دوسری زندگی

3 Auratien 3 Kahaniyan

زویا میری نند کی بیٹی تھی۔ جب وہ پیدا ہوئی تو فرحانہ نے اسی وقت کہہ دیا تھا: “بھابھی! یہ آپ کی بہو بنے گی۔” انہی دنوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی فرزندِ ارجمند سے نوازا، جس کا نام میں نے عابد رکھا، لیکن پیار سے سب اسے ارجمند ہی بلاتے تھے۔ زویا بہت پیاری اور گول مٹول سی تھی۔ اس گوری رنگت اور سنہری بالوں والی گڑیا نے میرے من کو موہ لیا تھا۔ میں نے بھی فرحانہ سے وعدہ کر لیا تھا کہ میں زویا ہی کو اپنی بہو بناؤں گی۔

ہمارے گھر قریب قریب تھے۔ بچے ایک ساتھ کھیلتے کودتے جوان ہو گئے۔ میرے بیٹے ارجمند کو بھی زویا پسند تھی، چنانچہ میں نے دونوں کی منگنی کر دی۔ ان دنوں وہ میٹرک میں پڑھ رہے تھے۔ اس رشتے پر زویا بہت خوش تھی اور ارجمند کی خوشی کا بھی ٹھکانہ نہ تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ بندھن عارضی ثابت ہوگا اور منگنی ٹوٹ جائے گی۔ خاندان بھر میں زویا اور ارجمند “چاند سورج کی جوڑی” کے نام سے مشہور تھے، مگر میری عقل ماری گئی کہ اچانک نیت میں فتور آگیا۔ ایک دن یہ جوڑی ٹوٹ گئی اور دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ان محبت کرنے والوں کو الگ کرنے والی میں ہی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ مجرم میں تھی اور اس کی طویل سزا بھی میں نے ہی بھگتی۔ میرے شوہر اپنی زندگی پوری کر کے رخصت ہو چکے تھے اور دکھ سہنے کے لیے ہم ماں بیٹا اکیلے رہ گئے۔

جونہی میرے شوہر کا انتقال ہوا، میرا رویہ سسرال والوں سے بدل گیا۔ ان دنوں ارجمند انجینئر بن چکا تھا اور ایک فرم میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔ اس کی تنخواہ معقول تھی، میں نہ کسی کی محتاج تھی اور نہ مجھے کسی کی ضرورت تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ ان دنوں دبئی سے میری چھوٹی بہن نصرت آئی ہوئی تھی۔ وہ بیس برس وہاں قیام کے بعد اب مستقل پاکستان منتقل ہو گئی تھی۔ اس کی بیٹی رابعہ سترہ برس کی تھی اور ماشاء اللہ نہایت حسین و جمیل دوشیزہ بن چکی تھی۔ بہن نے اصرار کیا کہ “میں اپنی بیٹی غیروں میں نہیں دوں گی، اسی کی خاطر دبئی چھوڑا ہے، اب اس کا رشتہ تمہیں ہی لینا پڑے گا۔” بہن کی محبت سے مجبور ہو کر میں نے زویا کا رشتہ ختم کر کے رابعہ کو بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کا اثر میرے بیٹے کے دل پر بھی ہوا، مگر میں نے رو دھو کر اسے منا لیا۔ وہ فرماں بردار تھا، سو دل پر پتھر رکھ کر خاموش ہو گیا۔

منگنی ٹوٹنے کا صدمہ زویا کو بہت تھا، لیکن مجھے اس کی پروا کہاں تھی؟ میں تو بھانجی کی محبت میں نہال تھی۔ نند نے بہت منت سماجت کی کہ “بچپن کی بات طے ہے، منگنی مت توڑو، میری بچی کی خوشیاں برباد نہ کرو،” مگر میں نے بہانہ بنا دیا کہ زویا موٹی ہو گئی ہے اور ارجمند کو ایسی لڑکیاں پسند نہیں، وہ خود منع کر رہا ہے۔ حالانکہ ارجمند نے کب منع کیا تھا؟ وہ تو پھپھو اور زویا پر فریفتہ تھا، لیکن اپنی سعادت مندی کی وجہ سے خاموش رہا۔ شاید اس کا دل خون کے آنسو روتا ہو گا۔ میں نے تو یہی سوچا تھا کہ رابعہ جیسی خوبصورت دلہن آئے گی تو وہ منٹوں میں پرانی یادیں فراموش کر دے گا۔

رابعہ بہت خوبصورت، سلیقہ شعار تھی اور بہت سا جہیز بھی لا رہی تھی۔ انہوں نے کار کے علاوہ ایک فلیٹ بھی دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم سچ تو یہ ہے کہ اصل وجہ لالچ نہیں بلکہ اپنی بہن اور بھانجی سے میری حد درجہ محبت تھی۔ زویا اور اس کی ماں کا دل توڑ کر میں نے بہن سے ناتا جوڑ لیا اور دھوم دھام سے بیٹے کی شادی رابعہ سے کر دی۔ نند کے دل پر جو گزری سو گزری، انہوں نے صبر کر لیا، اور یہ حقیقت ہے کہ صبر کا اجر عظیم ہے کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

