Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online
| قسط وار کہانیاں |
جوگی - قسط نمبر5
رائیٹر :انور صدیقی
اب وہ خاموش ہوئی تو میں نے دبی زبان میں اس سے جوگی سیتارام کے بارے میں پوچھا۔
کیا آپ اس نام کے کسی آدمی سے واقف ہیں۔"
نان سنس۔" اس نے نفرت سے جواب دیا۔ ”ابھی میرا ذوق اتنا پست بھی نہیں ہوا ہے کہ میں جوگیوں اور پجاریوں کو گھاس ڈالنی شروع کر دوں لیکن تم نے خاص طور پر جوگی سیتارام کے بارے میں کیوں دریافت کیا؟" "میرا اندازہ ہے کہ جوگی سیتارام کسی پرانی دشمنی کی وجہ سے رحیم الدین اور بخاری کو میرے خلاف اکسا رہا ہے۔" میں نے دروغ گوئی سے کام لیا۔فکر مت کرو، میں تمہاری خاطر بخاری کو کریدنے کی کوشش کروں گی۔" ابھی نہیں۔" میں نے تیزی سے کہا۔ "اگر ضرورت پیش آئی تو میں آپ کو ضرور زحمت دوں گا۔" " میرا خیال ہے کہ تم ابھی تک کرنل کی وجہ سے مجھ سے خوفزدہ ہو ؟" جی نہیں لیکن میری درخواست ہے کہ آپ ابھی کم آن آذر! ڈونٹ بی سو چائلڈش (Don't be so Childish)۔" جھرنا نے بڑی بے تکلفی سے مجھ پر اپنا حق جماتے ہوئے کہا۔ ”یہ تم نے کیا آپ آپ لگا رکھی مجھے بے تکلف دوستوں کی زبان سے اس قسم کی فارمیلیٹیز ہے۔ (Formalities) بھی زہر لگتی ہیں۔ آئندہ سے تم مجھے صرف تم کہہ کر مخاطب کرو گے
پر امس کرو۔" کوشش کروں گا۔"
.
اس وقت کیا صرف سیتارام کی خاطر فون کیا تھا؟" جھرنا کی آواز میں اس کے اندر
کی عورت جاگنے لگی۔
میں آپ سوری تم سے دوبارہ رابطہ قائم کروں گا۔" میں نے در پیش حالات کی وجہ سے ڈپلومیسی سے کام لیا پھر رسیور کریڈل پر رکھ کر نائٹ بلب بھی ہونے کی خاطر کروٹ بدل لی۔ جھرنا کی زبانی مجھے کرنل اور رحیم الدین کی کہانی معلوم ہو گئی تھی، بخاری نے بھی یہی بتایا تھا وہ دونوں ایک دوسرےک نام تک سننا نوارا نہیں کرتے۔ "
اس رات میری آنکھ دیر سے لئی دوسرے دن میں دفتر گیا تو مجھے بخاری کے رویے میں حیرت انگیز بتدیلی نظر آئی۔ وہ مجھ سے جس تپاک سے ملاوہ میرے لئے حیرت انگیزی خالی تھا۔ دفتر میں عمل کے دوسرے افراد نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا تھا۔ کچھ دیر ہم اپنے آفس میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، میں نے اس سے گئے دن دفتر نہ آنے کا سبب دریافت کیا تو وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔ میں بہت دنوں سے ایک پارٹی کے پیچھے لگا ہوا تھا، مخبر نیا ہے اس لئے میرا خیال تھا کہ شاید مجھے ڈبل کراس کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کل مجھے اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ میرا شکار اب میری دسترس سے زیادہ دور نہیں ہے۔" بخاری نے مجھے مختصراً ! تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔ ”وہ سونے کا اسمگلر ہے لیکن بھارتی اور غیر ملکی کرنسی میں بھی دلچسپی لیتا رہتا ہے۔ میری لسٹ پر اس کا نام تھا مگر میں نے ڈھیل دے رکھی تھی۔
کیا کوئی بااثر آدمی ہے؟" میں نے پہلو بدل کر پوچھا۔ ”ہاں حکومتی حلقوں میں بھی جانا پہچانا جاتا ہے۔" بخاری نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ یہاں بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے سے پیشتر بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد سے تو بہت زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے جو کبھی حکومت مشینری کا کل پرزہ بھی رہ چکے
ہوں۔"آئی سی۔" میں دلچسپی لیتے ہوئے بولا۔ "کیا ہمارا مطلوبہ شکار بھی کابینہ میں رہ چکا
ہے یا کسی بڑے عہدے پر فائز تھا۔" دو چار روز کی بات اور ہے۔" بخاری کسی ماہر شکاری کے انداز میں زیر لب ! مسکرایا۔ ”میں کوشش کروں گا کہ اس کیس میں تم کو بھی اپنے ساتھ رکھوں، اس بہانے تمہیں یہاں کے حالات کا کچھ عملی تجربہ بھی ہو جائے گا۔ "
بخاری مجھے اپنے اسی کیس کے بارے میں موٹی موٹی تفصیل بتاتا رہا، میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ ہر معاملے میں بہت محتاط رہ کر کام کرنے کا عادی ہے دوپہر کو کھانے کے وقت وہ مجھے اپنے ساتھ دفتر کی کینٹین میں لے گیا۔ وہاں بھی ہم دوسروں سے قدرے الگ ایک بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ میں اس کی باتوں سے اندازہ لگا رہا تھا کہ وہ جس شکار رہا ہے اس کے گرد اس نے بڑا مضبوط جال بچھا رکھا ہے۔
کیا بہت بڑا کنسائمنٹ (Consignment) ہاتھ آنے کی امید ہے؟" میں نے دبی زبان میں پوچھا تو وہ مسکرانے لگا۔
میں بلاوجہ خوش فہمی کا شکار نہیں ہوتا ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہاتھ کچھ بھی نہ لگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ کیس ہمارے لئے ایک ریکارڈ ثابت ہو جو کچھ میں سوچ رہا ہوں اس سے زیادہ ہاتھ لگ جائے۔"
کیا وہ شخص بذات خود بھی شامل ہو گا؟" میں نے پوچھا پھر وضاحت کرتے ہوئے عام طور سے بڑے اسمگلر خود سامنے نہیں آتے، ان کے کارندے کام کرتے ہیں، وہ دور رہ کر ان کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ قسمت کا پانسہ اگر سیدھا نہ پڑے تو انہیں بچانے کی خاطر ہاتھ پیر مار سکیں۔" عام طور سے ایسا ہی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی بڑی مچھلیاں خود بھی آگے آگے رہتی ہیں تاکہ بات کو موقع ہی پر نبٹایا جا سکے۔" بخاری نے کچھ توقف سے جواب دیا۔ "مجھے ایسے کیسز (Cases) میں زیادہ لطف آتا ہے جب ہمارا واسطہ کسی وہیل یا شارک مچھلی سے پڑتا ہے، جال میں پھسنے کے بعد بھی وہ بڑا زور لگاتی ہیں، شکاری کو دانتوں پسینہ آجاتا ہے، آخری وقت تک ان پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے لیکن ایک بار جب ان کا زور ٹوٹنے لگتا ہے تو پھر وہ سودے بازی پر اتر آتی ہیں۔ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ بات آگے نہ بڑھنے پائے ورنہ ان کی ساکھ پر اچھا اثر نہیں پڑتا، وہ دو کی جگہ دس خرچ کرنے میں بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔" بخاری نے مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بے تکلفی سے کہا۔ "میرے جیسا آدمی ہو تو ایک تیر سے دو شکار کر لیتا ہے جیب بھی گرم ہو جاتی ہے اور سامنے والے پر احسان کر کے اسے اپنا غلام بھی بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگ کبھی کبھی بڑے کار آمد ثابت ہوتے ہیں لیکن تمہارے جیسا کٹر مسلمان ہو تو پھر بات بگڑ جاتی ہے، جو دولت وہ تمہیں خریدنے کی خاطر دینے پر آمادہ ہوتا ہے بعد میں اسی رقم سے کوئی ایسا وکیل کھڑا دیتا ہے جو عدالت میں ہماری ایمانداری کی دھجیاں ادھیڑ کر رکھ
دیتا ہے۔"مگر میرا خیال ہے کہ جیت ہمیشہ ایماندار ہی کی ہوتی ہے۔" میں نے ایک بار پھر واضح کرنے کی کوشش کی کہ میں اپنی دیانتداری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں
میں جانتا ہوں کہ پتھر میں جو تک نہیں لگتی ، تمہاری اطلاع کے لئے یہ بھی بتا دوں کہ میں کل باس سے بھی صرف تمہارے سلسلے میں بات کر چکا ہوں۔“ "کیا فیصلہ ہوا؟" میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔
ہو سکتا ہے کہ باس آج کسی وقت تمہیں بلا کر خود بات کرے۔“کچھ نہ کچھ تو اندازہ ہو گا؟" میں نے اسے کریدنے کی کوشش کی۔
”میرا خیال ہے کہ وہ کچھ نرم ضرور پڑا ہے۔" بخاری نے مجھے چھبتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر کہا۔ "تمہاری کوئی نہ کوئی ادا ضرور بھا گئی ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ پٹنہ سے کسی کا سفارشی فون آگیا ہو جس کی وجہ سے باس پسیج گیا ہو، ورنہ پہلے اس نے تمہارے
بارے میں بڑے خطرناک فیصلے کئے تھے۔"
بخاری کا جواب سن کر میرے ذہن میں فوری طور پر جھرنا کا خیال ابھرا گزشتہ رات میری اس سے بات ہوئی تھی، اس نے کہا بھی تھا کہ کرنل کو کسی طرح اس کی اور رحیم الدین کی بڑھتی ہوئی بے تکلفی کی بھنک مل گئی تھی جس کے بعد کرنل نے اپنا رسوخ استعمال کر کے اس کا تبادلہ کرا دیا تھا۔ جھرنا نے میرے سلسلے میں بڑی بے غیرتی سے اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس کے اختیار میں ہوتا وہ مجھے بخاری سے بھی دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی۔ میرا ذہن قلابازیاں کھانے لگا ہو سکتا ہے کہ جھرنا نے مجھے خریدنے کی خاطر براہِ راست رحیم الدین سے بات کی ہو ؟ اس احسان کے عوض وہ مجھے بھی اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لئے سوچ رہی ہو ؟ رحیم الدین اور کرنل کے درمیان باقاعدہ ٹھن چکی تھی۔ جھرنا کا صرف ایک فون ہی میری ساری پریشانیاں ختم کر سکتا تھا۔ رحیم الدین اگر اس کی زلفوں کا شکار تھا تو جھرنا نے یقیناً اس کے خلاف بھی کوئی نہ کوئی ایسا مواد ضرور جمع کر رکھا ہو گا جو کسی آڑے وقت میں اس کے کام آسکے؟
کیا سوچ رہے ہو؟" بخاری نے میری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا تو معاً مجھے اس بات کا خیال آگیا کہ جھرنا سے میری بات کل رات ہوئی تھی اگر اس نے مجھ سے منقطع کرنے کے بعد رحیم الدین سے بات کی تھی تو پھر اس کا علم بخاری کو قبل از طرح ہو گیا جبکہ بخاری نے دوپہر میں کسی وقت ملاقات کی ہو گی۔ میرے ذہن
ایک وسوسے جنم لینے لگے۔
" تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔" بخاری نے مجھے دوبارہ ٹولنے کی کوشش ی۔ اب کیا الجھن پریشان کر رہی ہے؟"آپ باس سے کب ملے تھے ؟" میں نے اپنی تسلی کی خاطر دریافت کیا۔ ”میری اور باس کی ملاقات عام طور پر رات گئے ہوتی ہے۔" بخاری نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ "تم نے کہیں نہ کہیں کسی دانشور کے اس قول کو ضرور پڑھا ہو گا کہ رات کی تاریکی بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے، میں بھی ایسے کام رات ہی کو کرتا ہوں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رات کے وقت کسی کے تعاقب یا نگرانی کرنے کا سراغ زیادہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔" آپ یقیناً بہت دور اندیش اور محتاط آدمی ہیں۔“ میں نے بخاری کا جواب سن کر سکون کا سانس لیا۔ جواب میں بخاری نے صرف مسکرانے پر اکتفا کی بہرحال میرا دل یہی گواہی دے رہا تھا کہ میں نے گزشتہ رات جھرنا کو فون کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ میرے حق میں مفیدہی ثابت ہوا۔ کینٹین سے دفتر میں آئے ہمیں زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جب رحیم الدین کی طرف سے میرا بلاوہ آگیا میں اٹھنے لگا تو بخاری نے کہا۔ باس کے ساتھ زیادہ آرگیومنٹ (Argument) کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ تمام کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ " میں خیال رکھوں گا۔"
ایک بات اور ذہن نشین کر لو۔ " بخاری نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ "میں نہیں کہہ سکتا کہ باس نے کس کی سفارش پر تمہارے ساتھ نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے، عام حالات میں وہ جو ارادہ کر لیتا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر قدم پیچھے نہیں ہٹانا۔ اگر اس نے تمہاری کسی بات سے خفا ہو کر دوبارہ پرانا راستہ اختیار کر لیا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے فیصلوں میں لچک پیدا نہیں کر سکے گی۔"
میں نے دوبارہ اثبات میں سر کو جنبش دی پھر باس کے آفس کی طرف چل پڑا۔ ملنے کی خاطر مجھے سروش کے کمرے میں بھی جانا پڑا وہ مجھے دیکھ کر اس طرح دیکھا جیسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ نظر آگیا ہو۔
