میرا نام عابد ہے، والد صاحب سرکاری ملازم تھے۔ میں تمام بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ مجھ سے چھوٹی ایک بہن اور ایک بھائی ہے۔ ہمارا پانچ افراد پر مشتمل گھرانہ ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ والد صاحب کی شدید خواہش تھی کہ میں پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنوں۔ ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں پڑھائی میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔ میری بھی یہ آرزو تھی کہ زندگی میں کامیاب ہو کر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کا سہارا بنوں۔ میں نے مڈل میں وظیفہ اور میٹرک میں اعلیٰ نمبر حاصل کیے۔ والد صاحب مجھ سے بہت خوش تھے۔ ان کی آمدنی کم تھی، پھر بھی انہوں نے مجھے شہر کے ایک اچھے کالج میں داخلہ دلوا دیا۔ شہر میں ہمارے بہت سے رشتے دار بھی رہتے تھے، میں اکثر ان کے ہاں ٹھہرتا اور ہفتے یا مہینے بعد گھر جاتا تھا۔ میں زیادہ تر اپنے ماموں کے ہاں رہتا تھا، ان کا ایک بیٹا تھا جو نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔
sublimegate
گرمیوں کے دن تھے، ایک روز میں اپنے کزن کے ساتھ ان کے گھر کی چھت پر گیا۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا، جب میری نظر ایک لڑکی پر پڑی جو اپنی چھت سے کپڑے اتارنے آئی تھی۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ وہ بے حد خوبصورت تھی، جیسے آسمان سے کوئی حور اتر آئی ہو۔ کپڑے لے کر وہ چلی گئی اور میں وہیں مبہوت کھڑا رہ گیا۔ میں نے اپنے کزن سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ حیران ہوا کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں؟ آخر کار شام ہو گئی، میں چھت پر بیٹھا اس کے دوبارہ لوٹنے کا انتظار کرتا رہا، مگر رات کا اندھیرا پھیل گیا اور وہ نہ آئی۔ میرا کزن مجھے زبردستی نیچے لے گیا۔ ساری رات میں اس کے خیالوں میں کھویا رہا اور ٹھیک سے سو بھی نہ سکا۔
صبح ہوئی تو میں دوبارہ سہ پہر کا انتظار کرنے لگا۔ چھت پر گیا تو وہ وہاں نہ تھی۔ یوں ہی بے چینی میں دس بارہ دن گزر گئے، لیکن میں اس پری وش کا چہرہ دوبارہ نہ دیکھ سکا۔ اب میں کسی کی باتوں میں دلچسپی نہ لیتا تھا اور بجھا بجھا سا رہنے لگا۔ ممانی جان اور گھر کے دوسرے لوگ پوچھتے تو میں ٹال دیتا۔ مرض اندر ہی اندر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ میں ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا۔ تبھی ممانی نے یہ کہہ کر مجھے واپس گاؤں بھیج دیا کہ اس پر کسی جن بھوت یا آسیب کا سایہ ہے۔ گاؤں آ کر بھی میرا دل نہ لگا، واقعی مجھ پر جیسے عشق کا آسیب سوار ہو گیا تھا۔ یہاں تو بے قراری اور بڑھ گئی۔ ماں نے مجھے دیکھتے ہی جان لیا کہ دل کو کوئی روگ لگ چکا ہے، تبھی انہوں نے گاؤں کے مولوی صاحب کو بلوا کر کہا کہ اس پر کچھ دم درود کریں، شاید میرے لال پر کسی کا سایہ ہو گیا ہے۔ اللہ کے کلام کی برکت سے یقیناً یہ اچھا ہو جائے گا۔ جھاڑ پھونک اور دم درود ہوتا رہا، لیکن یہ کوئی آسیب نہ تھا کہ میں ٹھیک ہو جاتا، یہ تو آسیب سے بڑھ کر کوئی بلا تھی۔ جب دل کی گھٹن بہت بڑھ گئی تو میں دوبارہ شہر بھاگ آیا۔
