| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 20
رائیٹر :ایم اے راحت
پھر دوبارہ جھک کر لاش کے کھلے ہوئے سینے میں سر ڈال دیا۔ دانتوں سے اس نے رجنا وتی کے اندرونی جسم میں کسی چیز کو جھٹکا دیا اور اس کا کلیجہ دیگر لوازمات کے ساتھ باہر نکال لیا۔ میں نے جنون کے عالم میں ادھر ادھر دیکھا، ایک انسانی پائوں کی سوکھی ہوئی ہڈی مجھ سے کچھ فاصلے پر پڑی ہوئی تھی۔ میں نے اسے اٹھایا اور گھما کر پوری قوت سے مہاوتی پر دے مارا۔ نشانہ درست نہ رہا، ہڈی اس کے سر سے گزر گئی مگر مہاوتی نے جلدی سے کلیجہ دانتوں میں دبا کر ایک لمبی چھلانگ لگائی اور ایک چٹان سے دوسری پر، دوسری سے تیسری پر اور پھر کافی اوپر ایک دیوار میں نکلی ہوئی چٹان پر جا بیٹھی۔ یہ چھلانگیں نپی تلی اور مہارت سے بھرپور تھیں۔ وہ اس وقت بالکل کالی بلی لگ رہی تھی۔ انسان کا اس سے خوفناک روپ کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو گا جو میں دیکھ رہا تھا… وہاں پہنچ کر وہ پھر جھک کر بیٹھ گئی اور منہ میں لٹکا ہوا کلیجہ اسی طرح چپڑ چپڑ چبانے لگی۔
’’مہاوتی، کتیا… تو نے… تو نے رجنا وتی کو مار دیا۔ تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ نہیں چھوڑوں گا تجھے۔‘‘ میری آواز پر اس نے چونک کر مجھے پھر دیکھا اور اس کے بعد پھر جھک کر کلیجہ چبانے لگی۔ میں بے بسی سے اسے دیکھتا رہا پھر میں اپنی جگہ سے اٹھا اور میں نے دور پڑی ہڈی اٹھا لی۔ اس نے رجنا وتی کا کلیجہ ہضم کر لیا تھا۔ میرے ہڈی اٹھانے پر وہ سنبھلی اور اس نے ایک اور چٹان پر چھلانگ لگا دی۔ بالکل بلیوں جیسا انداز تھا۔ میں نے اس چٹان پر یہ ہڈی پھینکی تو وہ نیچے کود آئی۔ مگر وہ مجھ پر حملہ نہیں کر رہی تھی۔ بس رک رک کر غرا رہی تھی، دانت نکال رہی تھی۔ میں اب مسلسل اس پر ہڈیاں پھینکنے لگا اور وہ ادھر سے ادھر بھاگتی رہی۔ پھر ایک بار اس نے بڑی زور سے چیخ ماری اور دروازے سے کالی داس اور شمبھو اندر داخل ہوگئے۔
’’ارے۔ ارے یہ کیا کر رہا ہے تو…‘‘ شمبھو نے کہا۔ اور اس بار میں نے ہڈی اس پر دے ماری۔ وہ میرے اس وار کے لئے تیار نہیں تھا۔ ہڈی اس کے سر پر لگی اور وہ چکرا گیا۔ دوسرے لمحے وہ سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ کالی داس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
’’تیری موت آ گئی ہے پاپی۔ یہ تو نے کیا کیا۔‘‘ میں نے دوسری ہڈی اٹھا کر کالی داس کو نشانہ بنایا اور وہ جلدی سے بیٹھ گیا۔ ہڈی اس پر سے نکل گئی تھی مگر اس وقت ایک خوفناک غراہٹ کے ساتھ مہاوتی مجھ پر آ پڑی۔ وہ زبردست تن و توش کی مالک تھی اس لئے میں اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ میرا سر زمین پر لگا اور آنکھوں کے سامنے ستارے ناچ گئے۔ مہاوتی خوفناک غراہٹوں کے ساتھ مجھے دیکھ رہی تھی۔ دوسری بار میرے سر میں پھر چوٹ لگی اور میرا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔ اس کے بعد کوئی ہوش نہ رہا تھا… دوبارہ ہوش آیا تو ماحول بدلا ہوا تھا۔ یقینا محل ہی کا کوئی کمرہ تھا، نرم بستر، شفاف ماحول۔ دو لڑکیاں سامنے موجود تھیں۔
’’جاگ گئے مہاراج…‘‘ ایک نے دوسری سے کہا۔ میں وحشت زدہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
’’کون ہو تم…؟‘‘
’’ہمارا نام شیلا ہے… یہ روپا ہے۔‘‘
’’یہاں کیا کر رہی ہو…؟‘‘
’’سیوا کے لئے ہیں۔ ناشتہ لگائیں؟‘‘
’’یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘
’’راج محل…!‘‘
’’مہاوتی کہاں ہے؟‘‘ میں نے کہا اور وہ دونوں چونک پڑیں۔ انہوں نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ پھر ایک بولی۔ ’’رانی جی نواس میں ہیں۔‘‘
’’میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’آپ کا سندیس انہیں دے دیں گے مہاراج مگر یہاں کوئی ان کا نام ایسے نہیں لیتا۔ ناشتہ لگا دیں آپ کے لئے۔‘‘
’’نہیں۔ تم فوراً باہر نکل جائو۔‘‘ میں غرا کر بولا اور ان دونوں کے چہرے کی شگفتگی کافور ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو دھکیلتی ہوئی باہر نکل گئیں۔ میں خونی نظروں سے پورے ماحول کا جائزہ لینے لگا۔ سر کے بائیں حصے میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ یہیں وہ چوٹ لگی تھی جس نے مجھے بے حواس کر دیا تھا۔ ہاتھ وہاں پہنچ گیا۔ گومڑا ابھرا ہوا تھا۔ اسے سہلاتا رہا۔ پھر نیچے اتر کر دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ باہر سے بند تھا۔
