چال باز بیوی

Urdu Short Stories

فہد خان میرے والد کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کے والدین فوت ہو چکے تھے، ان دنوں یہ بہن بھائی چھوٹے تھے اور زمانے کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔ جوں توں پل کر جوان ہوئے تو یہ تینوں بھائی اپنی بہن لالہ رخ سے بہت پیار کرنے لگے۔ بڑی مشکلوں سے رقم جمع کر کے انہوں نے اپنی اکلوتی بہن کی شادی کی۔ جس شخص سے لالہ رخ کی شادی ہوئی اس کا نام احمر تھا اور وہ ایک بڑھئی کی دکان پر لکڑی کا کام کرتا تھا۔

احمر نے ابتدا میں لالہ رخ کے ساتھ اچھا رویہ رکھا۔ شادی کے بعد اس کے کام میں بھی روز بہ روز ترقی ہوتی گئی اور گھر میں خوش حالی آگئی۔ تین بچے ہوئے اور یہ کنبہ سکھ چین سے زندگی بسر کرنے لگا۔ لالہ رخ بہت صابر لڑکی تھی اور شوہر اس سے خوش تھا، پھر نہ جانے ان کی خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی کہ احمر ایک دوست کی وجہ سے غلط راہ پر چل پڑا اور ایک غیر عورت کی زلفوں کا اسیر ہو گیا۔ لالہ رخ اس بات سے بے خبر تھی، تاہم وہ شوہر کے بدلتے رویے پر حیران ضرور تھی۔ رفتہ رفتہ وہ بیوی بچوں سے غافل ہوتا گیا۔ لالہ رخ نے سمجھا کہ شاید اپنی دکان اور ملازم رکھنے کی وجہ سے کام بڑھ گیا ہے، اسی لیے احمر پریشان رہتا ہے اور ہم پر توجہ نہیں دے پاتا۔ جب کافی عرصے تک یہی سلسلہ رہا اور اس کا رویہ مزید خراب ہو گیا، تو اس سے خاموش نہ رہا گیا اور وہ روز پوچھنے لگی کہ “آپ کیوں اس قدر الجھے اور پریشان رہتے ہیں؟ حالانکہ ہمارے پاس سب کچھ ہے۔”

بیوی کا سوال سن کر وہ خاموش رہ جاتا، بالآخر ایک دن اسے غصہ آگیا، وہ آپے سے باہر ہو گیا اور نہ جانے کیا کیا بکنے لگا۔ لالہ رخ بے چاری سہمی ہوئی شوہر کی صورت تکتی رہی کہ آخر اسے ہوا کیا ہے؟ اب یہ روز کا معمول بن گیا۔ احمر رات کو دیر سے گھر آتا اور وہ دیر تک اس کے انتظار میں جاگتی رہتی، پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس نے گھر آنا ہی چھوڑ دیا۔ کئی کئی دن اور راتیں گزر جاتیں، انتظار میں اس کا دم گھٹتا رہتا۔ یوں ہی کڑھتے ہوئے وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ ایک بار وہ ہفتے بعد گھر آیا تو لالہ رخ نے پوچھا: “کیا معاملہ ہے؟ تم کہاں جاتے ہو اور یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ اگر نہیں بتاؤ گے تو میں بڑے بھائی سے کہہ دوں گی کہ وہی تم سے پوچھیں۔” یہ سن کر احمر نے اسے خوب مارا پیٹا اور گھر سے نکال دیا کہ جاؤ اور اپنے بڑے بھائی کے گھر رہو۔ وہ روتی پیٹتی بھائیوں کے پاس چلی گئی۔ بھائیوں نے فریاد سنی اور کھوج لگایا تو پتہ چلا کہ احمر نے دوسری شادی کر لی ہے۔ یہ خبر سن کر وہ بہت روئی۔ بڑے بھائی فہد خان کو اپنی اس اکلوتی بہن سے بے حد محبت تھی۔ وہ بہنوئی کے پاس گئے اور بہت سمجھایا کہ تمہارے بچے برباد ہو جائیں گے، مگر وہ نہ مانا۔ اگر صرف بہن کی بات ہوتی تو فہد خاموش ہو جاتے، مگر اب تین بھانجیوں کا مستقبل بھی داؤ پر تھا۔ وہ اتنے خوش حال نہ تھے کہ چار افراد کے کنبے کا بوجھ اٹھا سکتے، اور اگر اٹھا بھی لیتے تب بھی بہن کا گھر اجڑتے دیکھنا آسان نہ تھا، کیونکہ بچوں کو ہر حال میں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بہنوئی کی اس قدر منت سماجت کی کہ وہ بچوں کی خاطر اپنی پہلی بیوی کو رکھنے پر راضی ہو گیا، لیکن اس نے یہ شرط رکھی کہ “جس عورت سے میں نے دوسری شادی کی ہے، اگر وہ خود طلاق لینا چاہے تو میں دے دوں گا۔”

