صبر کی رات

urdu stories pdf

ہمارا کنبہ چار افراد پر مشتمل تھا۔ ابو مکینک تھے، کافی ضعیف تھے اور ان کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی۔ انہوں نے ہماری امی سے شادی اولاد کی خاطر کی تھی۔ ہم دونوں بہنیں ابھی کم سن تھیں، جب کہ ابو زیادہ محنت کا کام نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں ہماری بڑی فکر ستاتی تھی۔ کہتے تھے، “جانے میں اپنے ہاتھوں سے ان کو ڈولی میں بٹھا پاؤں گا یا نہیں؟ کاش ان کا ایک بھائی ہوتا تو میرے بعد وہی ان کی ذمہ داری نباہتا اور ان کو عزت سے رخصت کرتا۔” یہ ایک ساٹھ سالہ شخص کی آرزو تھی اور ضروری نہیں کہ ہر آرزو پوری ہو جائے۔ مجھے بھی ابو کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوتا تھا۔ ایک وہ لوگ تھے کہ اس عمر میں جن کے چار چار جوان بیٹے تھے اور وہ آرام سے تھے، جیسے ہمارے چچا وغیرہ، اور ایک ہمارے ابو تھے کہ اگر بیمار پڑ کر کام پر نہ جاتے، تو ہمارا چولہا نہیں جلتا تھا۔

جب ابو کام پر اور ہم دونوں سپارہ پڑھنے چلی جاتیں تو امی گھر میں اکیلی رہ جاتی تھیں۔ ان پر گھر کے کام کے علاوہ سودا سلف لانے کی بھی ذمہ داری تھی۔ وہ گھر کو تالا لگا کر سبزی لینے جاتیں۔ اس وقت ان کا جی کرتا کہ کاش کوئی ان کا بیٹا ہوتا تو ان کو کتنی راحت ملتی۔ ہمارے گھر کے سامنے دکان پر رشید نامی ایک لڑکا ملازم تھا۔ اس کی عمر سترہ اٹھارہ سال تھی۔ وہ گاؤں کا رہنے والا تھا اور بیروزگاری کی وجہ سے گھر سے نکلا تھا۔ جس کی دکان پر یہ ملازم ہوا تھا، اس کا نام برکت علی تھا اور وہ رشید کے ماموں کا واقف کار تھا، اسی وجہ سے اس نے اس لڑکے پر بھروسہ کر کے اسے ملازم رکھ لیا تھا۔ رشید اچھا لڑکا تھا، باادب اور تابعدار قسم کا۔ کم بولتا تھا، اپنے کام سے کام رکھتا تھا اور محنتی تھا۔ بہت جلد اس نے نہ صرف برکت علی کے دل میں جگہ بنا لی بلکہ محلے والے بھی اس پر اعتبار کرنے لگے۔

وہ کبھی کبھار، جب ابو گھر پر ہوتے، ہمارے گھر بھی آجاتا تھا۔ امی جب سودا سلف کے لیے نکلتیں، تو یہ دوڑا آتا اور امی کی مدد کر دیا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ ہمارے گھر کا فرد بن گیا۔ اس نے تو جیسے ہمارے بھائی کی کمی پوری کر دی۔ وہ ہمارے کام کرتے تھکتا نہیں تھا۔ مجھے “گڑیا” اور باجی کو “بی بی” کہتا تھا۔ ہم بھی اس کا ایسے ہی خیال کرتے تھے، جیسے وہ سچ مچ ہمارا بھائی ہو۔ ایک دن رشید دکان پر نہ آیا، دوسرے دن بھی نہ آیا، اسی طرح جب چار دن گزر گئے، تو میں پریشان ہو گئی۔ ابا صبح سویرے کام پر چلے جاتے۔ امی ان دنوں کافی بیمار تھیں کیونکہ وہ ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ میں نے دکان کے مالک سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا، “بیٹی! وہ میرے گھر کے پچھواڑے کچے مکان میں رہائش پذیر ہے اور اسے سخت بخار آ رہا ہے۔”