’’دروازہ کھولو… دروازہ کھولو۔‘‘ میں چیخ چیخ کر اسے پیٹنے لگا۔ کوئی آواز نہیں سنائی دی تھی۔ میں جنونی انداز میں دروازہ پیٹتا رہا اور پھر جب کوئی شنوائی نہ ہوئی تو کمرے میں موجود ہر شے تباہ و برباد کرنے لگا۔ کیوپڈ کا سنگی مجسمہ میں نے چور چور کر دیا۔ چھت میں لٹکے ہوئے قیمتی فانوس کو نیچے گرا کر کچل دیا۔ دیواریں کھرچ کر پھینک دیں۔ کمرے کا حلیہ پوری طرح بگاڑ دیا لیکن کہیں سے کوئی آواز نہیں ابھری تھی۔ بہت دیر تک یہ کوشش کرتا رہا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ خاموشی سے ایک طرف جا بیٹھا۔ سانس تیز تیز چل رہا تھا۔ سخت پریشانی کا شکار تھا۔ بہت دیر گزر گئی، سر کی دکھن بے چین کر رہی تھی مگر کیا کرتا مجبوری تھی۔ اچانک بالکل ویسی ہی ’’شی شی‘‘ کی آواز سنائی دی جیسی ایک بار محل کے باغ میں پتھر کے مجسمے کے منہ سے نکلی تھی۔ میں نے وحشت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھا۔ یہاں تو کوئی مجسمہ بھی نہیں تھا۔ کوئی کھڑکی یا روشن دان بھی نہیں تھا۔ پھر یہ آواز… آواز دوبارہ سنائی دی اور میری نظر زمین پر پڑی۔ یہاں تباہی پھیلاتے ہوئے میں نے دیوار سے چند روغنی تصاویر بھی اتار پھینکی تھیں۔ انہیں پیروں سے روندا تھا۔ یہ ’’شی شی‘‘ کی آواز ایک تصویر سے ابھری تھی۔ ایک جٹا دھاری سادھو کی تصویر تھی جو پالتی مارے آسن جمائے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے عقب میں ایک درخت پھیلا ہوا تھا۔ پیچھے جنگل تھا۔ نزدیک پیٹھے کے پھل سے بنا ہوا کنڈل رکھا تھا۔ یہ تصویر بھی میری کارستانی کا شکار ہوئی تھی۔ اس کی ایک آنکھ پھٹ گئی تھی مگر باقی چہرہ بچا ہوا تھا۔
’’ادھر آ… میرے پاس آ…‘‘ تصویر کی آواز پھر ابھری اور میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ میں نے تصویر کو دیکھا، اس کی اکلوتی آنکھ جھپک رہی تھی اور ہونٹ ہل رہے تھے۔ ’’نکلنا چاہتا ہے یہاں سے؟‘‘
’’ہاں…!‘‘ میری سرگوشی ابھری۔ اس قدر حیرتوں سے گزرا تھا کہ اب کسی ناممکن پر حیرت نہیں ہوتی تھی۔
’’وہ دیکھ ادھر دیوار میں۔ ایک کڑا لٹکا ہوا ہے۔‘‘ میں نے اس کے اشارے پر ادھر دیکھا۔ یہاں پہلے کیوپڈ کا مجسمہ رکھا ہوا تھا مگر اب وہ چور چور ہو کر نیچے پڑا ہوا تھا۔
’’دیکھا…‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’وہ تیری مشکل کا حل ہے۔‘‘
’’کیسے؟‘‘
’’اسے زور سے کھینچ۔ تجھے راستہ مل جائے گا۔‘‘ سادھو کے ہونٹوں سے آواز نکلی۔
’’کہاں پہنچوں گا میں؟‘‘ میں نے سوال کیا مگر سادھو کی آنکھ بند ہو گئی تھی۔ ’’کہاں پہنچوں گا میں۔‘‘ میں غرایا مگر جواب نہ ملا۔ تصویر بے جان ہو گئی تھی۔ ’’بول میں کہاں پہنچوں گا۔‘‘ میں نے گرج کر کہا۔ تصویر اٹھائی اور اسے چندھیاں چندھیاں کر ڈالا۔ اس وقت مجھے ہر چیز پر غصہ آ رہا تھا۔ چندھیاں پھینک کر میں پھر اپنی جگہ جا بیٹھا۔ کڑا میرے سامنے ہی تھا، میں اسے دیکھتا رہا۔ پھر دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا۔ واقعی اس کڑے کی یہاں موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ یہاں کیوں ہے۔ دیکھو اسے کھینچ کر۔ اپنی جگہ سے اٹھا۔ دیوار کے پاس جا کر میں نے کڑے میں انگلیاں پھنسائیں اور اسے زور سے کھینچا۔ کڑے کے ساتھ ایک چوکور سل کھنچی چلی آئی۔ حالانکہ پہلے دیوار میں کوئی نشان نہیں نظر آیا تھا۔ چوکور سل کے پیچھے تاریک خلا تھا۔ عجیب سا دروازہ تھا۔ نہ جانے دوسری طرف کیا ہے۔ کڑا چھوڑا تو سل اپنی جگہ جا ٹکی اور دروازہ بند ہو گیا۔ عجیب میکنزم تھا۔ دوسری بار میں اس سے اندر جانے کے لئے تیار ہو گیا۔ کڑا کھینچ کر سل کو ہٹایا۔ اپنے شانے سے اسے روکا اور بدن سکوڑ کر اس کے پیچھے پہنچ گیا۔
دوسری طرف بہت کشادہ جگہ تھی لیکن میرے اندر داخل ہوتے ہی دیوار کا خلاء بند ہو گیا اور اندر گھور تاریکی چھا گئی۔ آگے جانے کا راستہ تھا اس لئے میں نے بغیر کسی وسوسے کے آگے قدم بڑھا دیئے۔ یہاں کسے پروا تھی۔ اگلا قدم اگر تحت الثریٰ میں لے جائے تو لے جائے، موت کی کسے پروا تھی۔ چنانچہ میں آگے بڑھتا رہا۔ کوئی تین سو قدم چلنے کے بعد راستہ رکا لیکن دایاں ہاتھ جگہ بتا رہا تھا چنانچہ میں ٹٹول کر اس طرف بڑھ گیا۔