باس نے یاد کیا ہے۔" میں نے اس کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے دبی زبان میں کہا۔
میں جانتا ہوں لیکن کمرے میں چپراسی کے آجانے کے سبب سروش۔ خاموش ہو کر بیٹھنے کا اشارہ کیا پھر اسے فارغ کرنے کے بعد بڑے راز دارانہ لہجے میں بولا ”میں اس وقت زیادہ باتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ ہو سکتا ہے آج یا کل فون رابطہ قائم کروں لیکن ایک بات سمجھانا ضروری سمجھوں گا۔ باس سے گفتگو کرتے وقت کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالئے گا جو بعد میں آپ کے خلاف بطور ثبوت استعمال: سکے۔"
میں سمجھا نہیں۔"
اس وقت میں اس سے زیادہ سمجھا بھی نہیں سکتا۔“ اس نے ادھر اُدھر دیکھ کر سپاٹ لہجے میں کہا پھر انٹر کام کا رسیور اٹھا کر ایک نمبر دیا دیا دوسرے ہاتھ سے وہ ایک کاغز پر کچھ لکھنے لگا اندر سے رابطہ قائم ہوا تو اس نے تیزی سے کہا۔ "سر! مسٹر آذر گئے ہیں ۔ رائٹ سر!" رسیور پر بات کرنے کے بعد اس نے اپنا لکھا ہوا کاغذ میری طرف کھکاتے ہوئے بدستور سنجیدگی سے کہا۔ "آپ اندر جا سکتے ہیں، باس آپ ہی ؟ انتظار کر رہے ہیں۔" میں کاغذ پر نظر ڈالتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا، سروش نے بڑے مختصراً الفاظ میں صرف اتنا لکھا تھا۔۔۔ باتیں ٹیپ بھی ہو سکتی ہیں۔ میرے ذہن نے پھر جمناسٹک شروع کر دی ، کچھ دیر بیشتر بخاری نے بڑے یقین ہے کہا تھا کہ باس میرے حق میں نرم پڑ گیا ہے۔ میں اس کے ساتھ بحث کرنے کے بجائے اس کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کروں اور سروش کا کاغذ پر لکھا ہوا جملہ مجھے محتاط روش اختیار کرنے پر آمادہ کر رہا تھا۔ میں فوری طور پر سروش کے لکھے ہوئے جملے سے اتنا تو ضرور سمجھ گیا کہ باس دوسروں کے ساتھ اپنی گفتگو کے مخصوص حصے ٹیپ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا لیکن بخاری کی گفتگو اور سروش کے اس جملے میں جو تضاد تھا وہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔
میں رحیم الدین کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا وہ پہلے سے میرا منتظر انداز میں اس نے میرے سلام کا جواب دے کر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں خاموشی سے بیٹھ گیا تو اس نے سامنے رکھی ہوئی میری
پرسنل فائل کھول کر اس کے کچھ صفحات الٹ پلٹ کر دیکھے پھر اسے ایک طرف ہٹا کر
براہ راست مجھ سے مخاطب ہوا۔
یہاں ڈھاکہ میں تمہارا قیام کہاں ہے؟"
میں نے جواب میں اسے اپنا پتہ بتایا تو اس نے مجھے بہت غور سے دیکھتے ہوئے
ڑھا کہ میں تمہارے کچھ واقف کار بھی ضرور ہوں گے؟"
"جی نہیں۔ " میں نے سنبھل کر کہا۔ " براہ راست میں کسی کو نہیں جانتا۔" براہ راست سے تمہاری کیا مراد ہے؟“ اس نے وضاحت طلب کی۔ پٹنہ سے روانگی کے وقت مجھے وہاں کے ایک ڈی ایس پی مسٹر بشیر علی نے اپنے ایک پرانے واقف کار کے نام ایک تعارفی خط لکھا تھا جسے میں نے یہاں آنے کے بعد ریٹائرڈ کرنل کمال بنرجی تک پہنچا دیا تھا۔" میں نے صاف گوئی سے بات کرنے کی ٹھان لی اگر ایک جھوٹ بولتا تو پھر اسے نبھانے کے لئے دس بار دروغ گوئی کا سہارا لینا پڑتا۔ اس کے علاوہ مجھے یہ خیال بھی لاحق تھا کہ بخاری نے ممکن ہے میرے اور بنرجی کے بارے میں باس کو پہلے ہی باخبر کر دیا ہو، دوسرا خیال یہ بھی تھا کہ اگر میرا یہ اندازہ درست تھا کہ جھرنا نے میری خاطر کوئی سفارشی فون کیا ہے تو میرا کوئی گول مول جواب رحیم الدین کو شاید پسند نہ آتا۔
میری نظریں باس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ کمال بنرجی کا نام سن کر اس نے اس انداز میں پھریری لی جیسے وہ نام اس کی سماعت پر گراں گزرا ہو لیکن اس نے بڑی خوبصورتی سے اپنی کیفیت پر قابو پالیا۔
تم کمال بنرجی سے کتنی بار مل چکے ہو ؟" باس کا لجہ خشک اور کھردرا تھا۔ صرف ایک بار " میں نے جلدی سے وضاحت کی۔ ”دوسری بار میں ان کی مسسز کی کال پر وہاں گیا تھا لیکن مسٹر کمال سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ مسز کمال نے بتایا تھا کہ انہیں اچانک شکار پر جانا پڑ گیا تھا۔ " رحیم الدین کی تیز نظریں مجھے اپنے وجود میں چبھتی محسوس ہو رہی تھیں، وہ میرے لئے ایک ایک تاثر کا بغور مطالعہ کر رہا تھا، میرا جواب سن کر وہ ایک لمحہ بعد سنجیدگی سے بولا۔
مسٹر آذر! تم ایک جوان اور ایماندار آفیسر ہو، میں تمہاری پٹنہ والی پرسنل فائل کئی بار دیکھ چکا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ تمہارا پرانا ریکارڈ بے داغ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تم ڈھاکہ میں بھی نہایت ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنی کارکردگی کی سابقہ روایت کو
برقرار رکھنے کی کوشش کرو گے۔" میں آپ کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گا سر ! میں نے پورے وثوق
سے کہا۔ رحیم الدین نے بدستور سنجیدگی سے کہا۔ ”میں نے اس وقت تمہیں خاص طور پر تمہاری پوسٹنگ کرنے کے سلسلے میں طلب کیا ہے۔ تم کس قسم کی پوسٹنگ
پسند کرتے ہو؟ میرا مطلب ہے کہ کوئی مخصوص فیلڈ جس میں تمہاری دلچسپی زیادہ ہو۔" ” میری کوئی ذاتی چوائس نہیں ہے سر ! میں نے محتاط انداز اختیار کیا۔ ”آپ مجھے جو سیٹ بھی دیں گے میں اس پر پوری محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کی کوشش کروں
تحمل بخاری کے بارے میں تمہارا ذاتی خیال کیا ہے؟"
وہ ایک تجربہ کار آفیسر ہیں سر! میں نے پہلو بدل کر جواب دیا۔ ”میں نے ان کے ساتھ رہ کر مختصر مدت میں بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔" میرا خیال ہے کہ میں تمہیں کچھ عرصے کے لئے اینٹی سمگلنگ برانچ میں لگا دوں۔" رحیم الدین نے کچھ توقف سے کہا۔ " بخاری آج کل ایک دو اچھے اور بڑے کیسز پر کام کر رہا ہے ، تم اس کے ساتھ رہ کر بہت جلد یہاں بھی اپنا مقام بنا سکتے ہو۔" ٹھیک ہے سر !" میں نے مختصراً جواب دیا۔ سروش کے دیئے ہوئے سگنل کے پیش نظر میں ایک ایک حرف بہت ناپ تول کر استعمال کر رہا تھا لیکن ابھی تک رحیم الدین کی کسی حرکت سے یہ نہیں محسوس کر سکا کہ وہ میری باتیں ٹیپ کر رہا ہو گا ویسے یہ ممکن تھا کہ میرے دفتر میں داخل ہونے سے پیشتر ہی کسی خفیہ ٹیپ ریکارڈر کا سوئچ آن کر دیا گیا ہو۔ سروش نے جو جملہ رازداری سے میرے لئے تحریر کیا تھا وہ بلاوجہ نہیں رہا ہو گا۔ ایک بات کا خاص رکھنا۔ " رحیم الدین نے میرا جواب سن کر کہا۔ میں کسی قسم کی سفارش پسند نہیں کرتا، ہر آفیسر کی ذاتی کار کردگی ہی اس کی سب سے بڑی سفارش میرے عملے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ذاتی فائدے کو پسند کرتے ہیں، میں
ان کو بخوبی جانتا ہوں لیکن وہ کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ جس دن کوئی برا وقت آئے گا اس روز محکمہ بھی ان کی کوئی مدد نہیں کر سکے گا۔"
میں خاموش ہی رہا۔
کمال بنرجی اچھا آدمی ہے۔ " رحیم الدین نے ہونٹ چہاتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا۔ ہم کبھی ایک دوسرے کے دوست بھی رہ چکے ہیں لیکن وہ ایک شکی مزاج اور جھکی شخص ہے اور ایسے لوگ زیادہ دنوں تک کسی کے ساتھ دوستی نہیں نبھا سکتے ، بہت جلد دنیا سے کٹ
کر رہ جاتے ہیں۔" میں بدستور خاموش رہا لیکن یہ محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا کہ بنرجی کا نام لیتے وقت ایسا ہی لگا تھا جیسے باس کسی خطرناک متعدی مرض سے بچنے کی خاطر زبر دستی کڑوی کسیلی گولیاں
چبا رہا ہو۔
آل رائٹ ۔ تم اب جا سکتے ہو۔ میں ایک دو روز میں تمہاری پوسٹنگ کےاحکامات جاری کر دوں گا۔"
میں باس کو سلام کر کے باہر آ گیا۔ سروش نے مجھے بس ایک نظر دیکھا لیکن اس کے پاس ایک دو آدمی بیٹھے تھے اس لئے مجھے روکنے یا مخاطب کرنے کی غلطی نہیں کی۔ میں نے بھی وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا حالانکہ میرے ذہن میں یہ خیال بُری طرح کلبلا رہا تھا کہ اس جملے کا مطلب دریافت کر سکوں جو سروش نے مجھے کاغذ پر لکھ کر بڑی رازداری سے دکھایا تھا۔
میں نے بخاری کو باس سے ہونے والی گفتگو سنائی تو وہ مسکرا کر بولا۔ باس نے تمہاری پوسٹنگ میرے ساتھ کر کے بڑی دور اندیشی سے کام لیا ہے۔" میں سمجھا نہیں؟" میں نے وضاحت چاہی۔ تمہاری ایمانداری اپنی جگہ لیکن تمہارے حصے میں سے بھی اب مجھے باس کے ساتھ ففٹی ففٹی کرنا پڑے گا کیا سمجھے؟" بخاری نے وہ بات اتنی آسانی اور بے تکلفی سے کہہ دی کہ میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ "تمہیں اعتراض تو نہیں ہو گا؟" میرا تعلق کسی حصے بکرے سے ہو گا ہی نہیں تو بھلا اعتراض کا کوی سوال ہی نہیں سوچ لو " اینٹی اسمگلنگ اسکوائڈ (Anti Smuggling Squad) کو یہاں سونے کی کان کہا جاتا ہے، سال بھر بے جگری سے کام کر لو تو تمہارے بھی وارے نیارے ہو جائیں گے۔"
"سوری" میں نے بھی دوستانہ انداز میں شانے اچکا کر اپنی معذوری کا اظہار کر دیا دو روز بعد میری تعیناتی کے احکامات جاری ہو گئے، مجھے خوشی تھی کہ میں ذہنی خلفشار سے چھٹکارا یا گیا۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ بخاری کے ساتھ کام ضرور کروں گا لیکن کسی لین دین میں یا ہیرا پھیری میں اس کا ساتھ نہیں دوں گا اور کوشش کروں گا کہ کاغذات کی تیاری اور مشیر نامہ بنتے وقت دور ہی رہوں تاکہ کسی خرد برد کے سلسلے میں قسم . کھانے کی گنجائش رہے۔ ہر چند کہ میں اس بات کو بھی ایک طرح سے دیانتداری کے خلاف سمجھتا تھا لیکن حالات کے پیش نظر اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
جس دن میری پوسٹنگ کے آرڈر ہوئے اسی رات سروش نے مجھے فون کیا۔ باتوں سے وہ مجھے کچھ الجھا الجھا لگ رہا تھا میں نے سبب دریافت کیا تو اس نے سپاٹ لہجے میں
کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ اگر میں نے آپ کی پٹنہ والی پرسنل فائل نہ دیکھی ہوتی تو اس میں
وقت سکون کا سانس نہ لے رہا ہو تا۔“
کیا مطلب؟" میں نے چونک کر پوچھا۔
مسٹر آذر! میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا واسطہ جن لوگوں سے پڑا ہے ان
او کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، دفتر میں اگر کوئی سوئی بھی گرتی ہے تو تخریب کاروں کو اس کی بھنک مل جاتی ہے، کون کیا ہے؟ میں بھی نہیں سمجھ سکا لیکن بہر حال کسی نہ کسی طرح گزارا ضرور کر رہا تھا۔ "
کیاہو گیا ؟ میں نے سروش کے لہجے کو محسوس کرتے ہوئے سوال کیا۔ اب کیا
" آپ کے ساتھ ساتھ میرے تبادلے کے آرڈر بھی ہو چکے ہیں۔" اس نے سے کہا۔ "کل مجھے اس کی کاپی مل جائے گی۔"
سمجھا نہیں ؟" میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ آپ سے کیا قصور ہو گیا ؟"
پھر کبھی موقع ملا تو تفصیل سے بتاؤں گا۔ " اس نے جواب دیا۔ لیکن میں اپنے تبادلے پر خوش ہوں۔ مجھے کلکتہ بھیجا جا رہا ہے، میں وہیں سے آیا تھا، وہاں میرے دوسرے قریبی عزیز دار بھی رہتے ہیں۔ باس نظمند آدمی ہے، ایسے لوگوں کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کرتا جو اس کے لئے کسی اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہوں۔ پی اے کی پوسٹ پر رہ کر ہزاروں خفیہ باتیں معلوم ہوتی رہتی ہیں، شاید اسی لئے باس نے مجھے میرے آبائی شہر پوسٹ کروا کر خوش کرنے کی کوشش کی ہو گی۔"
لیکن تبادلے کی کوئی وجہ تو ہو گی؟" میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن میرا اندازہ ہے کہ بخاری کو شاید شبہ ہو گیا میں آپ کی فائل میں دلچسپی لے رہا ہوں۔" آئی سی۔" میں نے حیرت کا اظہار کیا پھر کچھ سوچ کر پوچھا۔ "آپ کی جگہ دوسرا
آدمی کون آ رہا ہے؟" .