رابعہ دلہن بن کر چاند کا ٹکڑا لگ رہی تھی۔ جو دیکھتا، عش عش کر اٹھتا کہ ایسی حور کہاں سے ڈھونڈ لائی ہو۔ ارجمند نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا اور تین سال ہنسی خوشی گزر گئے، پھر اچانک رابعہ بیمار پڑ گئی۔ ڈاکٹر نے جو دوا دی، وہ جانے کیوں اسے راس نہ آئی یا شاید تشخیص غلط تھی۔ بہرحال، دوا کا شدید ردِعمل ہوا اور رابعہ کی حالت بگڑ گئی۔ ان دنوں ارجمند ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھا۔ وہ اطلاع ملتے ہی چھٹی لے کر آگیا۔ وہ وہاں سرکاری ملازم تھا، چنانچہ وہ ہمیں بھی ہمراہ لے گیا تاکہ وہاں حج و عمرہ کی سعادت حاصل کریں اور رابعہ کی صحت کے لیے دعا کریں۔ ہم نے وہاں اکٹھے حج کیا، مدینہ منورہ گئے اور اکثر خانہ کعبہ میں وقت گزارتے۔ جدہ میں مقیم دیگر پاکستانی خاندانوں سے بھی ارجمند کے اچھے تعلقات تھے۔

اچانک پاکستان سے فون آیا کہ رابعہ کے والد انتقال کر گئے ہیں۔ ہم نے اسے براہِ راست نہ بتایا، بس یہ کہا کہ والد کی طبیعت زیادہ خراب ہے، پاکستان چلنا ہے۔ وہاں سے واپسی کے ویزے کے لیے وقت درکار تھا، چنانچہ ہم پریشانی کے عالم میں عمرے کے لیے خانہ کعبہ چلے گئے، وہاں گڑگڑا کر دعا کی اور پھر ایک ماہ کی چھٹی لے کر پاکستان آگئے۔ ایک ماہ بعد بیٹا واپس ملازمت پر چلا گیا، مگر رابعہ والد کی وفات کے غم میں نڈھال تھی، اس لیے وہ سفر کے قابل نہ تھی اور میں بھی اس کے پاس رک گئی۔ رابعہ ہر وقت روتی رہتی اور اپنے والد کی تصویریں دیکھتی۔ میں اسے سمجھاتی کہ “بیٹی صبر کرو، تلاوتِ قرآن اور صدقہ و خیرات کرو،” وقت کے ساتھ غم کی شدت تو کم ہو گئی مگر رابعہ کے چہرے کی رونق جو ایک بار مرجھائی تو پھر نہ لوٹ سکی۔

چار ماہ بعد ہم نے ارجمند کو واپسی کی اطلاع دی۔ اس نے وہاں گھر کی صفائی کرائی اور ضرورت کی اشیاء فراہم کر دیں، مگر روانگی سے محض دو تین دن پہلے رابعہ شدید بیمار ہو کر ہسپتال داخل ہو گئی۔ حالت تشویشناک تھی، اسے آئی سی یو میں رکھا گیا۔ رپورٹوں سے انکشاف ہوا کہ اس کے گردے فیل ہو رہے ہیں۔ ارجمند کو فوری بلایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ ہائی بلڈ پریشر اور دوا کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ ارجمند خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ کر بڑی مشکل سے ٹکٹ لے کر کراچی پہنچا۔

ان دنوں عراق اور کویت کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ رابعہ ہسپتال میں آکسیجن پر تھی اور تین دن تک بے ہوش رہی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ میت لے جانے کا بندوبست کر لیں۔ یہ دیکھ کر ارجمند ایک مولوی صاحب کو لایا جنہوں نے سورہ یسین کی تلاوت شروع کی۔ اللہ کی قدرت دیکھیے کہ ای سی جی کا گراف بہتر ہونے لگا اور رابعہ نے آنکھیں کھول دیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ تلاوت جاری رکھیں اور دوبارہ ڈائلائسز مشین آن کی۔ مشین جو پہلے کئی کوششوں کے باوجود نہیں چل رہی تھی، اب کام کرنے لگی۔ دو تین بار کے عمل سے رابعہ کو ہوش آگیا۔ میں فوراً سجدہ ریز ہو گئی۔ ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ یہ ان کی زندگی کا انوکھا کیس ہے۔ اب طے پایا کہ جب تک گردہ تبدیل نہیں ہوتا، ہفتے میں دو بار ڈائلائسز کروانا ہوگا۔ پاکستان میں یہ علاج اور ادویات بہت مہنگی تھیں، مگر ہم نے تمام اخراجات برداشت کیے اور اسے گھر لے آئے۔ اب آپریشن کے لیے لاکھوں روپے درکار تھے، جس کے لیے ارجمند کا واپس ڈیوٹی پر جانا لازمی تھا۔ وہ بیمار بیوی کو اس حال میں چھوڑ کر پردیس چلا گیا تاکہ رقم جمع کر سکے۔