یہ سن کر میرا دل بے چین ہو گیا اور ایسے میں کسی کو بتائے بغیر میں اس کے ٹھکانے پر چلی گئی۔ وہ وہاں چارپائی پر لیٹا آنسو بہا رہا تھا اور اس کی طبیعت بہت خراب تھی۔ جب میں نے آواز دی تو اس نے آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔ میں نے خفا ہو کر کہا کہ “بیمار ہو گئے تھے، تو کیوں نہیں بتایا؟ ہمارے گھر آجاتے!” تب وہ واقعی رو پڑا۔ اس نے کہا، “مجھے میرے ماں باپ بہت یاد آ رہے ہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج میں ایسے نہ جی رہا ہوتا۔” اس کی حالت ٹھیک نہ تھی، چنانچہ میں اصرار کر کے اس کو گھر لے آئی۔ امی نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کے آنے پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔

اس کے بعد رشید کو امی ابو نے اپنے ہی گھر رکھ لیا اور چھت پر کمرہ دے دیا کیونکہ چھت پر جانے کی سیڑھی باہر گلی سے بھی جاتی تھی۔ وقت پلک جھپکتے گزر گیا۔ رشید نے کبھی امی ابو کو شکایت کا موقع نہ دیا۔ باجی اٹھارہ سال کی اور میں پندرہ برس کی ہو گئیں۔ ماں رشید کو بہت اہمیت دینے لگیں۔ وہ کھانا بھی ہمارے گھر کھاتا تھا۔ دراصل ماں چاہتی تھیں کہ میری بڑی بہن کی شادی رشید سے ہو جائے۔ ہم بہنیں حسین و سگھڑ تھیں، لیکن ایک کمی تھی کہ ہم نے تیسری جماعت سے آگے تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور ہم غریب لوگ تھے، لہذا اچھے گھرانوں سے رشتے ہمارے لیے نہیں آتے تھے۔ امی بیمار رہتی تھیں، وہ جلد از جلد ہماری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتی تھیں۔

ایک دن مجھے ایک دوسری بستی میں اپنی خالہ کے گھر جانا تھا۔ میں نے رشید کو ہمراہ لیا اور چل دی۔ ہمارا تانگہ ایک سنسان علاقے سے گزر رہا تھا کہ اچانک تین لمبے تڑنگے مرد، جو گاڑی میں سوار تھے، آئے اور مجھے اٹھا کر گاڑی میں ڈال لیا۔ رشید نے شور مچانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر جانے کیا کہا (یا مارا) کہ وہ نیم جان سا ہو کر بے ہوش ہو گیا۔ انہوں نے گاڑی دوڑا دی۔ ہم پوری رات سفر کرتے رہے۔ یہ فجر کی اذان سے پہلے کا وقت تھا، میں نے بورڈ پر نام پڑھا تو شہر کا نام پشاور لکھا ہوا تھا۔ ہم لاہور سے پشاور آچکے تھے۔

گاڑی ایک چھپر ہوٹل پر رکی تو وہ آدمی نیچے اترے۔ ایک گاڑی کے پاس کھڑا رہا اور دو ہوٹل میں چلے گئے۔ میں نے آنکھیں بند ہی رکھیں۔ کچھ دیر تک وہ تیسرا آدمی گاڑی کے پاس رہا، پھر پان کے کھوکھے پر جا کر سگریٹ سلگانے لگا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور جلدی سے گاڑی سے اتر کر بے تحاشا بھاگی اور سڑک عبور کر کے کھیتوں میں چلی گئی۔ میں نے ہانپتے ہوئے جلدی جلدی کھیت پار کیے۔ سامنے ایک دیہاتی کا مکان تھا، جس کی بیرونی چاردیواری بھی کچی تھی۔ سوچنے کی طاقت جواب دے چکی تھی۔ اس لمحے تو بس جان بچانے کا ہی سوال تھا، لہذا کچھ سوچے بغیر میں اندھا دھند اس گھر میں داخل ہو گئی۔