یہاں بھی اتنا ہی چلنا پڑا تھا یہاں تک کہ یہ راستہ بھی ختم ہو گیا۔ میں نے دونوں سمت ہاتھ پھیلائے مگر ہاتھ دیواروں سے جا ٹکے۔ اس کا مطلب ہے کہ آگے کوئی راستہ نہیں تھا۔ اب کیا کروں۔ بند دیوار پر ہاتھ پھیرنے لگا کوئی چار فٹ کی بلندی پر اچانک ہاتھ رک گیا۔ بالکل ویسا ہی کڑا محسوس ہوا تھا۔ جلدی سے اسے پکڑ کر اس پر زور لگایا تو تیز روشنی ہو گئی۔ ساتھ ہی ویسا ہی خلاء نمودار ہو گیا۔ کانپتے دل کے ساتھ دوسری طرف نکل آیا۔ دوسری طرف آتے ہی دیوار پھر برابر ہو گئی تھی مگر جس جگہ پہنچا تھا وہ سرخ پتھروں کی دیواروں سے بنا ہوا ایک وسیع کمرہ تھا جس میں ایک چھوٹا سا مضبوط دروازہ لگا ہوا تھا۔ چھت کے قریب روشن دان تھے، ایک روشن دان ذرا نیچا تھا اس میں سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ یہ باہر جانے کا کون سا راستہ تھا۔ دفعتاً مجھے ایک آواز سنائی دی۔
’’کون ہے، کیا کوئی ہے؟‘‘ ساتھ ہی روشن دان کے پاس دیوار بجانے کی آواز سنائی دی۔ میں نے بے بسی سے ادھر دیکھا۔ دیوار سپاٹ تھی اور کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جس سے چڑھ کر روشن دان کے دوسری طرف جھانکا جا سکے۔ میں گردن ہلا کر رہ گیا۔ آواز پھر ابھری۔ ’’کوئی ہے، کوئی ادھر ہے تو مجھ سے بات کرو بھائی…‘‘
’’ہاں… میں ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کون ہو۔ کون ہو بھائی۔ میری مدد کرو۔ مجھے یہاں سے نکال دو، تمہاری مہربانی ہو گی۔‘‘ میں اس آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ سنی ہوئی آواز تھی پھر ذہن جاگ گیا۔ میں نے اس آواز کو پہچان لیا۔ چندربھان، مہاوتی کا شوہر چندربھان… اور سرخ پتھروں کی عمارت… وہ عمارت جہاں میں باغ کی سیر کرتا نکل آیا تھا اور مجھے راجہ چندر بھان ملا تھا… آہ… تو یہ ہے میرے باہر نکلنے کا راستہ۔ گویا اس تصویر والے سادھو نے بھی دھوکا دیا تھا۔ کیوں نہ دیتا سادھو جو تھا…!‘‘
’’بولو بھائی۔ مدد کرو گے میری؟‘‘
’’تم راجہ چندربھان ہو؟‘‘
’’ہاں۔ تمہارا مہاراج۔ میری مدد کرو… اتنا انعام دوں گا تمہیں کہ کئی پشتیں آرام سے رہیں گی!‘‘
’’راجہ چندربھان۔ میں خود یہاں قیدی ہوں۔‘‘
’’قیدی؟‘‘
’’ہاں… یہ ایک بڑا سا کمرہ ہے اس میں ایک دروازہ اور کچھ روشن دان ہیں۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ چندربھان کے لہجے میں بھی مایوسی پیدا ہو گئی۔ کچھ دیر خاموش رہ کر اس نے کہا۔ ’’تمہاری کمر میں زنجیر بندھی ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پیروں میں؟‘‘
’’نہیں میں آزاد ہوں۔‘‘
’’ارے بھائی تو دروازہ کھول کر دیکھو۔ دیکھو کھلا تو نہیں ہے۔‘‘ چندربھان نے کہا اور میں چونک پڑا۔ میں نے دروازے کے قریب پہنچ کر اسے کھول کر دیکھا مگر وہ باہر سے بند تھا۔ چندربھان نے پوچھا۔ ’’کیا ہوا… پتہ چلا؟‘‘
’’بند ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ چندربھان مایوس ہو گیا تھا۔ میں نے اسے کئی آوازیں دیں لیکن اس نے جواب نہیں دیا۔ بعد میں، میں نے دیوار کے اس حصے پر بھی ہزاروں کوششیں کر لیں لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے چندربھان کو پھر پکارا۔ ’’ہاں۔ میں بیٹھا ہوں۔‘‘
’’ تم مہاوتی کے شوہر ہو چندر بھان؟‘‘
’’شوہر…؟‘‘ اس نے کہا۔ پھر بولا۔ ’’کیا تم مسلمان ہو؟‘‘
’’ہاں۔ تم نے شاید لفظ شوہر سے اندازہ لگایا ہے۔‘‘
’’ایسا ہی ہے مگر… تم… تم… اس نے… کسی مسلمان کو۔ تم اس کے پھیر میں کیسے آ پھنسے بھائی۔ کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’مسعود۔‘‘
’’کیا ہوس کے جال میں آ پھنسے تھے…؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’پھر کیا ہوا تھا۔ مہاوتی بری آتما ہے۔ چنڈولنی ہے وہ۔ کالی کی داسی ہے۔ جیسا من چاہے بن جاتی ہے۔ ایسی کہ انسان اسے دیکھے تو سدھ بدھ کھو بیٹھے۔ جسے وہ اپنی سندرتا کے جال میں پھانسنا چاہے اس کا بچنا مشکل ہو جائے۔ کیا تم اس کے جال میں پھنس کر اس حال کو پہنچے ہو؟‘‘
’’نہیں چندربھان۔ ایسا نہیں ہوا۔ میں تقدیر کے جال میں پھنس کر یہاں پہنچا ہوں۔‘‘
’’ہاں کھیل تو سارے بھاگ کے ہوتے ہیں، کہانیاں مختلف ہوتی ہیں۔‘‘ چندربھان افسوس بھرے لہجے میں بولا۔
