محبت کی رسوائی

mohabbat-ki-ruswai

میرا بھائی مراد بہت سی دعاؤں، منتوں اور برسوں کی بے قراری کے بعد اس دنیا میں آیا تھا۔ امّی اکثر بتایا کرتی تھیں کہ اس کی پیدائش سے پہلے انہوں نے کتنی راتیں جاگ کر دعائیں مانگی تھیں، کتنی بار سجدوں میں آنسو بہائے تھے، اور کتنی امیدوں کے چراغ دل میں روشن کیے تھے۔ شاید اسی لیے جب مراد نے پہلی بار آنکھیں کھولیں تو یوں لگا جیسے ہمارے گھر میں خوشیوں کی ایک نئی صبح اتر آئی ہو۔


جب اس نے میٹرک پاس کیا تو فرمائش کی کہ ہم نے ماموں کے ہاں جانا ہے، جو دوسرے شہر میں رہتے تھے۔ وہاں جانے کا پروگرام بن گیا کیونکہ ہمیں چھٹیاں گزارنی تھیں۔ جس دن ہم پہنچے، بہت تھکے ہوئے تھے، اس لیے سو گئے۔ شام کو مراد نے کہا: “باجی! میرے کپڑے استری کر دیں، باہر گھومنے کو دل کر رہا ہے۔” میں بیگ سے کپڑے نکال کر استری کرنے لگی۔ وہ باہر بڑے صحن میں چلا گیا جہاں ایک جانب چولہا رکھا ہوا تھا۔ میں نے دور سے دیکھا کہ وہاں میری ماموں زاد بہن ناہید ہمارے لیے کھانا پکا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی جو بہت دلکش تھی۔ جب میرے بھائی نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا، جیسے وہ اس کے دل میں سما گئی ہو۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ میں اس لڑکی کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہو گئی کیونکہ میرے تصور میں ایسی ہی بھابھی کا عکس تھا۔

بھائی کا جوڑا استری کرنے کے بعد میں ناہید کے پاس گئی اور پوچھا: “یہ لڑکی کون ہے؟” اس نے بتایا: “یہ میرے ماموں کی بیٹی شازیہ ہے، اس کا گھر ہمارے مکان کے پاس ہی ہے۔” مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ ہماری رشتہ دار بھی ہے اور قریب بھی رہتی ہے۔ اگلے دن میں اپنی امی اور بھائی کے ہمراہ شازیہ کے گھر گئی۔ میری نظریں جسے تلاش کر رہی تھیں، وہ جلد ہی نظر آگئی۔ وہ چولہے کے پاس بیٹھی کھانا بنا رہی تھی۔ ہماری اس سے تھوڑی بات چیت ہوئی۔ مراد بہت خوش تھا۔ انہوں نے ہماری خاطر تواضع کی اور پھر ہم دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے ماموں کے گھر واپس آگئے۔ مگر اس دن کے بعد میں تو دوبارہ شازیہ کے گھر نہ جا سکی، البتہ مراد وہاں جانے لگا۔ اب اس کا ذہن ہمہ وقت شازیہ کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ وہ بہانے بہانے سے ادھر جا نکلتا اور یوں دونوں میں دوستی ہو گئی۔

شازیہ مراد کو اچھے اچھے کھانے پکا کر کھلاتی اور وہ اس کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا۔ شازیہ کے ماں باپ صبح سویرے کام پر چلے جاتے تھے، تاہم وہ مراد کے روز آنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، مگر رشتہ داری کی وجہ سے خاموش تھے، لیکن لگتا تھا کہ کسی دن منع کر دیں گے۔ اسی وجہ سے مراد بار بار کہتا تھا کہ اس سے پہلے کہ کوئی ناگواری ہو، رشتہ بھیج دیں، لیکن امی ابھی سوچ بچار میں تھیں۔ مراد نے کچھ تحفے بھی سب سے چھپا کر شازیہ کو دیے اور پھر امی کو رشتہ لینے ان کے گھر بھیج دیا، لیکن شازیہ کے نانا نے انکار کر دیا جس کا ہم سب کو دکھ ہوا۔ امی نے مراد کو منع کر دیا کہ اب تم ان کے گھر مت جانا، کیونکہ انکار کے بعد وہاں جانا مناسب نہیں تھا، لیکن بھائی نہ مانا۔ وہ اگر وہاں نہ جاتا تو ناہید کے گھر چلا جاتا اور شازیہ وہاں آ جاتی اور وہ دونوں باتیں کرتے۔

