کی پشت پناہی ماموں کر رہے ہیں۔ دو سال ایسے ہی کٹ گئے۔ کیس چلتا رہا، مگر ابو نے ہمیں ماں سے ملنے نہ دیا۔ جب امی کا ہماری جدائی میں بُرا حال ہو گیا اور بچوں سے ملاپ کی کوئی صورت نظر نہ آئی، تو انہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ “مجھے وہ بے شک جتنا چاہیں ذلیل کریں، اب میں نہ رکوں گی۔ میں بچوں کے پاس ہر صورت جاؤں گی یا پھر دریا میں چھلانگ لگا دوں گی۔” تب ماموں بولے: “میں کوئی تدبیر کرتا ہوں، تم خاطر جمع رکھو۔”
ماموں نے ماں کو تسلی دی اور پھر اپنے محلے کے ایک پولیس والے سے بات کی کہ کسی طرح میرے بھانجی بھانجوں کو وہاں سے اٹھوا دو۔ ان کا باپ میری بہن سے بچوں کو ملنے نہیں دیتا، جب کہ بچے ادھر تڑپ رہے ہیں اور ماں ادھر ہلکان ہے، یہ میرے لیے دیکھنا ممکن نہیں۔ پولیس والے نے ماموں سے معذرت کی اور کہا کہ کیس کورٹ میں ہے، اس لیے پولیس مداخلت نہیں کر سکتی؛ البتہ ایک طریقہ ہے کہ میں تم کو ایک بدمعاش سے ملا دیتا ہوں، بچے اٹھانے کا کام وہ کر دے گا۔ پولیس والے نے بدمعاش سے ماموں کو ملوا دیا اور کہا کہ اب تم خود اس آدمی سے معاملہ طے کر لو۔ ماموں نے اپنی رام کہانی اس بدمعاش کو سنا کر اس سے مدد طلب کی، بھاگ دوڑ کر کے رقم کا انتظام کیا اور کہا کہ اب دیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس بدمعاش نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا: “لیکن تمہیں ساتھ چل کر پہلے گھر دکھانا ہوگا، باقی کام ہم پر چھوڑ دو۔” اگلے روز ماموں ان لوگوں کے ہمراہ دادی کا گھر دکھا گئے، مگر میں نے ان کو دیکھ لیا تھا۔ وہ گاڑی میں آئے تھے، لیکن میں دادی کے خوف کی وجہ سے ان سے نہیں ملی۔
اگلے دن لبنیٰ کو بخار تھا اور وہ اسکول جانے کے لائق نہ تھی۔ جب وہ اسکول نہیں جاتی تھی، تو احسن بھی ضد کر کے چھٹی کر لیا کرتا تھا۔ اب میں اکیلی کیسے جاتی؟ میرا ٹیسٹ تھا اور جانا ضروری تھا۔ ان دنوں میں آٹھویں جماعت میں پڑھ رہی تھی اور مڈل کے داخلے کے لیے یہ ٹیسٹ دینا لازمی تھا۔ دادی کو میں نے صورتحال بتائی تو انہوں نے کہا: “چل پھر میں خود چھوڑ آتی ہوں اور واپسی پر تم محلے کی لڑکی شہلا کے ساتھ آ جانا۔” چونکہ ٹیسٹ دینا ضروری تھا، اس لیے میں اسکول چلی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب دادی مجھے خود اسکول پہنچانے جا رہی تھیں، حالانکہ اسکول زیادہ دور نہیں تھا۔ واپسی پر چھٹی کے وقت میں نے ادھر ادھر دیکھا، مگر شہلا کہیں نظر نہیں آئی۔ میں اسکول کے گیٹ پر کچھ دیر ٹھہری، دادی بھی لینے نہیں آئی تھیں، تب میں خود ہی گھر کی طرف چل پڑی۔
