ریاض میں قیام کے ابتدائی دنوں میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا جب میری زندگی کا ہر دن تقریباً ایک ہی معمول کے مطابق گزرتا تھا۔ صبح دفتر جانا، شام کو تھکا ہارا واپس آنا اور پھر کھانے کے لیے کسی قریبی ہوٹل کا رخ کرنا۔ چونکہ مجھے کھانا پکانا بالکل نہیں آتا تھا، اس لیے ہوٹل کا کھانا ہی میری مجبوری بھی تھا اور ضرورت بھی۔ لیکن اصل مشکل کھانے کی نہیں، بلکہ تنہائی کی تھی۔ ہوٹل میں لوگوں کا ہجوم، برتنوں کی کھنک، ویٹروں کی آوازیں اور مختلف زبانوں میں ہوتی گفتگو کے باوجود میری میز ہمیشہ خاموش رہتی۔ جب میں تنہا بیٹھ کر پہلا نوالہ اٹھاتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے کھانا نہیں بلکہ کوئی بوجھ نگل رہا ہوں۔ پردیس کی تنہائی انسان کے دل پر ایسا اثر ڈالتی ہے کہ لذیذ سے لذیذ کھانا بھی بے ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
cknwrites
اسی احساس سے بچنے کے لیے میں نے ایک عجیب مگر خوبصورت عادت اپنا لی تھی۔ جیسے ہی کسی میز پر کوئی شخص اکیلا بیٹھا نظر آتا، میں بلا جھجک اس کے پاس چلا جاتا۔ مسکراتے ہوئے اجازت مانگتا اور پھر ویٹر کو اپنا آرڈر دینے کے بعد اس اجنبی سے کہتا، "یار، کیوں نہ ہم دونوں اکٹھے کھانا کھائیں؟ باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت بھی اچھا گزر جائے گا اور کھانا بھی مزے سے کھایا جائے گا۔" میری اس بے تکلف پیشکش کو اکثر لوگ خوش دلی سے قبول کر لیتے۔ چند لمحوں میں اجنبیت کا پردہ ہٹ جاتا، باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور یوں ایک عام سا کھانا بھی خوشگوار یاد بن جاتا۔ کئی ایسے لوگ بھی ملے جن سے اسی طرح کی مختصر ملاقاتیں بعد میں اچھی دوستی میں بدل گئیں۔
مگر ایک دن قسمت نے مجھے ایک ایسے شخص کے سامنے لا بٹھایا جو بظاہر کسی گہری پریشانی یا شدید ناراضی میں مبتلا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر سختی تھی، ماتھے پر بل تھے اور نظریں بار بار کسی انجانی سوچ میں گم ہو جاتی تھیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس روز ایک معمولی سی دعوتِ طعام میری زندگی کا ایسا واقعہ بن جائے گی جسے میں برسوں بعد بھی فراموش نہ کر سکوں گا۔
میں حسبِ معمول اپنی ٹرے اٹھائے اس شخص کی میز کے قریب پہنچا۔ کرسی کھینچ کر ادب سے بیٹھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا، "انکل! اگر اجازت دیں تو آج کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں۔ دو باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت بھی اچھا گزر جائے گا اور پیٹ بھی آرام سے بھر جائے گا۔"
میری بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ صاحب غصے سے میری طرف گھورنے لگے۔ اگلے ہی لمحے ان کی کرخت آواز پورے ہوٹل میں گونج اٹھی۔
"کیوں میاں! چلو، چلو... اپنا کھانا منگواؤ اور جا کر کھاؤ۔ آ جاتے ہیں مفت خورے، دوسروں کے خرچے پر کھانا کھانے!"
ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ آس پاس بیٹھی ہوئی تقریباً ہر میز پر موجود لوگوں کی نظریں میری طرف اٹھ گئیں۔ چند لمحوں کے لیے پورے ہوٹل میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے سب لوگ یہی سمجھ رہے ہوں کہ میں واقعی کسی اجنبی سے مفت کھانا کھلانے کی درخواست کر رہا ہوں۔ شرمندگی سے میرا چہرہ سرخ ہو گیا، مگر میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے نہایت نرمی سے کہا،
"چاچا، آپ شاید میری بات سمجھ نہیں پائے۔ کھانا تو میں اپنے ہی پیسوں سے منگواؤں گا، بس سوچا تھا کہ اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے تو پردیس کی تنہائی کچھ کم محسوس ہوگی۔"
انہوں نے میری بات سننے کی بھی زحمت نہ کی۔ ہاتھ کے اشارے سے مجھے وہاں سے جانے کو کہا اور دوبارہ اپنے کھانے میں مصروف ہو گئے، جیسے میری موجودگی ان کے لیے باعثِ زحمت ہو۔
میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔ دل عجیب سی اداسی سے بھر گیا تھا۔ پھر خاموشی سے اپنی ٹرے واپس رکھ دی اور بغیر کچھ کھائے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔ رات کی ٹھنڈی ہوا میرے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، مگر دل کے اندر کی گھٹن کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کمرے میں پہنچ کر الماری سے بسکٹ کا ایک پیکٹ نکالا، دو چار بسکٹ پانی کے ساتھ کھائے اور بستر پر لیٹ گیا۔ پردیس میں بھوکا سو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ ایسے کئی دن انسان کی زندگی میں آتے ہیں جب بھوک سے زیادہ تنہائی تکلیف دیتی ہے، اور روٹی سے زیادہ کسی ہم نشین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
چند دن بعد ایک اور رات میں حسبِ معمول کھانے کے لیے اسی ہوٹل میں پہنچا۔ میری نظر ایک میز پر اکیلے بیٹھے ایک نوجوان پر پڑی۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ، آنکھوں میں اپنائیت اور انداز میں سادگی تھی۔ میں اپنے پرانے طریقے کے مطابق اس کے پاس گیا اور ہنستے ہوئے کہا،
"بھائی! اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو آج کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں۔ دو باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت بھی اچھا گزر جائے گا اور پیٹ بھی بھر جائے گا۔"
اس نے فوراً مسکرا کر سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
"ارے ضرور بھائی! آئیے، پردیس میں اپنا کون ہوتا ہے؟ بیٹھیں، آج سے یہ میز ہم دونوں کی ہوئی۔"
اس کے اس ایک جملے نے جیسے میرے دل پر جمی ہوئی اداسی کی برف پگھلا دی۔ میں بیٹھ گیا، دونوں نے اپنے اپنے کھانے کا آرڈر دیا اور باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ غیر معمولی طور پر خوش مزاج، ہنس مکھ اور صاف دل انسان تھا۔ چند ہی منٹوں میں یوں محسوس ہونے لگا جیسے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔
میں اس کہانی میں اس نوجوان کو نوفل کے نام سے یاد کروں گا۔ نوفل کی عمر تقریباً چھبیس یا ستائیس سال ہوگی۔ باتوں ہی باتوں میں اس نے اپنی زندگی کے کئی راز میرے سامنے کھول دیے۔ معلوم ہوا کہ اس کی شادی چار سال پہلے بڑے دھوم دھام سے ہوئی تھی، لیکن قسمت نے اسے زیادہ عرصہ ازدواجی زندگی گزارنے کا موقع نہ دیا۔ شادی کے صرف ایک ماہ بعد ہی بہتر روزگار کی تلاش اسے ریاض لے آئی۔ اس کا ارادہ تو یہی تھا کہ ایک دو سال محنت کرکے کچھ پیسے جمع کرے گا اور پھر ہمیشہ کے لیے وطن واپس چلا جائے گا، مگر زندگی نے اس کے لیے کچھ اور ہی منصوبہ بنا رکھا تھا۔