وہ بخاری کا خاص آدمی ہے، آپ نہیں جانتے اسے۔ اسے کہاں سے یہاں لایا جا رہا آپ کب تک چارج چھوڑیں گے؟" میں نے اپنی بات جاری رکھی۔ دراصل میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ ایک وقت کا کھانا میرے ساتھ کھائیں، مجھے خوشی ہو گی۔" میں آپ کی خوشی کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں، آپ مجھے پہلی ہی ملاقات میں بھلے آدمی لگے تھے، میں آپ کے ساتھ کھانا کھانا اپنے لئے باعث عزت بھی سمجھتا ہوں لیکن ہمارا ملنا مناسب نہیں ہو گا۔ " سروش نے ایک معقول جواز پیش کیا۔ ” بخاری کا شبہ اگر یقین میں بدل گیا تو آپ کے لئے دشواریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔" آپ سے تفصیلی ملاقات ہو جاتی تو مجھے محکمے اور عملے کے دوسرے افراد کے سلسلے میں بھی کچھ باتیں معلوم ہو جاتیں۔“ ڈونٹ دری۔ " سروش نے بڑے خلوص سے کہا۔ ”میں کلکتہ جا کر بھی آپ کو فراموش نہیں کروں گا فون پر رابطہ رکھوں گا۔ فی الحال میں آپ کو ایک اہم بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ بخاری کے ساتھ آپ کو بہت محتاط رہ کر چلنا ہو گا، وہ اپنے سوا کسی برانچ میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ میں ڈھاکہ میں گزشتہ تین سال سے اس عرصے میں آپ پہلے انسپکٹر ہیں جسے بخاری کے ساتھ لگایا جا رہا ہے
مجھے یقین ہے کہ اس میں بھی باس اور بخاری کی کوئی گہری چال شامل ہو گی۔" میں آپ کی بات کی تائید کروں گا۔ میں نے جواب دیا۔ ”بخاری نے مجھے سے کہ
بھی تھا کہ اب وہ میرے حصے میں سے بھی باس کے ساتھ فٹی ففٹی کرے گا۔" ” یہ بات اس نے آپ کو اعتماد میں لینے یا بے تکلفی پیدا کرنے کی خاطر کسی ہو گی ورنہ بخاری کے لئے دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔" سروش نے ایک بار پھر مجھے محتاط روی کا مشورہ دیتے ہوئے اپنے شبے کا اظہار کیا۔ "خدا کرے میرا اندازہ غلط ہو لیکن مجھے اس
میں کوئی گہری سازش ہی نظر آ رہی ہے۔"
سروش مجھے خاصی دیر تک اپنی خاص معلومات سے آگاہ کرتا رہا' اس نے رابطہ منقطع کیا تو میں نے کمال بنرجی کے گھر کے نمبر ڈائل کئے، میں جھرنا کو اپنی پوسٹنگ کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ اس نے رحیم الدین سے میری سفارش کی بھی ہے یا نہیں، حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ میں جھرنا کے ساتھ کم از کم گفت و شنید کا سلسلہ برقرار رکھوں اور تنہائی میں اس سے ملنے سے جہاں تک ممکن ہو دور رہنے کی کوش کروں، وہ کسی آڑے وقت میں میرے کام آسکتی تھی۔
تیسری گھنٹی پر کسی نے رسیور اٹھایا تو میں اپنی جگہ سنبھل گیا لیکن دوسری جانب سے جھرنا کے بجائے کرنل کمال بنرجی کی ٹھوس "ہیلو" کی آواز کانوں میں گونجی تو میں نے جلدی سے لائن کاٹ دی۔ اس رات میں سونے کے ارادے سے لیٹا تو ایک بار پھر میرے ذہن میں بوڑھے ملنگ کا تصور ابھر آیا اس کے کسے ہوئے جملے سیدھے ہاتھ سے نکا نکال کر دے اور الٹے قدموں جدھر سے آیا ہے ادھر ہی واپس لوٹ جا آگے بھونچال کھڑا ہے۔ میرے وجود میں گونجنے لگے۔ میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی سروش کی باتوں نے غالبا مجھے اس دیوانے کی کمی ہوئی بات یاد دلا دی تھی۔ میں کچھ دیر کروٹیں بدلتا رہا پھر لمبی تان کر سو
گیا۔
میری داستان المناک بڑی طویل ہے۔ میں درمیان کے کچھ حصے حذف کرتے ہوئے دلچسپی کے لئے اب اپنی زندگی کے اس دور کی طرف آنا چاہتا ہوں جو میرے المین بھی تھا اور بڑا اذیتاک بھی۔ وہ دور میری زندگی کا سب سے کربناک دور تھا دہ دور نہ آیا ہوتا تو شاید میں ان واقعات کو اپنے سینے میں ہی دفن رکھتا جو آج قلمبند کرنے بیٹھا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ قارئین میری کہانی سے عبرت حاصل کریں۔ اگر اس داستان کو پڑھنے والوں میں سے دو چار افراد بھی گمراہی کے راستے پر آگے بڑھتے بڑھتے سنبھل گئے تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔
بخاری کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے ڈیڑھ مہینے سے زیادہ ہو گیا۔ اس دوران مجھے اسے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا وہ ہر معاملے میں بے حد تجربے کار اور گھاگ آدمی تھا، اپنے شکار کے جسم کا خون اس طرح نچوڑتا تھا کہ اس کی پیاس بھی بجھ جائے اور پھڑ پھڑانے کا موقع بھی نہ ملے۔ وہ ناجائز تجارت کرنے والوں پر جو ہاتھ ڈالتا وہ بھر پور ہوتا۔ میرے اس کے تعلقات بھی اب دوستانہ ہو گئے تھے، وہ ہر طرح سے میرا خیال رکھتا تھا اور سامان میں خرد برد کرتے وقت اور مشیر نامہ بناتے وقت مجھے از خود سامنے سے ہٹا دیتا تھا تاکہ میری ایمانداری کا بھرم بھی قائم رہے اور وہ اپنی من مانی بھی کر سکے۔
اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں یہ بات بھی میرے علم میں آگئی کہ بخاری کی واقفیت انڈر ورلڈ کے کچھ گاڈ فادرس (God Fathers) سے بھی تھی، وہ در پردہ ان کی مدد بھی کرتا تھا اور کاروبار میں ان کے ساتھ کسی طے شدہ حصہ کا پارٹنر بھی تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ بے دھڑک کام کرنے کا عادی تھا، رحیم الدین بھی اس مذموم کاروبار میں تحمل بخاری کے برابر کا شریک تھا۔
ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں میں نے بخاری کے ساتھ مل کر چار پانچ نہایت کامیاب کیس کئے، میں دیا نتداری سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے اس بات کا مطلق علم نہیں کہ بخاری نے ان کیسز میں کیا کمایا اور کس قدر ہیرا پھیری کی۔ میں انونٹری (Inventory) اور مشیر نامہ بنتے وقت اِدھر اُدھر ہو جاتا تھا تا کہ قسم کھانے اور حلف اٹھانے کی گنجائش رہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان کیسز میں بخاری نے کم از کم پچھترلاکھ کی رقم مجرموں سے ایٹھی ہو گی، جو سامان خرد برد کیا وہ علیحدہ تھا۔ بخاری کی وجہ سے رحیم الدین سے میرے مراسم بڑھنے لگے۔ اس نے خاص طور پر تعریفی اسناد اور انعام کے لئے بھی اوپر رکمنڈ کیا اور ذاتی طور پر بھی مجھے نوازا تھا۔ بخاری ہر کیس کے بعد مجھ سے ایک بات ضرور کہتا تھا۔
"سمندر کی طرح انسان کی زندگی میں بھی مدوجزر پیدا ہوتا رہتا ہے اس لئے میں تمہارا حصہ بڑی ایمانداری سے محفوظ کرتا جا رہا ہوں، جب بھی تم چاہو گے وہ رقم تمہیں صرف چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر مل جائے گی۔" لیکن تم نے پہلے تو کچھ اور کہا تھا۔ میں بے تکلفی سے اس کو یاد دلاتا۔ ” تم نے کہا تھا کہ میرے حصے کی رقم تم اور باس برابر بانٹ لیا کرو گے۔"
وہ صرف مذاق تھا لیکن یہ بات میں بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں، تمہارا حساب کتاب علیحدہ ہے۔" وہ مجھے معنی خیز انداز میں اکسانے کی کوشش کرتا کہ میں بھی اپنی قسم توڑ کر اس کے ساتھ حصوں کے لین دین میں شریک ہو جاؤں۔"شاید اس زندگی میں ایسا ممکن نہ ہو گا۔ " میں بڑے اعتماد سے جواب دیتا۔ ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں دو بار میری ملاقات جھرنا سے بھی ہو چکی تھی لیکن اس کے لئے مجھے کرنل کی کوٹھی پر نہیں جانا پڑا تھا، دونوں ملاقاتیں آفیسرز کلب میں ہوئیں۔ ان دونوں موقعوں پر بخاری میرے ساتھ تھا اس لئے جھرنا کو مجھ سے کھل کر بات کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن میں نے کلب میں جھرنا اور دوسرے ممبران کے درمیان بے تکلفی سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ بے شرمی کے راستوں پر بہت آگے نکل چکی تھی۔ جب جب ہماری نگاہیں آپس میں چار ہوتیں وہ پلکوں کی ایک ایک جنبش سے شکوہ و شکایت شروع کر دیتی۔ بخاری نے اتنی جلدی مجھ سے بے تکلف پیدا کی تھی کہ کبھی کبھی مجھے خود بھی تعجب ہو تا تھا، وہ ہر بات مجھ سے کھل کر کرنے لگا تھا، ہر طرح سے میرا خیال رکھتا تھا۔ خاص طور پر میں اس بات پر اس کا شکر گزار بھی تھا کہ اس نے میری ایمانداری کا بھرم قائم رکھنے میں ہر اعتبار سے میری مدد کی تھی، یہ اور بات ہے کہ اس میں اس کا مفاد بھی شامل تھا۔
بہر حال ہمارے درمیان دوستی اور اعتماد کی فضا بحال ہوئی تو میرے ذہن سے وہ خطرات بھی نکل گئے جن کا احساس سروش نے دلایا تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ اس عرصے میں جوگی سیتارام کی پراسرار شخصیت نے بھی میرا پیچھا چھوڑ دیا تھا لیکن یہ سب کچھ میرا وہم کاش میں اس بات کو جان لیتا کہ میں جن شاہراہوں کے اوپر ہنستا مسکرا تا قدم اٹھا رہا کے نیچے میرے لئے ایک خطرناک اور ناقابل یقین الاؤ بھی دہک رہا تھا جس کے
بھڑکتے ہوئے شعلے مجھے اپنی لپیٹ میں لینے کی خاطر تیزی سے لپک رہے تھے۔ مجھے نو جولائی کا وہ دن آج بھی روز اول کی طرح یاد ہے جب میری زندگی میں ایسا بھونچال آیا جس کی یادیں آج بھی مجھے کانپ اٹھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اس دن میں تین روز بعد ایک بڑا کیس نپٹا کر تھکا ماندہ گھر لوٹا تھا، اس کیس میں بخاری نے ایک موٹی آسامی پر ہاتھ ڈالا تھا جو شروع شروع میں تو بہت اچھلا کو دا تھا اس نے مجھے اور بخاری دونوں کو خطرناک انجام سے دوچار کر دینے کی قسم کھائی تھی لیکن پھر بخاری نے جو شکنجہ استعمال کیا اس میں پھسنے کے بعد اس نے اپنی زبان تو بند کرلی تھی لیکن اس کی آنکھیں آخری وقت شعلے اگلتی رہی تھیں۔
میں تین روز سے ایک پل کے لئے بھی سو نہ سکا تھا اس لئے جلیل کے بے حد اصرار کرنے پر زبردستی دو چار تھے حلق کے نیچے اتارے پھر اپنی خواب گاہ میں جا کر لباس تبدیل کئے بغیر ہی اپنے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ مجھے اس بات کا بھی مطلق علم نہیں ہوا کہ جلیل کس وقت گیا اس کے پاس باہر کے دروازے کی ایک چابی موجود تھی اس لئے غالباً وہ مجھے اپنے جانے کی اطلاع دینے کی کوشش میں ناکام ہو کر خاموشی سے رخصت ہو گیا تھا میں گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا جب مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کئی افراد مل کر میرے اپارٹمنٹ کا دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ میں کچی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھا وہ میرا وہم نہیں تھا میرے اپارٹمنٹ کے دروازے کو بڑی شدت سے پیٹا جا رہا تھا میں لپکتا ہوا دروازے کے قریب گیا۔
کون ہے ۔ کیا مصیبت آگئی ہے؟" میں نے بلند آواز سے دریافت کیا تو دوسری جانب سے دروازے پر ضربیں لگانی بند کر دی گئیں۔ دروازہ کھولو۔ باہر سے کسی نے گرج کر کہا۔ تمہیں کس سے ملنا ہے؟" میں نے پوچھا۔ میں پولیس انسپکٹر ہوں۔" اس بار تحکمانہ لہجے میں جواب ملا۔ دروازہ کھولو ہمیں تمہارے اپارٹمنٹ کی تلاشی لینی ہے۔" میں ایک لمحے کو گڑ بڑا گیا، میرے ذہن میں اس خطرناک مجرم کا تصور ابھر آیا جسے شکنجوں میں جکڑ کر بے بس کیا تھا، اس کے کیس پیپرز بھی بخاری نے تیار کی تھی البتہ دو لاکھ کی رقم اینٹھنے کے بعد اسے درمیان سے نکال دیا
↑
تھا، اس کا ذکر بھی مجھ سے بعد میں کیا گیا تھا۔ بخاری نے کہا تھا۔
وہ شخص جو اس قدر اچھل کود رہا تھا ایک سابق ڈیفنس سیکرٹری کا سالا ہے اور بہنوئی کے تعلقات کی آڑ لے کر بہت عرصے سے لمبے لیے ہاتھ مار رہا تھا' میں کئی بار اسے نظر انداز کر چکا تھا لیکن آج اس کی موت ہی آئی تھی جو میرے آنکڑے میں پھنس گیا۔" "میرا خیال ہے کہ تم نے اسے چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ ایسے افراد وقتی طور پر گلو خلاصی کے لئے قدموں پر بھی گر جاتے ہیں لیکن بعد میں بڑی چیخ و پکار کرتے ہیں۔" ”میں نے اسے بہت سستے داموں چھوڑ دیا ہے۔" بخاری لا پرواہی سے مسکرا کر بولا۔ ”میں نہیں سمجھتا کہ اب وہ اچھل کود کرنے کی حماقت کرے گا۔ دو لاکھ کی حقیر رقم اس موٹے مرغے کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی، البتہ یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ وہ
اپنے دونوں ساتھیوں کو چھڑانے کی خاطر ضرور ہاتھ پیر مارے گا۔" ہو سکتا ہے تمہارا ہی اندازہ درست ثابت ہو۔" میں نے دو لاکھ والی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ سو فیصد درست ثابت ہو گا۔ " بخاری نے بڑے یقین سے کہا۔ ”میں نے اس کے سامان میں کوئی خرد برد نہیں کی اس لئے وہ دو لاکھ کا بوجھ بڑی آسانی سے برداشت کر لے گا۔ تمہاری اطلاع کے لئے یہ بھی بتادوں کہ عین ممکن ہے کہ یہ کیس عدالت میں جانے سے پہلے ہی غنتر بود ہو جائے۔" کیا مطلب؟" میں چونکا۔ باس ایسے افراد کو ہمیشہ احسانوں کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے جن کی جڑیں مضبوط اور دور تک پھیلی ہوں۔ میں جس ڈیفنس سیکرٹری کی بات کر رہا ہوں وہ ہماری موجودہ حکومت کا بھی ایک اہم رکن ہے۔" میرے ذہن میں بخاری کی باتیں گونج رہی تھیں جب دروازے کو زور سے ٹھو کر مار کر دوبارہ اسے کھولنے کا حکم دیا گیا۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو ایک باوردی انسپکٹر تین مسلح سپاہیوں کے ساتھ دندناتا ہوا اندر گھس آیا، باہر گیلری میں قرب و جوار میں رہنے کچھ پڑوسی بھی جمع ہو چکے تھے۔ تمہارا نام آذر ہے؟" پولیس انسپکٹر نے مجھے تیز