میں ادھر ادھر بدستور دادی کو دیکھتی جا رہی تھی کہ اچانک میری نظر کچھ دُور کھڑی کل والی گاڑی پر پڑی۔ میں چونک گئی کہ گویا آج بھی ماموں آئے ہیں اور شاید امی کا کوئی پیغام لے کر آئے ہوں گے۔ میں گاڑی کی طرف چلنے لگی، تبھی ایک شخص میری طرف بڑھا اور ایک رقعہ میرے ہاتھ میں دے کر کہا: “تمہاری امی نے بھجوایا ہے۔” میں نے رقعہ کھولا۔ واقعی وہ امی کا خط تھا، میں ان کی لکھائی اچھی طرح پہچانتی تھی۔ انہوں نے مجھے پہلی سے لے کر چھٹی جماعت تک پڑھانا سکھایا تھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر لکھنا بھی سکھایا تھا۔ ساتھ ہی ماں نے میرا وہ لاکٹ بھی بھجوا دیا تھا، جو انہوں نے میری سالگرہ پر مجھے تحفے میں دیا تھا اور جسے میں ہر دم پہنے رکھتی تھی، لیکن جس دن امی گئیں، یہ لاکٹ ان کے گلے میں ہی رہ گیا تھا۔
لاکٹ کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میں نے رقعہ پڑھا، ماں نے لکھا تھا: “بیٹی! مجھے تیری بہت یاد آتی ہے۔ تو جیسے بھی بن پڑے، میرے پاس آ جا۔ میں تم لوگوں کی یاد میں بیمار ہو گئی ہوں۔ تیرے ماموں اس لیے نہیں آئے کہ تیرے والد کے گھر والے ان کو پہچانتے ہیں، اسی لیے میں نے اس شخص کو بھیجا ہے۔” اس موٹے تازے، ہٹے کٹے آدمی نے کہا: “ڈرو نہیں بیٹی، میں تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دوں گا اور تیرا ماموں جواد تھوڑی دُور ہی سڑک کے کنارے کھڑا ہے، اسے راستے میں ساتھ بٹھا لیں گے۔ اپنے دونوں بہن بھائیوں کو بھی لے آؤ۔” میں نے کہا: “ان کو میں نہیں لا سکتی، کیونکہ اگر میں گھر کے اندر گئی تو پھر باہر نہ آ سکوں گی۔” اس آدمی نے جواب دیا: “تو پھر تم ہی چلی چلو، ان کو بعد میں لے جائیں گے۔” ذرا دیر کو میں نے سوچا، لیکن پھر ماں کا خط آنکھوں سے لگا لیا، کیونکہ وہ شخص کہہ رہا تھا: “وقت کم ہے، دیر ہو گئی تو تمہارے گھر والے تم کو ڈھونڈنے آ جائیں گے اور تب ہماری شامت بھی آ جائے گی۔ اگر تم کو چلنا ہے تو جلدی کرو، ورنہ ہم جا رہے ہیں۔”
وہ مجھے سوچنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا اور ماں کے خط میں بھی یہی لکھا تھا: “بیٹی! جیسے بھی ہو سکے اپنے بھائی اور بہن کے ہمراہ ان لوگوں کے ساتھ آنے کی کوشش کرو۔” میں ماں سے ملنے کو بے قرار تھی، اس لیے جب انہوں نے کہا کہ “چلتی ہو تو چلو، ہم جا رہے ہیں”، تو میں نے جھٹ سے کار کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی۔ زندگی کی سب سے خطرناک، پاگل اور کچی عمر یہی ہوتی ہے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے لیکن راستے میں کہیں بھی ماموں نظر نہ آئے، کیونکہ وہ اس راستے پر گئے ہی نہیں تھے جہاں انہوں نے ماموں کو اتارنے کا جھوٹ بولا تھا، بلکہ وہ مجھے کسی اور راستے سے لے گئے۔ انہوں نے مجھے ماں اور ماموں کے حوالے نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی جگہ لے آئے جہاں ان کا بسیرا تھا۔
