ہمارے گھر کے سامنے ایک بڑا سا خالی پلاٹ تھا، جو دادا کی ملکیت تھا۔ ان کی وفات کے بعد والد کے حصے میں آیا تو انہوں نے اس پر دکانیں بنوا کر کرائے پر دے دیں۔ ان دنوں میری عمر بارہ برس تھی اور میں اکثر باہر آتی جاتی تھی۔ میرے کمرے کی کھڑکی سے باہر کا منظر صاف نظر آتا تھا۔ جب بور ہوتی، وہاں سے جھانکنے لگتی، جیسے کم سن لڑکیاں بے مقصد تاک جھانک کیا کرتی ہیں۔ اماں منع بھی کرتیں کہ سامنے مارکیٹ ہے، لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، لیکن میں باز نہ آتی۔ایک دن میرا بھائی ٹیوشن پڑھنے گیا اور کافی دیر تک واپس نہ آیا۔
sublimegate
میں نے کھڑکی سے جھانکا تو وارث کو دیکھا، جس کے بڑے بھائی نے ہماری دکان کرائے پر لے رکھی تھی۔ کبھی کبھار میرا بھائی بھی اس کی دکان پر بیٹھ جاتا تھا۔ میں سمجھی، شاید وہی بیٹھا ہے۔ وارث کی پشت میری طرف تھی اور میں اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو یہ سمجھا کہ میں اسے دیکھ رہی ہوں، حالانکہ میں تو اپنے بھائی کو تلاش کر رہی تھی۔وارث اکثر اپنے بھائی کے اسٹور پر آتا تھا، مگر میں نے اس بات پر خاص توجہ نہ دی۔ اس کے بعد جب بھی میں کھڑکی میں جاتی، وہ مجھے دیکھتا رہتا۔ بالآخر مجھے احساس ہو گیا کہ وہ مجھے ہی دیکھتا ہے، تبھی میں نے کھڑکی کے پاس جانا چھوڑ دیا۔
دو تین دن بعد اس نے ہمارے گھر فون کیا۔ وہ کبھی کبھار میرے بھائی کو فون کرتا تھا۔ اس روز بھائی گھر پر نہ تھا، فون میں نے اٹھا لیا۔ میری آواز سن کر بولا، شگفتہ ہو ہاں، میں نے جواب دیا تم کھڑکی میں کیوں نہیں آتیں تم میری طرف دیکھتے ہو، اس لیے نہیں آتی یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا اس کے بعد وہ اکثر فون کرنے لگا۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا اور پھر فون بند کر دیتا۔ یوں ہماری باتوں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ ایک دن میں اس سے بات کر رہی تھی کہ اماں کو شک ہو گیا۔ انہوں نے ریسیور چھین لیا اور مجھے گھور کر دیکھا۔ میرے لیے وہ لمحہ شرمندگی سے زمین میں گڑ جانے جیسا تھا۔ آٹھ دن تک وارث سے بات نہ ہو سکی۔ ایک روز والدین ماموں کے گھر گئے ہوئے تھے کہ وارث کا فون آ گیا۔
ہم دو گھنٹے باتیں کرتے رہے۔ اب اس سے بات کرنا مجھے اچھا لگنے لگا تھا۔ کچھ دن بعد، جب اماں سودا سلف لینے باہر گئیں تو وارث نے انہیں جاتے دیکھا۔ اس نے دکان پر کام کرنے والے ایک چھوٹے لڑکے کے ہاتھ مجھے ایک پرچہ بھجوا دیا۔ اماں جب سودا لے کر واپس آئیں تو خط ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔ ان کو آتا دیکھ کر میں نے مٹھی بند کر لی، مگر انہیں شک ہو گیا۔ انہوں نے مٹھی کھلوائی اور خط چھین لیا۔ پہلے تو مجھے دو چار تھپڑ مارے، پھر خود بھی خوب روئیں، لیکن میرے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ میں تو نئے نویلے جذبوں میں گھری، خوابوں کی اندھی دلہن بنی ہوئی تھی۔اس کے بعد اماں نے فون پر تالا لگا دیا۔ اب میں اس سے بات نہیں کر سکتی تھی۔ کبھی کبھی کھڑکی میں چلی جاتی اور وارث کو اشارے سے منع کرتی کہ ہمارے گھر فون نہ کرے۔ انہی اشاروں کی وجہ سے میں پوری مارکیٹ میں بدنام ہو گئی۔
