جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر4

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - قسط نمبر4
رائیٹر :انور صدیقی

مسٹر آذر!" اس نے باتیں کرتے کرتے اچانک میری طرف دیکھ کر سپاٹ لیجھے میں پوچھا آپ کی عمر کتنی ھے
میں اس اچانک سوال پر گڑ بڑا گیا، گلاس اٹھا کر ایک لمبا گھونٹ لے کر بولا۔ ”چھبیسں
ستائیس سال۔"
میری عمر کے بارے میں آپ کا کیا اندازہ ہے؟".

جی . میں سمجھا نہیں۔" میں نے اسے وضاحت طلب نظروں سے دیکھا . اس کے خوبصورت وجود میں کسی کرب کی آمیزش اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔ کرنل کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے۔" اس نے تلخ انداز میں کہا۔ ”میری عمر اس سے آدھی بھی نہیں ہے لیکن میں کرنل کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، بالکل اس طرح مسٹر آذر جس طرح آپ کو آپ کی فطرت اور مرضی کے خلاف بخاری جیسے ناپسندیدہ آفیسر کے ساتھ انچ کر دیا گیا ہے۔"
جھرنا کا جملہ میرے دل و دماغ پر کسی بم کی طرح پھٹا وہ ایک ہی جملے میں بڑی لمبی کہانی بیان کر گئی تھی، میں اس کی نجی زندگی سے قطعی ناواقف تھا، مجھے یہ بھی مطلق علم نہیں تھا کہ اس کی اور کرنل کی شادی کس مجبوری کا نتیجہ تھی لیکن اس نے جس انداز
میں میری اور اپنی مثال پیش کی تھی اس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ آپ بخاری کو اتنا نہیں جانتے جتنا میں جانتی ہوں، اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپ کو ایک دن بھی اس کے ساتھ نہ رہنے دیتی لیکن وہ کچھ کہتے کہتے یکلخت خاموش ہو گئی۔ لیکن کیا ؟" میں نے دبی زبان میں دریافت کیا۔
میں جانتی ہوں کہ جس طرح میں کرنل کی زندگی سے فرار حاصل نہیں کر سکتی بالکل اس طرح آپ کو بھی بخاری کی ایک ایک ناپسندیدہ حرکتوں کو بھگتنا ہو گا، اس کی ہر جائز اور ناجائز خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔" جھرنا نے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا۔ " میں اگر یہ کہوں کہ میں اور آپ ایک ہی کشتی کے دو سوار ہیں تو شاید غلط
نہیں ہو گا۔" میں آپ کی ذاتی زندگی اور معاملات کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اس لئے کچھ کہنے سے معذور ہوں لیکن مجھے اپنی ذات پر مکمل اختیار ہے۔" میں نے پہلو بدل کر جواب دیا۔ ”بخاری بھی میری طرح ایک انسپکٹر ہی ہے، میرا آفیسر نہیں ہے جو اس کے
حکم پر چلنے پر مجبور ہو سکوں اور اچانک میرے ذہن میں سروش کے جملے ابھرے تو میں محتاط ہو گیا، بڑی خوبصورتی سے بات بنا کر بولا۔ ”ویسے قبل از وقت کوئی بات یقین سے نہیں کی جاسکتی، میں دیکھوں گا کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔“ اگر حالات آپ کے حق میں ناسازگار ثابت ہوئے تو ؟" جھرنا نے مجھے گھورتے
.
ہوئے سپاٹ آواز میں دریافت کیا۔ تو دیکھا جائے گا۔" میں نے اسے پھر ٹالنا چاہا مسکرا کر! اطمینان سے بولا۔ اتنی جلدی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مسٹر بخاری کے لئے جو باتیں مشہور کر دی گئی ہیں وہ ان کے دشمنوں کی اڑائی ہوئی


ہوں۔ ان میں صداقت کم اور جھوٹ کی آمیزش زیادہ ہو۔"
آپ شاید مجھے ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔" جھرنا نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے اعتماد سے کہا۔ لیکن میں جانتی ہوں کہ کرنل اور بخاری کی ذات
سے میرا اور آپ کا چھٹکارہ ایک معجزہ ہو گا۔" کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کرنل صاحب سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟" میں نے دبی زبان میں پوچھا۔ میرا سوال سن کر اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا وہ بڑی نفرت سے بولی۔ میں کرنل سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئی، اس نے مجھے جس پنجرے میں قید کرنے کی کوشش کی تھی میں نے اس کی ساری تیلیاں جلا کر رکھ کر دی ہیں۔“
لیکن ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ. ” میں نے غلط نہیں کہا تھا۔" وہ میری بات کاٹ کر بولی۔ "میری اور کرنل کی شادی ایک مجبوری کا سودا تھی جسے ہم دونوں نبھانے پر مجبور ہیں لیکن میں اس کی غلام کبھی نہیں . رہی۔ یہ اور بات ہے کہ ہم دونوں آخری دم تک ایک دوسرے کے وجود سے علیحدہ نہیں ہو سکتے ، میں اس کو ٹھی میں قید ہونے کے باوجود اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی ہوں۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا، جھرنا کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آرہی تھیں وہ نی مریضہ لگ رہی تھی۔ ہر شخص کو سر چھپانے اور رات گزارنے کی خاطر ایک جگہ درکار ہوتی
ہے اسی طرح میں بھی اس کوٹھی کی چھت کے نیچے بسیرا کرنے پر مجبور ہوں کرنل بھی کوئی خوشگوار زندگی نہیں گزار رہا ہے، میں نے اکثر محسوس کیا ہے وہ مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن میں اسے ایسا نہیں کرنے دوں گی، شاید اس لئے کہ مجھے کرنل کی صورت میں ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔" اس کے لیجے میں دنیا جہان کی تلخیاں سمٹ آئی تھیں پھر وہ یکلخت کچھ سوچ کر بولی۔ آئی ایم سوری مجھے اس وقت آپ سے اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں۔"