اس دوسری عورت کا نام رشیدہ تھا۔ مجبوراً فہد کو بہن کی خاطر رشیدہ کے پاس جانا پڑا۔ فہد نے اس کی خوشامد کی اور واسطے دیے کہ “تمہاری اولاد نہیں ہے، مگر میری بہن کے تین چھوٹے بچے برباد ہو جائیں گے۔ تم احمر سے کنارہ کشی اختیار کر لو۔” اس پر وہ بولی: “اگر تم اتنے ہی مجبور ہو کر آئے ہو تو میری بھی ایک شرط ہے۔ مجھے سہارے کی ضرورت تھی، تمہارے بہنوئی نے خداترسی کر کے مجھ سے نکاح کیا اور سہارا دیا۔ اگر تم مجھ سے شادی کر لو اور مجھے رہنے کو چھت مل جائے تو میں اسے طلاق دے دیتی ہوں۔” فہد خان بہن کا گھر بچانے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار تھے، اس لیے بغیر سوچے سمجھے راضی ہو گئے۔ رشیدہ کو بھی یہ شخص احمر سے بہتر لگا، چنانچہ اس نے احمر سے طلاق لے کر فہد سے شادی کر لی۔ ایسا کرنے سے بہن کا گھر تو بچ گیا لیکن فہد خود نہ بچ سکے۔ وہ جس گھر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ رہتے تھے وہ بہت چھوٹا تھا، اس لیے انہوں نے قریب ہی ایک مکان کرایے پر لیا اور رشیدہ کو وہاں لے آئے۔ وہ بھی فرنیچر کا کام کرتے تھے اور سخی ہونے کی وجہ سے ان کی ساکھ اچھی تھی۔

انہوں نے رشیدہ کو بہت عزت اور محبت سے رکھا اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس کا خیال رکھا۔ وہ اسے کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہونے دیتے تھے، حالانکہ وہ ایک بدزبان اور بداخلاق عورت تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگڑ جاتی اور بازاری گالیاں دیتی تھی۔ فہد اس لیے درگزر کر دیتے تھے تاکہ گھر کا سکون برباد نہ ہو، اور وہ کچھ دیر بول کر خود ہی خاموش ہو جاتی تھی۔ خدا جانے وہ عورت ہر وقت غصے میں کیوں رہتی تھی؟ وہ فہد کو شوہر کا درجہ دیتی تھی نہ دل سے ان کی عزت کرتی تھی۔ وقت گزرنے لگا اور تین سال بعد اللہ نے فہد کو بیٹے سے نوازا، جس پر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ بیٹے کا منہ چومتے نہ تھکتے اور دیوانوں کی طرح اس پر جان چھڑکتے تھے۔