سردیوں کا موسم تھا۔ ایک روز جمعے کے دن میں اپنے کزن کے ساتھ پتنگ اڑانے چھت پر گیا۔ پڑوس میں اس لڑکی کے گھر والے دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بہت خوش ہوا کہ دوبارہ اس حسینہ کا دیدار ہوا۔ آج پھر میں نے اپنے کزن سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ یہاں دو سال سے رہ رہے ہیں۔ اس کے والد کی بازار میں کپڑے کی دکان ہے، یہ لڑکی سب سے بڑی ہے، اس سے چھوٹی دو بہنیں اور ایک بھائی ہے، اور اس کا نام صائمہ ہے۔ وہ فرسٹ ایئر میں پڑھتی ہے۔ یہ سب جان کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ اب میں اپنے کالج جانے کے بجائے اس کے کالج کے چکر کاٹنے لگا اور دن بہ دن اس کے قریب اور پڑھائی سے دور ہوتا گیا۔ ایک دن میں اور گھر والے بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ صائمہ اور اس کی امی ہمارے گھر آگئیں۔ میں گھبرا گیا کہ شاید میری شکایت لے کر آئی ہیں۔ میں مارے خوف کے کانپنے لگا اور سردی میں بھی پسینے سے نہا گیا کیونکہ میں روز گرلز کالج کے چکر لگاتا تھا۔ میرے حواس اس وقت بحال ہوئے جب صائمہ کی امی نے کہا: “بیٹا! تمہارے پاس انگلش کے نوٹس ہیں؟” میری سمجھ میں کچھ نہ آیا، جب انہوں نے دوبارہ کہا: “ارے بیٹا سن رہے ہو؟ صائمہ کو نوٹس چاہئیں، مہربانی کر کے چند دنوں کے لیے دے دو۔” تب میں نے فوراً نوٹس لا کر دے دیے۔ یوں نوٹس کی وجہ سے ہمارا رابطہ قائم ہو گیا۔
فرسٹ ایئر میں ہم دونوں پاس ہو گئے۔ اب سیکنڈ ایئر کی تیاری کرنی تھی، لیکن میں پڑھائی پر کم اور صائمہ پر زیادہ توجہ دے رہا تھا۔ آہستہ آہستہ پرچوں کے ذریعے پیغام رسانی کا سلسلہ بھی چل نکلا، جس کا علم صرف میرے کزن کو تھا جو ہمارا قاصد بنا ہوا تھا۔ دن ہفتوں اور مہینوں میں بدل گئے۔ سالانہ امتحان سر پر آ گئے لیکن میری تیاری نہ تھی۔ جب رزلٹ آیا تو میں فیل ہو گیا، وہ بھی چند مضامین میں رہ گئی تھی۔ ہماری محبت کا علم کزن کے علاوہ ممانی جان کو بھی ہو چکا تھا۔ میں نے انہیں قسم دی تھی کہ میرے والدین کو پتہ نہ چلے، ورنہ وہ مجھے گاؤں میں قید کر دیں گے۔ جب میں امتحان میں بری طرح ناکام ہوا تو والد صاحب کو بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا۔ اب پچھتاوے کا کیا فائدہ تھا، میں نے بھی غصے میں آ کر مزید پڑھنے سے صاف انکار کر دیا، تبھی والد صاحب نے ایک دوست کی مدد سے مجھے کویت بھیجنے کا انتظام کر دیا۔ میں کویت جانے سے پہلے صائمہ سے ملنا چاہتا تھا مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ میں نے کزن کے ذریعے اسے خط بھجوایا کہ میرا انتظار کرنا۔ اب خدا جانے وہ خط اسے ملا یا نہیں، مجھے کچھ خبر نہ ہو سکی۔
یہ سچ ہے کہ بعض لوگ واقعی جنونی ہوتے ہیں، جو خیال ایک بار دل میں آ جائے وہ اس سے جان نہیں چھڑا سکتے؛ میرا شمار بھی انہی لوگوں میں تھا۔ میں صائمہ کے خیال سے ایک پل کے لیے بھی پیچھا نہ چھڑا سکا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں کویت میں بھی پریشان رہنے لگا۔ میں اس کے بارے میں اس قدر سوچتا تھا کہ ٹھیک سے کام بھی نہ کر پاتا تھا۔ یہ پاکستان تو نہ تھا کہ ہم وطن رعایت کرتے، باہر تو کام پورا کرنا پڑتا ہے۔ دوستوں نے میری حالت بھانپ لی اور بار بار پوچھتے کہ کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤ، اگر کام ٹھیک سے نہیں کرو گے تو فارغ کر دیے جاؤ گے۔ مگر میں انہیں حقیقت نہ بتاتا اور ٹال مٹول سے کام لیتا۔ بعض اوقات میں اتنا پریشان ہوتا کہ واپس آنے کو جی چاہتا، لیکن ابھی تو وہ قرضہ بھی نہیں اترا تھا جو کویت آنے کے لیے لینا پڑا تھا۔ اگر واپس جاتا تو والد صاحب سخت ناراض ہوتے۔ میں نے دو تین خط کزن کو لکھے کہ کسی طرح صائمہ تک پہنچا دے، لیکن کسی کا جواب نہ آیا۔ یوں میری پریشانی بڑھتی گئی اور ایک سال تڑپتے ہوئے گزر گیا۔ ایک دوست کے سمجھانے پر میں نے کام پر توجہ دینی شروع کی اور صائمہ کو بھلانے کی کوشش کی، مگر یہ کوشش بے سود رہی۔ انہی دنوں مجھے کزن کا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ تمہارے دونوں خط میں نے صائمہ کو دے دیے تھے، لیکن جب میں تیسرا خط دینے گیا تو اس کی امی نے دیکھ لیا۔ انہوں نے وہ خط چھین لیا اور پڑھنے کے بعد مجھے بہت ڈانٹا اور گھر والوں سے شکایت کی، جس کی وجہ سے مجھے مار پڑی اور والد صاحب نے مجھے کورس کرنے کے لیے لاہور بھیج دیا۔
اب مجھے گھر کے حالات اور صائمہ کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ اس خط نے میری بے چینی مزید بڑھا دی۔ اس دن میں نے نہ کچھ کھایا اور نہ کام پر گیا۔ دماغ پر اتنا دباؤ پڑا کہ میں بیمار ہو گیا اور دوست مجھے ہسپتال لے گئے۔ یہ سوچ مجھے زیادہ پریشان رکھتی تھی کہ صائمہ کے گھر والے اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہوں گے۔ اب میں خط بھی نہیں لکھ سکتا تھا کہ کہیں صائمہ بدنام نہ ہو جائے۔ کسی چیز میں دل نہ لگتا تھا؛ میرے دوست فلمیں دیکھتے اور ہنسی مذاق کرتے، مگر مجھے کچھ اچھا نہ لگتا۔ جب ذہنی دباؤ حد سے بڑھا تو میں نے ایک دوست کو سب کچھ بتا دیا۔ اس نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا: “بے وقوف آدمی! کیا پریشان رہنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ایسے تو صائمہ ہمیشہ کے لیے تم سے جدا ہو جائے گی، البتہ اگر تم محنت کر کے خوب دولت کماؤ گے تو ہر شے تمہارے پاس ہو گی۔ اس کے ماں باپ بھی خوشی سے رشتہ دیں گے کیونکہ آج کل لوگ پہلے دولت دیکھتے ہیں۔” یہ بات میرے دل کو لگی اور میں نے اس مشورے کو ذہن نشین کر لیا۔ میں نے تصور میں صائمہ کو بسایا اور اسے حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کرنے لگا۔ میں جانتا تھا کہ ابھی اس کی کہیں منگنی نہیں ہوئی، اس لیے اب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پانچ سال تک میں نے مسلسل مشقت کی، اوور ٹائم لگایا اور ایک روپیہ بھی فضول خرچ نہ کیا۔ میں جلد از جلد بنگلہ، گاڑی اور بزنس کے لیے رقم جمع کرنا چاہتا تھا تاکہ دولت کے انبار کے ساتھ پاکستان جاؤں۔ اب گھر والوں کے خط بھی آتے تھے کہ جلد واپس آ جاؤ، ممانی جان کے خطوط سے پتہ چلتا تھا کہ صائمہ کی ابھی شادی نہیں ہوئی، بس اسی بات نے مجھے ڈھارس دی ہوئی تھی۔