اس کے بعد اس کے ہونٹوں پر دوبارہ زندگی سے بھر پور مسکراہٹیں رقص کرنے ے لگیں، میں نے محسوس کیا کہ وہ خود پر قابو پانے کی حیرت انگیز صلاحیتوں کی مالک تھی۔ ہوئی ایک لمحہ قبل وہ کرنل کا ذکر کرتے وقت کسی زہریلی ناگن کی طرح بل کھا رہی تھی اور اب دوبارہ بڑے چاؤ سے مجھے کھانا کھلانے میں مصروف ہو گئی تھی۔ بہت تکلفی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔ کھانے کے بعد ہم دوبارہ ڈرائنگ روم میں آگئے ، میں نے جو مشروب پیا تھا اس نے میرے ذہن کو بو جھل بوجھل سا کر دیا تھا۔ نیند کا ہلکا ہلکا خمار بھی طاری ہو رہا تھا۔ میں میں نے ایک دو بار واپسی کی اجازت چاہی ، کرنل کی غیر موجودگی میں میرا وہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں تھا یہ بھی ممکن تھا کہ بخاری یا رحیم الدین کا کوئی خفیہ آدمی میری جاسوسی میں لگا ہوا میں جھرنا کی باتوں سے بچنا چاہتا تھا لیکن اس نے مجھے جانے کی اجازت نہیںدی بار بار یہی کہتی رہی کہ شاید کرنل واپس آ جائے اور آپ کی ملاقات ہو جائے۔ میں بھی یہ سوچ کر اس کی بات مان گیا کہ اگر کرنل سے ملاقات ہو گئی تو دوبارہ آنے کی زحمت سے بچ جاؤں گا لیکن وقت جیسے جیسے گزرتا جا رہا تھا میرے ذہن پر طاری ہونے والی غنودگی بڑھتی جا رہی تھی۔ ” میرا خیال ہے کہ کرنل کے آنے میں دیر بھی ہو سکتی ہے۔" جھرنا نے میری کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے کہا پھر صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی۔ "لیکن جانے سے پیشتر میں آپ کو اپنی کچھ پینٹنگز (Paintings) ضرور دکھاؤں گی۔" کیا آپ کو مصوری سے بھی کچھ لگاؤ ہے؟“ میں نے پوچھا اور خود کو سنبھالتا ہوا کرنل کو۔" اس نے کچھ عجیب انداز میں کہا۔ وہ اب صرف
میں کوہ ارب پیزوں کو کینوس پر منتقل کر کے ہی اپنے شوق کی تسکین کر سکتا ہے۔" پر
میں جھرنا کے جملے کا مفہوم نہ سمجھ سکا وہ بڑی بے تکلفی سے میرا ہاتھ تھام کر کوٹھی کے نچلے حصے میں لے گئی، میرا ذہن نیند سے بوجھل ہو رہا تھا لیکن وہ مجھے جس کمرے کا قفل کھول کر اندر لے گئی وہاں قدم رکھتے ہی اس کی باتوں کا جیتا جاگتا مفہوم میری نگاہوں کے سامنے رقص کرنے لگا۔ میں پھٹی پھٹی نظروں سے جھرنا کی ان عریاں اور مختلف پوز میں بنی ہوئی پینٹنگز کو دیکھنے لگا جو کسی طور بھی تہذیب کے دائرے میں شمار نہیں کی جاسکتی تھیں۔ کمرے میں چاروں طرف خوبصورت فریموں میں اسی قسم کی اخلاق سوز تصویریں آویزاں تھیں۔
میرے ذہن پر طاری نشہ دو آتشہ ہونے لگا مجھے ایسا لگا جیسے میں کوئی حسین خواب دیکھ رہا ہوں جس کا ایک ایک منظر بڑا ہیجان انگیز تھا۔ میرے جسم پر بے شمار چیونٹیال رینگنے لگیں، میرے جذبات کو بچھو ڈنک مارنے لگے ان گنت کن کھجورے میرے وجود پر سرسرانے لگے، میں عجیب کیفیتوں سے دوچار تھا، مجھے حیرت تھی کہ جھرنا کو میرے سامنے کرنل کے اس بے ہودہ شوق کی نمائش کی کیا ضرورت تھی؟ میرے سانس کی رفتار ڈانواں ڈول ہو رہی تھی میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ جھرنا سے کس طرح نظریں چار
کروں گا۔


مسٹر آذر! میرے کانوں میں جھرنا کی آواز ابھری۔ ”کیا صرف بے جان تصویروں
سے دل بہلاتے رہو گے؟" میں چونک کر پلٹا، میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ جھرنا لباس کی قید سے آزاد میری طرف بڑی حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی، اس کی نگاہوں میں ابھی تک شب وصال کی تشنگی تیر رہی تھی، میرے حلق میں کانٹے چبنے لگے ، میرا وجود کسی طوفان کی زد میں آئے ہوئے کمزور درخت کی مانند لڑکھڑانے لگا اس کے بعد جو کچھ ہوا اس میں میرے ارادے سے زیادہ جھرنا کی بھری ہوئی خواہشات کا دخل تھا۔ میں وقت ماحول اور حالات کے منجدھار میں ڈوبتا چلا گیا۔ ڈوب کر ابھرا تو مجھے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہونے لگی، میں غلاظت کے جس دلدل میں سر تا پا لتھڑ چکا تھا اس کے داغ مٹانا میرے لئے آسان نہیں تھا، میں کتنی دیر و مستی سے دوچار رہا مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا لیکن ہوش میں آنے کے بعد میں بوجھ تلے دبا سک رہا تھا، جو غلطی سرزد ہو چکی تھی اس کی تلافی ممکن نہیں تھی، میری شرافت اور پاکیزگی کا بھرم خاک میں مل چکا تھا میرے ذہن میں گرم آندھیوں کے جھکڑ چل رہے تھے، میں جن بیہودہ تصویروں کو دیکھ کر ہکا بکا ک تھا اب وہ میری کم ہمتی پر ں مسکراتی محسوس ہو رہی تھیں، میرے دماغ میں غنودگی کے بادل اب بھی منڈلا رہے تھے معاً ایک خیال میرے ذہن میں تیزی سے ابھرا۔ انناس کے جوس میں شاید کوئی نشہ آور چیز ایسی ضرور شامل تھی جس نے میرے حواس کو معطل کر دیا تھا۔ " اس خیال کے آتے کانپ اٹھا۔ ہر چند کہ میں اس حرام شے کی جوس میں ملاوٹ سے ناواقف تھا لیکن یہ احساس ہی میرے لئے موت کی اذیت سے کم نہیں تھا کہ شراب میرے خون میں شامل ہو چکی تھی۔


اچانک میرے ذہن میں وہ جملے صدائے بازگشت بن کر گونجنے لگے جو خواب میں جوگی سیتا رام نے کہے تھے، اس نے بڑے یقین سے کہا تھا۔ ”تیرا دھرم بھرشٹ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ تیرے دھرم کرم کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اس نے مجھے باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وقت اگر میرے ہاتھوں سے پھسل کر نکل گیا تو پھر پچھتاووں کے سوا کچھ باقی نہیں بچے گا، اس نے شاید ٹھیک ہی کہا تھا، زندگی کی شاہراہ پر میرے قدم رپٹ چکے تھے، میں اوندھے منہ گرا تھا، میرا ضمیر لہولہان ہو چکا تھا۔ میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی جو تیر کمان سے نکل چکا تھا واپس نہیں ہو سکتا تھا جو کچھ ہوا وہ بے دھیانی میں ہوا، شراب کے نشے نے میری خود اعتمادی کی دھجیاں اڑا دی تھیں، میں نے نظریں اٹھائیں، جھرنا میرے سامنے ایک نئے لباس میں نکھری کھڑی تھی، اس کے گداز ہونٹوں پر بڑی معنی خیز اور فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی، میں نے
اس بے حیا کی طرف سے منہ پھیرنے کی کوشش کی تو اس نے بڑے تکبر سے کہا۔ میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں کرنل سے خوفزدہ نہیں ہوں، اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی ہوں، جو چیز مجھے اچھی لگتی ہے میں اسے حاصل کرنے میں دیر نہیں کرتی، تم بھی مجھے پہلی ملاقات میں اچھے لگے تھے اور آج میں نے تمہیں حاصل کر لیا۔" اگر کرنل کو میں نے کمزور آواز میں اسے حالات کی سنگینی کا احساس دلانے کی کوشش کی۔بھاڑ میں گیا کرنل۔“ اس نے نفرت سے کہا پھر اپنی زلفوں کو سر کے جھٹکتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے بولی۔ ”میں نے تم سے غلط بیانی کی تھی۔
کرنل کسی دوست کی موت میں شرکت کرنے نہیں گیا ہے۔ وہ اپنے بوڑھے اور کھوسٹ دوستوں کے ساتھ اس وقت سندربن کے علاقے میں کسی شکار کے پیچھے بھٹک رہا ہو گا۔ شکار مل جانے کے بعد بھی اس کا نشانہ غلط ہو سکتا ہے لیکن میرا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا۔"
" انناس کے جوس میں کیا ملا تھا ؟" میں نے شکستہ لہجے میں سوال کیا۔ ” میری فتح اور تمہاری شکست۔" اس نے مجھے تیز نظروں سے گھورا پھر گداز ہونٹوں پر ایک جاندار تبسم بکھیر کر بولی۔ میں جس سنگ میل کو عبور کر لیتی ہوں اس کی جانب پلٹ کر دیکھنا میری فطرت کے خلاف ہے لیکن تم اگر چاہو تو ہماری دوستی بر قرار را سکتی ہے۔"


