کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 13

 

کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 13

رائیٹر :ایم اے راحت

باہر گہری رات چھا چکی تھی نہ جانے کیا بج گیا تھا، چاروں طرف ہُو کا عالم طاری تھا، جگہ جگہ درخت بکھرے ہوئے تھے۔ میں آگے بڑھتا رہا کچھ سوچے بغیر اب تو کچھ سوچنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ کچھ فاصلے پر دریا کا شور ابھر رہا تھا۔ آواز میرے کانوں تک آ رہی تھی مگر احساس کچھ نہیں تھا۔ تھک گیا تو جہاں تھا وہیں لیٹ گیا، وہیں سو گیا، خوب گہری نیند آ گئی تھی۔ صبح کو اس وقت جاگا جب کہیں دور سے اذان کی آواز سنائی دی۔ اس آواز نے اعضاء میں تھرتھری سی پیدا کر دی۔ بے اختیار اٹھ گیا، دماغ کھویا کھویا سا تھا، دل کچھ چاہ رہا تھا، اعضاء کچھ طلب کر رہے تھے مگر کیا… یاد نہیں آ رہا تھا۔ کھڑا ہو گیا اسی جگہ کھڑا ہو گیا، دونوں ہاتھ نیت کے انداز میں بندھ گئے مگر اب اب کیا کروں آہ… اب کیا کروں کچھ یاد نہیں آ رہا تھا، کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا، بہت کوشش کی مگر سب کچھ بھول گیا تھا، جھکا پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سجدے میں گر پڑا، آنکھوں سے آنسو ابل پڑے، بلک بلک کر رونے لگا، بھول جانے کا غم تھا، یاد کرنا چاہ رہا تھا مگر یادداشت ساتھ چھوڑ چکی تھی، سارے آنسو بہہ گئے، آنکھیں خشک ہو گئیں تو اٹھ کھڑا ہوا، کانوں میں ایک آواز ابھری۔

‎گیا شیطان مارا ایک سجدے کے نہ کرنے سے
‎اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
‎میری عمر ہی کیا ہے آہ… چند لمحے میری بخشش کا ذریعہ تو نہیں بن سکیں گے مگر یہ زندگی جو ایک سزا ہے، یہ تو میرے لیے مزید گناہوں کا باعث بن جائے گی… مزید گناہ نہیں اور گناہ نہیں اور گناہ نہیں اس سزا کو ختم ہو جانا چاہیے، برائی میرے لیے نہیں ہے، میں برائی کے قابل نہیں ہوں اور گناہ کرنے کے لیے مجھے اس دنیا میں نہیں رہنا چاہیے، مر جانا چاہیے… مجھے مر جانا چاہیے… ہاں مجھے مر جانا چاہیے۔ میں نے وحشت ناک نظروں سے چاروں طرف دیکھا پھر میری سماعت نے مجھے اس شور کی طرف متوجہ کیا جو مجھ سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ میرے قدم تیزوتند دریا کی طرف بڑھ گئے۔ میں عالم بے خودی میں اس طرف چل پڑا۔ وسیع و عریض چوڑا پاٹ میرے سامنے تھا۔ پانی برق رفتاری سے اپنا سفر طے کر رہا تھا، مٹیالی لہریں جھاگ اڑا رہی تھیں۔ میں دریا میں اتر گیا، آگے اور آگے اور آگے اور پھر پانی نے میرا وزن سنبھال لیا، ایسی پٹخی لگائی کہ سر نیچے، پائوں اوپر ہو گئے، دوسری پٹخنی اور اس کے بعد تاریکی گہری اور پرسکون تاریکی پھر روشنی دھندلی روشنی پھر ایک آواز۔
‎’’ہل رہا ہے کاکا…‘‘
‎’’ہل رہا ہے…؟‘‘
‎’’کراہ بھی رہا ہے۔‘‘
‎’’ماتھو… ارے دیکھ بٹو… اوکا ہوس آئے رہے۔‘‘
‎’’آت رہیں کاکا… ابھو آت رہیں۔‘‘
‎’’اب کا کرت ہے جانکی۔‘‘
‎’’آنکھیں پٹپٹا رہا ہے۔‘‘

‎’’ہیں… اب آئی سسروا کو ہوس… اری جانکی دودھ گرم کر لئی ہے کا؟‘‘
‎’’ہاں کاکا… ہنڈیا چولہے پر رکھی ہے۔‘‘
‎’’بھر دو کٹورے ماں…وید جی اے ہی کہہ گئے تھے، جاری جلدی کر…‘‘
‎یہ ساری باتیں سن رہا تھا۔ ہوش میں تھا، سوچ رہا تھا کہ اب کہاں ہوں، یہ بھی یاد آ گیا کہ دریا میں کود کر جان دینا چاہی تھی۔ یہ بھی سمجھ میں آ گیا تھا کہ موت نے قبول نہیں کیا ہے۔ یہ بھی یاد تھا کہ مسعود احمد نام ہے میرا اور بھوریا چرن بھی یاد تھا۔
‎’’کہاں ہوس آئی کاکا۔‘‘ ایک مردانہ آواز سنائی دی۔
‎’’نا آئی۔ جانکی ہی بولت رہی۔‘‘ دوسری آواز نے کہا اور میں نے آنکھیں کھول دیں۔ اتنی دیر میں ایک لڑکی بڑا سا کٹورا لیے اندر آ گئی جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ نوجوان مجھے دیکھ کر مسکرا دیا پھر بولا۔
‎’’جائو کاکا دودھ کی کھس بو پڑتے ہی ہوس آ گئی انجائی کو۔ چل ببوا دودھ پی لے۔‘‘ اس نے سہارے سے مجھے اٹھاتے ہوئے کہا۔ سخت بھوکا تھا۔ لڑکی نے کٹورا میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے اپنی اوڑھنی کا ایک حصہ گرم کٹورے کے نیچے رکھ دیا۔ باقی اوڑھنی اس کے شانوں پر تھی اور اسے نیچے اس طرح جھکنا پڑا تھا کہ اس کا چہرہ میرے عین سامنے آ گیا تھا۔ دودھ کا گھونٹ لیتے ہوئے میں نے اسے دیکھا سانولا سلونا چہرہ سادہ سے نقوش، انیس بیس سال کی عمر، جوانی کی تمازت سے تپتے ہوئے سانس، کاجل بھری آنکھوں میں دوڑتی زندگی۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے پا کر آنکھیں ’’جھکیں‘‘ چہرے کا رنگ بدلا پھر آنکھیں اٹھیں، کڑے انداز میں مجھے دیکھا، پرکھا اور پھر جھک گئیں۔ ہونٹ آہستہ سے کپکپائے جیسے انہوں نے کچھ کہا ہو۔ مگر بے آواز۔ میں کچھ بدحواس ہو گیا مگر گرم دودھ کے دو بڑے گھونٹوں نے سنبھال لیا، آنتیں تک جل گئی تھیں۔
‎’’دودھ پیوت ہے کہ نا؟‘‘ کاکا پھر بولا۔
‎’’ہرے سب ڈکوس گئی سسر۔‘‘ نوجوان نے ہنستے ہوئے کہا۔ لڑکی نے جلدی سے کٹورا میرے ہاتھ سے لے کر اپنی اوڑھنی سنبھال لی اور پھر کٹورا لیے باہر نکل گئی۔ میری نظروں نے اس کا تعاقب کیا تھا۔ بہت سی لڑکیاں دیکھی تھیں، شکنتا نے مجھ سے اظہار عشق کیا تھا، کشنا میری دیوانی تھی، یہ لڑکی ان کے مقابلے میں کچھ نہیں تھی مگر نہ جانے دل اس کی طرف مائل کیوں ہو رہا تھا۔ وہ باہر نکل گئی تو اس کی جگہ کا جائزہ لیا، کچی مٹی کی دیواروں سے بنا کمرہ تھا۔ چھت پھونس کے چھپر سے بنی ہوئی تھی۔ تین چارپائیاں کل کائنات تھیں جن میں سے ایک پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ غالباً اندھا تھا، یہی احساس ہوا تھا۔
‎’’ہاں بھائی ٹیسو رام۔ اب بولو جمنا ماں کا کر رئے تھے۔‘‘ نوجوان نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’جمنا میں؟‘‘
‎’’ارے تو اور کا۔ کا اندر مہاراج کے رتھ ماں سیر کر رئے تھے۔‘‘
‎’’نہیں بس کنارے پر تھا پائوں پھسل گیا۔‘‘
‎’’بھلے پھسلے ببوا۔ اور ہم نا نکالتے تو…‘‘
‎’’مر جاتا۔‘‘ میں نے کہا اور ایک بیکس مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر پھیل گئی۔ اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا۔
‎’’لیو کاکا۔ ببو مرن لیے گرے تھے جمنا ماں۔‘‘
‎’’کاہے ٹبؤ۔ جیون بھاری ہو گیا کا۔‘‘
‎’’ہاں چاچا۔‘‘
‎’’دکھی لاگو ہو۔ ارے نا تھورے۔ مہمان بنالو اپنا اسے جی بہل جائے تو جان دینا۔‘‘
‎’’ارے ای کہاں جائے رہے اب کاکا۔ ہم محنت کری ہے اس پر، ایسے کاہے جانے دیں گے سسروا کو۔‘‘
‎’’بس ٹھیک ہے۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔

‎دھوبیوں کی آبادی تھی۔ جمنا گھاٹ پر آباد تھی۔ بستی کا نام تھا پوریا۔ کوئی سو گھر تھے پوری بستی میں۔ بوڑھے شخص کا نام راگھو تھا۔ بیٹے کا ناتھو اور لڑکی کا نام جانکی تھا۔ ناتھو گھاٹ پر چھیؤرام کر رہا تھا کہ میں بہتا ہوا اس کے سامنے سے گزرا اور اس نے مجھے نکال لیا۔ جانکی کی نگرانی میں پیٹھ پر لادھ کر مجھے اپنے جھونپڑے میں لے آیا۔ کچھ فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا جہاں سے یہ لوگ بیل گاڑیوں پر گھروں کے کپڑے دھونے لاتے تھے اور پھر وقت پر انہیں ان کے مالکوں کے پاس پہنچا دیا کرتے تھے۔ سادہ سی زندگی۔ جو روکھا سوکھا ملا کھا لیا اور خوش۔ کیا عجیب بات ہے بس اسے تقدیر ہی کہا جا سکتا ہے۔ نمود ہوتی ہے اور کوئی طلب نہیں ہوتی کہ کون کہاں پیدا ہو۔ لیکن اس کے بعد کی کہانیاں انوکھی ہوتی ہیں۔ سادگی کی حد یہ تھی کہ مجھ سے میرا نام تک نہ پوچھا گیا اور ناتھو نے مجھے ٹیسو کہا تو سب اس نام سے پکارنے لگے۔ یہ بستی بڑی اچھی لگی تھی۔ میں یہاں رہ پڑا۔ کہاں جاتا، کیا طلب کرتا جو مانگا وہ گناہ بن گیا۔ اور اب یہ سوچا تھا کہ کچھ نہیں مانگوں گا جو ملے گا قبول کر لوں گا۔ بھول جائوں گا سب کو۔ کوئی فائدہ نہیں کسی کو یاد کرنے سے، وہ بھی مجھے بھول گئے ہوںگے۔ صبر کر لیا ہو گا، مجھے خدا کرے محمود اپنی کوشش میں کامیاب ہو جائے، خدا کرے اس کا ماں باپ سے رابطہ ہو جائے۔ خدا کرے میری بہن شمسہ اپنا مستقبل پا لے، میں تو ان کا قاتل تھا۔ اب کیا کروں گا ان کے پاس جا کر۔ جو چھن گیا تھا وہ نہیں ملا تھا۔ آہ جب بھی وقت ملتا جب دوسروں کی نظروں سے محفوظ ہوتا قبلہ رو کھڑا ہو جاتا، ہاتھ باندھ لیتا پھر سجدے میں چلا جاتا لیکن جو چھن گیا تھا یاد نہ آتا۔ ایسے لمحوں میں ذہن سو جاتا تھا۔
‎’’راگھو بابا۔ میں کپڑے دھوئوں گا۔‘‘
‎’’کاہے بٹؤ؟‘‘
‎’’اسی بستی میں رہوں گا میں۔‘‘
‎’’رہو بٹؤ!‘‘
‎’’تمہارا کھاتا رہوں۔‘‘
‎’’سو کا ہے۔‘‘
‎’’ٹھیک تو کہے ہے کاکا۔ دئی مٹی ہو جاوے گی۔ کام کرنے دے اسے۔‘‘ ناتھو نے کہا اور وہ میرا استاد بن گیا۔ میں اس کے ساتھ کپڑے دھونے لگا۔ اس کا کام بڑھ گیا تھا۔ ایک دن جانکی نے شرماتے ہوئے کہا۔
‎’’کچھ معلوم ہے تجھے ٹیسوا۔‘‘
‎’’کیا؟‘‘