’’تمہارے بدن پر زنجیریں کیوں باندھ دی گئی ہیں چندربھان؟ جب کہ تم ویسے بھی یہاں سے نہیں نکل سکتے؟‘‘ میں نے سوال کیا اور دوسری طرف سے چند لمحات جواب نہ ملا پھر اس نے کہا۔
’’کیونکہ وہ مجھے جانتی ہے۔ اسے میری قوتوں کا پتا ہے۔ اس نے مجھے یہاں رکھ کر جو تکلیفیں دی ہیں اس کے خیال میں میری طاقت اس طرح ختم ہو جائے گی مگر کتنی۔ آخر کتنی۔ چندنا پھر بھی چندنا رہے گا۔‘‘
’’چندنا؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’ہاں۔ بھٹنڈا، گورسی۔ آس پاس ہی نہیں دور دور تک تم چندنا کا نام پوچھ سکتے ہو۔‘‘
’’مگر چندنا کون ہے؟‘‘
’’راجہ چندربھان۔ میرے سورگباشی پتا مہاراجہ سورج بھان راجہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے نامی گرامی پہلوان تھے۔ پہلوانی ان کا شوق تھا مگر ان کا یہ شوق میری ماتا رانی سچندا کو پسند نہیں تھا۔ یہ شوق پتاجی کو دیکھ کر پیدا ہوا اور میں نے کھل کر پہلوانی نہیں کی مگر چندنا کے نام سے بڑے بڑے پہلوان پچھاڑتا رہا۔ ماتا جی مر گئیں، پتاجی سورگباش ہو گئے۔ میری شادی راج کماری روپ کلی سے ہو گئی مگر چندنا، چندنا رہا۔ لوگ کبھی یہ نہ جان پائے کہ چندربھان ہی چندنا پہلوان ہے۔ مگر وہ جانتی تھی۔‘‘
’’کون؟‘‘
’’مہاوتی۔ پاپن چنڈولنی…‘‘
’’وہ تمہاری بیوی نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اور روپ کلی؟‘‘
’’روپ کلی…!‘‘ چندربھان کے حلق سے سسکی سی نکلی۔ پھر اس کی آواز نہیں سنائی دی۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اسے پکارا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں خاموش ہو گیا اور اس کے بارے میں غور کرنے لگا۔
’’نہ جانے کیا وقت ہوا تھا۔ جب میں نے دروازے پر آہٹیں سنیں اور چونک کر ادھر دیکھنے لگا۔ دروازہ کھلا اور مجھے وہی منحوس شکل والا نظر آیا جسے میں نے پہلے بھی دیکھا تھا۔ وحشی اور نیم پاگل۔ اس نے ایک بڑا سا تھال اندر کھسکا دیا۔ تھال میں پھلوں کے انبار تھے۔ کیلے، ناشپاتیاں، سیب، انگور اور بہت سے کچے ناریل جو پانی سے بھرے ہوئے تھے۔ تھال کھسکاتے ہی اس نے دروازہ پھرتی سے بند کر دیا تھا۔ یہ میرے لئے خوراک تھی اور جتنی تھی اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ شاید کئی دن کے لئے ہے۔ ناریل پانی کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ مہاوتی مجھے یہاں مستقل قید رکھنا چاہتی ہے۔ بھوک دیوانہ کئے دے رہی تھی۔ دو ناشپاتیاں، چار کیلے کھائے اور ایک ناریل کا پانی پیا۔ بدن پر کہولت طاری ہو گئی۔ زمین پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ پھر نہ جانے کب آنکھ کھلی تھی۔ گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ غالباً رات کا کوئی پہر تھا۔ کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ صبروسکون سے پھر آنکھیں بند کر لیں اور دوبارہ اس وقت جاگا جب سورج کی کرنیں چمکتے دن کا پتا دے رہی تھیں۔ دوران خون جاری رکھنے کے لئے اپنے اس قیدخانے کے بہت سے چکر لگائے۔ ابھی چکر لگا ہی رہا تھا کہ روشن دان کے دوسری طرف سے دیوار بجنے کی آواز سنائی دی۔
’’جاگ گئے؟‘‘ دوسری طرف سے چندربھان کی آواز آئی۔
’’ہاں۔‘‘
’’میں کئی بار دیوار بجا چکا ہوں۔‘‘
’’ہاں میں سو رہا تھا۔‘‘
’’کچھ کھایا؟‘‘
’’ہاں۔ وہ پھل رکھ گیا تھا۔‘‘
’’کون مچنڈا؟ وہی بڑے بالوں والا؟‘‘ چندربھان نے پوچھا۔
’’ہاں، وہی مگر…؟‘‘
’’کچھ کہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’دوسری ضروریات کے لئے کیا ہوتا ہے چندربھان؟‘‘
’’جنگل پانی کی بات کر رہے ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کچھ کریں گے۔ مجھے تو دس آدمی جنگل پانی کے لئے دن میں ایک بار لے جاتے ہیں۔ اگر تمہارے پاس وہ نہ آئیں تو سمجھو تمہیں سزا دے رہے ہیں۔ یہ سزا مجھے تین مہینوں کی قید میں ملی تھی۔‘‘
’’پھر تم نے کیا کیا تھا؟‘‘
’’وہی جو ایک مجبور انسان کر سکتا ہے…!‘‘ اس نے جواب دیا اور میں ایک پریشان کن کیفیت محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔ معمولی سی لیکن کتنی مشکل بات تھی۔
’’مسعود۔ یہی نام بتایا تھا تم نے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مجھ سے باتیں کرو بھائی۔ بڑا دل چاہتا ہے کسی سے باتیں کرنے کو…‘‘