کیا کرنل کو علم ہے کہ" وہ اندھا نہیں ہے۔ " جھرنا کے تیور یکلخت خراب ہو گئے، کسی زخمی شیرنی کی طرح بھری ہوئی آواز میں بولی۔ اس نے میرے ساتھ جو دھوکا کیا تھا اس کی سزا اسے زندگی کے آخری سانسوں تک ملتی رہے گی۔ " اس نے ہونٹ چہاتے ہوئے بات جاری رکھی۔ کبھی میں سب سے زیادہ مہنگی ماڈل ہوا کرتی تھی، کرنل سے میری پہلی ملاقات ایک فیشن شو میں ہوئی تھی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اسے مصوری کا شوق جنون کی حد تک ہے اس نے مجھے اپنی اسٹڈی کے لئے وقت دینے کی درخواست کی، مجھے اس کی مالی حالت کا اندازہ گے تھا میں نے ایک گھنٹے کے عوض اس سے ایک بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔ میرا خیال تھا ماڈل میں
اسٹڈی کے لئے کوئی مصور اتنی بڑی رقم دینے پر آمادہ نہیں ہو گا لیکن کرنل نے مول بجد نہیں کیا، میرا معاوضہ قبول کر لیا مگر اس نے پہلے ہی روز میرے ساتھ دھو کا کیا، مجھ سے میری پاکیزگی چھین لی میں اس کی کوٹھی میں اس کے رحم و کرم پر تھی لیکن میں نے اسی دن طے کر لیا تھا کہ کرنل کو تمام زندگی سکا سکا کر ماروں گی، اس سے ایسا انتقام لوں گی کہ مرنے کے بعد بھی اسے قبر میں چین نہ ملے اور .. اور میں بالآخر کامیاب" سے گئی۔ وہ ایک توقف کو خاموش ہوئی پھر اپنی عریاں قد آدم تصاویر کی طرف دیکھ کر بولی کہ تم یہاں میری جتنی تصویریں دیکھ رہے ہو کرنل کی اس سے زیادہ گھناؤنی تصاویر میرے پاس ہیں۔ وہ میرے ساتھ شادی کرنے پر مجبور تھا انکار کرتا تو معاشرے میں کسی کو منہ دیکھانےکے قابل نہ رہتا لیکن وہ سمجھدار آدمی ہے، حالات سے سمجھوتا کرنا اس کی
مجبوری تھی۔ اب وہ گھٹ گھٹ کر مر رہا ہے اور میں اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی ہوں۔
"
جھرنا مجھے اپنی اور کرنل کی جو روداد سنا رہی تھی اس میں وہ کہاں تک حق بجانب تھی اور کرنل کس حد تک قصور دار تھا، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی مگر میں بہر حال ایک خوبصورت ناگن کے اندھے انتقام کا شکار ہو چکا تھا۔ میں جانے کے ارادے سے سے نکل کر اوپر آیا تو وہ مجھے باہر تک چھوڑنے آئی۔ میں رخصت ہونے لگا تو اس
نے کہا۔
تمہیں ایک دوستانہ مشورہ دے رہی ہوں ، بخاری کی کسی بات سے انکار مت کرنا وہ بڑا خطرناک اور سازشی طبیعت کا مالک ہے۔ تم ابھی اناڑی ہو اس کی چالوں کو نہیں سمجھ
سکو گے۔"


آپ کے مشورے کا شکریہ۔" میں نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ وہ میرے طنز کو بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے بولی۔ میں محسوس کر رہی ہوں کہ اس وقت میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی لیکن اگر کوئی مشکل در پیش ہو تو مجھے یاد کر لینا شاید میں تمہاری کوئی مدد کر سکوں۔" میں جواب دینے کے بجائے تیز تیز قدم اٹھانا کو ٹھی سے باہر آگیا۔ جو طوفان آکر گزر چکا تھا اس کے بارے میں سوچنا فضول تھا لیکن ایک تلخ تجربے سے گزرنے کے بعد میں نے دوبارہ پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ راستے پھر میں اپنے مستقبل کے لئے منصوبے بناتا رہا، میں نے طے کر لیا تھا کہ اب دوبارہ کبھی کرنل کی کو ٹھی کی سمت رخ نہیں کروں گا۔ بخاری کے ضمن میں بھی میں نے محتاط رویہ اختیار کرنے کی ٹھان لی تھی لیکن کل کیا ہونے والا ہے، یہ کوئی نہیں جان سکتا۔ ہاتھ میں قسمت کی لکیروں کا جال ضرور ہوتا ہے لیکن اس کی باریکیوں کو بڑے بڑے ماہر دست شناس بھی نہیں سمجھ سکتے کہیں نہ کہیں کوئی سقم ضرور رہ جاتا ہے۔ میری قسمت میں کیا لکھا تھا؟ آگے چل کر
کیا حالات پیش آنے والے تھے ؟ میں بھی ان سب سے بے خبر ہی تھا۔
میں دفتر گیا تو میرے دل میں ایک خیال رہ رہ کر سر ابھار رہا تھا۔ اگر کے درمیان گہرے تعلقات تھے تو پھر ممکن ہے بخاری کو بھی اس بات کا
-
علم ہو چکا ہو کہ میں اپنی سطح سے گر چکا ہوں ایک شبہ یہ بھی میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا کہ عین ممکن ہے کہ بخاری کی ایما پر ہی جھرنا نے مجھے شکار کرنے کا پروگرام مرتب کیا ہو۔ فون لگنے کے بعد جھڑنا کی پہلی کال آنا' اسے مجھے کرنل کی طرف سے کھانے پر عدم کرنا اور خاص طور پر جوس میں نشہ آور چیز پلانا' یہ تمام باتیں میرے شہبے کی تصدیق کر رہی تھیں کہ جو کچھ ہوا اس میں کسی نہ کسی زاویے سے جھرنا اور بخاری کی ملی بھگت شامل ہے، مجھے رخصت کرتے وقت اس نے کہا بھی تھا کہ ”بخاری کی کسی بات سے انکار مت کرنا۔"
جھرنا سے پیشتر یہ بات مجھے سروش نے بھی دبی زبان میں باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ بخاری کا تعلق انڈر گراؤنڈ مافیا سے بھی ہے، وہ خطرناک لوگ ہیں جو اپنے ہاتھ آئے شکار کو آسانی سے فرار کا موقع نہیں دیتے۔ بہر حال میں نے اپنے آپ کو حالات سے نپٹنے کے لئے پوری طرح تیار کر لیا تھا۔ میں دفتر میں داخل ہوا تو بخاری پہلے سے منتظر تھا۔ اس نے جن معنی خیز نظروں سے میرا استقبال کیا اس نے میرے اس خیال کی تصدیق کر دی کہ اسے جھرنا سے میری - ملاقات کا علم ہو چکا ہے لیکن اس نے دفتر میں مجھے کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ دفتری مصروفیات ختم ہونے کے بعد جب میں اس کی کار میں بیٹھ کر علاقے میں گشت کر رہا تھا
!
اس وقت بخاری نے گفتگو کا رخ بدل کر سنجیدگی سے پوچھا۔ اپنی پوسٹنگ کے بارے میں تم نے کیا سوچا ہے؟" مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ " میں نے سنبھل کر جواب دیا۔ "باس جب مناسب سمجھے گا آرڈر کر دے گا۔" " تم نئے آدمی ہو، ابھی مقامی افسران سے زیادہ کھلے ملے بھی نہیں ہو اس لئے باس - کا خیال ہے کہ تمہیں کوئی سپرائز پوسٹنگ دی جائے لیکن تم شاید واقف ہو گے کہ کسی سپرائز پوسٹنگ کے لئے تمہیں قبل از وقت کچھ معاہدے پر بھی کرنے ہوں گے۔" میں سمجھا نہیں۔" میں نے معصومیت سے دریافت کیا۔ معاہدے سے آپ کی کیا "
مراد ہے؟
تم باس کے اعتماد کو کبھی ٹھیسں نہیں پہنچاؤ گے۔ " بخاری نے بے حد سنجیدگی سے کہا
تمہارے اور باس کے درمیان جو معاملات طے ہوں گے اس کی بھنک کسی اور کو
نہیں ہونی چاہئے، اس کے علاوہ تمہیں باس کی مرضی پر چلنا ہو گا، تم کبھی باس کا کوئی حکم ٹالنے کی غلطی نہیں کرو گے۔ ایک بات اور بتا دوں۔" بخاری نے بات جاری رکھی۔ باس کسی کے ساتھ بھی ڈائریکٹ ڈیلنگ (Direct Dealing) نہیں رکھتا، تمہیں میرے ساتھ انگیج کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ مجھے مڈل مین (Middle Man) کی خدمات انجام دینی ہوں گی۔"
بخاری کی باتوں کا مقصد سمجھ رہا تھا، کچھ دن قبل اس نے کہا تھا کہ میری سب کے سلسلے میں باس کو یا اسے کوئی جلدی نہیں ہے اور اب وہ از خود جلد بازی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ مجھ سے میرا آخری فیصلہ سننا چاہتا تھا۔


