Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online
| قسط وار کہانیاں |
جوگی - قسط نمبر3
رائیٹر :انور صدیقی
مجھے اپنا مستقبل سنوارنا تھا، قدم جما کر کھڑے ہونے کی خاطر منصوبہ بندی کرنی تھی لیکن پہلے ہی سنگ میل پر میں کوئی ایسا درمیانی راستہ تلاش کرنے کی فکر میں تھا جس سے میری ملازمت بھی برقرار رہتی اور رحیم الدین کو مجھ سے کسی شکایت کا موقع بھی نہ ملتا۔ پٹنہ سے روانگی کے وقت بشیر علی نے جو مشورے دیئے تھے وہ میرے ذہن میں گڈمڈ ہو رہے. تھے، میں کسی ایک آخری نتیجے پر پہنچنے کی کوششوں میں مصروف تھا، جب نہ جانے کس وقت تفکرات کے ہجوم نے یلغار کی اور میرا ذہن ماؤف ہو کر رہ گیا، نیند کا غلبہ اتنا شدید تھا کہ میں خوابوں کی وادیوں میں ڈوبتا چلا گیا لیکن بخاری کا تصور اس وقت بھی کسی بھوت کی طرح میرے ذہن پر سوار تھا اس کے جملے رہ رہ کر میرے کانوں میں صدائے بازگشت بن کر گونج رہے تھے۔ ایمانداری کا ڈھونگ اس طرح رچاؤ کہ کسی کو تمہاری جانب انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے لیکن کام وہ کرو جس سے تمہاری مالی حالت بھی مستحکم رہے اور افسران بھی خوش رہیں جو باتیں ہمارے درمیان ہوئی ہیں ان کے بارے میں کسی دوسرے سے مشورہ کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ ممکن ہے تمہاری پوسٹنگ کسی
ایسے دور دراز علاقے میں کر دی جائے جس کے بارے میں دوسرے سوچنا بھی پسند نہیں کرتے۔
میرے ڈوبتے ذہن میں بخاری کے جملوں کی باز گشت جاری تھی جب کسی کے قہقے کی آواز نے میری توجہ اپنی سمت مبذول کرلی۔ میں نے نظریں گھما کر دیکھا وہ گٹھے ہوئے جسم کا ایک ہٹا کٹا دراز قد شخص تھا جس نے اپنے جسم پر گیروے رنگ کی کھدر کی ایک چادر لپیٹ رکھی تھی، اس نے جسم پر بھبھوت مل رکھی تھی، اس کا سر انڈے کے چھلکے کی مانند صاف تھا لیکن اس کی دراز اور گری سیاہ چٹیا بل کھاتی اس کے کشادہ شانوں پر لہرا رہی تھی، اس کی پیشانی سر گھٹے ہونے کے سبب کچھ زیادہ ہی کشادہ نظر آ رہی تھی جس پر صندل کا لیپ بل کھاتا دکھائی دے رہا تھا، اس کے گلے میں کئی قسم کی مالا ئیں جھول رہی تھیں، سینے پر گھنے سیاہ بال تھے ، بڑی بڑی آنکھوں میں ایک مقناطیسی کشش موجود تھی، اس کی پلکیں صاف تھیں، وہ سینہ تانے میرے سامنے کھڑا مجھے بڑی گہری اور دلچسپ نظروں سے گھور رہا تھا؟ ان نگاہوں میں سحر تھا کہ میں اس کی جانب سے اپنی نظریں نہ ہٹا سکا۔ اس قسم کے سادھو، جوگی اور پجاری میں پٹنہ بھی دیکھ چکا تھا لیکن مجھے کبھی ان کے قریب جانے یا ان سے دوبد لو کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا چنانچہ اس وقت کسی پجاری یا جوگی کو اپنے قریب دیکھ کر
مجھے حیرت ہی ہوئی، اس کے گھورنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ مجھے بہت عرصے سے جانتا ہو لیکن میں بڑے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اسے اس روز پہلی بار دیکھا تھا۔ "کون ہو تم؟" میں نے سپاٹ لہجے میں دریافت کیا۔ اس طرح آنکھیں پھاڑے
مجھے کیا گھور رہے ہو؟" میں دیکھ رہا ہوں بالک کہ اس سے تجھے کوئی دبدھا بیا کل کر رہی ہے، تجھے کسی
کروٹ چین نہیں آرہا۔ “ اس نے سپاٹ مگر ٹھوس لہجے میں کہا۔. " تم یہاں کیا لینے آئے ہو ؟" میں نے قدرے درشت لہجے میں سوال کیا۔ دھیرج بالک دھیرج " وہ عجیب معنی خیز انداز میں مسکرا کر بولا۔ "من شانت نہ ہو سامنے گھپ اندھیرا پھیلا ہو تو منش کو بہت سوچ بچار کر کے کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔"
لیکن تم...