ابا اور چچا کی مارکیٹ میں بہت عزت تھی۔ اسی لیے مارکیٹ کے دو تین دکاندار چچا کے پاس گئے اور انہیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ چچا نے اماں سے کہا، دیکھو بھابھی، لوگ شگفتہ کے بارے میں کیسی باتیں کر رہے ہیں اماں نے مجھے کچھ نہ کہا، مگر وہ غم سے بیمار پڑ گئیں۔ شاید وہ میری اصلاح سے مایوس ہو گئی تھیں۔ میں نے تب بھی عقل نہ پکڑی۔ فون پر بات نہ کر سکتی تھی تو وارث کو خط لکھنے لگی۔ وہ ٹھوکر جو کھانی تھی، وہ ابھی باقی تھی۔پھر ایک دکاندار کی بیوی نے آ کر اماں کو بتایا، اپنی بیٹی کو سنبھالیے، یہ وارث کو خط لکھتی ہے آخری بار اماں نے رو رو کر مجھے سمجھایا، بیٹی، ایسا نہ کر، لڑکے اکثر لڑکیوں کو خطوط سے بلیک میل کرتے ہیں اب میں تیرہ سال کی ہو چکی تھی۔ وقتی طور پر ماں کے رونے کا اثر ضرور ہوا۔ میں نے وارث کو خط لکھنا بند کر دیا، فون بھی نہ اٹھاتی۔ تب وارث بےچین ہو گیا کہ اب کیا ہو گا، رابطے کا ذریعہ تو ختم ہو گیا ہے۔ جب کوئی صورت نہ بنی، تو اس نے میرے کزن عامر کو اپنا ہمدرد بنا لیا اور اسے سارا حال بتا دیا۔ عامر بھی کبھی کبھار ان کی دکان پر بیٹھا کرتا تھا۔یہ وارث نے بہت بڑی غلطی کی۔ عامر نے اندر ہی اندر ایسی آگ بھڑکائی کہ میرا سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ وہ تو روز ہمارے گھر آتا تھا، اور اس پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ایک روز اس نے مجھ سے پوچھا، شگفتہ، کیا تم وارث سے رابطے میں ہو؟
میں خاموشی سے اس کا منہ تکنے لگی کہ اُسے کیسے پتا چلا۔ وہ بولا، میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟ وارث سے پوچھ لو، اس نے تمہارے اور اپنے عشق کی داستان مجھے سنادی ہے، اور اب میں تمہارے ابّو کو بتا دوں گا۔یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وارث پر بہت غصہ آیا۔ میں اُسے ایسا نہ سمجھتی تھی۔ میں نے عامر کے آگے ہاتھ جوڑے، خدارا یہ سب کسی کو نہ بتائے۔کہنے لگا، ٹھیک ہے، ایک شرط پر۔ تم خود کو میرے حوالے کر دو۔میں یہ سب کچھ نہیں کر سکتی تھی، کیونکہ مجھے عامر پسند نہیں تھا۔ میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میری شادی جہاں ہو گی، میری عزت اسی شخص کی امانت ہو گی۔ وہ بولا، ٹھیک ہے، تو پھر مجھ سے دوستی کر لو۔ مجھے اپنا غم گسار، اپنا رازدار سمجھو، مجھ پر اعتبار کرو۔ وارث نے بھی تو تم پر اعتبار کر کے مجھے سب کچھ بتایا ہے۔ میں تمہارا راز کسی پر ظاہر نہیں کروں گا۔ میں تو تمہیں صرف آزما رہا تھا۔