یہاں ان بدمعاشوں نے میرے ساتھ وہ سلوک کیا، جو صرف شیطان ہی کر سکتے ہیں۔ واقعی وہ صرف بدمعاش ہی نہیں بلکہ مجسم شیطان تھے۔ میں خوف سے بے ہوش ہو گئی اور اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا۔ جب ہوش آیا تو میں ایک دوسرے مکان میں تھی، وہاں فون لگا ہوا تھا اور وہ لوگ میرے والد صاحب کو فون پر کہہ رہے تھے: “اگر تمہیں اپنی لڑکی کی زندگی عزیز ہے، تو فلاں جگہ اتنی رقم لے کر آ جاؤ، ورنہ ہم اسے ٹھکانے لگا دیں گے۔” گویا رقم کی خاطر وہ اب دوسری بار سودا کر رہے تھے اور ان کو یقین تھا کہ وہ یہ سودا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ بیٹی کا معاملہ تھا اور ایسے معاملے میں باپ بھائی غیرت کے مارے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو خود اپنے ہاتھوں سے ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔
ان کی چال کامیاب رہی اور وہ میرے بدلے والد سے کافی موٹی رقم اینٹھنے میں کامیاب ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پولیس یا کسی اور کو خبر کی، تو نہ صرف تمہاری عزت کا جنازہ نکال دیں گے بلکہ تمہارے باقی دونوں بچوں کو بھی اغوا کر کے ان کا یہی حشر کریں گے۔ میں نے ڈر کے مارے والد صاحب کو کبھی یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا، ورنہ شاید وہ مجھے جان سے مار دیتے یا خود اس دکھ سے مر جاتے۔ نہ ہی میں نے یہ بتایا کہ ماں کا خط پڑھ کر میں اپنی مرضی سے ان کے ساتھ گئی تھی اور ماموں ایک روز پہلے ان کے ساتھ گھر دیکھنے آئے تھے۔ اگر میں یہ بتا دیتی، تو شاید کبھی بھی اپنی ماں کی صورت نہ دیکھ سکتی۔ اس واقعے کے بعد والد صاحب دل تھام کر رہ گئے، وہ یہی سمجھے کہ کسی نے مجھے زبردستی اغوا کر لیا تھا۔ اسی خوف کی وجہ سے انہوں نے ماں سے فوراً صلح کر لی۔ اب وہ ہر ایک سے کہتے تھے کہ جب بچوں کا ساتھ ہو تو کبھی بیوی کے ساتھ ان بن نہیں رکھنی چاہیے، ورنہ بچیوں کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔ ماں کو جب ابو منا کر گھر لے آئے تو وہ ہمارے لیے عید کا دن تھا، لیکن اس کی ایک بہت بڑی قربانی مجھے دینی پڑی۔ یہ بات میں نے بعد میں ماں کو بتا دی، تب ماں رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ “یہ سب کچھ اس لیے ہوا کیونکہ میں تم بچوں سے ملنا چاہتی تھی اور ہم نے ان بدمعاشوں پر بھروسہ کر لیا۔”
انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ اپنے باپ سے اس بات کا ذکر کبھی نہ کرنا، ورنہ وہ ہماری اس بھول کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ میں نادان ضرور تھی لیکن اتنی بیوقوف نہیں کہ اپنے والد کو یہ بتاتی کہ ماں اور ماموں نے ہمیں لانے کے لیے بدمعاش بھجوائے تھے اور ان کو پیسے دیے تھے۔
