رجب اور میں یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ ہم کلاس فیلو تھے۔ رجب تمام لڑکوں سے زیادہ سنجیدہ اور متعین تھا، شوخی اور شرارت کی جس اُسے چھو کر بھی نہ گزری تھی۔ بس کام کی بات کرتا، فالتو ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالتا۔ حیران تھی کہ وہ دوسرے طالب علموں سے کس قدر مختلف ہے ، انسان فرشتہ نہیں ہوتا کہ اتنا پار سا ہو کہ ایک نظر کسی حسین چہرے پر ڈالنا بھی گوارا نہ کرے۔ سبھی لڑکے خواہ کتنے ہی مہذب اور شائستہ ہوں، لڑکیوں میں دلچسپی ضرور لیتے تھے۔ یہ ایک فطری امر تھا۔ بری نگاہ نہ سہی، اچھی نظروں سے دیکھ لینا تو کوئی جرم نہیں۔
جب باغ میں رنگ برنگ کے خوشنما اور خوشبودار پھول کھلے ہوں تو خوشبو دل کو بھینچتی ہے اور پھولوں کی خوبصورتی نگاہوں کو خود بخود اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے لیکن رجب عجب مٹی کا بنا تھا کہ چمن میں رہتے ہوئے کھلتے پھولوں میں اسے کشش محسوس نہ ہوتی تھی جیسے وہ پتھر کا بنا ہو۔انسان پر ، زندگی میں، کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اُسے کوئی اچھا لگتا ہے، اپنا سا لگنے لگتا ہے، خاص طور پر جوانی میں جیون ساتھی کی خواہش ، شادی کی آرزو، محبت بھرے آرمان، یہ زندگی کا ایک لازمی سچ اور حیات کے وہ خواب ہیں جن کو دیکھے بغیر جینے کی لگن مرجھانے لگتی ہے۔ رجب کے بارے میں یہ سارے فارمولے غلط لگتے ۔ اسے لگن تھی تو بس پڑھنے کی اور غرض تھی تو بس شاندار رزلٹ حاصل کرنے کی۔ گولڈ میڈلسٹ کہلانے اور زندگی میں اعلیٰ مقام پانے کی۔
وہ ایک گائوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ایک اچھی فیملی کا چشم و چراغ تھا۔ ایسے طبقے کا فرد تھا کہ عیش و عشرت جن کی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے، حیرت کی بات تھی کہ دوان ساری لغویات سے دور تھا۔ دوستی کو بھی بیکار کے مشاغل جانتا تھا۔ میں عرصے تک اس کا مشاہدہ کرتی رہی۔ خدا جانے کیوں اس کی ذات میں اتنی دلچسپی ہو گئی کہ دن رات بس اسی کے بارے سوچتی رہتی۔ ایک روز اس سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ صبح سے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس روز پر چہ تھا، لہٰذا لازمی جانا پڑا۔ واپسی میں بادل گہرے ہو گئے اور پھر موسلادھار بارش برسنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف جل تھل ہو گیا۔یونیورسٹی کی بس نکل چکی تھی اور دوسری کے انتظار میں کھڑی تھی کہ اس نے گاڑی قریب آکر روک دی اور بولا فاخرہ اگر پسند کرو تو میری گاڑی میں بیٹھ جائو۔ بارش اور تیز ہو گئی تو سڑکوں پر بہت پانی کھڑا ہو جائے گا پھر کوئی سواری بھی نہ ملے گی۔
وہ ایک گائوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ایک اچھی فیملی کا چشم و چراغ تھا۔ ایسے طبقے کا فرد تھا کہ عیش و عشرت جن کی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے، حیرت کی بات تھی کہ دوان ساری لغویات سے دور تھا۔ دوستی کو بھی بیکار کے مشاغل جانتا تھا۔ میں عرصے تک اس کا مشاہدہ کرتی رہی۔ خدا جانے کیوں اس کی ذات میں اتنی دلچسپی ہو گئی کہ دن رات بس اسی کے بارے سوچتی رہتی۔ ایک روز اس سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ صبح سے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس روز پر چہ تھا، لہٰذا لازمی جانا پڑا۔ واپسی میں بادل گہرے ہو گئے اور پھر موسلادھار بارش برسنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف جل تھل ہو گیا۔یونیورسٹی کی بس نکل چکی تھی اور دوسری کے انتظار میں کھڑی تھی کہ اس نے گاڑی قریب آکر روک دی اور بولا فاخرہ اگر پسند کرو تو میری گاڑی میں بیٹھ جائو۔ بارش اور تیز ہو گئی تو سڑکوں پر بہت پانی کھڑا ہو جائے گا پھر کوئی سواری بھی نہ ملے گی۔
