جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر6

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - قسط نمبر6
رائیٹر :انور صدیقی


میرے کانوں میں جلیل کی کمی ہوئی بات گونجی تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر رقم طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس نے پہلے روز جس بھونچال کا ذکر کیا تھا وہ میری زندگی میں آچکا تھا۔ اود بلاؤ کی طرح آنکھیں پھاڑے کیا گھور رہا ہے؟" اس نے مجھے گھور کر کہا! آنکھیں موند لے کانوں میں روئی ٹھونس لئے دمادم کے نعرے لگایا کر۔ ". میں بے قصور ہوں ملنگ بابا!" میری آواز رندھ گئی۔ " تم میرے لئے زندگی نہیں مانگ سکتے ہو تو اپنے معبود سے میری موت کی سفارش کر دو میں ذلت اور رسوائی کی زندگی لے کر کروں گا بھی کیا؟"
. بغلیں بجانا بغلیں " دیوانہ آنکھیں نکال کر بولا پھر اپنے بڑھے ہوئے ناخنوں سے جھاڑ جھنکار ڈاڑھی میں الٹی کنگھی کرنے لگا اس کے وجود سے تعفن پھوٹ تھا لیکن کوئی بات ضرور تھی کہ اس کے قرب کا احساس مجھے بھلا لگ رہا تھا، میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
" مجھ سے بھول ہو گئی تھی۔ مجھے تمہاری بات مان لینی چاہئے تھی، میں الٹے قدموں واپس چلا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔" جواب میں وہ اس طرح آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے گھورنے لگا جیسے میری بات سمجھے کی کوشش کر رہا ہو۔ تھانے کے باہر اس وقت بھی دو مسلح پہرے دار موجود تھے لیکن انہوں نے ملنگ پر کوئی توجہ نہیں دی۔ شاید انہیں وہاں اس کی موجودگی کا سرے سے فلم ہی نہیں تھا۔ جلیل نے یہی کہا تھا کہ وہ ایک وقت میں کسی ایک خوش نصیب کو نظر آ تا ہے۔ اس کے ہونٹوں سے جو بات نکلتی ہے وہ پتھر کی لکیر ثابت ہوتی ہے۔ میں نے بزرگوں سے بھی یہی سنا تھا کہ اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے کھل کر کسی کو قسمت یا غیب کا حال نہیں بتاتے اشاروں کنایوں میں ان کی رہبری اور رہنمائی کرتے ہیں۔ ملنگ نے بھی میری خضر منزلت کرنے کی کوشش کی تھی، اس نے کہا تھا کہ میں جدھر سے آیا ہوں ادھر ہی الٹے قدموں واپس لوٹ جاؤں، میں اس کی بات کا مفہوم نہ سمجھ سکا اور اب میری زندگی میں وہ بھونچال آچکا تھا اس نے جس کی نشاندہی کی کوشش تھی۔
ملنگ مجھے دیوانوں کی طرح پھڑ پھٹی نظروں سے گھور تا رہا پھر ادھر اُدھر دیکھ کر بڑی رازداری سے بولا۔
مجھے اس نے دھکا دے کر تیری طرف بھیجا ہے جس نے تیری حفاظت کا وعدہ کیا
.
تم تم کس کی بات کر رہے ہو ؟ میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا۔ وہی جس نے تجھے ہتھیلی لگا رکھی ہے۔ " ملنگ نے بائیں آنکھ جھپکائی پھر دونوں ہاتھ سے سر کے لمبے لمبے بال کھجلانے لگا اس کی نگاہوں میں وحشت ہی وحشت نظر آ رہی تھی۔
میں سمجھا نہیں بابا! میں نے رقت بھرے لہجے میں کہا۔ "تمہیں خدا کا واسطہ جو کھل کر کہہ دو۔"
دم سلامت .
. غم سلامت . حق
حق ہو. حق ہو
.. هو حق۔"
ملنگ نے حق ہو اور حق کے بلند نعرے لگانے شروع کر دیئے، اس کی آواز صرف مجھے سنائی دے رہی تھی۔ پہرے پر موجود سنتریوں نے اس کے بہو حق کے نعروں پر بھی
کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ مجھے اپنے ساتھ لے چلو بابا!" میں نے گڑ گڑانا شروع کر دیا۔ " تم نے میری رہنمائی
نہ کی تو میں بھٹک جاؤں گا۔" انتظار کر لے چڑی کے غلام۔" اس نے دیدے پھاڑ کر مجھے وحشت بھری نظروں سے گھورا پھر سرسراتے لہجے میں بولا۔ ”وہ ضرور آئے گا۔ ابھی اپنے آنے پائی کے حساب میں الجھا ہے ۔۔ .. توله. ماشه رقى. میں کچھ نہیں سمجھ سکا۔ " میں نے تڑپ کر کہا۔ " تم میرے سر پر ہاتھ رکھ دو۔" اس نے رکھا ہے۔ اس کا انتظار کر ۔ " اس نے میرے اور قریب کھسک کر بڑی رازداری سے کہا۔ قلابازی کھا گیا تو آنتیں باہر آجائیں گی، اوندھے منہ نابدان میں
گرے گا .....
حق ہو. حق ہو. ... هو حق"
وہ اپنی زبان میں باتیں کر رہا تھا، میں الجھ گیا۔
مدد نہیں کر سکتے تو تم بھی چلے جاؤ میرے مقدر میں جو لکھا ہے وہ میں برداشت کر لنگا
ٹھو کر کھا کر کرے گا آگے اندھیرا ہے بہش۔ " اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر عجیب پُراسرار انداز میں کہا، اس کی آنکھیں حلقوں میں تیز تیز گردش کر رہی تھیں۔ خاصی دیر تک وہ ہونٹوں پر انگلی جمائے دیدے نچاتا رہا پھر میری طرف دیکھ کر : ٹھیک ہو جا۔ بندر کے بجائے مچھندر ہو جا .. دم دبا کر دم سادھ لے .۔"
میں نے کوئی جواب نہیں دیا اسے رحم طلب نظروں سے گھورتا رہا کہ شاید وہ میری آنکھوں کے ذریعے میرا حال سمجھ لے۔
دیدے پھاڑ رہا ہے .. کٹ کھنے لنگور۔" وہ پھر حلق پھاڑ کر قہقہے بلند کرنے لگا پھر اچانک اس نے دونوں ہاتھ منہ پر جما کر خاموشی اختیار کرلی اور نظریں گھما گھما کر اس طرح اطراف کا جائزہ لینے لگا جیسے کسی خطرے کی بو سونگھ رہا ہو۔ . " تم کیا تلاش کر رہے ہو ؟" میں نے اسے کریدنے کی کوشش کی۔ آنکھ بند کرلے گھٹنے سکیڑ کر دبک جا آندھی آرہی ہے
............