آج میں شادی شدہ ہوں اور اپنے گھر میں آباد ہوں۔ میرے خاوند بہت اچھے آدمی ہیں، وہ مجھ سے بالکل نہیں لڑتے اور میرا اور بچوں کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ وہ پڑھے لکھے اور خوشحال ہیں، لیکن مغرور نہیں ہیں اور عورت کی قدر و عزت کرنا جانتے ہیں۔ میں کہتی ہوں کہ اللہ ایسا شریکِ زندگی ہر بیٹی کو دے، لیکن عورت کو بھی چاہیے کہ اپنے خاوند کی قدر کرے، اس کے مسائل کو سمجھے اور دکھ سکھ میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ذرا سی تنگی آ بھی جائے تو میاں کو ستانے کے بجائے اس کی دل جوئی کرے تاکہ بچوں کو سکھ اور تحفظ نصیب ہو، کیونکہ بچے ہی تو ماں باپ کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔
sublimegate
ہم کل تین بہن بھائی تھے۔ میں سب سے بڑی تھی، میرے بعد لبنیٰ اور پھر احسن تھا۔ میں بچپن سے ہی حساس تھی اور گھر کے تلخ ماحول کی وجہ سے پریشان رہتی تھی۔ والدین کے بیچ ہر وقت کی ان بن نے ہم بچوں کا دماغ ماؤف کر ڈالا تھا۔ میرا بس نہیں چلتا تھا کہ اس ناچاقی کو کیسے ختم کروں۔ جب گھر کا ماحول تلخ ہو اور والدین جھگڑتے ہوں، اس وقت بچوں پر کیا گزرتی ہے، کاش یہ بات والدین سمجھ سکیں۔ میں ایک ذہین بچی تھی، پڑھائی میں اچھی تھی اور کلاس میں فرسٹ پوزیشن لیتی تھی، اس لیے سب ٹیچرز مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ رفتہ رفتہ میں پڑھائی میں کمزور ہوتی گئی اور میری پڑھائی کا گراف تیزی سے نیچے آنے لگا۔ یہاں تک کہ میں فیل ہونے لگی اور ہر ٹیسٹ میں زیرو لینے لگی۔ میری اس تنزلی پر سب اساتذہ حیران تھے اور وہ سمجھ نہ پا رہے تھے کہ اس اچھی بھلی ہونہار بچی کو کیا ہو گیا ہے۔ میں ان کو کیسے بتاتی کہ یہ سب میرے والدین کی وجہ سے ہے، جن کو لڑتے ہوئے یہ ہوش بھی نہیں ہوتا کہ ہم تین معصوم جانوں کا کس قدر نقصان ہو رہا ہے۔
مجھے خبر نہیں کہ گھر کے اس بے سکون ماحول میں میری بہن اور بھائی کیا محسوس کر رہے تھے؟ یقیناً وہ بھی میری طرح پریشان رہتے ہوں گے۔ آخر کار اس ناچاقی کی وجہ سے امی جان روٹھ کر میکے جا بیٹھیں۔ ابو نے ہمیں امی کے ساتھ نہیں جانے دیا، بلکہ وہ ہمیں دادی جان کے سپرد کر کے خود اپنی ڈیوٹی پر دوسرے شہر چلے گئے۔ اس بار گویا امی پکی روٹھ کر گئی تھیں۔ ابو بھی اس گھمنڈ میں تھے کہ جیسے گئی ہے، خود ہی آ جائے گی، میں کیوں منانے جاؤں؟ شاید ان کو یہ احساس نہیں تھا کہ ہم بچے ماں کے بغیر کیا محسوس کرتے ہیں؟ دن تو جوں توں گزر جاتا، لیکن رات اندھیری بلا کی طرح ہم پر حملہ آور ہو جاتی تھی۔ ہمیں بن ماں کے نیند نہیں آتی تھی۔ لبنیٰ اور احسن میرے ارد گرد سو جاتے اور میں تادیر جاگتے ہوئے تارے گنتی رہتی کہ جانے کون سی رات کا ایسا سویرا ہوگا، جب ماں ہمارے پاس واپس آ جائے گی۔
امی خود نہیں آ رہی تھیں یا انہیں میکے والے روکے ہوئے تھے؟ اللہ جانے۔ پھر سنا کہ امی نے عدالت میں ابو پر کیس کر دیا ہے اور ان کی پشت پناہی ماموں کر رہے ہیں۔ دو سال ایسے ہی کٹ گئے۔ کیس چلتا رہا، مگر ابو نے ہمیں ماں سے ملنے نہ دیا۔ جب امی کا ہماری جدائی میں بُرا حال ہو گیا اور بچوں سے ملاپ کی کوئی صورت نظر نہ آئی، تو انہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ “مجھے وہ بے شک جتنا چاہیں ذلیل کریں، اب میں نہ رکوں گی۔ میں بچوں کے پاس ہر صورت جاؤں گی یا پھر دریا میں چھلانگ لگا دوں گی۔” تب ماموں بولے: “میں کوئی تدبیر کرتا ہوں، تم خاطر جمع رکھو۔”