میں تیرا متر (دوست) ہوں۔" اس نے میری بات کاٹ کر کہا۔ " تجھے راستہ دکھانے آیا ہوں شکتی کا سیدھا راستہ۔" مگر میں تمہیں نہیں جانتا۔ " میں نے روکھے انداز میں اسے ٹالنے کی کوشش کی۔ ”جو گیوں سے ایسی بات نہیں کرتے بالک! اس نے نرم لہجے میں مجھے سمجھانے کی
خاطر کہا۔ ”میں تیری سمانتا کے کارن آیا ہوں اور تو مجھے دھتکار رہا ہے۔" " تم کیا جانتے ہو میرے بارے میں؟" میں نے الجھتے ہوئے بے رخی سے دریافت
کیا۔ میں سب کچھ جانتا ہوں۔" اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ جو بیت چکی وہ بھی جانتا ہوں، جو بیت رہی ہے وہ بھی میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں " "میرا خیال ہے کہ تم غلط جگہ آگئے ہو۔" میں نے اس کی بے سروپا باتوں پر چلاتے ہوئے کہا۔ "میں وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔"
تم کون ہو .. .. یہ بات سیتارام کے سوا اور کون جان سکتا ہے۔ " اس نے بڑے اعتماد سے کہا۔
میں اس کی بات پر چونکے بغیر نہ رہ سکا۔
مطلب بھی تمہاری سمجھ میں آجائے گا پر انتو میں تمہارے پاس کسی اور کارن سے آیا ہوں۔" اس نے یکلخت سنجیدگی اختیار کرلی۔ "منش منش کا دارو ہوتا ہے تمہارے من میں کیا کھیل چل ہو رہی ہے، میں دیکھ رہا ہوں لیکن تم کوئی چنتا مت کرو جو مورکھ تمہارا برا سوچ رہے ہیں وہ اپنے ارادے میں کبھی سپھل نہیں ہوں گے ، ہو گا وہی
جو تم چاہو گے۔" میں نے اس بار کوئی جواب نہیں دیا، وضاحت طلب نظروں سے سیتا رام کو دیکھتا
رہا۔میری بات دھیان سے سنو بالک! یہ بخاری اور رحیم الدین تمہارے راستے کی دھول ہیں، ان سے گھبرانے کی کوشش مت کرو۔؟ تم میں اس کی زبان سے رحیم الدین اور بخاری کا نام سن کر کسمسانے لگا۔ "تم ان لوگوں کے بارے میں اور کیا جانتے ہو ؟"
میں کیوں اتنا جانتا ہوں کہ موری کی اینٹ کبھی چوہارے نہیں چڑھ سکے گی پر تو
تجھے میرے ساتھ ایک سمجھوتہ کرنا ہو گا۔"
کیا؟" میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا۔ آج میں تیری بپتا تیری ساری چنا دور کر سکتا ہوں لیکن کل تجھے بھی میرا ایک کام کرنا ہو گا۔ سیتا رام نے ٹھوس لہجے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ تو سیدھے راستے کا مسافر ہے، تیرے دشمن تجھے بھٹکانا چاہتے ہیں، میرا آشیر باد تیرے ساتھ ہو گا تو ں تجھے مجبور نہیں کر سکیں گے، جو تو چاہے گا وہی ہو گا جو ان کے من میں ہے وہ کبھی پورا
نہیں ہو گا۔" میں مخمصے میں پڑ گیا، سیتا رام میرے لئے قطعی اجنبی تھا، اس کی باتیں بھی میری سمجھ سے بالا تر تھیں، میں سوچے سمجھے بغیر ایک غیر مسلم کو زبان نہیں دے سکتا تھا، مجھے یہ خیال بھی بے چین کر رہا تھا کہ اسے اچانک میرا پتہ کیسے معلوم ہو گیا کون تھا وہ مجھ سے کیا چاہتا تھا میرے ذہن میں متعدد سوالات ابھر رہے تھے پھر ایک خیال نے تیزی سے آیا کہیں سیتارام بھی بخاری اور رحیم الدین کا کوئی خاص آدمی تو نہیں؟ ممکن ہے چکنی چپڑی باتوں سے شیشے میں اتار کر اس جال میں پھنسانا چاہتا ہو جو میرے لیے بنا جا رہا تھا ؟ اس خیال کے آتے ہی میں نے سیتارام کو قدرے تیکھی نظروں
سے گھورا لیکن اس سے پیشتر کہ میں کچھ کہتا سیتا رام نے مجھے تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے بڑی گھمبیر آواز میں کہا۔ جس کے من میں کھوٹ ہو وہ ہمیشہ دھرتی کے اوپر ہی اوپر بھٹکتا رہتا ہے۔ تو نہیں جانتا کہ میں کون ہوں لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تیرے بھوش میں کیا لکھا ہے۔ تیرے من میرے لئے جو گندے وچار ڈگمگا رہے ہیں میں وہ بھی جانتا ہوں لیکن یہ تیری بھول ہے مورکھ میں اگر دشمنوں کا سنگی ساتھی ہوں تو اپنی مہان شکتی کے ذریعے تیرا . دھیان پلٹ سکتا تھا، میری آنکھوں کا ایک اشارہ ہی تیرے لئے بہت ہو تا، تو مجھے پہچاننے میں بڑی بھول کر رہا ہے، تن کی آنکھیں بند کرلے من کی آنکھیں کھول کر دیکھ اپنی بدھی (عقل) استعمال میں لا یہ سمے بھی بیت گیا تو سارا جیون اندھیروں میں گزار دے
گا۔
"سیتارام" میں نے ہمت کر کے جواب دیا۔ " تم جو باتیں کر رہے ہو وہ میرے حلق کے نیچے نہیں اتر رہی ہیں، میں آنکھ بند کر کے کسی اجنبی پر بھروسہ نہیں کر سکتا، تم اگر دوست بن کر میری مدد کرنے آئے ہو تو کھل کر صاف صاف باتیں کرو۔" سیتارام میرا کھرا جواب سن کر ایک لمحے کو بل کھا کر رہ گیا پھر اس نے مجھے گھورتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں انداز ایسا ہی تھا جیسے کوئی شعبدہ باز مداری مجمع کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کرنے کو اختیار کرتا ہے۔ میں اس کے چہرے پر نظر جمائے رہا وہ متضاد کیفیتوں سے دوچار ہوتا رہا، کبھی اس کی کشادہ پیشانی پر آڑی ترچھی سلوٹوں کا جال بکھرنے لگتا، کبھی اس کے ہونٹ متحرک نظر آنے لگتے ، کبھی وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھا کر زور آزمائی شروع کر دیتا، میں اس کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لینے میں مصروف تھا جب اس نے کچھ دیر بعد اچانک آنکھیں کھول دیں، مجھے جھر جھری آگئی، اس کی آنکھوں کے ڈھیلے سرخ انگاروں کی مانند دہکتے نظر آ رہے تھے پھر اس کی ٹھوس اور کرخت آواز میرے وجود میں گونجتی ہوئی ابھری۔ مور کھ! تُو نے سیتارام کی مہان شکتی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر کے جو اپرادھ کیا ہے اس کی سزا تجھے اوش ملے گی۔ تو نے منہ پھاڑ کر کہا تھا کہ میری باتیں تیرے حلق سے نیچے نہیں اتر رہیں ہیں، تو نے جوگی سیتا رام کی دوستی کو غلط رنگ دینے کی بھول کی ہے، تو نے جو پاپ کیا ہے اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔"
