لڑکی پریشان لگ رہی تھی، بھائی کو شک ہو گیا تھا کہ وہ آدمی لڑکی کا رشتہ دار نہیں بلکہ اسے دھوکے سے کہیں لے جا رہا ہے۔ اللہ نے بھائی کو موقع دے دیا اور وہ آدمی قریب کھڑے ٹھیلے سے مونگ پھلیاں لینے چلا گیا۔ بھائی کے پوچھنے پر اس نے جو بتایا سن کر بھائی کا خون کھول گیا۔ وہ بس ڈرائیور تھا۔ لڑکی کو اکیلا دیکھ کر اس نے دھمکی دی کہ اس کے ساتھ چلے، ورنہ وہ لڑکی کو پولیس کے حوالے کر دے گا اور وہ اسے تھانے لے جائیں گے۔ لڑکی ڈر گئی تھی۔
👇cknwrites👇
امی کینسر کی مریضہ تھیں۔ والد صاحب ان کے علاج کے لیے انہیں لاہور لے گئے، جہاں ہماری ننھیال تھی۔ امی کی دیکھ بھال کے لیے انہیں اپنوں کی ضرورت تھی۔ لاہور میں ان کی والدہ اور بہنیں ان کی تیمارداری کر سکتی تھیں، جبکہ کراچی میں وہ اکیلی تھیں۔ ابو دفتر چلے جاتے، ہم اسکول اور وہ گھر میں تنہا رہ جاتیں، تب ان کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہوتا۔ ہمارا اسکول گھر کے قریب ہی تھا۔ ان دنوں میں آٹھویں جماعت میں تھی اور علیشان ایف اے کر رہا تھا۔ والد نے امی کی حالت کے پیشِ نظر تین ماہ کی چھٹیاں لیں، ہم دونوں کو ماموں کے سپرد کیا اور امی جان کے ہمراہ لاہور روانہ ہو گئے۔ یوں ہم عارضی طور پر ماموں کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور وہاں سے اسکول جانے لگے۔ ماموں کی گاڑی ہمیں لاتی اور چھوڑتی تھی۔ ممانی بہت اچھی تھیں اور ہمارا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ہفتے کے دن ہم اسکول سے اپنے گھر چلے جاتے، میں اتوار کو گھر کی صفائی کرتی اور شام کو ماموں گاڑی بھیج کر ہمیں واپس بلوا لیتے۔
ایک روز اسکول سے واپسی پر ڈرائیور نے ایمپریس مارکیٹ کے قریب گاڑی روک دی کیونکہ ممانی ہمیشہ وہاں سے پھل منگواتی تھیں۔ وہ پھل لینے چلا گیا، تبھی میری نظر قریبی بس اسٹینڈ پر پڑی، جہاں سرکاری شیڈ کے نیچے کنکریٹ کے بینچ پر میری ہم عمر ایک لڑکی بیٹھی رو رہی تھی اور ایک شخص اسے تسلی دینے کے انداز میں کچھ کہہ رہا تھا۔ بھائی نے بھی یہ منظر دیکھا تو وہ گاڑی سے اتر گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم گھر چلی جاؤ اور ماموں سے کہنا کہ میں نے گھر سے کتابیں اٹھانی ہیں اور منصور کے پاس جا کر ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے، میں کل صبح آؤں گا۔ ڈرائیور کو معلوم تھا کہ بھائی کا کلاس فیلو منصور اسی بلڈنگ میں رہتا ہے جہاں ہمارا فلیٹ تھا۔ علیشان دراصل گھر جانے کے لیے نہیں بلکہ اس لڑکی کی وجہ سے اترا تھا۔ بھائی کو شک ہو گیا تھا کہ وہ آدمی لڑکی کا رشتہ دار نہیں بلکہ اسے دھوکے سے کہیں لے جا رہا ہے۔ لڑکی کو روتا دیکھ کر میرے دل میں بھی ایک ہوک سی اٹھی اور میں نے سوچا کہ کاش میں سن سکتی کہ وہ آدمی اس سے کیا کہہ رہا ہے۔