گھورا۔
آبکاری و محصولات کے محکمے سے تعلق ہے تمہارا؟" دوسرا سوال بھی حقارت سے
”جی ہاں لیکن آپ حضرات "
”میرے پاس باقاعدہ سرچ وارنٹ ہے۔ انسپکڑ نے مجھے بڑی رعونت سے جھڑک دیا۔ "تم نے جس شخص سے دو لاکھ کی رقم بطور رشوت لی ہے اس نے تمہارے خلاف باقاعدہ پرچہ کرا دیا ہے۔" یہ سراسر بکواس ہے۔" میں نے تلملا کر اپنی صفائی پیش کی۔ ”میں نے اپنی پوری ست کے دوران ایک پیسہ بھی کسی سے لینے کی کوشش نہیں کی۔" "جو شخص بھی پکڑا جاتا ہے وہ تمہاری ہی طرح ایمانداری کی قسمیں کھانی شروع کر دیتا ہے۔" انسپکڑ نے حقارت سے کہا۔ ” ابھی معلوم ہو جائے گا کہ تمہاری ایمانداری کا دعوی کہاں تک درست ہے۔" میں نے کسی مجسٹریٹ کی موجودگی کے بغیر تلاشی لینے پر احتجاج کیا لیکن انسپکٹر اپنے سپاہیوں کو اشارہ کر چکا تھا جنہوں نے میرے اپارٹمنٹ کا سامان کھنگالنا شروع کر دیا تھا۔ انسپکٹر میرے ساتھ کھڑا مجھے بڑی کینہ تو نظروں سے گھور رہا تھا، میں نے اسے زیادہ چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ میرے ہاتھ صاف تھے ، مجھے اپنے آپ پر اعتماد تھا، مجھے یقین تھا کہ انہیں تلاشی مکمل کرنے کے بعد خفت کا سامنا کرنا ہو گا۔
پچیس منٹ تک وہ بڑی بے دردی سے میرے سامان کو الٹنے پلٹتے رہے پھر ایک سپاہی نے میرے کوٹ کی تلاش لینی شروع کی جو ہینگر پر لٹکا تھا معاً ایک شبہ میرے ذہن میں گہری سرعت سے ابھرا میں سپاہی کی طرف تیزی سے لپکا لیکن وہ اتنی دیر میں اپنا کام دکھا چکا تھا، اس کا ہاتھ میرے کوٹ کی اندرونی جیب سے باہر برآمد ہوا تو اس میں ہزار روپے کے نوٹوں کی پوری گڈی موجود تھی، میرا سر چکرا کر رہ گیا، میرے ساتھ دھوکا ہوا تھا، انہوں نے مجھے پھانسنے کے لئے جعلسازی کا جال بچھایا تھا۔ نوٹوں کا وہ چارہ مجھے پھانسنے کے لئے وہ اپنے ساتھ ہی لائے تھے۔
سر!" پولیس مین نے انسپکٹر کی طرف نوٹوں کی گڈی بڑھاتے ہوئے اپنی گھٹیا کوئی خوشی کا اظہار کیا۔ "یہ رہی مطلوبہ رقم "
انسپکڑ نے کہا پھر مجھے چھتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر بولا۔ ”اب تم اپنی
صفائی میں کیا کہو گے ؟
" تم نے مجھے کسی کے کہنے پر دھوکے سے ٹریپ کیا ہے۔" میں نے خون کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا۔ یہ گڈی میرے کوٹ کی جیب سے برآمد نہیں ہوئی، تم اسے اپنے ساتھ لائے تھے ، یہ سراسر زیادتی ہے، بد دیانتی ہے۔" میں اپنی صفائی میں احتجاج کرتا رہ گیا لیکن انسپکٹر نے باہر سے موقع کے دو گواہ بلا کر ضروری کارروائی مکمل کرنے میں بھی بڑی پھرتی کا مظاہرہ کیاکہ مجھے یقین تھا کہ وہ گواہ بھی
اس کے مخصوص آدمی رہے ہوں گے۔ انسپکٹر! میں نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی۔ " تم نے اپنی وردی کے ساتھ
بھی غداری کی ہے لیکن میں تمہیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دوں گلہ " میں نے کرنل کمال بنرجی کو فون کرنا چاہا، جھرنا سے بات ہو جاتی تو وہ بھی میری مدد کو ضرور تیار ہو جاتی لیکن انسپکٹر نے مجھے فون کرنے کی اجازت نہیں دی سپاہیوں نے اس کے اشارے پر میرے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی ، میں چیخنا چلاتا رہ گیا۔
تھانے میں مجسٹریٹ بھی موجود تھا جس نے کاغذات پر اپنے دستخط اور مہر لگا کر میرے تابوت پر آخری کیل بھی ٹھونک دی، اس نے بھی کاغذات پر دستخط کر کے جائے وقوعہ پر اپنی جھوٹی موجودگی ظاہر کر دی تھی گویا جو کچھ ہوا تھا وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا کہیں اوپر سے ملنے والے احکامات نے ان سب کو ضمیر فروشی پر مجبور کر دیا تھا۔
"سر! میں نے براہ راست مجسٹریٹ سے کہا۔ ”میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ
سراسر دھاندلی ہے۔" تم کو جو کچھ کہنا ہے، جو صفائی پیش کرنی ہے وہ عدالت کے روبرو پیش کرنا ۔ " راشی مجسٹریٹ نے سپاٹ لہجے میں ایک رٹا رٹایا جواب دیا پھر دیگر ضروری کاغذات کی خانہ پان کر کے چلا گیا۔ مجسٹریٹ کے جانے کے بعد انسپکٹر اور اس کے عملے کے افراد نے میرے ساتھ وہی برتاؤ کیا جس کے احکامات انہیں پہلے سے مل چکے تھے، مجھے گندی گندی غلیظ اور ناقابل گالیوں سے نوازا گیا جوتوں اور ٹھوکروں سے میری تواضع کی گئی، مجھے ننگا کر کے فرش پر ادھر اُدھر گھسیٹا گیا، میرے سر کے بالوں کو بڑی بے دردی سے نو چا گیا“
میرے منہ پر تھوکا گیا' میرے گالوں پر تھپڑ اور گھونسوں کی بارش کی گئی، میں تڑپتا رہا احتجاج کرتا رہا، بلبلاتا رہا لیکن پولیس کے وہ فرضی ایماندار کارندے مجھے پر بے ایمانی کا جھوٹا الزام لگا کر ڈنڈے برساتے رہے، تھرڈ ڈگری کے مختلف طریقے آزماتے رہے، مجھے برف کی سل پر ننگا لٹا کر میرے پیروں کے تلووں پر بید سے شدید ضربیں لگائی گئیں پھر اسی نازک حالت میں اٹھا کر جبراً دوڑایا گیا۔ یہ حربہ شدید ضربوں کے نشانات کو چھپانے کے
لئے اختیار کیا جاتا ہے۔
انسپکٹر ! میں نے نڈھال ہو کر کہا۔ ”اللہ سے ڈرو ایک دن تمہیں اسے بھی منہ
اس سے پہلے مجھے اپنے بڑے افسروں کو بھی منہ دکھاتا ہے۔“ وہ زہر خند سے بولا۔
"قیامت جب آئے گی تب دیکھا جائے گا۔ " لیکن مجھے معلوم تو ہو کہ آخر مجھے کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔" میں نے ہانپتے کانپتے ہوئے پوچھا۔ ”یہ تو ہمیں بھی پتہ نہیں میری جان!" ایک ہٹے کٹے سپاہی نے مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا۔ ”ہم حکم کے بندے ہیں، آرڈر کی تعمیل کر کے خالص حلال کی روٹی کھاتے ہیں۔" تھوڑی دیر ستانے کے بعد وہ دوبارہ میری دھنائی کٹائی میں مشغول ہو گئے۔ میرے اوپر ایمانداری کے عوض ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، میری کربناک چیخیں در و دیوار سے ٹکراتی رہیں لیکن ان ظالموں کو میری حالت پر رحم نہ آیا پھر جب میری حالت نازک ہو گئی، مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی تو دو سپاہیوں نے ڈنڈا ڈولی کر کے مجھے حوالات کے ننگے فرش پر ڈال کر لاک اپ کر دیا۔
======
گرفتاری کے دوسرے دن مجھے عدالت میں پیش کر کے دس دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ میں بہت چینچا چلایا میں نے جیل کسٹڈی کے لئے درخواست کی لیکن وہ سب ایک ہی تھا کے لئے بے تھے۔ انہوں نے میرے سلسلے میں اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ وہ گونگے ہو گئے تھے، تھانے لا کر مجھے پھر اسی کمرے میں پہنچا دیا گیا جہاں مظالم توڑے جاتے تھے ، مجھے بار بار ہوش میں لایا جاتا میری
طبیعت بحال کرنے کی خاطر وہ مجھ سے دل لگی کی فحش باتیں کرتے پھر جب ذرا میرے ہوش ٹھکانے آتے تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مشینی انداز میں چلنے لگتے، رات ہوتی تو مجھے لاک اپ میں ننگے فرش پر ڈال دیا جاتا۔ دو دن گزر گئے۔ میرا خیال تھا کہ دفتر کے عملے کی طرف سے کوئی نہ کوئی مدد کو ضرور آئے گا لیکن کسی نے بھی آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ تیسرے دن ایک اکسائز آفیسر مجھ سے ملنے آیا۔ مجھے اندھیرے میں امید کی ایک مدھم سی کرن نظر آئی لیکن جب اس نے ملاقاتی کمرے میں پولیس انسپکٹر کے سامنے ایک سیل بند لفافہ تھما کر اس کی رسید پر دستخط کرنے کو کہا تو میری آنکھوں کے نیچے اندھیرا پھیل گیا میں نے لرزتے ہاتھوں سے بمشکل لفافہ کھولا۔ میرا اندازہ غلط نہیں ثابت ہوا مجھے فوری طور پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ زیادتی ہے سر! میں نے اپنے آفیسر سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی۔ "مجھ پر
جھوٹا کیس بنایا گیا ہے۔ میں نے کسی سے رشوت نہیں لی۔" اس کا فیصلہ اب عدالت ہی کرے گی لیکن باس کو تم دونوں سے اس گھٹیا حرکت کی امید نہیں تھی۔ " اس نے نظریں بدل کر کہا۔ "تمہاری حرکتوں نے محکمے کی ساکھ کو خراب کرنے کی غلطی کی ہے، دوسرے کو اس کا انعام قدرت کی جانب سے مل گیا اب
تمہاری باری ہے۔" دوسرا کون ؟" میں نے تعجب سے پوچھا۔
تحمل بخاری آفیسر نے بدستور نفرت سے جواب دیا۔ ” ایک لاکھ کی رقم اس کی لاش سے بھی برآمد ہو چکی ہے۔"
لاش میں حیرت سے اکسائز آفیسر کا منہ تکنے لگا۔
ہاں۔" اس نے بدستور سخت لہجے میں کہا۔ وہ ایک لوڈنگ ٹرک سے ٹکرا کر حادثے میں جان بحق ہو گیا، پولیس نے تفتیش کے دوران اس کی جیب سے وہ نصف رقم بھی برآمد کر لی جو تم دونوں نے بانٹی تھی۔" یہ جھوٹ ہے سر! میں نے بڑی عاجزی سے کہا۔ ”میں نے اپنی تمام زندگی میں سے حرام کی ایک پائی ایک ٹکا بھی نہیں لیا۔"
اب ان فضول باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا تم نے جو کیا ہے اب اس کی سزا
بھی تمہیں کو بھگتنی پڑے گی۔
اکسائز آفیسر رسید پر میرے دستخط لے کر واپس چلا گیا۔ بخاری کی موت کی اطلاع سن کر مجھے تعجب ہوا' پھر ایک خیال میرے ذہن میں ابھرا تو مجھے ہنسی آگئی۔ بخاری طبیعی موت نہیں مرا تھا۔ ایک حادثے کا شکار ہو گیا تھا اور میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ حادثہ بھی کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت پیش آیا ہو گا۔ جو بااثر لوگ مجھے بے گناہ رشوت کے گھناؤنے الزام میں پھنسا سکتے تھے وہ بخاری کو بھی مروانے سے باز نہیں آئے ہوں گے۔ بخاری کو اس کے کئے کی سزا ملی تھی، میں اس کے ساتھ کیس میں شامل تھا اس لئے میں بھی جال میں پھنس گیا تھا۔ بخاری کا جرم سنگین تھا اسے موت کی نیند سلا دیا گیا، اس کے گراؤنڈ ورلڈ کے گاڈ فادرس بھی اس کی مدد کو نہ آسکے۔ سارے تعلقات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ رحیم الدین نے بھی آنکھیں پھیر لی ہوں گی اسے بخاری سے زیادہ اپنی ملازمت پیاری ہوگی۔ محکمے میں بہت سارے انسپکٹر بخاری سے پرخاش رکھتے تھے، اب سب نے سکون کا سانس لیا ہو گا، ان کے درمیان بخاری کی خالی جگہ حاصل کرنے کی خاطر رسہ کشی شروع ہو گئی ہو گی۔ میں اپنی ایمانداری کے جرم کی پاداش میں جیل میں بے یارو
مددگار پڑا ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔ کس بات پر مسکرا رہا ہے؟ کی اولاد " انسپکٹر نے مجھے ٹھوکر مار کر گندی
گالی دی تو میں خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گیا۔
" صاحب!" ایک سپاہی نے کہا۔ " یہ آپ کو آنکھیں دکھاتا ہے۔" لے جاؤ اس حرام کے پلے کو اٹھا کر ڈرائنگ روم میں۔ انسپکٹر نے زہر خند سے کہا۔ ”اس کے کھانے کا وقت ہو رہا ہے، پیٹ بھر کر کھانا کھلانا۔"
انسپکٹر کے اشارے پر وہ مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے پھر اسی عقوبت خانے میں لے گئے جہاں دوسرے مجرموں پر پہلے سے ظلم تو ڑا جا رہا تھا۔ تین چار مسٹنڈے قسم کے سپاہیوں نے پھر میرے صبر کو آزمانا شروع کر دیا، مجھے پر بے ہوشی طاری ہونے لگی تو انہوں نے ہاتھ روک لئے۔
اس رات میں لاک اپ میں پڑا موت کی دعائیں مانگ رہا تھا جب کسی کے زور زور ہسنے کی آواز سن کر میں نے آنکھیں کھول دیں۔ جو ملنگ مجھے پہلے روز دفتر میں ملا تھا اس وقت میرے برابر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا میری خستہ حالت پر ہنس رہا تھا
کیا آپ اس نام کے کسی آدمی سے واقف ہیں۔"
نان سنس۔" اس نے نفرت سے جواب دیا۔ ”ابھی میرا ذوق اتنا پست بھی نہیں ہوا ہے کہ میں جوگیوں اور پجاریوں کو گھاس ڈالنی شروع کر دوں لیکن تم نے خاص طور پر جوگی سیتارام کے بارے میں کیوں دریافت کیا؟" "میرا اندازہ ہے کہ جوگی سیتارام کسی پرانی دشمنی کی وجہ سے رحیم الدین اور بخاری کو میرے خلاف اکسا رہا ہے۔" میں نے دروغ گوئی سے کام لیا۔فکر مت کرو، میں تمہاری خاطر بخاری کو کریدنے کی کوشش کروں گی۔" ابھی نہیں۔" میں نے تیزی سے کہا۔ "اگر ضرورت پیش آئی تو میں آپ کو ضرور زحمت دوں گا۔" " میرا خیال ہے کہ تم ابھی تک کرنل کی وجہ سے مجھ سے خوفزدہ ہو ؟" جی نہیں لیکن میری درخواست ہے کہ آپ ابھی کم آن آذر! ڈونٹ بی سو چائلڈش (Don't be so Childish)۔" جھرنا نے بڑی بے تکلفی سے مجھ پر اپنا حق جماتے ہوئے کہا۔ ”یہ تم نے کیا آپ آپ لگا رکھی مجھے بے تکلف دوستوں کی زبان سے اس قسم کی فارمیلیٹیز ہے۔ (Formalities) بھی زہر لگتی ہیں۔ آئندہ سے تم مجھے صرف تم کہہ کر مخاطب کرو گے
پر امس کرو۔" کوشش کروں گا۔"
.