جوگی سیتا رام کی خون ابلتی نگاہیں میرے چہرے پر مرکوز تھیں، اس کی ٹھوس آواز میرے وجود کو جھنجھوڑ رہی تھی۔
تیرے من میں یہ دھیان آیا تھا کہ میں تیرے بیریوں سے ملا ہوا ہوں، تُو نے کہا تھا کہ آنکھ بند کر کے تو میرے اوپر وشواس نہیں کر سکتا، پرنتو میں تجھے بتاؤں گا کہ میں تیرے بارے میں کیا جانتا ہوں ، اپنی کتھا (کہانی) سنتا چاہتا ہے تو سن تو نے جب جنم لیا تھا تو تیرے تین بہن بھائی اس سنسار سے منہ موڑ چکے تھے ، ان میں سے کوئی بھی نو سال سے ادھک (زیادہ) زندہ نہیں رہا لیکن تو قسمت والا ہے جو ابھی تک زندہ ہے۔ تیرے کنبے کے ایک مہمان پرش کو تیرا نام بدلنے کا دھیان آیا تھا پرنتو اس سے دیر ہو چکی تھی، اس نے دنیا سے منہ موڑنے سے پہلے اپنے گلے سے جو مالا اتار کر تیرے گلے میں ڈالی تھی اس مالا نے تجھے تو لٹیروں سے بچا لیا لیکن تیرے ماتا پتا کا وہی انجام ہوا جو ان کے بھاگ (قسمت) میں لکھا جا چکا تھا، تو نے زندہ رہنے کے کارن بڑے پاپڑ بیلے ہیں، تو پٹنہ سے منہ موڑ کر یہاں آگیا پرنتو یہاں بھی تجھے قدم قدم پر کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑ ر جوگی سیتا رام میرے بارے میں جو کچھ بتا رہا تھا اس کا ایک ایک حرف درست تھا میں پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتا رہا وہ میری زندگی کے تمام نشیب و فراز سے واقف تھا، وہ یقیناً پراسرار قوتوں کا مالک تھا جو اس نے میرے دل کا حال بھی پڑھ لیا تھا۔ اس نے دادا جان کی متبرک تسبیح کا حوالہ بھی دیا تھا، وہ حکیم انکل اور ڈپٹی بشیر علی سے بھی میرے تعلقات کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا لیکن اس نے میرے بارے میں سب کچھ جاننے کی کوشش کیوں کی تھی وہ کسی پر چھائیں کی طرح میری زندگی کے ایک ایک لمحے کا تعاقب کیوں کر رہا تھا؟ اس نے کہا تھا کہ میں اگر اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لوں تو پھر رحیم الدین اور تحمل بخاری میری مٹھی میں ہوں گے ۔ میں جو چاہوں گا وہی ہو گا۔ اس نے اس قدر یقین سے میرے بارے میں وہ سب باتیں تھیں ۔ کیا وہ ماورائی قوتوں کا مالک تھا۔
اگر تھا تو اسے میری کیا ضرورت آگئی تھی۔ اس کے دل میں کیا تھا کیا چاہتا تھا وہ مجھ سے؟ میرے دل و دماغ میں پھر مختلف سوالات ابھرنے لگے اس نے حقارت سے مسکرا یا
پھر ڈگمگانے لگا۔ پھر وچاروں میں گم ہو کر بھٹکنے لگا۔" تم مجھ سے کیا سمجھوتہ کرنا چاہتے ہو؟" میں نے تھوڑے توقف کے بعد اسے کریدنے کی خاطر دریافت کیا
اس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے والی بات ماننی پڑے گی تجھے۔" وہ یکلخت سنجیدہ ہو اس میں تیری مکتی ہے۔"
میں تمہارے ساتھ سمجھوتہ کر سکتا ہوں لیکن ایک شرط پر۔" میں نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔ ”میں تمہارے لئے کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جو میرے مذہب یا میرے اصولوں سے ٹکراتا ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں مسلمان ہوں اور اپنی ایمانداری کی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہوں۔" سودے بازی کر رہا ہے جوگی سیتا رام سے؟" اس نے زہر خند سے کہا۔ ”جو کچھ
بھگت چکا ہے ابھی تک اس سے من نہیں بھرا ؟" بات سودے بازی کی نہیں ایک مسلمان کے ایمان کی ہے اور میں کسی قیمت پاپ اور پُن کا دھیان من سے نکال دے۔" وہ تیزی سے میری بات کاٹ کر ٹھوس اور سرسراتے لہجے میں بولا۔ تو ابھی بالک ہے، تو نہیں جانتا کہ یہ سنسار ایک گورکھ دھندا ہے، پاپ اور پینے کے چکروں میں پڑے گا تو اپنی اصلیت بھی بھول جائے گا۔"لیکن میں نے پھر کچھ کہنا چاہا' اس نے پھر میری بات کاٹ دی۔ دھرم کرم کی باتیں من سے نکال دے، یہ تیرے بس کا روگ نہیں ہے۔" اس نے بڑے یقین سے کہا۔ ”آج جو تیرے ہاتھ آ رہا ہے اسے سوئیکار کر لے کل کے چکر میں پڑے گا تو بھٹک جائے گا۔" مجھے بھٹکنا منظور ہے لیکن میں گناہ کے کسی ایسے راستے کو نہیں اپناؤں گا جو ہمیشہ میرے ضمیر کو کچوکے لگاتا رہے۔"
ستر سے اونچی باتیں کر رہا ہے۔" جوگی سیتارام نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ایک کر سی ہاتھ سے پھسل گی تو پچھتاووں کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔" ملازمت چھوڑ دوں گا۔؟ میں نے ہونٹ چہاتے ہوئے جواب دیا۔ ”زندگی
گزارنے کی خاطر کوئی اور راستہ اختیار کرلوں گا۔"
اس دھیان کو من سے نکال دے مورکھ! تیرے بھوش میں کیول ایک ہی راستہ لکھا ہے۔" اس نے مجھے گھور کر قدرے درشت لہجے میں کہا۔ "جوگی کا کہا مان لے ورنہ
ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔"
نہیں۔ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ ”میں آنکھ بند کر کے فیصلہ کرنے کا عادی نہیں ہوں۔؟
"تو پھر کھلی آنکھوں سے اپنا انجام بھی دیکھ لینا۔ " اس کی آنکھوں سے شعلے لیکنے لگے۔ " آج تو دھرم کرم کی باتیں کر رہا ہے لیکن کل وہی ہو گا جو دیوی دیوتاؤں کو منظور ہے، تیری ایمانداری دھری کی دھری رہ جائے گی، تیرا دھرم بھرشٹ ہونے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔ سن رہا ہے مورکھ! میں کیا کہہ رہا ہوں؟" "تم تم اندھیرے میں تیر چلا رہے ہو۔ میں نے کہا۔ ”خواب دیکھ رہے ہو جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔" ”ابھاگی .. سے کی قدر کر۔" وہ مجھے تیز نظروں سے گھور نے لگا۔ آج جو گی سیتارام تیرے پاس چل کر آیا ہے لیکن کل ایسا نہیں ہو گا، کل تجھے اس مہان جوگی کی یاد ستائے گی یاد رکھ تجھے میرے چرنوں کے سوا کہیں اور شرن (پناہ) نہیں ملے گی۔“ تم کفر کی باتیں کر رہے ہو۔ میں نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔ ”مقدر کے لکھے
..
کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی۔" تو پھر میرا فیصلہ بھی سن لے۔ وہ جھلا کر بڑی رعونت سے بولا۔ ”میں تیرا انتظار کروں گا تو مجھے سے دور نہیں جا سکتا، میری شکتی ایرم یار ہے۔ یاد رکھنا بالک! کل تجھے میری شکتی کی ضرورت پڑے گی اور تیرا دھرم کرم کا دعوی بھی دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ جاتے جاتے تجھے ایک بات اور بتا دوں ۔ جب تیر پاس، بچاؤ کا کوئی راستہ نہ ہو، ہر طرف گھور اندھیرا پھیلا ہو اور دم گھٹ رہا ہو تو سچے من سے مجھے یاد کر لینا میں تیری سہائتا ضرور کروں گا۔ " پھر اس سے پیشتر کہ میں کوئی جواب دیتا جوگی سیتارام کا وجود ہوا میں تحلیل ہو کر نظروں سے اوجھل ہو گیا اس کے بعد کسی نے میرا ہاتھ تھام کر جھنجھوڑا تو میں ہڑبڑا کر اٹھا میں اپنے بستر پر موجود تھا اور جلیل ، جس نے مجھے جگایا تھا، مجھے حیرت سے دیکھ رہا
آپ کسی سے بات کر رہا تھا صاب! اس نے میرے بیدار ہونے پر دریافت کیا
کیا بات کر رہا تھا؟" میں نے پوچھا۔
" آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی لیکن سوتے میں آپ کچھ گول مٹول باتیں کر رہا تھا
ہو سکتا ہے خواب دیکھ رہا ہوں۔" میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی۔ دن میں خاب نہیں آتے ساب!" جلیل نے کہا۔ "میرا باپ بولتا تھا کہ یہ سب پیٹ کی خرابی سے ہوتا ہے۔" میں نے جلیل کی بات پر توجہ دینے کے بجائے گھڑی پر نظر ڈالی تو دوپہر کے تین بیج رہے تھے۔ جلیل نے کھانے کو کہا تو میں جلدی سے اٹھ کر منہ ہاتھ دھونے کے ارادے سے باتھ روم میں چلا گیا، میرے ذہن میں اس وقت بھی جوگی سیتارام کی بے سروپا باتیں گونج رہی تھیں جسے میں نے اپنا وہم قرار دے کر دماغ سے جھٹک دیا اور واش روم سے نکل کر دوسرے کمرے میں آگیا جہاں جلیل نے مچھلی اور چاول کی پلیٹیں میز پر سجا رکھی
تھیں دو روز تک کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا میں پابندی سے دفتر جاتا رہا کچھ دیر دفتر میں وقت گزارتا پھر بخاری مجھے اپنے ساتھ لے کر علاقہ میں نکل جاتا اور شام کو مجھے اپارٹمنٹ کے نیچے چھوڑ کر چلا جاتا۔ اس کے پاس نئی مورس کار تھی، اس زمانے میں مورس کار بھی بڑے آدمیوں کے پاس ہوا کرتی تھی۔ بخاری چونکہ رحیم الدین کا دست راست تھا اور بے ایمانی کے معاملات میں برابر کا شریک تھا اس لئے مجھے اس کے صاحب کار ہونے پر تعجب نہیں ہوا البتہ میں نے یہ بات ضرور نوٹ کی تھی کہ ان دو دنوں میں بخاری نے ان باتوں کے سلسلے میں پھر کوئی ذکر نہیں نکالا جو اس نے پہلے روز کانفرنس روم میں کی تھیں۔ شاید اسے مہلت پوری ہونے کا انتظار تھا، یہ بھی ممکن وہ چاہتا میں خود بات چھیڑوں، پوسٹنگ چونکہ میری ضرورت تھی اس لئے بولنے کی ایسی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی
میں نے ان دو دنوں میں اس سے اصرار بھی کیا تھا کہ وہ میرے اپارٹمنٹ میں چل کر میرے ساتھ چائے پیئے لیکن اس نے بڑی خوبصورتی سے میری بات ٹال دی تھی۔ بہر حال دوسرے ہی دن مجھے اس کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس وقت ہو گیا جب جلیل نے اپارٹمنٹ میں قدم رکھتے ہی مجھے فون لگ جانے کی اطلاع دی تھی۔ صاب! آپ بہت تعلقات والا معلوم ہوتا ہے ورنہ ادھر ڈھاکہ میں فون اتنی آسانی سے نہیں ملتا۔ "
میں سرکاری ملازم ہوں اس لئے مجھے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مراعات حاصل ہیں۔" میں نے اسے ٹالنے کی خاطر کہا پھر غسل کرنے کے ارادے سے واش روم
میں چلا گیا۔ میں یہاں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے دو دنوں میں بہت غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ بخاری کی بات کسی قیمت پر قبول نہیں کروں گا خواہ میرا تبادلہ کسی دور دراز علاقے میں ہی کیوں نہ ہو جائے۔ میں چونکہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا اور بالائی آمدنی سے بھی گریز کرتا تھا اس لئے مجھے اس کی بات کی پرواہ بھی نہیں تھی کہ میری تعیناتی کمائی والی کرسی پر ہو البتہ ایک بات مجھے ضرور پریشان کر رہی تھی کہ بخاری سے مخالفت مول لینے کے بعد رحیم الدین بھی میرا دشمن بن جائے گا چنانچہ میں نے غسل خانے سے نکل کر یہ فیصلہ کیا کہ پہلی فرصت میں کمال بنرجی کو مختصراً حالات سے ضرور آگاہ کر دوں تاکہ ان کا کوئی مشورہ بھی حاصل کر سکوں اور انہیں اس بات پر شکایت کا موقع نہ مل سکے کہ میں نے انہیں حالات سے بے خبر کیوں رکھا۔ میں لباس تبدیل کر کے دوسرے کمرے میں آیا جہاں جلیل نے چائے کا اہتمام کر رکھا تھا، فون بھی قریب ہی موجود تھا لیکن میں نے پہلے گرما گرم چائے کے دو گھونٹ لینے کو ترجیح دی پھر فون کرنے کے بارے میں سوچا تو اس کی گھنٹی کی آواز نے مجھے چونکا دیا میرے ذہن میں فوری طور پر دو خیال ابھرے یا تو بخاری نے مجھے فون کیا ہو گا یا پھر وہ کال ایکسچینج کی جانب سے ہوگی، بہر حال میں نے رسیور کریڈل سے اٹھا کر کان سے لگالیا دوسری طرف سے جب ایک نسوانی آواز رس گھولتی ہوئی میری سماعت سے ٹکرائی تو میں چونکے بغیر نہ رہ سکا۔ کیا میں مسٹر آذر سے بات کر سکتی
ہوں۔ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔
میں آذر ہی بول رہا ہوں۔" میں نے سنبھل کر جواب دیا۔ کرنل کمال بنرجی کی مسز بول رہی ہوں۔" جھرنا کی مسحور کن آواز دوبارہ ابھری۔ "آپ کی آج کی مصروفیات کیا ہیں؟"
میں جی جی کچھ بھی نہیں۔" میں بلاوجہ گڑ بڑا سا گیا لیکن جلد ہی خود پر قابو اتے ہوئے بڑے مہذب انداز میں بولا۔ میں ابھی کرنل صاحب کو فون کرنے بارے میں
سوچ ہی رہا تھا کہ آپ کا فون آگیا۔" کمال کو بھی آپ کی کال کا انتظار تھا۔" جھرنا نے اپنی کھنکتی آواز میں کہا۔ "تین چار روز سے آپ نے اپنی خیریت کی کوئی اطلاع جو نہیں دی۔" معذرت خواہ ہوں۔ میں نے انکساری کا اظہار کیا۔ دراصل دفتر کی کچھ مصروفیات ایسی تھیں کہ۔ نیور مائنڈ۔ " اس نے میری بات کاٹ کر کہا۔ ” آج ڈنر آپ ہمارے ساتھ کریں گے۔"
میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا۔" میں نے پہلو بدل کر کہا۔ ”کیا میں کرنل صاحب سے بات کر سکتا ہوں؟؟
ڈنر کا ٹائم ہمارے ٹائم ٹیبل کے مطابق ٹھیک آٹھ بجے ہوتا ہے۔ وقت کی پابندی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔" جھرنا نے بات کا جواب دینے کے بجائے وقت کی پابندی کا احساس دلا کر رابطہ منقطع کر دیا۔ میں نے رسیور رکھ کر پھر سوچنا شروع کر دیا۔ جھرنا کو میرا فون نمبر کس طرح معلوم ہوا؟ فون بخاری کی سفارش پر لگا تھا تو کیا بخاری نے جھرنا کو میرے نمبروں سے آگاہ کیا تھا؟ کرنل کے بجائے جھرنا کو فون پر بات کرنے کی ضرورت تھی جبکہ میں نے ان دونوں کے درمیان ہونے والی رسہ کشی کو خاص طور پر محسوس کیا تھا اس کے علاوہ کمال بنرجی نے مجھے تاکید کی تھی کہ میں اپنے اور اس کے مراسم کا ذکر دفتر کے کسی آدمی سے نہ کروں۔۔ تو کیا خود کرنل کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ بخاری اور جھرنا ایک دوسرے سے واقف ہیں؟ میرا ذہن الجھ رہا تھا، جب فون کی گھنٹی دوبارہ بھی اس بار دوسری جانب سے بخاری ہو
فون مبارک ہو۔“ اس کے لیجے میں بڑائی کا احساس جھلک رہا تھا۔ میں آپ کے تعلق کا قائل ہو گیا۔" میں نے سنبھل کر کہا۔ فون کی سہولت فراہم کرنے کا بہت بہت شکریہ۔" " تم نے ابھی بخاری کو پہچانا نہیں۔ " اس نے پھر مغرور انداز اختیار کیا۔ ایک بار مجھ سے پوری طرح واقف ہو جاؤ گے تو پھر تمام زندگی کسی دوسری طرف نظر اٹھانے کی
غلطی نہیں کرو گے۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
تمہیں کسی اور نے بھی فون کیا تھا؟" بخاری کے اگلے سوال پر میں چونکا اس کا لب ولہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ اسے جھرنا کا علم ہو چکا ہے، گویا میرا اندازہ غلط نہیں تھا، جھرنا اور بخاری ایک دوسرے سے ضرورت واقف تھے۔ نہ ہوتے تو بخاری کو خاص طور پر وہ سوال کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہ آتی؟ میں ابھی ذہنی جمناسٹک کرنے میں مصروف تھا
کہ بخاری نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ اس وقت تمہارے دل و دماغ میں کیا کھلبلی مچی ہو گی لیکن میرا خیال ہے کہ تم بلاوجہ حیران ہو رہے ہو، میں تمہاری مشکل حل کئے دیتا ہوں جھرنا کمال کو تمہارا نمبر میں نے ہی دیا تھا۔"
تم اسے کس طرح جانتے ہو ؟" میں نے غیر اختیاری طور پر پوچھ لیا۔
”صرف میں ہی نہیں، آفیسرز کلب میں آنے والے آدھے سے زیادہ ممبران جھرنا کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔" اس بار بخاری کا لہجہ معنی خیز تھا۔ "کیا تم اسے دیکھ کر اس
کے رکھ رکھاؤ سے متاثر نہیں ہوئے تھے؟" ”میری اس کی ملاقات اتفاقیہ ہوئی تھی۔" میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے کچھ سوچ کر جواب دیا۔ ” پٹنہ سے روانہ ہوتے وقت میرے ایک بزرگ نے کمال بنرجی کے نام ایک خط دیا تھا میں اس سلسلے میں ریٹائرڈ کرنل کی کوٹھی پر گیا تھا، ہماری ملاقات کا وقفہ دس پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں تھا پھر اس وقت جب میں رخصت ہو رہا تھا تو مسز کمال آگئی تھیں، ہمارا تعارف رسمی طور پر ہوا پھر میں واپس آ گیا تھا۔"
"کیا تم اسے مسز کمال کہنا پسند کرو گے؟" کیا مطلب؟" میں کسمسا کر رہ گیا۔
تم نے ان دونوں کی عمروں کا فرق محسوس نہیں کیا یا جان بوجھ کر معصوم بننے کی کوشش کر رہے ہو ؟" بخاری نے بے تکلفی کا اظہار کیا۔ اس قسم کی بے جوڑ شادیاں ہمارے معاشرے میں کوئی انوکھی بات نہیں ہیں۔" میں نے سنجیدگی برقرار رکھی۔ اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے؟" جھرنا نے شاید تمہیں ڈنر پر بلایا ہے؟“ بخاری نے پھر مجھے حیران کرنا چاہا۔ ہاں۔" میں نے لا پرواہی نے کہا۔ "کرنل شاید اپنے دوست کے سلسلے میں مجھ سے
کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہو گا۔" ممکن ہے تم درست کہہ رہے ہو لیکن میں تمہیں ایک بار پھر مشورہ دوں گا کہ کرنل سے دفتری معمولات کے بارے میں کوئی بات کرنے کی غلطی نہ کرنا۔ ہو سکے تو کرنل کی کوٹھی سے بھی دور دور ہی رہنا۔“