یہاں مہنگائی، گھر والوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات، والدین کی ذمہ داریاں اور قرضوں کی ادائیگی نے اسے اس طرح جکڑ لیا کہ چار سال گزر جانے کے باوجود وہ دوبارہ وطن نہ جا سکا۔ ہر مہینے تنخواہ آتی، زیادہ تر رقم گھر بھیج دیتا اور خود انتہائی سادہ زندگی گزار کر اگلے مہینے کا انتظار کرتا۔ اس کی سب سے بڑی حسرت یہی تھی کہ ایک بار اپنی بیوی کو دیکھ لے، اس کے ساتھ چند دن گزار لے اور اپنی بوڑھی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھا سکے۔
اس پہلی ملاقات کے بعد ہماری دوستی دن بدن مضبوط ہوتی گئی۔ تقریباً ہر رات کھانے کے وقت ہماری ملاقات ضرور ہوتی۔ کبھی ہم ایک ہی ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھاتے، کبھی لمبی سڑکوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے گھنٹوں زندگی، پردیس، خوابوں اور اپنے اپنے خاندانوں کے بارے میں باتیں کرتے۔ یوں پردیس کی اجنبی سرزمین پر ہمیں ایک دوسرے کی صورت میں ایک اچھا دوست مل گیا تھا۔
ایک رات میں حسبِ معمول کھانا کھا کر واپس آ رہا تھا کہ کافی دیر گئے سڑک کے کنارے مجھے نوفل دکھائی دیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا اور چہرے پر عجیب سی بے چینی کے ساتھ خوشی بھی جھلک رہی تھی۔ میں نے قریب جا کر آواز دی،
"ارے نوفل! اس وقت کہاں جا رہے ہو؟ کیا کل صبح کام پر نہیں جانا؟"
وہ میری طرف مڑا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوگئی۔
"نہیں مصطفیٰ بھائی... بڑی مشکل سے چھٹی ملی ہے۔"
اس نے اتنا کہا اور چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، جیسے اس کے دل میں چھپی کوئی بڑی خوشخبری اب زبان پر آنے والی ہو۔
cknwrites
اسی احساس سے بچنے کے لیے میں نے ایک عجیب مگر خوبصورت عادت اپنا لی تھی۔ جیسے ہی کسی میز پر کوئی شخص اکیلا بیٹھا نظر آتا، میں بلا جھجک اس کے پاس چلا جاتا۔ مسکراتے ہوئے اجازت مانگتا اور پھر ویٹر کو اپنا آرڈر دینے کے بعد اس اجنبی سے کہتا، "یار، کیوں نہ ہم دونوں اکٹھے کھانا کھائیں؟ باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت بھی اچھا گزر جائے گا اور کھانا بھی مزے سے کھایا جائے گا۔" میری اس بے تکلف پیشکش کو اکثر لوگ خوش دلی سے قبول کر لیتے۔ چند لمحوں میں اجنبیت کا پردہ ہٹ جاتا، باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور یوں ایک عام سا کھانا بھی خوشگوار یاد بن جاتا۔ کئی ایسے لوگ بھی ملے جن سے اسی طرح کی مختصر ملاقاتیں بعد میں اچھی دوستی میں بدل گئیں۔
مگر ایک دن قسمت نے مجھے ایک ایسے شخص کے سامنے لا بٹھایا جو بظاہر کسی گہری پریشانی یا شدید ناراضی میں مبتلا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر سختی تھی، ماتھے پر بل تھے اور نظریں بار بار کسی انجانی سوچ میں گم ہو جاتی تھیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس روز ایک معمولی سی دعوتِ طعام میری زندگی کا ایسا واقعہ بن جائے گی جسے میں برسوں بعد بھی فراموش نہ کر سکوں گا۔
میں حسبِ معمول اپنی ٹرے اٹھائے اس شخص کی میز کے قریب پہنچا۔ کرسی کھینچ کر ادب سے بیٹھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا، "انکل! اگر اجازت دیں تو آج کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں۔ دو باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت بھی اچھا گزر جائے گا اور پیٹ بھی آرام سے بھر جائے گا۔"
میری بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ صاحب غصے سے میری طرف گھورنے لگے۔ اگلے ہی لمحے ان کی کرخت آواز پورے ہوٹل میں گونج اٹھی۔
"کیوں میاں! چلو، چلو... اپنا کھانا منگواؤ اور جا کر کھاؤ۔ آ جاتے ہیں مفت خورے، دوسروں کے خرچے پر کھانا کھانے!"
ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ آس پاس بیٹھی ہوئی تقریباً ہر میز پر موجود لوگوں کی نظریں میری طرف اٹھ گئیں۔ چند لمحوں کے لیے پورے ہوٹل میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے سب لوگ یہی سمجھ رہے ہوں کہ میں واقعی کسی اجنبی سے مفت کھانا کھلانے کی درخواست کر رہا ہوں۔ شرمندگی سے میرا چہرہ سرخ ہو گیا، مگر میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے نہایت نرمی سے کہا،
"چاچا، آپ شاید میری بات سمجھ نہیں پائے۔ کھانا تو میں اپنے ہی پیسوں سے منگواؤں گا، بس سوچا تھا کہ اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے تو پردیس کی تنہائی کچھ کم محسوس ہوگی۔"
انہوں نے میری بات سننے کی بھی زحمت نہ کی۔ ہاتھ کے اشارے سے مجھے وہاں سے جانے کو کہا اور دوبارہ اپنے کھانے میں مصروف ہو گئے، جیسے میری موجودگی ان کے لیے باعثِ زحمت ہو۔
میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔ دل عجیب سی اداسی سے بھر گیا تھا۔ پھر خاموشی سے اپنی ٹرے واپس رکھ دی اور بغیر کچھ کھائے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔ رات کی ٹھنڈی ہوا میرے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، مگر دل کے اندر کی گھٹن کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کمرے میں پہنچ کر الماری سے بسکٹ کا ایک پیکٹ نکالا، دو چار بسکٹ پانی کے ساتھ کھائے اور بستر پر لیٹ گیا۔ پردیس میں بھوکا سو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ ایسے کئی دن انسان کی زندگی میں آتے ہیں جب بھوک سے زیادہ تنہائی تکلیف دیتی ہے، اور روٹی سے زیادہ کسی ہم نشین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
چند دن بعد ایک اور رات میں حسبِ معمول کھانے کے لیے اسی ہوٹل میں پہنچا۔ میری نظر ایک میز پر اکیلے بیٹھے ایک نوجوان پر پڑی۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ، آنکھوں میں اپنائیت اور انداز میں سادگی تھی۔ میں اپنے پرانے طریقے کے مطابق اس کے پاس گیا اور ہنستے ہوئے کہا،
"بھائی! اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو آج کا کھانا اکٹھے کھاتے ہیں۔ دو باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت بھی اچھا گزر جائے گا اور پیٹ بھی بھر جائے گا۔"
اس نے فوراً مسکرا کر سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
"ارے ضرور بھائی! آئیے، پردیس میں اپنا کون ہوتا ہے؟ بیٹھیں، آج سے یہ میز ہم دونوں کی ہوئی۔"
اس کے اس ایک جملے نے جیسے میرے دل پر جمی ہوئی اداسی کی برف پگھلا دی۔ میں بیٹھ گیا، دونوں نے اپنے اپنے کھانے کا آرڈر دیا اور باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ غیر معمولی طور پر خوش مزاج، ہنس مکھ اور صاف دل انسان تھا۔ چند ہی منٹوں میں یوں محسوس ہونے لگا جیسے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔
میں اس کہانی میں اس نوجوان کو نوفل کے نام سے یاد کروں گا۔ نوفل کی عمر تقریباً چھبیس یا ستائیس سال ہوگی۔ باتوں ہی باتوں میں اس نے اپنی زندگی کے کئی راز میرے سامنے کھول دیے۔ معلوم ہوا کہ اس کی شادی چار سال پہلے بڑے دھوم دھام سے ہوئی تھی، لیکن قسمت نے اسے زیادہ عرصہ ازدواجی زندگی گزارنے کا موقع نہ دیا۔ شادی کے صرف ایک ماہ بعد ہی بہتر روزگار کی تلاش اسے ریاض لے آئی۔ اس کا ارادہ تو یہی تھا کہ ایک دو سال محنت کرکے کچھ پیسے جمع کرے گا اور پھر ہمیشہ کے لیے وطن واپس چلا جائے گا، مگر زندگی نے اس کے لیے کچھ اور ہی منصوبہ بنا رکھا تھا۔