کالی آندھی حق ہو ہو حق۔ " اس نے مدھم آواز میں کہا پھر دوسرے ہی لمحے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اس کی آمد بلا مقصد نہیں تھی، خدا کا وہ نیک بندہ پھر میری رہنمائی کو آیا تھا لیکن میری بدنصیبی کہ میں اس کے اشاروں کو نہ سمجھ سکا۔ دیوانے کے جانے کے بعد بھی میں بڑی دیر تک اس کی باتوں پر غور کرتا رہا، کروٹیں بدلتا رہا پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں کرب کی کیفیتوں سے وقتی طور پر آزاد ہو گیا۔ دوسری صبح مجھے حسب دستور ایک بھنگی نے ٹھو کر مار کر جگایا، مجھے ناشتے میں کئی روز کی باسی اور بدبودار روٹی دی گئی۔ ایک مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتن میں بغیر دودہ کی چائے ملی جو میں کسی نہ کسی طرح زہر مار کر گیا۔ اس روز ایک ڈاکٹر مجھے دیکھنے آیا جس نے
میرے زخموں پر دوائیں لگائیں پھر خاموشی سے واپس چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ ٹھیک دس بجے پھر دو تین جلاد کسی مردہ جانور کی طرح مجھے گھسیٹتے ہوئے اسی عقوبت خانے میں لے جائیں گے جہاں مجھے ناقابل برداشت اذیتوں سے دوچار جائے گا لیکن خلاف معمول گیارہ بجے تک کسی نے میرے لاک اپ میں جھانکنے کی بھی گوارا نہیں کی، دوپہر کو مجھے جو کھانا ملا وہ بھی دوسرے دنوں کے مقابلے میں قدرے بہتر تھا لیکن شاید کوئی فقیر بھی اسے کھانے سے انکار کر دیتا۔ میں اس تبدیلی پر حیران تھا۔
دو دن اور گزر گئے، میرے ساتھ مار پیٹ کا سلسلہ بند کر دیا گیا تھا، پولیس کا ڈاکٹر باقاعدگی سے آکر میرے زخموں کا معائنہ کرتا رہا۔ وہ مجھے کیوں زندہ رکھنا چاہتے تھے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آسکی تھی۔ پھر جس روز مجھے ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا جانے والا تھا اس سے ایک دن پیشتر شام کے کوئی چھ بجے دو سپاہیوں نے مجھے ہتھکڑی بیڑی پہنا کر لاک اپ سے نکالا، میرا جوڑ جوڑ پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا سارے جسم میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن میں ان کے ساتھ ہمت کر کے قدم اٹھاتا رہا۔ منا کرتا تو وہ پھر مجھے کسی ردی کی بوری کی مانند بے دردی سے زمین پر گھسیٹنا شروع کر دیتا لاک اپ سے نکال کر مجھے تھانے کے باہر لایا گیا جہاں پولیس کی ایک وین کھڑی تھی۔ آٹھ روز بعد مجھے کھلے آسمان کے نیچے صاف ستھری فضا میں سانس لینے کا موقع ملا تو . یوں لگا جیسے میں کسی نئی دنیا میں آگیا ہوں۔ میں لمبی لمبی سانس لینے لگا مجھے فرحت کا احساس ہو رہا تھا لیکن سپاہیوں نے زیادہ موقع نہیں دیا تھانے سے ایک باور دی انسپکٹر نکل کر باہر آیا تو اس کے اشارے پر مجھے وین کے پچھلے حصے میں ناہموار تختے پر ڈال دیا گیا۔ نشستوں پر دونوں جانب چار سنگین بردار سپاہی بیٹھے تھے۔ مجھے ان کی حرکتوں پر ہنسی آرہی تھی، میں ہتھکڑی بیڑیوں میں قطعی بے بس تھا لیکن وہ پوری طرح محتاط تھے۔ یہ بات بھی میرے لئے پریشان کن تھی کہ شام کے چھ بجے وہ مجھے کہاں لے جا رہے تھے؟ کیا بخاری کی طرح انہوں نے مجھے بھی ٹھکانے لگانے کا کوئی خطرناک منصوبہ تیار کر لیا تھا؟" میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا تو میری رگوں میں دوڑتے خون کی گردش تیز ہو گئی۔ مجھے دادا جان کی باتیں یاد آنے لگیں۔ انہوں نے میری ماں سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ شامل رکھیں گے مگر ان کا سایہ بھی تادیر قائم نہ رہ سکا۔ میرے نام کی تبدیلی کے سلسلے میں بھی انہوں نے گول مول باتیں کی تھیں مگر یہ بات بڑے وثوق سے. کسی تھی کہ میری عمر طویل ہو گی۔ میری مرحوم والدہ کی تشویش پر یقین دلاتے ہوئے کہا کہ میں مجھ پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے لیکن وہ پٹنہ سے روانگی سے قبل جدا ہو گئے تھے۔ میں بھری دینا میں تنہا رہ گیا۔
میں بڑی دیر تک دادا جان کو یاد کرتا رہا پھر اچانک میرے تصور میں جوگی سیتارام خیال ابھرا اس نے بھی کہا تھا کہ دادا جان کی تسبیح کی کرامات تھی جس نے ڈاکوؤں کو میرے سلسلے میں اندھا کر دیا تھا۔ تسبیح میرے گلے میں نہ ہوتی تو میں بھی والدین کی بے گور و کفن لاشوں کے درمیان کہیں خون میں لت پت پڑا ہو تا۔ میرے والد کا خیال تھا کہ دادا جان مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسا نہ ہوتا تو انہوں نے وہ تسبیح میرے گلے میں نہ ڈالی ہوتی۔ انہیں شاید پہلے سے اپنی موت کا بھی علم ہو رہا ہو گا جو میری سالگرہ کے فوراً بعد پٹنہ سے چلے گئے تھے، وہ زندہ ہوتے تو شاید میرے کسی کار
آتے۔
جوگی سیتا رام بھی یقینا کوئی پہنچا ہوا آدمی تھا جس کو میرے ماضی کی ایک ایک بات معلوم تھی۔ اس نے میرے لئے اب تک جو کچھ کہا تھا وہ سچ ہو تا چلا آ رہا تھا۔ مجھے اپنے کردار پر بڑا ناز تھا لیکن جھرنا کے قرب اور اس کے حُسن کی حشر سامانیوں نے مجھے گناہ کی عمیق گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔ میری ایمانداری کا بھرم بھی اس کے کہنے کے مطابق خاک میں مل چکا تھا۔ تحمل بخاری مارا جا چکا تھا، اسے ایک ہی جھٹکے میں رہائی مل گئی تھی
میں ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہا تھا۔ مجھے اپنی حالت زار پر ہنسی بھی آرہی تھی اور رونا بھی، یہ خیال بھی مجھے پریشان کر رہا تھا کہ اگر انہیں مجھے موت کے حوالے کرنا تھا تو پھر اتنی اذیتیں دینے کی کیا ضرورت تھی، ایک سیسہ پلائی ہوئی گولی ہی میرے وجود کا قصہ پاک کر دیتی، انہیں بھی اتنے پاپڑ نہ بیلنے پڑتے میں بھی ایک جھٹکے میں زندگی کی قید و بند سے نجات حاصل کر لیتا۔ معاً میرے ذہن میں جوگی سیتارام کا ایک جملہ ابھرا اس مہان جوگی نے کہا تھا۔ جب تیرے اوپر کوئی بپتا پڑے، بچاؤ کا کوئی راستہ نہ ہو، ہر طرف گھور اندھیرا پھیلا ہو اور دم گھٹ رہا ہو تو سچے من سے مجھے یاد کر لینا میں تیری سہائتا کو ضرور آؤں گا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ”آج جوگی سیتارام تیرے پاس چل کر آیا ہے لیکن کل ایسا نہیں ہو گا۔ کل تجھے اس مہان جوگی کی یاد ستائے گی، یاد رکھ ، تجھے میرے چرنوں کے سوا کہیں اور
شرن (پناہ) نہیں ملے گی۔" میں ابھی سیتارام کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وین کی رفتار بتدریج کم ہونے لگی وین رکی اور انجن کی آواز ختم ہو گئی تو میں یہی سمجھ گیا کہ میرا آخری وقت قریب آگیا میرے دل کی دھڑکنیں یکلخت تیز ہونے لگیں، میرے پاس وقت کم تھا، مجھے اپنی زندگی کے بارے میں اب ایک آخری فیصلہ کرنا تھا میں نے سوچا کیوں نہ جوگی سیتارام کو یاد کر کے اس کی طاقت کو بھی آزمالوں؟ اس نے دعوی کیا تھا کہ اگر میں اس کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر آمادہ ہو جاؤں تو میری ہر خواہش پوری ہو گی، میں جو سوچوں گا وہ پورا ہو گا جو چاہوں گا وہ ملے گا۔ کسی ڈوبنے والے کے لئے تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے۔ موت کا تصور اور پھانسی گھاٹ کا منظر ہی انسان کے سارے کس بل نکال دیتا ہے۔ بڑے بڑے ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کے پتے پانی ہو جاتے ہیں، ان کی ساری اکڑ ختم ہو جاتی ہیں، وہ چیخ چیخ کر زندگی کی بھیک مانگنی شروع کر دیتے ہیں، گڑ گڑانے لگتے۔ ان کے مقابلے میں تو میں کچھ بھی نہیں تھا۔ کسی نے باہر سے وین کا پچھلا دروازہ کھولا تو میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ میری زندگی اور موت کا فاصلہ گھٹ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ تقدیر اور حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دوں لیکن اسی لمحے دیوانے ملنگ کی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ دُم دبا کر دم سادھ لے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ قلابازی کھا گیا تو آنتیں باہر آجائیں اوندھے منہ تابدان میں گرے گا ۔ حق ہو۔ حق ہو.