علیشان قریب ہی ایک بینچ پر بیٹھ گیا، لیکن اس نے لڑکی سے بات کرنے کی جرات نہ کی۔ شاید وہ زمانے کے ڈر سے خاموش تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیسے اس سے رونے کی وجہ معلوم کرے۔ میرے دل میں بھی تڑپ تھی کہ اگر وہ بے بس ہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے، مگر علیشان کے ڈر سے میں گاڑی سے نہ اتری۔ اللہ نے بھائی کو موقع دے دیا اور وہ آدمی قریب کھڑے ٹھیلے سے مونگ پھلیاں لینے چلا گیا۔ تب بھائی تیزی سے لڑکی کے پاس گیا اور پوچھا: “تم کیوں رو رہی ہو اور یہ آدمی کون ہے؟” وہ بولی: “میں لانڈھی سے ملیر اپنی دادی کے پاس جا رہی تھی کہ اس آدمی نے مجھے گھیر لیا اور اب یہاں بٹھا رکھا ہے۔ یہ بس ڈرائیور ہے۔ مجھے اکیلا دیکھ کر اس نے دھمکی دی کہ میں اس کے ساتھ چلوں، ورنہ وہ مجھے پولیس کے حوالے کر دے گا اور وہ مجھے تھانے لے جائیں گے۔ میں ڈر گئی اور تین بجے سے اس کے ساتھ ہوں۔ یہ مجھے دو دفعہ لانڈھی کی بس میں چکر لگوا چکا ہے اور اب کہتا ہے کہ میرے گھر چلو، صبح تمہارے گھر پہنچا دوں گا۔” علیشان نے پوچھا: “تم اکیلی کیوں دادی کے گھر جا رہی تھی؟” لڑکی اس بات کا جواب نہ دے پائی تھی کہ وہ آدمی مونگ پھلیاں لے کر واپس آگیا۔
“تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟” علیشان نے اس سے سوال کیا۔ “اس کے گھر پہنچانے،” آدمی نے جواب دیا۔ علیشان بولا: “اس کا پیچھا چھوڑ دو، میں خود اسے گھر پہنچا دوں گا۔ وہ سامنے میری گاڑی کھڑی ہے اور میرے ماموں افسر ہیں جن کی گاڑی پر اسٹیکر بھی لگا ہوا ہے، آؤ چل کر دیکھ لو۔ لڑکی نے مجھے بتا دیا ہے کہ تم صبح سے اسے تنگ کر رہے ہو۔ اگر تم نے اسے نہ چھوڑا تو میں ابھی پولیس کو آواز دے دوں گا۔” جب علیشان نے بلند آواز میں یہ بات کہی تو وہ شخص ڈر گیا، کیونکہ یہ ایوب خان کا دور تھا اور مارشل لاء لگا ہوا تھا۔ وہ بہت گھبرایا اور اسی میں عافیت جانی کہ لڑکی کو چھوڑ کر چلا جائے، کیونکہ اب لڑکی میں بھی ہمت آ گئی تھی اور وہ اس کے خلاف بول سکتی تھی۔
سامنے سے تین پولیس والے گزر رہے تھے۔ اس شخص کو مزید ڈرانے کے لیے بھائی جب ان کی طرف بڑھا تو وہ آدمی رفو چکر ہو گیا۔ علیشان نے لڑکی سے اس کے گھر کا پتا پوچھا۔ دونوں کی منزل ایک ہی تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ بھائی کو ملیر کینٹ جانا تھا اور لڑکی کو اسی روٹ پر چلنے والی بس کے آخری اسٹاپ پر اترنا تھا۔ مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور وہ دونوں اب تک بس کے انتظار میں بینچ پر بیٹھے تھے۔ ایک گھنٹے کے بعد بس آئی اور وہ دونوں اس میں سوار ہو گئے، مگر بس مزید سواریوں کے انتظار میں کافی دیر اسٹاپ پر رکی رہی، یہاں تک کہ جب بس چلی تو رات ہو چکی تھی۔ رات گیارہ بجے آخری اسٹاپ آیا، جہاں سے آگے ڈیڑھ میل کا راستہ پیدل طے کرنا تھا۔ لڑکی آہستہ چل رہی تھی، شاید وہ تیز چلنے کی عادی نہ تھی۔ جب اس کا گھر سو گز کے فاصلے پر رہ گیا تو وہ رک گئی۔