میں نے غنیمت جانا اس کی گاڑی میں فورا بیٹھ گئی ، وہ کم گو تھا. میں بھی اس قدر باتونی نہیں تھی لیکن آج موقع تھا اس پر اسرار آدمی سے اس کی امیراریت کا راز جاننے کا، میں عرصے سے تجسس کے مارے میری جارہی تھی۔ مخاطب ہونے کا بہانہ تلاش کر رہی تھی۔ آپ نے کہاں ڈراپ ہونا ہے۔ اس نے سوال کیا۔ اپنے گھر … میرا جواب مختصر اور مہم تھا۔ وہ تو معلوم ہے لیکن گھر ہے کہاں؟ گلشن اقبال میں ۔ یہ کہہ کر میں نے تفصیل سے گھر کا پتا بتایا۔ پتاسن کر وہ بولا کہ مجھے بھی اُدھر ہی جانا ہے ، چلو اچھا ہوا پہلے آپ کا بلاک آئے گا.. آپ کو ڈراپ کر کے آگے چلا جائوں گا۔ آپ کو آفر تو کر دی ڈر رہا تھا کہ کہیں دور رہتی ہو گی تو نجانے کب پہنچ پائیں گے ۔ موسم بہت خراب ہو رہاہے۔ تو کیا ہوا… انجوائے کرنے کا تو یہی موسم ہے جس کو آپ خراب کہہ رہے ہیں حالانکہ … میرے نزدیک بلکہ سبھی کے نزدیک یہ ساون کا مہینہ خوبصورت موسم کہلاتا ہے۔
کہلاتا ہو گا مجھے گھر پہنچنے کی بہت جلدی ہے… کیا۔ کوئی ضروری کام ہے ؟ ہاں میری ایک بیٹی ہے چار سال کی۔ اسے اس کی پھوپی کے گھر لے جانا ہے، میرے بھانجے کی سالگرہ ہے۔ بیٹی سے وعدہ کیا تھا۔ وقت پر نہ گیا تو روٹھ جائے گی۔ اگر موسم اور شدید ہو گیا تو ظاہر ہے گھر نہ جاسکیں گے۔آپ کی بیٹی ہے؟ آپ شادی شدہ ہیں؟ حیرت سے پوچھا۔ ہاں … بھئی کیا لوگ شادی شدہ نہیں ہوتے اور جو شادی شد شدہ ہوتے ہیں، ان کے بچے بھی ہوتے ہیں۔ کتنے بچے ہیں آپ کے ۔ بس ایک ہی ہے گل ناز … دراصل میری شادی ان دنوں ہو گئی تھی جب میں بی اے میں تھا۔ اتنی جلد کر لی آپ نے شادی۔ ہمارے ہاں جلدی کر دیتے ہیں۔ ہم گائوں کے لوگ ہیں نا۔آپ کی بیگم بھی گائوں کی ہیں۔ تھیں۔ اب ان کا انتقال ہو گیا ہے ۔
کہلاتا ہو گا مجھے گھر پہنچنے کی بہت جلدی ہے… کیا۔ کوئی ضروری کام ہے ؟ ہاں میری ایک بیٹی ہے چار سال کی۔ اسے اس کی پھوپی کے گھر لے جانا ہے، میرے بھانجے کی سالگرہ ہے۔ بیٹی سے وعدہ کیا تھا۔ وقت پر نہ گیا تو روٹھ جائے گی۔ اگر موسم اور شدید ہو گیا تو ظاہر ہے گھر نہ جاسکیں گے۔آپ کی بیٹی ہے؟ آپ شادی شدہ ہیں؟ حیرت سے پوچھا۔ ہاں … بھئی کیا لوگ شادی شدہ نہیں ہوتے اور جو شادی شد شدہ ہوتے ہیں، ان کے بچے بھی ہوتے ہیں۔ کتنے بچے ہیں آپ کے ۔ بس ایک ہی ہے گل ناز … دراصل میری شادی ان دنوں ہو گئی تھی جب میں بی اے میں تھا۔ اتنی جلد کر لی آپ نے شادی۔ ہمارے ہاں جلدی کر دیتے ہیں۔ ہم گائوں کے لوگ ہیں نا۔آپ کی بیگم بھی گائوں کی ہیں۔ تھیں۔ اب ان کا انتقال ہو گیا ہے ۔
اوہ، کتنا عرصہ ہوا۔ بیٹی کی پیدائش کے وقت اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ بچی کو میری والدہ نے پالا لیکن پچھلے دنوں ان کا بھی انتقال ہو گیا تو میں اُسے شہر لے آیا۔ وہ دادی کے بعد مجھ سے مانوس ہے ، میرے بغیر نہیں رہتی اور مجھے اپنی اسٹڈی مکمل کرتی تھی۔گل ناز کے ساتھ اب گھر میں کون ہوتا ہے۔ آیا ہے جو گائوں سے ساتھ آئی ہے وہ اس سے بلی ہوتی ہے، لیکن میرا انتظار کرتی رہتی ہے ، بچی کی وجہ سے یونیورسٹی کے بعد زیادہ تر گھر پر ہی رہتا ہوں ۔ گل ناز کے ہمراہ۔ اچھا تو یہ وجہ ہے آپ کی سنجیدگی کی، یونیورسٹی کے کسی فنکشن میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اب میں سمجھ گئی ۔ آپ ٹھیک سمجھی ہیں میر اسمارا دھیان ناز کی طرف رہتا ہے۔اتنے میں میرا گھر آگیا اور میں اپنے گھر کے گیٹ کے سامنے اتر گئی چاہتی تھی کہ اخلا ق ہی سہی ، اسے چائے کی آفر کروں لیکن اس نے خدا حافظ کہا اور تیزی سے گاڑی چلا دی۔
اگلے روز میں نے شکریے کے طور پر چند کلمات کہے ، کل تو آپ اتنی جلدی میں تھے کہ شکر یہ بھی نہ کہہ سکی تھی۔ اس کی ضرورت نہیں… بارش تیز تھی آپ بھیگ رہی تھیں میں نے آپ کی مدد کر نا ضروری جانا۔ ہم تقریب ڈیڑھ برس سے ساتھ پڑھ رہے ہیں، کلاس فیلو ہیں۔ اتنا تو حق بنتا ہے کہ آپ کو خراب موسم میں گھر تک ڈراپ کر دیتا۔ بارے خاموشی کا کفر ٹوٹا۔ رفتہ رفتہ ہم میں اُنسیت بڑھی اور روز ہی چند منٹ بات ہونے لگی۔ کبھی کبھی اکٹھے کینٹین بھی چلے جاتے تھے۔ چائے پیتے۔ ہم جماعت ہمیں بڑی عجیب نظروں سے تکنے لگے تھے۔ یہ کیا.. وہ شخص جس نے ڈیڑھ برس تک کسی لڑکی سے بات نہ کی، کسی ہم جماعت طالب علم کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھایا۔ وہ مجھ سے بات کرنے لگا تھا۔