۔...ملنگ کی بات یاد کر کے میں نے خود کو سنبھالا۔ ابھی مجھے جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اگر مجھے مارنے ہی کی خاطر تھانے سے نکال کر کسی ویرانے میں لائے تھے تو انہیں مجھے ٹھکانے لگانے میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ وہ چاہتے تو مجھے عقوبت خانے میں بھی گولی مار کر ہلاک کر دیتے میری لاش بوری میں بھر کر کسی ویرانے میں پھینک آتے یہ کام ان کے لئے زیادہ آسان ہو گا۔
میرا ذہن تیزی سے قلابازیاں کھا رہا تھا، پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے سنتری ایک ایک کر کے اترنے لگے پھر انہوں نے مجھے بھی ٹانگ پکڑ کر باہر گھسیٹ لیا، دو سپاہیوں نے آخری وقت میں سہارا نہ دیا ہوتا تو منہ کے بل زمین پر گرا ہو تا، میں نے کنکھیوں سے قرب و جوار دیکھا وین کسی گیراج میں کھڑی تھی اور گیراج کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ کسی عایشان کوٹھی کا ایک حصہ رہا ہو گا۔
وین سے اتر کر ایک لمحے انتظار کیا پھر وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر ایک دروازے کی سمت لے گئے۔ دروازے کے دوسری طرف سیڑھیاں تھیں جہاں ایک شخص ہاتھ میں جدید رائفل لئے کھڑا تھا، اس نے مجھے حقارت بھری نظروں سے دیکھا پھر سیڑھیاں اترنے لگا۔ مجھے بھی اس کے تعاقب میں دھکا دیا گیا، سیڑھیوں کے انتقام پر ایک اور دروازہ تھا جس کی دوسری طرف کسی زمین دوز حصے کا ایک کمرہ موجود تھا جسے اسٹور روم ہی کہا جا سکتا تھا۔ تم اس حرام کے تخم کو ادھر ہی زمین پر بٹھاؤ۔" رائفل بردار نے بڑے کھردرے لیجے میں انسپکٹر کو گھور کر کہا۔ "میں صاحب کو خبر کرتا ہوں۔" موت کا خیال میرے ذہن سے چھٹنے لگا' وہ مجھے کسی بڑے امر کے بنگلے پر لائے تھے۔ رائفل بردار کے جانے کے بعد مجھے زبر دستی فرش پر لٹا دیا گیا بیٹڑیوں کی وجہ سے میرا بیٹھنا دشوار تھا۔
سنو " انسپکٹر نے مجھے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔ "اپنی زبان زیاده تر بند ہی رکھنا ورنہ تم کو بھی وہیں بھیج دیا جائے گا جہاں تمہارے دوسرے ساتھی کو پہلے ہی لوڈنگ ٹرک کے ذریعہ روانہ کیا جا چکا ہے۔ جو سوال پوچھا جائے صرف اس کا جواب دینا زیادہ منہ پھاڑنے کی غلطی کی تو کتوں سے بد تر موت مارے جاؤ گے۔ " میں خاموشی سے انسپکٹر کی باتیں برداشت کرتا رہا پھر اس وقت میں حیرت سے چونک پڑا جب میں نے اس شخص کو بڑے کروفر سے سامنے پایا جسے بخاری نے دو لاکھ کے عوض چھوڑ دیا تھا۔ وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ دو باڈی گارڈ بھی جدید اسلحہ سے لیس موجود تھے ، وہ خوفناک نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔
مجھے حیرت ہوئی، قانون کی حالت زار پر ہنسی بھی آئی کہ مجھے ایماندار ہونے کے باوجود ایک ایسے مجرم کے سامنے پیش کیا گیا تھا جسے بخاری نے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا، اُس وقت اپنی گلو خلاصی کے لئے وہ منت سماجت کر رہا تھا اور اس وقت کسی بڑے ذمہ دار آفیسر کی طرح میرے سامنے سینہ تانے کھڑا مجھے گھور رہا تھا، اس کو دیکھ کر انسپکٹر اور اس کے عملے کے افراد بھی اٹینشن (Attention) پوزیشن میں آچکے تھے۔ چند لمحوں تک وہ حقارت بھری نظروں سے میری بے بسی اور خستہ حالت پر غور کرتا ہوا سپاٹ لہجے میں بولا۔
تمہیں اپنے اس ساتھی کا انجام معلوم ہے جو کسی جنگلی اور پاگل کتے کی طرح میرے اوپر بھونک رہا تھا؟" اس کا اشارہ بخاری کی طرف تھا۔ نہیں۔ میں نے مدھم لہجے میں جھوٹ بولا۔ ہم نے اسے ختم کرا دیا۔" اس نے نفرت بھرے انداز میں کہا۔ "ہم ایسے جنگلی جانوروں کو پسند نہیں کرتے جو ہمارا راستہ کھوٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کیا نام تھا اس سؤر کی اولاد کا؟" اس کے تیور آہستہ آہستہ خطرناک ہو رہے تھے۔ " تحمل بخاری۔ " میں نے خوفزدہ لہجے میں مختصراً جواب دیا۔
ہاں وہی جو اپنے آفیسر کا بھی باپ بننے کی کوشش کر رہا تھا۔" اس نے خونخوار لیجھے میں سوال کیا۔ "کیا تم لوگوں کو یہ اشارہ نہیں دیا گیا تھا کہ جہاں تمہارا اصلی باپ نظر ائے ادھر سے نظریں پھیر کر چپ چاپ کسی اور طرف چلے جاتا؟" میں نے پھر خاموشی ہی مناسب سمجھی کیا جواب دیتا۔
تمہارا مخبر کون تھا؟" اچانک وہ پہلو بدل کر بڑے سفاک لہجے میں بولا۔ " مجھے اس
حرام کے پلے کا نام بتاؤ۔" " مجھے نہیں معلوم۔" میں نے صاف گوئی سے کہا۔ ”شاید بخاری جانتا ہو۔" سمجھ گیا۔" وہ کسی چوٹ کھائے زخمی ناک کی طرح بل کھانے لگا۔ " تم شرافت سے منہ نہیں کھولو گے کیوں ؟
میں ابھی پٹنہ سے تبدیل ہو کر آیا ہوں، مجھے بخاری کے ساتھ ۔۔ " میں اپنا جملہ مکمل نہ کر سکا اس کے اشارے کے ساتھ ہی ایک رائفل بردار نے میرے منہ پر جوتے کی بھر پور ٹھوکر ماری تو میں بلبلا کر رہ گیا، میرے گال پر جہاں ٹھوکر لگی تھی وہاں سے خون بہنے لگا۔ میں لمبی چوڑی بات سننے کا عادی نہیں ہوں۔" وہ غرایا۔ ” مجھے مخبر کا نام بتا دو میں تمہارے ساتھ رعایت کی سفارش کرا دوں گا۔ "
میں ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے مخبر کا نام نہیں معلوم۔“ میں نے بڑی عاجزی سے کہا۔
اس نے مجھے قہر آلود نگاہوں سے گھورا۔ ”سور کی اولاد ... ساتھی کے پاس جانا چاہتا ہے جو جہنم کے دروازے پر کھڑا تیری راہ دیکھ رہا ہو گا۔"