’’ہاں، ہاں کیوں نہیں۔‘‘
’’تم نے اپنی بپتا مجھے نہیں سنائی۔‘‘
’’میری کوئی بپتا نہیں ہے۔ ایک مسلمان شخص کے ہاں ملازم ہوں، یہاں بنارسی کپڑے لے کر آیا تھا۔ رانی مہاوتی نے پہلے مجھے مہمان رکھا، پھر قید کر دیا۔‘‘
’’کیا تم ایک خوبصورت مرد ہو۔ نوجوان ہو۔ تم نے اس کا کوئی حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے؟‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’کچھ تو ہو گا، کیا تم نے ہمارے باغ کی سیر کی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’تم نے وہاں مجسمے دیکھے ہوں گے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ میں نے دم روک کر کہا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے۔ وہ بت ہیں؟‘‘
’’پھر…؟‘‘
’’نہیں مسعود۔ وہ سب انسان ہیں۔ سارے کے سارے انسان ہیں۔ انہیں کسی سنگ تراش نے نہیں بنایا بلکہ وہ مہاوتی کے عتاب کا شکار ہیں۔ جیتے جاگتے، ہٹ دھرمی کی حکم عدولی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
’’اوہ… تو وہ سب…؟‘‘
’’ہاں اور بھی نہ جانے کیا کیا ہے۔ وہ چڑیل ہے، ڈائن ہے، انسانی خون پیتی ہے، انسانی گوشت کھاتی ہے، نئے نئے منتر اور جاپ کرتی رہتی ہے۔ کالی شکتی حاصل کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ تم نے کالی داس کو دیکھا ہوگا۔‘‘
’’دیوان کالی داس؟‘‘
’’دیوان۔ آہ تمہیں یہی بتایا گیا ہوگا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’دیوان کالی داس میرا دوست تھا۔ بچپن کا وفادار دوست۔ اس نے میری منتیں کیں، مجھے بہت سمجھایا مگر میں نے نہ مانی اور اس نے میرے لئے… میرے لئے جان دے دی۔ مر گیا وہ میرے ہاتھوں۔ میرا دوست میرے ہاتھوں مر گیا۔‘‘ چندربھان کی آواز رندھ گئی۔
’’تو پھر یہ کالی داس؟‘‘
’’یہ مہاوتی کا بیر ہے جو دیوان کالی داس کے شریر میں رہتا ہے اور مہاوتی… مہاوتی…!‘‘
’’چندربھان تم مجھے اپنی پوری کہانی نہیں سنائو گے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’پوری کہانی۔ ہاں جی چاہتا ہے وہ کہانی دہرانے کو۔ اپنے پاپ سنانے کو جی چاہتا ہے۔ مہاراجہ سورج بھان زندہ تھے۔ مہارانی سچندا جیتی تھیں۔ میں اکیلا راج کمار تھا۔ ماتا پتا کی آنکھ کا تارا۔ ریاست انہی کے دور میں ختم ہو گئی مگر ہمارے پاس بہت کچھ تھا۔ ہم بھٹنڈا حویلی میں آ گئے۔ میں یہاں بھی خوش تھا۔ عیش کرتا تھا۔ پہلوانی کرتا تھا۔ ماتا پتا نے روپ کلی کو دیکھا۔ کلی ہی کا روپ تھا۔ مجھے دکھایا اور میں نے شادی کی ہامی بھر لی۔ میرا بیاہ ہو گیا۔ ہم دونوں عیش سے زندگی گزارنے لگے۔ روپ کلی پتی ورتا تھی، وفادار تھی، مجھ پر جان دیتی تھی۔ میری پہلوانی کے شوق کو اس نے میری وجہ سے ماتا جی سے چھپائے رکھا۔ بھگوان نے ہمیں پانچ سال تک اولاد نہ دی۔ اسے پروا تھی، مجھے نہ تھی۔ ایک بار میں بہت بڑی کشتی مار کر کالی داس کے ساتھ واپس آ رہا تھا۔ ہم دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ دوپہر کا سمے تھا۔ ٹیکاٹیک دوپہری تھی۔ دھوپ ایسی کہ چیل انڈہ چھوڑ دے۔ گھوڑے پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ بیچ میں پیپل کا ایک بہت بڑا درخت پڑتا تھا۔ آس پاس بھی بہت سے درخت ہیں۔ میرا من مچل اٹھا میں نے کالی داس سے کہا کہ وہاں رکیں گے۔ کالی داس بولا۔ ’’یہاں رکنا خطرناک ہے چندرمہاراج۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ سانسا کنڈل ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں بھوت پریت کا راج ہے۔ سر کٹے اور چڑیلیں رہتی ہیں۔‘‘ میں ہنسنے لگا۔ سانسا کنڈل کے بارے میں، میں نے بھی کہانیاں سنی تھیں مگر ہمیشہ اس کا مذاق اڑایا تھا۔ اس وقت بھی میں نے ہنس کر کالی داس کا مذاق اڑایا اور اس بڑے پیپل کے درخت کے نیچے گھوڑا روک دیا۔ یہاں بڑی ٹھنڈک تھی، ہوا بالکل ٹھنڈی اور مست کر دینے والی تھی۔ گھوڑوں نے بھی گردنیں ڈال دیں۔ کالی داس بھی خاموش ہو گیا۔ ہم دونوں آرام کرنے لگے۔ میں نے کہا۔ ’’کالی داس بھوت پریت کہاں ہیں؟‘‘ اس نے خوفزدہ ہو کر کہا کہ اس دوپہر میں ان چیزوں کا نام بھی نہیں لیتے۔ بہت دیر گزر گئی۔ اچانک میں نے چھن چھن کی آواز سنی۔ کالی داس کی تو گھگھی بندھ گئی۔ دہشت سے بولا۔ ’’چندر مہاراج آ گئی۔‘‘ کون۔ میں نے پوچھا مگر اس کے منہ سے آواز نہ نکلی۔ میں نے گردن اٹھا کر دیکھا۔
