انتظار کا عذاب

intezar-ka-azab Urdu Kahani

میرا نام صبا ہے،جس سے محبت ہے وہ مجھ سے کوسوں دور اپنی زندگی کی خوشیاں سمیٹنے میں مصروف ہے اور میں اپنے ماضی کے موہنجوداڑو پر بیٹھی اپنی ذات کی منتشر کرچیاں چن رہی ہوں، جو عرصہ دراز بیت جانے کے باوجود جمع نہیں ہو سکیں؛ حتیٰ کہ وقت کی دھوپ چاندی بن کر میرے سر پر رقصاں ہو گئی۔

میں آج بھی اپنے مکان کی دوسری منزل پر بیٹھی، کھڑکی کھولے سامنے والے مکان کی اس بند کھڑکی کو تک رہی تھی جس پر وقت کی مکڑی نے ایک مضبوط جالا بن دیا ہے۔ جب میں اس گھٹن اور چھن چھن کرتی چاندنی کے تیروں سے اکتا جاتی ہوں، تو میرے لبوں پر ایک سوال مچلتا ہے کہ “اے قادرِ مطلق! اگر تو مجھے نہ بناتا، تو تیری دنیا میں کون سا طوفان بپا ہو جاتا؟ کون سی قیامت ٹوٹ پڑتی؟” میرے اس سوال کے جواب میں تقدیر کی پلیٹ میں محرومیاں رکھ کر میرے روبرو پیش کر دی جاتی ہیں کہ “اگر تم پیدا نہ ہوتیں تو یہ دکھ اور محرومیاں کون سمیٹتا؟”
sublimegate
میں اپنے والدین کی پہلی اولاد ہوں۔ سنا ہے پہلی اولاد سب سے پیاری اور لاڈلی ہوتی ہے، لیکن میرے ساتھ معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ میری پیدائش سے قبل کسی نجومی نے میرے والدین کو ڈرایا تھا کہ دعا کرو لڑکا ہو، اگر بیٹی ہوئی تو وہ بہت نحوست پھیلائے گی۔ یہ بات میرے ضعیف الاعتقاد والدین کے ذہن میں بیٹھ گئی اور وہ اللہ سے نرینہ اولاد کی دعائیں کرنے لگے۔ وہ مطمئن تھے کہ ان کی دعائیں رنگ لائیں گی، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ چنانچہ میری پیدائش میرے والدین کے لیے کسی سانحے سے کم نہ تھی۔ ماں نے میرے پیدا ہونے کے بعد مجھے نجانے کتنے کوسنے دیے۔ شاید انہی دنوں کی بددعائیں تھیں کہ زمانہ تو پھر غیر تھا، وہ مجھے اس ‘سوغات’ سے کیوں نہ نوازتا؟ جس کے دل میں نفرت کا جتنا بڑا الاؤ تھا، اس نے میرے من کے اندھیروں میں آگ دھکانے کی بھرپور سعی کی۔

میرا تعلق ایک دیہاتی علاقے سے تھا، جہاں دین و دنیا کی تعلیم برائے نام تھی، اسی لیے وہاں جہالت کو کھلی چھٹی حاصل تھی، جس کے نتیجے میں میری پیدائش کو منحوس قرار دے دیا گیا۔ والد صاحب ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھے اور روزانہ اس سلسلے میں انہیں گاؤں سے باہر جانا پڑتا تھا۔ شومئی قسمت، جس دن میں اس دھرتی کا بوجھ بڑھانے کے لیے وارد ہوئی، اسی دن دفتر جاتے ہوئے والد صاحب کو زبردست حادثہ پیش آ گیا۔ بہت دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آخر کار اللہ تعالیٰ نے میری والدہ کی دعائیں سن لیں اور ابو کو ہوش آ گیا۔ میں ایک سال کی ہو چکی تھی، مگر ماں کا سلوک میرے ساتھ سوتیلی ماں جیسا ہی رہا۔ وہ باپ کے حادثے کا ذمہ دار مجھ معصوم کو سمجھتی تھی۔ وقت گزرتا رہا اور میں اپنا اصل نام تک بھول گئی۔ بس ‘جنم جلی’ اور ‘منحوس’ جیسے القابات میرے دماغ میں گھر کرتے گئے۔ میری طبیعت میں اداسی اور خاموشی بسنے لگی۔ اللہ نے ایک مہربانی یہ کی کہ میرے بعد چار سال تک ماں کے ہاں کوئی اور اولاد نہ ہوئی۔ اس خلا نے رفتہ رفتہ کسی حد تک والدین کو میری طرف مائل کر دیا، مگر اب بھی وقتاً فوقتاً مجھے میری ‘اوقات’ یاد دلائی جاتی۔