آخر کار ایک دن میں نے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ خوب شاپنگ کی اور سب کے لیے تحائف خریدے، سب سے زیادہ خیال صائمہ کا تھا، میں اس کے قدموں میں دنیا کی ہر نعمت ڈھیر کر دینا چاہتا تھا۔ جب ایئرپورٹ پر اترا تو میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھ کر میں نہال ہو گیا اور باہر نکلتے ہی ماں اور ابا جان کے گلے لگ گیا۔ وہ بھی خوشی سے رو پڑے۔ بہن اب بڑی ہو گئی تھی، میں بھائی اور دیگر رشتے داروں سے ملا اور سب کو تحائف دیے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں، میں نے وہاں کے حالات بتائے لیکن دل میں یہی سوال تھا کہ کوئی صائمہ کا ذکر کرے، مگر کسی نے اس کا نام نہ لیا۔ مدت بعد لوٹا تھا، محلے داروں اور دوستوں سے مل کر بہت خوش تھا۔ لیکن یہ ساری خوشی اس وقت غم میں بدل گئی جب میں ممانی سے ملنے گیا۔ باتوں باتوں میں صائمہ کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی منگنی ہو گئی ہے اور وہ بھی صرف ایک ماہ پہلے۔ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور سر چکرانے لگا۔ جو کچھ اس کے لیے لایا تھا، سب غصے میں باہر پھینک دیا۔ اس پر اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اگر وہ سامنے ہوتی تو شاید میں آپے سے باہر ہو جاتا۔ ممانی میرا دکھ سمجھتی تھیں، انہوں نے مجھے حوصلہ دیا لیکن میری سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ میں دیوانہ وار واپس گاؤں چلا گیا، اس وقت دل پر ایسی مایوسی طاری تھی کہ جی چاہتا تھا اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دوں۔
چند دن بعد امی نے مجھ سے شادی کی بات کی، وہ اپنی بھانجی سے میرا رشتہ کرنا چاہتی تھیں۔ میں پہلے ہی پریشان تھا، اب مزید الجھ گیا۔ امی نے وجہ پوچھی تو میں نے سب سچ بتا دیا کہ اگر شادی کرنی ہے تو صرف صائمہ سے، ورنہ کسی سے نہیں۔ کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو دکھی نہیں دیکھ سکتی، چنانچہ انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ جا کر بات ضرور کریں گی، چاہے وہ رشتہ دیں یا نہ دیں، کم از کم یہ حسرت تو نہ رہے گی کہ کوشش نہیں کی۔ جب میری ماں ان کے ہاں گئیں تو وہاں صائمہ کے سسرال والے بھی آئے ہوئے تھے۔ تبھی کسی نے شرارت میں انہیں بتا دیا کہ یہ لڑکی تو پہلے ہی کسی کے ساتھ تعلق میں ہے۔ بتانے والے نے بہت سی غلط باتیں کیں جس سے وہ بدظن ہو گئے۔ اوپر سے میری امی ان کی موجودگی میں رشتہ مانگنے پہنچ گئیں اور یہ جانے بغیر کہ وہ کون ہیں، رشتے کی بات چھیڑ دی۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو رشتہ کرنے میں کیا حرج ہے؟ یہ سنتے ہی صائمہ کے سسرال والے بگڑ گئے اور منگنی توڑ کر چلے گئے۔ پھر یہ بات سب کو معلوم ہو گئی کہ میں صائمہ کو پسند کرتا ہوں اور ہماری وجہ سے منگنی ٹوٹی ہے۔ ان کے گھر والوں کے غم و غصے کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں، دونوں خاندانوں میں جھگڑا ہو گیا۔ تب شہر کے معززین نے مداخلت کی اور صلح کی کوشش کرنے لگے۔ چند دنوں بعد صائمہ کے گھر والے مان گئے لیکن رشتہ دینے کو اب بھی تیار نہ تھے، جس سے میں مایوس ہو کر بیمار رہنے لگا اور خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔
بقول ممانی جان، صائمہ کے والد کو ان کے تمام رشتے داروں نے سمجھایا کہ اب ضد چھوڑ دیں اور عابد کو داماد تسلیم کر لیں، اسی میں بیٹی کا سکھ اور خاندان کی عزت ہے کیونکہ اب باہر سے کوئی رشتہ نہیں آئے گا۔ دن گزرتے گئے اور مجھے واپس آئے چار ماہ ہو گئے۔ میں بہت کمزور ہو گیا تھا جس سے گھر والے پریشان تھے۔ میری حالت دیکھ کر ایک دن امی اور ابو دوبارہ صائمہ کے گھر گئے اور منت سماجت کر کے اس کا ہاتھ مانگا۔ اس دن میری قسمت اچھی تھی کہ انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہاں کر دی۔ جب میں نے یہ خوشخبری سنی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، میں خوشی سے نہال ہو گیا اور میری صحت بھی بہتر ہونے لگی۔ یوں ایک ماہ کے اندر میری شادی صائمہ سے ہو گئی۔ ہم دونوں بہت خوش تھے کہ ہم نے اپنی محبت پا لی تھی۔ اس کے بعد میں دوبارہ کویت گیا اور جلد ہی واپس آ کر اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ آج میں بہت خوش ہوں کہ مجھے صائمہ جیسی اچھی جیون ساتھی ملی۔ میرے دو بچے ہیں اور میں شکر گزار ہوں کہ والدین کی مرضی اور عزت کے ساتھ ہماری شادی ہوئی۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ جسے چاہا، اسے پا لیا۔
صبح ہوئی تو میں دوبارہ سہ پہر کا انتظار کرنے لگا۔ چھت پر گیا تو وہ وہاں نہ تھی۔ یوں ہی بے چینی میں دس بارہ دن گزر گئے، لیکن میں اس پری وش کا چہرہ دوبارہ نہ دیکھ سکا۔ اب میں کسی کی باتوں میں دلچسپی نہ لیتا تھا اور بجھا بجھا سا رہنے لگا۔ ممانی جان اور گھر کے دوسرے لوگ پوچھتے تو میں ٹال دیتا۔ مرض اندر ہی اندر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ میں ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا۔ تبھی ممانی نے یہ کہہ کر مجھے واپس گاؤں بھیج دیا کہ اس پر کسی جن بھوت یا آسیب کا سایہ ہے۔ گاؤں آ کر بھی میرا دل نہ لگا، واقعی مجھ پر جیسے عشق کا آسیب سوار ہو گیا تھا۔ یہاں تو بے قراری اور بڑھ گئی۔ ماں نے مجھے دیکھتے ہی جان لیا کہ دل کو کوئی روگ لگ چکا ہے، تبھی انہوں نے گاؤں کے مولوی صاحب کو بلوا کر کہا کہ اس پر کچھ دم درود کریں، شاید میرے لال پر کسی کا سایہ ہو گیا ہے۔ اللہ کے کلام کی برکت سے یقیناً یہ اچھا ہو جائے گا۔ جھاڑ پھونک اور دم درود ہوتا رہا، لیکن یہ کوئی آسیب نہ تھا کہ میں ٹھیک ہو جاتا، یہ تو آسیب سے بڑھ کر کوئی بلا تھی۔ جب دل کی گھٹن بہت بڑھ گئی تو میں دوبارہ شہر بھاگ آیا۔
سردیوں کا موسم تھا۔ ایک روز جمعے کے دن میں اپنے کزن کے ساتھ پتنگ اڑانے چھت پر گیا۔ پڑوس میں اس لڑکی کے گھر والے دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بہت خوش ہوا کہ دوبارہ اس حسینہ کا دیدار ہوا۔ آج پھر میں نے اپنے کزن سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ یہاں دو سال سے رہ رہے ہیں۔ اس کے والد کی بازار میں کپڑے کی دکان ہے، یہ لڑکی سب سے بڑی ہے، اس سے چھوٹی دو بہنیں اور ایک بھائی ہے، اور اس کا نام صائمہ ہے۔ وہ فرسٹ ایئر میں پڑھتی ہے۔ یہ سب جان کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ اب میں اپنے کالج جانے کے بجائے اس کے کالج کے چکر کاٹنے لگا اور دن بہ دن اس کے قریب اور پڑھائی سے دور ہوتا گیا۔ ایک دن میں اور گھر والے بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ صائمہ اور اس کی امی ہمارے گھر آگئیں۔ میں گھبرا گیا کہ شاید میری شکایت لے کر آئی ہیں۔ میں مارے خوف کے کانپنے لگا اور سردی میں بھی پسینے سے نہا گیا کیونکہ میں روز گرلز کالج کے چکر لگاتا تھا۔ میرے حواس اس وقت بحال ہوئے جب صائمہ کی امی نے کہا: “بیٹا! تمہارے پاس انگلش کے نوٹس ہیں؟” میری سمجھ میں کچھ نہ آیا، جب انہوں نے دوبارہ کہا: “ارے بیٹا سن رہے ہو؟ صائمہ کو نوٹس چاہئیں، مہربانی کر کے چند دنوں کے لیے دے دو۔” تب میں نے فوراً نوٹس لا کر دے دیے۔ یوں نوٹس کی وجہ سے ہمارا رابطہ قائم ہو گیا۔