اس نے کچھ اس انداز سے بات کی کہ میں نے اس پر اعتبار کر لیا۔ سوچا، آخر میرا چچازاد ہے، اسے مجھ پر ترس آ گیا ہے۔ وارث کو بھی اس پر اعتماد ہے، تبھی تو ساری بات اسے بتا دی ہے۔اس نے پوچھا، بولو، کیا کہتی ہو؟ کیا مجھے اپنا دوست مانتی ہو؟میں نے کہا، ہاں، آج سے میں تمہیں اپنا دوست مانتی ہوں اور تم پر بھروسہ کرتی ہوں۔اس نے کہا، میں تمہارا اپنا ہوں، اور اپنوں پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اب تم مجھے خط لکھ دینا، میں وارث کو دے دوں گا۔ میں نادان عمر کی، جذبات میں بہکنے والی لڑکی، اُس کی باتوں میں آ گئی۔ کیونکہ میں خود بھی وارث کے لیے بے قرار تھی۔ میں نے ایک خط وارث کے نام لکھا اور عامر کے حوالے کر دیا۔ وہ روز کہتا تھا کہ وارث بہت التجا کرتا ہے، اور میں اس کے حال پر ترس کھاتا ہوں۔اب میں خط لکھ کر عامر کو دے دیتی، مگر وہ مجھے اس کا جواب لا کر نہ دیتا۔ میں نے وارث کو تین چار خط لکھے۔ جب کوئی جواب نہ ملا تو سوچا، آج آخری خط لکھتی ہوں، اگر اب بھی جواب نہ آیا تو پھر کبھی نہ لکھوں گی۔
میں خط لکھ ہی رہی تھی کہ اماں کمرے میں آ گئیں۔ میں نے جلدی سے خط میز کی دراز میں رکھ دیا، مگر اماں نے دیکھ لیا۔ انہوں نے دراز کھول کر خط نکال لیا۔وہ سمجھیں کہ میں اب بھی وارث کو محبت نامے لکھتی ہوں، یہ نہ سمجھ سکیں کہ یہ عامر کی کارستانی ہے۔ اور میں خود عامر کے بارے میں کیسے بتاتی؟ اماں سارا دکھ اپنی جان پر لے لیتی تھیں، ابّو کو کچھ نہ بتاتی تھیں، کیونکہ وہ تو مجھے جان سے مار دینے کو آ جاتے۔اس واقعے کے بعد اماں نے مجھے خالہ کے گھر دوسرے شہر بھیج دیا، تاکہ میں وارث سے دُور ہو جاؤں، حالانکہ میں پہلے ہی اس سے دور ہو چکی تھی۔اب تو عامر میری جان کو آ لگا تھا، جس کی نفسیات کا مجھے اندازہ نہ تھا۔عامر صاحب خالہ کے گھر بھی پہنچ گئے، دوست بن کر، میرا دکھ بانٹنے کے بہانے۔وہاں امی بیمار ہو گئیں۔میں نے فیصلہ کیا کہ اب نہ کبھی وارث کو خط لکھوں گی اور نہ عامر کو دوں گی۔ پھر بھی عامر نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔ اس لحاظ سے وارث بہتر انسان تھا کہ میں نے جب اس سے رابطہ ختم کیا تو اُس نے پھر کبھی مجھے تنگ نہیں کیا۔مگر میرا یہ چچازاد تو جھاڑ کا کانٹا بن چکا تھا۔
مجھے معلوم نہ تھا کہ عامر ہار ماننے والا نہیں ہے۔ وہ امی کے پاس گیا اور میرا رشتہ مانگ لیا۔ انہیں سچی جھوٹی باتیں بتائیں۔ کہنے لگا کہ شگفتہ وارث سے ملتی ہے، یہ تباہ ہو جائے گی۔ میں ہر حال میں خاندان کی عزت بچانا چاہتا ہوں، ورنہ ایک نہ ایک دن اس کی بدنامی تایا جی کے کان میں پڑ جائے گی، اور وہ آپ کا اور آپ کی اس نادان بیٹی کا حشر نشر کر دیں گے۔بات اب بھی میرے قابو میں ہے۔ایسی ہی باتیں کر کے، امی کو ڈرا دھمکا کر ان کا دل پگھلا لیا اور انہوں نے میرا رشتہ دینے کی ہامی بھر لی، حالانکہ پہلے جب چچا عامر کے لیے رشتہ مانگتے تھے، تو سب سے زیادہ مخالفت میری اماں ہی کیا کرتی تھیں۔ابو اپنے اس بھتیجے کو روز اول سے پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ اس کی خصلت کو جانتے تھے۔