میرا باپ خاصا خوشحال شخص تھا، اس لیے دیہات میں ہونے کے باوجود اس نے مجھے اسکول میں داخل کروا دیا۔ چار سال بعد اللہ نے والدین کی آرزو پوری کر دی اور میرا بھائی گھر میں خوشیاں لے آیا۔ ابا کی ترقی ہو گئی، اماں کے ارمان پورے ہوئے تو ان کے مزاج کی جارحیت کسی حد تک کم ہو گئی۔ جب بھائی چار سال کا ہوا تو میں پرائمری کی تعلیم مکمل کر چکی تھی۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اب مسئلہ انور (بھائی) کے اسکول میں داخلے کا تھا۔ اماں کے خیال میں گاؤں کے اسکول اس معیار کے نہیں تھے کہ جہاں ان کا لاڈلہ تعلیم حاصل کر کے خاندان کا نام روشن کر سکے۔ بھائی کی تعلیم تو ایک بہانہ تھی، اصل میں ہمارا دانہ پانی دیہات سے اٹھ چکا تھا۔ ابا نے زرعی اراضی کا کچھ حصہ بیچ کر شہر میں ایک اچھا مکان خرید لیا اور ہم ہجرت کر کے اس کوچے میں آ گئے جس نے میری باقی عمر برباد کر ڈالی۔ یہاں آ کر میں نے ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا اور پڑھائی کی مصروفیت میں رفتہ رفتہ گاؤں کو بھول گئی۔ اسی دوران میری ماں نے ایک اور بیٹی کو جنم دیا، یوں ہم تین بہن بھائی ہو گئے۔ گاؤں سے ہمارا رابطہ تقریباً ختم ہو گیا۔ ابا کے خاندان والے کبھی کبھار آتے، تو اماں کی بدسلوکی انہیں دوسری بار ادھر کا رخ نہ کرنے دیتی۔

مجھے پڑھائی کا جنون تھا۔ میں دن رات کتابوں میں مصروف رہتی۔ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد جب فارغ ہوئی، تو بوریت کا احساس ستانے لگا کیونکہ میں نے شروع سے سہیلیاں نہیں بنائی تھیں۔ ماں کے ابتدائی رویے نے میرے اندر احساسِ محرومی پیدا کر دیا تھا، اس لیے میرا کسی سے کوئی سماجی رابطہ نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے تعلق جوڑنا چاہا، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ میں بدنصیب دوستوں سے بھی محروم رہی۔ چنانچہ وقت گزارنے کے لیے مجھے کسی سہارے کی ضرورت تھی۔ ہمارے گھر کے پاس ایک لائبریری تھی، میں وہاں سے رسالے منگوا کر پڑھنے لگی۔ کبھی بھائی لے آتا اور کبھی نوکرانی۔ ڈائجسٹوں کی رومانوی داستانیں میرے دل و دماغ پر اثر انداز ہونے لگیں۔ میں ہر وقت انہی کہانیوں کی خیالی دنیا میں گم رہنے لگی۔ یہ کردار مجھے اپنے شکنجے میں لیتے چلے گئے۔ ان کہانیوں نے میری سوچ کو وقت سے پہلے بالغ کر دیا۔ میں چودہ سال کی عمر میں ہی کسی ان دیکھے شہزادے کا انتظار کرنے لگی۔ میں نے اپنا ایک بت تراش لیا تھا جو اکثر دنیائے تخیل میں میرے سامنے مجسم بیٹھا ہوتا تھا۔