“رک کیوں گئی ہو؟” علیشان نے پوچھا۔ “میرا گھر آ گیا ہے، اب تم چلے جاؤ،” لڑکی نے جواب دیا۔ علیشان کو ایک دھچکا سا لگا کیونکہ رات بہت ہو چکی تھی اور آخری بس بھی نکل چکی تھی۔ اب واپسی کے لیے کسی سواری کا ملنا محال تھا۔ وہ سٹپٹا کر سوچنے لگا کہ یہ کتنی خود غرض لڑکی ہے! میں نے اسے ایک بدقماش آدمی کے چنگل سے چھڑایا، اس کے گھر تک لایا اور اب یہ کہتی ہے کہ چلے جاؤ۔ وہ ایک ویران جگہ تھی جہاں اکا دکا گھر تھے اور باقی بڑا میدان تھا۔ وہاں بجلی کے کھمبے بھی نہیں تھے؛ اگرچہ چاندنی رات تھی، لیکن اس ویرانی میں گیدڑوں اور سانپوں کا خوف تھا اور تین میل کا پیدل سفر اکیلے طے کرنا ناممکن تھا۔ ہمت کر کے اس نے پوچھا: “تمہارے گھر میں کون کون رہتا ہے؟” اس نے بتایا: “دادا، دادی اور چچا۔” “کیا ان کے پاس کوئی سواری ہے؟” “جی، موٹر سائیکل ہے،” لڑکی نے جواب دیا۔ “کیا تم مجھے اپنے گھر تک نہیں لے چلو گی؟” علیشان نے پوچھا۔ وہ بولی: “نہیں، دادی مجھے تمہارے ساتھ دیکھ کر شک کریں گی۔” علیشان عجیب مخمصے میں تھا کہ کیسی لڑکی ہے، خود رات گئے اکیلی آئی ہے اور میرے بارے میں ایسے خیالات رکھتی ہے۔ اگر میں برا آدمی ہوتا تو اسے بحفاظت اس کے گھر تک کیوں لاتا؟ اسے خیال آیا کہ کبھی کبھی نیکی کر کے انسان خود مصیبت میں پھنس جاتا ہے، پھر سوچا کہ وہ اپنی جگہ شاید درست ہی کہہ رہی ہے۔ تاہم، اس نے دل کڑا کر کے کہا: “یہ ناممکن ہے کہ میں یہاں سے واپس چلا جاؤں۔ جب تک تم مجھے اپنی دادی سے ملوا نہیں دیتیں، مجھے تسلی نہیں ہوگی کہ میرا کام پورا ہو گیا۔” لڑکی نے جواب دیا: “تم فکر مت کرو، میں اپنے گھر کے سامنے پہنچ چکی ہوں، تمہارا دادی سے ملنا ضروری نہیں ہے۔ وہ پرانے خیالات کی ہیں، میں کہہ دوں گی کہ بس خراب ہو گئی تھی، لیکن تمہیں دیکھ کر وہ ضرور غلط سوچیں گی، اور اگر چچا گھر ہوئے تو معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے۔” علیشان نے پوچھا: “کیا وہ رات کو یہاں رہتے ہیں؟” لڑکی نے بتایا: “کبھی کبھی رہتے ہیں، اکثر بڑے بھائی کے گھر چلے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بیوی بچے اکیلے ہوتے ہیں اور بڑے چچا رات کی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔”
علیشان سوچ رہا تھا کہ میری اس نیکی کے صلے میں شاید اس کے گھر والے مجھے موٹر سائیکل پر گھر چھوڑ دیں گے، مگر یہاں تو سب الٹ تھا۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ شاید یہ لڑکی ہی ٹھیک نہیں ہے۔ اتنے میں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں جو قریب ہی تھے اور تعداد میں زیادہ محسوس ہو رہے تھے۔ لڑکی بھی سہم گئی۔ علیشان نے کہا: “تم تو دوڑ کر گھر چلی جاؤ گی، لیکن اگر ان کتوں نے مجھے گھیر لیا تو مجھے کون بچائے گا؟ ذرا سوچو، یہاں دور دور تک سواری کا نام و نشان نہیں ہے اور آخری بس کا وقت بھی نکل چکا ہے۔ لگتا ہے مجھے آج کی رات اسی میدان میں گزارنی پڑے گی۔ اب صبح ہی دیکھنا کہ مجھے سانپ نے ڈسا یا کتوں نے حملہ کیا۔” لڑکی یہ سن کر سوچ میں پڑ گئی اور پھر بولی: “اچھا! آ جاؤ میرے ساتھ۔” اس نے علیشان کو گھر لے جانے کی ہامی بھر لی۔