چھ ماہ پلک جھپکتے گزر گئے۔ سالانہ امتحان قریب تھے اور اس کے بعد ہمیں یونیورسٹی کو خیر باد کہنا تھا۔ مجھے رجب اچھا لگنے لگا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ اس سے کہوں تم جیسے ساتھی کی آرزومند ہوں۔ مجھ سے شادی کر لو… مگر اس کار عب ایسا تھا کہ یہ بات کہہ نہ سکی۔امتحان ختم ہو گئے ۔ آج ہمارا یونیورسٹی میں آخری دن تھا۔ جو نہی گھر جانے کو نکلی ۔ وہ گاڑی لے کر پیچھے آگیا۔ اور بولا… آج کے بعد شاید ہی ملاقات ہو۔ کہو تو تم کو گھر ڈراپ کردوں۔ میرا دل بھی یہی چاہ رہا تھا کہ بچھڑنے سے پہلے ایک بار اور مل لیں کیا پتا پھر بھی ملاقات ہو نہ ہو۔جب گیٹ پر اتری تو کہا۔ آیئے، ایک کپ چائے پی لیں۔ اُمید نہ تھی کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرلے گا لیکن … خلاف توقع اس نے بات مان لی۔ گاڑی لاک کی اور میرے گھر کو رونق بخش دی۔میں نے اُسے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا اور نوکر کو چائے لانے کو کہا۔
اگلے روز میں نے شکریے کے طور پر چند کلمات کہے ، کل تو آپ اتنی جلدی میں تھے کہ شکر یہ بھی نہ کہہ سکی تھی۔ اس کی ضرورت نہیں… بارش تیز تھی آپ بھیگ رہی تھیں میں نے آپ کی مدد کر نا ضروری جانا۔ ہم تقریب ڈیڑھ برس سے ساتھ پڑھ رہے ہیں، کلاس فیلو ہیں۔ اتنا تو حق بنتا ہے کہ آپ کو خراب موسم میں گھر تک ڈراپ کر دیتا۔ بارے خاموشی کا کفر ٹوٹا۔ رفتہ رفتہ ہم میں اُنسیت بڑھی اور روز ہی چند منٹ بات ہونے لگی۔ کبھی کبھی اکٹھے کینٹین بھی چلے جاتے تھے۔ چائے پیتے۔ ہم جماعت ہمیں بڑی عجیب نظروں سے تکنے لگے تھے۔ یہ کیا.. وہ شخص جس نے ڈیڑھ برس تک کسی لڑکی سے بات نہ کی، کسی ہم جماعت طالب علم کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھایا۔ وہ مجھ سے بات کرنے لگا تھا۔
چھ ماہ پلک جھپکتے گزر گئے۔ سالانہ امتحان قریب تھے اور اس کے بعد ہمیں یونیورسٹی کو خیر باد کہنا تھا۔ مجھے رجب اچھا لگنے لگا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ اس سے کہوں تم جیسے ساتھی کی آرزومند ہوں۔ مجھ سے شادی کر لو… مگر اس کار عب ایسا تھا کہ یہ بات کہہ نہ سکی۔امتحان ختم ہو گئے ۔ آج ہمارا یونیورسٹی میں آخری دن تھا۔ جو نہی گھر جانے کو نکلی ۔ وہ گاڑی لے کر پیچھے آگیا۔ اور بولا… آج کے بعد شاید ہی ملاقات ہو۔ کہو تو تم کو گھر ڈراپ کردوں۔ میرا دل بھی یہی چاہ رہا تھا کہ بچھڑنے سے پہلے ایک بار اور مل لیں کیا پتا پھر بھی ملاقات ہو نہ ہو۔جب گیٹ پر اتری تو کہا۔ آیئے، ایک کپ چائے پی لیں۔ اُمید نہ تھی کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرلے گا لیکن … خلاف توقع اس نے بات مان لی۔ گاڑی لاک کی اور میرے گھر کو رونق بخش دی۔میں نے اُسے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا اور نوکر کو چائے لانے کو کہا۔
باتوں باتوں میں گل ناز کا ذکر چھڑ گیا۔ کیسی ہے آپ کی بیٹی، بھی ہمارے گھر لایئے مجھ سے ملوایئے۔ ہاں کسی دن لائوں گا ۔۔۔ آج تک اس نے فون نمبر مانگا اور نہ میں نے دیا۔ چائے پینے کے بعد جب وہ چلنے لگا تو میں نے یاد دلایا۔ گل ناز کو ضرور لائے گا، نمبر لے لیجئے۔ فون کر دیجئے گا جب آنا ہو… اس بہانے اپنا نمبر لکھ کر اسے دیا اور اس نے پرچہ جیب میں رکھ لیا۔ اُمید نہ تھی کہ وہ فون کرے گا لیکن ایک ہفتے بعد اچانک اس کا فون آگیا… گل ناز پر سوں گائوں جارہی ہے ، سوچا آپ سے وعدہ کیا تھا اُسے ملانے کا۔ ضرور لائے، خوشی سے لبریز لہجے میں بولی ۔ کب لا رہے ہیں ؟ آج شام کو لے آئے ۔ ٹھیک … آج شام کو چھ بجے آئیں گے۔ کیا بتائوں کس قدر مسرور تھی ۔ بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی تھی، وقت کاٹے نہ کٹ رہا تھا۔ گل ناز سے ملاقات کا تو بہانہ تھا۔ اصل چاہ تور جب سے ملنے کی تھی۔
