یہ آج سے چالیس برس قبل کا قصہ ہے جب میرے بھائی سرفراز کی عمر سترہ برس تھی۔ ان دنوں ہم کوہ سلیمان کے ایک پہاڑی گائوں میں رہتے تھے۔ ایک روز میر ابھائی صبح نماز پڑھنے کے بعد سیر کو نکلا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ دور چند نوجوان ایک شخص کو گھیرے کھڑے ہیں، خطرہ محسوس کرتے ہوئے وہ ان کی طرف گیا۔ یہ بھائی کے کچھ دوست تھے جو ہمارے اپنے گائوں کے باسی تھے۔ وہ جس نوجوان کو گھیر کر جھگڑے میں الجھا رہے تھے وہ کسی گائوں کا باشندہ تھا۔ شاید اس کے یا اس کے کسی بھائی بند کے ساتھ ان کی دشمنی تھی۔ وہ آج ان کے ہاتھ آ گیا تو انہوں نے گھیر لیا۔
cknwrites
تبھی سرفراز پہنچا اور دیکھا کہ جو نوجوان ان میں گھرا ہوا ہے ، وہ اس کا پرانا ہم جماعت ہے ، ان دنوں کا جب وہ اسکول جایا کرتا تھا۔ بہر حال بھائی کے اس پرانے ہم جماعت کا نام زرش خان تھا۔ اس نے بھی سرفراز کو پہچان لیا۔ پانچویں سے مڈل تک دونوں نے ساتھ پڑھا تھا۔ سرفراز نے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ تم لوگ کیوں اس کو گھیرے ہو اور جھگڑا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس نے اور اس کے بڑے بھائی نے ہم سے چار بھیٹر لی تھیں اور چھ ماہ بعد ان کی قیمت جو طے شدہ تھی، دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن سال گزر گیار قم نہ دی۔ اب یہ کہتا ہے کہ جتنی رقم تھی وہی ادا کروں گا اور تاخیر قرضہ کا تاوان جو سود ہوتا ہے وہ میں ادانہ کروں گا۔یاد رہے کہ چھ ماہ کی مدت گزر جانے کے بعد سے تاخیری تاوان اس پر ادا کرنا رواج کے بطور واجب ہو جاتا تھا۔ زرش چار بھیٹروں کی اصل خرید کی رقم لایا تھا اور واجب تاوان ادا کرنے سے انکاری تھا۔ یہی جھگڑا تھا۔
اگر یہ تاوان نہ دیں گے تو ان پر وار کر نا ہمارا حق بنتا ہے کیونکہ یہ معاہدہ خلافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے۔ سرفراز نے اپنے دوستوں کو سمجھایا کہ تم لوگ اس معاملے کو جرگہ کے ذریعے حل کر سکتے ہو تو پھر اس اکیلے اور نہتے لڑکے کو گھیر کراس پر وار کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ تم میری بات مان جائو اور اس کو چھوڑ دو۔ اصل زر اس سے لے لو اور جوتمہارے حساب سے تاوان بنتا ہے وہ میں تم کو ادا کر دیتا ہوں کیونکہ زرش خان میرا بچپن کا دوست ہے اور میں اپنے دوست کو اس طرح مصیبت میں نہیں چھوڑ سکتا۔ چونکہ وہ ہمارے رشتہ دار بھی تھے ، بات مان گئے۔ انہوں نے زرش کو چھوڑ دیا اور اصل زر لے کر چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد زرش خان بھائی کا بہت مشکور ہوا کیونکہ وہ بغیر بندوق کے تھا اور ہمارے گائوں کے نوجوان کے پاس بندوقیں تھیں۔ یہ تعداد میں چار تھے جن میں تین سگے بھائی اور ایک ان کا چچا زاد تھا۔ اگر جھگڑا بڑھ جاتا تو یقینا ان میں سے کسی جذباتی نوجوان کی بندوق چل جاتی اور پھر یہ دشمنی کا سلسلہ بہت آگے تک جا سکتا تھا۔ بہر حال اس روز زرش کو بھائی گھر لے آیا اور کھانا وغیرہ کھلایا اور پھر خود موٹر سائیکل میں شہر تک چھوڑ کر آگیا۔