میں کسمسا کر رہ گیا اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتا تھا۔
باس!" ایک باڈی گارڈ نے بڑے زہریلے انداز میں اسے مخاطب کیا۔ ”میرا خیال ہے کہ اس کا حلق خشک ہو رہا ہے، جوس کا ایک ڈوز پینے کے بعد شاید اس کی زبان فرفر چلنے لگے۔" میں تجھے ایک آخری موقع دے رہا ہوں۔" وہ باڈی گارڈ کی بات سن کر مجھ سے
بولا۔ شرافت سے مخبر کا نام اگل دے ورنہ تیرا انجام بڑا بھیانک ہو گا۔“ چپ کیوں ہے حرامزادے۔" پولیس انسپکڑ نے بھی مجھ سے کڑک کر کہا۔ صاحب کی بات مان لے، اگل دے مخبر کا نام ورنہ ہم تجھے ادھیڑ کر رکھ دیں گے، سن رہا
ہے، میں کیا حکم دے رہا ہوں؟" میرا ذہن چکرا کر رہ گیا' وہ مجھ سے اس مخبر کا نام دریافت کر رہے تھے جس کا علم
میرے فرشتوں کو بھی نہیں تھا۔ اپنی گندی زبان کھول دے نہیں تو میں تجھ پر اپنے شکاری کتے چھوڑ دوں گا۔"
اس نے حلق پھاڑ کر گرجدار آواز میں کہا۔
میں سچ کہہ رہا ہوں کہ
میں اپنی بات مکمل نہ کر سکا دوسرے باڈی گارڈ نے براہ راست میرے ہونٹوں پر بوٹ کی ٹھوکر ماری تو میرے سارے دانت ہل کر رہ گئے، میرے ہونٹ پھٹ گئے، خون میرے منہ سے بھی ابلنے لگا' میرے وجود کے سارے بال و پر کپکپانے لگے۔ اس خنزیر کی اولاد کو پیشاب پلاؤ۔“ اس نے پاگلوں کی طرح چیخ کر حکم دیا۔ ”اس وقت تک اس کی چمڑی ادھیڑتے رہو جب تک مخبر کا نام اس کے حلق سے نکل کر باہر نہ آ جائے۔" پھر جو کچھ ہوا اس کی تفصیل بڑی کراہت آمیز ہے، میں احتجاج کرتا رہا، چیختا رہا، اپنی بے گناہی اور لاعلمی کی قسمیں کھاتا رہا لیکن ایک اسمگلر کا فیصلہ اٹل تھا' اس کے گارڈ اور لس والوں نے مل کر مجھے پچھاڑ دیا، ایک رائفل بردار اچھل کر میرے سینے پر سوار ہوا میں ان کی غلیظ حرکات اور سکنات سے سمجھ رہا تھا کہ وہ میرے ساتھ کیا گھناؤنا سلوک کرنا چاہتے ہیں، میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا انہوں نے اپنی گرفت اور مضبوط کرلی، میں نے سختی سے اپنا منہ بند کر لیا کسی نے رائفل کے بٹ سے میرے منہ پر ضرب لگائی پھر ایک ریوالور کی نال میرے منہ میں اس طرح ڈال دی گئی کہ میں منہ بند نہ کر سکا پھر وہی ہوا جو وہ چاہتے تھے۔ چھاتی پر سوار شخص نے میرے منہ پر پیشاب کرنا شروع کر دیا میری سانس رکنے لگی، میرا دم سینے کی گہرائیوں میں گھٹنے لگا، مجھے ایک زور کی ابکائی آئی، ایک لمحے کو ایسا گلا جیسے میرا کلیجہ حلق سے نکل کر باہر آ گیا ہو پھر مجھے کچھ یاد
نہیں رہا میرے ہوش و حواس معطل ہو گئے ، میں بے ہوشی سے دوچار ہو تا چلا گیا۔ میں کتنی دیر تک بے ہوشی کی کیفیت سے دوچار رہا مجھے یاد نہیں لیکن دوبارہ زندگی کا احساس اس اس وقت ہوا جب ایک مدھم سی آواز مجھے کہیں دور سے آتی سنائی دی۔ ڈاکٹر! اسے مرنا نہیں چاہئے اگر یہ مر گیا تو بہت بڑا ہو گا۔" میرا کام انسان کو بیماری دکھ سے نجات دلاتا ہے، آپ پریشان نہ ہوں یہ بچ جائے گا لیکن... لیکن دوسری آواز ڈاکٹر کی تھی جو کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا تھا۔لیکن کیا ڈاکٹر !" اس پر جو تشدد کیا گیا ہے وہ بڑا ظالمانہ ہے، اس طرح تو کسی جانور کو بھی نہیں مارتے "ڈاکٹر" دوسرے شخص نے سرد اور ناراض انداز میں کہا۔ "کیا تم میرا ایک چھوٹا
کا کام کر سکو گے ؟؟
فرمائیے۔"
اس کا سیدھا ہاتھ اور الٹا پاؤں کاٹ دو میں چاہتا ہوں کہ یہ عبرت کا نشان بن کر
زندہ رہے تاکہ اس کا انجام دیکھ کر پھر کوئی ہماری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کبھی نہ آ کرے۔"
سوری سر ! " ڈاکٹر نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔ ”میں بلاوجہ کسی انسان کو معذوری
کی زندگی گزارنے کا سبب نہیں بن سکتا ۔ "
تم میرے حکم کی تعمیل سے انکار کرو گے؟" تحکمانہ لہجے میں سوال کیا گیا۔ جو کام مجھ سے لینا چاہتے ہیں وہ میرے پیشے کے تقاضوں کے خلاف ہے اور ان سے غداری نہیں کر سکتا۔ " ڈاکٹر نے فیصلہ کن آواز میں جواب دیا۔

کچھ دیر تک سناٹا طاری رہا پہلی آواز سرسراتی ہوئی ابھری۔ ٹھیک ہے، تم اس کی سانس بحال کرنے کی فکر کرو، باقی کام کوئی دوسرا ڈاکٹر انجام
دے گا۔میں دم سادھے خاموش پڑا رہا لیکن ان جملوں کو سننے کے بعد میں پوری طرح ہوش میں آچکا تھا۔ میں نے اس بڑے اسمگلر کی آواز پہچان لی تھی مجھے جس کے بنگلے پر لے جایا گیا تھا۔ میرا ذہن ماؤف ہونے لگا میرا پورا وجود پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا۔ میری تکلیف نا قابل برداشت تھی لیکن وہ ابھی مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ مجھے اپاہجوں کی زندگی اسے گزارنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر نے انکار نہ کیا ہوتا تو وہ اپنی خواہش کی تکمیل میں زیادہ دیر بھی نہ لگاتے۔ مجھے میری دیانتداری اور ایمانداری کی جو سزا دی جا چکی تھی اس اسے سے ان کے دل کو ٹھنڈک نہیں ملی تھی، وہ مجھے میرے محکمے کے لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بنا کر زندہ رکھنے کی ہولناک اسکیم بنا رہے تھے اور قانون کے محافظ خاموش تھے۔ میرا ذہن گھپ اندھیروں میں بھٹکتا رہا۔ ڈاکٹر میرے زخموں کا معائنہ کرتا رہا پھر میرے جسم کے مختلف حصوں پر کئی انجکشن لگائے گئے۔ ان کی کھسر پھسر کی آوازیں میرا ۔ سکون برباد کر رہی تھیں، میں محسوس کر چکا تھا کہ ان کے ہاتھ بہت لمبے تھے ، قانون کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت نہیں تھی، انہوں نے وقتی طور پر ڈاکٹر کی حکم عدولی کو برداشت کر لیا تھا لیکن ان کے لئے ڈاکٹروں کی کمی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا بھی تھا کہ میرا ہاتھ ۔ پاؤں کاٹنے کا کام کوئی دوسرا ڈاکٹر انجام دے گا۔ میرے ذہن پر گرم آندھی کے جھکڑ چل رہے تھے ، میرے زخموں کی ٹمیں بڑھ رہی ہے تھی، وہ مجھے مارنا نہیں چاہتے تھے ، زندہ رکھنے کی باتیں کر رہے تھے لیکن میں اپاہجوں کی ۔ زندگی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے کسی خیال کے تحت پاؤں کو جنبش دینے کی کوشش کی تو کراہ کر رہ گیا۔ ان ظالموں نے مظالم کی انتہا کرنے کے باوجود مجھے بیڑیوں کی قید سے آزاد نہیں کیا تھا۔ ہتھکڑیوں کی وجہ سے میں ہاتھ بھی نہیں ہلا سکتا تھا۔ میرے ذہن میں متعدد خیالات ابھر رہے تھے ، سب سے اہم خیال یہ تھا کہ وہ کسی طرح غافل ہوں اور میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنا گلا گھونٹ کر زندگی کی قید سے ہمیشہ کے لئے رہائی پا جاؤں۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ میرے اوپر عذاب بن کر گزر رہا تھا جب اس اسمگلر کی منحوس آواز پھر میرے کانوں میں گونجی۔

ڈاکٹر ! یہ کتنی دیر تک ہوش میں آجائے گا؟"
انسپکٹر ! اس بار غالباً پولیس انسپکٹر کو مخاطب کیا گیا تھا۔ تم یہیں ٹھہرو، ہم کچھ دیر
میں واپس آتے ہیں۔" پھر کچھ ملے جلے قدموں کی آواز ابھر کر دور ہوتی چلی گئی۔ شاید وہ کمرے سے جا چکے تھے۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا، اچانک مجھے گھپ اندھیروں میں روشنی کی ایک کرن نظر آئی۔ میں نے چاروں طرف سے مایوس ہو کر جوگی سیتارام کو سچے دل سے یاد کیا میں اپنی ایمانداری کا بھیانک انجام اور قانون کی بے بسی کا دلچسپ تماشہ دیکھ چکا تھا' میرے لئے تمام راستے بند کر دیئے گئے تھے۔ میں ایک مسلمان تھا، میرے والدین نے مجھے ہمیشہ المانہ اری کا درس دیا تھا، اسی ایمانداری کی خاطر میں نے پٹنہ کو خیرباد کہا تھا لیکن ڈھاکہ ، میں بھی مجھے قرار نہیں ملا میں جو سزا بھگت رہا تھا وہ مجھے منظور نہیں تھی۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ انسان مٹی کا پتلا ہے زندگی کی خواہش جانوروں کو بھی آخری اقدام کرنے پر اکسا دیتی ہے۔ میں نے بھی اسی جذبے کے تحت جوگی سیتارام کو یاد کیا تھا، مجھے اپنی زندگی کے گھپ اندھیروں میں وہی امید کی ایک کرن نظر آ رہی تھی۔ محبت اور جنگ میں تمام حربوں کا استعمال جائز ہوتا ہے، آسمان کی بلندیوں سے ایک ہم اپنے دامن میں ہولناک تباہ کاریاں سمیٹے تیزی سے اپنے نشانے کی سمت لپکتا ہے، زمین سے ٹکرانے کے بعد وہ بھیانک دھماکے کے ساتھ خود بھی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتا ہے اور اس کی تباہ کاریاں سینکڑوں اور ہزاروں بے قصور انسانوں کو بھی موت کی ابدی نیند سلا دیتی ہیں۔ میں نے بھی مرنے سے پیشتر اپنے دشمنوں سے انتقام کی ٹھان لی تھی، جوگی سیتارام میرے پاس آخری حربہ رہ گیا تھا، میں اس کی ناقابل یقین باتوں کو آزمانا چاہتا تھا۔ میرے ذہن میں جوگی سیتارام کا تصور موجود تھا میں اسے دل کی گہرائیوں سے یاد
کر رہا تھا جب ایک آواز میرے کانوں میں گونجی۔ تو نے سچے من سے مہان جوگی کو یاد کیا ہے پھر ڈر کس بات کا آنکھیں کھول دے بالک! جوگی سیتارام کی مانوس آواز سن کر میں نے آنکھیں کھول دیں، میں ابھی تک اسی روم میں ایک پلنگ پر پڑا تھا، کمرے میں میرے علاوہ وہ پولیس انسپکٹر بھی تھا، تیسرا شخص اپنے لباس کے اعتبار سے ڈاکٹر لگ رہا تھا جو میرے قریب کھڑا مجھے ہمدردانہ انداز میں دیکھ رہا تھا، دروازے کے قریب وہی رائفل بردار موجود تھا جس نے میرے حلق میں پیشاب کرنے کی کوشش کی تھی، اسے دیکھ کر نا
مجھے دوبارہ ابکائی آنے لگی۔ تو نے بڑے کشٹ برداشت کر لئے مورکھ! پہلے ہی جوگی کا کہا مان لیتا تو آج اس
حالت میں نہ ہوتا۔"
سیتارام کی آواز سن کر میں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں لیکن وہ مجھے کہیں نظر نہیں آرہا تھا، میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔ کہیں وہ آواز میرے وہم کی
پیداوار تو نہیں تھی؟“ میں نے سوچا۔ پھر دبدھے (شش و پنج) میں پڑ کر بیا کل ہونے لگا۔ " جوگی کی آواز میرے کانوں میں بہت واضح طور پر ابھری۔ بس اب شانت ہو جا کوئی چنتا مت کر میں جو تیرے پاس
موجود ہوں۔"
تم نے کہا تھا کہ اگر میں تمہارے ساتھ سمجھوتا کر لوں تو پھر میں جو چاہوں گا وہی ۔ ہو گا؟ میں نے کمزور لہجے میں سیتارام کے تصور کو خاموش انداز میں مخاطب کیا۔ تو نے جوگی کا کہا مانے میں دیر کر دی میں نے تجھے سمجھایا تھا کہ تجھے میرے چرنوں کے سوا کہیں اور شرن نہیں ملے گا۔""کیا تم اب بھی میری مدد کرنے کو تیار ہو ؟ میں نے پرامید لہجے میں پوچھا۔ بات تیرے بس سے نکل چکی ہے، اب تو میرے بس میں ہے۔ میرے چنگل میں گلے گلے پھنسا ہے۔ سیتا رام کی کھردری آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ” میں تجھ سے ایک پل کو بھی غافل نہیں تھا۔ تجھ پر جو بپتا پڑی ہے میں اس کا سارا حال جانتا ہوں میں نے کہا تھا تا کہ تجھے ایک دن میرے چرنوں پر جھک کر جیون کی بھکشا کے لئے ہاتھ پھیلانا پڑے گا.. یاد ہے بالک!"