پھر ایک روز اچانک ہمارے سامنے والے مکان میں کرایے دار آ گئے۔ وہ مکان عرصہ دراز سے خالی پڑا تھا۔ دوسری منزل کا کمرہ بالکل میرے کمرے کے سامنے تھا اور کھڑکیوں کے درمیان فاصلہ بہت کم تھا۔ ایک دن میں کھڑکی کھولے مطالعے میں محو تھی۔ میں نے بال کھولے ہوئے تھے اور اسی حالت میں کہانی پڑھنے میں مصروف تھی۔ کہانی پڑھتے پڑھتے میں نے آنکھیں بند کر لیں اور وہی مکالمے دہرانے لگی جو ہیرو اور ہیروئن کے درمیان چل رہے تھے۔ میں نے کسی بات پر سر جھٹکا اور نیم وا آنکھوں سے سامنے والی کھڑکی کی طرف بے ارادہ دیکھا؛ وہاں میرے خوابوں کا شہزادہ، ہونٹوں پر خوبصورت مسکان سجائے، بڑی محویت سے مجھے تک رہا تھا۔

میں سمجھی کہ ہیرو میرے تخیل سے نکل کر سامنے والی کھڑکی پر جا بیٹھا ہے۔ میں اسے محض اپنا تصور سمجھ کر اس کی جانب دیکھ کر مسکرائی۔ میری مسکراہٹ میں والہانہ پن اور محبوبیت تھی۔ جب میں نے اپنے ‘خیالی محبوب’ کے چہرے پر خوشگوار حیرت کے تاثرات دیکھے، تو میں ایک دم خوابوں کی دنیا سے باہر آگئی۔ وہاں سچ مچ کوئی موجود تھا! میں اس خیال سے جھینپ سی گئی۔ اس کی آنکھوں میں اب حیرت کے ساتھ ساتھ دلچسپی بھی تھی۔ وہ میری شرمندگی کو بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا اور میں چاہتے ہوئے بھی کھڑکی کے سامنے سے ہٹ نہیں پا رہی تھی۔ میرے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے تھے۔ میں نے شرماتے ہوئے نظر اٹھائی، تو اس کی غیر متوقع حرکت نے مجھے ششدر کر دیا۔ اس نے مجھے سلام کیا اور ہاتھ ماتھے تک لے جانے کے بعد جھک گیا۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا، لیکن مجھ میں سننے کی تاب نہیں تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ کیا خواب مجسم بھی ہوتے ہیں؟ وہی آنکھیں، وہی بال، وہی ناک اور ویسا ہی سرو قامت! اف میرے خدا! تو نے اسے میرے لیے امتحان بنا کر اتنی جلدی میرے سامنے بھیج دیا۔ بے شک میں جسامت کے اعتبار سے ایک بھرپور لڑکی لگتی تھی، لیکن میری عمر ابھی صرف چودہ سال تھی۔ وہ بھی عمر میں مجھ سے زیادہ بڑا نہیں تھا۔ اچانک خیال آیا کہ اگر اس طرح مجھے کھڑے ہوئے گھر والوں میں سے کسی نے دیکھ لیا، تو قیامت آ جائے گی۔ میں بھاگ کر نیچے گئی تاکہ ماحول کا جائزہ لے سکوں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ امی، میری بہن عارفہ اور انور کہیں باہر جا چکے تھے اور ان کی واپسی شام سے پہلے ممکن نہ تھی۔ ابا اپنے کمرے میں سو رہے تھے، وہ ویسے بھی اوپر نہیں آتے تھے۔