اس وقت کیا صرف سیتارام کی خاطر فون کیا تھا؟" جھرنا کی آواز میں اس کے اندر
کی عورت جاگنے لگی۔
میں آپ سوری تم سے دوبارہ رابطہ قائم کروں گا۔" میں نے در پیش حالات کی وجہ سے ڈپلومیسی سے کام لیا پھر رسیور کریڈل پر رکھ کر نائٹ بلب بھی ہونے کی خاطر کروٹ بدل لی۔ جھرنا کی زبانی مجھے کرنل اور رحیم الدین کی کہانی معلوم ہو گئی تھی، بخاری نے بھی یہی بتایا تھا وہ دونوں ایک دوسرےک نام تک سننا نوارا نہیں کرتے۔ "
اس رات میری آنکھ دیر سے لئی دوسرے دن میں دفتر گیا تو مجھے بخاری کے رویے میں حیرت انگیز بتدیلی نظر آئی۔ وہ مجھ سے جس تپاک سے ملاوہ میرے لئے حیرت انگیزی خالی تھا۔ دفتر میں عمل کے دوسرے افراد نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا تھا۔ کچھ دیر ہم اپنے آفس میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، میں نے اس سے گئے دن دفتر نہ آنے کا سبب دریافت کیا تو وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔ میں بہت دنوں سے ایک پارٹی کے پیچھے لگا ہوا تھا، مخبر نیا ہے اس لئے میرا خیال تھا کہ شاید مجھے ڈبل کراس کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کل مجھے اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ میرا شکار اب میری دسترس سے زیادہ دور نہیں ہے۔" بخاری نے مجھے مختصراً ! تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔ ”وہ سونے کا اسمگلر ہے لیکن بھارتی اور غیر ملکی کرنسی میں بھی دلچسپی لیتا رہتا ہے۔ میری لسٹ پر اس کا نام تھا مگر میں نے ڈھیل دے رکھی تھی۔
کیا کوئی بااثر آدمی ہے؟" میں نے پہلو بدل کر پوچھا۔ ”ہاں حکومتی حلقوں میں بھی جانا پہچانا جاتا ہے۔" بخاری نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ یہاں بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے سے پیشتر بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے، خاص طور پر ایسے افراد سے تو بہت زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے جو کبھی حکومت مشینری کا کل پرزہ بھی رہ چکے
ہوں۔"آئی سی۔" میں دلچسپی لیتے ہوئے بولا۔ "کیا ہمارا مطلوبہ شکار بھی کابینہ میں رہ چکا
ہے یا کسی بڑے عہدے پر فائز تھا۔" دو چار روز کی بات اور ہے۔" بخاری کسی ماہر شکاری کے انداز میں زیر لب ! مسکرایا۔ ”میں کوشش کروں گا کہ اس کیس میں تم کو بھی اپنے ساتھ رکھوں، اس بہانے تمہیں یہاں کے حالات کا کچھ عملی تجربہ بھی ہو جائے گا۔ "
بخاری مجھے اپنے اسی کیس کے بارے میں موٹی موٹی تفصیل بتاتا رہا، میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ ہر معاملے میں بہت محتاط رہ کر کام کرنے کا عادی ہے دوپہر کو کھانے کے وقت وہ مجھے اپنے ساتھ دفتر کی کینٹین میں لے گیا۔ وہاں بھی ہم دوسروں سے قدرے الگ ایک بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ میں اس کی باتوں سے اندازہ لگا رہا تھا کہ وہ جس شکار رہا ہے اس کے گرد اس نے بڑا مضبوط جال بچھا رکھا ہے۔
کیا بہت بڑا کنسائمنٹ (Consignment) ہاتھ آنے کی امید ہے؟" میں نے دبی زبان میں پوچھا تو وہ مسکرانے لگا۔
میں بلاوجہ خوش فہمی کا شکار نہیں ہوتا ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہاتھ کچھ بھی نہ لگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ کیس ہمارے لئے ایک ریکارڈ ثابت ہو جو کچھ میں سوچ رہا ہوں اس سے زیادہ ہاتھ لگ جائے۔"
کیا وہ شخص بذات خود بھی شامل ہو گا؟" میں نے پوچھا پھر وضاحت کرتے ہوئے عام طور سے بڑے اسمگلر خود سامنے نہیں آتے، ان کے کارندے کام کرتے ہیں، وہ دور رہ کر ان کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ قسمت کا پانسہ اگر سیدھا نہ پڑے تو انہیں بچانے کی خاطر ہاتھ پیر مار سکیں۔" عام طور سے ایسا ہی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی بڑی مچھلیاں خود بھی آگے آگے رہتی ہیں تاکہ بات کو موقع ہی پر نبٹایا جا سکے۔" بخاری نے کچھ توقف سے جواب دیا۔ "مجھے ایسے کیسز (Cases) میں زیادہ لطف آتا ہے جب ہمارا واسطہ کسی وہیل یا شارک مچھلی سے پڑتا ہے، جال میں پھسنے کے بعد بھی وہ بڑا زور لگاتی ہیں، شکاری کو دانتوں پسینہ آجاتا ہے، آخری وقت تک ان پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے لیکن ایک بار جب ان کا زور ٹوٹنے لگتا ہے تو پھر وہ سودے بازی پر اتر آتی ہیں۔ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ بات آگے نہ بڑھنے پائے ورنہ ان کی ساکھ پر اچھا اثر نہیں پڑتا، وہ دو کی جگہ دس خرچ کرنے میں بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔" بخاری نے مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بے تکلفی سے کہا۔ "میرے جیسا آدمی ہو تو ایک تیر سے دو شکار کر لیتا ہے جیب بھی گرم ہو جاتی ہے اور سامنے والے پر احسان کر کے اسے اپنا غلام بھی بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگ کبھی کبھی بڑے کار آمد ثابت ہوتے ہیں لیکن تمہارے جیسا کٹر مسلمان ہو تو پھر بات بگڑ جاتی ہے، جو دولت وہ تمہیں خریدنے کی خاطر دینے پر آمادہ ہوتا ہے بعد میں اسی رقم سے کوئی ایسا وکیل کھڑا دیتا ہے جو عدالت میں ہماری ایمانداری کی دھجیاں ادھیڑ کر رکھ
دیتا ہے۔"مگر میرا خیال ہے کہ جیت ہمیشہ ایماندار ہی کی ہوتی ہے۔" میں نے ایک بار پھر واضح کرنے کی کوشش کی کہ میں اپنی دیانتداری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں
میں جانتا ہوں کہ پتھر میں جو تک نہیں لگتی ، تمہاری اطلاع کے لئے یہ بھی بتا دوں کہ میں کل باس سے بھی صرف تمہارے سلسلے میں بات کر چکا ہوں۔“ "کیا فیصلہ ہوا؟" میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔
ہو سکتا ہے کہ باس آج کسی وقت تمہیں بلا کر خود بات کرے۔“کچھ نہ کچھ تو اندازہ ہو گا؟" میں نے اسے کریدنے کی کوشش کی۔
”میرا خیال ہے کہ وہ کچھ نرم ضرور پڑا ہے۔" بخاری نے مجھے چھبتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر کہا۔ "تمہاری کوئی نہ کوئی ادا ضرور بھا گئی ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ پٹنہ سے کسی کا سفارشی فون آگیا ہو جس کی وجہ سے باس پسیج گیا ہو، ورنہ پہلے اس نے تمہارے
بارے میں بڑے خطرناک فیصلے کئے تھے۔"
بخاری کا جواب سن کر میرے ذہن میں فوری طور پر جھرنا کا خیال ابھرا گزشتہ رات میری اس سے بات ہوئی تھی، اس نے کہا بھی تھا کہ کرنل کو کسی طرح اس کی اور رحیم الدین کی بڑھتی ہوئی بے تکلفی کی بھنک مل گئی تھی جس کے بعد کرنل نے اپنا رسوخ استعمال کر کے اس کا تبادلہ کرا دیا تھا۔ جھرنا نے میرے سلسلے میں بڑی بے غیرتی سے اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس کے اختیار میں ہوتا وہ مجھے بخاری سے بھی دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی۔ میرا ذہن قلابازیاں کھانے لگا ہو سکتا ہے کہ جھرنا نے مجھے خریدنے کی خاطر براہِ راست رحیم الدین سے بات کی ہو ؟ اس احسان کے عوض وہ مجھے بھی اپنی خواہشات کا غلام بنانے کے لئے سوچ رہی ہو ؟ رحیم الدین اور کرنل کے درمیان باقاعدہ ٹھن چکی تھی۔ جھرنا کا صرف ایک فون ہی میری ساری پریشانیاں ختم کر سکتا تھا۔ رحیم الدین اگر اس کی زلفوں کا شکار تھا تو جھرنا نے یقیناً اس کے خلاف بھی کوئی نہ کوئی ایسا مواد ضرور جمع کر رکھا ہو گا جو کسی آڑے وقت میں اس کے کام آسکے؟
کیا سوچ رہے ہو؟" بخاری نے میری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا تو معاً مجھے اس بات کا خیال آگیا کہ جھرنا سے میری بات کل رات ہوئی تھی اگر اس نے مجھ سے منقطع کرنے کے بعد رحیم الدین سے بات کی تھی تو پھر اس کا علم بخاری کو قبل از طرح ہو گیا جبکہ بخاری نے دوپہر میں کسی وقت ملاقات کی ہو گی۔ میرے ذہن
ایک وسوسے جنم لینے لگے۔
" تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔" بخاری نے مجھے دوبارہ ٹولنے کی کوشش ی۔ اب کیا الجھن پریشان کر رہی ہے؟"آپ باس سے کب ملے تھے ؟" میں نے اپنی تسلی کی خاطر دریافت کیا۔ ”میری اور باس کی ملاقات عام طور پر رات گئے ہوتی ہے۔" بخاری نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ "تم نے کہیں نہ کہیں کسی دانشور کے اس قول کو ضرور پڑھا ہو گا کہ رات کی تاریکی بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے، میں بھی ایسے کام رات ہی کو کرتا ہوں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رات کے وقت کسی کے تعاقب یا نگرانی کرنے کا سراغ زیادہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔" آپ یقیناً بہت دور اندیش اور محتاط آدمی ہیں۔“ میں نے بخاری کا جواب سن کر سکون کا سانس لیا۔ جواب میں بخاری نے صرف مسکرانے پر اکتفا کی بہرحال میرا دل یہی گواہی دے رہا تھا کہ میں نے گزشتہ رات جھرنا کو فون کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ میرے حق میں مفیدہی ثابت ہوا۔ کینٹین سے دفتر میں آئے ہمیں زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جب رحیم الدین کی طرف سے میرا بلاوہ آگیا میں اٹھنے لگا تو بخاری نے کہا۔ باس کے ساتھ زیادہ آرگیومنٹ (Argument) کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ تمام کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ " میں خیال رکھوں گا۔"
ایک بات اور ذہن نشین کر لو۔ " بخاری نے گہری سنجیدگی سے کہا۔ "میں نہیں کہہ سکتا کہ باس نے کس کی سفارش پر تمہارے ساتھ نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے، عام حالات میں وہ جو ارادہ کر لیتا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر قدم پیچھے نہیں ہٹانا۔ اگر اس نے تمہاری کسی بات سے خفا ہو کر دوبارہ پرانا راستہ اختیار کر لیا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے فیصلوں میں لچک پیدا نہیں کر سکے گی۔"
میں نے دوبارہ اثبات میں سر کو جنبش دی پھر باس کے آفس کی طرف چل پڑا۔ ملنے کی خاطر مجھے سروش کے کمرے میں بھی جانا پڑا وہ مجھے دیکھ کر اس طرح دیکھا جیسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ نظر آگیا ہو۔
باس نے یاد کیا ہے۔" میں نے اس کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے دبی زبان میں کہا۔
میں جانتا ہوں لیکن کمرے میں چپراسی کے آجانے کے سبب سروش۔ خاموش ہو کر بیٹھنے کا اشارہ کیا پھر اسے فارغ کرنے کے بعد بڑے راز دارانہ لہجے میں بولا ”میں اس وقت زیادہ باتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ ہو سکتا ہے آج یا کل فون رابطہ قائم کروں لیکن ایک بات سمجھانا ضروری سمجھوں گا۔ باس سے گفتگو کرتے وقت کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالئے گا جو بعد میں آپ کے خلاف بطور ثبوت استعمال: سکے۔"
میں سمجھا نہیں۔"