کوئی خاص وجہ؟" میں نے پوچھا، بخاری کا تحکمانہ انداز مجھے پسند نہیں آیا تھا۔ . ”باس کرنل کا نام سننا پسند نہیں کرتا۔ " بخاری نے سنجیدگی سے بات جاری رکھی۔ میں تفصیل نہیں جانتا لیکن تمہیں صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ باس اور کرنل کے درمیان کوئی پرانی دشمنی ہے۔ تم کو اگر میری بات پر اعتماد نہ ہو تو براہ راست کرنل سے تصدیق کرلینا میں کوئی جواب دینا چاہتا تھا لیکن بخاری نے اپنا جملہ مکمل کر کے لائن کاٹ دی۔ میں نے چائے کا گھونٹ لے کر بخاری کے جملوں پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے اس کی باتوں میں وزن محسوس ہوا۔ جھرنا اور کمال بنرجی کی عمروں میں جو فرق تھا وہ کوئی اندھا بھی ٹول کر محسوس کر سکتا تھا۔ ایسی صورت میں جھرنا کا اپنے لئے دوسرے مواقع تلاش کرنا کوئی تعجب خیز بات نہیں تھی۔ وہ جوان تھی، خوبصورت تھی، اسے بھی دوسروں کی طرح تفریحات میں دلچسپی لینے کا حق حاصل تھا، آفیسرز کلب میں جا کر وہ تنہا تو وقت نہیں گزار سکتی تھی اس کے دو چار واقف کار بھی ضرور ہوں گے، ان واقف کاروں کی وجہ سے رقیبوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہو گی لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ بد کردار بھی ہو گی لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ایک سوال بہرحال میرے ذہن میں بار بار آ رہا تھا کہ عمروں کے واضح فرق کے باوجود وہ کون سی ایسی مجبوری در پیش تھی جس نے ایک دوسرے کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا تھا؟
چائے پینے کے بعد میں اپارٹمنٹ سے نکل کر باہر آ گیا۔ ڈھاکہ کا موسم عام طور انگڑائیاں لیتا رہتا ہے، ابھی دھوپ نکلی ہوئی ہے کہ اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں گھر کر آئی اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ مقامی لوگ اس کے عادی تھے اور لطف اندوز بھی ہوتے تھے مگر میرے لئے دھوپ چھاؤں کا وہ کھیل نیا تھا، بہر حال اُس وقت موسم نکھرا تھا، بازار میں خاصی چہل بھی تھی، میں محض کچھ دیر ملنے کے ارادے سے نکلا تو ملے بازار سے دو ایک چیزیں یونسی خرید لیں پھر تقریباً ایک گھنٹہ تک چہل قدمی کرنے کے بعد کے واپس لوٹ رہا تھا کہ اچانک ایک موڑ پر سروش ملا میں جب سےبخاری کے ساتھ اٹیچ کیا گیا تھا سروش کے رویے میں نمایاں تبدیلی آگئی تھی، وہ مجھ سے نہ جانے کیوں کھنچا کھنچا رہنے لگا تھا۔ میں اس کا ذکر پہلے بھی کر چکا ہوں، چنانچہ میرا خیال تو نہ کہ اس وقت بھی مجھ سے کترا کر گزر جائے گا لیکن وہ میرے سلام کا جواب دینے کے بعد گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولا۔
" آپ یہاں کہاں؟" قریب ہی ایک اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں۔ میں نے اسے پتہ بتاتے ہوئے کہا۔
اس وقت یوں ہی ذرا گھوم پھر کر بازار کا جائزہ لے رہا تھا۔"
ڈھاکہ پسند آیا؟" ابھی تو ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا۔" میں نے مسکرا کر جواب دیا۔ اتنی جلدی کیا ہے۔
رائے قائم کر سکتا ہوں۔“ اور کیسی گزر رہی ہے؟" سروش نے دبی آواز میں پوچھا میں سمجھ گیا کہ وہ بخاری
کے سلسلے میں کریدنا چاہتا تھا۔ مجھے آپ سے ایک شکایت ہے۔" میں نے لوہا گرم دیکھ کر کہا۔ " اس روز کا نفرنس روم سے باہر آنے کے بعد آپ نے مجھے پہچاننے میں کچھ تکلف سے کام لیا تھا۔" میں انکار نہیں کروں گا لیکن اس کی کچھ وجہ بھی تھی۔"کیا مجھے سے کوئی کوتاہی سرزد ہو گئی تھی؟" میں نے اپنائیت کا اظہار کیا تو وہ ہونٹ چباتے ہوئے بولا۔ مجھے آپ کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں ہے مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آپ ۔ ایماندار اور بااصول آفیسر ہیں۔"
اس کا اندازہ کیسے ہوا آپ کو؟" " آپ کی پرسنل فائل دیکھ کر۔“" میں نے اطمینان کا سانس لیا پھر مسکرا کر بولا۔ ایماندار ہونا کوئی ایسا نہیں ہے کہ لوگ خوشی کا اظہار کر کے کترانے لگیں۔" میں نے اسے پہلی بات یاد دلائی تو وہ مجھے اس طرح دیکھنے لگا جیسے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہو کہ مجھ پر کس حد تک اعتماد کر سکتا ہے۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ "مسٹر سروش! میں آپ کو ایک بات بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں مجھے مسٹر بخاری کے ساتھ ضرور اینچ کر دیا گیا ہے لیکن شاید میں وہ رنگ کبھی قبول نہ کر سکوں جس میں وہ مجھے رنگنا چاہتے ہیں۔"
میں سمجھا نہیں؟ سروش نے مجھے غیر یقینی نظروں سے دیکھا۔
میں محسوس کر رہا ہوں کہ آپ ضرورت سے زیادہ محتاط رہنے کے عادی ہیں، آپ جس کرسی پر ہیں اس کا تقاضہ بھی یہی ہے لیکن میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ ایمانداری کا دامن نہیں چھوڑوں گا، خواہ میرا تبادلہ کتنی ہی خراب جگہ کیوں نہ کر دیا جائے۔" یہ آپ کا ذاتی فیصلہ ہو گا مگر یہاں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کوئی مقامی آفیسر بھی جانا پسند نہیں کرتا۔ سروش نے بھی وہی بات کہی جو مجھے بخاری نے مجھے پہلی ملاقات میں غالباً خوفزدہ کرنے کی خاطر بتائی تھی۔
پوچھا۔ اس کا بھی ایک حل ہے میرے پاس۔" میں نے لا پرواہی سے جواب دیا۔
وہ کیا ؟ "
میں ملازمت سے استعفیٰ دے دوں گا، کچھ عرصے دھکے کھاؤں گا پھر کہیں نہ
کیا آپ اس بات کا اظہار بخاری پر کر چکے ہیں؟" اس نے میری بات کاٹ کر
" ابھی اس کی نوبت نہیں آئی۔"
میں اس کا مشورہ بھی نہیں دوں گا۔" سروش نے دائیں بائیں دیکھ کر وہ لوگ خطرناک اور انڈر گراؤنڈ مافیا سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس بات میں کرتے کہ ان کا کوئی شکار ان کے ہاتھ سے نکل جاۓ