یہاں مہنگائی، گھر والوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات، والدین کی ذمہ داریاں اور قرضوں کی ادائیگی نے اسے اس طرح جکڑ لیا کہ چار سال گزر جانے کے باوجود وہ دوبارہ وطن نہ جا سکا۔ ہر مہینے تنخواہ آتی، زیادہ تر رقم گھر بھیج دیتا اور خود انتہائی سادہ زندگی گزار کر اگلے مہینے کا انتظار کرتا۔ اس کی سب سے بڑی حسرت یہی تھی کہ ایک بار اپنی بیوی کو دیکھ لے، اس کے ساتھ چند دن گزار لے اور اپنی بوڑھی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھا سکے۔
اس پہلی ملاقات کے بعد ہماری دوستی دن بدن مضبوط ہوتی گئی۔ تقریباً ہر رات کھانے کے وقت ہماری ملاقات ضرور ہوتی۔ کبھی ہم ایک ہی ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھاتے، کبھی لمبی سڑکوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے گھنٹوں زندگی، پردیس، خوابوں اور اپنے اپنے خاندانوں کے بارے میں باتیں کرتے۔ یوں پردیس کی اجنبی سرزمین پر ہمیں ایک دوسرے کی صورت میں ایک اچھا دوست مل گیا تھا۔
ایک رات میں حسبِ معمول کھانا کھا کر واپس آ رہا تھا کہ کافی دیر گئے سڑک کے کنارے مجھے نوفل دکھائی دیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا اور چہرے پر عجیب سی بے چینی کے ساتھ خوشی بھی جھلک رہی تھی۔ میں نے قریب جا کر آواز دی،
"ارے نوفل! اس وقت کہاں جا رہے ہو؟ کیا کل صبح کام پر نہیں جانا؟"
وہ میری طرف مڑا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور آنکھوں میں ایک چمک سی پیدا ہوگئی۔
"نہیں مصطفیٰ بھائی... بڑی مشکل سے چھٹی ملی ہے۔"
اس نے اتنا کہا اور چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، جیسے اس کے دل میں چھپی کوئی بڑی خوشخبری اب زبان پر آنے والی ہو۔
ایک دو دن میں ہی گاؤں جارہا ہوں۔5سال بعد جاؤں گا اور اب جاکر اپنی بیٹی کو دیکھوں گا۔ نوفل مجھے بتا چکاتھا کہ وہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی سعودی عرب آگیاتھاپھر اس کے گھر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی۔خیر نوفل ایک دو دن میں گاؤں چلاگیا۔بڑا خوش تھا،اس کا چمکتاچہرا آج بھی یاد آتا ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔ نوفل کو گئے ہوئے ایک ماہ ہوگیاتھا ،ایک دن حسب روایت میں ہوٹل میں کھانا کھانے گیا تو نوفل ایک کونے میںمیز پر خاموش اور اداس بیٹھا تھا،شیو بڑھی ہوئی ،بال بکھرے ہوئے اورآنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ ”ارے نوفل ،یہ کیا، تم کب آئے“ میں نے میز کے قریب پہنچ کر سوال کیا۔نوفل میری جانب ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ او ر میں بالکل اجنبی ہوں ،آج ہی ملاقات ہوئی ہو، پھر چند ہی لمحوں کے بعد نوفل نے میرا ہاتھ ایسے تھاما جیسے ہمارا صدیوں کا تعلق ہو.