‎’’کاکا اور بھیا ہمارے بیاہ کی بات کر رہے تھے۔ کاکا کہہ رہا تھا کہ چھورا بڑھیا ہے، کام بھی کرے ہے۔ جانکی کے ساتھ پھیرے کرا دیں اس کے چوکھا رہے گا۔‘‘
‎میرے ہاتھ رک گئے۔ میں عجیب سی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ جانکی مجھے اچھی لگتی تھی، اس کی قربت سے ایک نشہ سا چھایا رہتا مجھ پر۔ وہ بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی، مجھے چاہتی تھی جس کا صاف اظہار ہوتا تھا مگر وہ میری ہم مذہب نہیں تھی۔ کچھ بھی تھا، مجھے اپنا نام یاد تھا، اپنا مذہب یاد تھا اور مجھے اس سے محبت تھی۔ جو کچھ مجھ سے چھن گیا تھا وہ میری بدقسمتی تھی لیکن باقی سب… کیا… کیا خود کو بھول جائوں۔
‎جانکی نے کہا۔ ’’کیا سوچنے لگا۔‘‘
‎’’کچھ نہیں جانکی۔‘‘
‎’’اپنے یاد آ رہے ہوں گے۔‘‘
‎’’ہاں!‘‘
‎’’سب کچھ بھلا دوں گی تجھے۔ سب کچھ۔‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا مگر میں بہت بے چین ہو گیا تھا۔ اس رات میں بہت بے کل تھا۔ ساری رات بے کلی میں گزری۔ صبح کو اٹھا۔ دل کی بے چینی کسی طور دور نہیں ہو رہی تھی۔ ایک گوشہ تلاش کیا اور بے کسی سے کھڑا ہو گیا، ہاتھ باندھ لیے پھر سجدے میں گر گیا۔ بہت دیر گزر گئی، چہرہ آنسوئوں سے بھیگا ہوا تھا۔ اٹھا تو… ناتھو پر نظر پڑی۔ وہ اچنبھے سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کے منہ سے سرسراتی آواز نکلی۔ ’’کیا تو مسلمان ہے؟‘‘
‎پورا وجود مجسم آواز بن گیا۔ رُواں رُواں پکارنے لگا۔ ’’ہاں، ہاں، ہاں۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے جو سکون ملا تھا اس کی قیمت کائنات کے سارے خزانے نہیں تھے۔ یہ الفاظ میری گمشدہ بینائی تھے۔
‎’’مسلمان ہے تو۔‘‘ ناتھو نے اس بار کڑک کر پوچھا۔
‎’’ہاں میں مسلمان ہوں۔ میں مسلمان ہوں۔‘‘ میں نے عجیب سی کیفیت میں کہا۔
‎’’ہم کا دھوکا کاہے دیت رہے تے۔ ہمارے سامنے ٹیسو کاہے بنا رہے۔‘‘
‎’’نہیں ناتھو۔ نہیں۔ میں کچھ نہیں بنا۔ میں تو مصیبت کا مارا ہوں ناتھو میں نے تو… میں نے تو…‘‘
‎’’ہمار بہنیا سے بیاہ کرنے لاگا تھا تے۔ ارے ہم سب کی آنکھن ما دُھول جھونک رہے رے۔‘‘

‎’’ناتھو، تم لوگوں نے جمنا سے مجھے اس وقت نکالا جب میں بیہوش تھا۔ میں تو خود اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے دریا میں گرا تھا، میں کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کیسے کر سکتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے ناتھو، تم جانتے ہو کہ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ کل جانکی نے مجھے بتایا کہ تم لوگ ایسا سوچ رہے ہو۔ میں ایسا کبھی نہ کرتا۔ اپنے اُوپر احسان کرنے والوں کو میں کبھی دھوکا نہ دیتا۔ اگر میں تمہیں حقیقت نہ بتاتا تو کم از کم یہاں سے چلا جاتا۔‘‘
‎’’اور جانکی سے بیاہ نہ کرتا۔‘‘
‎’’کبھی نہیں ناتھو، کبھی نہیں۔‘‘ ناتھو میرا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہ ان سچائیوں پر غور کر رہا تھا، بات اس کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ اس نے پریشانی سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
‎’’بڑی بکٹ بات ہوگئی رہے ٹیسوا۔ جانکی تیرے سپنے دیکھن لاگی رہے اس نے اپنی سکھیوں کو بھی بتا دیا ہے۔ اب بات برادری ما نکل جئی ہے تو ہم پر کرپا کر بیرا۔ کرپا کر ہم پر رے۔ تو یہاں سے چلا جا، چپ چاپ چلا جا۔ سب سوچیں گے کہ تے بھاگ گیا۔ ہم کہہ دئی ہے کہ تے ہمارے روپے لے کر بھاگ گیا۔ ہماری عجت بچ جئی ہے۔ لوگ تو کا برا بھلا کہہ کر کھاموس ہو جئی ہے۔ تیرا کچھ نا بگڑے گا۔ ہماری مان لے، ہماری عجت بچا لے بیرا۔‘‘ ناتھو نے ہاتھ جوڑ دیئے۔
‎’’میں جا رہا ہوں۔ ابھی جا رہا ہوں ناتھو میرے بھائی۔ تیری عزت مجھے زندگی سے زیادہ پیاری ہے۔ ابھی چلا جاتا ہوں میں۔ ابھی زیادہ وقت بھی نہیں گزرا ہے۔‘‘ میں نے اس کے جڑے ہوئے ہاتھ الگ کئے اور پھر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ وہ اپنی جگہ ساکت کھڑا تھا۔ میں نے پلٹ کر اسے نہیں دیکھا تھا۔
‎بستی بہت چھوٹی تھی۔ میں آخری مکان سے بھی گزر گیا، آگے کھیت بکھرے ہوئے تھے اِکّا دُکّا لوگ نظر آ رہے تھے کسی نے توجہ نہیں دی۔ میں نے رفتار تیز رکھی تھی کسی رُخ کا تعین نہیں کیا تھا۔ رُخ کدھر کرتا، کہاں جاتا۔ بس چل پڑا تھا، ناتھو اور دُوسرے دھوبی کسی بستی کا تذکرہ کرتے تھے کہتے تھے کوئی بڑا شہر ہے جہاں سے وہ کپڑے لاتے ہیں اور دھو کر ان کے مالکوں کو پہنچا دیتے ہیں۔ مگر میں نے کبھی اس شہر کے بارے میں کسی سے نہیں پوچھا تھا۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ چلتا رہا اس وقت صرف ناتھو رام کی عزت پیش نگاہ تھی اور کچھ نہیں سوچ رہا تھا۔ چلتے چلتے دوپہر ہوگئی۔ اب ویران جنگلوں کے سوا کچھ نہیں تھا، درخت نظر آ رہے تھے، پرندے پرواز کر رہے تھے، آسمان شفاف تھا، دُھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ جب پیروں نے جواب دے دیا تو ایک درخت کے نیچے پناہ لی اور زمین پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرلیں۔ نیند تو نہیں آئی تھی البتہ نقاہت نے غنودگی طاری کر دی تھی، بدن کو سکون ملا۔ پچھلے کچھ دن آرام سے گزارے تھے اس لیے برداشت کی قوت میں کمی نہیں ہوئی تھی۔ سورج ڈھلے اُٹھا اور پھر چل پڑا۔ شام جھلک آئی اور پھر میں نے سیاہ رنگ کی ایک عمارت دیکھی۔ ٹوٹی دیواریں، بکھری ہوئی زمینوں کے ڈھیر، ایک بڑا سا گنبد۔ قدم اسی جانب بڑھ گئے۔

 کچھ دیر کے بعد وہاں پہنچ گیا۔ کوئی قدیم مسجد تھی۔ سیڑھیاں تک سلامت نہیں تھیں۔ بڑا سا صحن تھا جو میری طرح اُدھڑا ہوا تھا۔ چاروں طرف پتّے بکھرے ہوئے تھے۔ دل میں عقیدت کا ایک جذبہ اُبھر آیا۔ پیار اُبھر آیا یہ سب مجھ سے رُوٹھے ہوئے تھے۔ گناہ گار تو تھا میں لیکن… لیکن مجھے پیار تھا اس احساس سے پیار تھا کہ میں مسلمان ہوں۔ کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس سے یہ صحن صاف کرتا۔ قمیض اُتاری اورصحن کی صفائی میں مصروف ہو گیا۔ وسیع و عریض صحن کو صاف کرتے کرتے اتنی دیر ہوگئی کہ رات ہوگئی۔ سوکھے پتّے سمیٹ کر میں نے مسجد کے پچھلے حصے میں پھینکے اور وہاں ایسے پتّوں کے انبار دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یوں لگا جیسے کوئی باقاعدگی سے صحن صاف کر کے یہ پتّے یہاں پھینکتا ہو۔ نہ جانے کون، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ زیادہ غور بھی نہیں کیا۔ اب کوئی کام نہیں تھا۔ سیڑھیوں کے پاس آ کر ایک جگہ صاف کی اور لیٹ گیا۔ بھوک لگ رہی تھی، دن بھر پیاس کی شدت بھی رہی تھی کہیں سے پانی بھی نہیں پیا تھا۔ بس چلتا رہا تھا اور یہاں آ کر اس مسجد کے پاس کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ بھوک پیاس بے شک تھی لیکن اسے رفع کرنے کا کوئی ذریعہ سامنے نہیں آیا تھا۔ لیٹے لیٹے ایک بار پھر غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی اور شاید سو گیا۔ نجانے کتنا وقت گزرا تھا عالم ہوش میں نہیں تھا کہ دفعتاً کچھ آہٹیں سنائی دیں۔ شاید ان آہٹوں سے نہیں جاگا تھا کہ بلکہ کسی نے پائوں پکڑ کر جھنجھوڑا بھی تھا۔ چونک پڑا، اِدھر اُدھر دیکھا۔ تین چار آدمی نزدیک کھڑے ہوئے تھے۔ چاند نکلا ہوا تھا اور مسجد کا پورا ماحول روشن تھا ان میں سے ایک نے کہا۔

‎’’یہ سونے کی جگہ نہیں ہے میاں صاحب، یہاں کیوں سو رہے ہو، راستہ ہے گزر گاہ ہے۔‘‘ میں ہڑبڑا کر کھڑا ہو گیا اس ویرانے میں اس وقت مسجد میں آنے والے کون ہیں، جن لوگوں نے مجھے جگایا تھا، وہ آگے بڑھ گئے تھے۔ میں ادھر اُدھر نگاہیں دوڑانے لگا۔ سفید لباسوں میں ملبوس پاکیزہ نورانی چہرے والے بزرگ، نوجوان اور چھوٹی عمر کے لوگ جوق دَر جوق مسجد کی جانب آ رہے تھے اور اندر مسجد میں بڑا اہتمام تھا، میں پُرشوق انداز میں آگے بڑھ گیا۔ اس وقت یہ اجتماع کیوں ہوا ہے۔ یہ تجسس میرے دل میں جاگ اُٹھا تھا۔ لوگ صفیں بنا کر بیٹھے تھے، میں بھی ایک سمت بیٹھ گیا۔ سامنے ہی ایک منبر لگایا گیا تھا، پہلے یہاں موجود نہیں تھا، غالباً یہاں آنے والے اپنے ساتھ لائے تھے۔ میں نے قریب بیٹھے ہوئے ایک نوجوان آدمی سے جس کی داڑھی سیاہ تھی اور رنگ سفید تھا مدھم لہجے میں پوچھا۔
‎’’یہاں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اس نے چونک کر مجھے دیکھا اور بولا۔
‎’’درس، کیا تم درس میں شرکت کے لیے نہیں آئے؟‘‘ میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں گردن ہلا دی تھی، پھر میں نے ایک معمر شخص کو دیکھا، ٹخنوں تک چغہ پہنا ہوا تھا۔ سر پر سفید عمامہ تھا۔ براق سفید داڑھی جو سینے تک لٹکی ہوئی تھی۔ بھنویں تک سفید تھیں، وہ منبر کی جانب بڑھے اور پھر منبر پر جا بیٹھے اور اس کے بعد انہوں نے وہاں موجود تمام لوگوں کو سلام کیا سب نے بلند آواز میں جواب دیا اور معمر بزرگ کہنے لگے۔
‎’’اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج تو مسجد پوری بھری ہوئی ہے سبھی آ گئے ہیں۔‘‘
‎’’جی امام صاحب، آج ایک عجیب واقعہ بھی ہوا ہے۔‘‘ ایک شخص نے کہا۔
‎’’کیا؟‘‘
‎’’ہمارے آنے سے پہلے ہی کسی نے مسجد کا صحن صاف کر دیا ہے۔ جب ہم یہاں پہنچے تو صحن صاف ملا تھا۔‘‘
‎’’ہوگا کوئی بندئہ خدا، خدا کے بندے کہاں موجود نہیں ہوتے۔‘‘
‎’’ایک اجنبی شخص کو ہم نے