بیٹے کا نام جلال رکھا گیا۔ فہد کے بھائی بھی جلال سے بہت محبت کرتے تھے اور ہر دوسرے تیسرے دن اسے دیکھنے آتے، لیکن رشیدہ کو ان کا آنا ناگوار گزرتا تھا۔ فہد کے بھائیوں کو اس بات کا احساس تھا، وہ رشیدہ کو ناپسند کرتے تھے لیکن بھائی اور بھتیجے کی خاطر چلے آتے تھے۔ یہ بچہ ان کے خاندان کا پہلا لڑکا تھا کیونکہ باقی سب بھائیوں کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں، اس لیے وہ سب جلال پر جان دیتے تھے۔ ایک دن رشیدہ بازار گئی ہوئی تھی اور فہد گھر پر تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک مرد اور عورت کھڑے تھے۔ انہوں نے پوچھا: “کیا یہ رشیدہ کا گھر ہے؟” فہد نے اثبات میں جواب دے کر ان کا تعارف پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ رشیدہ کے بہن اور بہنوئی ہیں۔ فہد نے انہیں گھر کے اندر بلا لیا، اتنے میں رشیدہ بھی آگئی اور انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ فہد رشیدہ کے خاندان کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے، اس لیے انہوں نے بلا شبہ مان لیا کہ یہ بیوی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ اس روز تو وہ مہمان تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے گئے اور فہد نے سسرالی سمجھ کر ان کی خوب مدارت کی، لیکن پھر انہوں نے اسے معمول بنا لیا۔ وہ ہر دوسرے دن آتے اور کھا پی کر چلے جاتے۔ انہی دنوں رشیدہ کا رویہ بدلا اور اس نے شوہر کو تنگ کرنا شروع کر دیا کہ “میں یہاں نہیں رہ سکتی، یہاں کا ماحول اور لوگ اچھے نہیں ہیں، ہر طرف گندگی رہتی ہے۔” فہد نے سمجھایا کہ یہ مکان میرے بھائیوں کے گھر اور دکان کے قریب ہے، ہم برسوں سے یہاں مقیم ہیں اور ہماری ساکھ ہے، مجھے یہاں سے نہ اکھیڑو، مگر ضدی عورت کو کون سمجھا سکتا ہے۔

روز روز کی تکرار سے تنگ آ کر فہد نے سوچا کہ کرایے کا مکان ہے، کہیں اور لے لیں گے۔ اگلے دن رشیدہ کے نام نہاد بہن بہنوئی آئے تو فہد نے انہیں بتایا کہ وہ نیا مکان تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ “آپ کو تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے، میرا ایک بڑا مکان خالی پڑا ہے، آپ وہاں شفٹ ہو جائیں۔” ایک خوددار آدمی ایسی پیشکش کیسے قبول کر سکتا تھا، لہذا انہوں نے منع کر دیا، مگر وہ لوگ اصرار کرتے رہے اور بیوی بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ اس نے کہا کہ “ہم انہیں کرایہ دے دیں گے، یہاں بھی تو دیتے ہیں۔” بالآخر فہد کو راضی ہونا پڑا۔ نئے گھر میں منتقل ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک روز رشیدہ کے بہنوئی نے کہا: “میں ملتان سے خاص سوہن حلوہ لایا ہوں، آپ بھی چکھیں۔” تھوڑا سا حلوہ کھانے کے بعد انہوں نے چائے پی۔ ان لوگوں نے چائے یا حلوے میں نشہ ملا دیا تھا، جس کی وجہ سے چند منٹ میں فہد بے ہوش ہو گئے اور ان ظالموں نے طلاق کے کاغذات پر ان کے انگوٹھے لگوا لیے۔

وہ کافی دیر بے ہوش رہے۔ جب ہوش آیا تو ان لوگوں نے یہ کہہ کر انہیں گھر سے نکال دیا کہ “تم نشہ کرتے ہو اور ہم نشئیوں سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے۔” فہد نے حیرت سے پوچھا کہ “تم لوگ ایسا کیوں کر رہے ہو؟” تو جواب ملا: “تم نے ہماری بہن کو طلاق دے دی ہے، اب تمہارا ہم سے کوئی رشتہ نہیں رہا، لہذا ہمارے گھر سے نکل جاؤ۔” یہ سن کر فہد کے ہوش اڑ گئے اور وہ جھگڑنے لگے، مگر وہ لوگ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ فہد نے مقامی کونسلر سے رجوع کیا، جب کونسلر نے ان سے باز پرس کی تو انہوں نے کہا: “فہد نے پہلے جذبات میں آ کر طلاق دی اور اب مکر رہا ہے۔” فہد نے دہائی دی کہ “انہوں نے زبردستی میرا انگوٹھا تب لگوایا جب میں ہوش میں نہیں تھا۔” کونسلر نے پوچھا: “ہوش میں نہ ہونے کا کیا مطلب؟” فہد نے جواب دیا: “میں اس وقت حواس میں نہیں تھا۔” یہ سن کر کونسلر بپھر گیا اور فہد کو ہی برا بھلا کہہ کر نکال دیا کہ “گواہ لاؤ کہ تم حواس میں نہیں تھے۔” اب گواہ کہاں سے آتے، گواہ تو وہی میاں بیوی تھے جو خود اس سازش کا حصہ تھے۔