،وہ میرا سگا ہو یا میں اس کا سب کچھ ہوں۔میں نے نوفل کے ہاتھ پکڑتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہوایار، تم تو گاؤں گئے تھے، کب آئے، کیا ہوگیا؟مگر وہ خاموش تھا۔ میں نے کھانا منگوایا ،بڑی مشکل سے اس نے چند لقمے لئے مگر کچھ نہ بولا، ہوٹل بھرا ہواتھا،۔اس لئے بات کرنا مشکل تھا۔میں نوفل کو لے کرریاض میں حارہ کی سڑک پر نکل آیا۔ہم ایک سڑک کے کونے پر موجودچبوترے پر بیٹھ گئے۔میں نے پھر پوچھا ،اصرار کیا ،دھمکی دی کہ اگر مجھے نہیں بتایا تو میں بھی ملنا چھوڑ دوں گا۔ نوفل ایسا لگ رہا تھاجسے گونگا ہوگیا ہو،آنکھیں سوال کررہی تھیں مگر زبان گنگ تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ فضاؤں اور آسمانوں میں ہے ،زمین پر تو اسے کچھ نہیں مل رہا۔کافی دیر ایسے ہی گزر گئی اور پھر میں غصے میں اٹھ کر جانے لگا۔ ٹھیک ہے جب مجھے کچھ نہیں سمجھتے تو چھوڑو، میں چلاجاتا ہوں۔ اب نوفل اٹھا اور مجھ سے لپٹ گیا،ایسے رونے لگا جسے بچہ بلک بلک کر روتا ہے،
نوفل کی ہچکیاں ہی بندنہیں ہورہی تھیں ۔ مصطفی بھائی یہ میں نے کیا کردیا، میرے ساتھ کیاہوگیا،مصطفی بھائی میں نے تو سوچابھی نہ تھا۔ نوفل ہوا کیا ہے یار، بتاؤتوسہی، خیر ہے ناں؟ مصطفی بھائی میری بیوی نے مجھ سے طلاق لے لی، یہ کہہ کر نوفل پھر رونے لگا۔ مصطفی بھائی میرا قصور ہے ،میں نے اس کے ساتھ غلط کیا۔ وہ پڑھی لکھی تھی،کوئی دیہاتن نہیں تھی،میں نے غلط کیا۔ آپ جانتے ہیں،میں شادی کے ایک ماہ بعد ہی سعودی عرب آگیا تھا۔میری بیوی روز کہتی کہ تم واپس آجاؤ ،روکھی سوکھی کھا لیں گے مگر ساتھ رہیں گے مگر میں اپنا گھر بنانے کی دھن میں تھا،بس یار اتنا کمالوں کہ گھر بنالوں
ماں کہتی تھیں کہ بہنوںکی شادی کےلئے جمع کرلو۔وقت گزرتا گیا،۔میری بیٹی بھی پیدا ہوگئی۔ نوفل نے کہا کہ میرے بچپن کا دوست تھا ،ارشد۔ ہم دونوں ایک ہی محلے میں پلے بڑے تھے۔میرے گھر میں کوئی بھی کام ہوتا، میں اپنے دوست ارشد کو فون کردیتا کہ تیری بھابھی یہ کہہ رہی تھی، ذرا تو یہ کام کر دے۔یوں اسے میں کسی نہ کسی کام کے لئے اکثر اپنے گھر جانے کا کہتا تھا۔ارشد روزہی گھر چلا جاتا تھا،امی اور بہنیں بھی اسے جانتی تھیں۔ میں اگر یہاں سے جانے کاکبھی ارادہ کرتا تو امی مجھے بہنوں کی شادی اور گھر کے مسائل گنوادیتیں اور میں پھر رک جاتا۔ میری بیٹی اب ماشاءاللہ، 4سال کی ہوگئی ہے۔میں اس مرتبہ آزادکشمیر میں اپنے گاؤں گیامگر وہاں تو سب کچھ ہی بدل چکا تھا۔ میری بیوی میریہی نہیں،میری بیٹی مجھے پاپا نہیں سمجھتی،مصطفی بھائی میں تو برباد ہوگیا۔ میں نے حوصلہ دیا کہ پوری بات کرو ، پھر کیاہوا؟ اس نے کہا میں گھر گیا تو مجھے پہلے ہی دن محسوس ہوگیا کہ میری بیوی میرے آنے سے خوش نہیں۔
میر ی بیٹی تو مجھے جانتی ہی نہیں تھی۔ اس سے صرف فون پر یا اسکائپ پر ہی بات ہوئی تھی۔اگلے دن ارشد آیا تو میری بیٹی پاپا، پاپا کہتے ہوئے اس سے جالپٹی۔ اسے دیکھ کر میری بیوی کے چہر ے پر بھی خوشی نمایاں ہو گئی ۔ میں پریشان تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ایک ہفتہ ایسے ہی گزرگیا ۔میں سب کچھ محسوس کرتا رہاپھر میں نے اپنی بیوی سے پوچھاکہ آخر یہ گڑیا میرے پاس کیوں نہیں آتی ،وہ ارشد کی گود میں چلی جاتی ہے، مجھ سے کتراتی ہے؟ بیوی نے کہا :آپ کو میں کہتی رہی کہ آپ آجائیں مگر آپ نے پیسے کمانے کےلئے میری ایک نہ سنی۔ آج گڑیا ارشد کو ہی اپنا پاپا سمجھتی ہے کیونکہ ہر موقع پر وہی تو موجودرہا۔اس نے گڑیا کی ہرفرمائش پوری کی۔نجانے آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائے کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔آج آپ کا دوست ارشد مکمل طور پر ہمارے گھر میں آچکا ہے اور اسی گھر کا ایک فرد ہوگیا ہے۔ تو کیا مطلب میری کوئی اوقات نہیں؟میں نے سوال کیا تو بیو ی نے کہا کہ ”اس میں میرا قصور نہیں ،آپ شادی کے ایک ماہ بعد ہی چلے گئے تھے۔ آج 5سال بعد آئے ہیں۔اس عرصے میں ارشد ہی وہ شخص تھا جس نے ہم ماں بیٹی کا ہر طرح خیال رکھا۔
