شبنم اور وسیم زاھد اور شمائلہ کا وٹے سٹے کا رشتہ ہوا تھا دونوں فیملیز کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ رشتہ طے ہوتے ہی شمائلہ اور زاھد کی شادی کا دن رکھ لیا گیا۔ شبنم اور وسیم کی شادی ایک سال طے ہونا پائی۔
ڈھولکی لگ گئی شادیانے بجنے لگے اور خوشی خوشی شادی ہو گئی شمائلہ اور زاھد شادی پر اتنے خوش تھے جیسے ان کی محبت کی شادی ہو شادی کے بعد بھی ان کی محبت اس طرح تھی جیسے لو میرج ہو یہی معاملہ شبنم اور وسیم کابھی تھا محبت کی کونپل ان کے دلوں میں بھی پھوٹ چکی تھی ان محبتوں کو نظر لگ گئی دونوں خاندانوں کے درمیان ایک معمولی بات پر اختلاف شروع ہوا جس نے آخر ایک بڑے جھگڑے کی صورت اختیار کرلی شبنم اور وسیم کا رشتہ ختم کر دیا گیا اس فیصلے نے دونوں کو بہت دکھ پہنچایا شمائلہ اور زاھد بھی اس فیصلے سے رنجیدہ تھے مگر کچھ نہیں کرسکتے تھے وسیم کے والدین نے جلد اس کی شادی کا فیصلہ کرلیا وسیم یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اسکے دل میں پہلے ہی شبنم موجود تھی لیکن ماں باپ نے اپنی محبتوں کے واسطے دے کر اسے راضی کر لیا۔
sublimegate
اس نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ پروین کے ساتھ شادی کرلی پروین ایک اچھی لڑکی تھی پر وسیم کے دل کو نہ بھا سکی وہ اداس رہنے لگا پروین کو سارے معاملے کا علم تھااہم اسے یہ خوش فہمی تھی محبت کے ساتھ ہر جنگ جیتی جا سکتی ہے ادہر شبنم کارشتہ طئہ ہو گیا امتیاز نامی شخص کے ساتھ اس شخص نے شبنم کو دیکھ کر کہیں پسند کرلیا اس کے ساتھ منگنی کرلی شبنم اس رشتے سے ناخوش تھی گزرتے دنوں کے ساتھ اس کے دل کا بوجھ بھی بڑہتا جا رہا تھا وہ فرار اختیار کرنا چاہتی تھی ادھر پروین بھی وسیم کے دل میں اپنی محبت کو جگا نہ سکی ہاں اس کا قدردان ضرور تھا اسے زیادہ تنگ نہ کرتی اس کے والدین کو بھی خوش رکھا ہوا تھا آہستہ آہستہ وہ وسیم کے دل میں جگہ بنا نے میں کامیاب ہوگئی۔
یہ بھی ایک حقیقت تھی شبنم ابھی تک اس کے دل میں موجود تھی وسیم کی شادی کو چار سال ہو گئے اس کے ہاں اولاد نہ ہوئی ادھر شبنم کی شادی بھی التوا کا شکار تھی موقع ملتے شبنم نے وسیم کو پیغام بھیجا میرے ساتھ کورٹ میرج کرلو وسیم کو کیا چاہیے دو آنکھیں وہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا انہیں انجام کی پرواہ نہ تھی وہ دونوں اس وقت خود غرض بنے ہوئے تھے آخرکار ایک دن موقع ملتے ہی دونوں نے کورٹ میرج کرلی ان کے اس فیصلے سے جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ زاہد اور شمائلہ تھے۔
ادہر پروین صدمے سے گنگ تھی دونوں خاندانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ بات اس حد تک چلی جائے گی شبنم کے والدین کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے تھے لوگوں نے طعنے مار مار کر شبنم کے والدین کی زندگی اجیرن کردی اور انہوں نے طعنے طعنے مار مار کر شمائلہ کی زندگی اجیرن کر دی لوگوں کے طعنے سن سن کر زاہد بھی اس سے بد دل ہوگیا تھا شمائلہ کی زندگی طعنوں کے اندر قید ہو گئی ماں باپ کی بہت یاد ستاتی مگر وہ مجبور تھی جا نہیں سکتی تھی گھر کے باہر جا نہیں سکتی تھی اس کے بھائی نے اسے اس قابل ہی نہ چھوڑا تھا کوئی اس کا غمگسار نہ تھا والدین کو اس کی بہت یاد ستاتی وہ وسیم کو کوسنے لگتے وہ اسے معاف کرنے کو تیار ہی نہ تھے وہ نفسیاتی طور پر پاگل ہو چکی تھی۔