ان چال بازوں کو معلوم تھا کہ فہد ایک شریف آدمی ہے جو عزت کی خاطر تھانے نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے پاس مقدمہ لڑنے کے پیسے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے رشیدہ کے حق مہر کا مطالبہ بھی کر دیا۔ فہد نے کہا کہ “میرا بچہ مجھے دے دو، میں مہر ادا کر دوں گا۔” وہ شدید پریشان تھے، نہ پاس دولت تھی نہ کسی بااثر شخص کی حمایت، وہ تو بس بچے کی محبت میں پاگل ہو رہے تھے۔ وہ روز رشیدہ کے گھر جا کر بیٹھ جاتے کہ “مجھے جلال سے ملنے دو”، مگر وہ ظالم دروازہ تک نہ کھولتے۔ وہ مایوس ہو کر بھائیوں کے پاس لوٹ آتے تو بھائی سمجھاتے کہ وہاں نہ جایا کریں، بچہ بڑا ہو گا تو خود ہی آ جائے گا، مگر وہ تڑپ کر کہتے: “تم کیا جانو بیٹے کی محبت کیا ہوتی ہے۔”

فہد کی حالت ابتر ہو چکی تھی۔ دن بے چینی میں گزرتا اور راتیں آنکھوں میں کٹتی تھیں۔ کام کاج چھوڑ دیا اور بھوک پیاس ختم ہو گئی۔ رشیدہ کے گھر کے سامنے بیٹھنا ان کا معمول بن گیا، وہ وہاں بیٹھ کر لوگوں سے التجا کرتے کہ “اسے کہو مجھے میرا بیٹا دکھا دے۔” محلے والے بھی ان کی حالت دیکھ کر کڑھتے مگر کچھ نہ کر سکتے تھے۔ ایک دن وہ حسبِ معمول وہاں گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ رشیدہ نے دروازہ کھولا اور انہیں اندر بلا لیا۔ فہد کی خوشی کی انتہا نہ رہی، انہوں نے بچے کو سینے سے لگایا اور جی بھر کر پیار کیا۔ رشیدہ نے سوچا کہ یہ آدمی پیچھا نہیں چھوڑے گا، اس نے چکنی چپڑی باتوں سے انہیں یقین دلایا کہ “یہ سب میری مرضی کے بغیر ہوا ہے، میں اپنے گھر واپس آنا چاہتی ہوں، ان لوگوں کے ہاں رہ کر ہم نے غلطی کی ہے۔” فہد نے کہا: “ٹھیک ہے، تم میرے ساتھ چلو۔” وہ بولی: “ابھی میرے بہنوئی آنے والے ہیں، تم ابھی جاؤ اور پرسوں آنا، جب وہ حیدرآباد جائیں گے، میں سب تیاری رکھوں گی۔” فہد نے اس کی باتوں کا یقین کر لیا اور خوشی خوشی واپس آ کر پرسوں کا انتظار کرنے لگے۔