اس وقت میں اس سے زیادہ سمجھا بھی نہیں سکتا۔“ اس نے ادھر اُدھر دیکھ کر سپاٹ لہجے میں کہا پھر انٹر کام کا رسیور اٹھا کر ایک نمبر دیا دیا دوسرے ہاتھ سے وہ ایک کاغز پر کچھ لکھنے لگا اندر سے رابطہ قائم ہوا تو اس نے تیزی سے کہا۔ "سر! مسٹر آذر گئے ہیں ۔ رائٹ سر!" رسیور پر بات کرنے کے بعد اس نے اپنا لکھا ہوا کاغذ میری طرف کھکاتے ہوئے بدستور سنجیدگی سے کہا۔ "آپ اندر جا سکتے ہیں، باس آپ ہی ؟ انتظار کر رہے ہیں۔" میں کاغذ پر نظر ڈالتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا، سروش نے بڑے مختصراً الفاظ میں صرف اتنا لکھا تھا۔۔۔ باتیں ٹیپ بھی ہو سکتی ہیں۔ میرے ذہن نے پھر جمناسٹک شروع کر دی ، کچھ دیر بیشتر بخاری نے بڑے یقین ہے کہا تھا کہ باس میرے حق میں نرم پڑ گیا ہے۔ میں اس کے ساتھ بحث کرنے کے بجائے اس کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کروں اور سروش کا کاغذ پر لکھا ہوا جملہ مجھے محتاط روش اختیار کرنے پر آمادہ کر رہا تھا۔ میں فوری طور پر سروش کے لکھے ہوئے جملے سے اتنا تو ضرور سمجھ گیا کہ باس دوسروں کے ساتھ اپنی گفتگو کے مخصوص حصے ٹیپ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا لیکن بخاری کی گفتگو اور سروش کے اس جملے میں جو تضاد تھا وہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔
میں رحیم الدین کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا وہ پہلے سے میرا منتظر انداز میں اس نے میرے سلام کا جواب دے کر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں خاموشی سے بیٹھ گیا تو اس نے سامنے رکھی ہوئی میری
پرسنل فائل کھول کر اس کے کچھ صفحات الٹ پلٹ کر دیکھے پھر اسے ایک طرف ہٹا کر
براہ راست مجھ سے مخاطب ہوا۔
یہاں ڈھاکہ میں تمہارا قیام کہاں ہے؟"
میں نے جواب میں اسے اپنا پتہ بتایا تو اس نے مجھے بہت غور سے دیکھتے ہوئے
ڑھا کہ میں تمہارے کچھ واقف کار بھی ضرور ہوں گے؟"
"جی نہیں۔ " میں نے سنبھل کر کہا۔ " براہ راست میں کسی کو نہیں جانتا۔" براہ راست سے تمہاری کیا مراد ہے؟“ اس نے وضاحت طلب کی۔ پٹنہ سے روانگی کے وقت مجھے وہاں کے ایک ڈی ایس پی مسٹر بشیر علی نے اپنے ایک پرانے واقف کار کے نام ایک تعارفی خط لکھا تھا جسے میں نے یہاں آنے کے بعد ریٹائرڈ کرنل کمال بنرجی تک پہنچا دیا تھا۔" میں نے صاف گوئی سے بات کرنے کی ٹھان لی اگر ایک جھوٹ بولتا تو پھر اسے نبھانے کے لئے دس بار دروغ گوئی کا سہارا لینا پڑتا۔ اس کے علاوہ مجھے یہ خیال بھی لاحق تھا کہ بخاری نے ممکن ہے میرے اور بنرجی کے بارے میں باس کو پہلے ہی باخبر کر دیا ہو، دوسرا خیال یہ بھی تھا کہ اگر میرا یہ اندازہ درست تھا کہ جھرنا نے میری خاطر کوئی سفارشی فون کیا ہے تو میرا کوئی گول مول جواب رحیم الدین کو شاید پسند نہ آتا۔
میری نظریں باس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ کمال بنرجی کا نام سن کر اس نے اس انداز میں پھریری لی جیسے وہ نام اس کی سماعت پر گراں گزرا ہو لیکن اس نے بڑی خوبصورتی سے اپنی کیفیت پر قابو پالیا۔
تم کمال بنرجی سے کتنی بار مل چکے ہو ؟" باس کا لجہ خشک اور کھردرا تھا۔ صرف ایک بار " میں نے جلدی سے وضاحت کی۔ ”دوسری بار میں ان کی مسسز کی کال پر وہاں گیا تھا لیکن مسٹر کمال سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ مسز کمال نے بتایا تھا کہ انہیں اچانک شکار پر جانا پڑ گیا تھا۔ " رحیم الدین کی تیز نظریں مجھے اپنے وجود میں چبھتی محسوس ہو رہی تھیں، وہ میرے لئے ایک ایک تاثر کا بغور مطالعہ کر رہا تھا، میرا جواب سن کر وہ ایک لمحہ بعد سنجیدگی سے بولا۔
مسٹر آذر! تم ایک جوان اور ایماندار آفیسر ہو، میں تمہاری پٹنہ والی پرسنل فائل کئی بار دیکھ چکا ہوں، مجھے خوشی ہے کہ تمہارا پرانا ریکارڈ بے داغ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تم ڈھاکہ میں بھی نہایت ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنی کارکردگی کی سابقہ روایت کو
برقرار رکھنے کی کوشش کرو گے۔" میں آپ کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دوں گا سر ! میں نے پورے وثوق
سے کہا۔ رحیم الدین نے بدستور سنجیدگی سے کہا۔ ”میں نے اس وقت تمہیں خاص طور پر تمہاری پوسٹنگ کرنے کے سلسلے میں طلب کیا ہے۔ تم کس قسم کی پوسٹنگ
پسند کرتے ہو؟ میرا مطلب ہے کہ کوئی مخصوص فیلڈ جس میں تمہاری دلچسپی زیادہ ہو۔" ” میری کوئی ذاتی چوائس نہیں ہے سر ! میں نے محتاط انداز اختیار کیا۔ ”آپ مجھے جو سیٹ بھی دیں گے میں اس پر پوری محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کی کوشش کروں
تحمل بخاری کے بارے میں تمہارا ذاتی خیال کیا ہے؟"
وہ ایک تجربہ کار آفیسر ہیں سر! میں نے پہلو بدل کر جواب دیا۔ ”میں نے ان کے ساتھ رہ کر مختصر مدت میں بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔" میرا خیال ہے کہ میں تمہیں کچھ عرصے کے لئے اینٹی سمگلنگ برانچ میں لگا دوں۔" رحیم الدین نے کچھ توقف سے کہا۔ " بخاری آج کل ایک دو اچھے اور بڑے کیسز پر کام کر رہا ہے ، تم اس کے ساتھ رہ کر بہت جلد یہاں بھی اپنا مقام بنا سکتے ہو۔" ٹھیک ہے سر !" میں نے مختصراً جواب دیا۔ سروش کے دیئے ہوئے سگنل کے پیش نظر میں ایک ایک حرف بہت ناپ تول کر استعمال کر رہا تھا لیکن ابھی تک رحیم الدین کی کسی حرکت سے یہ نہیں محسوس کر سکا کہ وہ میری باتیں ٹیپ کر رہا ہو گا ویسے یہ ممکن تھا کہ میرے دفتر میں داخل ہونے سے پیشتر ہی کسی خفیہ ٹیپ ریکارڈر کا سوئچ آن کر دیا گیا ہو۔ سروش نے جو جملہ رازداری سے میرے لئے تحریر کیا تھا وہ بلاوجہ نہیں رہا ہو گا۔ ایک بات کا خاص رکھنا۔ " رحیم الدین نے میرا جواب سن کر کہا۔ میں کسی قسم کی سفارش پسند نہیں کرتا، ہر آفیسر کی ذاتی کار کردگی ہی اس کی سب سے بڑی سفارش میرے عملے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ذاتی فائدے کو پسند کرتے ہیں، میں
ان کو بخوبی جانتا ہوں لیکن وہ کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ جس دن کوئی برا وقت آئے گا اس روز محکمہ بھی ان کی کوئی مدد نہیں کر سکے گا۔"
میں خاموش ہی رہا۔
کمال بنرجی اچھا آدمی ہے۔ " رحیم الدین نے ہونٹ چہاتے ہوئے کچھ سوچ کر کہا۔ ہم کبھی ایک دوسرے کے دوست بھی رہ چکے ہیں لیکن وہ ایک شکی مزاج اور جھکی شخص ہے اور ایسے لوگ زیادہ دنوں تک کسی کے ساتھ دوستی نہیں نبھا سکتے ، بہت جلد دنیا سے کٹ
کر رہ جاتے ہیں۔" میں بدستور خاموش رہا لیکن یہ محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا کہ بنرجی کا نام لیتے وقت ایسا ہی لگا تھا جیسے باس کسی خطرناک متعدی مرض سے بچنے کی خاطر زبر دستی کڑوی کسیلی گولیاں
چبا رہا ہو۔
آل رائٹ ۔ تم اب جا سکتے ہو۔ میں ایک دو روز میں تمہاری پوسٹنگ کےاحکامات جاری کر دوں گا۔"
میں باس کو سلام کر کے باہر آ گیا۔ سروش نے مجھے بس ایک نظر دیکھا لیکن اس کے پاس ایک دو آدمی بیٹھے تھے اس لئے مجھے روکنے یا مخاطب کرنے کی غلطی نہیں کی۔ میں نے بھی وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا حالانکہ میرے ذہن میں یہ خیال بُری طرح کلبلا رہا تھا کہ اس جملے کا مطلب دریافت کر سکوں جو سروش نے مجھے کاغذ پر لکھ کر بڑی رازداری سے دکھایا تھا۔
میں نے بخاری کو باس سے ہونے والی گفتگو سنائی تو وہ مسکرا کر بولا۔ باس نے تمہاری پوسٹنگ میرے ساتھ کر کے بڑی دور اندیشی سے کام لیا ہے۔" میں سمجھا نہیں؟" میں نے وضاحت چاہی۔ تمہاری ایمانداری اپنی جگہ لیکن تمہارے حصے میں سے بھی اب مجھے باس کے ساتھ ففٹی ففٹی کرنا پڑے گا کیا سمجھے؟" بخاری نے وہ بات اتنی آسانی اور بے تکلفی سے کہہ دی کہ میں اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ "تمہیں اعتراض تو نہیں ہو گا؟" میرا تعلق کسی حصے بکرے سے ہو گا ہی نہیں تو بھلا اعتراض کا کوی سوال ہی نہیں سوچ لو " اینٹی اسمگلنگ اسکوائڈ (Anti Smuggling Squad) کو یہاں سونے کی کان کہا جاتا ہے، سال بھر بے جگری سے کام کر لو تو تمہارے بھی وارے نیارے ہو جائیں گے۔"
"سوری" میں نے بھی دوستانہ انداز میں شانے اچکا کر اپنی معذوری کا اظہار کر دیا دو روز بعد میری تعیناتی کے احکامات جاری ہو گئے، مجھے خوشی تھی کہ میں ذہنی خلفشار سے چھٹکارا یا گیا۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ بخاری کے ساتھ کام ضرور کروں گا لیکن کسی لین دین میں یا ہیرا پھیری میں اس کا ساتھ نہیں دوں گا اور کوشش کروں گا کہ کاغذات کی تیاری اور مشیر نامہ بنتے وقت دور ہی رہوں تاکہ کسی خرد برد کے سلسلے میں قسم . کھانے کی گنجائش رہے۔ ہر چند کہ میں اس بات کو بھی ایک طرح سے دیانتداری کے خلاف سمجھتا تھا لیکن حالات کے پیش نظر اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
جس دن میری پوسٹنگ کے آرڈر ہوئے اسی رات سروش نے مجھے فون کیا۔ باتوں سے وہ مجھے کچھ الجھا الجھا لگ رہا تھا میں نے سبب دریافت کیا تو اس نے سپاٹ لہجے میں
کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ اگر میں نے آپ کی پٹنہ والی پرسنل فائل نہ دیکھی ہوتی تو اس میں
وقت سکون کا سانس نہ لے رہا ہو تا۔“
کیا مطلب؟" میں نے چونک کر پوچھا۔
مسٹر آذر! میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا واسطہ جن لوگوں سے پڑا ہے ان
او کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، دفتر میں اگر کوئی سوئی بھی گرتی ہے تو تخریب کاروں کو اس کی بھنک مل جاتی ہے، کون کیا ہے؟ میں بھی نہیں سمجھ سکا لیکن بہر حال کسی نہ کسی طرح گزارا ضرور کر رہا تھا۔ "
کیاہو گیا ؟ میں نے سروش کے لہجے کو محسوس کرتے ہوئے سوال کیا۔ اب کیا
" آپ کے ساتھ ساتھ میرے تبادلے کے آرڈر بھی ہو چکے ہیں۔" اس نے سے کہا۔ "کل مجھے اس کی کاپی مل جائے گی۔"
سمجھا نہیں ؟" میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ آپ سے کیا قصور ہو گیا ؟"
پھر کبھی موقع ملا تو تفصیل سے بتاؤں گا۔ " اس نے جواب دیا۔ لیکن میں اپنے تبادلے پر خوش ہوں۔ مجھے کلکتہ بھیجا جا رہا ہے، میں وہیں سے آیا تھا، وہاں میرے دوسرے قریبی عزیز دار بھی رہتے ہیں۔ باس نظمند آدمی ہے، ایسے لوگوں کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کرتا جو اس کے لئے کسی اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہوں۔ پی اے کی پوسٹ پر رہ کر ہزاروں خفیہ باتیں معلوم ہوتی رہتی ہیں، شاید اسی لئے باس نے مجھے میرے آبائی شہر پوسٹ کروا کر خوش کرنے کی کوشش کی ہو گی۔"
لیکن تبادلے کی کوئی وجہ تو ہو گی؟" میں نے بے چینی سے دریافت کیا۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن میرا اندازہ ہے کہ بخاری کو شاید شبہ ہو گیا میں آپ کی فائل میں دلچسپی لے رہا ہوں۔" آئی سی۔" میں نے حیرت کا اظہار کیا پھر کچھ سوچ کر پوچھا۔ "آپ کی جگہ دوسرا
آدمی کون آ رہا ہے؟" .