ممکن ہے آپ کا خیال درست ہو لیکن میں اتنا کمزور شکار بھی نہیں ہوں کہ کوئی زبردستی میرے بال و پر نوچنے کی کوشش کرے اور میں پھڑ پھڑا بھی نہ سکوں۔" آپ کو ابھی شاید اندازہ نہیں ہے کہ ان کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں۔ " سروش نے دوستانہ لہجے میں کہا۔ ”میں آپ سے پھر کسی مناسب موقع پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کروں گا مگر میری درخواست ہے کہ آپ فی الحال اپنے دل کا بھید اپنی ذات تک ہی محدود رکھیں اسی میں آپ کی بہتری ہے۔" سروش میرا پتہ اور فون نمبر معلوم کر کے لمبے لمبے ڈگ بھر کر آگے نکل گیا۔ اس کی باتیں میرے لئے پریشان کن تھیں، جس انداز میں اس نے مجھے محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کسی ایسی سازش سے ضرور واقف تھا جس میں مجھے ملوث کرنے کی باقاعدہ پلاننگ پہلے سے تیار کی گئی تھی۔ بخاری کی باتوں سے بھی مجھے یہی اندازہ ہوا تھا کہ وہ ہر قیمت پر مجھے اپنے سانچوں میں ڈھالنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا وہ جو جال بن رہا تھا اس میں رحیم الدین کی مرضی بھی ضرور شامل رہی ہو گی۔میں سروش کے جانے کے بعد کچھ دیر گم صم کھڑا خلا میں گھورتا رہا پھر اپنے اپارٹمنٹ میں واپس آگیا۔ حالات جس انداز میں کروٹیں بدل رہے تھے میں ان کا عادی . نہیں تھا اس لئے میری پریشانی حق بجانب تھی۔ ایک لمحہ کو میرے ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ کسی کو اپنے بارے میں اطلاع دیئے بغیر خاموشی سے پٹنہ واپس چلا جاؤں اور ایسی ملازمت کو ہمیشہ کے لئے لات مار دوں جس میں قدم قدم پر مجھے ذہنی کوفت اور دشواریاں پیش آرہی تھیں لیکن پھر میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔ میں بزدلی کا ثبوت دے کر فرار نہیں ہونا چاہتا تھا، میرے آگے پیچھے کوئی رونے والا بھی نہیں تھا جس کی فکر میرے پیر کی بیڑی بنتی چنانچہ میں نے طے کر لیا کہ جو حالات بھی پیش آئیں گے ان کا مردانہ وار مقابلہ کروں گا خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ میں نے تمام خیالات کو ذہن سے جھٹک دیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے ارادے سے بستر پر نیم دراز ہو کر آنکھیں بند کرلیں جلیل کو میں نے تاکید کر دی تھی کہ وہ مجھے سات بجے ہوشیار کر دے۔
ٹھیک سوا سات بجے میں گھر سے تیار ہو کر نکلا بنرجی کی کوٹھی میں منٹ کے فاصلے چوکیدار کو میری آمد کی اطلاع پہلے سے تھی اس لئے مجھے انتظار نہیں کرنا پڑا، ملازم نے مجھے ڈرائنگ روم تک پہنچا دیا۔ میرا ذہن اس وقت بھی تیزی سے کام کر رہا تھا بخاری کو معلوم ہو چکا تھا کہ مجھے بنرجی کی کوٹھی پر بلایا گیا ہے۔ اس نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی مگر یہ بھی صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ میں آئندہ بنرجی سے دور رہنے کی کوشش کروں، میں سروش کی باتوں پر بھی غور کر رہا تھا' اس کی اطلاع کے مطابق بخاری کا تعلق انڈر گراؤنڈ مافیا سے بھی تھا' اس نے واضح طور پر رحیم الدین کا نام نہیں لیا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ اس شیطان صفت آدمی کی جڑیں بھی اندر ہی اندر دور تک پھیلی ہوں گی
میں ان تمام حالات کی روشنی میں بڑی سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ بنر جی کو حالات سے باخبر کروں یا خاموش رہوں۔ بخاری نے یہ بھی کہا تھا کہ بنرجی اور رحیم بولی الدین کسی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں، ایسی صورت میں اگر بنرجی میری حمایت میں کوئی قدم اٹھاتے تو میرے مخالفین کی دشمنی اور بڑھ جاتی۔ مجھے ابھی ڈھاکہ میں قدم رکھے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تھے ، دفتری معاملات بھی پوری طرح میری سمجھ میں نہیں پہلے آئے تھے ، میرے دشمنوں کے ہاتھ بہت لمبے تھے ، کمال بنرجی کی حمایت مجھے مہنگی بھی پڑھ سکتی تھی، بخاری اور رحیم کو خبر مل جاتی تو وہ زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔ میں نے بہت غور و خوض کے بعد فیصلہ کر لیا کہ جب تک بخاری اور رحیم الدین کی چالیں کھل کر میری سمجھ میں نہ آجائیں میں اپنی زبان بند ہی رکھوں گا۔ میں ڈرائنگ روم میں بیٹھا اپنے خیالات میں مستغرق تھا کہ خوشبو کا ایک معطر جھوٹا میرے وجود پر طاری ساری کسلمندی کو دور کر گیا۔
میں نے نظریں اٹھا کر دیکھا جھرنا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ میرے سامنے موجود تھی۔ پہلے روز کے مقابلے میں آج زیادہ حسین قیامت نظر آ رہی تھی۔ میں احتراماً اٹھ کھڑا ہوا وہ دوسروں کے لئے کچھ بھی سی لیکن میرے لئے بنرجی کی بیوی تھی اور بنرجی وہ واحد شخص تھا میں ڈھاکہ میں جس پر انحصار کر سکتا تھا۔
" مجھے افسوس ہے کہ آپ کو کچھ دیر انتظار کی زحمت سے دوچار ہونا پڑا۔ " جھرنا نے مسکرا کر کہا پھر بڑی تمکنت سے قدم اٹھاتی میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی ، اس کی ایک ایک ادا قیامت تھی، اس کی آواز کا ترنم' اس کے بل کھا کر چلنے کا دلفریب انداز ناگن کی طرح بل کھاتی سیاہ اور دراز زلفیں جو اس کے شانوں پر مچل رہی تھیں، اس کے ۔ وجود سے پھوٹتی ہوئی سوندھی سوندھی مہک اس کی آنکھوں کی مستی، اس کے مخروطی ہونٹوں کا گداز اس کے گالوں پر پھوٹتی ہوئی شفق جیسی سرخی۔ میں ایک لمحے کو اس کے