اب رابعہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مجھ پر اور اس کی ماں پر تھی۔ ہم دونوں بہنیں روتی تھیں کہ اے خدا! یہ کس بات کی سزا ہے کہ ہماری جوان بچی آنکھوں کے سامنے تڑپ رہی ہے۔ جب میری نند کو علم ہوا تو وہ زویا کے ساتھ رابعہ کی عیادت کے لیے آگئیں۔ تب مجھے احساس ہوا کہ شوہر کے انتقال کے بعد میں نے جس طرح ان سے نظریں پھیریں اور ان کا دل دکھایا، شاید یہ اسی کا خمیازہ تھا۔

دو ہفتے بعد میری ہمت جواب دے گئی تو میں نے ارجمند کو فون کر کے کہا کہ “بیٹے! اسے سنبھالنا اب میرے بس میں نہیں۔” ارجمند کے افسران کی مہربانی سے رابعہ کو سعودی عرب کے ایک ہسپتال میں داخلہ مل گیا۔ وہاں باقاعدگی سے ڈائلائسز اور علاج شروع ہوا، ساتھ ہی گردے کی تلاش بھی جاری رہی۔ متواتر ڈائلائسز سے رابعہ مزید کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ وہ دن انتہائی کربناک تھے، کھانا ہم بازار سے لاتے اور کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتا۔ ارجمند بغیر ناشتے کے دفتر جاتا اور پھر گھنٹوں ہسپتال میں گزارتا۔ ہم ماں بیٹا رات بھر رابعہ کے سرہانے روتے اور اللہ سے گناہوں کی معافی مانگتے۔ کسی نے بھارت یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا، مگر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہاں بھی کامیابی کی سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ آخر کار ارجمند نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی، جس پر وزارتِ صحت نے کراچی سول ہسپتال میں انتظامات کا بتایا۔ ہم فوراً کراچی آئے، مگر وہاں کوئی موزوں ڈونر نہ مل سکا۔ اخبار میں اشتہار دیا، رقم اور عمرے کے ٹکٹ کی پیشکش کی، مگر مسئلہ حل نہ ہوا۔

ارجمند کی پریشانی مجھ سے دیکھی نہ جاتی تھی۔ ہسپتال میں خون لگاتے وقت رابعہ کی حالت اس قدر بگڑی کہ وہ مرنے کے قریب پہنچ گئی۔ پورے جسم پر سوجن آ گئی اور ڈائلائسز مشین میں بھی خرابی پیدا ہو گئی۔ عملے کی بے رخی نے مزید دل توڑ دیا۔ مایوس ہو کر ہم اسے واپس جدہ لے گئے۔ یہ تمام اخراجات اور سفر کی صعوبتیں رائیگاں گئیں، اور وطن کے ناقص نظام پر رونا آیا۔

جدہ میں بھی دن رات اذیت میں کٹ رہے تھے۔ ایک دن رابعہ نے عاجز آ کر کہا: “خالہ جی! دعا کریں کہ اب کچھ فیصلہ ہو جائے۔” اسی شام ہسپتال سے فون آ گیا کہ مریضہ کو لے آئیں۔ وہاں تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ گردے کا انتظام ہو گیا ہے اور اب آپریشن ہوگا۔ میں تلاوتِ قرآن کرنے لگی اور ارجمند دعا میں مصروف ہو گیا۔ آخر کار ڈاکٹر لیلیٰ نے آپریشن کی کامیابی کی خوشخبری سنائی۔ میں نے سجدہ شکر ادا کیا۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ گردے نے کام شروع کر دیا ہے۔ وہاں کے عملے کی محنت، اخلاق اور ذہانت قابلِ دید تھی۔ رابعہ چند ہفتوں میں صحت یاب ہو کر گھر آگئی۔ اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے اسے نئی زندگی ملی ہو۔

اب میں دل سے اللہ کے نظام کی قائل ہو چکی ہوں۔ وہ چاہے تو انہونی کو ہونی کر سکتا ہے، بس اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ آج میں اس بات کو بھی مانتی ہوں کہ اپنی خوشی کے لیے کسی کا دل نہیں توڑنا چاہیے۔ خوشیاں صرف خدا دیتا ہے، انسان نہیں۔ میں نے اپنی پسند کے لیے زویا کو ٹھکرایا، مگر خوشی کے بجائے صرف پریشانیاں ہی دیکھیں۔ آپریشن کے بعد بھی ہمیں رابعہ کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے، وہ اب ایک نازک پھول کی مانند ہے جسے ذرا سی ہوا بھی مرجھا سکتی ہے۔ ہم نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی، اب یہ میرے رب کی مرضی ہے کہ وہ اسے کتنی زندگی عطا فرماتا ہے۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