میٹرک بھی پاس نہ کر سکا تھا، اوپر سے آوارہ لڑکوں میں اُٹھتا بیٹھتا، بھنگ اور چرس پیتا، جوا کھیلتا تھا۔ اتنی سی عمر میں سارے عیب اُس میں موجود تھے۔ ماں نے دل پر پتھر کی سل رکھ لی، خون کے آنسو روتی تھیں اور کہتی تھیں کہ شگفتہ تو پیدا نہ ہوئی ہوتی تو اچھا تھا۔ تونے اگر وارث سے عشق و محبت اور خط و کتابت کا چکر نہ چلایا ہوتا تو میں تیرے اس چچا کے سپوت کو سپوت کو منہ نہ لگاتی ۔ میرے خط جو وارث کے نام تھے ، وہ سب عامر کی مٹھی میں تھے۔ وہ ایک منٹ میں ہماری عزت دو کوڑی کی کر سکتا تھا۔ والد صاحب کو ایسی باتیں لگا تا کہ وہ مجھے جان سے مارنے سے دریغ نہیں کرتے ، امی کو طلاق ہو سکتی تھی۔
ہم کس قدر بھیانک موڑ پر کھڑےتھے ، یہ زندگی مجھے کہاں لے آئی تھی۔ ماں کا حال مجھ سے دیکھا نہ جاتا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ خود کشی کرلوں۔ امی چچی کی خصلت بھی جانتی تھیں اور اب اپنی بیٹی وہ اِسی عورت کو سونپ رہی تھیں۔ چچی ہر ایک سے کہتی تھیں کہ کیا کروں ؟ بیٹے سے مجبور ہوں، جس کو شگفتہ نے اپنی الفت کے جال میں پھنسا لیا ہے، ورنہ میں تو کبھی اس کو بہو نہ بناتی۔ اُدھر عامر میری اماں کو بار بار جتلاتا تھا کہ میں نے شگفتہ سے شادی نہ کی، تو اسے کون قبول کرے گا۔ وارث نے تو ہر کسی دوست سے اس کا اور اپنا تعلق ظاہر کر دیا ہے۔ یہ گلی میں بدنام ہو چکی ہے۔ کسی روز ضرور تایا جی کے کانوں میں یہ باتیں پڑیں گی کیونکہ ساری مارکیٹ میں ہر ایک کے منہ پر اس کی داستان ہے۔
اماں میری نفسیاتی دباؤ میں آ گئیں۔ میں خود عامر کی باتیں سن سن کر کانپ جاتی تھی، لیکن ہم ماں بیٹیاں ابو سے اتنا ڈرتی تھیں جیسے بکرا قصائی سے ڈرتا ہے۔ یہاں تو معاملہ ایسا تھا کہ ہمیں کنویں میں چھلانگ لگانا منظور تھا، مگر یہ منظور نہ تھا کہ کوئی میرے ہاتھ کے لکھے خط ابو کو دے دے۔ وہ میری جو درگت بناتے، سو بناتے، وارث کی گردن بھی دبوچ لیتے۔ بس یہی خوف تھا، جس وجہ سے میری زندگی دائو پر لگی۔
اے کاش میں اپنے باپ سے اتنا نہ ڈرتی، اگر وہ مار دیتے مر جانا قبول کر لیتی لیکن عامر کی چال میں نہ آتی۔ ابو اپنے اس بھتیجے سے نالاں تھے ، مگر امی نے زور ڈالا کہ عامر جیسا بھی ہے، اپنا ہے، یوں وہ خاموش ہو گئے۔ بولے۔ اللہ مالک ہے۔ اگر وہ سدھر گیا، تو اسے کاروبار کرادوں گا۔ ایک دکان اس کے نام کر دوں گا۔ شاید میرے احسانات اور دبائو میں آکر سیدھے رستے پر آجائے اور آوارہ لڑکوں کی صحبت چھوڑ دے۔ یوں انہوں نے مجھے عامر سے بیاہ دیا۔