سرفراز اور زرش نے اکٹھے اسکول کی تعلیم مکمل کر لی ، ان کو پڑھنے کا شوق تھا۔ بھائی نے مجھے بھی شوق دلوایا کہ تم بھی شہر کے اسکول میں داخلے لے لو۔ میں نے والد سے ذکر کیا، اس وقت وہ منڈی میں میوہ جات فروخت کا کاروبار شروع کر چکے تھے۔ خاص مقامات میں پہاڑوں پر آگے چلغوزے خود رو جنگلات سے حاصل کئے جاتے تھے جن کا توڑنا بہت دشوار گزار کام تھا۔ تبھی یہ مہنگے بکتے تھے۔ میرے والد نے جب ان جنگلات سے ٹھیکیداری کا کام شروع کیا تو ہمارا کار و بار ترقی کرتا گیا۔ یہ عمدہ چلغوزہ دور دراز علاقوں مثلاً چین اور بیرون ملک برآمد ہوتا تھا کیونکہ اس کی کوالٹی کی مثال نہیں ملتی تھی۔ چلغوزے کے درخت خودرو ہوتے تھے۔ لہٰذا ان کی بدولت ہماری غریبی دور ہوتی گئی اور بھیڑوں کے گلے پر انحصار کرنے والے ہمارے خاندان کے لوگ شہر کی میوہ منڈی کا رخ کرنے لگے۔والد نے بھی کاروبار کی ترقی کی خاطر شہر میں گھر خرید لیا۔ اس طرح جب ہم گائوں سے نقل مکانی کر کے شہر میں آئے تو میں نے اسکول اور سرفراز نے بوائز کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس طرح ہم پہاڑی لوگوں پر تعلیم کے در وا ہو گئے۔
یہ بات بہت اچنبھے کی ہے کہ تعلیم بھی ہمارے پہاڑی رسم و رواجوں پر آج تک اثر انداز نہیں ہو سکی اور اپنے صدیوں پرانی ریت رواج کی پابندی یہاں ہر حال عزیز رکھی جاتی ہے بلکہ بعض دفعہ تو ان کی پاسداری نہ کرنے والوں کو سنگین خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔شہر میں جو گھر والد صاحب نے لیا وہ زرش کے گھر کے قریب تھا، لہٰذا ہمارے والدین کا اس کے والدین سے میل جول رہنے لگا۔ اسی طرح سرفراز بھائی اور زرش کی دوستی بھی مزید پکی ہو گئی۔ دونوں ہی تقریب روز بیٹھک میں ملتے اور اکٹھے شہر جاتے تھے۔زرش نے ایف اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی اور اپنے والد کے ساتھ دکان داری میں شامل ہو گیا جبکہ میرے بھائی نے بی اے مکمل کیا اور پھر وہ والد کے ساتھ ڈرائی فروٹ کی فروخت میں ہاتھ بٹانے لگا۔
زرش کو دکان داری میں مزا نہ آیا تو اس نے ٹیچر کی آسامی کے لئے درخواست دی۔ اس کی مراد بر آئی۔ اسے ایک پہاڑی گائوں کے اسکول میں ٹیچر کی تعیناتی مل گئی۔ وہ اب روزانہ گھر نہیں آسکتا تھا، ہفتے میں ایک بار گھر آتا اس کی بہن کا نام افسر جان تھا۔ وہ اسکول میں نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ چونکہ ہمارے پاس فروٹ کے کاروبار کی وجہ سے اپنی سواریاں تھیں، لہٰذا ایک ویگن میرے بھائی کی تحویل میں رہتی تھی جس پر وہ پہاڑے جس پر وہ پہاڑ سے شہر کی منڈی میں مال پہنچاتا تھا۔ جب زرش خان ڈیوٹی سر انجام دینے علاقے چلا گیا تو اس کی بہن افسر جان کو اسکول پہنچانے والا کوئی نہ رہا کیونکہ زرش اپنی موٹر سائیکل پر ہی جاتا تھا۔زرش کی امی میرے بھائی سے بہت پیار کرتی تھیں۔ وہ زرش سے ملنے ان کے گھر جاتا تو سرفراز کو اندر بٹھاتیں، خاطر مدارت کرتیں کیونکہ یہ بھائی ہی تھا جس نے ایک بار تاوان ادا کر کے زرش کی جھگڑے سے جان چھڑائی تھی اور اس کی جان بچائی تھی۔