رنگین کپڑوں میں ملبوس ایک سندری تھی۔ پیروں میں پہنے ہوئے جھانجھن چھن چھن بج رہے تھے، دھوپ سے چہرہ تمتما رہا تھا اور وہ آگ جیسی نظر آ رہی تھی۔ کالی داس نے آہستہ سے کہا کہ اس کے پائوں تو سیدھے ہیں۔ چڑیل تو نہیں لگتی۔ سندری نے ہمیں نہیں دیکھا تھا۔ پیپل کے درخت کے پیچھے دوسرے حصے میں وہ زمین پر بیٹھ گئی اور اپنی اوڑھنی کے پلو سے پنکھا کرنے لگی۔ ہم دونوں سانس روکے اسے دیکھ رہے تھے۔ کچھ دیر وہ پسینہ سکھاتی رہی پھر چھوٹے چھوٹے کنکر اٹھا اٹھا کر ادھر ادھر پھینکنے لگی۔ کسی دور کے درخت پر کوئل کوکی تو وہ بھی کوک اٹھی۔ دونوں میں مقابلہ ہو رہا تھا اور وہ کوئل کی بولی بول بول کر ہنس رہی تھی۔ میرا من اسے دیکھ کر ڈول گیا۔ بڑی سندر لگ رہی تھی وہ۔ پھر اس کے منہ سے آواز نکلی۔
’’کوئل کالی میٹھے میٹھے بول والی، بول میرا پی کہاں؟‘‘
اور میں اس کے سامنے آ گیا۔ وہ گھبرا گئی، ڈر گئی۔ اس نے سہمی سہمی کالی آنکھوں سے مجھے دیکھا مگر ان آنکھوں میں خوف کے ساتھ پسند بھی تھی۔ اسی وقت دور سے ہمیں گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ ایک دیہاتی ہمارے دونوں گھوڑوں کی لگامیں پکڑے ادھر آ رہا تھا۔ قریب آ کر اس نے کہا۔ ’’مہاراج یہ گھوڑے آپ کے ہیں؟‘‘
’’ہاں۔ یہ کہاں سے پکڑے تم نے؟‘‘
’’ادھر ہماری کٹیا ہے۔ یہ چرتے ہوئے ادھر نکل آئے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ کوئی مسافر ہیں جو پیپل کے درختوں تلے سو گئے ہیں۔ سو ادھر آ گیا۔ پھر اس نے لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ارے مہاوتی تو پھر دوپہری میں نکل بھاگی۔‘‘ اور وہ شرارت سے ہنسنے لگی۔
گھوڑے لانے والا بولا۔ ’’سنبھالو مہاراج اپنے گھوڑے اور تو چل چنڈولنی کہیں کی۔‘‘ وہ اسے ساتھ لے گیا مگر میں شکار ہو گیا تھا اور اس کے بعد میں چھپ چھپ کر شمبھو کے پاس آنے لگا۔
’’شمبھو۔‘‘ میرے منہ سے نکل گیا مگر چندربھان نے پھر میری بات کا جواب نہیں دیا اور بولا۔ ’’مہاوتی مجھ سے بے تکلف ہو گئی اور میں زیادہ وقت اس کے ساتھ گزارنے لگا۔ میری ماتا کا دیہانت ہو گیا۔ کوئی سال بھر بعد پتا جی بھی مر گئے۔ روپ کلی اب مجھے بری لگنے لگی تھی مگر نبھا رہا تھا اسے۔ شمبھو سے میں نے کہا کہ مہاوتی کے مجھ سے پھیرے کرا دے۔ وہ بولا کہ مہاراج وہ آپ کی ہے جب چاہیں اسے لے جائیں۔ ہم چنڈولے ہیں، ہمارے ہاں پھیرے نہیں ہوتے۔ اس سمے میں چنڈولوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ روپ کلی سے میں لڑنے جھگڑنے لگا پھر ایک دن میں مہاوتی کو اپنے گھر لے آیا۔ روپ کلی اور دوسروں کو میں نے بتایا کہ وہ میری دوسری پتنی ہے۔ روپ کلی روئی پیٹی مگر بے بس تھی۔ آہستہ آہستہ محل پر مہاوتی کا راج ہونے لگا۔ کالی داس ہمیشہ روپ کلی کا پاٹ لیتا تھا، کئی بار میں نے اسے ڈانٹا تھا مگر وہ کہتا تھا کہ ایک دن مہاوتی مجھ پر مصیبت لائے گی۔ مجھے بہت برا لگتا تھا مگر دوستی کی خاطر خاموش ہو جاتا تھا۔ پھر محل میں کچھ انوکھے واقعے ہونے لگے۔ مہینے، دو مہینے میں ایک آدھ داسی ختم ہو جاتی تھی اور وہ بھی عجیب طریقے سے۔ اس کا بدن کسی جانور کا کھایا ہوا ملتا تھا۔ بڑی پریشانی ہو گئی۔ بہت سی داسیاں ماری گئیں۔ ایک دن اکیلے میں کالی داس نے ایک سادھو کو میرے سامنے پیش کیا اور کہا۔ ’’یہ دھنی رام جوگی ہیں۔‘‘
’’پھر میں کیا کروں؟‘‘
’’پچھلے دنوں یہ میرے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔‘‘
’’کیا کام کرتے رہے ہیں؟‘‘
’’مہاوتی کے بارے میں معلومات…؟‘‘ کالی داس نے کہا۔
میں نے غصے سے کالی داس کو دیکھا اور وہ جلدی سے دھنی رام جوگی سے بولا۔ ’’بتائو دھنی رام جی۔‘‘
’’تیرے محل میں چنڈولنی آ بسی ہے
چندربھان۔ یہ جادوگرنیاں ہوتی ہیں جو خون پیتی ہیں، ماس کھاتی ہیں اور اپنے جاپ پورے کرتی ہیں۔ جاپ پورے کرنے کے لئے انہیں عورتوں کا بلیدان دینا پڑتا ہے، ہو سکتا ہے وہ چنڈولنی تیری دوسری دھرم پتنی ہی ہو۔‘‘
