مریم میری کلاس فیلو تھی اور سب سے زیادہ میرے ہی قریب تھی۔ وہ ایک نہایت اچھی، خاموش طبع اور دھیمے انداز میں بات کرنے والی لڑکی تھی۔ اس کی اسی خاموشی کی وجہ سے اکثر لوگ اسے مغرور سمجھتے تھے، حالانکہ وہ بہت حساس اور پیاری سوچ کی مالک تھی۔ جب بھی کوئی اس کے خلاف بات کرتا، میری اکثر اس سے لڑائی ہو جاتی۔ وہ کسی سے جلدی گھلتی ملتی نہیں تھی، اسی لیے لوگ اسے مختلف ناموں سے پکارتے تھے۔
اس کے اس رویے میں شاید اس کے خاندانی ماحول کا بڑا عمل دخل تھا۔ وہ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا باپ ایک روایتی جاگیردار تھا اور بھائی بھی باپ ہی کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا۔ اسے گھر میں کم بولنے کی تاکید تھی، یہاں تک کہ اس کی ماں بھی ہر وقت سہمی سہمی رہتی تھی۔ وہ ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی تھی جہاں عورت کو ذرا سی غلطی پر بھی مجرم قرار دے دیا جاتا اور اس کی ہر خواہش پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اٹھنا بیٹھنا کیسے ہے، کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں، یہ سب اسے ہر وقت سمجھایا جاتا تھا۔ مریم بھی ان لڑکیوں میں سے تھی جنہیں ہر بات بار بار جتائی جاتی ہے، خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ایسی پابندیوں سے انسان کی شخصیت رفتہ رفتہ مسخ ہو جاتی ہے، اندر خوف سرایت کر جاتا ہے اور خود اعتمادی رخصت ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مریم کی ہرنی جیسی بڑی آنکھیں اکثر ویران نظر آتی تھیں۔
میں اسے بہت عرصے سے نہیں جانتی تھی کیونکہ ہماری ملاقات اسی کالج میں ہوئی تھی، مگر پھر بھی ہماری خاصی دوستی ہو گئی تھی۔ مریم کی باتیں کبھی کبھی میرے لیے پریشانی کا باعث بنتیں۔ میں اکثر حیران ہو کر اس سے پوچھتی، “تم کالج تک کیسے پہنچ گئیں؟” وہ جواب دیتی، “یہ بھی اپنی بڑائی ثابت کرنے کا ایک انداز ہے۔ بڑے کالجوں اور بیرونِ ملک تعلیم دلوانا بھی ہماری ایک ریت ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو تہذیب یافتہ کیسے کہلائیں گے؟ مجھے بھی کالج بھیجتے وقت کہہ دیا گیا تھا کہ میری آنکھیں صرف کتابیں دیکھنے، کان صرف لیکچر سننے اور ہاتھ پاؤں صرف پڑھائی کے لیے ہیں۔ اگر ان کا ذرا بھی غلط استعمال ہوا تو آنکھیں نکالی جا سکتی ہیں اور ہاتھ پاؤں توڑے جا سکتے ہیں۔”
انہی باتوں کے پیشِ نظر وہ کلاس فیلوز سے بہت کم بات کرتی تھی۔ ہمارے ساتھ اچھے گھرانوں کے طلبہ پڑھتے تھے جو مریم سے بات کرنے کے خواہش مند تھے، مگر وہ کسی سے بات نہ کرتی تھی جیسے اس پر ہر وقت کوئی نگران مقرر ہو۔ اس کے ساتھ آنے والے ڈرائیور اور گارڈ بھی سارا دن باہر بیٹھے رہتے تھے۔ وہ ایک ایسی قید میں تھی جس کی سلاخیں تو نہ تھیں، مگر اس کی شخصیت روز ٹوٹتی اور بکھرتی رہتی تھی۔ مجھے اکثر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا۔