وقت پر وہ ایک خوبصورت معصوم سی گول مٹول بچی کے ہمراہ آگیا۔ میں نے گل ناز کو پیار کیا اور دوڑ کر اپنی بانہوں میں بھر لیا، وہ بھی مجھ سے اس طرح لپٹ گئی جیسے عرصے سے پیار کی پیاسی ہو ۔ایک رشتہ میرے اور رجب کے پیچ استوار ہو گیا۔ گل ناز کے پیار کارشتہ… وہ ہمارے در میان ملاقات کا بیل بن گئی … میں نے اس سے دوستی کر لی، مانوس ہو گئی تو روز ر جب سے کہتی۔ مجھے آنٹی کے پاس لے چلو۔ اور یہی میں چاہتی تھی۔ رجب بیٹی سے بہت پیار کرتا تھا، اس کی کوئی فرمائش نہ ٹالتا تھا۔ ایک دن میں نے اُسے صلاح دی۔ رجب …. تمہاری بچی کو ماں کے پیار کی ضرورت ہے تم دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے۔
وقت پر وہ ایک خوبصورت معصوم سی گول مٹول بچی کے ہمراہ آگیا۔ میں نے گل ناز کو پیار کیا اور دوڑ کر اپنی بانہوں میں بھر لیا، وہ بھی مجھ سے اس طرح لپٹ گئی جیسے عرصے سے پیار کی پیاسی ہو ۔ایک رشتہ میرے اور رجب کے پیچ استوار ہو گیا۔ گل ناز کے پیار کارشتہ… وہ ہمارے در میان ملاقات کا بیل بن گئی … میں نے اس سے دوستی کر لی، مانوس ہو گئی تو روز ر جب سے کہتی۔ مجھے آنٹی کے پاس لے چلو۔ اور یہی میں چاہتی تھی۔ رجب بیٹی سے بہت پیار کرتا تھا، اس کی کوئی فرمائش نہ ٹالتا تھا۔ ایک دن میں نے اُسے صلاح دی۔ رجب …. تمہاری بچی کو ماں کے پیار کی ضرورت ہے تم دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتے۔
بچی کو ماں کے پیار کی پیاس ہے۔ جب بڑی ہو گی تو ماں کی ضرورت زیادہ ہو گی ۔ آیا ماں جیسی تربیت تو نہیں کر سکتی۔کوئی اچھی لڑکی ملے تو ضرور کرلوں گا اپنی بیٹی کی خاطر … لیکن کیسے اعتبار کروں کہ جو ماں بن کر آئے گی وہ اس کو ماں کا پیار بھی دے گی … تم اگر اس سلسلے میں مدد کر سکتی ہو تو بتائو۔یہ ایک دو معنی بات تھی جس کو میں نے سمجھ لیا اور یہی بات میں رجب کے منہ سے سنے کی متمنی تھی۔ اُسے دل سے چاہنے لگی تھی تبھی گل ناز کو اتنا پیار دیا کہ اس کی خاطر سہی رجب مجھے پر پوز کرے۔ہمارا رزلٹ آگیا تھا دونوں پاس ہو گئے۔ رجب کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی مگر وہ بیٹی کی خاطر شہر میں رہنا چاہتا تھا تاکہ کسی اچھے تعلیمی ادارے میں اُسے پڑھا سکے ۔ اسے ایک بہت اچھی جاب مل گئی۔
اب گل پانچ برس کی ہونے والی تھی جب میں اس کی ماں بن کر رجب کے گھر آنگن میں داخل ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ سبھی ہوئی گڑیاسی میرے پلنگ کے پاس کھڑی تھی جبکہ میں عروسی جوڑا پہنے دُلہن بنی بیٹھی تھی۔ وہ بڑے شوق و حیرت سے میرے چہرے کو تک رہی تھی۔ شاید سوچ رہی تھی کہ میں آج اس قدر سجھی اس کے والد کے پاس کیوں بیٹھی ہوں۔ وہ ایک تک مجھے دیکھے جاتی تھی نجانے کیا سوچ رہی تھی، تبھی رجب نے اُسے اُٹھا کر میرے پہلو میں بٹھا دیا۔ فاخرہ وعدہ کرو کہ اس کو حقیقی ماں کا پیار دو گی۔ پیدا ہوتے ہی قدرت نے اس کی ماں چھین لی تب سے اب تک اس کومحبت بھری گود نصیب نہیں ہوئی۔ میں نے رجب سے کہا فکر مت کرو، اسے حقیقی ماں کا پیار دوں گی، اس کی خاطر میں نے آپ سے شادی کی ہے ، اس بچی کی معصومیت نے میرا دل موہ لیا ہے۔شروع میں وہ میری بانہوں میں رہی اور میں نے بھی دن رات اُسے توجہ دی، بھر پور محبت دی، ایک وقت آیا کہ امی امی کہہ کر اس مضبوطی سے میرا آنچل تھاما کہ اس سے دامن چھڑانا مشکل ہو گیا۔ وہ اتنی خوش تھی گویا بیچ بیچ اسے اس کی ماں مل گئی ہو۔