وہ بخاری کا خاص آدمی ہے، آپ نہیں جانتے اسے۔ اسے کہاں سے یہاں لایا جا رہا آپ کب تک چارج چھوڑیں گے؟" میں نے اپنی بات جاری رکھی۔ دراصل میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ ایک وقت کا کھانا میرے ساتھ کھائیں، مجھے خوشی ہو گی۔" میں آپ کی خوشی کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں، آپ مجھے پہلی ہی ملاقات میں بھلے آدمی لگے تھے، میں آپ کے ساتھ کھانا کھانا اپنے لئے باعث عزت بھی سمجھتا ہوں لیکن ہمارا ملنا مناسب نہیں ہو گا۔ " سروش نے ایک معقول جواز پیش کیا۔ ” بخاری کا شبہ اگر یقین میں بدل گیا تو آپ کے لئے دشواریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔" آپ سے تفصیلی ملاقات ہو جاتی تو مجھے محکمے اور عملے کے دوسرے افراد کے سلسلے میں بھی کچھ باتیں معلوم ہو جاتیں۔“ ڈونٹ دری۔ " سروش نے بڑے خلوص سے کہا۔ ”میں کلکتہ جا کر بھی آپ کو فراموش نہیں کروں گا فون پر رابطہ رکھوں گا۔ فی الحال میں آپ کو ایک اہم بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ بخاری کے ساتھ آپ کو بہت محتاط رہ کر چلنا ہو گا، وہ اپنے سوا کسی برانچ میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ میں ڈھاکہ میں گزشتہ تین سال سے اس عرصے میں آپ پہلے انسپکٹر ہیں جسے بخاری کے ساتھ لگایا جا رہا ہے
مجھے یقین ہے کہ اس میں بھی باس اور بخاری کی کوئی گہری چال شامل ہو گی۔" میں آپ کی بات کی تائید کروں گا۔ میں نے جواب دیا۔ ”بخاری نے مجھے سے کہ
بھی تھا کہ اب وہ میرے حصے میں سے بھی باس کے ساتھ فٹی ففٹی کرے گا۔" ” یہ بات اس نے آپ کو اعتماد میں لینے یا بے تکلفی پیدا کرنے کی خاطر کسی ہو گی ورنہ بخاری کے لئے دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔" سروش نے ایک بار پھر مجھے محتاط روی کا مشورہ دیتے ہوئے اپنے شبے کا اظہار کیا۔ "خدا کرے میرا اندازہ غلط ہو لیکن مجھے اس
میں کوئی گہری سازش ہی نظر آ رہی ہے۔"
سروش مجھے خاصی دیر تک اپنی خاص معلومات سے آگاہ کرتا رہا' اس نے رابطہ منقطع کیا تو میں نے کمال بنرجی کے گھر کے نمبر ڈائل کئے، میں جھرنا کو اپنی پوسٹنگ کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ اس نے رحیم الدین سے میری سفارش کی بھی ہے یا نہیں، حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ میں جھرنا کے ساتھ کم از کم گفت و شنید کا سلسلہ برقرار رکھوں اور تنہائی میں اس سے ملنے سے جہاں تک ممکن ہو دور رہنے کی کوش کروں، وہ کسی آڑے وقت میں میرے کام آسکتی تھی۔
تیسری گھنٹی پر کسی نے رسیور اٹھایا تو میں اپنی جگہ سنبھل گیا لیکن دوسری جانب سے جھرنا کے بجائے کرنل کمال بنرجی کی ٹھوس "ہیلو" کی آواز کانوں میں گونجی تو میں نے جلدی سے لائن کاٹ دی۔ اس رات میں سونے کے ارادے سے لیٹا تو ایک بار پھر میرے ذہن میں بوڑھے ملنگ کا تصور ابھر آیا اس کے کسے ہوئے جملے سیدھے ہاتھ سے نکا نکال کر دے اور الٹے قدموں جدھر سے آیا ہے ادھر ہی واپس لوٹ جا آگے بھونچال کھڑا ہے۔ میرے وجود میں گونجنے لگے۔ میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی سروش کی باتوں نے غالبا مجھے اس دیوانے کی کمی ہوئی بات یاد دلا دی تھی۔ میں کچھ دیر کروٹیں بدلتا رہا پھر لمبی تان کر سو
گیا۔
میری داستان المناک بڑی طویل ہے۔ میں درمیان کے کچھ حصے حذف کرتے ہوئے دلچسپی کے لئے اب اپنی زندگی کے اس دور کی طرف آنا چاہتا ہوں جو میرے المین بھی تھا اور بڑا اذیتاک بھی۔ وہ دور میری زندگی کا سب سے کربناک دور تھا دہ دور نہ آیا ہوتا تو شاید میں ان واقعات کو اپنے سینے میں ہی دفن رکھتا جو آج قلمبند کرنے بیٹھا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ قارئین میری کہانی سے عبرت حاصل کریں۔ اگر اس داستان کو پڑھنے والوں میں سے دو چار افراد بھی گمراہی کے راستے پر آگے بڑھتے بڑھتے سنبھل گئے تو میں سمجھوں گا کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔
بخاری کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے ڈیڑھ مہینے سے زیادہ ہو گیا۔ اس دوران مجھے اسے بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا وہ ہر معاملے میں بے حد تجربے کار اور گھاگ آدمی تھا، اپنے شکار کے جسم کا خون اس طرح نچوڑتا تھا کہ اس کی پیاس بھی بجھ جائے اور پھڑ پھڑانے کا موقع بھی نہ ملے۔ وہ ناجائز تجارت کرنے والوں پر جو ہاتھ ڈالتا وہ بھر پور ہوتا۔ میرے اس کے تعلقات بھی اب دوستانہ ہو گئے تھے، وہ ہر طرح سے میرا خیال رکھتا تھا اور سامان میں خرد برد کرتے وقت اور مشیر نامہ بناتے وقت مجھے از خود سامنے سے ہٹا دیتا تھا تاکہ میری ایمانداری کا بھرم بھی قائم رہے اور وہ اپنی من مانی بھی کر سکے۔
اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں یہ بات بھی میرے علم میں آگئی کہ بخاری کی واقفیت انڈر ورلڈ کے کچھ گاڈ فادرس (God Fathers) سے بھی تھی، وہ در پردہ ان کی مدد بھی کرتا تھا اور کاروبار میں ان کے ساتھ کسی طے شدہ حصہ کا پارٹنر بھی تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ بے دھڑک کام کرنے کا عادی تھا، رحیم الدین بھی اس مذموم کاروبار میں تحمل بخاری کے برابر کا شریک تھا۔
ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں میں نے بخاری کے ساتھ مل کر چار پانچ نہایت کامیاب کیس کئے، میں دیا نتداری سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے اس بات کا مطلق علم نہیں کہ بخاری نے ان کیسز میں کیا کمایا اور کس قدر ہیرا پھیری کی۔ میں انونٹری (Inventory) اور مشیر نامہ بنتے وقت اِدھر اُدھر ہو جاتا تھا تا کہ قسم کھانے اور حلف اٹھانے کی گنجائش رہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان کیسز میں بخاری نے کم از کم پچھترلاکھ کی رقم مجرموں سے ایٹھی ہو گی، جو سامان خرد برد کیا وہ علیحدہ تھا۔ بخاری کی وجہ سے رحیم الدین سے میرے مراسم بڑھنے لگے۔ اس نے خاص طور پر تعریفی اسناد اور انعام کے لئے بھی اوپر رکمنڈ کیا اور ذاتی طور پر بھی مجھے نوازا تھا۔ بخاری ہر کیس کے بعد مجھ سے ایک بات ضرور کہتا تھا۔
"سمندر کی طرح انسان کی زندگی میں بھی مدوجزر پیدا ہوتا رہتا ہے اس لئے میں تمہارا حصہ بڑی ایمانداری سے محفوظ کرتا جا رہا ہوں، جب بھی تم چاہو گے وہ رقم تمہیں صرف چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر مل جائے گی۔" لیکن تم نے پہلے تو کچھ اور کہا تھا۔ میں بے تکلفی سے اس کو یاد دلاتا۔ ” تم نے کہا تھا کہ میرے حصے کی رقم تم اور باس برابر بانٹ لیا کرو گے۔"
وہ صرف مذاق تھا لیکن یہ بات میں بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں، تمہارا حساب کتاب علیحدہ ہے۔" وہ مجھے معنی خیز انداز میں اکسانے کی کوشش کرتا کہ میں بھی اپنی قسم توڑ کر اس کے ساتھ حصوں کے لین دین میں شریک ہو جاؤں۔"شاید اس زندگی میں ایسا ممکن نہ ہو گا۔ " میں بڑے اعتماد سے جواب دیتا۔ ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں دو بار میری ملاقات جھرنا سے بھی ہو چکی تھی لیکن اس کے لئے مجھے کرنل کی کوٹھی پر نہیں جانا پڑا تھا، دونوں ملاقاتیں آفیسرز کلب میں ہوئیں۔ ان دونوں موقعوں پر بخاری میرے ساتھ تھا اس لئے جھرنا کو مجھ سے کھل کر بات کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن میں نے کلب میں جھرنا اور دوسرے ممبران کے درمیان بے تکلفی سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ بے شرمی کے راستوں پر بہت آگے نکل چکی تھی۔ جب جب ہماری نگاہیں آپس میں چار ہوتیں وہ پلکوں کی ایک ایک جنبش سے شکوہ و شکایت شروع کر دیتی۔ بخاری نے اتنی جلدی مجھ سے بے تکلف پیدا کی تھی کہ کبھی کبھی مجھے خود بھی تعجب ہو تا تھا، وہ ہر بات مجھ سے کھل کر کرنے لگا تھا، ہر طرح سے میرا خیال رکھتا تھا۔ خاص طور پر میں اس بات پر اس کا شکر گزار بھی تھا کہ اس نے میری ایمانداری کا بھرم قائم رکھنے میں ہر اعتبار سے میری مدد کی تھی، یہ اور بات ہے کہ اس میں اس کا مفاد بھی شامل تھا۔
بہر حال ہمارے درمیان دوستی اور اعتماد کی فضا بحال ہوئی تو میرے ذہن سے وہ خطرات بھی نکل گئے جن کا احساس سروش نے دلایا تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ اس عرصے میں جوگی سیتارام کی پراسرار شخصیت نے بھی میرا پیچھا چھوڑ دیا تھا لیکن یہ سب کچھ میرا وہم کاش میں اس بات کو جان لیتا کہ میں جن شاہراہوں کے اوپر ہنستا مسکرا تا قدم اٹھا رہا کے نیچے میرے لئے ایک خطرناک اور ناقابل یقین الاؤ بھی دہک رہا تھا جس کے
بھڑکتے ہوئے شعلے مجھے اپنی لپیٹ میں لینے کی خاطر تیزی سے لپک رہے تھے۔ مجھے نو جولائی کا وہ دن آج بھی روز اول کی طرح یاد ہے جب میری زندگی میں ایسا بھونچال آیا جس کی یادیں آج بھی مجھے کانپ اٹھنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اس دن میں تین روز بعد ایک بڑا کیس نپٹا کر تھکا ماندہ گھر لوٹا تھا، اس کیس میں بخاری نے ایک موٹی آسامی پر ہاتھ ڈالا تھا جو شروع شروع میں تو بہت اچھلا کو دا تھا اس نے مجھے اور بخاری دونوں کو خطرناک انجام سے دوچار کر دینے کی قسم کھائی تھی لیکن پھر بخاری نے جو شکنجہ استعمال کیا اس میں پھسنے کے بعد اس نے اپنی زبان تو بند کرلی تھی لیکن اس کی آنکھیں آخری وقت شعلے اگلتی رہی تھیں۔
میں تین روز سے ایک پل کے لئے بھی سو نہ سکا تھا اس لئے جلیل کے بے حد اصرار کرنے پر زبردستی دو چار تھے حلق کے نیچے اتارے پھر اپنی خواب گاہ میں جا کر لباس تبدیل کئے بغیر ہی اپنے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ مجھے اس بات کا بھی مطلق علم نہیں ہوا کہ جلیل کس وقت گیا اس کے پاس باہر کے دروازے کی ایک چابی موجود تھی اس لئے غالباً وہ مجھے اپنے جانے کی اطلاع دینے کی کوشش میں ناکام ہو کر خاموشی سے رخصت ہو گیا تھا میں گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا جب مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کئی افراد مل کر میرے اپارٹمنٹ کا دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ میں کچی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھا وہ میرا وہم نہیں تھا میرے اپارٹمنٹ کے دروازے کو بڑی شدت سے پیٹا جا رہا تھا میں لپکتا ہوا دروازے کے قریب گیا۔
کون ہے ۔ کیا مصیبت آگئی ہے؟" میں نے بلند آواز سے دریافت کیا تو دوسری جانب سے دروازے پر ضربیں لگانی بند کر دی گئیں۔ دروازہ کھولو۔ باہر سے کسی نے گرج کر کہا۔ تمہیں کس سے ملنا ہے؟" میں نے پوچھا۔ میں پولیس انسپکٹر ہوں۔" اس بار تحکمانہ لہجے میں جواب ملا۔ دروازہ کھولو ہمیں تمہارے اپارٹمنٹ کی تلاشی لینی ہے۔" میں ایک لمحے کو گڑ بڑا گیا، میرے ذہن میں اس خطرناک مجرم کا تصور ابھر آیا جسے شکنجوں میں جکڑ کر بے بس کیا تھا، اس کے کیس پیپرز بھی بخاری نے تیار کی تھی البتہ دو لاکھ کی رقم اینٹھنے کے بعد اسے درمیان سے نکال دیا
↑
تھا، اس کا ذکر بھی مجھ سے بعد میں کیا گیا تھا۔ بخاری نے کہا تھا۔
وہ شخص جو اس قدر اچھل کود رہا تھا ایک سابق ڈیفنس سیکرٹری کا سالا ہے اور بہنوئی کے تعلقات کی آڑ لے کر بہت عرصے سے لمبے لیے ہاتھ مار رہا تھا' میں کئی بار اسے نظر انداز کر چکا تھا لیکن آج اس کی موت ہی آئی تھی جو میرے آنکڑے میں پھنس گیا۔" "میرا خیال ہے کہ تم نے اسے چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ ایسے افراد وقتی طور پر گلو خلاصی کے لئے قدموں پر بھی گر جاتے ہیں لیکن بعد میں بڑی چیخ و پکار کرتے ہیں۔" ”میں نے اسے بہت سستے داموں چھوڑ دیا ہے۔" بخاری لا پرواہی سے مسکرا کر بولا۔ ”میں نہیں سمجھتا کہ اب وہ اچھل کود کرنے کی حماقت کرے گا۔ دو لاکھ کی حقیر رقم اس موٹے مرغے کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی، البتہ یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ وہ