:
سحر میں ڈوب گیا پھر اس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ "مجھے خوشی ہے کہ آپ وقت کے پابندی ہیں۔" وہ میری آنکھوں میں دور تک جھانکتے ہوئے بولی۔ "ایسے لوگ مجھے سخت ناپسند ہیں جو وقت کی پابندی نہیں کرتے ، آپ کا کیا خیال ہے؟“ "جی" میں نے کسمسا کر جواب دیا۔ ”جی ہاں، میں آپ کے خیال سے متفق
ملازم کھانے لگا رہا ہے۔" وہ میری بوکھلاہٹ کو محسوس کرتے ہوئے شوخی سے بولی۔ "آپ کو زیادہ بھوک تو نہیں لگی؟
جی نہیں۔" میں نے پھر مختصراً جواب دیا۔ قدم "مجھے افسوس ہے کہ کرنل سے آج آپ کی ملاقات نہیں ہو سکے گی۔ " اس نے پہلو بدل کر اپنی بات جاری رکھی۔ ان کے ایک دوست کا ہارٹ فیل ہو گیا ہے اس لئے مجبوراً انہیں وہاں جانا پڑا۔ مجھے بھی ایک سوشل میٹنگ میں جانا تھا لیکن کرنل نے مجھے پابند کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں میں آپ کا خیال رکھوں۔"سوری .. میری وجہ سے آپ کا پروگرام بھی خراب ہوا۔“ میں نے اخلاقی
طور پر یہ جملہ کہنا ضروری سمجھا۔ کرنل بتا رہے تھے کہ آپ آبکاری کے محلے میں ہیں؟" اس نے شان بے نیازی سے سوال کیا۔
"جی ہاں۔" میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔
" آپ کو فی الحال غالبا مسٹر بخاری کے ساتھ انڈر ٹریننگ رکھا گیا ہے؟" کیا آپ جانتی ہیں انسپکٹر بخاری کو؟" میں غیر اختیاری طور پر سوال کر بیٹھا۔ تھوڑی بہت واقفیت ہے۔" اس نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا پھر مجھے بھرپور نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ”ایک بات کہوں اگر ناگوار خاطر نہ گزرے۔“ کی " آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کی کسی بات کا بُرا مناؤں گا؟" کرنل نے مجھے بتایا تھا کہ آپ بہت ایماندار نیک اور معصوم آدمی ہیں۔" اس نے ذیرلب مسکرا کر کہا پھر مجھے قاتل نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔ "میری ذاتی رائے بھی تم سے کردہ معلومات سے ملتی جلتی ہے۔"اس نے جس قدر بے باکی سے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ میں سٹپٹا کر رہ گیا وہ مجھے اس انداز میں دیکھ رہی تھی کہ جیسے کوئی ماہر نفسیات اپنے کسی مریض کے مرض کی تنخجیر میں محو ہو میں جواب میں کچھ کہنے کے بارے میں غور کر رہا تھا کہ ملازم نے آکر ڈنر ہونے کی اطلاع دی جھرنا نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کو کہا پھر صوفے اٹھتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئی۔تشریف لائیے باقی گفتگو کھانے کے دوران ہو گی۔"
میں جھرنا کی رہنمائی میں ڈائننگ روم میں داخل ہوا تو وہاں کے خوابناک ماحول دیکھ کر ایسا ہی لگا جیسے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے وی آئی پی روم میں آگیا ہوں، شیشے کی گول میز پر صرف چار کرسیاں موجود تھیں میز پر ڈشیں پہلے سے تیار تھیں لیکن مجھے یہ دیکھ حیرت ہوئی کہ وہاں سرو کرنے کے لئے کوئی ملازم نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں جھرنا کے اشارے
پر ایک کرسی پر بیٹھ گیا تو اس نے مسکرا کر کہا۔
”یہ میرا ذاتی ڈائٹنگ روم ہے جہاں صرف مخصوص لوگوں کی خاطر مدارات کی لیکن میں تو کوئی خاص آدمی نہیں ہوں۔ میں نے سنبھل کر کہا۔ میں آپ کی بات تسلیم نہیں کر سکتی۔ " اس نے پہلی بار قدرے سنجیدگی : جواب دیا۔ کرنل بہت مغرور اور الگ تھلگ رہنے کے عادی ہیں، ان کے ملنے والوں میں عام حیثیت کے آدمی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔"”میں اس کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔“ میں نے اس بار جھرنا کے سراپا پر ایک نظر ڈال کر قدرے بے تکلفی کا مظاہرہ کیا تو اس کے حسین چہرے پر ایک لمحے کو نفرت اور حقارت کا ملا جلا تاثر ابھرا پھر اس نے خود پر قابو پانے میں بھی دیر نہیں لگائی اور میز پر رکھی ڈش کی طرف متوجہ ہو گئی۔ کھانے کے دوران ہمارے درمیان ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں ، وہ مجھے اصرار کر کے ایک ایک چیز کھلا رہی تھی، کھانے کے دوران وہ کسی مشروب کے گلاس کو اٹھا کر بار بار اپنے گلابی ہونٹوں سے لگا لیتی، میں نے اس کی پیروی میں اپنا گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ لئے وہ اناس اور کسی تلخ فروٹ کا کاک ٹیل لگ رہا تھا جسے میں پہلی بار استعمال رہا تھا۔
جوگی - پارٹ 4
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu
stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral,
Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love
stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in
Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu
detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids,
Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu
suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu
font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز
کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu
kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,