رجب جب ناز کو میرے ساتھ لاڈ کرتے دیکھتے تو کہتے فاخرہ میں تم جیسی لڑکی ہی چاہتا تھا جو میری بچی کو ماں کا پیار دے سکے۔ تب دل میں کہتی … کیا کروں رجب ، اس کو پیار دینے پر مجبور ہوں کہ صرف اسی راستے سے تمہارے دل کا سفر طے کر سکتی تھی ورنہ تم جیسے کٹھور شخص کی محبت کیسے حاصل ہوتی ؟ان دنوں میں صرف دل سے گل ناز کو چاہ رہی تھی لیکن … آج یہ اقرار کر کے بڑی تکلیف اور ندامت ہوتی ہے کہ میں نے رجب سے کیسے وعدے کو روایتی سوتیلی ماں بن کر کس قدر مجروح کیا۔گل ناز سے محبت اور قربت کا عرصہ بہت مختصر تھا۔ ایک سال بعد جو نہی میں ایک بچی کی ماں بنی۔ وہ از خود میری توجہ سے محروم ہو گئی۔ اب وہ میرا دامن پکڑتی تو میں غصے سے جھٹک دیتی۔ مجھ سے لپٹتی تو دھتکار کر پرے کر دیتی۔ وہ گھنٹوں روتی رہتی تو مجھ پر اثر نہ ہوتا، اس کے رونے سے اُلجھن بڑھتی تو اندھیری کوٹھری میں بند کر دیتی۔ اس کا ہر وقت کار و نا دھونا مجھے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔
اب گل پانچ برس کی ہونے والی تھی جب میں اس کی ماں بن کر رجب کے گھر آنگن میں داخل ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ سبھی ہوئی گڑیاسی میرے پلنگ کے پاس کھڑی تھی جبکہ میں عروسی جوڑا پہنے دُلہن بنی بیٹھی تھی۔ وہ بڑے شوق و حیرت سے میرے چہرے کو تک رہی تھی۔ شاید سوچ رہی تھی کہ میں آج اس قدر سجھی اس کے والد کے پاس کیوں بیٹھی ہوں۔ وہ ایک تک مجھے دیکھے جاتی تھی نجانے کیا سوچ رہی تھی، تبھی رجب نے اُسے اُٹھا کر میرے پہلو میں بٹھا دیا۔ فاخرہ وعدہ کرو کہ اس کو حقیقی ماں کا پیار دو گی۔ پیدا ہوتے ہی قدرت نے اس کی ماں چھین لی تب سے اب تک اس کومحبت بھری گود نصیب نہیں ہوئی۔ میں نے رجب سے کہا فکر مت کرو، اسے حقیقی ماں کا پیار دوں گی، اس کی خاطر میں نے آپ سے شادی کی ہے ، اس بچی کی معصومیت نے میرا دل موہ لیا ہے۔شروع میں وہ میری بانہوں میں رہی اور میں نے بھی دن رات اُسے توجہ دی، بھر پور محبت دی، ایک وقت آیا کہ امی امی کہہ کر اس مضبوطی سے میرا آنچل تھاما کہ اس سے دامن چھڑانا مشکل ہو گیا۔ وہ اتنی خوش تھی گویا بیچ بیچ اسے اس کی ماں مل گئی ہو۔
رجب جب ناز کو میرے ساتھ لاڈ کرتے دیکھتے تو کہتے فاخرہ میں تم جیسی لڑکی ہی چاہتا تھا جو میری بچی کو ماں کا پیار دے سکے۔ تب دل میں کہتی … کیا کروں رجب ، اس کو پیار دینے پر مجبور ہوں کہ صرف اسی راستے سے تمہارے دل کا سفر طے کر سکتی تھی ورنہ تم جیسے کٹھور شخص کی محبت کیسے حاصل ہوتی ؟ان دنوں میں صرف دل سے گل ناز کو چاہ رہی تھی لیکن … آج یہ اقرار کر کے بڑی تکلیف اور ندامت ہوتی ہے کہ میں نے رجب سے کیسے وعدے کو روایتی سوتیلی ماں بن کر کس قدر مجروح کیا۔گل ناز سے محبت اور قربت کا عرصہ بہت مختصر تھا۔ ایک سال بعد جو نہی میں ایک بچی کی ماں بنی۔ وہ از خود میری توجہ سے محروم ہو گئی۔ اب وہ میرا دامن پکڑتی تو میں غصے سے جھٹک دیتی۔ مجھ سے لپٹتی تو دھتکار کر پرے کر دیتی۔ وہ گھنٹوں روتی رہتی تو مجھ پر اثر نہ ہوتا، اس کے رونے سے اُلجھن بڑھتی تو اندھیری کوٹھری میں بند کر دیتی۔ اس کا ہر وقت کار و نا دھونا مجھے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔
میری گود ایک اولاد سے آباد ہو چکی تھی، بھلا اب سوتن کی بیٹی کی مجھے کیا کیا پر وا تھی ، گل ناز کا وجو دیوں کھٹکتا جیسے گلاب بھری ٹہنی میں کانٹے ہوتے ہیں ، چاہتی تھی کہ اسے کوئی لے جائے مگر اس کانٹے کو نکالنے کی کوئی ترکیب میرے پاس نہ تھی۔ اس کو بہر حال یہاں رہنا تھا اور میرے دل میں چھنا تھا۔ اقرار ہے کہ میں دل کی بُری نہ تھی مگر جانے کیوں اب یہ بچی مجھ کو بوجھ لگتی تھی۔ شروع میں رجب نے اُسے سنبھالا یہ دیکھتے ہوئے کہ میں چھوٹی بچی میں زیادہ مشغول رہنے پر مجبور ہوں لیکن جب اوپر تلے تین بچے اور ہو گئے تو وہ بھی گل ناز کو نظر انداز کرنے لگے اور ان کو اس کی زیادہ پروانہ رہی۔ ننھے منے بچوں کے اس ریلے میں بن ماں کی اس بچی کی ذات خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی۔ کچھ دن تو گل ناز مجھ سے پیار پانے کے جتن کرتی رہی، لڑتی جھگڑتی رہی، غصہ کرتی، چیزیں اُٹھا کر چیخ دیتی، پھر کبھی پیار سے مناتی، کبھی روٹھ جاتی ، روتی بلکتی ۔ جوں جوں اس کی طلب بڑھتی جاتی تھی میرے دل میں اس کے لیے بیزاری بھی بڑھتی جاتی تھی۔