ماموں نے ماں کو تسلی دی اور پھر اپنے محلے کے ایک پولیس والے سے بات کی کہ کسی طرح میرے بھانجی بھانجوں کو وہاں سے اٹھوا دو۔ ان کا باپ میری بہن سے بچوں کو ملنے نہیں دیتا، جب کہ بچے ادھر تڑپ رہے ہیں اور ماں ادھر ہلکان ہے، یہ میرے لیے دیکھنا ممکن نہیں۔ پولیس والے نے ماموں سے معذرت کی اور کہا کہ کیس کورٹ میں ہے، اس لیے پولیس مداخلت نہیں کر سکتی؛ البتہ ایک طریقہ ہے کہ میں تم کو ایک بدمعاش سے ملا دیتا ہوں، بچے اٹھانے کا کام وہ کر دے گا۔ پولیس والے نے بدمعاش سے ماموں کو ملوا دیا اور کہا کہ اب تم خود اس آدمی سے معاملہ طے کر لو۔ ماموں نے اپنی رام کہانی اس بدمعاش کو سنا کر اس سے مدد طلب کی، بھاگ دوڑ کر کے رقم کا انتظام کیا اور کہا کہ اب دیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس بدمعاش نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا: “لیکن تمہیں ساتھ چل کر پہلے گھر دکھانا ہوگا، باقی کام ہم پر چھوڑ دو۔” اگلے روز ماموں ان لوگوں کے ہمراہ دادی کا گھر دکھا گئے، مگر میں نے ان کو دیکھ لیا تھا۔ وہ گاڑی میں آئے تھے، لیکن میں دادی کے خوف کی وجہ سے ان سے نہیں ملی۔
اگلے دن لبنیٰ کو بخار تھا اور وہ اسکول جانے کے لائق نہ تھی۔ جب وہ اسکول نہیں جاتی تھی، تو احسن بھی ضد کر کے چھٹی کر لیا کرتا تھا۔ اب میں اکیلی کیسے جاتی؟ میرا ٹیسٹ تھا اور جانا ضروری تھا۔ ان دنوں میں آٹھویں جماعت میں پڑھ رہی تھی اور مڈل کے داخلے کے لیے یہ ٹیسٹ دینا لازمی تھا۔ دادی کو میں نے صورتحال بتائی تو انہوں نے کہا: “چل پھر میں خود چھوڑ آتی ہوں اور واپسی پر تم محلے کی لڑکی شہلا کے ساتھ آ جانا۔” چونکہ ٹیسٹ دینا ضروری تھا، اس لیے میں اسکول چلی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب دادی مجھے خود اسکول پہنچانے جا رہی تھیں، حالانکہ اسکول زیادہ دور نہیں تھا۔ واپسی پر چھٹی کے وقت میں نے ادھر ادھر دیکھا، مگر شہلا کہیں نظر نہیں آئی۔ میں اسکول کے گیٹ پر کچھ دیر ٹھہری، دادی بھی لینے نہیں آئی تھیں، تب میں خود ہی گھر کی طرف چل پڑی۔
میں ادھر ادھر بدستور دادی کو دیکھتی جا رہی تھی کہ اچانک میری نظر کچھ دُور کھڑی کل والی گاڑی پر پڑی۔ میں چونک گئی کہ گویا آج بھی ماموں آئے ہیں اور شاید امی کا کوئی پیغام لے کر آئے ہوں گے۔ میں گاڑی کی طرف چلنے لگی، تبھی ایک شخص میری طرف بڑھا اور ایک رقعہ میرے ہاتھ میں دے کر کہا: “تمہاری امی نے بھجوایا ہے۔” میں نے رقعہ کھولا۔ واقعی وہ امی کا خط تھا، میں ان کی لکھائی اچھی طرح پہچانتی تھی۔ انہوں نے مجھے پہلی سے لے کر چھٹی جماعت تک پڑھانا سکھایا تھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر لکھنا بھی سکھایا تھا۔ ساتھ ہی ماں نے میرا وہ لاکٹ بھی بھجوا دیا تھا، جو انہوں نے میری سالگرہ پر مجھے تحفے میں دیا تھا اور جسے میں ہر دم پہنے رکھتی تھی، لیکن جس دن امی گئیں، یہ لاکٹ ان کے گلے میں ہی رہ گیا تھا۔