ہاں مجھے یاد ہے۔ " میں نے ہونٹ بھینچ کر کہا۔
۔
اتنی جلدی نراش ہو گیا۔ ابھی تو تجھے جیون میں اور بھی بہت کچھ دیکھنا ہے پرکھوں (بڑوں) نے غلط نہیں کہا تھا کہ تو لمبی عمر پاوے گا۔"مجھے اپاہجوں کی طرح جینا منظور نہیں، تم کوئی ایسی جنتر منتر پڑھ کر پھونکو کہ مجھے س زندگی سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے۔ " میں نے بیزاری کا اظہار کیا۔
بڑی مشکل سے کھو جا ( تلاش) ہے تجھے ، اتنی جلدی کیسے کھو سکتا ہوں، ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے بالک! تو ابھی سے اوپر جانے کی بات کر رہا ہے۔" جوگی سیتارام نے میری بے بسی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا پھر دوسرے ہی لمحے بے حد سنجیدگی سے بولا۔ ”میں تیرے ساتھ اب بھی سمجھوتا کر سکتا ہوں پر تو ایک ہی شرط ہو گی۔"
وہ کیا؟" میں نے تیزی سے پوچھا۔ " تجھے جوگی کی ہر آگیا کا پالن کرنا ہو گا۔ کبھی ہچر مچر کرنے کی بھول نہیں کرے گا۔ دھرم کرم کو بھی درمیان میں نہیں لائے گا۔ " سیتارام ٹھوس لہجے میں مجھے سمجھا رہا تھا۔ کبھی چھل کپٹ سے کام نہیں لے گا۔" مجھے منظور ہے۔ " میں نے زندگی بچانے کی خاطر بغیر سوچے سمجھے کہا۔ ان نامساعد حالات میں سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا۔ من کو اچھی طرح ٹول کر ایک بار فیصلہ کر لے۔ ابھی سمے تیرے ہاتھ میں ہے۔" سیتارام نے سخت اور ٹھوس آواز میں جواب دیا۔ ایک بار سچے من سے وچن دے کر تُو نے پیچھے ہٹنے کی بھول کی تو جوگی کا کشٹ تجھے پورے سنسار میں کہیں بھی چین نہ لینے دے گا، ہمیشہ بھٹکتا رہے گا، موت کی آشا کرے گا لیکن وہ بھی تجھے سوئیکار نہیں کرے
گی۔"" مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔“ میں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔ تو پھر نشچنت (بے فکر) ہو جا۔ " اس نے بڑے یقین سے کہا۔ ”تو جوگی کی شرن میں آگیا ہے، اب کوئی شکتی تجھے پریشان نہیں کر سکے گی۔۔"
" تم اب کیسا محسوس کر رہے ہو ؟ ڈاکٹر نے نرم آواز میں مجھے مخاطب کیا۔ ابھی تک زندہ ہوں۔" میں نے کرب میں ڈوبی آواز میں جواب دیا۔ مایوس مت ہو۔" اس نے مجھے جھوٹی تسلی دی۔ " تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ
یہ تمہاری خوش فہمی ہے ڈاکٹر! میں نے تلخ لہجے میں کہا۔ "جس کام سے تم نے منا کیا کوئی اور کر دے گا۔ "
میری بات سن کر ہونٹ بھینچ لئے انسپکٹر تیزی سے لپکتا ہوا قریب آیا۔ اس نے شاید ہماری باتیں سن لی ہیں؟"
ہو سکتا ہے۔ " ڈاکٹر نے سرد آہ بھر کر جواب دیا۔
انسپکٹر جواب میں کچھ کہنا چاہتا تھا کہ وہی اسمگلر پھر اپنے ایک اسلحہ بردار باڈی گارڈ کے ساتھ سامنے آگیا جسے تحمل بخاری نے پکڑ کر چھوڑ دیا تھا۔ مجھے ہوش میں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں پھر انتقام کے شعلے بھڑکنے لگے۔ اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اتر آیا اب میں اکیلا نہیں تھا، جوگی سیتارام کی ماورائی قوتیں بھی میرے ساتھ شامل ہونے کا وعدہ کر چکی تھیں، مجھے یقین تھا کہ وہ کہیں آس پاس ہی موجود ہو گا۔
"ڈاکٹر" اس سنگدل جرائم پیشہ شخص نے میرے چہرے پر نظر جمائے جمائے ڈاکٹر کو مخاطب کیا۔ ” یہ ہوش میں آگیا، تمہارا کام ختم ہوا۔ تم اب جا سکتے ہو لیکن ایک بات کا خیال رکھنا تم اپنی زبان کو بند ہی رکھو گے ، بھول جاؤ گے کہ کبھی تم یہاں آئے بھی تھے
ورنہ اس نے اپنا جملہ دیدہ و دانستہ نامکمل چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر اس کا مفہوم سمجھ چکا تھا۔ وہ سمجھدار تھا اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اپنا بیگ زپ کر کے ہاتھوں میں لیا پھر تیز تیز قدم اٹھانا باہر چلا گیا۔ ایک باڈی گارڈ اس کے ساتھ گیا تھا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ سینہ تانے دو قدم اور آگے آگیا۔ ”ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں ایک ہاتھ اور ایک پیر سے محروم کر کے معاف کر دیا جائے۔ " اس نے بڑے سرد اور سفاک لہجے میں کہا۔ تمہیں ایک سال کی سزا ہو گی۔ جیل کا ڈاکٹر میرا واقف کار ہے وہ تمہارا اتنا علاج ضرور کر دے گا کہ تم زندہ رہو۔"
میں خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔ بچنے کی ایک ہی شکل ہے۔" اس نے تھوڑے توقف سے کہا۔ ” مخبر کا نام اگل دو اور سزا کاٹنے کے بعد اس ملک سے کہیں دور چلے جاؤ۔" " بالک" جوگی سیتارام کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ " میں نے کہا تھا کہ میں اب آگیا ہوں، تو نشچنت ہو جا پر تو تو ابھی تک سہما سہما نظر آ رہا ہے۔ میں نے تجھے جو و چن دیا ہے کیا اس پر وشواس نہیں آیا تجھے؟" پہلے میں نے سوچا تھا کہ تمہارے ہاتھ پیر کاٹنے کی خاطر کسی ڈاکٹر کی خدمات کی جائیں لیکن اب میرے ملازم یہ خدمت انجام دیں گے۔" ایک آخری فیصلہ کر لے، مخبر کا نام

بتانا پسند کرے گا یا اپاہجوں کی طرح تمام زندگی سڑکوں پر اپنے وجود کے بوجھ کو گھسیٹتا پھرے
میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے مخبر کا نام نہیں معلوم۔" میں نے ہمت سے کام لے کر جواب دیا۔ ”تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں بھی میرا ہاتھ نہیں تھا، سب کچھ بخاری نے کیا تھا، میں اس کے ساتھ ضرور تھا لیکن"
شٹ اپ .
