سوتیلی ماں کا ظلم

Soteli Maa - Urdu Story

میں صرف تین برس کی تھی جب میری ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ اُن کی وفات کے ایک سال بعد میرے باپ نے دوسری شادی کر لی۔ جب گھر میں نئی ماں آئی تو میں بہت خوش ہوئی کہ جیسے میری اپنی ماں واپس آگئی ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ ماں مجھے پیار دے گی، میرا سر دھلائے گی اور مجھے نئے کپڑے پہنائے گی، مگر اس نے مجھے ایک پالتو جانور سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ پیار کرنا تو دور کی بات، اس نے مجھ پر بدسلوکی کی انتہا کر دی۔ وہ مجھ سے شدید نفرت کرنے لگی تھی۔ میری ذرا سی غلطی پر مجھ پر تھپڑوں کی بارش کر دیتی اور اسی پر بس نہ کرتی، بلکہ ابا سے الگ شکایتیں کر کے میری خوب پٹائی کرواتی۔ جوں جوں میں بڑی ہوتی گئی، مجھ پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے گئے اور ان کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔
sublimegate
گھر اب میرے لیے جہنم بن چکا تھا۔ میں ظلم کی اس چار دیواری سے بہت تنگ آچکی تھی، جس میں میرے لیے نفرت اور دکھ کے سوا کچھ نہ تھا۔ میں ہر رات سونے سے پہلے یہی دعا مانگتی تھی کہ کاش گھر کی چھت گر جائے اور ہم سب مر جائیں۔

ایک دن میرے والد دیسی گھی کا کنستر لے کر آئے۔ باورچی خانے کی صفائی کے دوران وہ کنستر میرے ہاتھ سے چھوٹ کر لڑھک گیا اور سارا گھی گر گیا۔ دوپہر کا وقت تھا اور سوتیلی ماں سو رہی تھی۔ میں جانتی تھی کہ آج میری خیر نہیں اور وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی۔ یہ خیال آتے ہی، باپ کے گھر آنے سے پہلے میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے ماں کی الماری سے کچھ رقم نکالی اور چادر اوڑھ کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ مجھے علم نہ تھا کہ میں کدھر جا رہی ہوں۔

حقیقت کا اندازہ مجھے تب ہوا جب پولیس نے میرا پیچھا شروع کیا۔ میں ڈر کے مارے ایک بس سے اتر کر دوسری میں سوار ہو گئی اور ٹنڈو آدم پہنچ گئی۔ ظاہر ہے وہاں میری کسی سے شناسائی نہ تھی۔ سامنے ایک بیکری نظر آئی جہاں ایک لڑکا کام کر رہا تھا۔ میں نے اسے بلا کر اپنی فرضی مصیبت بیان کی کہ میں اپنی بہن کے گھر جا رہی تھی مگر غلط بس میں بیٹھ کر یہاں آ گئی۔ میں نے اس سے مدد مانگی۔ میری داستان سن کر وہ لڑکا مجھے اپنے گھر لے گیا۔ وہاں اس کی بوڑھی بیوہ ماں رہتی تھی جس نے میری خوب آؤ بھگت کی۔

میں پندرہ روز تک وہاں رہی، لیکن زیادہ دن گزرنے پر وہ لوگ بھی گھبرانے لگے کہ یہ کیسی لڑکی ہے جو جانے کا نام نہیں لیتی۔ میں ہر روز ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، مگر آخر جاتی کہاں؟ میری تو کوئی منزل ہی نہ تھی۔ اب وہاں کے لوگوں نے بھی مجھ پر شک کرنا شروع کر دیا اور میرا دم گھٹنے لگا۔ جس لڑکے سے میری ملاقات ہوئی تھی اس کا نام نور احمد تھا۔ وہ بھی میری وجہ سے پریشان تھا، مگر میں نے اسے یہ نہ بتایا کہ میں گھر سے بھاگ کر آئی ہوں۔ جب ان لوگوں نے سوالات شروع کیے تو میں وہاں سے بھی نکل کھڑی ہوئی۔

وہاں سے میں ایک دوسرے شہر پہنچی۔ بس کے تمام مسافر اتر گئے مگر میں بیٹھی رہی۔ ڈرائیور بس کھڑی کر کے اڈے پر چلا گیا۔ جب کنڈیکٹر سامان لینے اندر آیا تو مجھے دیکھ کر پوچھنے لگا، “بی بی، تمہیں کہاں جانا ہے؟ بس خالی ہو چکی ہے، تم ابھی تک یہاں کیوں بیٹھی ہو؟” میں نے اس سے کہا، “بھائی، تم مجھے اپنے گھر لے چلو، میرا کوئی گھر نہیں ہے، میں کہاں جاؤں؟”