دستک پر دروازہ کھلا اور ایک بزرگ خاتون سامنے آئیں جن کے ماتھے پر نماز کا نشان تھا۔ گھر کی بتی جل رہی تھی۔ وہ آدھی رات کو اپنی پوتی کو ایک انجان نوجوان کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ “اتنی رات کو آنے کا کیا مطلب؟ اور یہ لڑکا کون ہے؟ تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ تم لوگ اس وقت یہاں کیوں آئے ہو؟” انہوں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے، جیسے وہ خود بھی بوکھلا گئی ہوں۔ لڑکی نے ہمت کر کے کہا: “دادی اماں، یہ ایک شریف لڑکا ہے اور مجھے ایک غنڈے سے بچا کر لایا ہے۔” آواز سن کر اندر سے ایک بزرگ (دادا) نکل آئے۔ ان کے ہاتھ میں سوٹی تھی۔ سوٹی دیکھ کر علیشان، جو دروازے پر کھڑا تھا، باہر کی طرف لپکا، مگر بزرگ نے آواز دی: “ٹھہرو! پوری بات بتا کر جاؤ۔ کون ہو تم، کہاں رہتے ہو اور کیا نام ہے تمہارا؟” بھائی نے اپنا نام، پتا اور سارا واقعہ من و عن بیان کر دیا۔ تب بزرگ نے کہا: “تمہارا شکریہ، تم ایک نیک لڑکے ہو۔” پھر اپنی اہلیہ سے کہا: “ان کے لیے کھانا لاؤ۔” علیشان کو سخت بھوک لگی تھی، مگر اس نے تکلفاً منع کر دیا۔ بوڑھی خاتون پھر بھی کھانا لے آئیں۔
علیشان نے شکر ادا کیا کہ بزرگ سمجھدار تھے اور انہوں نے شک نہیں کیا۔ انہوں نے پوچھا: “میاں، اب گھر کیسے جاؤ گے؟ کوئی سواری تو ہے نہیں۔” علیشان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا، اس نے بس اتنا کہا: “پیدل چلا جاؤں گا، شاید کوئی سواری مل جائے۔” بزرگ نے کہا: “یہ شاید والی کیا بات ہوئی؟ ایسا کرو کہ آج تم میرے کمرے میں سو جاؤ۔ صفدر گھر پر نہیں ہے، اپنے بڑے بھائی کے گھر گیا ہے، اس کی چارپائی خالی ہے۔” پھر انہوں نے لڑکی سے کہا: “سمیعہ! تم اپنے چچا صفدر کا بستر درست کر دو، آج یہ یہاں ہمارے مہمان ہوں گے۔ کیوں میاں! کوئی مسئلہ تو نہیں؟” علیشان نے جواب دیا: “کوئی مسئلہ نہیں دادا جان۔” بزرگ نے کہا: “ٹھیک ہے، صبح چلے جانا۔ اس وقت ویران میدان سے پیدل گزرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔” رات وہ بزرگ کے کمرے میں سویا اور صبح دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے گھر آگیا۔ یہاں میرے سوا کوئی پریشان نہیں تھا کیونکہ علیشان نے پہلے ہی مجھے اور ڈرائیور کو منصور کے گھر ٹھہرنے کا کہہ دیا تھا اور ڈرائیور نے ماموں کو مطلع کر دیا تھا، لیکن میں پھر بھی فکر مند تھی۔
علیشان بھائی نے بعد میں ممانی جان کو بھی تمام روداد سنائی۔ وہ بولیں: “تم نے نیک کام کیا، بہت اچھا کیا، لیکن بیٹے! آئندہ جو بھی کرو، بتا کر کرنا۔ خدا نخواستہ تمہیں کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو ہم تمہارے والدین کو کیا جواب دیتے جو تمہیں ہمارے سپرد کر کے گئے ہیں۔” اس کے بعد بھائی پھر کبھی اس گھر نہ گئے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ لڑکیوں کو تب تک اکیلے گھر سے نہیں نکلنا چاہیے جب تک ان میں اتنی سمجھداری نہ ہو۔ وہ لڑکی اس زمانے کے لحاظ سے کتنی بھولی تھی۔ اس روز اگر میرا بھائی ہمت نہ کرتا تو کسی گھرانے کی عزت خاک میں مل سکتی تھی۔ علیشان کہتے ہیں: “لڑکیوں کے معاملے میں، میں بہت ڈرپوک ہوں، مگر اس رات اللہ نے مجھے ہمت دے دی کیونکہ میری نیت صاف تھی۔” میدان سے گزرتے ہوئے ان کے سامنے سے کچھ غنڈے بھی گزرے تھے، مگر کسی نے یہ تک نہ پوچھا کہ اتنی رات گئے تم کہاں سے آ رہے ہو۔ آج بھی جب ہماری بھابھی علیشان سے پوچھتی ہیں کہ کیا زندگی میں کبھی کوئی ایسی لڑکی ملی جسے تم بھلا نہ سکے؟ تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ بھائی بس اسٹینڈ پر بیٹھی اس لڑکی کو آج تک نہیں بھول پائے، اور سچ تو یہ ہے کہ میں بھی اسے اب تک نہیں بھولی۔
ایک روز اسکول سے واپسی پر ڈرائیور نے ایمپریس مارکیٹ کے قریب گاڑی روک دی کیونکہ ممانی ہمیشہ وہاں سے پھل منگواتی تھیں۔ وہ پھل لینے چلا گیا، تبھی میری نظر قریبی بس اسٹینڈ پر پڑی، جہاں سرکاری شیڈ کے نیچے کنکریٹ کے بینچ پر میری ہم عمر ایک لڑکی بیٹھی رو رہی تھی اور ایک شخص اسے تسلی دینے کے انداز میں کچھ کہہ رہا تھا۔ بھائی نے بھی یہ منظر دیکھا تو وہ گاڑی سے اتر گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم گھر چلی جاؤ اور ماموں سے کہنا کہ میں نے گھر سے کتابیں اٹھانی ہیں اور منصور کے پاس جا کر ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے، میں کل صبح آؤں گا۔ ڈرائیور کو معلوم تھا کہ بھائی کا کلاس فیلو منصور اسی بلڈنگ میں رہتا ہے جہاں ہمارا فلیٹ تھا۔ علیشان دراصل گھر جانے کے لیے نہیں بلکہ اس لڑکی کی وجہ سے اترا تھا۔ بھائی کو شک ہو گیا تھا کہ وہ آدمی لڑکی کا رشتہ دار نہیں بلکہ اسے دھوکے سے کہیں لے جا رہا ہے۔ لڑکی کو روتا دیکھ کر میرے دل میں بھی ایک ہوک سی اٹھی اور میں نے سوچا کہ کاش میں سن سکتی کہ وہ آدمی اس سے کیا کہہ رہا ہے۔
علیشان قریب ہی ایک بینچ پر بیٹھ گیا، لیکن اس نے لڑکی سے بات کرنے کی جرات نہ کی۔ شاید وہ زمانے کے ڈر سے خاموش تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیسے اس سے رونے کی وجہ معلوم کرے۔ میرے دل میں بھی تڑپ تھی کہ اگر وہ بے بس ہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے، مگر علیشان کے ڈر سے میں گاڑی سے نہ اتری۔ اللہ نے بھائی کو موقع دے دیا اور وہ آدمی قریب کھڑے ٹھیلے سے مونگ پھلیاں لینے چلا گیا۔ تب بھائی تیزی سے لڑکی کے پاس گیا اور پوچھا: “تم کیوں رو رہی ہو اور یہ آدمی کون ہے؟” وہ بولی: “میں لانڈھی سے ملیر اپنی دادی کے پاس جا رہی تھی کہ اس آدمی نے مجھے گھیر لیا اور اب یہاں بٹھا رکھا ہے۔ یہ بس ڈرائیور ہے۔ مجھے اکیلا دیکھ کر اس نے دھمکی دی کہ میں اس کے ساتھ چلوں، ورنہ وہ مجھے پولیس کے حوالے کر دے گا اور وہ مجھے تھانے لے جائیں گے۔ میں ڈر گئی اور تین بجے سے اس کے ساتھ ہوں۔ یہ مجھے دو دفعہ لانڈھی کی بس میں چکر لگوا چکا ہے اور اب کہتا ہے کہ میرے گھر چلو، صبح تمہارے گھر پہنچا دوں گا۔” علیشان نے پوچھا: “تم اکیلی کیوں دادی کے گھر جا رہی تھی؟” لڑکی اس بات کا جواب نہ دے پائی تھی کہ وہ آدمی مونگ پھلیاں لے کر واپس آگیا۔
“تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟” علیشان نے اس سے سوال کیا۔ “اس کے گھر پہنچانے،” آدمی نے جواب دیا۔ علیشان بولا: “اس کا پیچھا چھوڑ دو، میں خود اسے گھر پہنچا دوں گا۔ وہ سامنے میری گاڑی کھڑی ہے اور میرے ماموں افسر ہیں جن کی گاڑی پر اسٹیکر بھی لگا ہوا ہے، آؤ چل کر دیکھ لو۔ لڑکی نے مجھے بتا دیا ہے کہ تم صبح سے اسے تنگ کر رہے ہو۔ اگر تم نے اسے نہ چھوڑا تو میں ابھی پولیس کو آواز دے دوں گا۔” جب علیشان نے بلند آواز میں یہ بات کہی تو وہ شخص ڈر گیا، کیونکہ یہ ایوب خان کا دور تھا اور مارشل لاء لگا ہوا تھا۔ وہ بہت گھبرایا اور اسی میں عافیت جانی کہ لڑکی کو چھوڑ کر چلا جائے، کیونکہ اب لڑکی میں بھی ہمت آ گئی تھی اور وہ اس کے خلاف بول سکتی تھی۔
سامنے سے تین پولیس والے گزر رہے تھے۔ اس شخص کو مزید ڈرانے کے لیے بھائی جب ان کی طرف بڑھا تو وہ آدمی رفو چکر ہو گیا۔ علیشان نے لڑکی سے اس کے گھر کا پتا پوچھا۔ دونوں کی منزل ایک ہی تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ بھائی کو ملیر کینٹ جانا تھا اور لڑکی کو اسی روٹ پر چلنے والی بس کے آخری اسٹاپ پر اترنا تھا۔ مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور وہ دونوں اب تک بس کے انتظار میں بینچ پر بیٹھے تھے۔ ایک گھنٹے کے بعد بس آئی اور وہ دونوں اس میں سوار ہو گئے، مگر بس مزید سواریوں کے انتظار میں کافی دیر اسٹاپ پر رکی رہی، یہاں تک کہ جب بس چلی تو رات ہو چکی تھی۔ رات گیارہ بجے آخری اسٹاپ آیا، جہاں سے آگے ڈیڑھ میل کا راستہ پیدل طے کرنا تھا۔ لڑکی آہستہ چل رہی تھی، شاید وہ تیز چلنے کی عادی نہ تھی۔ جب اس کا گھر سو گز کے فاصلے پر رہ گیا تو وہ رک گئی۔
“رک کیوں گئی ہو؟” علیشان نے پوچھا۔ “میرا گھر آ گیا ہے، اب تم چلے جاؤ،” لڑکی نے جواب دیا۔ علیشان کو ایک دھچکا سا لگا کیونکہ رات بہت ہو چکی تھی اور آخری بس بھی نکل چکی تھی۔ اب واپسی کے لیے کسی سواری کا ملنا محال تھا۔ وہ سٹپٹا کر سوچنے لگا کہ یہ کتنی خود غرض لڑکی ہے! میں نے اسے ایک بدقماش آدمی کے چنگل سے چھڑایا، اس کے گھر تک لایا اور اب یہ کہتی ہے کہ چلے جاؤ۔ وہ ایک ویران جگہ تھی جہاں اکا دکا گھر تھے اور باقی بڑا میدان تھا۔ وہاں بجلی کے کھمبے بھی نہیں تھے؛ اگرچہ چاندنی رات تھی، لیکن اس ویرانی میں گیدڑوں اور سانپوں کا خوف تھا اور تین میل کا پیدل سفر اکیلے طے کرنا ناممکن تھا۔ ہمت کر کے اس نے پوچھا: “تمہارے گھر میں کون کون رہتا ہے؟” اس نے بتایا: “دادا، دادی اور چچا۔” “کیا ان کے پاس کوئی سواری ہے؟” “جی، موٹر سائیکل ہے،” لڑکی نے جواب دیا۔ “کیا تم مجھے اپنے گھر تک نہیں لے چلو گی؟” علیشان نے پوچھا۔ وہ بولی: “نہیں، دادی مجھے تمہارے ساتھ دیکھ کر شک کریں گی۔” علیشان عجیب مخمصے میں تھا کہ کیسی لڑکی ہے، خود رات گئے اکیلی آئی ہے اور میرے بارے میں ایسے خیالات رکھتی ہے۔ اگر میں برا آدمی ہوتا تو اسے بحفاظت اس کے گھر تک کیوں لاتا؟ اسے خیال آیا کہ کبھی کبھی نیکی کر کے انسان خود مصیبت میں پھنس جاتا ہے، پھر سوچا کہ وہ اپنی جگہ شاید درست ہی کہہ رہی ہے۔ تاہم، اس نے دل کڑا کر کے کہا: “یہ ناممکن ہے کہ میں یہاں سے واپس چلا جاؤں۔ جب تک تم مجھے اپنی دادی سے ملوا نہیں دیتیں، مجھے تسلی نہیں ہوگی کہ میرا کام پورا ہو گیا۔” لڑکی نے جواب دیا: “تم فکر مت کرو، میں اپنے گھر کے سامنے پہنچ چکی ہوں، تمہارا دادی سے ملنا ضروری نہیں ہے۔ وہ پرانے خیالات کی ہیں، میں کہہ دوں گی کہ بس خراب ہو گئی تھی، لیکن تمہیں دیکھ کر وہ ضرور غلط سوچیں گی، اور اگر چچا گھر ہوئے تو معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے۔” علیشان نے پوچھا: “کیا وہ رات کو یہاں رہتے ہیں؟” لڑکی نے بتایا: “کبھی کبھی رہتے ہیں، اکثر بڑے بھائی کے گھر چلے جاتے ہیں کیونکہ ان کی بیوی بچے اکیلے ہوتے ہیں اور بڑے چچا رات کی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔”
علیشان سوچ رہا تھا کہ میری اس نیکی کے صلے میں شاید اس کے گھر والے مجھے موٹر سائیکل پر گھر چھوڑ دیں گے، مگر یہاں تو سب الٹ تھا۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ شاید یہ لڑکی ہی ٹھیک نہیں ہے۔ اتنے میں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں جو قریب ہی تھے اور تعداد میں زیادہ محسوس ہو رہے تھے۔ لڑکی بھی سہم گئی۔ علیشان نے کہا: “تم تو دوڑ کر گھر چلی جاؤ گی، لیکن اگر ان کتوں نے مجھے گھیر لیا تو مجھے کون بچائے گا؟ ذرا سوچو، یہاں دور دور تک سواری کا نام و نشان نہیں ہے اور آخری بس کا وقت بھی نکل چکا ہے۔ لگتا ہے مجھے آج کی رات اسی میدان میں گزارنی پڑے گی۔ اب صبح ہی دیکھنا کہ مجھے سانپ نے ڈسا یا کتوں نے حملہ کیا۔” لڑکی یہ سن کر سوچ میں پڑ گئی اور پھر بولی: “اچھا! آ جاؤ میرے ساتھ۔” اس نے علیشان کو گھر لے جانے کی ہامی بھر لی۔
دستک پر دروازہ کھلا اور ایک بزرگ خاتون سامنے آئیں جن کے ماتھے پر نماز کا نشان تھا۔ گھر کی بتی جل رہی تھی۔ وہ آدھی رات کو اپنی پوتی کو ایک انجان نوجوان کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ “اتنی رات کو آنے کا کیا مطلب؟ اور یہ لڑکا کون ہے؟ تمہارا اس سے کیا واسطہ؟ تم لوگ اس وقت یہاں کیوں آئے ہو؟” انہوں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے، جیسے وہ خود بھی بوکھلا گئی ہوں۔ لڑکی نے ہمت کر کے کہا: “دادی اماں، یہ ایک شریف لڑکا ہے اور مجھے ایک غنڈے سے بچا کر لایا ہے۔” آواز سن کر اندر سے ایک بزرگ (دادا) نکل آئے۔ ان کے ہاتھ میں سوٹی تھی۔ سوٹی دیکھ کر علیشان، جو دروازے پر کھڑا تھا، باہر کی طرف لپکا، مگر بزرگ نے آواز دی: “ٹھہرو! پوری بات بتا کر جاؤ۔ کون ہو تم، کہاں رہتے ہو اور کیا نام ہے تمہارا؟” بھائی نے اپنا نام، پتا اور سارا واقعہ من و عن بیان کر دیا۔ تب بزرگ نے کہا: “تمہارا شکریہ، تم ایک نیک لڑکے ہو۔” پھر اپنی اہلیہ سے کہا: “ان کے لیے کھانا لاؤ۔” علیشان کو سخت بھوک لگی تھی، مگر اس نے تکلفاً منع کر دیا۔ بوڑھی خاتون پھر بھی کھانا لے آئیں۔