یو باسٹرڈ۔" وہ حلق کے بل چیخا۔ ”میں تیری صفائی نہیں سننا چاہتا۔" میں کوئی جواب دینے کے بارے میں غور کر رہا تھا کہ میں نے کسی کے نادیدہ ہاتھ کو اپنے زخموں پر سرسراتے محسوس کیا، لمحوں کی دیر تھی کہ کمرے میں موجود تمام افراد کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ خود میں بھی حیران رہ گیا میرے جسم سے زخموں نام نشان پلک جھپکتے میں دور ہو گئے تھے۔
” میری بات دھیان سے سن بالک" سیتارام کی آواز ابھری۔ ”جب جوگی کی شکتی تیرے ساتھ ہے تو ڈر کس بات کا؟" "کیا تم میرے جسم پر ہتھکڑی اور بیڑیاں نہیں دیکھ رہے ہو؟" میں نے دھڑکتے دل سے کہا۔ میں ایک ہوں اور وہ چار باہر ان کے اور بھی موجود ہوں گے، میں تنہا کس کس کا مقابلہ کروں گا؟" تو اب تنہا نہیں ہے مورکھ! سیتارام کی مہان شکتی بھی تیرے ساتھ ہے۔"
لیکن. کوئی چنتا مت کر۔" وہ میری بات کاٹ کر بولا۔ ”میں کچھ دیر کے لئے تیرے شریر میں ایسی شکتی پھونک رہا ہوں کہ اگر چار کے بجائے دس راکھشس ہوں تو بھی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے تو جو کہے گا وہی ہو گا۔ پر اپنا وچن یاد رکھنا، تُو نے میری ہر آگیا کا پالن کرنے کی سوگند اٹھائی ہے۔" مجھے یاد ہے۔" میں نے تیزی سے جواب دیا' میرے زخموں کا ایک پل میں مندمل ہو جانا حیرت انگیز تھا، مجھے جوگی سیتارام کی قوت کا اندازہ ہو چکا تھا، وہ یقیناً پر اسرار اور حیرت کی قوتوں کا مالک تھا۔
موجود ہر شخص تصویر حیرت بن کر رہ گیا تھا۔ میرے بدن کا تار تار اور خون میں لتھڑا ہوا لباس، میرا ادھڑا ہوا جسم جس سے ایک لمحہ پیشتر خون رس رہا تھا، تعفن پھوٹ رہا تھا سب کچھ ٹھیک ہو چکا تھا۔ انسپکٹر کی حالت سب سے زیادہ غیر ہو رہی تھی۔
میں نے سب سے پہلے اس کو مخاطب کیا۔ انسپکٹر میری ہتھکڑی بیٹری کھول دو۔ " میرا لہجہ تحکمانہ تھا۔ انسپکٹر بل کھا کر رہ گیا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹھیک اسی لمحے مجھے ایسا لگا جیسے اچانک میری رگوں میں خون کے بجائے آتش فشاں کا ابلتا لاوا دوڑ رہا ہو، میرے اندر جس توانائی نے اچانک انگڑائی لی تھی وہ بھی حیران کن تھی، مجھے اب وہ لوہے کی ہتھکڑی اور بیٹریاں پلاسٹک کے حقیر کھلونے نظر آ رہے تھے۔ سیتا رام اپنی مهان شکتی کے زور سے میرے اندر کسی شیطانی قوت کی روح پھونک چکا تھا، مجھے اپنے سامنے کھڑے افراد بھی نالی میں رہینگتے ہوئے کیڑے مکوڑے نظر آ رہے تھے۔ انسپکٹر! تم شاید بہرے ہو گئے ہو؟" میں نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔ ”کیا تم نے میرا حکم نہیں سنا؟"
نادر خاں!" بڑے اسمگلر نے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا اپنے ایک باڈی گارڈ کو للکارا۔ اس کا شاید دماغ چل گیا ہے جو اس نے بھونکنا شروع کر دیا ہے، اس کی
زبان کاٹ دو۔"
نادر خاں نامی باڈی گارڈ نے اپنی بیلٹ سے شکاری چاقو نکالنے پر حیرت انگیز پھرتی کا مظاہرہ کیا پھر وہ کسی خونخوار درندے کی طرح میری جانب ایکا لیکن میرے قریب آکر بت بن گیا، میں سمجھ گیا کہ سیتارام کی مہان شکتی نے اسے بے بس کر دیا تھا۔ "نادر خان! میں نے سیتارام کی بات کو آزمانے کی خاطر نادر خان کو گھور کر کہا۔ جس خنجر سے تم میری زبان کاٹنے کے لئے آگے بڑھے تھے اب اسے اپنی گردن پر پھیر لو انکار کرو گے تو اس کا نتیجہ اور زیادہ بھیانک بھی ہو سکتا ہے۔ سن رہے ہو نادر خاں، میں تمہیں کیا حکم دے رہا ہوں؟" پھر جو کچھ ہوا اس نے جوگی سیتا رام کی بات کی تصدیق کر دی۔ میرے حوصلے اُس وقت اور بلند ہو گئے جب نادر خان نے میرے حکم کی تعمیل میں خنجر کی تیز دھار اپنے گلے پر پھیر لی اور زمین پر گر کر کسی ذبح کئے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے
لگا اس کے حلق سے خون کا فوارہ ابل رہا تھا۔
انسپکٹر کا رنگ فق ہو گیا۔ دوسرا گارڈ بھی پھٹی پھٹی نظروں نے اپنے ساتھی کا
عبرتناک انجام دیکھ رہا تھا، میرے سب سے بڑے دشمن کی حالت بھی غیر ہونے لگی۔ میں نے اسے دیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
اب تمہارا کیا فیصلہ ہے میرے بارے میں؟"
میں میں تمہیں گولی مار دوں گا۔ " اس نے اپنا ریوالور والا ہاتھ فضا میں بلند کیا لیکن کسی ماورائی قوت نے اسے اتنی شدت سے جھٹکا دیا کہ ریوالور اس کے ساتھی کے منہ پر جا کر لگا میرے دشمن کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ گیا اس کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ میں تمہاری ہتھکڑی بیڑی کھولے دیتا ہوں۔" انسپکٹر نے بازی پلٹتے دیکھ کر مردہ سی آواز میں کہا۔ لیکن تم جو کر رہے ہو وہ ٹھیک نہیں ہے، تمہارا جرم پہلے سے زیادہ سنگین ہو گا قانون کے ہاتھ تمہاری گردن پر زیادہ مضبوط ہو جائیں گے۔"
قانون..میں حقارت سے مسکر دیا پھر میں نے پھریری لی تو میرے جسم پر
موجود ہتھکڑی اور بیڑی کڑ کڑا کر ٹوٹ گئیں، انسپکٹر کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے، وہ بھی بت بن گیا، میں انگڑائی لیتا ہوا پلنگ سے نیچے آگیا۔ " تم نے کچھ دیر پیشتر میرا ایک ہاتھ اور ایک پیر کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ " میں نے اپنے دشمن سے کہا جس کی عقل نے شاید کام کرنا چھوڑ دیا تھا اس کی جگہ میں ہو تا تو شاید میری بھی وہی حالت ہوتی جس سے وہ دو چار تھا۔ اب کیا خیال ہے تمہارا؟" اس نے کوئی جواب نہیں دیا، پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے گھورتا رہا۔ تم مجھے نشان عبرت بنانے کی سوچ رہے تھے ؟ اب سانپ کیوں سونگھ گیا ؟" میں زہر خند سے بولا۔
اس کے ہونٹ صرف کپکپا کر رہ گئے، منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ اب میں تمہیں ایک حکم دے رہا ہوں۔" میں نے سرد لہجہ اختیار کیا۔ ریوالور اٹھاؤ اور اپنی کنپٹی پر رکھ کر دبادو۔" میرے کہنے کی دیر تھی وہ کسی سعادت مند بچے کی طرح آگے بڑھا فرش پر پڑے ہوئے ریوالور کو اٹھا کر اپنی کنپٹی پر لگایا پھر اسے ٹریگر دبانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوی اسکی لاش لڑکھڑاتی ہوئی فرش پر گری اور گاڑھے گاڑھے خون سے فرش انسپکٹر کی پتلون گیلی ہو گئی، خوف اور دہشت کے احساس سے اس کا
پیشاب خطا ہو گیا اس کا جسم اس طرح لرز رہا تھا جیسے اسے بجلی کے نگے تاروں میں لپیٹ کر چار سو چالیس پاور کا کرنٹ چھوڑ دیا گیا ہو۔"
کمرے میں اب واحد وہ گارڈ باقی رہ گیا جس نے میرے منہ پر پیشاب کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا اس کی آنکھوں سے بھی خوف جھانک رہا تھا، چہرے کی رنگت اس طرح زرد ہو گئی تھی جیسے وہ برسوں سے یرقان کے مرض میں مبتلا ہو۔
تمہارا نام؟" میں نے زہر خند سے پوچھا۔
.