اس کچے گھر کے کمرے کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا، یہی اس گھر کا مالک لگتا تھا۔ نوجوان، لمبا قد، تانبے جیسا دمکتا رنگ اور پرکشش چہرہ تھا؛ وہ مردانہ حسن کا نمونہ تھا۔ میں ہانپتی کانپتی دوڑتی ہوئی اس کے قدموں میں گر گئی۔ اس نے جھک کر کمالِ انسانیت سے مجھے اٹھا لیا۔ میری اوڑھنی تو کھیتوں میں گر گئی تھی اور جوتا گاڑی میں رہ گیا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ میں مصیبت کی ماری، جان کے خوف سے نڈھال ہوں۔ وہ مجھے کمرے میں لے آیا، جہاں اس کی ماں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ وہ بیمار لگتی تھی۔ اس نے مجھے نرم اور دھیمی آواز میں کہا، “بیٹی! آجا، یہاں بیٹھ جا۔” اس کے لہجے میں مٹھاس تھی، مجھے میری ماں یاد آگئی اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اس عورت نے مجھے گلے لگایا اور اپنے بیٹے سے کہا، “اسفند! دوسری چارپائی پر دری ڈال دو اور اس کے لیے بستر لگا دو۔” اسفند نے پہلے کھانا میرے سامنے لا کر رکھا، تو اس عورت نے کہا، “تو آرام کر لے، پھر بتانا کہ کہاں سے آئی ہو۔” میں نے جھوٹ بولا، “ماں جی! میں غلط بس میں سوار ہو گئی تھی اور غلط جگہ اتر گئی ہوں۔ میرا سامان بھی بس میں رہ گیا ہے۔” انہوں نے کہا، “اچھا تو نماز پڑھ کر سو جا۔” اس جہاندیدہ عورت کو شاید پتہ چل گیا تھا کہ میں سچ نہیں بول رہی تھی۔

میں نے اس عورت کے کہنے پر نماز پڑھی۔ مجھے احساس ہوا کہ میں اس گھر میں محفوظ ہوں، لہذا میں سو گئی۔ جب آنکھ کھلی تو گیارہ بج رہے تھے اور وہ عورت اپنے بیٹے سے کہہ رہی تھی، “اسفند! یہ لڑکی بڑی خوبصورت ہے، لیکن معصوم لگتی ہے۔ نجانے اس پر کیا بیتی ہے اور جانے اس کا گھر کہاں ہے؟” میں نے اس کی ماں کو اپنا ہمدرد جان کر ساری بات بتا دی۔ اس نے مجھے تسلی دی کہ “گھبرانا نہیں، میں تمہیں تمہارے گھر بھجوا دوں گی۔” مگر میں ابھی جانے کو تیار ہی تھی کہ اگلے دن اسفند نے بتایا کہ تودا گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کی وجہ سے راستہ بند ہے اور کافی نقصان ہوا ہے۔ لوگوں نے خود ہی راستہ صاف کیا، جس میں انہیں پورا ایک ماہ لگ گیا۔ میں بھی وہاں محصور ہو کر رہ گئی۔

آخر کار اسیری کے یہ دن تمام ہوئے اور اگلے دن اسفند اور ان کے ایک بزرگ کے ہمراہ میں اپنی منزل کو روانہ ہو گئی۔ دوسرے روز مغرب کی اذان کے وقت میں اپنے شہر پہنچی۔ ہم رکشے سے اترے تو دیکھا کہ گھر کو تالا لگا ہوا ہے۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ سب لوگ کہاں چلے گئے ہیں۔ میں ان لوگوں کے ساتھ اپنی نانی کے گھر چلی گئی۔ نانی نے مجھے دیکھا تو گلے سے لگایا اور پوچھا کہ “تو کہاں گئی تھی؟ ارے بیٹی! تیرے غائب ہونے کے بعد تو تیرا سارا گھر ہی برباد ہو گیا۔ تمہارا باپ تمہیں ڈھونڈنے نکلا، تو آج تک واپس نہیں آیا۔ تیری بیمار ماں صدمے سے مرگئی اور تیری بہن کو رشید نے دھوکا دیا۔ اس نے اپنی عزت پر داغ لگ جانے کے غم میں خود کو آگ لگا لی۔” میں نے پوچھا، “رشید کہاں ہے؟” انہوں نے بتایا، “اسے پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔”