یہ بات شازیہ کے نانا کو معلوم ہو گئی۔ اس بزرگ نے مراد کو منع کیا کہ “اب ہمارے گاؤں آؤ تو ہمارے گھر کی طرف مت دیکھنا،” لیکن دل پر کسی کا زور نہیں۔ میرا بھائی باز نہ آیا۔ جب انہوں نے اپنی لڑکی پر سختی کی تو شازیہ نے مراد سے کہا: “بے شک تمہارا آنا مجھے اچھا لگتا ہے، مگر میرے گھر والوں کو پسند نہیں، اس لیے تم یہاں مت آیا کرو۔ آخر تم روز کیوں آ جاتے ہو؟ امی مجھ سے لڑتی ہیں اور برا بھلا کہتی ہیں۔” انہوں نے میری والدہ سے بھی کہا کہ اپنے بیٹے کو روکیں، ایسا نہ ہو کہ کل کلاں کوئی بڑا سانحہ ہو جائے۔ امی نے مراد کو روکا اور قسم دی کہ اب وہاں مت جانا: “میں تمہاری شادی اپنے بھائی کی بیٹی شمائلہ سے کر دوں گی، وہ بہت خوبصورت ہے اور مجھے پسند بھی ہے۔” مگر مراد پر کسی بات کا اثر نہ ہوا۔ وہ شازیہ کو اپنی منزل بنا چکا تھا اور اس کے سوا کسی کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔

جب میری کزنز کو اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے بھی مراد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ رشتہ دار باتیں بناتے ہیں، تم شازیہ کی طرف مت جایا کرو، کسی دن جھگڑا ہو جائے گا۔ مراد کہتا تھا: “اگر میں اس کی طرف نہ جاؤں گا تو ساہیوال بھی نہیں آؤں گا۔” ناہید نے بہت سمجھایا اور یہاں تک کہا کہ شازیہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں، اس کا خیال چھوڑو اور اپنی ماں کی بات مان لو، شمائلہ اس سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ غرض، مراد نے ان دنوں ہمیں بہت پریشان رکھا۔ وہ ہر پندرہ روز بعد ماموں کے گھر چلا جاتا، یوں نہ وہ پڑھائی کر سکتا تھا اور نہ کوئی اور کام۔ امی رات دن دعا کرتیں کہ اے اللہ! میرے بیٹے کو اس مشکل سے نکال۔ خدا جانے اس کا کیا انجام ہو گا کیونکہ نوجوان جب ایسے چکروں میں پڑ جائیں تو انہیں سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس بار مراد وہاں گیا تو شازیہ اسے ایک پگڈنڈی پر ملی۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر باتوں میں مگن ہو گئے۔ بدقسمتی سے اسی وقت شازیہ کے نانا سر پر گھاس کا گٹھا لیے وہاں سے گزرے۔ انہوں نے دونوں کو باتیں کرتے دیکھا تو گٹھا زمین پر پھینک کر جوتا اتارا اور مراد کو مارنے لگے۔ مراد نے سر جھکا لیا اور خاموشی سے مار کھائی، اف تک نہ کی۔ اس سعادت مندی کا نانا پر اثر ہوا اور انہوں نے سوچا کہ لڑکا اچھا ہے۔ گھر آ کر داماد اور بیٹی سے مشورہ کیا، لیکن شازیہ کی چھوٹی بھابھی نے جب یہ سنا تو اس نے کھیل بگاڑنے کی سوچی۔ اس نے ناہید کے گھر آ کر مراد سے کہا: “جس لڑکی کی خاطر تم مار کھا رہے ہو، وہ اچھی نہیں ہے، اس کی دوستیاں کئی لوگوں سے ہیں۔” مگر مراد نے یقین نہ کیا۔ تب اس عورت نے حسد میں شازیہ کے بڑے بھائی صغیر کو اکسایا کہ اپنی بہن کو سنبھال لو، وہ گاؤں میں آزاد پھرتی ہے اور خاندان کی عزت خطرے میں ہے۔ صغیر شہر میں پولیس میں ملازمت کرتا تھا۔