کیا ہم کھل کر صاف صاف لفظوں میں بات نہیں کر سکتے ؟" میں نے سنبھل کر کہا
میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ بات کھل کر اور بے دھڑک ہو۔" بخاری پہلو بدل کر بولا۔ میں نے تمہارے لئے جس پوسٹنگ کے بارے میں غور کیا ہے وہاں کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ کوئی پرانا گھاگ اور تجربہ کار آفیسر ہو تو چالیس پچاس ہزار زیادہ بھی کما سکتا ہے لیکن میں تمہارے اوپر زیادہ بوجھ نہیں ڈالوں گا۔ بخاری ایک لمحے کو خاموش ہوا پھر بے حد سنجیدگی سے فیصلہ کن لہجے میں بولا۔ تمہیں ہر ماہ ساٹھ ہزار روپے میرے ذریعے باس کی خدمت میں پیش کرنے ہوں گے۔ تم آج مجھے گرین سگنل دو کل تمہارے آرڈر ہو جائیں گے۔" کیا یہ ضروری ہے کہ مجھے رقم آپ کو دینی ہو گی؟" میں نے کچھ سوچ کر کہا۔ ”میرا مطلب یہ ہے کہ کیا میرے اور باس کے درمیان بات نہیں ہو سکتی؟؟ہو بھی سکتی ہے لیکن ابھی نہیں۔ " بخاری معنی خیز انداز میں مسکرایا۔ "تمہیں کم از کم ایک سال تک یہ ثابت کرنا ہو گا کہ تم وفادار ہو، اس کے بعد ہی وہ تم سے براہ راست کوئی معاملات طے کرنے کے بارے میں غور کر سکتا ہے۔"مرا خیال ہے کہ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں جو کام بھی کرتا ہوں وہ قانون کی حدود میں رہ کر کرتا ہوں۔" میں نے صاف گوئی سے جواب دیا
پٹنہ کی بات اور تھی میرے دوست! یہ ڈھاکہ ہے، یہاں قانون سے زیادہ باس کا حکم چلتا ہے۔“ اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
ایسی صورت میں آپ سے ایک ہی درخواست کر سکتا ہوں۔" وہ کیا؟" اس نے مجھے وضاحت طلب نظروں سے دیکھا۔


آپ میری تعیناتی کے آرڈر کسی ایسی جگہ کرا دیں جہاں میں کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہونے سے محفوظ رہ سکوں۔" میں نے کھل کر اپنا عندیہ بیان کیا تو بخاری بل کھا کر رہ گیا پھر تھوڑے توقف کے بعد خود پر قابو پاتے ہوئے بولا۔میرا مشورہ ہے کہ تم ایمانداری کا بھوت اپنے ذہن سے نکال دو اسی میں تمہاری بہتری ہے۔" اور اگر میں آپ کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دوں تو؟" تو میں صرف اتنا کہوں گا کہ تم خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کی حماقت کرد گے۔" بنجاری کا جواب بڑا معنی خیز تھا۔
یہی سمجھ لیں۔ " میں نے بدستور خشک آواز میں کہا۔
جواب میں بخاری نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے وہ میری حماقت پر دل کھول کر قہقہہ لگانا چاہتا ہو، اس کے انداز میں تکبر تھا، خود اعتمادی تھی، ایک طرح کا چیلنج بھی تھا جسے میں اس وقت پوری طرح نہ سمجھ سکا۔ کچھ دیر تک وہ میرے بارے میں سوچتا رہا پھر
بولا۔
میں کوشش کروں گا کہ باس تمہارے سلسلے میں کوئی نرم رویہ اختیار کرے
مگر وعدہ نہیں کر سکتا ۔ " لیکن مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ باس آپ کی کسی بات سے انکار بھی نہیں کرے
گا۔ میں نے اسے شیشے میں اتارنے کی کوشش کی۔ " مجھے یقین تھا کہ تم ایسی ہی کوئی بات کہو گے۔“ بخاری نے لا پرواہی سے جواب دیا۔ میں نے باس سے پہلے ہی اس خیال کا اظہار کر دیا تھا کہ تم ٹیڑھی کھیر ہو۔ تمہاری پرسنل فائل دیکھنے کے بعد خود باس نے بھی یہی کہا تھا کہ تم پر ایمانداری کا جو بھوت سوار آسانی سے نہیں اترے گا۔" نے کوئی جواب نہیں دیا، بخاری بھی کچھ دیر خاموش رہا پھر موضوع بدل کر بولا۔