یہ سن کر اسفند اور ان کے تایا کو بہت دکھ ہوا۔ میں رو رہی تھی اور وہ مجھے تسلیاں دے رہے تھے کہ “ہم دوبارہ آئیں گے۔” وہ مجھے نانی کے پاس چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ دنوں کے بعد اسفند اور ان کی والدہ آئیں، انہوں نے نانی سے میرا ہاتھ مانگا۔ نانی نے ہاں کر دی، یوں میری شادی نہایت سادگی سے اسفند کے ساتھ کر دی گئی۔ چند سال بہت سکھ کے گزرے۔ اسفند نے کبھی مجھے اغوا ہونے کا طعنہ نہیں دیا اور ساس نے بھی ماں جیسا پیار دیا، لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ فوت ہو گئیں۔ ان کے فوت ہونے کا غم مجھے ایسے ہی ہوا، جیسے میری اپنی ماں مر گئی ہو۔ میں کافی دن اس نیک عورت کے لیے روتی رہی۔

میں شہر سے گاؤں آئی تھی، پھر بھی خوش رہتی تھی۔ صرف اپنے والد کی یاد ستاتی تھا کہ میری کھوج میں نجانے کہاں کہاں بھٹک رہے ہوں گے۔ اگر وہ لوٹ کر گھر آتے، تو ضرور انہیں پتہ چل جاتا کہ میری نانی نے میری شادی کر دی ہے۔ شادی کے سات برس سکون سے گزرے اور میں چار بچوں کی ماں بن گئی۔ اسفند کی اپنی زمین تھی اور اچھا گزارہ ہو رہا تھا۔ وہ اکثر شہر جاتے رہتے تھے۔ وہ میٹرک پاس تھے، پھر انہوں نے پرائیویٹ بی اے کیا۔ وہ امتحان دینے شہر جاتے تھے۔ بار بار شہر جانے اور وہاں (جدید) لڑکیاں دیکھنے کی وجہ سے ان کا دل مجھ سے دور ہونے لگا۔ ان کے دل میں دوسری شادی کا خیال جاگا۔ میں تو بچے پالنے میں مصروف تھی اور دیہاتی ماحول میں رہ کر بالکل دیہاتی سی ہو گئی تھی۔

ان کی نگاہوں میں اب سنوری ہوئی، خوبصورت عورتیں رہتی تھیں۔ زمینوں سے اچھی آمدنی ہو رہی تھی، انہوں نے ایک گاڑی بھی لے لی اور دوسری عورتوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ ان کے بدلتے رویے کو میں نے محسوس تو کیا، مگر میں اپنی ہی دنیا میں گم بچوں کو پڑھانے میں لگی تھی؛ میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتی تھی۔ پھر وہ ہوا، جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔ اچانک پتہ چلا کہ انہوں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس بات کا مجھے بہت دکھ ہوا۔ دوسری شادی کے ایک ماہ بعد اسفند گھر آئے اور مجھے کہا کہ “میرا کلف والا جوڑا تیار کر دو۔” میں نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ “دوسری بیوی سے کہو، وہ تمہارا جوڑا تیار کر دے۔”

اس بات پر اسفند کو اس قدر غصہ آیا کہ انہوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا اور شام کو ہی جا کر دوسری بیوی کو گھر لے آئے۔ یہ شہری لڑکی ایف اے پاس تھی، دیہات کے اسکول میں اس کا تبادلہ ہوا تھا اور وہ یہاں پڑھاتی تھی۔ تبادلے کی کوشش میں اس کا واسطہ میرے شوہر سے پڑا تھا۔ میں خاوند سے پوچھتی تھی کہ “تم نے دوسری شادی کیوں کی؟” تو وہ کہتے کہ “تم ان پڑھ تھیں، اس لیے میں نے دوسری شادی کی، اب وہی میرے بچوں کو پڑھائے گی۔” گھر میں سوکن مجھ سے برداشت نہ ہوتی تھی، جب کہ اسفند نے اس کے لیے مکان بھی پکا بنا دیا تھا۔ اب وہ گھر کی مالک تھی اور میں جیسے ایک نوکرانی۔