وہ مجھے اپنے گھر لے گیا۔ اس کا نام سچل تھا؛ وہ شادی شدہ اور آٹھ بچوں کا باپ تھا۔ وہاں کے حالات دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ یہاں زیادہ دن نہیں رہ سکوں گی۔ آخر میں نے سچل اور اس کی بیوی کو روتے ہوئے ایک فرضی کہانی سنائی۔ رونا تو مجھے اپنی بے بسی پر خود بخود آ رہا تھا۔ میں نے کہا، “میرا باپ فوت ہو چکا ہے اور میں سوتیلی ماں کے پاس رہتی تھی۔ وہ اب کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی، اس لیے اس نے مجھے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا۔ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ یا تو آپ لوگ میری شادی کر دیں یا مجھے زہر دے دیں، مگر اب میں در بدر نہیں جانا چاہتی۔”

سچل ایک اچھا اور سادہ لوح محنت کش انسان تھا۔ اس نے مجھے اپنی چھوٹی بہن بنا لیا اور اسی روز سے میرے لیے رشتے کی تلاش شروع کر دی۔

سچل تین مہینوں میں چار رشتے لایا، مگر وہ سب کے سب مجھے نہ بھائے۔ کوئی کالا، موٹا اور بد شکل تھا، کوئی گنجا اور توند والا، تو کوئی بڑی عمر کا اور چیچک زدہ چہرے والا۔ تنگ آکر میں نے سچل سے کہہ دیا کہ ان رشتوں سے تو بہتر ہے کہ میں کنواری ہی مر جاؤں۔

ایک ماہ اور گزر گیا۔ اب میں نے محسوس کیا کہ سچل اپنے رشتہ داروں کی باتوں سے پریشان ہے۔ وہ میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے اور اس کی بیوی بھی اب مجھ سے کھنچی کھنچی رہنے لگی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ میرا رہنا دو بھر کر دینا چاہتی ہو۔ آخر کار ایک روز میں نے خاموشی سے سچل کا گھر بھی چھوڑ دیا اور نواب شاہ میں اپنے والد کے رشتہ داروں کے ہاں جا پہنچی۔ لیکن ان لوگوں کو میرے گھر سے بھاگنے کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی، چنانچہ انہوں نے فوراً میرے گھر والوں کو مطلع کر دیا۔

جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے والد مجھے لینے آ رہے ہیں، تو خوف کے مارے مجھے بخار ہو گیا اور میں راتوں رات وہاں سے بھی نکل کھڑی ہوئی۔ میں واپس ٹنڈو آدم اسی بیکری والے نور احمد کے پاس آئی اور اس سے التجا کی: “خدا کے لیے مجھ سے شادی کر لو، میں بہت بے آسرا اور مصیبت زدہ ہوں، میرا کوئی ٹھکانہ نہیں، مجھ پر ترس کھاؤ۔” اس نے کہا: “میں یہاں تم سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ میرے رشتہ دار گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی سے میری شادی نہیں کریں گے۔ ہم قریبی گاؤں چلتے ہیں، وہاں میرے ایک دوست کے گھر نکاح کا بندوبست ہو جائے گا۔”

شام ڈھل رہی تھی جب ہم پیدل ہی گاؤں کی طرف چل پڑے۔ نہ جانے کتنے کوس کا راستہ تھا؛ میں چلتے چلتے تھک گئی اور پاؤں میں چھالے پڑ گئے، مگر نور احمد چلتا ہی جا رہا تھا۔ وہ یہی کہتا رہا کہ “بس چند قدم اور”، مگر گاؤں نظر ہی نہ آتا تھا۔ آخر کار رات گئے ہم گاؤں کے قریب پہنچے، مگر ہماری بدقسمتی کہ وہاں ہمیں تین ڈاکوؤں نے آ گھیرا۔ انہوں نے نور احمد کے سر پر ڈنڈا مارا اور وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ پھر انہوں نے میری طرف توجہ کی اور مجھ سے میری سب سے قیمتی متاع، یعنی میری عزت چھین لی۔

صبح سویرے چند دیہاتیوں کا وہاں سے گزر ہوا، تو وہ ہم دونوں کو زخمی اور بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے گئے۔ وہاں پولیس انسپکٹر نے میری ساری داستان سنی، میرا بیان قلمبند کیا اور خود ہی میرا نکاح نور احمد سے کروا دیا۔

اس طرح مجھ بھٹکی ہوئی لڑکی کو اپنی منزل مل گئی۔ آج میں اپنے گھر میں ہوں اور جب دو وقت کی عزت کی روٹی ملتی ہے تو خدا کا شکر ادا کرتی ہوں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ اگر سوتیلی ماں مجھ پر رحم کرتی اور میں اس سے خوفزدہ نہ ہوتی، تو اپنا گھر کبھی نہ چھوڑتی۔ خدا سوتیلی ماؤں کو ہدایت دے کہ وہ اتنی سفاک نہ بنیں کہ بیٹیاں اپنے ہی گھر کو عقوبت خانہ سمجھنے لگیں۔ خدا سے ڈریں اور اتنا ظلم نہ ڈھائیں کہ بچیاں مجبور ہو کر در بدر بھٹکنے پر مجبور ہو جائیں۔


(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