اپنے دونوں ساتھیوں کو چھڑانے کی خاطر ضرور ہاتھ پیر مارے گا۔" ہو سکتا ہے تمہارا ہی اندازہ درست ثابت ہو۔" میں نے دو لاکھ والی بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ سو فیصد درست ثابت ہو گا۔ " بخاری نے بڑے یقین سے کہا۔ ”میں نے اس کے سامان میں کوئی خرد برد نہیں کی اس لئے وہ دو لاکھ کا بوجھ بڑی آسانی سے برداشت کر لے گا۔ تمہاری اطلاع کے لئے یہ بھی بتادوں کہ عین ممکن ہے کہ یہ کیس عدالت میں جانے سے پہلے ہی غنتر بود ہو جائے۔" کیا مطلب؟" میں چونکا۔ باس ایسے افراد کو ہمیشہ احسانوں کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے جن کی جڑیں مضبوط اور دور تک پھیلی ہوں۔ میں جس ڈیفنس سیکرٹری کی بات کر رہا ہوں وہ ہماری موجودہ حکومت کا بھی ایک اہم رکن ہے۔" میرے ذہن میں بخاری کی باتیں گونج رہی تھیں جب دروازے کو زور سے ٹھو کر مار کر دوبارہ اسے کھولنے کا حکم دیا گیا۔ میں نے جا کر دروازہ کھولا تو ایک باوردی انسپکٹر تین مسلح سپاہیوں کے ساتھ دندناتا ہوا اندر گھس آیا، باہر گیلری میں قرب و جوار میں رہنے کچھ پڑوسی بھی جمع ہو چکے تھے۔ تمہارا نام آذر ہے؟" پولیس انسپکٹر نے مجھے تیز
گھورا۔
آبکاری و محصولات کے محکمے سے تعلق ہے تمہارا؟" دوسرا سوال بھی حقارت سے
”جی ہاں لیکن آپ حضرات "
”میرے پاس باقاعدہ سرچ وارنٹ ہے۔ انسپکڑ نے مجھے بڑی رعونت سے جھڑک دیا۔ "تم نے جس شخص سے دو لاکھ کی رقم بطور رشوت لی ہے اس نے تمہارے خلاف باقاعدہ پرچہ کرا دیا ہے۔" یہ سراسر بکواس ہے۔" میں نے تلملا کر اپنی صفائی پیش کی۔ ”میں نے اپنی پوری ست کے دوران ایک پیسہ بھی کسی سے لینے کی کوشش نہیں کی۔" "جو شخص بھی پکڑا جاتا ہے وہ تمہاری ہی طرح ایمانداری کی قسمیں کھانی شروع کر دیتا ہے۔" انسپکڑ نے حقارت سے کہا۔ ” ابھی معلوم ہو جائے گا کہ تمہاری ایمانداری کا دعوی کہاں تک درست ہے۔" میں نے کسی مجسٹریٹ کی موجودگی کے بغیر تلاشی لینے پر احتجاج کیا لیکن انسپکٹر اپنے سپاہیوں کو اشارہ کر چکا تھا جنہوں نے میرے اپارٹمنٹ کا سامان کھنگالنا شروع کر دیا تھا۔ انسپکٹر میرے ساتھ کھڑا مجھے بڑی کینہ تو نظروں سے گھور رہا تھا، میں نے اسے زیادہ چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ میرے ہاتھ صاف تھے ، مجھے اپنے آپ پر اعتماد تھا، مجھے یقین تھا کہ انہیں تلاشی مکمل کرنے کے بعد خفت کا سامنا کرنا ہو گا۔
پچیس منٹ تک وہ بڑی بے دردی سے میرے سامان کو الٹنے پلٹتے رہے پھر ایک سپاہی نے میرے کوٹ کی تلاش لینی شروع کی جو ہینگر پر لٹکا تھا معاً ایک شبہ میرے ذہن میں گہری سرعت سے ابھرا میں سپاہی کی طرف تیزی سے لپکا لیکن وہ اتنی دیر میں اپنا کام دکھا چکا تھا، اس کا ہاتھ میرے کوٹ کی اندرونی جیب سے باہر برآمد ہوا تو اس میں ہزار روپے کے نوٹوں کی پوری گڈی موجود تھی، میرا سر چکرا کر رہ گیا، میرے ساتھ دھوکا ہوا تھا، انہوں نے مجھے پھانسنے کے لئے جعلسازی کا جال بچھایا تھا۔ نوٹوں کا وہ چارہ مجھے پھانسنے کے لئے وہ اپنے ساتھ ہی لائے تھے۔
سر!" پولیس مین نے انسپکٹر کی طرف نوٹوں کی گڈی بڑھاتے ہوئے اپنی گھٹیا کوئی خوشی کا اظہار کیا۔ "یہ رہی مطلوبہ رقم "
انسپکڑ نے کہا پھر مجھے چھتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر بولا۔ ”اب تم اپنی
صفائی میں کیا کہو گے ؟
" تم نے مجھے کسی کے کہنے پر دھوکے سے ٹریپ کیا ہے۔" میں نے خون کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا۔ یہ گڈی میرے کوٹ کی جیب سے برآمد نہیں ہوئی، تم اسے اپنے ساتھ لائے تھے ، یہ سراسر زیادتی ہے، بد دیانتی ہے۔" میں اپنی صفائی میں احتجاج کرتا رہ گیا لیکن انسپکٹر نے باہر سے موقع کے دو گواہ بلا کر ضروری کارروائی مکمل کرنے میں بھی بڑی پھرتی کا مظاہرہ کیاکہ مجھے یقین تھا کہ وہ گواہ بھی
اس کے مخصوص آدمی رہے ہوں گے۔ انسپکٹر! میں نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی۔ " تم نے اپنی وردی کے ساتھ
بھی غداری کی ہے لیکن میں تمہیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دوں گلہ " میں نے کرنل کمال بنرجی کو فون کرنا چاہا، جھرنا سے بات ہو جاتی تو وہ بھی میری مدد کو ضرور تیار ہو جاتی لیکن انسپکٹر نے مجھے فون کرنے کی اجازت نہیں دی سپاہیوں نے اس کے اشارے پر میرے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈال دی ، میں چیخنا چلاتا رہ گیا۔
تھانے میں مجسٹریٹ بھی موجود تھا جس نے کاغذات پر اپنے دستخط اور مہر لگا کر میرے تابوت پر آخری کیل بھی ٹھونک دی، اس نے بھی کاغذات پر دستخط کر کے جائے وقوعہ پر اپنی جھوٹی موجودگی ظاہر کر دی تھی گویا جو کچھ ہوا تھا وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا کہیں اوپر سے ملنے والے احکامات نے ان سب کو ضمیر فروشی پر مجبور کر دیا تھا۔
"سر! میں نے براہ راست مجسٹریٹ سے کہا۔ ”میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ
سراسر دھاندلی ہے۔" تم کو جو کچھ کہنا ہے، جو صفائی پیش کرنی ہے وہ عدالت کے روبرو پیش کرنا ۔ " راشی مجسٹریٹ نے سپاٹ لہجے میں ایک رٹا رٹایا جواب دیا پھر دیگر ضروری کاغذات کی خانہ پان کر کے چلا گیا۔ مجسٹریٹ کے جانے کے بعد انسپکٹر اور اس کے عملے کے افراد نے میرے ساتھ وہی برتاؤ کیا جس کے احکامات انہیں پہلے سے مل چکے تھے، مجھے گندی گندی غلیظ اور ناقابل گالیوں سے نوازا گیا جوتوں اور ٹھوکروں سے میری تواضع کی گئی، مجھے ننگا کر کے فرش پر ادھر اُدھر گھسیٹا گیا، میرے سر کے بالوں کو بڑی بے دردی سے نو چا گیا“
میرے منہ پر تھوکا گیا' میرے گالوں پر تھپڑ اور گھونسوں کی بارش کی گئی، میں تڑپتا رہا احتجاج کرتا رہا، بلبلاتا رہا لیکن پولیس کے وہ فرضی ایماندار کارندے مجھے پر بے ایمانی کا جھوٹا الزام لگا کر ڈنڈے برساتے رہے، تھرڈ ڈگری کے مختلف طریقے آزماتے رہے، مجھے برف کی سل پر ننگا لٹا کر میرے پیروں کے تلووں پر بید سے شدید ضربیں لگائی گئیں پھر اسی نازک حالت میں اٹھا کر جبراً دوڑایا گیا۔ یہ حربہ شدید ضربوں کے نشانات کو چھپانے کے
لئے اختیار کیا جاتا ہے۔
انسپکٹر ! میں نے نڈھال ہو کر کہا۔ ”اللہ سے ڈرو ایک دن تمہیں اسے بھی منہ
اس سے پہلے مجھے اپنے بڑے افسروں کو بھی منہ دکھاتا ہے۔“ وہ زہر خند سے بولا۔
"قیامت جب آئے گی تب دیکھا جائے گا۔ " لیکن مجھے معلوم تو ہو کہ آخر مجھے کس بات کی سزا دی جا رہی ہے۔" میں نے ہانپتے کانپتے ہوئے پوچھا۔ ”یہ تو ہمیں بھی پتہ نہیں میری جان!" ایک ہٹے کٹے سپاہی نے مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا۔ ”ہم حکم کے بندے ہیں، آرڈر کی تعمیل کر کے خالص حلال کی روٹی کھاتے ہیں۔" تھوڑی دیر ستانے کے بعد وہ دوبارہ میری دھنائی کٹائی میں مشغول ہو گئے۔ میرے اوپر ایمانداری کے عوض ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، میری کربناک چیخیں در و دیوار سے ٹکراتی رہیں لیکن ان ظالموں کو میری حالت پر رحم نہ آیا پھر جب میری حالت نازک ہو گئی، مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی تو دو سپاہیوں نے ڈنڈا ڈولی کر کے مجھے حوالات کے ننگے فرش پر ڈال کر لاک اپ کر دیا۔
======
گرفتاری کے دوسرے دن مجھے عدالت میں پیش کر کے دس دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ میں بہت چینچا چلایا میں نے جیل کسٹڈی کے لئے درخواست کی لیکن وہ سب ایک ہی تھا کے لئے بے تھے۔ انہوں نے میرے سلسلے میں اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ وہ گونگے ہو گئے تھے، تھانے لا کر مجھے پھر اسی کمرے میں پہنچا دیا گیا جہاں مظالم توڑے جاتے تھے ، مجھے بار بار ہوش میں لایا جاتا میری
طبیعت بحال کرنے کی خاطر وہ مجھ سے دل لگی کی فحش باتیں کرتے پھر جب ذرا میرے ہوش ٹھکانے آتے تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مشینی انداز میں چلنے لگتے، رات ہوتی تو مجھے لاک اپ میں ننگے فرش پر ڈال دیا جاتا۔ دو دن گزر گئے۔ میرا خیال تھا کہ دفتر کے عملے کی طرف سے کوئی نہ کوئی مدد کو ضرور آئے گا لیکن کسی نے بھی آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ تیسرے دن ایک اکسائز آفیسر مجھ سے ملنے آیا۔ مجھے اندھیرے میں امید کی ایک مدھم سی کرن نظر آئی لیکن جب اس نے ملاقاتی کمرے میں پولیس انسپکٹر کے سامنے ایک سیل بند لفافہ تھما کر اس کی رسید پر دستخط کرنے کو کہا تو میری آنکھوں کے نیچے اندھیرا پھیل گیا میں نے لرزتے ہاتھوں سے بمشکل لفافہ کھولا۔ میرا اندازہ غلط نہیں ثابت ہوا مجھے فوری طور پر ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ زیادتی ہے سر! میں نے اپنے آفیسر سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی۔ "مجھ پر
جھوٹا کیس بنایا گیا ہے۔ میں نے کسی سے رشوت نہیں لی۔" اس کا فیصلہ اب عدالت ہی کرے گی لیکن باس کو تم دونوں سے اس گھٹیا حرکت کی امید نہیں تھی۔ " اس نے نظریں بدل کر کہا۔ "تمہاری حرکتوں نے محکمے کی ساکھ کو خراب کرنے کی غلطی کی ہے، دوسرے کو اس کا انعام قدرت کی جانب سے مل گیا اب
تمہاری باری ہے۔" دوسرا کون ؟" میں نے تعجب سے پوچھا۔
تحمل بخاری آفیسر نے بدستور نفرت سے جواب دیا۔ ” ایک لاکھ کی رقم اس کی لاش سے بھی برآمد ہو چکی ہے۔"
لاش میں حیرت سے اکسائز آفیسر کا منہ تکنے لگا۔
ہاں۔" اس نے بدستور سخت لہجے میں کہا۔ وہ ایک لوڈنگ ٹرک سے ٹکرا کر حادثے میں جان بحق ہو گیا، پولیس نے تفتیش کے دوران اس کی جیب سے وہ نصف رقم بھی برآمد کر لی جو تم دونوں نے بانٹی تھی۔" یہ جھوٹ ہے سر! میں نے بڑی عاجزی سے کہا۔ ”میں نے اپنی تمام زندگی میں سے حرام کی ایک پائی ایک ٹکا بھی نہیں لیا۔"
اب ان فضول باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا تم نے جو کیا ہے اب اس کی سزا
بھی تمہیں کو بھگتنی پڑے گی۔
اکسائز آفیسر رسید پر میرے دستخط لے کر واپس چلا گیا۔ بخاری کی موت کی اطلاع سن کر مجھے تعجب ہوا' پھر ایک خیال میرے ذہن میں ابھرا تو مجھے ہنسی آگئی۔ بخاری طبیعی موت نہیں مرا تھا۔ ایک حادثے کا شکار ہو گیا تھا اور میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ حادثہ بھی کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت پیش آیا ہو گا۔ جو بااثر لوگ مجھے بے گناہ رشوت کے گھناؤنے الزام میں پھنسا سکتے تھے وہ بخاری کو بھی مروانے سے باز نہیں آئے ہوں گے۔ بخاری کو اس کے کئے کی سزا ملی تھی، میں اس کے ساتھ کیس میں شامل تھا اس لئے میں بھی جال میں پھنس گیا تھا۔ بخاری کا جرم سنگین تھا اسے موت کی نیند سلا دیا گیا، اس کے گراؤنڈ ورلڈ کے گاڈ فادرس بھی اس کی مدد کو نہ آسکے۔ سارے تعلقات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ رحیم الدین نے بھی آنکھیں پھیر لی ہوں گی اسے بخاری سے زیادہ اپنی ملازمت پیاری ہوگی۔ محکمے میں بہت سارے انسپکٹر بخاری سے پرخاش رکھتے تھے، اب سب نے سکون کا سانس لیا ہو گا، ان کے درمیان بخاری کی خالی جگہ حاصل کرنے کی خاطر رسہ کشی شروع ہو گئی ہو گی۔ میں اپنی ایمانداری کے جرم کی پاداش میں جیل میں بے یارو
مددگار پڑا ایڑیاں رگڑ رہا تھا۔ کس بات پر مسکرا رہا ہے؟ کی اولاد " انسپکٹر نے مجھے ٹھوکر مار کر گندی
گالی دی تو میں خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گیا۔
" صاحب!" ایک سپاہی نے کہا۔ " یہ آپ کو آنکھیں دکھاتا ہے۔" لے جاؤ اس حرام کے پلے کو اٹھا کر ڈرائنگ روم میں۔ انسپکٹر نے زہر خند سے کہا۔ ”اس کے کھانے کا وقت ہو رہا ہے، پیٹ بھر کر کھانا کھلانا۔"
انسپکٹر کے اشارے پر وہ مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے پھر اسی عقوبت خانے میں لے گئے جہاں دوسرے مجرموں پر پہلے سے ظلم تو ڑا جا رہا تھا۔ تین چار مسٹنڈے قسم کے سپاہیوں نے پھر میرے صبر کو آزمانا شروع کر دیا، مجھے پر بے ہوشی طاری ہونے لگی تو انہوں نے ہاتھ روک لئے۔
اس رات میں لاک اپ میں پڑا موت کی دعائیں مانگ رہا تھا جب کسی کے زور زور ہسنے کی آواز سن کر میں نے آنکھیں کھول دیں۔ جو ملنگ مجھے پہلے روز دفتر میں ملا تھا اس وقت میرے برابر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا میری خستہ حالت پر ہنس رہا تھا
جوگی - پارٹ 6
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu
stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral,
Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love
stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in
Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu
detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids,
Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu
suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu
font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز
کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu
kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,