لاکٹ کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میں نے رقعہ پڑھا، ماں نے لکھا تھا: “بیٹی! مجھے تیری بہت یاد آتی ہے۔ تو جیسے بھی بن پڑے، میرے پاس آ جا۔ میں تم لوگوں کی یاد میں بیمار ہو گئی ہوں۔ تیرے ماموں اس لیے نہیں آئے کہ تیرے والد کے گھر والے ان کو پہچانتے ہیں، اسی لیے میں نے اس شخص کو بھیجا ہے۔” اس موٹے تازے، ہٹے کٹے آدمی نے کہا: “ڈرو نہیں بیٹی، میں تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دوں گا اور تیرا ماموں جواد تھوڑی دُور ہی سڑک کے کنارے کھڑا ہے، اسے راستے میں ساتھ بٹھا لیں گے۔ اپنے دونوں بہن بھائیوں کو بھی لے آؤ۔” میں نے کہا: “ان کو میں نہیں لا سکتی، کیونکہ اگر میں گھر کے اندر گئی تو پھر باہر نہ آ سکوں گی۔” اس آدمی نے جواب دیا: “تو پھر تم ہی چلی چلو، ان کو بعد میں لے جائیں گے۔” ذرا دیر کو میں نے سوچا، لیکن پھر ماں کا خط آنکھوں سے لگا لیا، کیونکہ وہ شخص کہہ رہا تھا: “وقت کم ہے، دیر ہو گئی تو تمہارے گھر والے تم کو ڈھونڈنے آ جائیں گے اور تب ہماری شامت بھی آ جائے گی۔ اگر تم کو چلنا ہے تو جلدی کرو، ورنہ ہم جا رہے ہیں۔”
وہ مجھے سوچنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا اور ماں کے خط میں بھی یہی لکھا تھا: “بیٹی! جیسے بھی ہو سکے اپنے بھائی اور بہن کے ہمراہ ان لوگوں کے ساتھ آنے کی کوشش کرو۔” میں ماں سے ملنے کو بے قرار تھی، اس لیے جب انہوں نے کہا کہ “چلتی ہو تو چلو، ہم جا رہے ہیں”، تو میں نے جھٹ سے کار کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی۔ زندگی کی سب سے خطرناک، پاگل اور کچی عمر یہی ہوتی ہے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے لیکن راستے میں کہیں بھی ماموں نظر نہ آئے، کیونکہ وہ اس راستے پر گئے ہی نہیں تھے جہاں انہوں نے ماموں کو اتارنے کا جھوٹ بولا تھا، بلکہ وہ مجھے کسی اور راستے سے لے گئے۔ انہوں نے مجھے ماں اور ماموں کے حوالے نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی جگہ لے آئے جہاں ان کا بسیرا تھا۔
یہاں ان بدمعاشوں نے میرے ساتھ وہ سلوک کیا، جو صرف شیطان ہی کر سکتے ہیں۔ واقعی وہ صرف بدمعاش ہی نہیں بلکہ مجسم شیطان تھے۔ میں خوف سے بے ہوش ہو گئی اور اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا۔ جب ہوش آیا تو میں ایک دوسرے مکان میں تھی، وہاں فون لگا ہوا تھا اور وہ لوگ میرے والد صاحب کو فون پر کہہ رہے تھے: “اگر تمہیں اپنی لڑکی کی زندگی عزیز ہے، تو فلاں جگہ اتنی رقم لے کر آ جاؤ، ورنہ ہم اسے ٹھکانے لگا دیں گے۔” گویا رقم کی خاطر وہ اب دوسری بار سودا کر رہے تھے اور ان کو یقین تھا کہ وہ یہ سودا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ بیٹی کا معاملہ تھا اور ایسے معاملے میں باپ بھائی غیرت کے مارے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو خود اپنے ہاتھوں سے ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔
ان کی چال کامیاب رہی اور وہ میرے بدلے والد سے کافی موٹی رقم اینٹھنے میں کامیاب ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پولیس یا کسی اور کو خبر کی، تو نہ صرف تمہاری عزت کا جنازہ نکال دیں گے بلکہ تمہارے باقی دونوں بچوں کو بھی اغوا کر کے ان کا یہی حشر کریں گے۔ میں نے ڈر کے مارے والد صاحب کو کبھی یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا، ورنہ شاید وہ مجھے جان سے مار دیتے یا خود اس دکھ سے مر جاتے۔ نہ ہی میں نے یہ بتایا کہ ماں کا خط پڑھ کر میں اپنی مرضی سے ان کے ساتھ گئی تھی اور ماموں ایک روز پہلے ان کے ساتھ گھر دیکھنے آئے تھے۔ اگر میں یہ بتا دیتی، تو شاید کبھی بھی اپنی ماں کی صورت نہ دیکھ سکتی۔ اس واقعے کے بعد والد صاحب دل تھام کر رہ گئے، وہ یہی سمجھے کہ کسی نے مجھے زبردستی اغوا کر لیا تھا۔ اسی خوف کی وجہ سے انہوں نے ماں سے فوراً صلح کر لی۔ اب وہ ہر ایک سے کہتے تھے کہ جب بچوں کا ساتھ ہو تو کبھی بیوی کے ساتھ ان بن نہیں رکھنی چاہیے، ورنہ بچیوں کی حفاظت نہیں ہو سکتی۔ ماں کو جب ابو منا کر گھر لے آئے تو وہ ہمارے لیے عید کا دن تھا، لیکن اس کی ایک بہت بڑی قربانی مجھے دینی پڑی۔ یہ بات میں نے بعد میں ماں کو بتا دی، تب ماں رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ “یہ سب کچھ اس لیے ہوا کیونکہ میں تم بچوں سے ملنا چاہتی تھی اور ہم نے ان بدمعاشوں پر بھروسہ کر لیا۔”
انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ اپنے باپ سے اس بات کا ذکر کبھی نہ کرنا، ورنہ وہ ہماری اس بھول کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ میں نادان ضرور تھی لیکن اتنی بیوقوف نہیں کہ اپنے والد کو یہ بتاتی کہ ماں اور ماموں نے ہمیں لانے کے لیے بدمعاش بھجوائے تھے اور ان کو پیسے دیے تھے۔
آج میں شادی شدہ ہوں اور اپنے گھر میں آباد ہوں۔ میرے خاوند بہت اچھے آدمی ہیں، وہ مجھ سے بالکل نہیں لڑتے اور میرا اور بچوں کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ وہ پڑھے لکھے اور خوشحال ہیں، لیکن مغرور نہیں ہیں اور عورت کی قدر و عزت کرنا جانتے ہیں۔ میں کہتی ہوں کہ اللہ ایسا شریکِ زندگی ہر بیٹی کو دے، لیکن عورت کو بھی چاہیے کہ اپنے خاوند کی قدر کرے، اس کے مسائل کو سمجھے اور دکھ سکھ میں اس کا ساتھ دے۔ اگر ذرا سی تنگی آ بھی جائے تو میاں کو ستانے کے بجائے اس کی دل جوئی کرے تاکہ بچوں کو سکھ اور تحفظ نصیب ہو، کیونکہ بچے ہی تو ماں باپ کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں۔