اب میں اس کو مارتی ، ڈانٹتی، ڈپٹتی … دھتکارتی، دھکے دے کر گرادیتی تو وہ اور زیادہ ضدی اور چڑچڑی ہوتی جاتی، تب بہانے سے رجب سے بھی کئی بار پٹوایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کند ذہن ہو گئی ، اسکول جانے سے انکار کرتی، زبردستی بھیجتی تو روتی چلاتی اور پڑھنے میں دلچسپی نہ لیتی۔ یہ حال دیکھ کر اسے اسکول سے نکال لیا اور اب وہ ننھی سی جان سمارا دن گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرتی۔ برتن صاف نہ دھو سکتی تو کھلے بالوں سے پکڑ کر جھونے دیتی۔کھانا اس کو سیب سے بعد میں ملتا ۔ آج یہ سوچ کر شرم آتی ہے کہ میں پڑھی لکھی ایم اے پاس ہو کر بھی روایتی سوتیلی ماں بن گئی تھی۔ کتنا ظلم کیا اس معصوم پر … نجانے اس وقت میرا احساس کہاں مر گیا تھا۔ دیکھتے دیکھتے میرے بچے جوان ہو گئے ، اب وہ دبی زبان سے مجھے منع کرتے کہ ماں باجی گل سے ایسا سلوک نہ کیا کرو۔ ان کو بھی جھڑک دیتی کہ زیادہ سرمت چڑھا ناور نہ بعد میں پچھتانا ہو گا۔ وہ میرے سامنے دم نہیں مار سکتے تھے۔رجب کے دل پر کلی میر ا راج تھا۔ میں ہی مالک تھی، گل ناز بڑی خوش شکل تھی۔ رجب کہتے تھے اس کی ماں بہت خوبصورت تھی۔ انہوں نے اپنے بیڈ روم میں ابھی تک گل ناز کی ماں کی تصویر نہ ہٹائی تھی، شاید گل سے نفرت کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔ میں اُسے پورا کھانا نہ دیتی پھر بھی اس کی رنگت خوروں کی طرح نکھرتی جاتی تھی۔ اب جو رشتہ آتا وہ گل ناز کے لئے بہانے سے ان کو منع کر دیتی کیونکہ گل ناز میرا گھر سنبھالتی تھی۔
شہر یار ایک کامیاب بزنس مین کا بیٹا تھا۔ وہ خوبصورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا، یہ رشتہ بھی گل ناز کے لیے آیا مگر میں نے کسی طرح گٹھ جوڑ کر کے اپنی بیٹی فرح ناز سے اس کی شادی کرادی، حالانکہ اس کی عمر بمشکل سولہ سترہ برس تھی مگر زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے اس کے پچھن ٹھیک نہیں رہے تھے ، وہ اکثر سہیلی کے گھر کا کہہ کر جاتی اور پڑوس کے لڑکے راحیل سے ملتی۔ اس خوف سے نجات پانے کے لیے میں نے جھٹ پٹ اُسے بیاہ دیا۔شہر یار میں کوئی کمی نہ تھی مگر فرح میرے ہزار منع کرنے کے باوجود باز نہ آئی۔ وہ اب بھی اس آوارہ لڑکے سے رابطے میں تھی ۔ اکثر میکے آدھمکتی پھر جب سب سو جاتے وہ رات کو چھت پر جاکر اس سے ملتی۔ یہ سرکش میرا کہنانہ مانتی تھی۔شہر یار اسے میکے آنے جانے سے منع نہ کرتا مگر میں روکتی کیونکہ کئی بار میں نے اُسے چھت پر جا کر راحیل سے باتیں کرتے پکڑا اور ڈانٹ کر نیچے لائی ، راحیل کو بھی لعن طعن کی، تاہم دونوں باز نہ آئے۔ رجب سے ڈر کی وجہ سے شکایت بھی نہ کر پاتی تھی۔ بیٹی کا معاملہ نہ ہوتا تو راحیل کو زندہ نہ چھوڑتی مگر بدنامی کا بھی ڈر تھا۔ اب سوچتی کاش، فرح کیشادی اس کی مرضی سے راحیل کے ساتھ کر دیتی تو اچھا تھا۔ یہ ہر وقت کی تلوار تو ہمارے سروں پر نہ لگتی۔ وہ منحوس گھڑی ایک دن آہی گئی جس سے میں ڈرتی تھی ایک بار فرح آئی۔ یہ رات کے بارہ کا عمل ہو گا، جب وہ چھت پر چلی گئی۔ نجانے شہر یار کو کیا سو مجھی کہ وہ اسے آدھی رات کو لینے آگئے۔
دستک پر میں اٹھی تو دل دھک سے رہ گیا۔ فرح اپنے بستر پر نہ تھی۔ سارے گھر میں کہیں نہ ملی۔ شہر یار اندر آئے چھت پر چلے گئے۔ میری تو سٹی گم ہو گئی۔ دل تھام لیا۔ چھت پر دو سائے نیم تاریکی میں قریب قریب بیٹھے نظر آئے، راحیل کے گھر کی چھت ہماری چھیت سے ملی ہوئی تھی، دھڑکتے دل سے داماد کے پیچھے او پر گئی مگر یہ کیا۔ راحیل کے ساتھ فرح نہیں بلکہ گل ناز بیٹھی تھی۔شہر یار یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، غصے میں بولے ۔ گل ناز تم … کیا کر رہی ہو یہاں اور یہ کون ہے ؟ راحیل چھلانگ لگا کر اپنی چھت پر کود گیا۔ وہ گل ناز کو نیچے لے آئے، لیکن فرح کہاں تھی۔ جسے ڈھونڈتے ہوئے ہم چھت پر گئے تھے۔