فرسٹ ایئر میں ہم دونوں پاس ہو گئے۔ اب سیکنڈ ایئر کی تیاری کرنی تھی، لیکن میں پڑھائی پر کم اور صائمہ پر زیادہ توجہ دے رہا تھا۔ آہستہ آہستہ پرچوں کے ذریعے پیغام رسانی کا سلسلہ بھی چل نکلا، جس کا علم صرف میرے کزن کو تھا جو ہمارا قاصد بنا ہوا تھا۔ دن ہفتوں اور مہینوں میں بدل گئے۔ سالانہ امتحان سر پر آ گئے لیکن میری تیاری نہ تھی۔ جب رزلٹ آیا تو میں فیل ہو گیا، وہ بھی چند مضامین میں رہ گئی تھی۔ ہماری محبت کا علم کزن کے علاوہ ممانی جان کو بھی ہو چکا تھا۔ میں نے انہیں قسم دی تھی کہ میرے والدین کو پتہ نہ چلے، ورنہ وہ مجھے گاؤں میں قید کر دیں گے۔ جب میں امتحان میں بری طرح ناکام ہوا تو والد صاحب کو بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا۔ اب پچھتاوے کا کیا فائدہ تھا، میں نے بھی غصے میں آ کر مزید پڑھنے سے صاف انکار کر دیا، تبھی والد صاحب نے ایک دوست کی مدد سے مجھے کویت بھیجنے کا انتظام کر دیا۔ میں کویت جانے سے پہلے صائمہ سے ملنا چاہتا تھا مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ میں نے کزن کے ذریعے اسے خط بھجوایا کہ میرا انتظار کرنا۔ اب خدا جانے وہ خط اسے ملا یا نہیں، مجھے کچھ خبر نہ ہو سکی۔
یہ سچ ہے کہ بعض لوگ واقعی جنونی ہوتے ہیں، جو خیال ایک بار دل میں آ جائے وہ اس سے جان نہیں چھڑا سکتے؛ میرا شمار بھی انہی لوگوں میں تھا۔ میں صائمہ کے خیال سے ایک پل کے لیے بھی پیچھا نہ چھڑا سکا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں کویت میں بھی پریشان رہنے لگا۔ میں اس کے بارے میں اس قدر سوچتا تھا کہ ٹھیک سے کام بھی نہ کر پاتا تھا۔ یہ پاکستان تو نہ تھا کہ ہم وطن رعایت کرتے، باہر تو کام پورا کرنا پڑتا ہے۔ دوستوں نے میری حالت بھانپ لی اور بار بار پوچھتے کہ کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤ، اگر کام ٹھیک سے نہیں کرو گے تو فارغ کر دیے جاؤ گے۔ مگر میں انہیں حقیقت نہ بتاتا اور ٹال مٹول سے کام لیتا۔ بعض اوقات میں اتنا پریشان ہوتا کہ واپس آنے کو جی چاہتا، لیکن ابھی تو وہ قرضہ بھی نہیں اترا تھا جو کویت آنے کے لیے لینا پڑا تھا۔ اگر واپس جاتا تو والد صاحب سخت ناراض ہوتے۔ میں نے دو تین خط کزن کو لکھے کہ کسی طرح صائمہ تک پہنچا دے، لیکن کسی کا جواب نہ آیا۔ یوں میری پریشانی بڑھتی گئی اور ایک سال تڑپتے ہوئے گزر گیا۔ ایک دوست کے سمجھانے پر میں نے کام پر توجہ دینی شروع کی اور صائمہ کو بھلانے کی کوشش کی، مگر یہ کوشش بے سود رہی۔ انہی دنوں مجھے کزن کا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ تمہارے دونوں خط میں نے صائمہ کو دے دیے تھے، لیکن جب میں تیسرا خط دینے گیا تو اس کی امی نے دیکھ لیا۔ انہوں نے وہ خط چھین لیا اور پڑھنے کے بعد مجھے بہت ڈانٹا اور گھر والوں سے شکایت کی، جس کی وجہ سے مجھے مار پڑی اور والد صاحب نے مجھے کورس کرنے کے لیے لاہور بھیج دیا۔