‎سیڑھیوں کے پاس پڑے پایا، سو رہا تھا۔ غالباً اسی شخص نے صحن صاف کیا ہوگا۔‘‘
‎’’کہاں ہے وہ…؟‘‘ جن بزرگ کو امام صاحب کہہ کر پکارا گیا تھا انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا اور پھر کسی کے بتائے بغیر ان کی نگاہیں میری جانب اُٹھ گئیں۔ فاصلہ کافی تھا لیکن مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ان آنکھوں سے روشنی کی ایک لکیر نکل کر آگے بڑھی ہو اور مجھ تک پہنچ گئی ہو۔ اس روشنی نے میرا احاطہ کرلیا تھا اور اس کے بعد مجھے امام صاحب کی گونج دار آواز سنائی دی تھی۔
‎’’آگے آئو۔ کون ہو تم؟‘‘ مجھے یوں لگا جیسے کچھ نادیدہ ہاتھوں نے میری بغلوں میں ہاتھ ڈال کر مجھے اُٹھا کر کھڑا کیا ہو۔ قدم بھی خودبخود ہی آگے بڑھے تھے۔ درمیان میں آنے والوں نے مجھے امام صاحب تک پہنچنے کا راستہ دیا تھا اور میں وہاں تک پہنچ گیا تھا۔ جونہی میں امام صاحب کے قریب پہنچا، انہوں نے عمامے کا لٹکتا ہوا حصہ بائیں ہاتھ میں پکڑ کر ناک پر رکھ لیا۔ پیشانی پر ناگواری کی شکنیں نمودار ہوگئی تھیں۔ انہوں نے کڑی نگاہوں سے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
‎’’کون ہے تو، اور یہاں کیا کر رہا ہے؟‘‘ میں نے بولنے کی کوشش کی لیکن آواز نہیں نکل سکی تھی، امام صاحب کہنے لگے۔
‎’’کیا تو نے اس مسجد کا صحن صاف کیا تھا؟‘‘ میرے منہ سے تو آواز نہ نکل سکی البتہ گردن ہل گئی تھی۔
‎’’کیا تجھے علم نہیں ہے کہ یہ مسلمانوں کی مسجد ہے؟‘‘ میں نے امام صاحب کو دیکھا ان کی نگاہیں مجھ پر گڑھی ہوئی تھیں میری آنکھوں میں نجانے کیا کیا کیفیات تھیں، وہ چونک کر بولے۔
‎’’مسلمان ہے تو…؟‘‘

‎’’ہاں، ہاں…‘‘ میرے حلق سے جیسے رُکی ہوئی بے شمار آوازیں نکل گئیں۔
‎’’مگر تیرے جسم سے تو بدبو اُٹھ رہی ہے، ایک ایسی بدبو جو کبھی کسی مسلمان کے جسم میں نہیں ہوتی۔ ایسا کیسے ہوا، نہیں نوجوان تو صاحب ایمان نہیں ہے، یہ بدبو جو تیرے بدن سے اُٹھ رہی ہے، کسی ایمان والے کے جسم سے نہیں اُٹھ سکتی، یہ تو ، یہ تو غلاظت کی بو ہے، براہ کرم صحن مسجد سے باہر نکل جا، یہاں درس الٰہی ہوگا اور اس کے بعد نماز تہجد، تجھ جیسے کسی بے ایمان شخص کوہم اپنے درمیان جگہ نہیں دے سکتے۔ براہ کرم باہر نکل جا اس سے پہلے کہ تجھے مسجد کے صحن کو ناپاک کرنے کی سزا دی جائے۔ یہ سزا تجھے صرف اس لیے نہیں دی جائے گی کہ تو نے کسی بھی جذبے کے تحت سہی، صحن مسجد کو صاف کیا ہے مگر تجھے اپنے درمیان جگہ نہیں دیں گے ہم۔‘‘ میں بلک بلک کر رو پڑا میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہا۔
‎’’سارے زمانے کا ٹھکرایا ہوا ہوں میں، میں ایک بدنصیب انسان ہوں، مجھے سہارا چاہیے، میں قصوروار ہوں، لاکھوں گناہ کیے ہیں میں نے، تائب ہو رہا ہوں۔ میری مدد کرو، خدا کے لیے میری مدد کرو۔‘‘ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے کسی نے چیخ کر کہا۔
‎’’اس ملحد کو دھکے دے کر مسجد سے باہر نکال دو، اس بدنما شخص کو مسجد میں داخل ہونے کی سزا دو، آخر یہ یہاں آیا کیوں ہے نکالو اسے، نکالو اسے۔‘‘
‎امام صاحب نے ہاتھ اُٹھا کر کہا۔ ’’ایمان والو! ایمان والوں جیسی باتیں کرو، وہ جو کچھ بھی ہے اس نے کوئی دُشمنی نہیں کی ہے، کوئی بھولے سے اگر خدا کے گھر میں داخل ہوگیا ہے تو خدا کے گھر سے اسے دھکے دے کر نہیں نکالا جا سکتا، کیسی باتیں کر رہے ہو تم لوگ؟‘‘
‎چاروں طرف سناٹا چھا گیا، لوگ خاموش ہوگئے کسی کے منہ سے ہلکی سی آواز بھی نہیں نکلی، امام صاحب نے کہا۔
‎’’اور تو کہتا ہے کہ تو مسلمان ہے، مگر کیا یہ بتا سکے گا کہ یہ بدبو تیرے جسم میں کیسے داخل ہوئی؟‘‘
‎’’یہ میرے گناہوں کا پھل ہے۔ یہ میرے گناہوں کا پھل ہے، میری مدد کرو، میری مدد کرو۔‘‘ میں گڑگڑا کر بولا۔

‎’’گناہوں کے لیے توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، مگر یہ کیسا گناہ ہے جس سے تیرے جسم میں کفر کی بدبو پھیل گئی ہے۔ خدا کے لیے ہمارے ان لمحات کو ضائع نہ کر۔ ہم نے اپنے طور پر جو انتظام کیا ہے اور جس مقصد کے لیے کیا ہے ہمیں اس کی تکمیل کرنے دے تو باہر جا، تیرے لیے توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور یہ دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ جب بھی بارگاہ ایزدی میں تیری توبہ قبول ہوگئی تجھے تیری مشکلات کا حل مل جائے گا لیکن تو جا یہاں سے۔ یہاں سے چلا جا، فوراً چلا جا۔ ہم اپنی عبادت میں تیری مداخلت پسند نہیں کرتے، اسے راستہ دو…‘‘ امام صاحب نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اب مجھے ان کے درمیان جگہ نہیں ملے گی۔ پھر یہاں رُکنا بے مقصد ہی ہے۔ نڈھال اور مضمحل قدموں سے وہاں سے واپس پلٹا تو امام صاحب نے کہا۔
‎’’سیدھے راستے پر چلے جانا کافی دُور جا کر تجھے ایک درخت نظر آئے گا اس درخت میں پھل ہوں گے۔ ان پھلوں سے تو اپنی شکم سیری کر سکتا ہے بس اس سے زیادہ اور تیری کوئی مدد نہیں کی جا سکتی۔‘‘ میں نے کچھ نہ سنا نجانے کیسے کیسے خیالات دِل میں آ رہے تھے، جو کچھ ہوا تھا اس پر غور بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ بس یہ احساس تھا کہ میرے جسم سے ایک ایسی بو اُٹھنے لگی جو کسی مسلمان کے جسم میں کبھی نہیں پیدا ہوتی اور اس بو کی وجہ میں جانتا تھا، بھوریا چرن نے میرے وجود میں کفر اُتار دیا تھا۔ یہ کفر میرے دل پر تو اثرانداز نہیں ہو سکتا تھا، میرے دماغ تک نہیں پہنچ سکا تھا لیکن جسم غلیظ ہوگیا تھا اور بقول امام صاحب اس جسم سے وہ بُو اُٹھ رہی تھی جو ان کے لیے ناقابل برداشت تھی، آہ جو کچھ ہوا ہے، جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں کافی حد تک میرا قصور ہے بلکہ قصور ہی میرا ہے، بلاشبہ انسان کو اس کی حیثیت سے زیادہ مل جائے تو وہ بھول جاتا ہے اپنے آپ کو کھو جاتا ہے، لیکن ایک لمحہ صرف ایک لمحہ ایسا آتا ہے جس کے بعد ساری عمر کی توبہ بھی ناکافی ثابت ہوتی ہے، جو ہوگیا تھا وہ ہو گیا تھا، بے عزت کر کے ہر جگہ سے نکالا جا رہا تھا، پوریا بستی سے بھی اور اب اس مسجد سے بھی، آہ یہ سب کچھ میرے لیے ازحد ضروری تھا، گناہوں کی سزا میں جس قدر تذلیل ہو کم ہے۔ وہاں سے بھی چل پڑا کوئی منزل تو تھی نہیں بس چلتا رہا اور پھر کسی شہری آبادی کے آثار نظر آئے تھے، اُجالا پھیل رہا تھا۔ قدم اس طرف بڑھ گئے بستی کے پہلے مکان سے سنکھ بجنے کی آواز سنائی دی، اس کے بعد پیتل کا گھنٹہ کئی بار بجا اور پھر ایک موٹی بھدّی آواز سنائی دی۔
‎بھجن قسم کی کوئی چیز تھی، لیکن اس کے بول بڑے دل ہلا دینے والے تھے اور ان کا مفہوم میری سمجھ میں آ رہا تھا۔
‎جب تک ہنس ریو چولا میں، چولا جب تک بنوریو، (جسم میں جب تک رُوح رہی، جسم برقرار رہا)

‎اڑگیو ہنس رہ گئی ماٹی بولن ہارو کدر گیو، (رُوح جسم سے نکل گئی تو بس مٹی کا بدن رہ جاتا ہے، اور جب تک چراغ میں تیل رہتا ہے چراغ جلتا رہتا ہے، تیل ختم ہوا چراغ کی بتی جل گئی، تب پھر اس روشنی کو پیدا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟)
‎بھجن کے ان الفاظ نے ذہن کے نجانے کون سے گوشوں کو چھو لیا تھا۔ دیر تک وہیں کھڑا ان الفاظ پر غور کرتا رہا جب گردن گھمائی تو اُوپر سے برہنہ جسم کے مالک، دھوتی باندھے ہوئے، ماتھے پر تلک لگائے، ایک بھاری بدن کے شخص کو دیکھا، چہرے پر شوخی سی چھائی ہوئی تھی، دونوں ہاتھ کمر پر رکھے مجھے گھور رہا تھا، مجھ سے نگاہ ملی تو گردن مٹکاتے ہوئے بولا۔
‎’’آج بھی رہ گئے مہاراج، آج بھی کامیابی نہیں ہوئی تمہیں۔‘‘
‎’’جی!‘‘ میں نے حیران نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
‎’’بھینس کھولنے آئے تھے نا پنڈت کاشی رام کی، ارے بہت دن سے تم ہماری بھینس کی تاک میں ہو اور ہم تمہاری تاک میں، آج ملاپ ہو ہی گیا، ارے دیا کرو مہاراج دیا کرو۔ غریب آدمی ہیں، اس بھینس کے علاوہ اس سنسار میں اپنا کوئی نہیں ہے، ارے اسی کے دُودھ پر اپنا جیون گزار رہے ہیں، کیا کرو گے اسے لے جا کر۔‘‘ ہنسی آ گئی، میں نے آہستہ سے کہا۔
‎’’نہیں پنڈت جی، میں نے تو آپ کی بھینس دیکھی بھی نہیں بھلا اسے چرانے کا خیال کیسے آتا میرے دل میں۔‘‘
‎’’تو پھر کیا یہاں پوجا کررہے ہو کھڑے ہوئے۔‘‘ وہ کسی قدر طنزیہ لہجے میں بولا۔
‎’’آپ بھجن گا رہے تھے، اسے سننے کھڑا ہوگیا تھا۔‘‘
‎’’ارے ارے ارے ، بھجن سننا ہے تو بیٹھ کر سنو بھیّا، ایسے کیوں کھڑے ہو، جیسے بھینس چرانے آئے ہو، آئو آئو تمہیں اور بھی بہت سے بھجن سنائیں گے، ایک تم ہو کہ ہمارا بھجن سن کر چلتے چلتے رُک گئے اور ایک وہ ہے جو کہتی ہے کہ بھینس کی اور ہماری آواز میں کوئی فرق ہی نہیں ہے، ذرا آئو بتائو اسے، کیا بھجن گاتے ہیں ہم‘‘ اس نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑا اور احاطے سے اندر لے گیا۔ چھوٹا سا مکان تھا بڑا سا دروازہ، اسی چھوٹے سے احاطے کے ایک گوشے میں بھینس بندھی ہوئی تھی، اس کے آگے کھانے پینے کا سامان پڑا ہوا تھا، ایک طرف بانوں سے بنی ہوئی جھلنگا چارپائی جو بیٹھنے کے لیے تھی اور کاشی رام جی نے مجھے اسی چارپائی پر بٹھا دیا اور خود مجھ سے کچھ فاصلے پر پتھر سے بنی ہوئی ایک سل پر بیٹھ گئے اور اس کے بعد انہوں نے لہک لہک کر پھر سے اپنا بھجن شروع کر دیا۔ کافی زوردار آواز میں گا رہے تھے، آواز میں ذرّہ برابر دلکشی نہیں تھی لیکن بول مست کر دینے والے تھے پھرکاشی رام جی اس وقت چپ ہوئے، جب اندر سے ایک دھاڑ سنائی دی۔