اب میں اس کو مارتی ، ڈانٹتی، ڈپٹتی … دھتکارتی، دھکے دے کر گرادیتی تو وہ اور زیادہ ضدی اور چڑچڑی ہوتی جاتی، تب بہانے سے رجب سے بھی کئی بار پٹوایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کند ذہن ہو گئی ، اسکول جانے سے انکار کرتی، زبردستی بھیجتی تو روتی چلاتی اور پڑھنے میں دلچسپی نہ لیتی۔ یہ حال دیکھ کر اسے اسکول سے نکال لیا اور اب وہ ننھی سی جان سمارا دن گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرتی۔ برتن صاف نہ دھو سکتی تو کھلے بالوں سے پکڑ کر جھونے دیتی۔کھانا اس کو سیب سے بعد میں ملتا ۔ آج یہ سوچ کر شرم آتی ہے کہ میں پڑھی لکھی ایم اے پاس ہو کر بھی روایتی سوتیلی ماں بن گئی تھی۔ کتنا ظلم کیا اس معصوم پر … نجانے اس وقت میرا احساس کہاں مر گیا تھا۔ دیکھتے دیکھتے میرے بچے جوان ہو گئے ، اب وہ دبی زبان سے مجھے منع کرتے کہ ماں باجی گل سے ایسا سلوک نہ کیا کرو۔ ان کو بھی جھڑک دیتی کہ زیادہ سرمت چڑھا ناور نہ بعد میں پچھتانا ہو گا۔ وہ میرے سامنے دم نہیں مار سکتے تھے۔رجب کے دل پر کلی میر ا راج تھا۔ میں ہی مالک تھی، گل ناز بڑی خوش شکل تھی۔ رجب کہتے تھے اس کی ماں بہت خوبصورت تھی۔ انہوں نے اپنے بیڈ روم میں ابھی تک گل ناز کی ماں کی تصویر نہ ہٹائی تھی، شاید گل سے نفرت کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔ میں اُسے پورا کھانا نہ دیتی پھر بھی اس کی رنگت خوروں کی طرح نکھرتی جاتی تھی۔ اب جو رشتہ آتا وہ گل ناز کے لئے بہانے سے ان کو منع کر دیتی کیونکہ گل ناز میرا گھر سنبھالتی تھی۔
شہر یار ایک کامیاب بزنس مین کا بیٹا تھا۔ وہ خوبصورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا، یہ رشتہ بھی گل ناز کے لیے آیا مگر میں نے کسی طرح گٹھ جوڑ کر کے اپنی بیٹی فرح ناز سے اس کی شادی کرادی، حالانکہ اس کی عمر بمشکل سولہ سترہ برس تھی مگر زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے اس کے پچھن ٹھیک نہیں رہے تھے ، وہ اکثر سہیلی کے گھر کا کہہ کر جاتی اور پڑوس کے لڑکے راحیل سے ملتی۔ اس خوف سے نجات پانے کے لیے میں نے جھٹ پٹ اُسے بیاہ دیا۔شہر یار میں کوئی کمی نہ تھی مگر فرح میرے ہزار منع کرنے کے باوجود باز نہ آئی۔ وہ اب بھی اس آوارہ لڑکے سے رابطے میں تھی ۔ اکثر میکے آدھمکتی پھر جب سب سو جاتے وہ رات کو چھت پر جاکر اس سے ملتی۔ یہ سرکش میرا کہنانہ مانتی تھی۔شہر یار اسے میکے آنے جانے سے منع نہ کرتا مگر میں روکتی کیونکہ کئی بار میں نے اُسے چھت پر جا کر راحیل سے باتیں کرتے پکڑا اور ڈانٹ کر نیچے لائی ، راحیل کو بھی لعن طعن کی، تاہم دونوں باز نہ آئے۔ رجب سے ڈر کی وجہ سے شکایت بھی نہ کر پاتی تھی۔ بیٹی کا معاملہ نہ ہوتا تو راحیل کو زندہ نہ چھوڑتی مگر بدنامی کا بھی ڈر تھا۔ اب سوچتی کاش، فرح کیشادی اس کی مرضی سے راحیل کے ساتھ کر دیتی تو اچھا تھا۔ یہ ہر وقت کی تلوار تو ہمارے سروں پر نہ لگتی۔ وہ منحوس گھڑی ایک دن آہی گئی جس سے میں ڈرتی تھی ایک بار فرح آئی۔ یہ رات کے بارہ کا عمل ہو گا، جب وہ چھت پر چلی گئی۔ نجانے شہر یار کو کیا سو مجھی کہ وہ اسے آدھی رات کو لینے آگئے۔
دستک پر میں اٹھی تو دل دھک سے رہ گیا۔ فرح اپنے بستر پر نہ تھی۔ سارے گھر میں کہیں نہ ملی۔ شہر یار اندر آئے چھت پر چلے گئے۔ میری تو سٹی گم ہو گئی۔ دل تھام لیا۔ چھت پر دو سائے نیم تاریکی میں قریب قریب بیٹھے نظر آئے، راحیل کے گھر کی چھت ہماری چھیت سے ملی ہوئی تھی، دھڑکتے دل سے داماد کے پیچھے او پر گئی مگر یہ کیا۔ راحیل کے ساتھ فرح نہیں بلکہ گل ناز بیٹھی تھی۔شہر یار یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے، غصے میں بولے ۔ گل ناز تم … کیا کر رہی ہو یہاں اور یہ کون ہے ؟ راحیل چھلانگ لگا کر اپنی چھت پر کود گیا۔ وہ گل ناز کو نیچے لے آئے، لیکن فرح کہاں تھی۔ جسے ڈھونڈتے ہوئے ہم چھت پر گئے تھے۔