جوں ہی میں اس کے کام کرنے سے انکار کرتی، اسفند مجھے مارتے۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے اتنا مارا کہ میرا بازو ٹوٹ گیا۔ مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ میں رو رو کر بے ہوش ہو گئی۔ میرے بچے جا کر تایا سسر کو بلا لائے، انہوں نے اسپتال سے ایمبولینس منگوائی اور مجھے شہر کے اسپتال لے آئے۔ نانی کو بھی انہوں نے اطلاع دی، چنانچہ نانی اور خالہ میرے پاس اسپتال میں آ گئیں۔ میں پندرہ دن وہاں رہی، لیکن اسفند ایک بار بھی اسپتال نہ آئے۔ طبیعت کچھ بہتر ہوئی، تو گھر جانے کی بجائے میں نانی کے گھر چلی آئی۔ نانی نے کہا کہ “طلاق لے لو”، مگر میں نہ مانی کیونکہ بچے گاؤں میں اسفند کے پاس تھے اور میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔

بچوں کی محبت سے مجبور ہو کر بالآخر میں خود ہی اپنے گھر چلی گئی۔ وہاں کا تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ بچوں کے چہرے کملا گئے تھے۔ روبی ان کو مارتی اور سارے گھر کا کام کرواتی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی میرے لختِ جگر مجھ سے لپٹ گئے۔ وہ رو رو کر کہتے تھے، “ماں! اب تم ہمیں چھوڑ کر مت جانا، روبی ہی نہیں ابا بھی ہمیں مارتے ہیں۔” میں نے بچوں کی منت زاری دیکھ کر طے کر لیا کہ اب ان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی، چاہے مجھے دکھوں کے جہنم سے ہی کیوں نہ گزرنا پڑے۔ پھر میں نے ہر ستم سہ لیا، لیکن خود کو گھر اور بچوں سے جدا نہ کیا۔ انہی دنوں روبی کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جو اس کی غفلت کی وجہ سے جاں بحق ہو گیا؛ اسفند نے اس کو اس کے میکے بھجوا دیا۔

کہتے ہیں کہ رات کے بعد صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ میں محنت سے بچوں کو پڑھاتی رہی۔ جب انہوں نے باری باری گاؤں کے اسکول سے میٹرک پاس کر لیا، تو میں نے ان کو اپنی خالہ کے پاس آگے پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔ خالو نے بھی میرا پورا ساتھ دیا کیونکہ وہ ایک نیک اور خوشحال آدمی تھے۔ میں نے روبی کے ڈر سے خاوند کا گھر نہ چھوڑا، یہاں تک کہ سالوں بعد میری بڑی بیٹی نے بی ایس سی اور چھوٹے بیٹے نے بی اے کر کے انسپکٹر کی ملازمت حاصل کر لی۔ اس سے چھوٹی لڑکی نے بی اے کیا ہے اور اس کے بعد سجاول ہے، جس نے اب میٹرک کا امتحان دینا ہے۔

اب اسفند میرے ساتھ ٹھیک ہو گئے ہیں اور وہ روبی کو چھوڑ چکے ہیں۔ کہتے ہیں، “میں نے اس کی ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر شادی کی تھی، ورنہ میری اصل جیون ساتھی تو تم ہی ہو کیونکہ تم میرے بچوں کی ماں ہو اور تم نے کسی حال میں یہ گھر نہیں چھوڑا۔” میں نے بچوں کی خاطر بہت دکھ سہے اور قربانی دی؛ آج میرے بچے تعلیم یافتہ ہیں اور میرے اس احساسِ محرومی نے کہ ‘میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھی’، میرا پیچھا چھوڑ دیا ہے۔ میرے بچوں کا مستقبل روشن ہے۔ وہ کہتے ہیں، “ماں! یہ تمہارا احسان ہے کہ تم ہمیں چھوڑ کر نہ گئیں، ورنہ ہم بھی احساسِ کمتری کی آگ میں جل کر خاک ہو جاتے۔”
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