‎’’کسے پکڑ لائے تم صبح ہی صبح۔ اور کیوں بھینس کی طرح ڈکرائے جارہے ہو، میں کہتی ہوں تمہاری کھوپڑی بالکل ہی خراب ہوگئی ہے… ارے تو کون ہے رے؟‘‘ میں نے اور کاشی رام دونوں ہی نے چونک کر اس بھیانک آواز کو سنا تھا اور گردن موڑ کر دیکھا تھا، چہرہ تو اتنا بھیانک نہیں تھا، لیکن آواز اور جسامت خوفزدہ کر دینے والی تھی، سفید دھوتی باندھے، ماتھے پر تلک لگائے، آنکھیں نکالے کھڑی، وہ ہم دونوں کو گھور رہی تھی۔ کاشی رام اُچھل کر کھڑے ہوگئے اور خاتون آگے بڑھ کر ہمارے سامنے پہنچ گئیں، پھر ایک پوز بنا کر دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اور باری باری ہم دونوں کو گھورتے ہوئے بولیں۔
‎’’یہ تم دونوں صبح ہی صبح کیا کر رہے ہو؟‘‘
‎’’ارے وہ، دیورانی، دیورانی جی، یہ بے چارہ مسافر ہے، بھجن سن کر کھڑا ہوگیا تھا کہنے لگا کہ من کھنچ رہا ہے، یہ بھجن سن کر، اب سب تیرے جیسے ہی تو نہیں ہوتے کہ کاشی رام کی آواز پسند ہی نہ آئے اب اس سے پوچھ کیا حال ہوا ہے اس کا میرا بھجن سن کر۔‘‘
‎’’اور جو حال میں کروں گی اس کا وہ کون دیکھے گا پنڈت جی۔‘‘ خاتون نے کہا اور اِدھر اور اُدھر کوئی چیز تلاش کرنے لگی، اصولاً تو مجھے بھاگ جانا چاہیے تھا، لیکن کاشی رام جی میرے سامنے آ گئے۔
‎’’دیکھو دیومتی، گھر کی بات گھر تک رہنی چاہیے، بے چارہ باہر سے آیا ہے، کیا سوچے گا ہمارے بارے میں۔ ارے پربھو بھیّا یہ دیومتی جی ہیں دیورانی، پرنام کرو انہیں۔ کہنے کو تو ہماری دھرم پتنی ہیں، مگر… مگر اصل میں یہ ہمارے دھرم پتی ہیں، سمجھ رہے ہو نا، ارے پرنام کر لو انہیں پرنام کرو۔‘‘
‎’’کون ہو تم، کیوں آئے ہو یہاں؟‘‘
‎’’بس وہ دیوی جی، میں، میں۔‘‘

‎’’تو اور کیا، صورت سے نہیں لگتا تمہیں، کچھ شرم کرو دیومتی، بھگوان نے صبح ہی صبح تمہارے گھر مہمان بھیجا اور تم اس کے ساتھ یہ سلوک کر رہی ہو۔‘‘
‎’’اور تم بڑا اچھا سلوک کر رہے ہو اس کے ساتھ اپنی پھٹے ڈھول جیسی آواز سے اسے بھجن سنائے جا رہے ہو، کاشی رام جی بھینس نے دُودھ دینا چھوڑ دیا ہے، جب سے تم نے یہ بھجن وجن گانے شروع کیے ہیں۔‘‘
‎’’ہرے رام ہرے رام، سن رہے ہو پربھو بھیّا، بھینس نے دُودھ دینا چھوڑ دیا ہے۔ اچھا اب تو جا، زیادہ باتیں نہیں کرتے، پتنی ہے، پتنی ہی رہ، میری ماتا بننے کی کوشش مت کر جا مہمان کے لیے بھوجن تیار کر، اری جاتی ہے یا نہیں۔‘‘ کاشی رام جی غرّائے اور خاتون کچھ ڈھیلی پڑ گئیں، اس کے بعد مڑیں اور پائوں پٹختی ہوئی اندر چلی گئیں۔ کاشی رام انہیں جاتے دیکھ رہے تھے۔ پھر انہوں نے رازداری سے کہا۔
‎’’ایسا بھی کبھی کبھی ہی ہوتا ہے، پتا نہیں کیوں تم بتا سکتے ہو کہ اس وقت میرے چہرے پر کیسے تاثرات تھے؟‘‘ کاشی رام کا انداز عجیب سا تھا، میں کچھ نہیں سمجھ پایا تھا، میں نے آہستہ سے کہا۔
‎’’سمجھا نہیں کاشی رام جی۔‘‘
‎’’ارے بھائی یہ دیومتی ہے میری دھرم پتنی، مگر دیومتی ہی نہیں دیونی بھی ہے، تم نے دیکھا، ایک ہاتھ کسی پر پڑ جائے تو بھگوان کی سوگند گھنٹوں بیٹھا گال سہلائے، وہ تو کبھی کبھی میری دھونس میں آ جاتی ہے، پر کبھی کبھی ہی ایسا ہوتا ہے، اس سمے بھی ایسا ہی ہوا ہے، میں یہی تو پوچھ رہا تھا تم سے کہ میں نے کیسا چہرہ بنایا تھا جس کی وجہ سے یہ ڈر کر اندر چلی گئی، ایسا کم ہی ہوتا ہے، ارے بیٹھو، بس اب سب ٹھیک ہوگیا ہے، اب ہمت نہیں پڑے گی اس کی، تو تمہیں میرا بھجن پسند آیا؟‘‘
‎’’ہاں کاشی رام جی۔‘‘
‎’’بھگوان تمہیں سکھی رکھے، کچھ دن ہمارے مہمان رہو، ارے لیکن یہ صبح ہی صبح تم آئے کہاں سے ہو؟‘‘
‎’’مسافر ہوں، بس اس بستی میں نکل آیا، دراصل یہاں نوکری کی تلاش میں آیا ہوں، کچھ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’نوکری… کیسی نوکری؟‘‘
‎’’صرف ایسی نوکری کاشی رام جی، جس میں دو روٹیاں اور بدن ڈھکنے کے لیے لباس مل جائے…‘‘
‎’’لو تو پھر تم کون سی غلط جگہ آئے، سیدھے نوکری کے پاس چلے آئے… نوکری مل گئی تمہیں۔‘‘ کاشی رام جی بولے۔
‎’’جی…؟‘‘ میں نے حیرانی سے منہ پھاڑ کر کہا۔
‎’’جی…‘‘ کاشی رام نے گردن جھکا کر مسخرے پن سے کہا۔
‎’’کاشی رام جی اگر… اگر مجھے واقعی نوکری مل جائے تو میں ہر قسم کی نوکری کر لوں گا۔‘‘

‎’’دیکھ پربھو بھیّا بات اصل میں یہ ہے کہ ہم تو بڑے اچھے آدمی ہیں لیکن عورتیں عام طور سے بُری ہوتی ہیں اور دھرم پتنیاں بن کر تو وہ بہت ہی بُری ہو جاتی ہیں، بس یوں سمجھ لو کہ دھرم پتنی بن کر دھرم کے علاوہ اور سب کچھ ہوتا ہے ان کے پاس، تو ایسا کرتے ہیں پربھو جی کہ ہم تمہیں نوکر کہہ کر اپنے گھر میں رکھ لیتے ہیں، روٹی اور کپڑے کی تو بالکل چنتا مت کرنا۔ خرچ کے پیسے بھی لے لیا کرنا ہم سے، کوئی مشکل بات نہیں، مگر ذرا ان دیومتی کو برداشت کرنا ہوگا۔ بھینس کے کام کرنا آتے ہیں تمہیں…؟‘‘
‎’’آپ فکر نہ کریں، میں بھینس کا کام تمام کر دوں گا۔‘‘ میں نے کہا…
‎’’ارے ارے ارے، نا بھیا نا، اس بھینس پر تو جیتے ہیں ہم، کچھ نہیں کھاتے پیتے بس دُودھ پیتے ہیں اور جیتے ہیں۔ تھوڑی سی گھر کی صفائی ستھرائی، بازار کا سودا سلف اور کوئی کام نہیں ہے، رسوئی میں وہ اپنے علاوہ اور کسی کو نہیں جانے دیتی، پکاتی کھاتی بھی اپنا ہی ہے، بچہ وچہ کوئی نہیں ہے ہمارے ہاں، بس یہ کام ہوگا تمہارا اور اس کے بعد مزے ہی مزے… ہم تمہیں بھی بھجن سکھا دیں گے پربھو بھیّا۔‘‘


‎میں عجیب سی نظروں سے کاشی رام جی کو دیکھتا رہا، انہوں نے اپنی بیوی کے خوف سے میرا نام پربھو رکھ لیا تھا اور اب مجھے اسی نام سے پکار رہے تھے، ویسے سیدھا سچا آدمی معلوم ہوتا تھا، کام بھی میرے سپرد کر دیا تھا، اس کے نتیجے میں اگر روٹیاں مل جائیں تو کوئی ہرج تو نہیں ہے ویسے بھی اب کون سا میرا سلیکشن رہ گیا تھا کہ یہ کام کروں اور وہ کام نہ کروں۔ زندگی اگر تھوڑی سی سکون سے گزر جائے تو کیا ہرج ہے اب تو کوئی بات بھی اپنے بارے میں سوچنا مضحکہ خیز لگتا تھا۔ یہ کروں، وہ کروں، سب بے کار ہے بس زندگی کی سانسیں پوری ہو جائیں، موت اپنی مرضی سے مجھ تک پہنچ جائے بس یہی میری زندگی کا مصرف رہ گیا ہے۔ اب اس میں کوئی تبدیلی بے کار ہے، کوئی مجھے پربھو کے نام سے پکارے یا مسعود کے نام سے، جب زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیںرہ گیا تو ان ناموں میں بھی کیا رکھا ہے، ٹھیک ہے مسعود احمد ٹھیک ہے، اب وقت جو کچھ کہہ رہا ہے وہی مناسب ہے۔‘‘
‎میں نے کاشی رام سے کہا… ’’آپ کی دیا ہے مہاراج۔ دیا ہے آپ کی۔ میں تیار ہوں…‘‘
‎’’ارے تو پھر بات ہی کیا رہ گئی مگر ذرا ناشتہ کر لینا اس کے بعد بتائیں گے یہ بات اسے، پہلے سے پتا چل گئی تو سوچے گی کہ گھر کے نوکر کی، خاطر مدارت ہو رہی ہے اور ناشتہ اُٹھا کر لے جائے گی کھا پی لینا، بعد میں بتائیں گے اسے کہ تم کون ہو اور ہم کون ہیں…‘‘ میں نے گہری سانس لے کر گردن ہلا دی تھی۔ دونوں کردار دلچسپ تھے، دونوں خاصے پرلطف میاں بیوی معلوم ہوتے تھے۔ چلو اچھا ہے ذہن بٹانے میں آسانی ہو گی اب دل پر لدے ہوئے اس بوجھ کو کہاں تک اپنے آپ پر لادے رکھوں، ٹھیک ہے، ٹھیک ہے جیسے بھی گزرے وقت کی آواز ہے، وقت جو کچھ کہے گا وہی سب سے مناسب ہوگا، کچھ دیر کے بعد کاشی رام کی دھرم پتنی نے ناشتہ لا کر رکھ دیا، گرم پوریاں اور آلو کی بھاجی۔ بہت بھوکا تھا پل پڑا کاشی رام جی کوئی بھجن گنگنانے لگے تھے۔
‎’’آپ ناشتہ نہیں کریں گے پنڈت جی…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’ڈٹے رہو… ڈٹے رہو پربھو مہاراج… بھگوان نے اپنے بھاگ میں بس بھینس لکھ دی ہے اسی پر گزارا کر رہے ہیں۔‘‘ پنڈت جی نے کہا پنڈتائن مزید گرم پوریاں لے کر اندر داخل ہوئی تھیں، پنڈت جی کی پشت ان کی جانب تھی اور وہ اس وقت یہی الفاظ ادا کر رہے تھے، پنڈتائن کچھ اور سمجھیں، پوریاں بڑی زور سے سامنے رکھی ہوئی تھالی میں پٹخیں اور غرائے ہوئے لہجے میں بولی۔ ’’آج فیصلہ ہو ہی جائے پنڈت جی، اب دُوسروں کے سامنے بھی تمہاری زبان کھلنے لگی ہے، میں بھینس ہوں، بھینس پر گزارہ کر رہے ہو تم…؟‘‘
‎’’ہرے رام، ہرے رام، ارے کیا بک رہی ہے، کون بھینس کیسی بھینس، ارے پربھو بھیّا گڑ بڑ ہوگئی۔ ذرا سمجھائو ان دیوی جی کو ہم کیا کہہ رہے تھے، ارے دیورانی، ہم تو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم ناشتہ واشتہ نہیں کرتے بلکہ ویدی جی نے پیٹ کی بیماری ٹھیک کرنے کے لیے ان بند کر دیا ہے اور بھینس کے دُودھ پر گزارہ ہے۔‘‘
‎’’پنڈت جی کسی اور کو چترائو، تمہارے منہ سے کئی بار یہ بات سن چکی ہوں۔‘‘ پنڈتائن نے غرّا کر کہا۔
‎’’ارے پربھو جی اب پوریاں منہ میں ٹھونسے جا رہے ہو یا کچھ بولو گے بھی، ذرا بتائو تم ان پنڈتائن کو کہ بات کس کی ہو رہی تھی ان کی یا بھینس کی…؟‘‘
‎’’جج جی ہاں، جی ہاں… جی ہاں، جی ہاں…‘‘
‎’’جی ہاں جی ہاں ارے بھائی میں ان پوریوں میں سے ایک بھی پوری نہیں چھوئوں گا، میری جان تو چھڑا دے تو، پنڈتائن بھگوان کی سوگند، میں تمہیں بھینس نہیں کہہ رہا تھا بلکہ بلکہ، ذکر ہو رہا تھا ناشتے کا، میں نے کہا بھائی اپنے بھاگ میں بس بھینس کا دُودھ لکھا ہے اس پر گزارہ کر رہے ہیں۔ ہرے رام تو تو ہوائوں سے لڑتی ہے۔‘‘