’’تم یہاں سے فوراً نکل جائو جوگی مہاراج۔ ورنہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ سمجھے۔‘‘ میں نے دھکے دے کر جوگی مہاراج کو نکال دیا اور کالی داس سے کہا۔ ’’کالی داس تم حد سے بڑھ رہے ہو۔ تم نے مہاوتی سے جو بیر باندھا ہے وہ نہ تمہارے کام آئے گا، نہ روپ کلی کے۔ اس کے بعد مہاوتی کے بارے میں کچھ نہ کہنا۔ کالی داس خاموش ہو گیا۔ بہت دن گزر گئے۔ پھر ایک دن مہاوتی نے مجھ سے کہا۔
’’تمہارا نمک کھاتی ہوں چندربھان، تمہارے اچھے برے کا خیال رکھنا میرا دھرم ہے۔ کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کیا بات ہے مہاوتی؟‘‘
’’تمہارا دیوان تمہارا وفادار نہیں ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’اور نہ تمہاری دھرم پتنی روپ کلی۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتی۔ اس سے زیادہ کچھ اور سننے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی تھی میں نے۔ میں غصے سے بے قابو ہو گیا۔ سیدھا روپ کلی کے پاس پہنچا اور اس سے نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا۔ روپ کلی آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھتی رہی اور پھر گردن جھکا کر خاموش ہو گئی۔ پھر دوسری صبح مجھے داسیوں نے آ کر بتایا کہ روپ کلی زہر کھا کر مر گئی۔
’’مر گئی۔‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’ہاں… عزت والی تھی۔ اپنے اوپر گندے الزام برداشت نہ کر سکی۔ زہر کھا لیا اس نے۔ اس کی ارتھی اٹھی تو کالی داس بے قابو ہو گیا۔ اس نے مجھے برا بھلا کہا۔ میں غصے میں تو تھا ہی میں نے کالی داس پر حملہ کر دیا مگر مہاوتی نے مجھے اسے مارنے سے روک دیا۔ اس نے کہا کہ کالی داس کو کال کوٹھری میں بند کر دیا جائے۔ یہی اس کی سزا ہے۔ میں کالی داس کو ختم کرنے پر تلا ہوا تھا۔ مگر مہاوتی نے مجھے ایسا نہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ پھر بھی میں نے نو دن تک کال کوٹھری میں رکھا۔ دسویں دن جب میں نے اسے نکالا تو وہ میرے قدموں میں گر گیا۔ اس نے مجھ سے معافیاں مانگیں اور تصدیق کی کہ روپ کلی بری عورت تھی۔ اس طرح میرے دل میں جو خلش پیدا ہو گئی تھی وہ ختم ہو گئی۔ میں شانت ہو گیا۔ روپ کلی کی آتم ہتھیا کا خیال میرے دل سے نکل گیا۔ یوں کئی سال بیت گئے۔ اب محل پر مہاوتی کا راج تھا، وہ ہی سیاہ و سفید کی مالک تھی۔
میں اس کے کسی معاملے میں نہیں بولتا تھا۔ مگر محل میں داسیاں پھر بھی مرتی رہیں، بہت سی بھاگ گئیں۔ یہ بھید میری سمجھ میں آتا تھا۔ بات یہیں تک نہیں رہی، کئی بار میں نے محل میں کچھ نوجوانوں کو دیکھا بعد میں ان کے مجسمے باغ میں سجے ہوئے دیکھے۔ مجھے پھولوں کا ہمیشہ سے شوق تھا اور میں نے نہ جانے کہاں کہاں سے پھول منگوا کر اپنے باغ میں سجائے تھے۔ ان پھولوں کے بیچ مجھے یہ بہت برے لگتے تھے۔ مہاوتی نے کہا کہ یہ اس کا شوق ہے۔ میں خاموش ہو گیا۔
کافی دن کے بعد ایک بار مجھے جوگی دھنی رام پھر مل گیا۔ مجھے دیکھ کر طنز سے مسکرایا اور بولا۔ ’’کیوں چندر سورما… مزے کر رہا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا۔‘‘
’’آنکھوں کے اندھے ہمیشہ دیکھے مگر عقل کے اندھے کو پہلی بار ہی دیکھا ہے۔‘‘
’’وہ کون ہے؟‘‘
’’تو اور کون…؟‘‘
’’اگر تم اتنے بوڑھے نہ ہوتے تو تمہیں اس کا جواب دیتا جوگی مہاراج۔‘‘ میں نے غصے میں کہا۔
’’ہاں۔ بہت بڑا پہلوان ہے تو، میری ہڈیاں چرمرا دیتا اور کیا کرتا۔‘‘
’’پہلوان…؟‘‘ میں نے حیرانی سے کہا۔
’’چندنا پہلوان۔‘‘
’’کس نے بتایا تمہیں؟ سمجھ گیا۔ کالی داس نے بتایا ہوگا۔‘‘
’’بیچارا کالی داس اپنی نیکیوں کا گھائو کھا گیا، اپنی نیکیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ دھت تیرے کی اندھے۔ تجھے سزا ملے گی اس معصوم دھرم پتنی کی موت کی چندربھان جو پوتر تھی، اس وفادار دوست کی موت کی جو کتے کی طرح وفادار تھا تیرا۔‘‘ میں مسکرایا۔ میں نے کہا۔ ’’تمہیں کالی داس کی موت کے بارے میں کس نے بتایا مہاراج۔‘‘
’’تیری طرح عقل کا اندھا نہیں ہوں میں۔‘‘ دھنی رام نے غصے سے کہا۔
’’کالی داس سے ملو گے مہاراج۔‘‘ میں نے طنز سے کہا۔
’’اس گندے بیر سے جو کالی داس کے شریر میں رہتا ہے۔‘‘
’’کیا بکتے ہو؟‘‘ میں غرایا۔
’’بکتا نہیں سچ کہتا ہوں۔ کالی داس بیچارا تو اسی کال کوٹھری میں بھوکا پیاسا مر گیا اور جونہی اس کی آتما نے اس کا شریر چھوڑا چنڈولنی کے بیر نے اس کے شریر میں آ کر چنڈولنی کا کام پورا کر دیا۔ اسے کالی داس کی ضرورت جو تھی تاکہ تیرے بعد دیوان کے ذریعے تیری دولت سنبھال سکے۔‘‘