.. باس مجھے جابر کہا کرتا تھا۔" وہ ہکلانے لگا۔
مجھے اس کا جواب سن کر ہنسی آگئی، وہ موت کے دہانے پر کھڑا تھا مگر ابھی تک خود کو جابر سمجھ رہا تھا میں نے اسے بھی وہی حکم دیا جو نادر خان کو دے چکا تھا اس کی زندگی کا سورج بھی غروب ہو چکا تو میں انسپکٹر کی طرف پلٹا۔ تم قانون کے محافظ ہو، ایک ذمہ دار آفیسر ہو۔" میں نے اس کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا۔ ”میں تمہیں حکم نہیں دے سکتا تم خود مجھے اپنے فیصلے سے آگاہ کرو گے۔" میں نے جو کچھ کیا اس میں میری مرضی کو کوئی دخل نہیں تھا۔ " انسپکٹر نے روہانسی آواز میں کہا۔ ” مجھے مجبور کیا گیا تھا؟ اگر میں اوپر کے احکامات کی تعمیل نہ کرتا تو وہ مجھے بر طرف کر دیتے شاید مجھے اپنے راستے سے ہٹانے میں بھی دریغ نہ کرتے۔" یہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں رتی برابر بھی جھوٹ نہیں ہے۔" جوگی سیتارام کی آواز سنائی دی۔ اسے شما کر دو بالک! اس سے کہو کہ تمہیں خاموشی سے دوبارہ لاک اپ
تک پہنچا دے۔"کیا مجھے دوبارہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا؟" میں نے احتجاج کرنے کی
کوشش کی۔دھیرج بالک دھیرج " سیتارام نے کہا۔ میں چاہوں تو تجھے ہمالیہ کی چوٹی " پر بھی پہنچا سکتا ہوں پر تو یہ جو تین لاشیں یہاں پڑی ہیں یہ کس کے کھاتے میں جائیں میں سمجھا نہیں؟" میں نے تعجب سے پوچھا۔
جوگی کے سلسلے میں اپنے حق میں کوئی غلط وچار مت لا بالک! میں جانتا ہوں کہ بہتری اسی میں۔ ہے کہ واپس تھانے چلا جا باقی سب اپنے گرو پر چھوڑ دے تو جیل میں
رہ کر بھی راج کر سکتا ہے لیکن ایک رات اور گزار لے پھر دیکھنا کہ جوگی کی مہان شکستی تجھے کیا کیا چمتکار دکھاتی ہے۔"
میرے پاس سیتا رام کی بات مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔انسپکٹر ! میں نے جوگی کے مشورے پر انسپکٹر کو گھورتے ہوئے کہا۔ ”میں تمہاری جان بخش سکتا ہوں ایک شرط پر۔“ میں تمہاری ساری شرطیں ماننے کو تیار ہوں۔" انسپکٹر کے چہرے پر زندگی کے بجھتے ہوئے چراغ کی لو پھر ٹمٹمانے لگی۔ ”اب میں تمہارے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کروں گا ایسا کرنے کے بارے میں کبھی سوچنا بھی مت، ورنہ تمہارا انجام سب سے زیادہ دردناک ہو گا۔" میں نے اسے سرد آواز میں جواب دیا پھر بولا۔ ” تم مجھے اسی حوالات میں پہنچا دو جہاں سے لائے تھے لیکن ایک بات ذہن نشین کر لو۔ میرے سلسلے میں تمہاری زبان
ہمیشہ تالو سے چپکی رہے گی۔" ایسا ہی ہو گا۔" انسپکٹر نے ہاتھ جوڑ کر کہا پھر مجھے خاموشی سے تھانے پہنچا دیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کیا کہا تھا مجھے نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ تھانے کی آہنی سلاخوں کے پیچھے جانے کے بعد میری حالت پھر ویسی ہی ہو گئی جیسی پہلے تھی۔ شاید جوگی سیتا رام نے میرے اندر جو طاقت پھونکی تھی وہ واپس لے لی تھی۔ اس بار انہوں نے مجھے ہتھکڑی بیڑی پہنانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ میں سلاخوں کے پیچھے دیوار سے سر نکائے بیٹھا تھا۔ سلاخوں کی دوسری جانب انسپکٹر بیٹھا تھا، اس کے چہرے پر قیمی برس رہی تھی۔ وہ بار بار کسی کو فون کر رہا تھا۔ اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ میں اس کی باتیں نہ سن سکا لیکن اس کے چہرے پر طاری تاثیرات اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ وہ بہت خوفزدہ ہے، وہ میری وحشت کا تماشہ دیکھ چکا تھا، تین لاشیں اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر ٹھنڈی ہو چکی تھیں، چوتھا نمبر اس کا تھا لیکن جوگی سیتارام کی سفارش پر میں نے سے چھوڑ دیا تھا۔
میری نظریں انسپکٹر کے چہرے پر جمی تھیں لیکن ذہنی طور پر میں بھی پرسکون نہیں تھا کہ زندگی کی خواہش نے مجھے سیتارام کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر مجبور کر دیا تھا میں ایماندار تھا لیکن میرے ایمان کی قوت اتنی پختہ اور مضبوط نہیں تھی کہ میں موت کو آسانی سے گلے لگا لیتا
 

جوگی - پارٹ 7

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,