اب مجھے گھر کے حالات اور صائمہ کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ اس خط نے میری بے چینی مزید بڑھا دی۔ اس دن میں نے نہ کچھ کھایا اور نہ کام پر گیا۔ دماغ پر اتنا دباؤ پڑا کہ میں بیمار ہو گیا اور دوست مجھے ہسپتال لے گئے۔ یہ سوچ مجھے زیادہ پریشان رکھتی تھی کہ صائمہ کے گھر والے اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہوں گے۔ اب میں خط بھی نہیں لکھ سکتا تھا کہ کہیں صائمہ بدنام نہ ہو جائے۔ کسی چیز میں دل نہ لگتا تھا؛ میرے دوست فلمیں دیکھتے اور ہنسی مذاق کرتے، مگر مجھے کچھ اچھا نہ لگتا۔ جب ذہنی دباؤ حد سے بڑھا تو میں نے ایک دوست کو سب کچھ بتا دیا۔ اس نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا: “بے وقوف آدمی! کیا پریشان رہنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ایسے تو صائمہ ہمیشہ کے لیے تم سے جدا ہو جائے گی، البتہ اگر تم محنت کر کے خوب دولت کماؤ گے تو ہر شے تمہارے پاس ہو گی۔ اس کے ماں باپ بھی خوشی سے رشتہ دیں گے کیونکہ آج کل لوگ پہلے دولت دیکھتے ہیں۔” یہ بات میرے دل کو لگی اور میں نے اس مشورے کو ذہن نشین کر لیا۔ میں نے تصور میں صائمہ کو بسایا اور اسے حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کرنے لگا۔ میں جانتا تھا کہ ابھی اس کی کہیں منگنی نہیں ہوئی، اس لیے اب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پانچ سال تک میں نے مسلسل مشقت کی، اوور ٹائم لگایا اور ایک روپیہ بھی فضول خرچ نہ کیا۔ میں جلد از جلد بنگلہ، گاڑی اور بزنس کے لیے رقم جمع کرنا چاہتا تھا تاکہ دولت کے انبار کے ساتھ پاکستان جاؤں۔ اب گھر والوں کے خط بھی آتے تھے کہ جلد واپس آ جاؤ، ممانی جان کے خطوط سے پتہ چلتا تھا کہ صائمہ کی ابھی شادی نہیں ہوئی، بس اسی بات نے مجھے ڈھارس دی ہوئی تھی۔
آخر کار ایک دن میں نے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ خوب شاپنگ کی اور سب کے لیے تحائف خریدے، سب سے زیادہ خیال صائمہ کا تھا، میں اس کے قدموں میں دنیا کی ہر نعمت ڈھیر کر دینا چاہتا تھا۔ جب ایئرپورٹ پر اترا تو میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھ کر میں نہال ہو گیا اور باہر نکلتے ہی ماں اور ابا جان کے گلے لگ گیا۔ وہ بھی خوشی سے رو پڑے۔ بہن اب بڑی ہو گئی تھی، میں بھائی اور دیگر رشتے داروں سے ملا اور سب کو تحائف دیے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں، میں نے وہاں کے حالات بتائے لیکن دل میں یہی سوال تھا کہ کوئی صائمہ کا ذکر کرے، مگر کسی نے اس کا نام نہ لیا۔ مدت بعد لوٹا تھا، محلے داروں اور دوستوں سے مل کر بہت خوش تھا۔ لیکن یہ ساری خوشی اس وقت غم میں بدل گئی جب میں ممانی سے ملنے گیا۔ باتوں باتوں میں صائمہ کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی منگنی ہو گئی ہے اور وہ بھی صرف ایک ماہ پہلے۔ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور سر چکرانے لگا۔ جو کچھ اس کے لیے لایا تھا، سب غصے میں باہر پھینک دیا۔ اس پر اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اگر وہ سامنے ہوتی تو شاید میں آپے سے باہر ہو جاتا۔ ممانی میرا دکھ سمجھتی تھیں، انہوں نے مجھے حوصلہ دیا لیکن میری سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ میں دیوانہ وار واپس گاؤں چلا گیا، اس وقت دل پر ایسی مایوسی طاری تھی کہ جی چاہتا تھا اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دوں۔