ہماری کلاس میں ایک لڑکا علیم بھی تھا۔ وہ بہت سلجھا ہوا، ذہین اور ہوشیار تھا۔ ہم اکثر پڑھائی میں اس کی مدد لیا کرتے تھے۔ اگر مریم کو کوئی مشکل ہوتی تو وہ مجھ سے کہتی اور میں علیم سے مسئلہ حل کروا کر اسے بتا دیتی۔ میں نے محسوس کیا کہ مریم کبھی کبھار کسی دوسرے لڑکے کی بات کا جواب تو دے دیتی تھی، مگر علیم سے بالکل بات نہ کرتی تھی۔ ایک دو بار علیم نے کوشش کی تو مریم نے اسے بری طرح جھٹک دیا، جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ علیم بہت اچھا لڑکا تھا اور رفتہ رفتہ میری اس سے دوستی ہو گئی۔ مگر جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ علیم سے دوستی کی وجہ سے مریم مجھ سے دور ہو رہی ہے۔ جہاں میں اور مریم بیٹھی ہوتیں اور علیم آ کر بیٹھتا، مریم فوراً اٹھ کر چلی جاتی۔ علیم بھی یہ محسوس کرتا تھا لیکن کچھ کہتا نہیں تھا۔ اس کے انداز سے مجھے لگنے لگا تھا کہ وہ مریم میں دلچسپی رکھتا ہے۔ شاید مریم بھی اس کی نگاہوں میں چھپا درد سمجھنے لگی تھی، لیکن علیم جتنا قریب ہونے کی کوشش کرتا، وہ اتنا ہی دور ہوتی چلی گئی، اور ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔
علیم کلاس میں آیا۔ اس وقت میرے اور مریم کے علاوہ دو تین طلبہ اور بھی موجود تھے۔ وہ ہماری طرف آیا، میں نے سلام کیا اور اس نے جواب دیتے ہوئے کہا، “آپ کی سہیلی شاید جواب دینے کے آداب سے ناآشنا ہے۔ کیا اسے سلام کرنے کی تمیز نہیں؟” اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی، لیکن مریم کا ردِعمل حیران کن تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر علیم کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور کہا، “تم کون ہوتے ہو مجھے تہذیب سکھانے والے؟” ہم سب ہکا بکا رہ گئے اور مریم اسی وقت کلاس سے باہر نکل گئی۔ میں اسے روکتی رہ گئی مگر وہ اپنی چادر سنبھالتی ہوئی باہر چلی گئی۔ میں نے سوچا کل مریم سے بات کروں گی، فی الحال علیم کو سنبھالنا چاہیے۔ میں نے کہا، “علیم، پتا نہیں اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے۔ تم نہیں جانتے اس کا خاندان کیسا ہے، میں اس کی طرف سے معذرت چاہتی ہوں۔” وہ کہنے لگا، “عائشہ، تم کیوں بار بار معذرت کرتی ہو؟ یہ سب اسے کہنا چاہیے تھا۔ اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں اس کی فیملی کو تم سے بہتر جانتا ہوں کیونکہ وہ میری کزن ہے۔” یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
میرے لیے یہ سب سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں گھر آ گئی لیکن ذہن میں وہی باتیں گونجتی رہیں۔ میں سوچتی رہی کہ آخر مریم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ علیم اس کا رشتہ دار ہے۔ اگلے دن میری الجھن مزید بڑھ گئی کیونکہ وہ دونوں ہی کالج نہیں آئے تھے۔ میرے پاس علیم کا نمبر نہ تھا، چنانچہ میں نے مریم کو فون کیا۔ اس کی آواز بھاری تھی، جیسے وہ رات بھر روتی رہی ہو۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے طبیعت کی ناسازی کا بہانہ بنایا۔ جب میں نے علیم کا ذکر کیا تو وہ بولی، “عاشی، اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی۔” میں نے کہا، “مگر وہ تو کہتا ہے کہ وہ تمہارا کزن ہے۔” یہ سن کر وہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی۔ فون کے دوسری طرف صرف اس کی تیز سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ پھر وہ بولی، “عاشی! اگر تم سچ جاننا چاہتی ہو تو گھر آ جاؤ، میں ڈرائیور بھیج دیتی ہوں۔”