دو دن بے چینی میں گزارنے کے بعد جب وہ تیسرے دن پہنچے تو رشیدہ نے کہا: “تھوڑی سی تیاری باقی ہے، تب تک تم کھانا کھاؤ، میں بیگ پیک کر لوں۔” فہد کو بھوک نہیں تھی مگر بیوی کے اصرار پر وہ کھانے لگے۔ جیسے جیسے نوالے حلق سے اترتے، ان کے کان سائیں سائیں کرنے لگے اور بے ہوشی طاری ہونے لگی۔ وہ دسترخوان کے پاس ہی فرش پر گر گئے۔ اسی وقت رشیدہ کا بہنوئی اور اس کی بیوی آگئے۔ ان تینوں نے مل کر فہد پر تیل چھڑکا اور آگ لگا دی۔ جب جلنے کی بو پھیلی تو پڑوسیوں کے ڈر سے اوپر رضائی ڈال دی تاکہ آگ بجھ جائے، مگر بو پڑوسیوں کے صحن تک پہنچ چکی تھی۔ دستک ہونے پر رشیدہ نے جواب دیا کہ “چولہے میں جھاڑن گر کر جل گیا ہے۔” فہد بے ہوش تھے اور ان کا منہ بھی کس کر باندھ دیا گیا تھا تاکہ چیخ نہ سکیں، پھر انہیں گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے گئے اور کہا کہ “ہمارا بھائی جل گیا ہے۔” وہاں اتفاق سے لالہ رخ کی ساس موجود تھی، اس نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ رشیدہ نے کہا: “میرے شوہر کا ہاتھ جل گیا ہے۔” وہ فہد کو دیکھے بغیر چلی گئی کیونکہ وہ ایمرجنسی میں تھے۔ ڈاکٹر نے جب سختی سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا (کیونکہ یہ پولیس کیس تھا)، تو رشیدہ رونے لگی کہ “میں بازار گئی تھی اور یہ چائے بناتے ہوئے اسٹوف پھٹنے سے جل گئے، پلیز میرے سہاگ کو بچا لیں۔” فہد کی حالت نازک تھی، اس لیے ڈاکٹروں نے پولیس کو مطلع کیے بغیر علاج شروع کر دیا۔ رشیدہ نے اپنا پتہ بھی لکھوا دیا، مگر اس کا بہنوئی وہاں سے کھسک گیا۔ جب فہد دو دن گھر نہ آئے تو بھائیوں نے تلاش شروع کی، رشیدہ کے گھر تالا تھا۔ چوتھے دن لالہ رخ کی ساس نے بتایا کہ تمہارا بھائی اسپتال میں ہے اور اس کی بیوی ساتھ تھی۔ بھائی اسپتال پہنچے تو نرس نے بتایا کہ فہد کا ہاتھ نہیں بلکہ نچلا دھڑ بری طرح جھلس چکا تھا اور وہ اسی رات انتقال کر گئے تھے۔ رشیدہ لاش چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی، اس لیے لاش مردہ خانے بھجوا دی گئی تاکہ صبح اسے میڈیکل کالج کے حوالے کیا جا سکے۔

فہد کے بھائی یہ سن کر ساکت رہ گئے۔ بڑی تگ و دو کے بعد رات دس بجے لاش لے جانے کی اجازت ملی۔ مردہ خانے کے انچارج نے کہا کہ “میت دینے والا اہلکار چلا گیا ہے، کل آنا۔” مگر بھائیوں نے اصرار کیا کہ “ہم خود نکال لیں گے، تم بس دروازہ کھولو۔” اندر پھیلی بدبو سے ان کے ہوش اڑ گئے۔ وہ لاش لے کر آئے اور راتوں رات تدفین کر دی۔ صبح جب خاندان کو خبر ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ بھائیوں کو یقین تھا کہ یہ سب رشیدہ کا کیا دھرا ہے، چنانچہ انہوں نے رپورٹ درج کرائی۔ پولیس نے لاش نکلوا کر پوسٹ مارٹم کرایا تو ثابت ہوا کہ پہلے نشہ دیا گیا اور پھر جلایا گیا۔ پولیس نے رشیدہ کے گھر کو سیل کر کے تلاش شروع کی اور دو ماہ بعد وہ ایک پورے گروہ سمیت پکڑی گئی، جو اسی طرح لوگوں کو لوٹتا تھا۔ پہلے تو وہ منکر رہی، مگر پولیس کی سختی پر سب اگل دیا۔ اسے سات سال قید کی سزا ہوئی۔ فہد کے بھائی بچہ حاصل کرنا چاہتے تھے مگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے نہ لے سکے۔ تین سال بعد رشیدہ ایک ادارے کی ضمانت پر رہا ہو گئی اور اب وہیں رہ کر خود کو بے گناہ ظاہر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ “میرے دیوروں نے مجھے جھوٹے کیس میں پھنسایا، فہد تو حادثاتی طور پر جلے تھے۔” ہم نے اس کی رہائی کی خبر پڑھی تو بہت دکھ ہوا کہ ایک مجرم عورت اپنے شوہر کو جلا کر کیسے صاف بچ نکلی۔ مردوں کو ایسی عورتوں سے ہوشیار رہنا چاہیے، یہ معاشرے کا وہ ناسور ہیں جو ہنستے بستے خاندان اجاڑ دیتی ہیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