کل رات تم کرنل سے ملے تھے؟" میں اس کی کوٹھی پر گیا ضرور تھا لیکن کرنل سے ملاقات نہیں ہوئی۔" میں نے
کسمسا کر جواب دیا۔ کیا مطلب؟" بخاری نے مجھے مشتبہ نظروں سے گھورا انداز ایسا ہی تھا جیسے اسے
میری بات پر یقین نہیں آیا تھا۔ کرنل گھر پر نہیں تھا۔ میں نے سنجیدگی برقرار رکھی۔ "جھرنا نے مجھے بتایا تھا کہ
اسے ایک اپنے دوستوں کے ساتھ شکار پر جانا پڑ گیا تھا۔" تم کوٹھی پر کتنی دیر رکے تھے ؟" بخاری نے مجھے کریدنے کی کوشش کی۔
میں ڈنر کے بعد ہی واپس آیا تھا۔"
جھرنا نے تمہیں روکنے کی کوشش نہیں کی ؟" بخاری نے ایک اور زاویے سے
مجھے ٹولنا چاہا۔ جب کرنل سرے سے تھا ہی نہیں تو وہ مجھے روک کر کیا کرتی۔" میں نے بدستور
سنجیدگی اختیار رکھی تو وہ کچھ توقف سے بولا۔
ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن میں تمہیں ایک بات اور بتا دوں، جھرنا سے جتنا دور رہ سکو تمہارے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا۔"میں سمجھا نہیں؟"
وہ کسی ناگن سے زیادہ خطرناک اور زہریلی ہے۔ بخاری نے خلا میں گھورتے ہوئے جواب دیا۔ ”اس کے کاٹے کا منتر شاید کرنل کے پاس بھی نہیں ہے جو وہ ابھی تک
اسے بھگت رہا ہے۔" میں نے بخاری کے جملے کو خاص طور پر محسوس کیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بتا- رہے تھے کہ شاید وہ بھی جھرنا کے ہاتھوں کسی تلخ تجربے سے دوچار ہو چکا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی کوئی دکھتی رگ جھرنا کے ہاتھ آگئی ہو، شاید اسی لئے جھرنا نے کوٹھی سے رخصت ہوتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ اگر کوئی مشکل در پیش آجائے تو میں اس کی خدمات حاصل کر سکتا ہوں۔ مجھے یہ خیال رد کرنا پڑا کہ جھرنا اور میرے تعلقات کا علم اسے ہو چکا ہو گا
اور جھرنا اور بخاری کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی، میں محسوس کر رہا تھا کہ
کرنل کے موجود نہ ہونے والی بات سن کر وہ کچھ الجھ گیا تھا۔ اس کے ذہن میں ضرور کوئی ایسی بات چبھ رہی تھی جس کا تعلق جھرنا کی ذات سے تھا۔ میں نے اسے ٹولنے کی کوشش بھی نہیں کی لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ جھرنا نے کسی مشکل میں میرے کام آنے والی
جو بات کہی تھی وہ غلط نہیں تھی۔


اس روز بخاری نے علاقے میں میرے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا، حسب معمول مجھے اپارٹمنٹ کے نیچے چھوڑ کر چلا گیا۔ دوسرے روز بھی دفتر میں میری اس کی ملاقات نہیں ہو سکی، مجھے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ اتفاقیہ رخصت پر ہے۔ میں دفتر میں وقت گزار کر واپس آگیا لیکن میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ بخاری کا اس روز چھٹی پر ہونا بھی خالی از علت نہیں ہو سکتا تھا مگر میں نے اس پر زیادہ دھیان دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ شام کو چائے پینے کے بعد میں اپنی مختصری بالکونی میں بیٹھا ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا جب فون کی گھنٹی بجی، میں کتاب میز پر رکھ کر فون سننے کے لئے کمرے میں آ گیا میرا خیال تھا کہ وہ کال یا تو بخاری کی ہو گی یا پھر جھرنا کی ہو سکتی تھی لیکن دوسری جانب سے جو آواز ابھری اسے سن کر میں چکرا گیا وہ آواز جوگی سیتارام کے سوا کسی اور کی نہیں تھی جس کے وجود کو میں خواب کا ایک خیال کردار سمجھ کر نظر انداز کر چکا تھا۔ کون ہو تم؟" میں نے ٹھوس لہجے میں دریافت کیا۔ اتنی جلدی بھول گیا مورکھ! ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے۔" اس کی گھمبیر آواز
سنسناتی ہوئی میرے کانوں میں گونجی۔
"تم تم شاید ”ہاں، میں وہی جوگی سیتارام بول رہا ہوں جسے تو سپنا سمجھ کر بھلا چکا تھا پرنتو ایک بات گرہ سے اچھی طرح باندھ لئے، اب تو میری مٹھی میں آچکا ہے، دھرتی کی کوئی شکستی اب تجھے میرے چرنوں پر سر جھکانے سے نہیں روک سکتی، تجھے گرو کے سوا کوئی دوسرا منش شرن نہیں دے گا۔ " تم کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو سیتارام!" میں نے تلملا کر کہا۔ ”میں مسلمان ہوں
اور مسلمان کسی کافر کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔“ اب بھی دھرم کا دعوی کر رہا ہے ، بڑبولے۔ " اس نے گہرے طنز سے کہا۔ ”ایک چھوری کی چٹی چمڑی دیکھ کر اس کے شریر میں گلے جملے ڈوب گیا پھر بھی مسلمان ہونے
کی ہانک رہا ہے۔ میں نے کہا تھانا کہ تیرا دھرم بہت جلد بھرشٹ ہو جائے گا۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا، ہونٹ چبا کر رہ گیا۔


اس دن تیری بدھی (عقل) میں میری بات نہیں آئی تھی۔ تیر اب بھی سے تیرے ہاتھ سے نہیں نکلا مکتی چاہتا ہے تو میرے ساتھ سمجھوتا کر لے نہیں تو اپنے کئے کی سزا
سارا جیون بھوگتا رہے گا۔" تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟" میں نے دل پر جبر کر کے پوچھا۔ پھر آئیں بائیں بکنے لگا اپرادھی ، رسی جل کر راکھ ہو گئی پر بل ابھی تک نہیں نکلا۔" جوگی سیتا رام نے کرخت لہجے میں جواب دیا۔ گند میں ڈوب گیا پھر بھی اجلے من کی بات کر رہا ہے۔" ”میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک دھوکا تھا، فریب تھا۔" میں نے خود اپنی وکالت کرنے کی کوشش کی۔ ”انسان نشے میں ہو تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔" تواب بھی نشے میں دھت ہے جو بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے مورکھ! تو نہیں جانتا کہ جوگی سیتارام کتنی مہان شکتی کا مالک ہے۔ " اس نے سرد آواز میں کہا۔ تو جسے سوم رس (شراب) سمجھ رہا ہے وہ بھی میرا چمتکار تھا، وہ سندری بھی نہیں جانتی تھی کہ اگلے سمے کیا ہونے والا ہے، پرنتو ہوا وہی جو میں نے چاہا۔ میری بات یاد کر میں نے تجھ سے کہا کہ یہ دنیا ایک گورکھ دھندہ ہے، منش نہیں جانتا کہ اس کے بھوش میں کیا لکھا ہے لیکن جو دنیا تیاگ دیتے ہیں، دیوی دیوتاؤں کے جاپ میں دھونی رما کر مست ہو جاتے ہیں وہ من کا بھید بھی جان لیتے ہیں۔ مہاپرشوں کے لئے فاصلوں کی کوئی قید نہیں ہوتی، ان کی آنکھیں دھرتی کے بھیتر چھپے خزانے بھی کھوج لیتی ہیں، منش تو موری (نالی) میں رینگنے والے کیڑے . سے بھی زیادہ کمزور لاچار اور بے بس ہوتا ہے۔ سن رہا ہے مورکھ! میں کیا کہہ رہا ہوں؟" تم اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔" میں نے کمزور لہجے میں اس سے پیچھا چھڑانے کی
کوشش کی۔ ”میرے تمہارے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتاکہ"
پھر اونچا اڑنے لگا۔ سیتارام سے دامن چھڑانے کی بات کر رہا ہے۔" یہی سمجھ لو۔" میں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ”ہمارے راستے کبھی وہ بات کاٹ کر بولا ابھی مینے تجھے ایک ہی جھٹکا دیا ہے۔" وہ زہر خند سے بولا۔ ”ایک ناری نے
تیرا سارا گھمنڈ اپنے چرنوں تلے روند ڈالا تیرے دھرم کرم کی باتیں بھی دھری کی دھری رہ گئیں۔ تو آکاش کی بلندیوں پر اڑنے کے سپنے دیکھ رہا تھا، میں نے تجھے ایک سندری کے جال میں الجھا کر تیرا سارا مان گھمنڈا توڑ دیا کیا اب بھی تو میرا کہا نہیں مانے گا؟؟ زبردستی کے سودے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔" میں جھلا گیا۔ "تم میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟"