یہ احسان اس کی امی کے لئے بہت بڑا تھا، تبھی وہ سرفراز کو اپنے بیٹے جیسا جانتی تھیں، اس پر اعتبار کرتی تھیں۔ ایک روزانہوں نے سرفراز سے کہا۔ آج افسر جان کا سالانہ پر چہ ہے اور اس کو شہر کے امتحانی سینٹر لانا اور لے جانا ہے ، زرش تو ہے نہیں، میرے شوہر بھی دکان کا سامان لینے ملتان گئے ہیں۔ تم میری لڑکی کو سینٹر پہنچا کر امتحان دلوادو۔ ٹھیک ہے ، خالہ جی میں لے جائوں گا۔ میرے بھائی نے کہا اور افسر جان کو سینٹر لے گیا جو گھر سے تقریباً آدھ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔
جب وہ افسر جان کو سینٹر سے گھر واپس لا رہا تھا، راستے میں زرش خان کا ایک دوست مل گیا جس کا نام ریاض تھا۔ اس وقت یہ دونوں یعنی سرفراز اور افسر جان باغ کے پاس پہنچے تھے ، جہاں قریب ہی بھائی نے اپنی موٹر سائیکل کھڑی کی ہوئی تھی۔ جب ریاض نے دونوں کو باغ کی دیوار کے پاس دیکھا تو وہ سمجھا کہ یہ باغ کے اندر گھومنے گئے ہوئے تھے۔ ریاض بھی اسی اسکول میں ملازمت کرتا تھا جہاں زرش ٹیچر تھا۔ اس نے وہاں جا کر اس کے کان بھرے کہ سرفراز اور افسر جان کو میں نے شہر کے چمکنی باغ میں گھومتے دیکھا ہے۔ تمہاری بہن کا سرفراز کے ساتھ وہاں جانے کا کیا مقصد ؟ معلوم کرو، کیا معاملہ ہے ؟ دوست بن کر کہیں تم سے دشمنی تو نہیں کر رہا۔زرش یہ سن کر غصے میں گھر پہنچا اور آتے ہی وہ میرے بھائی کے گلے پڑ گیا، اس کو برا بھلا کہنے لگا۔ بولا کہ تم بے غیرت ہو۔
میں نے تم کو دوست سمجھا اور تم نے ہمارے ہی گھر کی عزت پر نظر رکھی ہے۔ وہ تو اپنی جگہ سچا تھا کیونکہ شریف انسان با غیرت ہوتا ہے، لیکن اس کو اصل بات کا علم نہ تھا کہ سچائی کیا ہے اور کتنا جھوٹ ہے۔ اس لئے میرے بھائی سے کہا کہ تم آئندہ ہمارے گھر مت آنا۔ سب سے کٹھن بات یہ تھی کہ اس وقت اس کا غصہ دیکھ کر بھائی اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی نہ کہہ سکا۔ تاہم ان کو یقین تھا کہ جب دوست کی والدہ اس کو سب کچھ بتا دیں گی تو اس کا غصہ جاتا رہے گا اور وہ مطمئن ہو جائے گا۔ایک ماہ تک نہ تو یہ دونوں ایک دوسرے سے ملے اور نہ ایک دوسرے کے گھر گئے۔ ایک ماہ بعد زرش کی والدہ سرفراز کو بازار میں مل گئیں۔ بولیں، ارے بیٹا تم کہا غائب ہو ، نہ گھر آئے۔ اس نے بازار میں ان سے کوئی بات کہنی مناسب نہ سمجھی ، بھائی کے پاس ویگن تھی کہا۔ خالہ چلئے آپ کو گھر چھوڑ دوں۔ وہ اس کے ساتھ ویگن میں بیٹھیں اور گھر آگئے۔
خالہ اصرار کر کے سرفراز بھائی کو گھر کے اندر لائیں اور ان کے لئے مشروب لینے چلی گئیں تبھی افسر جان سامنے آ گئی تو بھائی نے اس کو سرسری احوال سے آگاہ کیا اور کہا۔ باقی باتیں تم کو خط میں لکھ کر بھیجوں گا کہ تمہارے بھائی نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ بعد میں اس نے تمام تفصیل اور ریاض کی بھڑ کانے والی بات لکھ کر میرے ہاتھ افسر جان کو بھجوا دی۔ اس نے بھی جواب میں خط لکھ کر مجھے دیا، جس میں لکھا تھا اگر ہماری بدنامی ریاض نے کرا ہی دی ہے تو پھر ڈرتے کیوں ہو۔ پسند کرنا اور شادی کرنا اگر کوئی جرم ہے تو پھر یہ جرم تم میری طرف سے سمجھ لو۔یہ خط پا کر بھائی سکتے میں رہ گیا کیونکہ اس نے افسر جان کو ہمیشہ ایک بھائی کی نظر سے دیکھا تھا اور ایسا کوئی خیال تک اس کے بارے میں نہ کیا تھا لیکن اس لڑکی نے گویا یہ لکھ کر از خود اظہار محبت کر دیا۔اب بھائی کے دل میں بھی فرق آچکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر دوست یہ سمجھتا ہے کہ میں خطا کار ہوں تو پھر یہی سہی، تاہم اس نے یہ بات اپنے تک رکھی لیکن زرش کے دل میں سخت کدورت آچکی تھی اور وہ اب سرفراز کے خلاف منصوبے بنانے لگا تھا۔
خدا کی مرضی کہ از خود میرے والدین کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سرفراز کے لئے افسر جہاں کا رشتہ اس کے ماں باپ سے مانگ لیں۔ چونکہ ہمارے والدین میں عزت و احترام، پیار محبت تھا، لہٰذا ان کا خیال تھا کہ وہ لوگ بھی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار نہ کریں گے۔ہوا بھی یہی ، جب میری والدہ نے جاکر بات کی تو خالہ جی نے خوش ہو کر کہا۔ کیوں نہیں، میرے دل میں بھی یہی بات تھی۔ مجھے سرفراز سے بہتر داماد کہاں ملے گا، مجھے سر آنکھوں پر رشتہ منظور ہے۔خالہ نے شوہر سے بات کی۔ وہ بھی خوش ہو گئے۔ میرے والد سے ان کی دوستی ہو گئی تھی۔ یوں بھی ہم ان لوگوں سے کہیں زیادہ خوشحال تھے۔ ایسے گھرانے میں کون بیٹی دینا پسند نہ کرے گا، جب لڑکا بھی دیکھ بھالا ہو- جو بد مزگی سرفراز اور زرش خان کے درمیان ہو چکی تھی، اس کا کسی کو علم نہ تھا۔ زرش نے اس بات کا گھر میں تذکرہ کیا اور نہ میرے بھائی نے کسی کو کچھ بتایا، سوائے افسر جان کے۔
ایک شام جب زرش گھر آیا تو پتا چلا کہ کل اس کی بہن اور میرے بھائی کی شادی کی بات پکی ہونے جارہی ہے۔ اس خبر کو سنتے ہی وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ اس قدر آگ بگولہ ہوا کہ اس کے والدین بھی ڈر گئے کہ زرش کو کیا ہو گیا ہے۔ اس نے کہا کہ سرفراز اور افسر جان نے آپس میں مراسم استوار کر لئے تھے۔ اس لئے وہ شادی کر رہے ہیں۔ سرفراز نے دوستی کی آڑ میں بے غیرتی کا کھیل کھیلا ہے۔ میں یہ شادی نہ ہونے دوں گا، اگر ہوئی تو دونوں کی جان لے لوں گا۔اس فیصلے سے دونوں کے والدین ہکا بکا رہ گئے کہ اس کو کس نے بھڑکا دیا ہے جو اپنے جگری دوست کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے۔ اس کو ابھی تک یہی غلط فہمی تھی کہ سرفراز نے اس کے اعتبار کو دھوکا دیا ہے اور دوستی کی آڑ میں اس کی بہن سے محبت کی پینگیں بڑھاتا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ اب شادی کی صورت میں نکل رہا ہے حالانکہ ایسی بات بالکل نہ تھی۔ یہ مقدس بندھن بد دیانتی کے سبب نہیں بلکہ دونوں کے والدین کی رضا اور خوشی سے باندھا جارہا تھا۔