چند دن بعد امی نے مجھ سے شادی کی بات کی، وہ اپنی بھانجی سے میرا رشتہ کرنا چاہتی تھیں۔ میں پہلے ہی پریشان تھا، اب مزید الجھ گیا۔ امی نے وجہ پوچھی تو میں نے سب سچ بتا دیا کہ اگر شادی کرنی ہے تو صرف صائمہ سے، ورنہ کسی سے نہیں۔ کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو دکھی نہیں دیکھ سکتی، چنانچہ انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ جا کر بات ضرور کریں گی، چاہے وہ رشتہ دیں یا نہ دیں، کم از کم یہ حسرت تو نہ رہے گی کہ کوشش نہیں کی۔ جب میری ماں ان کے ہاں گئیں تو وہاں صائمہ کے سسرال والے بھی آئے ہوئے تھے۔ تبھی کسی نے شرارت میں انہیں بتا دیا کہ یہ لڑکی تو پہلے ہی کسی کے ساتھ تعلق میں ہے۔ بتانے والے نے بہت سی غلط باتیں کیں جس سے وہ بدظن ہو گئے۔ اوپر سے میری امی ان کی موجودگی میں رشتہ مانگنے پہنچ گئیں اور یہ جانے بغیر کہ وہ کون ہیں، رشتے کی بات چھیڑ دی۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو رشتہ کرنے میں کیا حرج ہے؟ یہ سنتے ہی صائمہ کے سسرال والے بگڑ گئے اور منگنی توڑ کر چلے گئے۔ پھر یہ بات سب کو معلوم ہو گئی کہ میں صائمہ کو پسند کرتا ہوں اور ہماری وجہ سے منگنی ٹوٹی ہے۔ ان کے گھر والوں کے غم و غصے کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں، دونوں خاندانوں میں جھگڑا ہو گیا۔ تب شہر کے معززین نے مداخلت کی اور صلح کی کوشش کرنے لگے۔ چند دنوں بعد صائمہ کے گھر والے مان گئے لیکن رشتہ دینے کو اب بھی تیار نہ تھے، جس سے میں مایوس ہو کر بیمار رہنے لگا اور خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔
بقول ممانی جان، صائمہ کے والد کو ان کے تمام رشتے داروں نے سمجھایا کہ اب ضد چھوڑ دیں اور عابد کو داماد تسلیم کر لیں، اسی میں بیٹی کا سکھ اور خاندان کی عزت ہے کیونکہ اب باہر سے کوئی رشتہ نہیں آئے گا۔ دن گزرتے گئے اور مجھے واپس آئے چار ماہ ہو گئے۔ میں بہت کمزور ہو گیا تھا جس سے گھر والے پریشان تھے۔ میری حالت دیکھ کر ایک دن امی اور ابو دوبارہ صائمہ کے گھر گئے اور منت سماجت کر کے اس کا ہاتھ مانگا۔ اس دن میری قسمت اچھی تھی کہ انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہاں کر دی۔ جب میں نے یہ خوشخبری سنی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، میں خوشی سے نہال ہو گیا اور میری صحت بھی بہتر ہونے لگی۔ یوں ایک ماہ کے اندر میری شادی صائمہ سے ہو گئی۔ ہم دونوں بہت خوش تھے کہ ہم نے اپنی محبت پا لی تھی۔ اس کے بعد میں دوبارہ کویت گیا اور جلد ہی واپس آ کر اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ آج میں بہت خوش ہوں کہ مجھے صائمہ جیسی اچھی جیون ساتھی ملی۔ میرے دو بچے ہیں اور میں شکر گزار ہوں کہ والدین کی مرضی اور عزت کے ساتھ ہماری شادی ہوئی۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ جسے چاہا، اسے پا لیا۔
(ختم شد)