ایک بار پھر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لے مورکھ ورنہ ایسی سزا دوں گا کہ دھرتی پر کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ " اس بار اس نے بڑے سرد لہجے میں کہا۔ اس کے بولنے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کو کر گزرنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ تم مجھ سے کیا سمجھوتا کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے سپاٹ آواز میں دریافت کیا۔ پہلے میں نے تجھے سے کہا تھا کہ میں تیری ساری کٹھنائیاں دور کر دوں گا تو کیول میرا ایک کہا مان لے۔ پرنتو تونے میری بات نہیں مانی، اس کارن میں نے تیرا دھرم بھرشٹ کرنے کے لئے جھرنا کے سندر شریر کو چنا تھا۔ اب تیر تیرے ہاتھ سے نکل چکا ہے ، اب تجھے ہر حال میں میرے اشاروں پر چلنا ہو گا' میری ہر بات مانی ہو گی۔" اس کے لجے میں تکبر تھا فرعونیت تھی۔ اب ڈگڈگی میرے ہاتھ میں ہے، ڈور کا دوسرا کونا تیرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، اب سمجھوتے کی بات تجھے شوبھا نہیں دیتی۔"
"کیا تم نے صرف اتنی سی بات کہنے کے لئے مجھے فون کیا تھا؟" میں پھر جھلا گیا۔ بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا ہے۔ " جوگی سیتا رام نے ٹھوس آواز میں کہا۔ مجھ سے پیچھا چھڑانے کے لئے کوئی اوپائے سوچ رہا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا اب تجھے میرے چرنوں پر ناک رگڑ کر مجھ سے سہائتا کی بھکشا مانگنی پڑے گی، میں تجھے بتاؤں گا اپرادھی کہ کسی مہان جوگی کا ایمان کرنے کی سزا کیا ہوتی ہے۔ میں نے تجھے آکاش کی بلندیوں پر لے جانے کی کوشش کی تھی لیکن اب تو سدا دھرتی پر ہی ایڑیاں رگڑتا پھرے
گا۔"
”جو کچھ مقدر میں لکھا ہوتا ہے وہ ضرور پورا ہوتا ہے۔“ میں نے تلملا کر جواب دیا و بے ہودہ بکو اس میری رگوں میں دوڑتے خون کی حدت اور گردش تیز کر رہی تھی۔ تم خدائی فوجد ار نہیں ہو جو مجھے اپنی مرضی پر چلنے پر مجبور کر دو گے۔"


میں ترس کھا کر تجھے سوچنے کا ایک آخری موقع اور دے رہا پھر سوچ لے . ہوں۔" اس نے خطرناک انداز میں جواب دیا۔ ” یہ موقع بھی کھو دیا تو پھر تجھے کبھی سکتی . نہیں ملے گی، سارا جیون بھٹکتا رہے گا۔ میرے کہنے سے ایک بار آنکھیں کھول لے میں تجھے کندن بنا دوں گا تو جو چاہے گا وہ پالے گا۔ دھرتی کی ساری سندریاں تیری بانہوں میں مچلنے کو اپنے لئے ایک مان سمجھیں گی، بخاری اور رحیم الدین جیسے منش بھی تیرے آگے . ہاتھ باندھ کر گھومنا اپنے لئے عزت سمجھیں گے، تو جو من میں سوچے گا وہ اوش پورا ہو گا پر تو تو نے گھر آتی لکشمی کو ٹھوکر مار دی تو پھر اس دھرتی پر تجھے جوگی سیتارام کی مرضی کے بغیر کہیں سانس لینے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔" "ٹھیک ہے۔" میں نے خشک لہجے میں اسے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ " تم جو مرضی آئے کرتے رہو لیکن اب دوبارہ مجھے فون کرنے کی غلطی مت کرنا۔"
.
بہت اونچے سروں میں بول رہا ہے آج بول لے لیکن کل تجھے معلوم ہو جائے گا تو نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے۔"
سیتارام نے اپنا جملہ مکمل کر کے فون بند کر دیا۔ میرا ذہن بھٹکنے لگا، میں نہیں جانتا تھا کہ جوگی سیتارام کون تھا؟ کیوں میرے وجود کے بناتھ جو تک کی مانند چھٹنے کی کوشش کر ۔ رہا تھا؟ مجھے سے کیا چاہتا تھا؟ لیکن اس نے جھرنا والی بات کی تفصیل سنانے کے بعد مجھے حیران ضرور کر دیا تھا، میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ سیتا رام نے مجھے جو دھمکی دی ہے وہ اسے عملی جامہ پہنانے سے گریز نہیں کرے گا لیکن میرا ذہن اس کی بے سروپا باتوں کی نفی کر رہا تھا۔ بچوں کی کہانیوں کی بات اور ہے جس میں خمیدہ ناک والا کوئی جادو گر کسی بچے کو اپنی لکڑی سنگھا کر اپنا مطیع اور فرمانبردار بنا لیتا ہے۔ الف لیلہ کی داستان بھی من گھڑت ہے، جادوئی انگوٹھی اور کراماتی چراغ بھی محض انسانی ذہن کی اختراع کہے جاسکتے ہیں۔ پھونک مار کر کسی جیتے جاگتے انسان کو پتھر کا مجسمہ بنا دینا شعبدے بازی اور نظر بندی کا کمال تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہو گا۔ میں کوئی دودھ پیتا بچہ بھی نہیں تھا جو آسانی سے کسی لادین کے اشاروں پر کپڑے اتار کرناچنے لگتا۔ جھرنا کی زلفوں کا شکار ہو جانا مٹ میں کسی نشہ آور شے کی آمیزش کے علاوہ میری فطری کمزوری بھی ہو سکتی اور ایک جیتی جاگتی برہنہ عورت نے جن حالات اور جس ماحول میں بے قابو کر دیا تھا وہ میرے علاوہ کسی اور کو بھی گمراہ کر سکتے تھے


اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رُوئے زمین پر انسان ہی وہ سب سے کمزور مخلوق ہے جو سب سے پہلے بہک جاتا ہے۔ تکلیف کی شدتوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا خواہشات کا غلام بن کر خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا ہے، ایک کمزور لمحہ ایک ذرا سی بھول اسے عرش سے اٹھا کر فرش پر پھینک دیتی ہے پھر وہ تمام زندگی اپنے کئے کی سزا بھگتنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ میں بھی شیطان کے ورغلانے میں آکر بہک گیا تھا۔ میری جگہ کوئی اور بندہ بشر ہوتا تو شاید وہ بھی لڑکھڑا جاتا۔


جھرنا نے مجھے بتایا تھا کہ کرنل کی بہت ساری کمزوریاں اور منہ بولتے ثبوت اس کے پاس موجود ہیں جس کے سبب کرنل اس کی کسی بات سے انکار نہیں کر سکتا، وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور تھے لیکن میری کوئی ایسی کمزوری کسی جوگی سیتارام کے پاس نہیں تھی کہ میں اس کی باتوں پر سر تسلیم خم کر دینے پر آمادہ ہو جاتا۔ عین ممکن تھا کہ بخاری کی طرح سیتا رام نامی کوئی جوگی بھی جھرنا کی بے باکیوں کا شکار ہو گیا ہو اور جھرنا نے جو ایک شخص کی زبر دستی کا انتقام تمام مردوں سے لینے پر آمادہ تھی، جوگی سیتا رام کو بھی میرے بہک جانے کی کہانی سنادی ہو لیکن محض اتنی سی بات پر میں کسی کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو سکتا تھا۔ میرا ذہن خاصی دیر تک الجھتا رہا میں مختلف پہلوؤں سے حالات پر غور کرتا رہا میں نے سیتارام کو اس کی باتوں سے تنگ آکر دھتکار ضرور دیا تھا لیکن بہت سارے سوالات ایسے تھے جن کا جواب میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ سیتا رام نے خواب میں آکر قبل از وقت اس بات کی پیشگوئی کس طرح کر دی تھی کہ میں اپنے مذہب سے بھٹک کر غلط راستوں پر لگ جاؤں گا؟ جھرنا سے اس کے مراسم کی بات سمجھ میں آتی تھی لیکن " بخاری اور رحیم الدین کے بارے میں کیا جانتا تھا؟ اسے میری زندگی کے حالات کا علم کسی طرح ہوا؟ کون تھا وہ ؟ صرف میری ہی ذات کا تعاقب کیوں کر رہا تھا؟ اس نے اس بات کا دعومی کس بنیاد پر کیا تھا کہ اگر میں نے اس کے ساتھ سمجھوتا نہ کیا تو وہ مجھے در در بھٹکنے پر مجبور کر دے گا؟
رات کو کھانے کی میز پر بھی میں ان ہی خیالات سے الجھ رہا تھا جب جلیل نے محسوس کرتے ہوئے دبی زبان میں پوچھا۔
صاب! میرا خیال ہے ادھر ڈھاکہ میں آپکا دل نہیں لگا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔" میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ پھر آپ شام سے چپ چپ کیوں ہیں؟"
دفتر کے کچھ معاملات الجھ گئے ہیں، تم نہیں سمجھو سکو گے۔“ میں نے اسے ٹالنے
کی خاطر کیا۔ میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں صاب! لیکن میرا باپ کہا کرتا تھا کہ دوسرے کی دمت کرنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنا کوئی کام کرے، دو وقت کے بجائے ایک وقت سوکھی کھائے اور لمبی تان کر سوئے۔" جلیل نے کہا۔ ”آپ اپنا کوئی کاروبار کیوں نہیں شروع کر دیتے؟" تم نے یہاں کبھی کسی جوگی سیتارام کا نام سنا ہے؟“ میں جلیل کی بات کاٹ کر غیر ارادی طور پر پوچھا بیٹھا۔


نہیں صاب! یہ نام میں نے آج پہلی بار سنا ہے لیکن آپ کو کوئی جوگی سیتا رام کیسے یاد آ گیا
.میں نے اس کا نام دفتر میں کسی سے سنا تھا۔" میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی تو وہ سنجیدگی سے بولا۔
آپ مجھ سے زیادہ بڑے اور سمجھدار ہیں صاب! لیکن میں آپ کو کسی سادھو جوگی، پنڈت یا پجاری سے ملنے کا مشورہ نہیں دوں گا۔ یہ لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ جلیل نے بڑی اپنائیت سے مجھے اپنی معلومات سے آگاہ کرنا چاہا۔ ”ہمارے دیس کا جادو تو پوری دنیا میں مشہور ہے لیکن یہ پجاری لوگ زیادہ دور کی کڑی لاتے ہیں، ان کا بھید بھاؤ جاننا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ میرا باپ کہا کرتا تھا کہ یہ شیطانی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں، اوپر سے سیدھے سادے اور معصوم نظر آتے ہیں لیکن اندر سے بڑے زہریلے ہوتے ہیں، ان کے کاٹے کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ ادھر ڈھاکہ میں زیادہ نہیں ہوتے لیکن سندربن اور کلکتہ کی طرف بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔“ کیا ڈھا کہ میں کوئی مندر وغیرہ نہیں ہے؟" میں نے کسی خیال کے تحت پوچھا۔ ہیں صاب! ادھر ہندوؤں کی تعداد بھی بہت ہے لیکن وہ ہم سے الگ مینے جواب نہیں دیا کھانے میں مشغول ہو گیا، جلیل کچھ دیر خاموش رہا پھر دبی زبان میں بولا۔
"صاب! آپ کسی جوگی کے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے ؟" کوئی خاص بات نہیں ہے، تم پریشان مت ہو۔"
"آپ کا نمک کھاتا ہوں صاب! آپ کے لئے پریشان نہیں ہوں گا تو پھر کس کے لئے فکرمند ہوں گا۔" اس نے بڑی محبت سے کہا پھر رازداری سے بولا۔ ”کیا آپ کو کسی
دشمن کے خلاف کچھ ایسا دیسا کرانا ہے۔" " فرض کر لو کوئی ایسی ہی بات ہے تو ؟" میں نے اسے ٹولنے کی خاطر دریافت کیا۔ ”جادو ٹونا کرنے والے تو ادھر بہت ہیں پر کون سچا ہے اور کون جھوٹا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن میں دعا کروں گا صاب کہ آپ کو اگر کہیں قسمت سے ننگا ملنگ نظر آ جائے تو پھر آپ کو کسی جوگی یا پنڈت پجاری کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔" ننگا ملنگ " میں نے حیرت سے جلیل کو گھورا۔ "یہ کون ہے؟" ” میں نے نہیں دیکھا صاب! لیکن سب یہی کہتے ہیں وہ خدا کا بہت نیک بندہ ہے جس کے لئے ان کی زبان سے جو بات نکل جاتی ہے وہ پتھر کی لکیر ہوتی ہے، اس کے بارے
میں عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں۔“
کیسی باتیں؟" میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔


کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اوپر والے کا کوئی خاص بندہ ہے جو بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہے۔ " جلیل نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔ "ڈھاکہ میں بہت سارے لوگوں نے اس دیکھا ہے لیکن وہ ایک وقت میں کسی ایک ہی خوش نصیب کو نظر آتا ہے۔" کیا مطلب؟" میں چونکا۔ . ”میں نے یہی سنا ہے صاب کہ وہ کبھی صرف ایک لنگوٹی گھومتا پھرتا ہے، پاگلوں کی طرح قہقہہ لگاتا ہے، ایک ٹکا مانگتا ہے اور ایک ہی بات کہتا ہے، اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہوتی۔ مگر وہ کسی قسمت والے ہی کو نظر آتا ہے۔ سب لوگ اسے نہیں دیکھ سکتے یہ بھی خدا کی قدرت ہے۔" جلیل کی بات سن کر مجھے وہ ننگا اور خبطی بوڑھا فقیر یاد آگیا جو پہلے روز دفتر جاتے راستے میں ملا تھا۔

 وہ بھی دیوانہ وار قہقہے بلند کر رہا تھا لیکن دوسروں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تھی، شاید وہ میرے علاوہ (جلیل کے بیان کے مطابق) کسی اور کو نظر ہی نہیں آ رہا تھا، اس نے اچانک میرا ہاتھ تھام کر ایک ٹکے کی فرمائش کی تھی، اس نے کہا تھا۔ سیدھے ہاتھ سے نکا نکال کر دے پھر جدھر سے آیا ہے ادھر ہی الٹے قدموں واپس لوٹ جا آگے بھونچال کھڑا ہے" میں نے اسے ایک کے بجائے دو ٹکے دیے تو وہ دیوانوں کی طرح قہقہہ لگا کر بولا تھا۔ کنگلا خیرات بانٹ رہا ہے۔" بوڑھے دیوانے کا خیال ابھرا تو میرے ذہن میں آندھیاں چلنے لگیں۔ جلیل یقیناً ننگے ملنگ کی بات کر رہا تھا جو قسمت سے مجھے نظر آیا پھر مجھے واپسی کا مشورہ دے کر پی راہ ہو لیا، شاید وہی اللہ کا محبوب بندہ تھا جو میری رہنمائی کرنے کے لئے سامنے آگیا. تھا وہ جانتا ہو گا کہ میرے ساتھ کیا کچھ پیش آنے والا تھا اسی لئے اس نے کہا تھا کہ آگے بھونچال کھڑا ہے" اس نے ڈھکے چھپے اشاروں میں مجھے واپسی کا مشورہ دیا تھا لیکن میں خدا کے اس نیک بندے کا اشارہ نہ سمجھ سکا اور اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا۔ دیوانے کی صدائیں میرے پورے وجود میں صدائے بازگشت بن کر گونج رہی تھیں۔ جلیل نے کسی ننگے ملنگ کی بات نہ کی ہوتی تو شاید مجھے اس کی یاد بھی دوبارہ کبھی نہ آتی اور اب میں سوچ رہا تھا کہ کاش میں نے اس فقیر کی اصلیت جان لی ہوتی اور اس کے مشورے پر واپس پٹنہ لوٹ گیا ہوتا تو شاید آج مجھے اپنی یہ داستان رقم کرنے کی نوبت کبھی
نہ پیش آتی۔ 

 ملنگ کے تذکرے نے پھر جوگی سیتارام کے تصور کو میرے ذہن میں زندہ کر دیا' اس کا جھرنا اور بخاری سے کیا تعلق تھا؟ مجھے یہ نہیں معلوم تھا لیکن اب میں سنجیدگی سے سوچ رہا تھا کہ میرے ساتھ جو حالات پیش آ رہے ہیں یا آنے والے ہیں ، ملنگ کو اس کا علم ضرور تھا ورنہ وہ مجھے واپسی کا مشورہ کیوں دیتا؟ میں نے الٹا سیدھا کھانا کھایا پھر جلیل کے جانے کے بعد بیرونی دروازے کو بند کر کے اپنے کمرے میں آگیا۔ میرے ذہن میں پریشان خیالوں کا ایک ہجوم ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ میں بڑی دیر تک بستر پر پڑا کروٹیں بدلتا رہا پھر میں نے کچھ سوچ کر کرنل کمال بنرجی کے نمبر ڈائل کئے ، میں جھرنا سے بات کرنا چاہتا تھا، میں نے طے کر لیا تھا کہ اگر دوسری جانب سے کال رسیو کی تو میں لائن منقطع کر دوں گا لیکن دوسری جانب سے جس نے فون اٹھایا وہ جھرنا کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔

میں آذر بول رہا ہوں۔" میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے کہا۔ ”کیا کرنل صاحب
" مجھے یقین تھا کہ آج نہیں تو کل لیکن تم مجھ سے رابطہ ضرور قائم کرد. گے۔ " جھرنا کے لیجے میں خود اعتمادی کے رنگ جھلک رہے تھے۔


کرنل کے سلسلے میں وہ ابھی واپس نہیں لوٹا۔" جھرنا نے حقارت سے کہا۔ ”وہ واپس آ جائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا میں شاید تمہیں بتا چکی ہوں کہ میں کرنل سے خائف نہیں ہوں، اس کے علاوہ تم اگر مجھے سے دوستی بر قرار رکھنا چاہو تو ہم کہیں اور بھی مل سکتے ہیں۔" میں نے اس وقت ایک دوسرے مقصد سے فون کیا تھا۔" میں نے سنجیدگی برقراررکھی۔ اگر تم بخاری یا رحیم الدین کے سلسلے میں پریشان ہو تو میرا مشورہ ہے کہ اب ان دونوں سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دو جب تک میری اور تمہاری دوستی بر قرار رہے گی وہ دونوں تمہارے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی جرات نہیں کریں گے۔" "کیا آپ رحیم الدین سے بھی واقف ہیں؟" میں نے اس کا جواب سن کر تعجب کا اظہار کیا۔ ہاں۔" اس نے نہایت بے باکی سے جواب دیا۔ 

 کرنل اور رحیم الدین کبھی ایک دوسرے کے جگری دوست ہوا کرتے تھے، یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب رحیم الدین فورسٹ ڈویژن میں ایک اونچے عہدے پر ہوا کرتا تھا، کرنل کی اور اس کی دوستی کی وجہ بھی کرنل کا شکار کھیلنے کا شوق تھا۔ رحیم الدین کم و بیش روزانہ ہی ہماری کوٹھی پر آتا جاتا تھا، بڑی بڑی پارٹیاں منعقد ہوتی تھیں، آئے دن ہنگامے ہوا کرتے تھے، اس وقت تک کرنل اسی غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ میں اسے دل و جان سے چاہتی ہوں لیکن ایک روز کرنل کو کسی طرح میری اور رحیم الدین کی بڑھتی ہوئی بے تکلفی کی بھنک مل گئی، اس نے فوری طور پر اپنے اثر و رسوخ استعمال کئے اور رحیم الدین کا تبادلہ ایک دور دراز کے علاقے میں کرا دیا۔ اس کے ساتھ ہی کرنل نے اپنی کو ٹھی پر دوستوں کی آمدورفت اور شانتی کا سلسلہ بھی بند کر دیا۔ تم اگر کسی کے ذریعہ نہ آئے ہوتے تو شاید وہ تمہیں بھی اندر بلانے کی حماقت نہ کرتا۔" خاموشی سے جھرنا کی باتیں سنتا رہا وہ بڑی ڈھٹائی سے ایک ایک بات کھل کر بتا رہی تھی

جوگی - پارٹ 5

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,