آج ہم دونوں میں ذہنی ہم آہنگی ہے اور ہم ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ میں یہ سن کر سکتے میں آگیا۔ میں نے کہا کہ تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو؟میں نے چیختے ہوئے پوچھا۔ بیوی نے کہا !ہاں میں جانتی ہوں مگر میں مجبور ہوں،میں اب آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔میرے دل میں اب آپ کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ارشد بھی یہی چاہتے ہیں آپ مجھےچھوڑ دیں تاکہ ہم نئی زندگی شروع کرسکیں۔ میں سیدھا ارشد کے پاس گیا اور پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا، میرے ہی گھر میں ڈاکہ ڈال دیا؟ارشد نے جواب دیا کہ میں نے کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا۔ تم اپنے گھر کی رکھوالی کہاں کررہے تھے، تم تواپنا گھر میرے حوالے کر گئے تھے اورجو رکھوالی کرتا ہے ،وہی گھر کا مالک ہوتا ہے۔ میں مجرم ہوں مگر مجھ سے بڑے مجرم تم ہو۔ تمہاری بیوی ہر عید پر مہندی لگائے اور گجرا سجائے تمہارا انتظار کرتی تھی ۔ میں آتا تو تمہاری بیٹی سے کہتا تھا کہ آپ کی مما اچھی لگ رہی ہیں۔ یہ سن کر گڑیا کی ماں بھی خوش ہوجاتی تھی۔ یونہی وقت گزرتا گیا اور ہماری سوچوں اور خیالات میں یکسانیت پروان چڑھتی رہی ۔نوفل، اب تم اپنی بیو ی کوچھوڑ دو۔
اس معاملے کو اک خوبصورت موڑ دے کر خیر باد کہہ دو۔ میں تمہاری بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تمہاری بچی بھی مجھے اپنا باپ سمجھتی ہے۔ تمہاری بیوی تمہاری رہی اور نہ تمہاری بیٹی تمہیں پہچانتی ہے۔ تم کرکٹ کے اُس 12ویں کھلاڑی کی مانند ہو جو ٹیم میں ہوتا ہے مگر کھیل کا حصہ نہیں ہوتا۔ ارشد کی باتیں ہتھوڑا بن کر میرے اوپر برس رہی تھیں۔ اس نے کہا مصطفی بھائی!نہایت تلخ رہا یہ سفر میرا۔میری زندگی کی ساتھی کسی اور کی ہم قدم ہوگئی۔زیادہ افسوس یہ ہے کہ میری ماں اور بہنیں جن کے لئے میں نے اتنے برس تنہا گزاردیئے ،جن کی وجہ سے میرا گھر برباد ہورہا تھا، انہیں کوئی افسوس نہیں تھا۔ انہوںنے میری بیوی پر ان گنت الزامات لگادیئے مگر میں جانتا تھاکہ یہ قصور اس کا نہیں ، میرا ہے۔ میرے پاس آج بہت دولت ہے مگر میں حقیقی دولت کھوبیٹھا ہوں۔
میں نے ایئرپورٹ سے ہی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کر دیا تھا تاکہ وہ ”دلہن“ جو5سال تک ا پنے پہلے شوہر کی راہ تکتی رہی تھی ، اب اسے مزید انتظار نہ کرنا پڑے اور وہ دوسرے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار سکے۔ یہ کہہ کر نوفل پھر خاموش ہوگیا۔حارہ کی سڑک پر رات کے 2بجے سنسناتی گاڑیاں مجھے خوف زدہ کررہی تھیں۔نوفل کے اندر سے اٹھنے والا شور تنہائی میں مزید اضافہ کررہا تھا۔میرے پاس نوفل کےلئے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ میں اسے گھر جانے کی تلقین کرتے ہوئے واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ اس دن کے بعد نوفل نظر نہیں آیا،پھر کئی ماہ بعد ہوٹل سے ہی معلوم ہوا کہ نوفل اب دنیا میں نہیں رہا۔نجانے اس کہانی میں نوفل قصور وارتھا ، اس کی بیوی گنہگار تھی یا امی اور بہنوں نے اپنی خواہشات کےلئے ایک گھر برباد کردیاتھا۔