علیشان نے شکر ادا کیا کہ بزرگ سمجھدار تھے اور انہوں نے شک نہیں کیا۔ انہوں نے پوچھا: “میاں، اب گھر کیسے جاؤ گے؟ کوئی سواری تو ہے نہیں۔” علیشان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا، اس نے بس اتنا کہا: “پیدل چلا جاؤں گا، شاید کوئی سواری مل جائے۔” بزرگ نے کہا: “یہ شاید والی کیا بات ہوئی؟ ایسا کرو کہ آج تم میرے کمرے میں سو جاؤ۔ صفدر گھر پر نہیں ہے، اپنے بڑے بھائی کے گھر گیا ہے، اس کی چارپائی خالی ہے۔” پھر انہوں نے لڑکی سے کہا: “سمیعہ! تم اپنے چچا صفدر کا بستر درست کر دو، آج یہ یہاں ہمارے مہمان ہوں گے۔ کیوں میاں! کوئی مسئلہ تو نہیں؟” علیشان نے جواب دیا: “کوئی مسئلہ نہیں دادا جان۔” بزرگ نے کہا: “ٹھیک ہے، صبح چلے جانا۔ اس وقت ویران میدان سے پیدل گزرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔” رات وہ بزرگ کے کمرے میں سویا اور صبح دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے گھر آگیا۔ یہاں میرے سوا کوئی پریشان نہیں تھا کیونکہ علیشان نے پہلے ہی مجھے اور ڈرائیور کو منصور کے گھر ٹھہرنے کا کہہ دیا تھا اور ڈرائیور نے ماموں کو مطلع کر دیا تھا، لیکن میں پھر بھی فکر مند تھی۔
علیشان بھائی نے بعد میں ممانی جان کو بھی تمام روداد سنائی۔ وہ بولیں: “تم نے نیک کام کیا، بہت اچھا کیا، لیکن بیٹے! آئندہ جو بھی کرو، بتا کر کرنا۔ خدا نخواستہ تمہیں کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو ہم تمہارے والدین کو کیا جواب دیتے جو تمہیں ہمارے سپرد کر کے گئے ہیں۔” اس کے بعد بھائی پھر کبھی اس گھر نہ گئے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ لڑکیوں کو تب تک اکیلے گھر سے نہیں نکلنا چاہیے جب تک ان میں اتنی سمجھداری نہ ہو۔ وہ لڑکی اس زمانے کے لحاظ سے کتنی بھولی تھی۔ اس روز اگر میرا بھائی ہمت نہ کرتا تو کسی گھرانے کی عزت خاک میں مل سکتی تھی۔ علیشان کہتے ہیں: “لڑکیوں کے معاملے میں، میں بہت ڈرپوک ہوں، مگر اس رات اللہ نے مجھے ہمت دے دی کیونکہ میری نیت صاف تھی۔” میدان سے گزرتے ہوئے ان کے سامنے سے کچھ غنڈے بھی گزرے تھے، مگر کسی نے یہ تک نہ پوچھا کہ اتنی رات گئے تم کہاں سے آ رہے ہو۔ آج بھی جب ہماری بھابھی علیشان سے پوچھتی ہیں کہ کیا زندگی میں کبھی کوئی ایسی لڑکی ملی جسے تم بھلا نہ سکے؟ تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ بھائی بس اسٹینڈ پر بیٹھی اس لڑکی کو آج تک نہیں بھول پائے، اور سچ تو یہ ہے کہ میں بھی اسے اب تک نہیں بھولی۔
(ختم شد)