میں اپنی کرسی پر کھلا رسالہ الٹا کر کے چھوڑ آئی تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ وہیں بیٹھا میری واپسی کا منتظر ہوگا۔ شاید اس کا بھی وہی حال تھا جو میرے دل کا تھا۔ مجھے دوبارہ آتا دیکھ کر اس نے شکریہ کا اشارہ کیا اور اشاروں کنایوں میں میری تعریف کی۔ میری شرم و حیا اس کے حوصلے بڑھا رہی تھی۔ اب وہ باقاعدہ اشاروں میں گفتگو کر رہا تھا، مگر میں اس پہلی اور اچانک ملاقات کے طلسم میں کھوئی ہوئی تھی۔ پھر کسی نے “تنویر! تنویر!” کہہ کر پکارا، تو وہ اپنے مخصوص انداز میں سلام کر کے چلا گیا۔ میں ایک دفعہ پھر پسینے میں نہا گئی۔ عمر کے اس خطرناک دور نے مجھے بہکایا اور مجھے عشق کے سانپ نے ڈس لیا۔ اس روز مجھے معلوم ہوا کہ یہ کہانیاں خیالی نہیں بلکہ حقیقت ہوتی ہیں۔ ہر کہانی کا مرکزی کردار ‘تنویر’ ہوتا ہے اور اس کی ہیروئن ‘صبا’، جن کی اچانک ملاقات اور پہلی نظر کا پیار ہی تمام عمر کی سچی کہانی بن جاتا ہے۔

اس رات زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے نیند نہیں آئی۔ دن کے واقعات بار بار میرے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ میں نے ان خیالات سے پیچھا چھڑانے کے لیے رسالہ پڑھنا چاہا، مگر اب تو ہر ورق پر اسی کا چہرہ دکھائی دیتا تھا۔ میں ان جذباتی گرداب میں بری طرح پھنس گئی تھی جنہیں میں کبھی بیہودہ اور فضول خیال کرتی تھی۔ ساری رات کرب میں گزری؛ صبح اٹھی تو جسم کی دکھن رت جگے کی کہانی سنا رہی تھی۔ الٹا سیدھا ناشتہ کرنے کے بعد میں طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر اوپر آگئی۔ میں نے دانستہ کھڑکی کی طرف توجہ دیے بغیر سونے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوگئی۔ آخر کار نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا، مگر وہ خواب میں بھی آن موجود ہوا۔ دو تین دفعہ مجھے کھڑکی پر کسی چیز کے لگنے کی آہٹ محسوس ہوئی، مگر میں نے توجہ نہ دی بلکہ میرے اعصاب شل ہو چکے تھے۔ مجھ میں اٹھنے کی سکت نہ تھی، چنانچہ میں سوئی رہی اور نجانے کتنی دیر پڑی رہی۔ شام کو جب بادلوں نے آسمان کو چھپا لیا، تو دل میں ایک عجیب سی بے کلی پھیل گئی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ میں نے موسم کا جائزہ لینے کے بہانے کھڑکی کھولی۔ وہ اپنی کھڑکی میں موجود تھا، اس کے چہرے پر تھکن کے آثار غالب تھے، شاید وہ کافی دیر سے میرا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ کھل اٹھا اور ہم بغیر بات کیے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ اس ماحول میں بات کرنا مناسب نہیں تھا کیونکہ وہ ایسا علاقہ تھا جہاں لوگ ایک دوسرے کی کن سوئیاں لیتے رہتے تھے اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرا تذکرہ غلط معنوں میں ہو۔ بس اشاروں ہی میں باتیں ہوتی رہیں۔