میں مریم کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ اس نے میرا استقبال کیا اور گلے ملتے ہی رو پڑی۔ وہ دیر تک روتی رہی، جیسے جذبات کا کوئی بند ٹوٹ گیا ہو۔ میں نے پوچھا، “مریم، تم نے آج تک کیوں نہیں بتایا کہ علیم تمہارا کزن ہے؟” وہ بولی، “یہ وہ راز ہے جو میں در و دیوار سے بھی چھپانا چاہتی تھی۔” میں نے پوچھا، “مگر کیوں؟ علیم میں کیا عیب ہے؟” اس نے لمبی آہ بھری اور اپنی کہانی سنانے لگی۔
“علیم میری سگی خالہ اور ابو کے چچا زاد بھائی کا بیٹا ہے۔ ہمارے دادا پردادا ایک ہی تھے اور جائیداد مشترک تھی۔ میرے ابو اور علیم کے ابو بہترین دوست تھے، اور ان کے رشتے بھی دو بہنوں یعنی میری ماں اور میری خالہ سے طے پائے تھے۔ نانا کی جائیداد کی وارث بھی یہی دو بیٹیاں تھیں۔ چونکہ میری ماں بڑی تھی، اس لیے ان کی شادی پہلے ہو گئی۔ میرے ابو گھر کے بڑے داماد تھے، اس لیے ان کی بات حتمی مانی جاتی تھی۔ ایک دن ابو غصے میں گھر آئے اور بتایا کہ علیم کے والد اپنی زمین بیچ کر فیکٹریاں لگانا چاہتے ہیں، جو ہمارے خاندان کی روایت کے خلاف تھا۔ یہ بات جھگڑے تک پہنچ گئی اور جب علیم کے والد نے زمین بیچ دی تو ابو نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ اب ابو نہیں چاہتے تھے کہ خالہ کی شادی علیم کے والد سے ہو۔ نانا کو کوئی اعتراض نہ تھا اور خالہ بھی انہیں پسند کرتی تھیں، لیکن ابو نے ضد پکڑ لی کہ اگر یہ شادی ہوئی تو وہ میری ماں کو طلاق دے دیں گے۔”
مریم بتاتی گئی، “نانا نے ایک بیٹی کا گھر بچانے کے لیے دوسری بیٹی کی خوشیاں قربان کر دیں اور رشتے سے انکار کر دیا۔ علیم کے والد نے ابو کے پاس آ کر معافی بھی مانگی لیکن ابو کا دل صاف نہ ہوا۔ انہوں نے انہیں بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا۔ اس بے عزتی کے بعد علیم کے والد نے فیصلہ کیا کہ وہ خالہ سے شادی ضرور کریں گے۔ انہوں نے خالہ کو کورٹ میرج پر راضی کر لیا اور ایک رات خالہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ ابو اپنی اس شکست پر تلملا کر رہ گئے۔ اس دن کے بعد سے ہمارا خالہ کے خاندان سے کوئی تعلق نہ رہا۔ علیم برسوں ملک سے باہر رہا، اس لیے مجھے بھی علم نہ تھا کہ وہ میرا کزن ہے۔ ایک دن حویلی میں بھائی کو معلوم ہو گیا کہ علیم اسی کالج میں ہے، تو مجھے اس شرط پر کالج جانے دیا گیا کہ میں اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھوں گی اور موقع ملنے پر اسے ذلیل کروں گی۔ حالانکہ میں تو اسے دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھی تھی۔”
مریم روتے ہوئے کہنے لگی، “عائشہ، میں روز گھر آ کر روتی ہوں کہ کسی طرح اس کا عکس میرے دل سے مٹ جائے، مگر آنسو اسے مٹانے کے بجائے اور نکھار دیتے ہیں۔ علیم نے میرا جینا مشکل کر دیا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھی ہے، لیکن میں مجبور ہوں، اسی لیے اس کے ساتھ برا رویہ رکھتی ہوں تاکہ وہ مجھ سے دور ہو جائے۔” میں نے مریم کو مشورہ دیا کہ وہ علیم تک اپنے اصل جذبات پہنچائے، ورنہ وہ کوئی جذباتی قدم اٹھا سکتا ہے۔ مریم نے علیم کا نمبر ملایا اور فون مجھے دے دیا۔ دوسری طرف علیم کی والدہ تھیں، انہوں نے بتایا کہ علیم مریم کے رویے کی وجہ سے بہت پریشان رہتا ہے۔ میں نے انہیں ساری حقیقت بتائی کہ مریم بھی اتنی ہی تڑپ رہی ہے جتنا علیم، لیکن وہ مجبور ہے۔ خالہ جان نے کہا کہ وہ خود بھائی صاحب سے علیم کا رشتہ مانگنے جائیں گی۔