وہ گل ناز کوڈ پٹنے میں محو ہو گئے بیوی کو بھول کر کہ وہ کہاں ہے اس کا تو نام و نشان نہ تھا۔ وہ کہہ رہے تھے ناز تم کو میں ایسانہ سمجھتا تھا، تم تو ایک اچھی لڑکی نظر آتی تھیں۔ افسوس …. وہ صوفے پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ میں گل ناز سے زیادہ اس فکر میں تھی کہ فرح آخر کہاں ہے۔ تبھی فرح کمرے میں داخل ہوئی اور بن کر بولی۔ ارے آپ اس وقت ؟ ہاں شہر یار نے کہا۔ قریب ہی دوست کی شادی تھی سوچاتم کو دیکھتا چلوں فرح تم کہاں تھیں ؟ میں نے دبی آواز سے سوال کیا۔ امی میں غسل خانے میں تھی، حیرت ہے آپ لوگ یہاں کیوں جمع ہیں۔ یہ تمہاری باجی گل ناز چھت پر پڑوسی کے لڑکے سے عشق فرمارہی تھیں۔ شہر یار نے غصے سے کہا۔باجی تم ایسی حرکت کر سکتی ہو ؟ یقین نہیں آرہا۔ شرم تو نہیں آتی ۔ اپنے ماں باپ کی عزت کا بھی خیال نہیں . پھر شوہر سے کہا۔ شہری تم چلوا بھی اس وقت ہم گھر چلتے ہیں۔ ابو آ کر خود ہی اس کی خبر لیں گے۔
گاڑی باہر کھڑی تھی وہ شہر یار کے ساتھ چلی گئی اور اس دن خدا نے عزت بچالی… گل ناز نے فرح کے لئے اپنے ناموس کی قربانی دے کر اس کا گھر اجڑنے سے بچا لیا تھا۔جب شہریار نے دستک دی تھی رجب انکل کہہ کر پکارا تھا۔ گل ناز جاگ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ شہر یار آگیا ہے جبکہ یہ بھی جانتی تھی کہ فرح او پر چھت پر ہے تبھی تیزی سے وہ اوپر چلی گئی اور فرح کو… چھت پر رکھی الماری میں چھپا دیا۔ تب تک شہر یار او پر جا پہنچا۔ وہ خود راحیل کے ساتھ بیٹھ گئی۔گل ناز کی بات چیت شہر یار کے چچا زاد سے طے ہو گئی تھی۔ یہ منگنی ٹوٹ گئی ، بھلا کیسے شہر یار اب اُسے بھائی بنا سکتا تھا۔ فرح نے لاکھ منع کیا کہ شہر یار یہ بات رجب سے نہ کہے لیکن منگنی توڑنے کی وجہ تو بتائی تھی۔ شہر یار نے بتادیا کہ انکل آپ گل ناز کی شادی پڑوسی کے بیٹے سے کر دیں ہم یہ رشتہ نہیں لے سکتے۔
گاڑی باہر کھڑی تھی وہ شہر یار کے ساتھ چلی گئی اور اس دن خدا نے عزت بچالی… گل ناز نے فرح کے لئے اپنے ناموس کی قربانی دے کر اس کا گھر اجڑنے سے بچا لیا تھا۔جب شہریار نے دستک دی تھی رجب انکل کہہ کر پکارا تھا۔ گل ناز جاگ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ شہر یار آگیا ہے جبکہ یہ بھی جانتی تھی کہ فرح او پر چھت پر ہے تبھی تیزی سے وہ اوپر چلی گئی اور فرح کو… چھت پر رکھی الماری میں چھپا دیا۔ تب تک شہر یار او پر جا پہنچا۔ وہ خود راحیل کے ساتھ بیٹھ گئی۔گل ناز کی بات چیت شہر یار کے چچا زاد سے طے ہو گئی تھی۔ یہ منگنی ٹوٹ گئی ، بھلا کیسے شہر یار اب اُسے بھائی بنا سکتا تھا۔ فرح نے لاکھ منع کیا کہ شہر یار یہ بات رجب سے نہ کہے لیکن منگنی توڑنے کی وجہ تو بتائی تھی۔ شہر یار نے بتادیا کہ انکل آپ گل ناز کی شادی پڑوسی کے بیٹے سے کر دیں ہم یہ رشتہ نہیں لے سکتے۔
رجب نے گل ناز کو مارا اور وہ بچاری چار پائی سے جالگی۔ کچھ دن بخار رہا اور پھر اس بے رحم دنیا سے منہ موڑ لیا۔ مرتے دم تک اس نے یہ نہ بتایا کہ فرح کا گھر بچانے کی خاطر اس نے بہن کو الماری میں چھپایا اور خود کو قربانی کا بکرا بنادیا۔ کیونکہ اس وقت فرح زینے سے نیچے نہ جاسکتی تھی۔ زینے سے تو شہر یار کے قدموں کی آواز آرہی تھی۔ سوچتی ہوں کہ معصوم گل ناز نے کتنی بڑی قربانی دی، کاش وہ کچھ دن اور زندہ رہتی تو اس سے جی بھر کے اپنے بڑے سلوک کی معافی مانگ لیتی … یہ سزا جو اس نے مر کر مجھے دی میرے لیے عمر بھر کا عذاب ہے۔ یہ سزا کبھی ختم نہ ہو گی جب تک زندہ رہوں گی ضمیر کی تلوار مجھے زخمی کرتی رہے گی
.