صرف دو ملاقاتوں میں ہی مجھے ایسا لگا جیسے میرا اس کے ساتھ صدیوں پرانا ناتا ہو۔ رات گہری ہو گئی اور ہمیں وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ وہ کسی کام سے اٹھ کر چلا گیا تو میں وہیں کمرے میں سو گئی۔ نتیجہ یہ کہ صبح میری آنکھ جلدی کھل گئی۔ میں سب کچھ بھول کر اسکول جانے کی تیاری کرنے لگی۔ جاتے جاتے کھڑکی کھول کر دیکھا تو وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ میں وہیں رک کر اس کا انتظار کرنے لگی اور جلد ہی میری مراد بر آئی۔ وہ تھوڑی دیر بعد اپنی جگہ پر موجود تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے اپنے مخصوص انداز میں سلام کیا، تو میں نے بھی غیر ارادی طور پر اسی انداز میں جواب دے دیا۔ اس حرکت پر میں شرما کر رہ گئی اور خود کو چھپانے کے لیے کمرے سے بھاگ آئی۔ اس کے لبوں پر غضب کی مسکان تھی۔ وہ بلاشبہ بہت خوبصورت تھا۔ میں نے گھر سے نکلنے سے پہلے کوریڈور میں لگے آئینے میں اپنا سراپا دیکھا؛ شاید اس کی محبت کا عکس تھا جو میرے چہرے پر حسن بن کر چھلک رہا تھا۔ جب میں گیٹ سے نکلی، تو وہ کالج جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ کالج یونیفارم میں وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ پتا نہیں وہ واقعی اتنا خوبصورت تھا یا میری نظروں میں سما گیا تھا؟ اس کے پاس موٹر سائیکل تھی۔ میں محلے والوں کے ڈر سے اس سے بات کیے بغیر آگے چل دی۔ وہ وہیں کھڑا رہا اور اس نے بھی بظاہر میری طرف کوئی توجہ نہ دی۔ میں نے گلی کے موڑ سے مڑتے ہوئے اس پر ایک سرسری نگاہ ڈالی، تو وہ جھک کر موٹر سائیکل ٹھیک کر رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ میرے پیچھے آئے گا، مگر وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔

اسکول ہمارے گھر سے ذرا فاصلے پر تھا۔ اتفاق سے اس دن ہمارا رزلٹ بھی تھا۔ جب میں اسکول کے قریب پہنچی تو پیچھے سے موٹر سائیکل کی آواز سنائی دی۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ بالکل میرے قریب آکر رک گیا۔ میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، آس پاس کوئی موجود نہ تھا۔ وہ میری پریشانی بھانپ گیا اور بولا: “آجاؤ، کہیں چل کر بات کرتے ہیں۔” مگر میں نے انکار کر دیا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ کا نام صبا ہے؟” شاید وہ بات شروع کرنے کے لیے الفاظ تلاش کر رہا تھا۔ میں نے رسماً اس کا نام پوچھا تو وہ گویا ہوا: “میرا نام تنویر ہے۔ کیا آپ نے میری کسی بات کا برا تو نہیں مانا؟” میں اسے کیا بتاتی کہ تم نے تو میری دیرینہ آرزو پوری کر دی ہے، میں بھلا کیسے ناراض ہو سکتی ہوں؟ لیکن میں اتنی ہمت نہ جٹا سکی کہ اسے طویل جواب دیتی، بس میرے لبوں سے ‘نہیں’ کے علاوہ کچھ نہ نکلا۔ اس سے پہلے کہ ہم مزید کچھ کہتے، وہ ایک طرف چل دیا۔ اس دن میں کلاس میں دوسرے نمبر پر آئی تھی؛ مجھے وظیفہ بھی ملا تھا اور ایک ‘شہزادے’ کی محبت بھی۔ میرے لیے وہ دوہری مسرتوں کا دن تھا اور میں خوشی سے اڑ کر گھر پہنچنا چاہتی تھی۔