بہرحال والدین اس وقت موقع کی نزاکت کو دیکھ کر خاموش ہو ر ہے۔ یہی سوچا گیا کہ زرش کی غیر موجودگی میں سادگی سے سرفراز اور افسر جان کا نکاح کر دیا جائے گا اور بعد میں اس کو منالیا جائے گا، تو رخصتی کرادیں گے۔زرش کے جانے کے بعد یہی ہوا کہ والدین نے خاموشی سے نکاح کی رسم ادا کر دی۔ بعد میں لڑکی کے باپ نے خط لکھ کر بیٹے کو نکاح کی اطلاع کر دی۔ ان کا خیال تھا، نکاح ہو جانے کے بعد وہ مخالفت ترک کر دے گا کیونکہ بہن کی طلاق کا ہونا تو کسی بھائی کے لئے کوئی پسندیدہ امر نہیں ہوتا۔عید آ گئی۔ وہ عید سے تین دن پہلے گھر آیا۔ میرا بھائی اپنے ایک دوسرے کے ساتھ گھر سے باہر کھڑا تھا۔ اس نے بھائی کو دیکھتے ہی چھری سے اس پر حملہ کر دیا۔ سرفراز کے دوست اصغر نے اس کو بچانے کی کوشش کی تو چھری اس کے کلیجے میں اتر گئی اور اسپتال لے جانے سے پہلے دم توڑ گیا۔ لوگ جمع ہو گئے ، انہوں نے زرش کو قابو کر کے حوالہ پولیس کر دیا۔ وہ جیل چلا گیا۔ کچھ رشتہ داروں کا خیال تھا کہ سرفراز ، افسر جان سے شادی نہ کرے بلکہ طلاق دے دے اور کچھ کہتے تھے ، تقدیر سے جو ہو چکا، نکاح ہو گیا ہے ، اب شادی ہو جانی چاہئے۔زرش جیل میں تھا۔ اس کے باپ نے شادی کی تاریخ لے لی اور افسر جان کو رخصت کر کے سرفراز گھر لے آیا۔ کافی سوچ بچار کے بعد والدین نے یہ فیصلہ کیا کہ طلاق کی بجائے رخصتی زیادہ مثبت فیصلہ ہے اور باقی خدا پر چھوڑ دینا چاہئے۔
زرش کو اس کے والد اور وکیل سزا سے نہ بچا سکے اور عمر قید ہو گئی۔ سرفراز ، افسر جان کو لے کر ملتان چلا گیا۔ وہ وہاں رہنے لگے۔ ، والد صاحب ملتان میں فروٹ سپلائی کرتے تھے اور ادھر کا بزنس سرفراز بھائی سنبھالتے تھے۔ سات سال ان کی شادی کو گزر گئے۔ دونوں میاں بیوی خوش و خرم رو رہے تھے۔ تین بچے ہو چکے تھے کہ بالآخر زرش کو جیل سے رہائی نصیب ہو گئی۔ رہائی کے بعد وہ گھر نہیں آیا لیکن باہر باہر اس نے معلوم کر لیا کہ اس وقت سرفراز اور اس کی بہن کہاں قیام پذیر ہیں۔ کچھ دن کسی جگہ قیام پذیر رہا اور میرے بھائی اور بھابھی کے معمولات زندگی کو جاننے میں لگا رہا۔ پھر ایک دن باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وہ ان کے گھر ایک دن رات میں اس وقت داخل ہو گیا جب وہ سو رہے تھے۔ اس نے بہنوئی اور ان کے تینوں بچوں پر فائر کھول دیا اور ان سب کو موت کی ابدی نیند سلا کر اپنے دل میں بھڑکتی بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔ وہ آگ جو ریاض بد بخت کی باتوں سے چنگاری بن کر اس کے اندر سلگتی تھی۔
رفتہ رفتہ اس نے اتنی بڑی خوفناک آگ کی شکل اختیار کر لی کہ اپنے بہنوئی دوست اور اپنی حقیقی بہن کے علاوہ ان کے تین معصوم بچوں کے خون سے ہی اس آگ کو ٹھنڈا کر کے وہ شانت ہو گیا۔ اسے پھانسی کی بھی پروانہ تھی۔ وہ خود پولیس اسٹیشن گیا اور خود کو تھانے دار کے حوالے کر کے پانچ قتل کرنے کا اعتراف کر لیا اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔ یہ تھی ایک بد گمانی کی چنگاری جس کے سبب پانچ انسانی جانیں اور دو خاندان تباہی کے الاؤ میں جل کر راکھ ہو گئے۔
.jpg)