گھر سے باہر کی دنیا میں بھی میرے والد کارعب تھا۔ صاحب حیثیت و صاحب جائیداد تھے۔ سارا محلہ ان کی عزت کرتا، جدھر سے گزرتے سلام سلام کی آوزیں آتیں۔ امی ان کی اس عزت و آبرو پر آنچ نہ آتے دینا چاہتی تھیں اور میں بد بخت نا سمجھ، ان کی عزت پر بٹہ لگانے پر تلی تھی، تبھی ماں نے میرے سدھرنے سے مایوس ہو کر مجھے عزت سے بیاہنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔ میں دلہن بن کر عامر کے گھر آ گئی، لیکن یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ ایک مرد کو جب پتا ہو کہ اس کی بیوی شادی سے قبل کسی اور کو پسند کرتی تھی تو وہ کیسے بیوی کو سزا نہ دے گا اور وہ بھی عامر جیسا بد قماش اور لالچی۔ جائیداد کے لالچ میں شادی مجھ سے کر لی، دکان اور کاروبار کے لئے روپیہ بھی بٹور لیا، جہیز بھی ڈھیر سارا اس کے گھر ابو نے پہنچا دیا۔ یوں کچھ دن اس نے میرے ساتھ شانت گزارے، لیکن اندر اندر فطری انتقام کی چنگاری اس کا تن من سلگا رہی تھی۔
جو نہی ابو کا انتقال ہوا، اس نے پنجے نکال لئے ، گویا اسی دن کا انتظار تھا۔ اب مجھے ستانا شروع کر دیا، طعنے، وارث کے نام سے اذیت بھری باتیں، دن رات ایسا ہی رویه که میری زندگی اجیرن کر ڈالی۔ میں روتی ہوئی ماں کے پاس جاتی تو وہ مجھی کو برا بھلا کہتیں کہ اسی دن کے لئے منع کرتی تھی اور تو نہ سمجھتی تھی۔ تبھی روتی تو گلے لگاتیں اور کبھی دعا کرتیں کہ خدا عامر کو سمجھ دے اور وہ ان کی بیٹی کو اذیت دینا چھوڑ دے۔ چار سال میں نے ایسے ہی گزار دیئے۔ امی میرے غم میں گھل گھل کر ختم ہو گئیں۔ چچا کا بہت سہارا تھا، دو سال بعد وہ بھی چل دیئے۔ اب تو عامر کی بن آئی۔ وہ گھر کا سر براہ تھا۔ اللہ نے مجھے ایک بیٹے اور بیٹی سے نوازا، مگر وہ بھی یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے۔ خاندان میں شادیاں کرنے کے رواج کے کی وجہ سے ان میں کوئی وراثتی بیماری تھی کہ ان کا خون نہیں بنتا تھا۔ یوں میں ناخوش اور نامراد ہی رہی۔
چچی کبھی مجھ سے ہمدردی کرتیں ، دعا بھی دیتیں، عامر کو سمجھاتیں کہ اس کو مت ستایا کر، بیوی ہے تیری، اذیت دینا چھوڑ دے ، خدا ناراض ہو گا۔ اس کے ساتھ اچھا سلوک رکھ ، مگر وہ ساس تھیں ۔ کبھی مزاج بدل جاتا تو کہتیں۔ عامر تم دوسری شادی کر لو ، ہمیں اولاد چاہئے۔عامر کی فطرت بد تھی۔ جانے وہ کس پر گیا تھا۔ ہمیشہ غلط لوگوں سے اس کی دوستیاں ہوتیں، برے لوگوں کی صحبت اسے پسند آتی۔ آخر کار اس نے بازار حسن کا رستہ دیکھ لیا، تو رہی سہی غیرت و حمیت جاتی رہی۔ دن رات وہ طوائفوں کے قدموں میں پڑا رہنے لگا، شراب و کباب ، کا رسیا ہو گیا۔ جب ساری دولت طوائفوں پر لٹا بیٹھا، تو ان کو بااثر ، عیاش، دولت مندوں تک پہنچ کر اس ذریعے سے روپیہ کمانے میں لگ گیا۔ یہ روپیہ کمانے کا آسان اور گھٹیا ترین راستہ تھا، جس پر وہ چل پڑا تھا۔ ایک جواری شرابی دوست شابو بھی اس کے ہم رکاب ہو گیا تھا۔