شمائلہ کی برداشت کی حد جب آخری حدوں کو چھونے لگی تو تنگ آکر اس نے خود کو آگ لگاکر خود کشی کرلی یہ جانتے ہوئے بھی کہ خودکشی حرام ہے پتا نہیں اس نے ایسا کیوں کیا اس کے دو چھوٹے بچے بھی تھے ان کا بھی نہیں سوچا شمائلہ کے والدین نے جب یہ سنا تو وہ صدمے سے پاگل ہو گئے ان کے دلوں پر قیامت گذر گئی یہ خبر جب شبنم اور وسیم کو ملی تو وہ ہاتھ ملنے لگا یہ اس نے کی کردیا وہ شبنم پر ناراض ہونے لگا ان کا خیال تھا ایک ہی خاندان سے ہیں والدین ان سے کچھ دن ناراض رہیں گے پھر انہیں قبول کر لیں گے یہ محض ان کی خام خیالی ثابت ہوئی ایسا کچھ نہ ہو سکا اب وسیم کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر شبنم کو لے کر اپنے گھر آگیا اسے رہ رہ کر شمائلہ کے خیالات آرہے تھے۔
وہ بہن سے بہت پیار کرتا تھا خود کو معاف نہیں کر پارہا تھا گھر میں کوئی بھی اس سے بات نہ کرتا وہ سب کی نظروں میں شمائلہ کا مجرم تھا شبنم سے بھی بات کی جاتی تو صرف طعنوں کی حد تک وہ تو اپنی ساری کشتیاں جلاکر آئی تھی اس کے والدین نے کہلا بھیجا وہ اسے ساری زندگی معاف نہیں کریں گے ایک پروین ہی تھی جو بڑا دل کرتے ہوئے دونوں کی دلجوئی کرتی شبنم کی محبت کا بھوت بہن کے واقعے کے بعد وسیم کے دل و دماغ سے اتر چکا تھا اب اس کا جھکاؤ خودبخود پروین کی طرف چلاگیا تھا غصہ پروین کے والدین کو بھی بہت تھا وہ ان دونوں کے دشمن بنے ہوئے تھے مگر پروین ایک مصلحت پسند کی سوچ کی مالک تھی اس نے والدین کو کہہ دیا وہ اس کی بھلائی چاہتے ہیں تو وہ اس مسئلے سے دور رہیں اسے ڈر تھا کہ اس طرح مداخلت سے مسئلہ سلجھنے کی بجائے بگڑ سکتا تھا۔
شبنم بھی پروین کو بہن کی نظر سے دیکھنے لگی پروین کو دکھ تو بہت تھا مگر اب اس نے سوچا اور کچھ نہیں ہو سکتا محبت سے تو رہا جا سکتا ہے یہ پروین ہی تھی جس نے شبنم کو دربدر ہونے سے بچا لیا ورنہ وہ نہ ادہر کی رہتی نہ وہ ادہر کی رہتی کبھی کبھار قدرت ایسے کمال دکھاتی ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے پروین کی گود جو اتنے سالوں سے خالی تھی شبنم کے ساتھ ساتھ اسے بھی یہ خوشخبری ملی وہ ماں بننے والی ہے شاید خدا کو پروین کاصبر پسند آچکا تھا دونوں نے کچھ دنوں کے فرق سے ایک نے بیٹے اور دوسری نے بیٹی کو جنم دیا وسیم بہت خوش تھا کچھ پروین کی محنت کچھ اولاد کی چاہت نے وسیم کے والدین کو مجبور کردیا انہوں نے شبنم کو معاف کردیا شبنم اور پروین کی اور بھی اولادیں ہوئیں مائوں کی محبت سے بچوں کی دل میں بھی دونوں مائوں کی محبت اور عزت برابر تھی ان کی زندگی خوش وخرم گذر رہی ہے شبنم کے عاشق امتیاز نے شبنم کے عشق میں شادی نہ کی اس کی یکطرفہ محبت شبنم سے شروع ہو کر شبنم پر ہی ختم تھی اب شبنم کے زندگی میں ایک ہی دکھ ہے کاش اس کے والدین اسے سینے سے لگائیں جنہوں نے عہد کر رکھا ہے وہ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے اس کی اولاد جوان ہونے لگی ہے کہیں نظر بھی آجائیں تو اس کا دل کرتا ہے دوڑ کر ان کے گلے لگ جائے مگر ایسا نہیں ہو سکتا اس کے والدین سب سے یہی کہتے ہیں شبنم ہمارے لیے مر چکی ہے اس کے سامنے جب بھی والدین اور بہن بہائیوں کا ذکر ہوتا ہے اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