ادھر ہمارے ماموں کے بیٹے کی شادی کا بلاوا آ گیا۔ مراد بہت خوش تھا کہ ایک بار پھر ساہیوال جانے کا بہانہ مل گیا ہے اور وہاں شازیہ بھی آئے گی۔ امی نے سختی سے تاکید کی کہ وہاں جا کر ممانی کے رشتہ داروں کی طرف مت جانا، لیکن ساہیوال پہنچتے ہی مراد گھر سے نکل گیا۔ وہ شازیہ سے ملا جس نے روتے ہوئے بتایا کہ “میرے گھر والے میری شادی کسی اور سے کرنے کا سوچ رہے ہیں، وہ تمہیں رشتہ نہیں دیں گے، مگر میں تمہارے سوا کسی سے شادی نہیں کروں گی۔” مراد نے اس کے آنسو پونچھے اور دونوں کھیتوں میں گھومنے لگے۔ جب دیر تک مراد واپس نہ آیا تو میرا دل دھڑکنے لگا۔ میں ناہید کے ہمراہ اسے دیکھنے گئی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ صغیر کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ وہ ہمیں کھیتوں میں مل گیا اور ہم اسے گھر لے آئے۔

اگلے دن شادی تھی اور سب مصروف تھے۔ شازیہ بھی آئی، وہ گلابی جوڑے میں بہت پیاری لگ رہی تھی اور اس کی نظریں میرے بھائی کو تلاش کر رہی تھیں۔ میں نے نوٹ کیا کہ مراد بھی اسی کی خاطر ادھر ادھر آ جا رہا تھا۔ یہ بات صرف میں نے ہی نہیں بلکہ دیگر لوگوں نے بھی بھانپ لی۔ انہی میں سے کسی نے شازیہ کے بھائی صغیر کو خبر کر دی۔ صغیر، جو پہلے ہی اپنی بیوی سے باتیں سن چکا تھا، مزید طیش میں آ گیا اور اپنی دونوں بہنوں شازیہ اور عارفہ کو شہر بلا لیا جہاں اس کی تعیناتی تھی۔ سارا گاؤں جانتا تھا کہ وہ ایک ظالم آدمی ہے جو ذرا سی بات پر بیوی کو بھی مارتا تھا۔ اب وہ بہنوں پر کڑی نظر رکھنے لگا۔

مراد کو سب نے سمجھایا کہ بات لڑکی کے بھائی تک پہنچ چکی ہے، اب اس کا خیال چھوڑ دو ورنہ خون خرابہ ہو جائے گا، لیکن مراد کے سر پر دھن سوار تھی۔ وہ اسی شہر جا پہنچا جہاں صغیر رہتا تھا اور جلد ہی اس کا گھر ڈھونڈ لیا۔ وہ شازیہ سے ملنے گیا تھا۔ اتفاق سے شازیہ نے اسے کھڑکی سے دیکھ لیا۔ اس وقت بھائی گھر پر نہیں تھا، وہ باہر آئی اور کہا: “تم فوراً واپس چلے جاؤ، اگر بھائی کو پتا چلا تو ٹھیک نہیں ہو گا۔ نانا کوشش کریں گے تو شاید رشتہ ہو جائے، لیکن اگر تم نے یوں ملنے کی کوشش کی تو بھائی نہ جانے کیا کر گزرے، تم اس کے غصے کو نہیں جانتے۔” مراد نے ضد کی: “تم ایک بار باہر مجھ سے ملو، کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں، پھر میں چلا جاؤں گا۔”

شازیہ نہ مانی، پھر سوچا کہ یہ اتنی دور سے آیا ہے تو دو منٹ مل لیتی ہوں۔ صغیر ڈیوٹی پر گیا ہوا تھا۔ وہ مراد سے نزدیکی پارک میں ملی اور منت کی کہ آئندہ یہاں مت آنا۔ ملاقات چند منٹ کی تھی، جس کے بعد وہ اپنی بھابھی کی بہن کے گھر چلی گئی جو قریب ہی رہتی تھی اور اس سے کہا: “آپا! میرے ساتھ گھر چلیں، مجھے بھائی سے ڈر لگ رہا ہے کیونکہ میں ان سے پوچھے بغیر نکلی تھی۔” آپا نے کہا: “ڈرو نہیں، تم گھر جاؤ، میں کام ختم کر کے آتی ہوں۔” مگر شازیہ پر ایسا خوف سوار تھا کہ وہ گھر جانے کے بجائے اپنے چچا کے گھر چلی گئی۔ یہ اس کی غلطی تھی، اگر وہ گھر چلی جاتی تو اس وقت تک صغیر واپس نہیں آیا تھا۔