ایک رات گھر میں کوئی نہیں تھا، ابا بھی کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ میں حسبِ عادت گھر میں اکیلی تھی جبکہ باقی سب کسی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ اچانک کوئی چیز کھڑکی سے آ ٹکرائی۔ میں نے مسکراتے ہوئے کھڑکی کھولی تو سامنے دریچے میں میرے من کا چاند کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے مخصوص انداز میں سلام کیا اور پوچھا: “میرے خط کا کیا بنا؟” میں نے اشارے سے بتایا کہ مطمئن رہو، جواب جلد مل جائے گا۔ میں اس کے جذبوں کی صداقت پر کیوں یقین نہ کرتی؟ اس نے لجاجت بھرے لہجے میں سرگوشی کی: “کیا کل مجھ سے مل سکتی ہو؟” میں نے انکار کیا کہ ابھی گھر سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں، جب نئی کلاس میں داخلہ ہوگا تب دیکھیں گے۔ اس نے روہانسی صورت بنا کر کہا: “کل سرٹیفکیٹ لینے کے بہانے آ جاؤ۔” اس کی بے قراری دیکھ کر میں نے ملنے کا وعدہ کر لیا۔ جب جگہ کا پوچھا تو وہ بولا: “میں نے شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں کمرہ بک کروا لیا ہے، تم اسکول کے وقت وہاں پہنچ جانا۔”

میں نے صبح تک کا وقت بڑی بے چینی سے کاٹا اور امی کو سہیلی کے گھر جانے کا بہانہ بنا کر نکل گئی۔ مکان کی پچھلی سمت وہ میرا منتظر تھا۔ ہم تھوڑی دور الگ الگ راستوں پر چلتے رہے اور پھر میں اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ کسی غیر مرد کے ساتھ بیٹھنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا، اس لیے میں شرم سے سمٹی بیٹھی تھی۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا، میں جانتی تھی کہ یہ غلط ہے، اس لیے والدین کے خوف سے دعا بھی مانگ رہی تھی۔ ہوٹل پہنچ کر تنویر نے مجھ سے جی بھر کے خوابناک باتیں کیں۔ اس نے اپنا سارا ذخیرہِ الفاظ میری نذر کر دیا اور میں اس کی شیدائی ہو گئی۔ وہ بہت نفیس طبعیت کا مالک تھا۔ ہم دو گھنٹے اس بند کمرے میں باتیں کرتے رہے۔ تنہائی تھی اور موقع بھی، مگر اس نے میری کمزوری سے فائدہ نہ اٹھایا۔ میں اس کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی، مگر وہ ایک اچھا انسان ثابت ہوا اور کوئی غلط حرکت نہ کی۔

مجھے اور تنویر کو ملتے ہوئے پانچ سال بیت گئے۔ میں یونیورسٹی پہنچ گئی اور وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے روزگار کی تلاش میں لگ گیا۔ ہماری ملاقاتیں اب بھی جاری تھیں۔ ان پانچ سالوں کے سرد و گرم موسم، جاڑے کی شفاف چاندنی اور تپتی دوپہریں ہماری پاکیزہ محبت کی گواہ تھیں؛ مگر کاتبِ تقدیر کا کھیل نرالا ہے۔ ہم اب گھر بسانے کے خواب دیکھ رہے تھے اور اس نے ہماری قسمت میں دائمی جدائی لکھ دی۔ ایک دن میں کمرے میں آئی تو سامنے کھڑکی میں تنویر بیٹھا تھا، اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے بہت دیر سے رو رہا ہو۔ اس کا اجڑا چہرہ اور سرخ آنکھیں دیکھ کر میری جان نکل گئی۔ میرے پوچھنے پر وہ زار و قطار رونے لگا، بس ہچکیوں میں ملاقات کی درخواست کی جو میں نے قبول کر لی۔ ہم نے اسی ہوٹل میں ملنے کا پروگرام بنایا جہاں ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔

آج وہ مجھے لینے نہیں آیا تھا۔ میں رکشہ لے کر ہوٹل پہنچی تو وہ اسی شکستہ حالت میں وہاں موجود تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولا: “میرے بھائیوں نے میرے لیے امریکہ میں تعلیم اور روزگار کا بندوبست کیا ہے۔ ابا اور بھائی بضد ہیں کہ میں ملک چھوڑ دوں، مگر میں تو یہ گلی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ میں نے تمہارے رشتے کی بات کی تو وہ کہتے ہیں کہ تم چلے جاؤ، واپسی پر شادی کر دیں گے۔ کمپنی کے ساتھ پانچ سال کا معاہدہ ہے، تم میرا انتظار کرنا، میں ضرور لوٹ کر آؤں گا۔” میں خاموش ہو گئی اور وہ بچوں کی طرح رونے لگا۔ میری حالت ایسی تھی کہ ‘کاٹو تو بدن میں لہو نہیں’۔ میں نے اپنے محبوب کو یوں دیکھا جیسے مجھے سکتہ ہو گیا ہو۔ میری کیفیت دیکھ کر اس نے خود کو سنبھالا اور بولا: “پگلی! پانچ سال کی ہی تو بات ہے، پھر میں تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا۔ وقت پلک جھپکتے گزر جاتا ہے، دیکھنا یہ عرصہ بھی کٹ جائے گا۔” میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا: “تنویر! وہاں جا کر مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے؟” اس نے جواب دیا: “تم میری زندگی میں سانس کی طرح ہو، میں سانس لینا کیسے بھول سکتا ہوں؟” میں نے بے اختیار اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس دن پہلی بار اس نے شدت سے میرا ہاتھ تھاما۔ یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد ہمارا رابطہ صرف خطوط اور کھڑکی تک محدود رہ گیا۔

تنویر کے خطوط میری زندگی کا واحد سہارا تھے، پھر اچانک وہ آنا بند ہو گئے۔ میں چھ ماہ تک انتظار کرتی رہی اور پھر وقت گزارنے کے لیے نوکری کر لی۔ جب کوئی خط نہ آیا تو میں نے مجبور ہو کر اسے خط لکھا۔ کاش میں وہ خط نہ لکھتی تو مجھے وہ تلخ جواب نہ ملتا جس نے میری دنیا اجاڑ دی۔ ایک دن میں کام سے لوٹی تو امی نے بتایا کہ تمہارے نام ایک خط آیا ہے۔ میں نے جلدی سے کمرے میں جا کر اسے کھولا تو اس میں سے ایک تصویر نکل کر گری۔ تصویر دیکھتے ہی میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور دنیا گھومنے لگی۔ تصویر میں وہ ایک ‘میم’ کے ساتھ کھڑا تھا جس نے عروسی جوڑا پہن رکھا تھا۔ ساتھ موجود خط میں تحریر تھا: “ڈیئر صبا! جو تصویر تم دیکھ رہی ہو، یہ میری اور میری بیوی ماریہ کی ہے۔ تمہیں دکھ تو ہوا ہوگا مگر یہ میری مجبوری تھی۔ امریکہ کی شہریت کے لیے یہ ضروری تھا۔ اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اور کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر شادی کر لینا۔ میرا انتظار نہ کرنا، اب میں واپس نہیں آ سکتا۔ تمہارا مجرم، تنویر۔”

میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بے ہوش ہو گئی۔ اس بے وفا نے جینے مرنے کے وعدے میرے ساتھ کیے اور شریکِ سفر کسی اور کو بنا لیا۔ میں ٹوٹ کر بکھر گئی اور کوئی مجھے سمیٹنے والا نہ تھا۔ اللہ جانے میرا کیا جرم تھا جس کی اتنی بڑی سزا ملی۔ میں آج بھی اس کے انتظار میں ہوں، حالانکہ جانتی ہوں کہ وہ کبھی نہیں آئے گا، مگر میں اپنی زندگی اس کے نام کر چکی ہوں۔ اگر میں بھی کسی اور کو زندگی میں شامل کر لوں تو مجھ میں اور اس بے وفا میں کیا فرق رہ جائے گا؟ آپ ہی بتائیے، کیا اس کا انتظار کر کے میں نے کوئی جرم کیا ہے، جس کی سزا مجھے عمر بھر کے دکھ کی صورت میں مل رہی ہے؟

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