‎’’پنڈت جی زبان سنبھال کر بات کیا کرو اپنی، میں بھی کسی ایسے ویسے گھر کی نہیں ہوں۔ تم سے کھرے تھے میرے پتا، کیا سمجھتے ہو تم مجھے؟‘‘
‎’’کھرے پنڈت کی بیٹی اور کیا…‘‘ کاشی رام نے جلدی سے کہا اور مجھے ہنسی آنے لگی۔ پنڈتائن بکتی جھکتی اندر چلی گئی تھیں اور پنڈت جی سینے پر پھونکیں مار رہے تھے پھر انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
‎’’پربھو جی تم بھی بس اپنے گن کے پکے ہو، ناشتہ کئے جا رہے ہو، میری کوئی مدد نہیں کی تم نے، اب تین دن تک اس کا منہ پھولا رہے گا، ویسے چلو اچھا ہے تم سے ذرا اطمینان سے باتیں ہو جائیں گی…‘‘
‎پنڈت جی کافی دلچسپ آدمی تھے، میرا بھی جی لگنے لگا پنڈتائن نے بس آ کر برتن اُٹھائے تھے اور پنڈت جی ان کا چہرہ دیکھتے رہے تھے، دیر کے بعد پنڈت جی نے کہا۔
‎’’تو پھر پربھو بھیّا آئو ہمارے ساتھ، گھر کے پچھواڑے ہم نے اپنی دُکان کھولی ہوئی ہے، آ جائو آ جائو، وہیں بیٹھ کر تمہارے ساتھ ساری باتیں کریں گے۔‘‘
‎’’گھرکا یہ پچھواڑا ایک چوڑی گلی تھا اور یہاں پنڈت جی نے واقعی اپنے بیٹھنے کے لیے ایک بڑے سے کمرے جیسی جگہ بنا رکھی تھی، ایک چھوٹا سا ڈیسک رکھا ہوا تھا وہاں پر چادر بچھی ہوئی تھی، دری چاندنی تھی، پنڈت جی ڈیسک کے پیچھے بیٹھ گئے اور میں ان سے تھوڑے فاصلے پر… پھر میں نے ان سے پوچھا…؟‘‘
‎’’آپ کیا کرتے ہیں پنڈت جی…؟‘‘
‎’’بڑے مہان ہیں ہم بس بھگوان جس کام سے دو روٹی دے دیتا ہے وہی کر لیتے ہیں، جیوتش ودیا بھی جانتے ہیں حالانکہ ستاروں سے ہماری کبھی نہیں بنی، ہمیں دیکھ کر ہمیشہ اُلٹے سیدھے ہو جاتے ہیں اور مجال ہے جو کبھی صحیح بات بتا دیں، مگر ایک بات ہے ان کا اُلٹا سیدھا پن بھی اپنے کام آ جاتا ہے ہم بھی لوگوں کو ان کے ہاتھوں کی ریکھائیں دیکھ کر اُلٹی سیدھی باتیں ہی بتا دیتے ہیں۔ بس جیسے ستارے ویسی بات، کام چل جاتا ہے اس کے علاوہ کبھی کسی کے گھر میں بھجن کیرتن ہوں تو بھلا پنڈت کاشی رام کے بغیر کیسے ہو سکتے ہیں، دچھنا بھی ٹھیک ٹھاک ہی مل جاتی ہے، کتھا کہہ دی، کام چل گیا، شادی بیاہ کی مہورتیں نکال دیں جس کا جو کام ہوا کر ڈالا، ویسے اپنا صحیح دھندہ جیوتش ہی ہے… اور پھر پربھو جی نمک کھا چکے ہو اپنا اس لیے وشواش ہے کہ نمک حرامی نہیں کرو گے۔ بتا چکے ہیں ہم تمہیں کہ ہمیں جیوتش ویوتش نہیں آتی، کہو کیسی رہی…؟‘‘ پنڈت جی ہنسنے لگے، پھر بولے… ’’اب تین دن تک تو تم عیش کی اُڑائو، مہمان کہہ ہی دیا ہے ہم نے تمہیں، اس میں ساری برائیاں ہیں مگر سب سے بڑی اچھائی یہ ہے کہ جو بات ایک بار کہہ دی جائے، اس میں منہ پھلا لے سو پھلا لے، کوتاہی نہیں کرتی، تین دن تک تو مزے سے ہمارے مہمان رہو اور چوتھے دن جب اس کا منہ بگڑے تو کام دھندہ شروع کر دینا۔‘‘

‎میں پنڈت جی کی باتوں پر ہنستا ہی رہا تھا۔ پھر میں نے ان کے پاس بیٹھ کر یہ بھی دیکھا کہ ان کا کاروبار ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے اِکّا دُکّا لوگ ہاتھ دکھانے بھی آ جاتے ہیں اور پنڈت جی پوری کہکشاں زمین پر اُتار کر اس کا جائزہ لے کر اس شخص کے ستارے نکالتے ہیں اور پھر ان ستاروں کے بارے میں ایسی باتیں بتاتے ہیں اپنے گاہکوں کو کہ نہ خود پنڈت جی کی سمجھ میں آئیں نہ ان کی سمجھ میں آئیں۔ بحالت مجبوری وہ بے چارے پنڈت جی کی فیس ادا کر کے اپنی جان چھڑا کر چلے جاتے تھے۔ اگر پنڈت جی کی دی ہوئی ہدایات میں سے کچھ باتیں واقعی کارآمد ثابت ہوگئیں تو بس پنڈت جی کا بول بالا۔ دن بڑا دلچسپ گزارا تھا شام کو پنڈت جی کو کتھا کہنے کہیں جانا تھا مجھ سے کہنے لگے۔
‎’’چلو میرے ساتھ چلو، کتھا میں بڑا مزاہ آتا ہے اپنی کتھا بھی بس ایسی ہی ہوتی ہے لوگوں کو کبھی کبھی اعتراض بھی ہو جاتا ہے، بھئی دیکھو نا اب پڑھے لکھے تو ہیں نہیں جو رامائن کا ہر صفحہ کھنگال ڈالیں گیتا کو ایک ایک لفظ کر کے پڑھ لیں جو جی میں آتی ہے سنا دیتے ہیں پبلک کو، کچھ لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں اور کچھ تحقیقات کرنے نکل جاتے ہیں۔ ایک دو دفعہ ایسا بھی ہوا کہ تحقیقات کرنے والوں نے گلا پکڑ لیا مگر تجربہ ہے ہمارا زبانیں بند کرنا آتا ہے چلو گے کتھا میں؟‘‘
‎’’پھر کسی دن چلوں گا پنڈت جی، آج رہنے دیجئے۔‘‘
‎’’اچھا ٹھیک ہے تمہارے آرام کی جگہ بتا دیتے ہیں۔‘‘ پیپل کا ایک درخت جو پنڈت جی کے گھر کے صحن کے ایک گوشے میں تھا میری رہائش گاہ قرار دیا گیا۔ اس کے نیچے بانوں کی چارپائی بچھا دی گئی ایک لٹیا رکھ دی گئی۔ بس اس کے علاوہ اور کیا درکار تھا لیکن اسی شام میں نے یہاں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ شروع کر دیا، صحن میں پیپل کے درخت کے پتے بکھرے ہوئے تھے۔ جھاڑو لے کر ان کی صفائی پر تل گیا اور پنڈتائن کے چہرے کی لکیروں میں کچھ کمی واقع ہوئی۔ میں نے پورا صحن صاف کر دیا تھا اور رات ہونے پر چارپائی پر جا لیٹا تھا۔ دماغ کو ایک عجیب سی بند بند سی کیفیت کا احساس ہو رہا تھا اور میں ہر احساس کو ذہن سے جھٹک کر آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ پنڈت جی کے گھر دُوسرا، تیسرا اور چوتھا دن گزر گیا۔ بڑے دلچسپ آدمی تھے، میں انہی تک محدود تھا اور میں نے باہر جا کر کچھ دیکھنا ضروری نہیں سمجھا تھا جو کچھ دیکھ چکا تھا وہی کافی تھا، چوتھے دن پنڈتائن ، ساڑھی کا پلّو کمرے کے گرد اُڑسے پنڈت جی کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔

‎’’ایک دن کا مہمان، دو دن کا مہمان، تین دن کا مہمان، کیا تمہارا یہ مہمان ہمارے لیے بلائے جان نہیں ہوگیا۔‘‘ انہوں نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔
‎’’ارے ارے ارے بکے جا رہی ہے بکے جا رہی ہے یہ بات پیچھے بھی تو کی جا سکتی تھی۔‘‘
‎’’میں عورت ہوں کھری، جو کہتی ہوں سامنے کہتی ہوں کب تک یہ مہمان رہے گا ہمارے ہاں؟‘‘
‎’’یہ مہمان ہے کہاں پنڈتائن میں نے تو اسے گھر کے کام کاج کے لیے رکھ لیا ہے، دو روٹی کھائے گا سال سوا سال میں ایک دو جوڑی کپڑے بنا دیں گے اور بس۔‘‘ پنڈت جی نے کہا اور پنڈتائن اس بات سے خوش ہوگئیں۔ انہوں نے اس حقیقت سے مجھے بخوشی قبول کرلیا تھا کیا برا تھا ویسے بھی کون سے تیر مار رہا تھا بس بیکار زندگی کا بوجھ جسے کہیں بھی رہ کر گھسیٹا جا سکتا تھا۔ اب تو آرزوئیں بھی مرتی جا رہی تھیں۔ کب تک زندہ رکھتا اپنے آپ کو کیسے زندہ رکھتا صحن کی جھاڑو اس کے بعد بھینس کی دیکھ بھال اس کے لیے کٹی کرنا، سانی بنانا، اسے نہلانا۔ پھر گھر کی ساری صفائی بازار کا سودا سلف لانا۔ یہ میری ذمہ داری بن چکی تھی ویسے ذمہ داری معمولی نہیں تھی۔ صبح منہ اندھیرے اُٹھتا تو شام ہی ہو جاتی تھی اب تو پنڈت جی کا ساتھ بھی مشکل ہی سے ملتا تھا۔ البتہ وہ جب بھی مجھ سے ملتے ان کی آنکھوں میں تاسف کے آثار نظر آنے لگتے تھے میرا حلیہ خراب سے خراب تر ہوگیا تھا پنڈت جی نے ایک شام مجھ سے کہا۔
‎’’ایسے تو تیری اَرتھی نکل جائے گی پربھو، مرجائے گا تو تو کام کاج کرتے کرتے یہ آج کل کچھ زیادہ ہی کام ہونے لگا ہے دیکھا تو نے عورتیں ایسی ہوتی ہیں، شادی مت کریو، کبھی بالک یہ ہماری ہدایت ہے تجھے ورنہ اس سے زیادہ کام پڑ جائیں گے مگر کچھ کرنا پڑے گا تیرے لیے کچھ کرنا پڑے گا، تجھے اتنا کام کرتے دیکھ کر تو ہمیں بڑا ہی افسوس ہوتا ہے۔‘‘
‎’’نہیں پنڈت جی ایسی کوئی بات نہیں۔ کاموں میں تو جی لگ جاتا ہے اور دن گزرنے کا پتا بھی نہیں چلتا۔‘‘
‎’’انگ انگ جو ٹوٹ جاتا ہوگا اس کی بات کبھی نہیں کرے گا ویسے آدمی تو شریف ہے پربھو، اس میں کوئی شک نہیں ہے سوچیں گے تیرے لیے سوچیں گے کہ کیا کریں؟‘‘