میرا ایک ہی بھائی تھا، جو والد کے کاروبار اور مارکیٹ کی آمدنی سنبھال رہا تھا۔ اسے ہم سے غرض نہ تھی۔ میکے چلی جاتی ، تو آئو بھگت کر لیتا مگر دکھ سکھ بارے نہیں پوچھتا تھا۔ ادھر عامر مجھے کہتا۔ تیرا بھائی اکیلے ہی باپ کی دولت اور وراثت سنبھالتا ہے۔ اس سے مطالبہ کرو کہ تم کو آمدن کا آدھا حصہ دیا کرے۔ بھائی بھلا کب یہ بات ماننے والا تھا۔ عام کہتا کہ اس پر وراثت کا کیس کرو۔ میں تو پہلے سے ہی اس کی بلیک میلنگ کا شکار تھی۔ اب بھائی کی رہن سہن رشتہ داری سے بھی جاتی۔ اس بات پر راضی نہ ہوئی، تو عامر پھر سے پاگل ہو گیا۔ اسے ہر حال میں پیسہ چاہئے تھا۔ وہ عزت و محنت والا کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ چونکہ اس کا ٹھکانہ اب بازار حسن کا محلہ تھا، وہ وہاں رہ رہ کر انہی لوگوں رنگ گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ نجانے کہاں سے نئی نئی لڑکیاں گھر لاتا اور ان کے سودے بناتا۔ میں اس کو اس کام سے روکتی تو مجھ پر ہاتھ اٹھا دیتا۔
ماں نے روکا تو ان کو بھی جھڑ کنے اور دبائو میں رکھنے لگا۔ چچی بیچاری بیمار تھیں، بالآخر انہوں نے بھی اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ ایک انہی کا دم تھا، جن کے سہارے میں بدقماش اور بے غیرت انسان کے گھر میں اپنی عزت سنبھالے پڑی تھی۔ یہ سہارا بھی نہ رہا تو میں نے جانا کہ میرے سر سے آسمان چلا گیا ہے اور قدموں کے نیچے زمین بھی نہ رہی۔ نجانے کب سے عامر کے دل میں ایسی غلیظ خواہش پل رہی تھی کہ ماں کے مرتے ہی وہ مجھ کو بھی پیسوں کی خاطر مال بنانے کی سوچنے لگا۔ میں اس کی نیت سے لا علم تھی، لیکن ایک روز میں نے اسے اپنے دوست سے باتیں کرتے سن لیا۔دونوں گھر کی بیٹھک میں نشہ کر رہے تھے۔ دوست نے کہا۔ بہت دنوں سے لالو نے کوئی لڑکی لاکر نہیں تھمائی۔ آج کل بہت سوکھا چل رہا ہے۔ تو میں کیا کروں ؟ خود کوئی لڑکی اغوا کر کے لے آئوں؟ سو کھا چل رہا ہے تو رہے، تو حرام خور کس لئے میرا پارٹنر بنا ہے؟ کسی محلے کی لڑکی کو پھنسالا۔ محلے کی ؟ اس نے کہا۔ کیا تو نے مجھے مروانا ہے۔ تو اپنا گھر کھنگال، میرے گھر کیا کر رہا ہے۔ میرا گھر کنگال ہے، کیا کھنگالوں۔
لیکن تیرے گھر میں تو دولت ہی دولت ہے، لیکن تجھ اندھے کو کچھ نظر نہیں آتا۔ شابو نے کہا۔ کہاں ہے دولت ؟ دولت ہوتی تو کیا ایسا سوکھا چلتا۔ جیب میں آج دھیلا نہیں ہے، بو تل ادھار میں لی ہے۔ ارے تیرے گھر میں تو ایک دولت کی بوری ہے۔ اس کو تو نے کھولا ہی نہیں۔ نوٹوں سے گھر بھر جائے گا تیرا، اگر اس کو کھول دے۔ کیا بکواس کر رہا ہے شابو! ابھی جھانپڑ دوں گا۔ دوبارہ ایسی بات نہ کرنا، وہ میری بیوی ہے ، وفادار بیوی۔ وفادار بیوی ؟ اس کا دوست جو نشے میں دھت تھا، زور سے ہنسا۔ وہی وفادار بیوی ہے ، جو تجھ سے شادی سے پہلے اپنے یار کو غلط لکھا کرتی تھی۔ ارے تو نے ہی تو بتایا تھا مجھے اپنی بیوی کے یار کا قصہ۔ کیا بھول گیا ہے؟ عامر گرچہ نشے میں تھا، مگر دوست کا طعنہ سن کر جیسے اس کو جھٹکا لگا ۔ وہ گم صم ہو گیا۔ دونوں کی باتیں سن کر میں خوفزدہ ہو گئی۔ اس کے بعد بیٹھک میں خاموشی چھا گئی اور وہ دونوں وہیں گر کر سو گئے۔
شاید نشہ ان پر غالب آ گیا ، مگر مجھ کو ان باتوں سے ایسا خوف آیا کہ رات بھر سو نہ سکی۔ اگلے دن دو پہر کو یہ دونوں نہا دھو گھر سے نکل گئے اور میں نے اس گھر میں مزید نہ رہنے کی ٹھان لی۔ بھائی کے گھر گئی، وہاں تالا لگا تھا۔ پڑوس۔ اس سے پتا چلا کہ وہ بمعہ بیوی بچوں کے بیرون ملک سیر کو گئے ہیں۔ واپس پلٹ رہی تھی کہ سامنے سے وارث آتا دکھائی دیا۔ اپنی شادی کے بعد پہلی بار اسے دیکھا تھا۔ پہلی نظر میں تو پہچان ہی نہ سکی۔ اس نے مجھے پہچان لیا۔ کہنے لگا۔ کیسی ہو، خوش تو ہو ؟ اس کا اتنا پوچھنا تھا کہ میری آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے۔ وہ بولا۔ روتی کیوں ہو؟ کوئی تکلیف ہو تو بتائو۔ میں نے کہا۔ ایک تکلیف ہے ؟ مصیبتوں کے پہاڑ تلے کھڑی ہوں۔ کیا اب گلی میں کھڑے رہ کر تم کو اپنی روداد سنائوں۔ اچھا، تو یہ لو میرا نمبر اور جب مناسب سمجھو، فون کر کے مجھ کو اپنی مشکل سے آگاہ کرنا۔ جو مدد ہو سکی، ضرور کروں گا۔ شاید اسے بھی ارد گرد کے لوگوں کا احساس تھا، لہذا اپنا کارڈ دیتے ہی وہ آگے چلا گیا اور میں گھر واپس آگئی۔
ابھی برقعہ اتار کر تہہ کیا ہی تھا کہ عامر آگیا۔ اس نے مجھے برقعہ تہہ کرتے دیکھ کر پوچھا۔ کیا کہیں گئی تھی ؟ کہیں نہیں گئی تھی۔ تم سے بغیر پوچھے کبھی کہیں جاتی ہوں کیا؟ لیکن ایسا کہتے ہوئے میرے لب کپکپائے اور من پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ بھانپ گیا کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔ فریب آکر اس نے برقعہ میرے ہاتھوں سے پرے پھینکا اور ہاتھ پکڑ لئے جو برف کی طرح ٹھنڈے تھے۔ میرا پرس وہاں سامنے پلنگ پر رکھا تھا اس نے پرس اٹھا کر تلاشی لی اور پھر اسے پلنگ پر الٹ دیا۔ اس میں سے کچھ اور چیزوں کے ساتھ کارڈ بھی گرا۔ اس نے کارڈ، اٹھا کر پڑھا۔ وارث کا بزنس کار ڈھا۔ تب وہ چلایا۔ تیرے یار سے تو میں بعد میں نمٹوں گا، پہلے تجھ سے نمٹ لوں۔ آج تک میں ہی سمجھتا رہا کہ شادی کے بعد سے تو میری وفادار ہے، لیکن سچ بتا، تیرا یار یہاں آیا تھا یا تو اس سے ملنے گئی تھی ؟ یہ کارڈ تیسرے پر اس میں کہاں سے آ گیا؟ میں اسے کیا بتاتی ۔