اگلے دن جب وہ دونوں کالج آئے تو ان کے چہروں پر اطمینان تھا۔ انہوں نے پہلی بار سکون سے بات کی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ شاید اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر امتحانات شروع ہو گئے اور سب مصروف ہو گئے۔ امتحانات کے بعد جب میں کالج پہنچی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے مریم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا وہ حویلی گئی ہوئی ہے۔ دو دن بعد مجھے مریم کا ایک خط ملا جس نے میرے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ خط میں لکھا تھا: “خالہ جان علیم کا رشتہ لے کر آئی تھیں، مگر ابو نے انہیں بہت بے عزت کر کے نکال دیا۔ علیم نے کہا تھا کہ اگر انکار ہوا تو وہ خودکشی کر لے گا، اور اس نے واقعی اپنی زندگی ختم کر لی۔ جب علیم ہی نہ رہا تو میرا جینا بھی فضول ہے۔ جب یہ خط تمہیں ملے گا، میں اس ظالم دنیا سے دور علیم کے پاس جا چکی ہوں گی۔”
میں فوراً حویلی کی طرف بھاگی، راستے بھر دعا کرتی رہی کہ مریم محفوظ ہو، لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ دیر ہو چکی ہے۔ مریم کی کفن پوش لاش صحن میں رکھی تھی۔ اس کی ماں غش کھا رہی تھی اور باپ دیوانوں کی طرح سر پکڑے بیٹھا تھا۔ اس کا باپ میری طرف آیا اور بولا، “عائشہ، دیکھو اس نادان لڑکی نے کیا کیا؟ تم اسے روک سکتی تھیں۔” میں نے وہ خط ان کی طرف بڑھا دیا اور صرف اتنا کہہ سکی، “علیم اور مریم نے خودکشی نہیں کی، ان کے قاتل آپ ہیں۔” پیار کرنے والے چلے گئے اور پیچھے صرف پچھتاووں کی آگ چھوڑ گئے۔
اس کے اس رویے میں شاید اس کے خاندانی ماحول کا بڑا عمل دخل تھا۔ وہ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا باپ ایک روایتی جاگیردار تھا اور بھائی بھی باپ ہی کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا۔ اسے گھر میں کم بولنے کی تاکید تھی، یہاں تک کہ اس کی ماں بھی ہر وقت سہمی سہمی رہتی تھی۔ وہ ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی تھی جہاں عورت کو ذرا سی غلطی پر بھی مجرم قرار دے دیا جاتا اور اس کی ہر خواہش پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اٹھنا بیٹھنا کیسے ہے، کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں، یہ سب اسے ہر وقت سمجھایا جاتا تھا۔ مریم بھی ان لڑکیوں میں سے تھی جنہیں ہر بات بار بار جتائی جاتی ہے، خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو۔ ایسی پابندیوں سے انسان کی شخصیت رفتہ رفتہ مسخ ہو جاتی ہے، اندر خوف سرایت کر جاتا ہے اور خود اعتمادی رخصت ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مریم کی ہرنی جیسی بڑی آنکھیں اکثر ویران نظر آتی تھیں۔