‎پنڈت جی اگر سوچ رہے ہوں تو سوچ رہے ہوں۔ میں کچھ نہیںسوچ رہا تھا۔ یہاں رہ کر دل و دماغ کو ایک عجیب سا سکون ملا تھا میں نے ساری سوچیں بھی ذہن سے نکال ڈالی تھیں۔ وہ رشتے وہ ناتے جن کی تڑپ نے دل کو مایوسیوں کے اندھیروں میں ڈبو دیا تھا سب کچھ بھلا دیا تھا میں نے صبح جاگتا اور اپنے کاموں کا آغاز کر دیتا۔ پنڈت جی کے بھجن سننے کو ملتے اور پنڈتائن کی جھڑکیاں اور گالیاں، انہوں نے سب کچھ بھول کر بس ایک مالکن کا رویہ اختیار کرلیا تھا۔ ایک بے حد بدمزاج مالکن کا، ہر کام میں کیڑے نکالتی تھیں۔ بات بات پر جھڑکیاں سناتی تھیں لیکن مجھے کوئی بات بری نہیں لگتی تھی۔ میں جانتا تھا کہ میری تذلیل ہو رہی ہے اور ہو سکتا ہے یہی چیز میرے لیے باعث نجات بن جائے مگر پنڈت کے انداز میں اب سنجیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ پنڈتائن سے عموماً ڈرے ڈرے رہتے تھے۔ کچھ کہنے کی مجال نہیں ہوتی تھی کوئی ایسی ترکیب سوچ رہے تھے شاید جس سے بقول ان کے میرا کلیان ہو سکے۔
‎پھر ایک دن چھٹی کا دن تھا غالباً کوئی ہلکا پھلکا تہوار بھی تھا۔ پنڈتائن نے صبح ہی صبح مجھ سے سارے گھر کی صفائی کرائی تھی اور میرے سر پر کھڑے ہو کر ایک ایک چیز کی نگرانی کرتی رہی تھیں۔ پنڈت جی بیٹھے ہوئے تھے اچانک ہی انہوں نے مجھ سے کہا۔
‎’’پربھو، تو نے اپنا ہاتھ نہیں دکھایا کبھی مجھے؟‘‘
‎’’ہاتھ؟‘‘ میں نے پنڈت جی کو دیکھا۔
‎’’ہاں دیکھیں تو سہی تیری ریکھائیں کیا کہتی ہیں؟‘‘
‎’’بس بس ، دماغ مت خراب کرو اس کا پنڈت جی اس کی ریکھائیں جوکچھ کہتی ہیں وہ تمہیں کبھی نہیں معلوم ہوگا، بیکار اس کا من خراب کرو گے کام کرنے دو اسے۔‘‘
‎’’اری بھاگوان کچھ پتا تو چلنا چاہیے کہ کون کتنے پانی میں ہے، میں تو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے ہاتھ میں چوری کی لکیر ہے یا نہیں۔‘‘
‎’’چوری کی؟‘‘
‎’’تو اور کیا گھر کھلا رہتا ہے کسی دن بھینس لے کر نکل گیا تو بتا کیا تو مجھے دُوسری بھینس خرید کر دے سکے گی؟‘‘ پنڈتائن ہول کر خاموش ہو گئیں، پنڈت جی نے ایک آنکھ دبائی اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سامنے کرلیا، کان سے پینسل نکال کر کاغذ پر لکیریں کھینچنے لگے اور پھرایک دَم اُچھل پڑے۔
‎’’ہے بھگوان، ہے بھگوان یہ میں نے کیا کیا۔‘‘ پنڈتائن قریب ہی کھڑی ہوئی تھیں چونک کر بولیں۔
‎’’ہائے رام کیا ہوگیا؟‘‘
‎’’اری تیرا ستیاناس، تو نے اپنے ساتھ میری بھی لٹیا ڈبو دی۔‘‘ پنڈت جی انتہائی خوف زدہ لہجے میں بولے، پنڈتائن کے چہرے کا رنگ بھی بدل گیا تھا، قریب آ کر بیٹھ گئیں اور بولیں۔
‎’’کیا ہو گیا کیا ہوگیا؟‘‘

‎’’بس یہ سمجھ لے جو ہو گیا وہ بہت بُرا ہوگیا اور … جو ہو چکا ہے اس سے آگے کچھ نہیں ہونا چاہیے، ہے پربھو جی ہے معاف کر دیں ہمیں شما کر دیں غلطی ہوگئی پربھوجی غلطی ہوگئی جو کچھ ہوا اس کی غلطی ہوگئی۔‘‘
‎میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے پنڈت جی کو دیکھنے لگا تو پنڈت جی اپنی پتنی کی جانب رُخ کر کے بولے۔ ’’پربھو مہاراج کا ہاتھ تو دیکھ ذرا، نظر تو ڈال ایک اس پر سات ستارے جگمگا رہے ہیں ان کی ریکھائوں میں یہ دیکھ ایک دو تین۔‘‘ وہ پینسل سے اشارہ کر کے ستارے گنوانے لگے اور پنڈتائن میرے ہاتھوں میں ستارے تلاش کرنے لگیں جبکہ مجھے خود ان ستاروں کی جھلک کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔
‎’’ایسے لوگ مہان ہوتے ہیں سات پورنیاں ہیں ان کی ریکھائوں میں اور کسی بھی سمے ساتوں پورنیاں ان کا گھیرا کرسکتی ہیں اور ایسے لوگ اچانک ہی دیوتا بن جاتے ہیں پربھو مہاراج! آپ تو دیوتا ہیں، ہمارے لیے ہمارے بھاگ بھی بدل دیں پربھو مہاراج جے بھگوتی جے بھگوتی۔ پنڈت جی دونوں ہاتھ جوڑ کراوندھے ہوگئے، پنڈتائن کے چہرے پر بھی کسی قدر خوف کے آثار نظر آنے لگے تھے، انہوں نے آہستہ سے کہا۔‘‘
‎’’مجھے کیا معلوم تھا یہ تو ہیں ہی ایسے مگر مگر یہ سات پورنیاں ارے تمہاری ایسی تیسی، مجھے بھی اُلّو بنا رہے ہو تمہاری جیوتش اور میں اسے مان لوں کبھی کوئی بات سچ بھی کہی ہے تم نے۔‘‘ پنڈت جی سیدھے ہو کر پنڈتائن کو گھورتے ہوئے بولے۔
‎’’دیکھ دیورانی ساری باتیں مان لیں میں نے تیری جیون بھر تیری مانتا رہا ہوں مگر مگر اس بات میں تو نے کوئی برائی نکالی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
‎’’کیوں اسے بہکا رہے ہو کام کاج سے بھی جائے گا سُسرا۔‘‘ پنڈتائن نے کہا۔
‎’’تیری مرضی ہے۔ سوچ لے دیکھ لے جتنا اسے ستائے گی بعد میں اتنا ہی نتیجہ بھگتنا ہوگا تجھے، اب تو جانے اور تیرا کام، مجھے ضرور شما کر دیں مہاراج بلکہ پورن مہاراج، پورنیاں آپ کا گھیرا ضرور ڈالیں گی، کسی بھی دن کسی بھی سمے، یہ میں کہے دیتا ہوں مگر اس سمے آپ صرف دیورانی کی طرف رُخ کریں گے جو آپ کے ساتھ زیادتی کرتی ہے میرا کوئی دوش نہیں ہوگا اس میں۔‘‘
‎’’لو میں کونسی زیادتی کرتی ہوں گھر کے کام کاج ہی تو کرا لیتی ہوں، ٹھیک طریقے سے، نہ کریں ہم کونسا کہتے ہیں ان سے ہم خود کرلیا کرتے ہیں اپنا یہ کام، ارے واہ سات پورنیاں گھیرا ڈالیں گی دیکھیں گے کیسے گھیرا ڈالیں گی؟‘‘ پنڈتائن نے کہا اور پائوں پٹختی ہوئی چلی گئیں میں پنڈت جی کا چہرہ دیکھ رہا تھا، پنڈت جی بولے۔

‎’’بس سمجھ لے تیرا کام بن گیا، خود تھوڑا بہت کام کر دیا کر بلکہ ہماری بھینس سنبھال لے تو گھر کے کام کاج سے تو چھٹی مل گئی پنڈتائن سامنے کی بہادر ہیں اندر جا کر جب سوچیں گی تو حلیہ خراب ہو جائے گا کیا سمجھا۔‘‘ اور پنڈت جی کا کہنا کافی حد تک دُرست ہی ثابت ہوا، پنڈتائن کی زبان ایک دم بند ہوگئی تھی مجھے خود بھی گھر کے کام کاج سے دلچسپی تھی اپنی پسند سے سارے کام کر لیتا تھا لیکن اب پنڈتائن نے میرا پیچھا کرنا چھوڑ دیا تھا اور عموماً مجھ سے دُور ہی دُور رہنے لگی تھیں۔ پنڈت جی کے اس ناٹک پر مجھے اکثر ہنسی آ جاتی تھی مگر میں خود گھر کے کاموں میں اُلجھ کر اپنا ذہن بٹائے رکھتا تھا، پنڈت جی سچے جیوشی تھے یا نہیں میں نہیں جانتا تھا، دال روٹی البتہ کما لیا کرتے تھے اور لوگ ان کے پاس آتے رہتے تھے۔
‎مگر پورن ماشی کی رات عجیب واقعہ ہوا، پورے چاند کی روشنی بکھری ہوئی تھی۔ میں پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا پنڈت جی پوتھی سجائے بیٹھے تھے، پنڈتائن کسی بات پر ان سے اُلجھ رہی تھیں کہ اچانک صحن میں عجیب سی روشنی پھیل گئی۔ اتنی روشنی کہ پورا گھر جگمگانے لگا۔ دھنک کے سات رنگوں میں بٹی ہوئی سات حسین دوشیزائیں نہ جانے کہاں سے نمودار ہوئی تھیں ان کے ہاتھوں میں طرح طرح کے غیرمانوس ساز تھے اور ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ، میں نے آنکھیں پھاڑ کر پنڈت جی کو دیکھا کہ یہ شاید میرا وہم ہو۔ مگر پنڈت جی اور پنڈتائن کی آنکھیں بھی پھٹی ہوئی تھیں اور دونوں تھر تھر کانپ رہے تھے۔
‎میں نے پریشان نظروں سے ان عورتوں کو دیکھا۔ ایک سے ایک بڑھ کر حسین تھی، انہوں نے جگمگاتے ہوئے لباس پہن رکھے تھے۔ سب کی آنکھیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ پیپل کے درخت کے نیچے میرے چاروں طرف دوزانو ہو کر بیٹھ گئیں۔ اپنے ساز انہوں نے سامنے رکھ لیے اور پھر فضا میں ان سازوں کی آوز اُبھرنے لگی۔ ایک ایسا سحرانگیز نغمہ پھوٹنے لگا کہ دِل کھنچ جائے۔ کچھ دیر سازوں کی آواز اُبھرتی رہی۔ پھر ان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ وہ کچھ گا رہی تھیں۔ سُر حسین تھے، آوازیں درد بھری لیکن بول نامعلوم۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، بس دماغ سوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ پنڈت کاشی رام اور دیومتی جی بھی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تھیں۔ دیر تک یہ نغمہ جاری رہا۔ پھر وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے ساز بلند کیے اور وہ ان کے ہاتھوں سے غائب ہوگئے۔ پھر اچانک ان کے ہاتھوں میں چراغوں سے جگمگاتی چاندی کی تھالیاں آ گئیں۔

 تھالیوں میں سات سات چراغ روشن تھے۔ وہ تھالیاں کندھے تک بلند کیے میرے گرد رقص کرنے لگیں۔ رقص کا یہ انداز بھی بے حد دلنشیں تھا۔ ایک ایک میرے سامنے آتی تھالی کو میرے سر سے چھوتی پیروں تک لے جاتی، پھر دُوسری کے لیے جگہ خالی کر دیتی۔ یہ شغل بھی خوب دیر تک جاری رہا۔ چاند آدھے سے زیادہ سفر کر چکا تو انہوں نے اپنا یہ مشغلہ ختم کر دیا اور پھر میں نے آخری حیرت انگیز منظر دیکھا۔ وہ اچانک زمین سے بلند ہونے لگیں، ان کے پیروں نے زمین چھوڑ دی۔ ساتوں کی ساتوں بلند ہورہی تھیں۔ وہ پیپل کے درخت سے اُونچی ہوگئیں اور اُونچی۔ پھر اور اُونچی یوں لگ رہا تھا جیسے سات قندیلیں فضا میں اُوپر اُٹھتی چلی جا رہی ہوں۔ یہاں تک کہ وہ ٹمٹماتے ہوئے مدھم ستاروں کی مانند ہوگئیں پھر یہ ستارے بھی ڈُوب گئے۔
‎میں خود بھی اس انوکھے منظر میں اتنا کھو سا گیا تھا کہ باقی سب میری نظر سے اوجھل ہوگیا تھا۔ پنڈت کاشی رام اور ان کی دھرم پتنی بھی یاد نہیں رہے تھے۔ جب سب کچھ نظروں سے دُور ہوگیا تو مجھے وہ دونوں یاد آئے اور میری نظریں ان کی طرف اُٹھ گئیں۔ پنڈتائن تو اوندھی پڑی ہوئی تھیں اور پنڈت جی کو جاڑا چڑھا ہوا تھا۔ بالکل ایسے ہی کانپ رہے تھے وہ جیسے سخت سردی لگ رہی ہو۔ میں اپنی جگہ سے اُٹھا اور پنڈت جی کی طرف چل پڑا۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہا تھا پنڈت جی سمٹتے جا رہے تھے۔ وہ منہ ہی منہ میں کچھ بُدبُدا بھی رہے تھے۔
‎’’یہ سب… یہ سب کیا تھا پنڈت جی…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’شما… شما… شما کرو مہاراج۔ اندھے ہیں ہم۔ اندھے ہیں۔ تم تو دیوتا ہو۔ ہے مہاراج… ہے بھگوتی ہمیں شما کر دو… شما کر دو ہمیں۔‘‘ کاشی رام جی میرے پیروں کی طرف لپکے۔
‎’’ارے… ارے کاشی رام جی… یہ کیا کر رہے ہیں آپ…؟‘‘ میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔

‎’’جے بھگوتی۔ شما کر دو ہمیں۔ اسے بھی شما کر دو۔ ہم نے تو ٹھٹھول کیا تھا ہمیں کیا معلوم تھا کہ تم سچ مچ پورن بھگت ہو۔ ہے پورن بھگت ہمیں شما کر دو۔ اَری اُٹھ اندر چل۔ یہ بے ہوش ہوگئی ہے مہاراج… اسے معاف کر دو… ہم سنسار باسی کیا جانیں کون کس رُوپ میں ہے۔‘‘
‎’’میری بات تو سنیں پنڈت جی…!‘‘ میں نے پریشان ہو کر کہا۔
‎’’بس ایک بار مہاراج… ہم سچے جیوتشی نہیں ہیں۔ ناٹک کرتے ہیں پیٹ بھرنے کے لیے۔ دیومتی۔ اَری اُٹھ جا کم بخت۔ اَری اُٹھ جا ورنہ ماری جائے گی۔‘‘ پنڈت جی دہشت کے عالم میں بے ہوش پنڈتائن کو جھنجھوڑنے لگے۔ وہ میری کچھ نہیں سن رہے تھے بس اپنی کہے جا رہے تھے۔
‎’’میں پانی لاتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور پانی لینے چل پڑا۔ خود میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔ پانی لایا پنڈتائن کو خوب نہلایا گیا۔ تب کہیں جا کر وہ ہوش میں آئیں۔ مجھے دیکھ کر چیخ ماری اور پنڈت جی سے لپٹ گئیں۔
‎’’ارے ارے۔ گرائے گی کیا۔ ہتھنی کی ہتھنی ہو رہی ہے۔ اری سیدھی ہو چل اندر چل…‘‘ پنڈت جی نے انہیں دھکا دیا وہ خود میری طرف نہیں دیکھ رہے تھے۔ بمشکل تمام وہ پنڈتائن کو سنبھالے اندر داخل ہوگئے۔ پھر انہوں نے دروازہ بھی اندر سے بند کرلیا۔ حالانکہ اس سے پہلے یہ دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا تھا۔ میں بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان لوگوں کو کیسے سمجھائوں میں تو خود ان سے سمجھنا چاہتا تھا۔ پھر کچھ نہ بن سکا تو واپس آ کر اپنی چارپائی پر لیٹ گیا۔ وہ انوکھا منظر بار بار آنکھوں میں آ رہا تھا۔ نہ جانے وہ کون تھیں اوریہ سب کچھ کیا کر رہی تھیں۔ پیپل کے پتوں کو تکتے تکتے نیند آ گئی… اور پھر گہری نیند نے سب کچھ بھلا دیا۔
‎صبح کوہمیشہ جلدی آنکھ کھل جاتی تھی۔ عادت پڑ گئی تھی اس کی۔ پنڈتائن دُودھ دوہنے کی بالٹی ایک مخصوص جگہ رکھ دیا کرتی تھیں اور میں جاگ کر پہلا کام یہی کیا کرتا تھا۔ اس وقت بھی جاگ کر ادھر ہی رُخ کیا مگر دُودھ کا برتن اپنی جگہ موجود نہیںتھا اور اسے نہ پا کر مجھے رات کے واقعات ایک دَم یاد آ گئے تھے۔ میں اُچھل پڑا آنکھیں زور زور سے بند کر کے کھولیں۔ رات کے واقعات خواب نہیں تھے۔ پنڈت جی خوفزدہ ہو کر اندر جا گھسے تھے اور انہوں نے دروازہ بند کر لیا تھا اور شاید اسی خوف کے عالم میں آج دُودھ کا برتن بھی اپنی جگہ نہیں پہنچا تھا۔ کچھ دیر سوچتا رہا پھر آگے بڑھ کر بند دروازے کے قریب پہنچ گیا مگر قریب پہنچ کراندازہ ہوا کہ وہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔

‎’’پنڈت جی… چاچی جی۔ دُودھ کی بالٹی دے دیں۔‘‘ میں نے آواز لگائی مگر اندر خاموشی ہی رہی۔ دروازے کو دھکیل کر میں اندر داخل ہوگیا۔ پہلے بھی اندر آ چکا تھا۔ دُوسری اور تیسری بار بھی آواز دینے پر جواب نہیں ملا تو یہ خیال گزرا کہ دونوں گھر میں نہیں ہیں۔ رسوئی سے دُودھ کی بالٹی لے کر بھینس کے پاس آ گیا اور اپنا کام مکمل کر کے دُودھ گرم کر کے چولہے پر رکھ دیا۔ بھوک لگ رہی تھی۔ دُودھ کا ایک گلاس پی کر باہر نکل آیا۔ احاطہ صاف کیا۔ پنڈت جی اور پنڈتائن نہ جانے کہاں چلے گئے تھے۔ انتظار کرتا رہا۔ دس بجے پھر بارہ۔ پھر ایک اور دو… اب بات پریشانی کی تھی۔ کہاں گئے وہ دونوں پہلے تو سوچا تھا کہ ہو سکتا ہے کسی کام سے نکل گئے ہوں مگر اب تو آدھا دنگزر چکا تھا۔ اچانک دِل میں خیال آیا کہ کہیں وہ خوفزدہ ہو کر گھر سے بھاگ تو نہیں گئے۔ اس تصوّر سے خود حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر ان کا تھا۔ ان کے بغیر تو یہاں رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آہ ایسا ہی ہوا ہے اب انہیں کہاں تلاش کروں۔ وہ اس گھر کے مالک ہیں، اگر میری وجہ سے خوفزدہ ہوئے ہیں تو مجھے گھر چھوڑ دینا چاہئے۔ وہ کہاں چلے گئے۔ انہیں کہاں تلاش کروں۔ ہو سکتا ہے کسی سے پوچھنے سے پتہ چل جائے۔
احاطے میں دُھوپ چلچلا رہی تھی۔ انتہائی گرم دن تھا مگر اس خیال کے بعد گھر میں بیٹھے رہنا بھی ممکن نہیں تھا، چنانچہ احاطہ عبور کر کے دروازے پر آ گیا۔ گرم لُو کے تھپیڑوں نے مزاج پوچھا۔ اندر تو پھر بھی پیپل کی وجہ سے اَمن تھا مگر باہر… پھر دفعتہ ان بے شمار لوگوں پر نظر پڑی جو پنڈت جی کے گھر کے سامنے والے میدان میں سر نیہوڑائے بیٹھے ہوئے تھے۔ میلے کچیلے چیتھڑوں میں ملبوس وہ قطاریں بنائے بیٹھے ہوئے تھے بالکل خاموش۔ حیرانی سے آگے بڑھا اور ابھی ان سے چند قدم دُور تھا کہ اچانک وہ اُچھل اُچھل کر کھڑے ہونے لگے۔ تب میں نے انہیں بغور دیکھا اور میرے بدن میں خون کی گردش رُک گئی۔ آہ وہ انسان نہیں تھے۔ لاتعداد بھیانک صورتیں میرے سامنے تھیں۔ چھوٹے بڑے قد، چیتھڑوں میں لپٹے، پتلی ٹانگیں، سوکھے ہاتھ، گنجے سر اور بڑی کھوپڑیاں۔ گول آنکھیں ہیبت ناک انداز میں پھٹی ہوئیں۔ دہشت کے عالم میں پلٹا اور دروازے سے اندر گھس جانا چاہا مگر… دروازہ… وہاں تو کوئی دروازہ نہیں تھا۔ پنڈت جی کا گھر ہی غائب ہوگیا تھا۔ پیچھے وسیع میدان نظر آ رہا تھا۔ میں آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا۔ پنڈت جی کا مکان کہاں رہ گیا۔ آہ پھر گڑ بڑ شروع ہوگئی۔ پھر کسی نئی مصیبت نے میری طرف رُخ کیا۔ اب کیا کروں کیا پوری بستی ہی غائب ہوگئی۔ کیا… مگر سامنے کے رُخ پر بہت دُور مکانات نظر آ رہے تھے اور میرے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اب ان کے درمیان سے گزر کر آگے بڑھوں۔ لرزتے دل کو سنبھال کر آگے بڑھا اور وہ اس طرح اَدب سے پیچھے ہٹ گئے جیسے مجھے راستہ دینا چاہتے ہوں۔ میں ان کے بیچ سے نکل کر آگے بڑھا تو پورا مجمع میرے ساتھ ہولیا۔ وہ مارچ پاسٹ کرتے میرے پیچھے آ رہے تھے۔ دم ہی نکلا جا رہا تھا۔ خوف کے عالم میں سوچنے سمجھنے کی قوتیں گم ہوگئی تھیں۔ دفعتہ ٹھوکر لگی اور گرنے سے بچنے کے لیے کئی قدم دوڑنا پڑا۔ شیطانی گروہ پیچھے رہ گیا اورمیں نے اس موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ ایک دَم دوڑ لگا دی تھی مگر خدا کی پناہ۔ انہوں نے بھی دوڑنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے قدموں کی دھمک اور ہولناک آوازیں سن کر گھروں کے دروازے کھلنے لگے۔ مگر جب میں ان گھروں کے درمیان سے گزرا تو ہر گھر سے دہشت بھری چیخیں اُبھرنے لگیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ دُوسروں کو بھی نظر آ رہے تھے۔ کون ہیں یہ کون ہیں۔ یقیناً یہ بھیانک وجود انسان نہیں تھے۔ میں دوڑتا ہوا ایک بازار میں پہنچ گیا۔ دُکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ دُھوپ اور گرم ہوا کی وجہ سے خریداری تو نہیں ہو رہی تھی مگر دکاندار دُکانوں میں موجود تھے۔ انہوں نے حیرانی سے اس جلوس کو دیکھا اور پھر ان کا بھی وہی حشر ہوا۔ بہت سوں نے دُکانوں کے شٹر گرائے اور بہت سے دکانوں سے اُتر کر بھاگے۔ میں نے رفتار سست کی تو میرے پیچھے دوڑنے والوں کی رفتار بھی سست ہوگئی۔ وہ میرا پیچھا چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ دوڑنا ترک کر کے سست قدمی اختیار کی مگر ان سے پیچھا چھڑانا ناممکن نظر آ رہا تھا۔
پھر کسی طرح پولیس کو خبر ہوگئی۔ جونہی بازار ختم ہوا اور ایک بڑی سڑک آئی میں نے سامنے سے پولیس کی دو گاڑیاں آتے ہوئے دیکھیں۔ پولیس کو دیکھ کر میری جان ہی نکل گئی۔ اب آئی میری شامت۔ 

میں نے سوچا اور رُک گیا۔ پولیس گاڑیاں تیز رفتاری سے ہمارے قریب پہنچ گئیں اور ان سے لاٹھی بردار پولیس والے نیچے کودنے لگے۔ دونوں گاڑیوں سے پولیس افسر بھی نیچے اُترے تھے۔
’’ارے۔ کون ہو تم اور…‘‘ ایک افسر نے کڑک کر مجھے اور پھر میرے پیچھے مجمع کو دیکھتے ہوئے کہا مگر پھر وہ صرف انہیں دیکھتا رہ گیا۔ میرا تعاقب کرنے والے ہولناک بھوتوں نے بولنا اور منمنانا شروع کر دیا تھا۔ وہ دَبی دَبی آواز میں ہنسنے بھی لگے۔ ان کی صورتیں اور حلیے ہی کونسے کم بھیانک تھے کہ انہوں نے ایک اور عمل بھی شروع کر دیا وہ دُور تک پھیل گئے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنی کھوپڑی شانوں سے اُتار کر دُوسرے کی طرف پھینکی اور دُوسرے نے اسے گیند کی طرح لپک لیا۔ پھر اس نے وہ کھوپڑی تیسرے کی طرف پھینک دی پھر وہ سب کے سب ہی یہ کھیلنے لگے۔
دوپہر کا وقت ہُو کا عالم۔ اور یہ بھیانک کھیل۔ پولیس کے جوانوں نے پہلے تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر یہ کھیل دیکھا پھر حلق پھاڑ پھاڑ کر چیختے ہوئے جدھر منہ اُٹھا دوڑ پڑے۔ افسر جہاں تک ممکن ہو سکا دلیری کا مظاہرہ کرتے رہے۔ پھر ان میں سے ایک چیختا ہوا ایک پولیس گاڑی کے نیچے گھس گیا اور دُوسرا جان توڑ کر مخالف سمت بھاگا۔ میں نے بھی موقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اور اسی پولیس افسر کی طرف دوڑ پڑا۔ میں اس کے ساتھ نکل جانا چاہتا تھا مگر افسر کچھ اور ہی سمجھا۔ اس نے مجھے اپنا پیچھا کرتے دیکھ کر بُری طرح چیخنا شروع کر دیا۔
’’ہرے، ہرے، مر گیا رے، ہرے، مم، میں ہرے بچائو… ہرے بچائو… بچائو۔ رام دیال… ہرے رامورے، ہوئے ہوئے ہوئے۔‘‘ وہ ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور میں چونکہ اس کی سیدھ میں دوڑ رہا تھا اس لیے اس سے اُلجھ کر میں اس کے اُوپر ہی گرا تھا۔ افسر ذبح ہونے والے بکرے کی طرح چیخا اور ساکت ہوگیا مگر میں چوٹوں کو بھول کر پھر اُٹھا تھا۔ نگاہ پیچھے بھی اُٹھی تھی۔ وہ اپنے اپنے سر دُوسروں سے مانگ کر اس طرح شانوں پر رکھ رہے تھے جیسے ٹوپیاں پہن رہے ہوں، اور پھر وہ مستعدی سے دوبارہ میرے پیچھے لگ گئے۔ میں پولیس افسر کو بھول کر پھر دوڑ پڑا تھا۔ آبادی ختم ہوگئی اور کچھ دُور جا کر سڑک بھی ختم ہوگئی۔ آگے کچا راستہ آ گیا تھا اور اس سے آگے کھیتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ نہ جانے کس طرح میں خود کو سنبھالے ہوئے تھا ورنہ اس عالم میں حرکت قلب بھی بند ہو سکتی تھی۔ نکلا تھا پنڈت جی اور پنڈتائن کو ڈھونڈنے اور یہاں یہ آفت گلے پڑ گئی تھی۔ میں نے ایک لمحے کے لیے رُک کر کھیتوں پر نظر دوڑائی، کھیتوں کے بیچوں بیچ مجھے ایک پگڈنڈی نظر آئی تو میں اس پگڈنڈی پر ہوگیا۔ لیکن صاحب کہاں، میرے جاں نثار بدستور میرا تعاقب کر رہے تھے، وہ کھیت روند رہے تھے۔ 