خوف سے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ اس نے میرے سامنے کارڈ جلا کر راکھ کر دیا اور یہ کہہ کر گھر سے چلا گیا کہ تجھ کو مارنا بیکار ہے، تو سدھرنے کی نہیں۔ میں تیرا کوئی اچھا بندو بست کرتا ہوں ۔وہ چلا گیا اور میں سوچ میں پڑ گئی کہ اس کو تو غصے میں آپے سے باہر ہو جانا چاہئے تھا، مجھے مارنا پینا چاہئے تھا، طرح طرح کے سوالات کرتا لیکن وہ کھڑے کھڑے چلا گیا، جیسے کوئی بہت زیادہ ضروری بات یاد آگئی ہو۔ مغرب کے وقت وہ اپنے دوست کے ساتھ لوٹا، تو ایک اور آدمی بھی ہمراہ تھا۔ وہ ان دونوں کو میرے کمرے میں لے آیا اور بولا۔ میں نے تو اس کو طلاق دے دی ہے، تم دونوں طلاق کے گواہ رہنا، لیکن اس بیچاری کا کوئی اور ہے نہیں۔ بھائی اس کا تو جا ئیداد کے بٹوارے کے ڈر سے اس سے چھپتا پھرتا ہے ، سواب یہ جائے گی کہاں۔ اس کا کوئی بندو بست تو کرنا ہو گا، ورنہ یہ بھوک سے مر جائے گی یا گلیوں میں بھیک مانگتی گھومے گی۔ کچھ ؟ کچھ بھی ہو، رہی تو ہے کبھی اپنی عزت ، اب بتائو کہ اس تصویر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ میں واقعی اس وقت حواس باخته دم بخود ایک تصویر کی طرح کھڑی تھی۔ دوسرے آدمی نے کہا۔ سارے رنگ پورے ہیں، شہکار تصویر ہے۔
اس کے تو بہت اونچے دام لگیں گے۔ تو ایجنٹ یار،تم اسے لے جاؤ میں اپنے ہاتھوں سے نہیں دھکا دے سکتا۔ اگر چون و چرا کرے، تو میری طرف سے اجازت ہے، اس کے بل نکالنے کی جتنے حربے ہیں سب آزما لینا۔ میں رونے لگی۔ عامر ہوش میں تو ہو ؟ یہ کیا کہہ رہے ہو۔ ہوش میں نہیں ہوں، تبھی تو کہہ رہا ہوں۔ کیا تم کو اپنے گھر کی عزت کا بھی پاس نہیں ؟ میں تمہاری بیوی ہوں، جواب ملا۔ میں تم کو طلاق دیتا ہوں، تم میری بیوی نہیں ہو۔ اب گھر کی عزت کیسی ، جب بیوی ہی نہیں رہی ہو۔ کیا تم کو غیرت نہیں ہے، میں پھر بھی فریاد کناں تھی۔ غیرت ہوتی تو تجھ سے شادی کرتا ؟ وارث کی پامال کردہ لڑکی سے؟ یہ سن کر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا۔عامر کو اپنے گھر عزت کا کوئی ارمان نہ تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ میرے ہاتھ پیر باندھ کر گاڑی میں ڈالتے ، میں بے دم ہونے لگی کیونکہ انہوں نے کس کر میرا منہ باندھ دیا تھا۔ میں بے ہوش ہو گئی اور پھر اس جگہ پہنچا دی گئی، جس کو گندہ تالاب کہتے ہیں۔ یوں اس مکروہ آدمی نے مجھ سے برسوں کا حساب لے لیا اور انتقام کی آگ کو سرد کیا۔ مجھے لٹیرا بن کر لوٹا اور پھر لٹیروں کے حوالے کر دیا۔ میں تڑپی، مگر میرا تڑپنا، کسی نے نہ دیکھا۔ میں عزت دار گھرانے کی با عزت اور شریف لڑکی تھی اور عزت کے رکھوالے کے ہاتھوں ہی روز بہ روز اندھیری دنیا میں ڈوب رہی تھی۔ کس کو دوش دیتی ؟
لوگ کہتے ہیں ، بیٹیاں خدا کی نعمت ہوتی ہیں ، پھر ان کی پیدائش پر افسردگی کیوں ؟ کیونکہ ماں باپ اور خاندان کی عزت انہی بیٹیوں کے ہاتھ ہوتی ہے اور یہ اتنی بے وقوف ہوتی ہیں کہ اپنے جذبات کو سب کچھ سمجھ کر کسی بھی وقت خود کو تباہی کے سمندر میں گرا دیتی ہیں۔
.jpg)