جب صغیر گھر آیا اور شازیہ کو نہ پایا تو بیوی سے پوچھا۔ اس نے جواب دیا: “مجھے نہیں معلوم، وہ بتا کر نہیں گئی۔” صغیر کا پارہ چڑھ گیا۔ ابھی وہ غصے میں تھا کہ چچا شازیہ کو لے کر آ گئے اور کہا: “یہ صبح سے ہمارے گھر بیٹھی تھی، میں اسے چھوڑنے آیا ہوں۔” چچا کے جاتے ہی شازیہ کچن میں چلی گئی۔ بھابھی نے طنزاً کہا: “ایک لڑکی بتا کر کہاں چلی گئی تھی؟ میں تو صبح سے فکر میں جل رہی ہوں۔ اب روٹی پکا لو، تمہارا بھائی بھوکا بیٹھا ہے۔” شازیہ نے جواب دیا: “بھوکا بیٹھا ہے تو میں کیا کروں؟” یہ الفاظ صغیر نے سن لیے۔ اس نے بہن کے سر پر زوردار مکا مارا اور اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ وہ مارتا رہا اور پوچھتا رہا کہ “بغیر بتائے کہاں گئی تھی؟ چچا کے گھر کیوں چھپی تھی؟ میں پولیس والا ہوں، سب اگلوا لوں گا۔” جب وہ مار مار کر تھک گیا تو کمرے میں چلا گیا۔

شازیہ زمین پر بے سدھ پڑی تھی۔ جب بھابھی نے اسے ہلایا تو پتا چلا کہ وہ دم توڑ چکی ہے۔ صغیر نے معاملے کو چھپانے کے لیے رسی سے اس کی لاش پنکھے سے لٹکا دی تاکہ اسے خودکشی قرار دیا جا سکے۔ کچھ دنوں بعد جب ماں آئی تو شازیہ کی بہن عارفہ نے روتے ہوئے سارا حال بتایا اور کہا: “ماں! میرا نام نہ لینا، مگر تمہاری بیٹی کو تمہارے بیٹے نے ہی مارا ہے۔” ماں صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی، اگر بیٹے کا نام لیتی تو بھی بیٹی واپس نہیں آنے والی تھی۔ وہ خوف کے مارے عارفہ کو بھی ساتھ لے آئی اور ممانی سے کہا: “تمہارے سسرال والے میری بیٹی کے پیچھے پڑ گئے اور اسے مار ڈالا۔ کاش مراد ہمارے گھر نہ آتا، وہ مراد نہیں نامراد تھا جس کی وجہ سے ہم نے بیٹی کھو دی۔”

بعد میں پتا چلا کہ مراد واقعی اس سے ملنے گیا تھا۔ یہ راز صرف مجھے میرے بھائی نے بتایا۔ اب وہ ہاتھ ملتا ہے کہ کاش اس نے بڑوں کا کہنا مانا ہوتا۔ اگر وہ شازیہ کے پیچھے نہ جاتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ اس کی ضد اور بے صبری نے حالات کو سنگین بنا دیا تھا۔ جب بھائیوں کو بہن کے کسی سے تعلق کا علم ہوتا ہے تو وہ غیرت اور غصے میں اندھے ہو کر ایسا قدم اٹھا لیتے ہیں کہ کسی کی جان چلی جاتی ہے یا وہ خود پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔ میں لڑکوں سے التجا کروں گی کہ اپنی خوشی کی خاطر کسی لڑکی کا اس طرح تعاقب نہ کریں کہ اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ محبوبہ کو رسوائی یا موت کے دہانے تک پہنچا دیا جائے۔ میرے بھائی نے بات نہ مانی اور آج عمر بھر کا پچھتاوا اس کا مقدر ہے۔ وہ جب بھی شازیہ کو یاد کرتا ہے، اس کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