میں اسے بہت عرصے سے نہیں جانتی تھی کیونکہ ہماری ملاقات اسی کالج میں ہوئی تھی، مگر پھر بھی ہماری خاصی دوستی ہو گئی تھی۔ مریم کی باتیں کبھی کبھی میرے لیے پریشانی کا باعث بنتیں۔ میں اکثر حیران ہو کر اس سے پوچھتی، “تم کالج تک کیسے پہنچ گئیں؟” وہ جواب دیتی، “یہ بھی اپنی بڑائی ثابت کرنے کا ایک انداز ہے۔ بڑے کالجوں اور بیرونِ ملک تعلیم دلوانا بھی ہماری ایک ریت ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو تہذیب یافتہ کیسے کہلائیں گے؟ مجھے بھی کالج بھیجتے وقت کہہ دیا گیا تھا کہ میری آنکھیں صرف کتابیں دیکھنے، کان صرف لیکچر سننے اور ہاتھ پاؤں صرف پڑھائی کے لیے ہیں۔ اگر ان کا ذرا بھی غلط استعمال ہوا تو آنکھیں نکالی جا سکتی ہیں اور ہاتھ پاؤں توڑے جا سکتے ہیں۔”
انہی باتوں کے پیشِ نظر وہ کلاس فیلوز سے بہت کم بات کرتی تھی۔ ہمارے ساتھ اچھے گھرانوں کے طلبہ پڑھتے تھے جو مریم سے بات کرنے کے خواہش مند تھے، مگر وہ کسی سے بات نہ کرتی تھی جیسے اس پر ہر وقت کوئی نگران مقرر ہو۔ اس کے ساتھ آنے والے ڈرائیور اور گارڈ بھی سارا دن باہر بیٹھے رہتے تھے۔ وہ ایک ایسی قید میں تھی جس کی سلاخیں تو نہ تھیں، مگر اس کی شخصیت روز ٹوٹتی اور بکھرتی رہتی تھی۔ مجھے اکثر یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا۔
ہماری کلاس میں ایک لڑکا علیم بھی تھا۔ وہ بہت سلجھا ہوا، ذہین اور ہوشیار تھا۔ ہم اکثر پڑھائی میں اس کی مدد لیا کرتے تھے۔ اگر مریم کو کوئی مشکل ہوتی تو وہ مجھ سے کہتی اور میں علیم سے مسئلہ حل کروا کر اسے بتا دیتی۔ میں نے محسوس کیا کہ مریم کبھی کبھار کسی دوسرے لڑکے کی بات کا جواب تو دے دیتی تھی، مگر علیم سے بالکل بات نہ کرتی تھی۔ ایک دو بار علیم نے کوشش کی تو مریم نے اسے بری طرح جھٹک دیا، جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ علیم بہت اچھا لڑکا تھا اور رفتہ رفتہ میری اس سے دوستی ہو گئی۔ مگر جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ علیم سے دوستی کی وجہ سے مریم مجھ سے دور ہو رہی ہے۔ جہاں میں اور مریم بیٹھی ہوتیں اور علیم آ کر بیٹھتا، مریم فوراً اٹھ کر چلی جاتی۔ علیم بھی یہ محسوس کرتا تھا لیکن کچھ کہتا نہیں تھا۔ اس کے انداز سے مجھے لگنے لگا تھا کہ وہ مریم میں دلچسپی رکھتا ہے۔ شاید مریم بھی اس کی نگاہوں میں چھپا درد سمجھنے لگی تھی، لیکن علیم جتنا قریب ہونے کی کوشش کرتا، وہ اتنا ہی دور ہوتی چلی گئی، اور ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔
علیم کلاس میں آیا۔ اس وقت میرے اور مریم کے علاوہ دو تین طلبہ اور بھی موجود تھے۔ وہ ہماری طرف آیا، میں نے سلام کیا اور اس نے جواب دیتے ہوئے کہا، “آپ کی سہیلی شاید جواب دینے کے آداب سے ناآشنا ہے۔ کیا اسے سلام کرنے کی تمیز نہیں؟” اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی، لیکن مریم کا ردِعمل حیران کن تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر علیم کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور کہا، “تم کون ہوتے ہو مجھے تہذیب سکھانے والے؟” ہم سب ہکا بکا رہ گئے اور مریم اسی وقت کلاس سے باہر نکل گئی۔ میں اسے روکتی رہ گئی مگر وہ اپنی چادر سنبھالتی ہوئی باہر چلی گئی۔ میں نے سوچا کل مریم سے بات کروں گی، فی الحال علیم کو سنبھالنا چاہیے۔ میں نے کہا، “علیم، پتا نہیں اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے۔ تم نہیں جانتے اس کا خاندان کیسا ہے، میں اس کی طرف سے معذرت چاہتی ہوں۔” وہ کہنے لگا، “عائشہ، تم کیوں بار بار معذرت کرتی ہو؟ یہ سب اسے کہنا چاہیے تھا۔ اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں اس کی فیملی کو تم سے بہتر جانتا ہوں کیونکہ وہ میری کزن ہے۔” یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔
میرے لیے یہ سب سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں گھر آ گئی لیکن ذہن میں وہی باتیں گونجتی رہیں۔ میں سوچتی رہی کہ آخر مریم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ علیم اس کا رشتہ دار ہے۔ اگلے دن میری الجھن مزید بڑھ گئی کیونکہ وہ دونوں ہی کالج نہیں آئے تھے۔ میرے پاس علیم کا نمبر نہ تھا، چنانچہ میں نے مریم کو فون کیا۔ اس کی آواز بھاری تھی، جیسے وہ رات بھر روتی رہی ہو۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے طبیعت کی ناسازی کا بہانہ بنایا۔ جب میں نے علیم کا ذکر کیا تو وہ بولی، “عاشی، اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی۔” میں نے کہا، “مگر وہ تو کہتا ہے کہ وہ تمہارا کزن ہے۔” یہ سن کر وہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی۔ فون کے دوسری طرف صرف اس کی تیز سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ پھر وہ بولی، “عاشی! اگر تم سچ جاننا چاہتی ہو تو گھر آ جاؤ، میں ڈرائیور بھیج دیتی ہوں۔”
میں مریم کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ اس نے میرا استقبال کیا اور گلے ملتے ہی رو پڑی۔ وہ دیر تک روتی رہی، جیسے جذبات کا کوئی بند ٹوٹ گیا ہو۔ میں نے پوچھا، “مریم، تم نے آج تک کیوں نہیں بتایا کہ علیم تمہارا کزن ہے؟” وہ بولی، “یہ وہ راز ہے جو میں در و دیوار سے بھی چھپانا چاہتی تھی۔” میں نے پوچھا، “مگر کیوں؟ علیم میں کیا عیب ہے؟” اس نے لمبی آہ بھری اور اپنی کہانی سنانے لگی۔
“علیم میری سگی خالہ اور ابو کے چچا زاد بھائی کا بیٹا ہے۔ ہمارے دادا پردادا ایک ہی تھے اور جائیداد مشترک تھی۔ میرے ابو اور علیم کے ابو بہترین دوست تھے، اور ان کے رشتے بھی دو بہنوں یعنی میری ماں اور میری خالہ سے طے پائے تھے۔ نانا کی جائیداد کی وارث بھی یہی دو بیٹیاں تھیں۔ چونکہ میری ماں بڑی تھی، اس لیے ان کی شادی پہلے ہو گئی۔ میرے ابو گھر کے بڑے داماد تھے، اس لیے ان کی بات حتمی مانی جاتی تھی۔ ایک دن ابو غصے میں گھر آئے اور بتایا کہ علیم کے والد اپنی زمین بیچ کر فیکٹریاں لگانا چاہتے ہیں، جو ہمارے خاندان کی روایت کے خلاف تھا۔ یہ بات جھگڑے تک پہنچ گئی اور جب علیم کے والد نے زمین بیچ دی تو ابو نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ اب ابو نہیں چاہتے تھے کہ خالہ کی شادی علیم کے والد سے ہو۔ نانا کو کوئی اعتراض نہ تھا اور خالہ بھی انہیں پسند کرتی تھیں، لیکن ابو نے ضد پکڑ لی کہ اگر یہ شادی ہوئی تو وہ میری ماں کو طلاق دے دیں گے۔”