انہوں نے اپنی گردنیں شانوں سے اُتار کر مضبوطی سے اپنے بازوئوں میں پکڑ لی تھیں تا کہ کہیں وہ گر نہ جائیں اور وہ میرا پیچھا کر رہے تھے۔ کھیتوں کا سلسلہ تو تاحد نگاہ چلا گیا تھا۔ چیخیں کھیتوں میں بھی سنائی دیں۔ یہ ان غریب کسانوں کی چیخیں تھیں جو کھیتوں میں کام کر رہے تھے، عورتیں بھی چیخی تھیں، مرد بھی چیخ رہے تھے مگر میرا پیچھا کسی طرح نہیں چھوٹ رہا تھا۔ بہت فاصلہ طے ہوگیا اور اب میرے دوڑنے کی قوت بھی جواب دے گئی تھی۔ کہاں تک دوڑتا سانس بُری طرح پھول گیا تھا، چہرہ سرخ ہوگیا تھا، بمشکل تمام میں نے خود کو زمین پر گرنے سے بچایا اور ایک جگہ بیٹھ کر بُری طرح ہانپنے لگا۔ وہ سب پھر میرے گرد مجمع لگا کر اکٹھے ہوگئے اور عجیب و غریب انداز میں اُچھلنے کودنے لگے۔ پھر شاید کچھ اور ہوا، تھوڑی دیر کے بعد بیلوں کی گھنٹیوں کی آوازیں سنائی دی تھیں اور میں نے ایک بہت ہی خوبصورت رَتھ دیکھا۔ یہ رتھ آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا۔ ساز و سامان سے سجا ہوا تھا اور بڑی خوبصورتی سے اسے بنایا گیا تھا۔ رتھ قریب آ گیا اور رتھ سے ایک رتھ بان نیچے اُترا۔ یہ اچھی خاصی شکل و صورت کا مالک تھا پیلے رنگ کی دھوتی اور کرتا پہنا ہوا تھا۔ گلے میں مالائیں پڑی ہوئی تھیں، بڑی بڑی مونچیں بڑی بڑی آنکھیں ماتھے پر تلک، میرے سامنے آ کر اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اور نیچے جھک کر بولا۔
’’رتھ حاضر ہے مہاراج جہاں بھی چلنا ہو رتھ میں بیٹھ جایئے ہمیں آگیا دیجئے ہم لے چلیں گے آپ کو…‘‘
’’بھاگ جائو میں کہتا ہوں بھاگ جائو، بھاگ جائو، یہاں سے، لے جائو یہ رتھ مجھے نہیں بیٹھنا اس میں، میں کہتا ہوں بھاگ جائو…‘‘ رتھ بان نے خوفزدہ سی شکل بنائی۔ گردن خم کی اور مرے مرے قدموں سے چلتا ہوا واپس رتھ میں جا بیٹھا اور اس کے بعد اس نے بیلوں کو واپس ہانک دیا۔ کچھ دیر کے بعد یہ رتھ میری نگاہوں سے غائب ہوگیا تھا لیکن وہ مجمع پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا، میں نے تھک ہار کر ان سے کہا۔
’’آخر تم کون لوگ ہو، کیوں میرے پیچھے لگے ہوئے ہو، کیوں لگے ہوئے ہو میرے پیچھے؟‘‘ ان میں سے ایک خوفناک شکل کا شخص آگے بڑھا اس کی گردن شانوں پر ہی تھی۔ اس نے منمناتی آواز میں کہا۔
’’بیر ہیں مہاراج آپ کے، ایک سو اکہتّر ہیں پورے، ہمیں آپ کی سیوا کا حکم دیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ ہر سمے آپ کی سیوا میں رہیں۔‘‘
’’اور اس طرح مجھے دوڑاتے رہو…‘‘

’’مہاراج آپ کا ساتھ تو دینا ہی تھا آپ چلے سو ہم چلے، آپ دوڑے سو ہم دوڑے، ہم تو بیر ہیں آپ کے، آپ کی پرجا ہیں مہاراج، آپ کی پرجا ہیں ہم۔‘‘
’’کیا تم اپنی یہ صورتیں گم نہیں کر سکتے؟‘‘ میں نے غرّاتے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’کرسکتے ہیں۔‘‘ اس شخص نے معصومیت سے جواب دیا اسے شخص کہنا اس کے لیے عجیب سا بے شک لگتا ہے لیکن میں کسی ایسے جاندار کو کیا کہوں جس کے دو ہاتھ دو پائوں سر گردن آنکھیں سب کچھ ہوں بس ذرا ہیئت بدلی ہوئی ہو، میرے ان الفاظ کے ساتھ ہی اچانک ہی سارا مجمع نگاہوں سے اوجھل ہوگیا اورمیں منہ پھاڑ پھاڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ بڑی عجیب و غریب صورت حال تھی۔ لگ رہا تھا کہ وہ سب کے سب یہیں موجود ہیں لیکن بس آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ آہ کیا کروں میں کیا کروں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا، اتنا دوڑا تھا کہ بھوک لگنے لگی تھی، ایک گلاس دُودھ ہی تو پیا تھا۔ بھلا اس سے کیا بھلاہوتا، میں نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر ادھر اُدھر دیکھا اور اسی وقت وہ شخص پھر نمودار ہوگیا۔
’’بھوجن لگا دیتے ہیں مہاراج۔‘‘ اس نے میرے اندر کی آواز سن لی تھی، آہ بڑا خوفناک وقت آ پڑا تھا مجھ پر۔ میں نے کوئی جواب بھی نہیں دیا تھا کہ دفعتہ ہی میں نے اپنے سامنے ایک قالین کھلتے ہوئے دیکھا بڑا خوبصورت قالین تھا وہ اور وہیں کچی زمین پر کھل گیا تھا اور پھر قالین پر بے شمار پھل اور کھانے پینے کی دُوسری اشیاء سجنے لگیں۔ میں حیران نگاہوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ پورا قالین کھانے پینے کی چیزوں سے بھر گیا تھا، ہنسی بھی آ رہی تھی اپنے آپ پر اور اپنے ان بیروں پر جو نجانے کہاں سے میرے بیر بن گئے تھے۔ میں بڑی پریشانی کے عالم میں انہیں دیکھتا رہا۔ وہ شخص اب بھی میرے سامنے اس طرح ہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا جیسے میرے دُوسرے حکم کا انتظار کر رہا ہو۔ یہ سارے کے سارے بڑی انکساری کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن جو چیز حقیقت ہی نہ ہو اسے تسلیم کرنا ناممکنات میں سے ہوتا ہے، میں تو انہیں حقیقت ہی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ سب کالا جادو تھا سب کالا جادو اور یہ سب جو میرے سامنے آ کر سجا تھا یہ بھی کالے جادو ہی کے زیر اثر تھا۔ حرام اور ناپاک چیز میں اسے اپنے شکم میں نہیں اُتار سکتا، آہ جو غلاظت میرے وجود میں داخل ہوگئی ہے وہی کونسی کم ہے کہ میں اپنی بھوک کا شکار ہو کر مزید غلاظت اپنے وجود میں اُتار لوں۔ میں نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’اُٹھا لو، اس سب کو اُٹھا لو مجھے نہیں چاہیے یہ سب کچھ، سمجھے اُٹھا لو، ورنہ میں اسے اُٹھا کر پھینک دوں گا۔‘‘

 میں نے جھک کر قالین کے دونوں سرے پکڑے اور اسے اُلٹ دیا۔ ساری چیزیں اوندھی ہوگئی تھیں اور سہما ہوا بیر پیچھے ہٹ گیا تھا، اس نے مایوس نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھا دُوسرا کوئی میرے سامنے نہیں تھا لیکن ان سب کی موجودگی کا احساس مسلسل ہو رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ سب موجود ہیں۔ بہرحال یہ کھانا پھینک دیا گیا اور میری نگاہیں سامنے کھیتوں میں ان پھوٹوں پر پڑیں جو خودرو تھیں، کھیتوں میں اُگ آئی تھیں، بھوک واقعی لگ رہی تھی، جو واقعات پیش آئے تھے اب ان میں ایڈجسٹ ہوتا جا رہا تھا، آگے بڑھا، ایک پھوٹ توڑی اور اس کا چھلکا دانتوں ہی سے اُتار کر اسے آہستہ آہستہ کھانے لگا۔ پھوٹ نے شکم سیر کر دیا تھا لیکن جس مصیبت میں گرفتار ہوگیا تھا اس سے چھٹکارے کا کوئی ذریعہ نہیںتھا۔ دل میں سوچا کہ یہاں سے آگے بڑھوں اور چند قدم آگے بڑھائے لیکن اچانک ہی یوں محسوس ہوا جیسے زمین سے اُوپر اُٹھتا چلا جا رہا ہوں اور میں زمین سے خاصا اُونچا اُٹھ گیا، میرے منہ سے بوکھلاہٹ بھری آوازیں نکل رہی تھیں۔
’’ارے ارے، یہ کک… کون، کون کیا کیا ہے؟‘‘ جواب میں مجھے آواز سنائی دی۔
’’ہم اپنے کندھوں پر آپ کو لے کر چل رہے ہیں مہاراج آپ تھک گئے ہیں دھرتی پر سفر نہیں کر سکیں گے، بیٹھے رہیں، بیٹھے رہیں ہم آپ کو گرنے نہیں دیں گے۔‘‘
’’نیچے اُتارو مجھے، میں کہتا ہوں مجھے نیچے اُتارو…‘‘ میں نے کہا اور مجھے نیچے اُتار کر کھڑا کر دیا گیا۔ وہ میری وجہ سے پریشان تھے اور میں ان کی وجہ سے پریشان تھا۔ ان بیروں کے بارے میں کچھ بھی تو نہیں جانتا تھا۔ دل کی حالت بڑی عجیب ہو رہی تھی۔ سخت پریشان ہو رہا تھا۔ نیچے اُترا اور ایک لمحے کھڑا رہا۔ پھر چند قدم آگے بڑھا لیکن جیسے ہی پیر آگے بڑھایا پائوں کے نیچے کوئی لجلجی سی شے محسوس ہوئی۔ دُوسرا پائوں آگے بڑھایا تو اس کے نیچے بھی بالکل ایسا ہی لگا۔ پھر یہ ہوا کہ میں قدم نہیں بڑھا رہا تھا لیکن آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے پیروں کے نیچے اس ذریعے کو دیکھا جو مجھے آگے بڑھا رہا تھا تو ایک بار پھر میرے حلق سے دہشت بھری چیخ نکل گئی۔ وہ بڑی بڑی مکڑیاں تھیں اتنی بڑی کہ میرے پائوں بآسانی ان کے جسموں پر ٹکے ہوئے تھے اور وہ اپنے بے شمار قدموں سے مجھے آگے بڑھا رہی تھیں۔ میں نے خوفناک چیخ کے ساتھ چھلانگ لگائی لیکن جہاں گرا تھا وہاں بھی ایک مکڑی کی پشت پر ہی گرا تھا۔

 اس کے پائوں میرے وزن سے پھیل گئے لیکن رفتہ رفتہ وہ پھر پائوں جما کر کھڑی ہوگئی، دُوسرا پائوں آگے بڑھایا تو پھر وہی مکڑی آ گئی، میں نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔
’’آہ مجھے آزاد کر دو، مجھے آزاد کرو میں، میں تھک گیا ہوں، میں تنگ آ گیا ہوں۔‘‘ سامنے ہی ایک درخت نظر آ رہا تھا اس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں، میں مکڑیوں سے پائوں اُتار کر جہاں بھی قدم رکھتا ایک نئی مکڑی نمودار ہو جاتی اور میرا پائوں اس کی پشت پر ہی پڑتا۔ میں بری طرح بدحواس ہوگیا تھا۔ بھلا اس لجلجی اور منحوس شے پر کیسے سفر کرتا، کس عذاب میں گرفتار ہوگیا آہ کس عذاب میں گرفتار ہوگیا ہوں۔
(جاری ہے)

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 14

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,