مریم بتاتی گئی، “نانا نے ایک بیٹی کا گھر بچانے کے لیے دوسری بیٹی کی خوشیاں قربان کر دیں اور رشتے سے انکار کر دیا۔ علیم کے والد نے ابو کے پاس آ کر معافی بھی مانگی لیکن ابو کا دل صاف نہ ہوا۔ انہوں نے انہیں بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا۔ اس بے عزتی کے بعد علیم کے والد نے فیصلہ کیا کہ وہ خالہ سے شادی ضرور کریں گے۔ انہوں نے خالہ کو کورٹ میرج پر راضی کر لیا اور ایک رات خالہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ ابو اپنی اس شکست پر تلملا کر رہ گئے۔ اس دن کے بعد سے ہمارا خالہ کے خاندان سے کوئی تعلق نہ رہا۔ علیم برسوں ملک سے باہر رہا، اس لیے مجھے بھی علم نہ تھا کہ وہ میرا کزن ہے۔ ایک دن حویلی میں بھائی کو معلوم ہو گیا کہ علیم اسی کالج میں ہے، تو مجھے اس شرط پر کالج جانے دیا گیا کہ میں اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھوں گی اور موقع ملنے پر اسے ذلیل کروں گی۔ حالانکہ میں تو اسے دیکھتے ہی اپنا دل دے بیٹھی تھی۔”
مریم روتے ہوئے کہنے لگی، “عائشہ، میں روز گھر آ کر روتی ہوں کہ کسی طرح اس کا عکس میرے دل سے مٹ جائے، مگر آنسو اسے مٹانے کے بجائے اور نکھار دیتے ہیں۔ علیم نے میرا جینا مشکل کر دیا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھی ہے، لیکن میں مجبور ہوں، اسی لیے اس کے ساتھ برا رویہ رکھتی ہوں تاکہ وہ مجھ سے دور ہو جائے۔” میں نے مریم کو مشورہ دیا کہ وہ علیم تک اپنے اصل جذبات پہنچائے، ورنہ وہ کوئی جذباتی قدم اٹھا سکتا ہے۔ مریم نے علیم کا نمبر ملایا اور فون مجھے دے دیا۔ دوسری طرف علیم کی والدہ تھیں، انہوں نے بتایا کہ علیم مریم کے رویے کی وجہ سے بہت پریشان رہتا ہے۔ میں نے انہیں ساری حقیقت بتائی کہ مریم بھی اتنی ہی تڑپ رہی ہے جتنا علیم، لیکن وہ مجبور ہے۔ خالہ جان نے کہا کہ وہ خود بھائی صاحب سے علیم کا رشتہ مانگنے جائیں گی۔
اگلے دن جب وہ دونوں کالج آئے تو ان کے چہروں پر اطمینان تھا۔ انہوں نے پہلی بار سکون سے بات کی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ شاید اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر امتحانات شروع ہو گئے اور سب مصروف ہو گئے۔ امتحانات کے بعد جب میں کالج پہنچی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے مریم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا وہ حویلی گئی ہوئی ہے۔ دو دن بعد مجھے مریم کا ایک خط ملا جس نے میرے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ خط میں لکھا تھا: “خالہ جان علیم کا رشتہ لے کر آئی تھیں، مگر ابو نے انہیں بہت بے عزت کر کے نکال دیا۔ علیم نے کہا تھا کہ اگر انکار ہوا تو وہ خودکشی کر لے گا، اور اس نے واقعی اپنی زندگی ختم کر لی۔ جب علیم ہی نہ رہا تو میرا جینا بھی فضول ہے۔ جب یہ خط تمہیں ملے گا، میں اس ظالم دنیا سے دور علیم کے پاس جا چکی ہوں گی۔”
میں فوراً حویلی کی طرف بھاگی، راستے بھر دعا کرتی رہی کہ مریم محفوظ ہو، لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ دیر ہو چکی ہے۔ مریم کی کفن پوش لاش صحن میں رکھی تھی۔ اس کی ماں غش کھا رہی تھی اور باپ دیوانوں کی طرح سر پکڑے بیٹھا تھا۔ اس کا باپ میری طرف آیا اور بولا، “عائشہ، دیکھو اس نادان لڑکی نے کیا کیا؟ تم اسے روک سکتی تھیں۔” میں نے وہ خط ان کی طرف بڑھا دیا اور صرف اتنا کہہ سکی، “علیم اور مریم نے خودکشی نہیں کی، ان کے قاتل آپ ہیں۔” پیار کرنے والے چلے گئے اور پیچھے صرف پچھتاووں کی آگ چھوڑ گئے۔
(ختم شد)