’’تو حد سے آگے بڑھ رہا ہے دھنی رام۔ گندے الزام لگا رہا ہے مہاوتی پر۔ میں تیری گردن اڑا دوں گا۔‘‘
’’مہاوتی نہیں، مہان وتی کہہ اسے بڑی مہان ہے وہ، تحقیقات کر۔ تجھے بہت جلد سب کچھ پتہ چل جائے گا۔ ذرا سورج ڈوبے اپنے باغ میں چلے جانا اور ان مجسموں سے ان کی بپتا پوچھ لینا، اپنی کہانی سنا دیں گے تجھے۔ اور آج… آہا… آج کی رات کام کی ہے۔ ٹھیک ہے۔ آج کی رات پرانی حویلی کے نیچے جو تہہ خانہ ہے اس میں خود اپنی پھوٹی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لینا۔‘‘
دھنی رام چلا گیا مگر وہ مجھے حیران کر گیا تھا مسعود۔ ایسی اندر کی باتیں کہی تھیں اس نے کہ کوئی انہیں نہیں جانتا تھا۔ پرانی حویلی یہی جگہ ہے جہاں ہم قید ہیں۔ اس کے نیچے تہہ خانہ بھی ہے جس کے بارے میں کسی دوسرے کو نہیں معلوم۔ میرے دل میں کرید سی پیدا ہو گئی۔ میں کچھ پریشان ہو گیا۔ اس شام میں باغ میں آ نکلا۔ ان مجسموں کے بیچ گھومنے لگا۔ تبھی مجھے کسی نے سرگوشی میں پکارا۔ میں نے حیرت سے اس مجسمے کو دیکھا جو مجھے بلا رہا تھا۔
’’تم زندہ ہو۔‘‘ میں نے اسے چھوتے ہوئے پوچھا۔
’’ہم تو جو ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو مگر تم ضرور زندہ ہو، بھاگ جائو یہاں سے جتنی جلدی ہو بھاگ جائو۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’وہ جادوگرنی تمہیں بھی پتھر کا بنا دے گی۔‘‘
’’کون؟‘‘
’’مہاوتی۔ وہ کالکی ہے، کالی کی پجارن۔ وہ ہمیں اپنے کالے جادو کو پورا کرنے کے لئے نوکری کے دھوکے سے بلاتی ہے، ہمیں ایسے حکم دیتی ہے جو ہم پورے نہیں کر سکتے اور پھر وہ ہمیں سزا دیتی ہے، پتھر کا بنا دیتی ہے۔ تم بھاگ جائو۔ فوراً یہاں سے بھاگ جائو۔ بولتے مجسمے ایک ہی کہانی سنا رہے تھے اور میرا دل ڈوبا جا رہا تھا۔ روپ کلی یاد آ ر ہی تھی۔ کالی داس پر بھی غور کر رہا تھا اور اب غور کرنے پر وہ مجھے بھی بدلا بدلا لگنے لگا تھا۔ آہ اس کا مطلب ہے کہ دھنی رام سچ کہہ رہا تھا۔ میں پیپل کے نیچے بری آتما کا شکار ہو گیا تھا۔ اور، اور میں نے اپنے دوست کو، اپنی دھرم پتنی کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ میرا دل دکھتا رہا پھر میرے اندر دھواں اٹھا۔ میں نے دانت پیستے ہوئے سوچا کہ اگر یہ سچ ہے تو… تو یہیں مہاوتی کو زندہ جلا دوں گا۔ اسے جیتا نہیں چھوڑوں گا۔ دھنی رام کی دوسری بات بھی مجھے یاد تھی حویلی کے تہہ خانے والی۔ چنانچہ میں رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ پھر کافی رات گئے میں دبے پائوں حویلی کے تہہ خانے میں داخل ہوا۔ یہ تہہ خانہ ویران پڑا رہتا تھا مگر اس وقت وہاں روشنی تھی۔ سرخ روشنی جو ایک جلتے الائو سے اٹھ رہی تھی۔ تہہ خانے میں کوئی تھا، ضرور کوئی تھا۔ میں نے ایک ستون کی آڑ سے دیکھا اور جو کچھ دیکھا اسے دیکھ کر میرا دماغ سن ہو گیا۔ ایک داسی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ اس سے خون ابل رہا تھا اور اس کے قریب مہاوتی جس کا رنگ اس سمے گہرا کالا تھا، چہرہ بھیانک اور خون میں لتھڑا ہوا تھا، دونوں ہاتھوں اور پیروں کے بل جھکی اس کا ماس کھا رہی تھی۔ میرے قدموں کی چاپ اس نے سن لی۔ آنکھیں اٹھا کر مجھے دیکھا…!‘‘
وہ آنکھیں! وہ آنکھیں کسی انسان کی نہیں تھیں۔ ان کی سفیدیوں میں پتلیوں کی جگہ دو سیدھی کھڑی چمکدار لکیریں نظر آرہی تھیں۔ ان کا رنگ گہرا کالا ہورہا تھا۔ جگہ جگہ خون کے دھبے نظر آرہے تھے۔ مہاوتی کو اس کیفیت میں دیکھ کر میرا غصہ تو ہوا ہوگیا۔ خوف سے میری کپکپی بندھ گئی۔ میں نے بھاگنے کے لیے قدم اٹھائے مگر میرے پائوں میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے شاید میں اس کے سحر میں جکڑ گیا تھا۔ اس جادوگرنی نے مجھے دیکھ کر مجھ پر اپنا کوئی جادو آزما ڈالا تھا۔ پھر میں نے اپنے پیچھے تہہ خانے کا دروازہ بند ہوتے ہوئے سنا۔ میرا بدن تھراتا رہا اور وہ میری نگاہوں کے سامنے ایک انسانی جسم کو خونخوار درندے کی طرح بھنبھوڑتی رہی۔ پھر اس نے اپنی کوئی آٹھ انچ لمبی سرخ زبان باہر نکالی۔ اس زبان کو پورے چہرے پر گھما کر اس نے خون کے دھبے صاف کئے، اپنے ہاتھوں کو چاٹا۔ اس وقت وہ صرف ایک بھیانک درندہ معلوم ہورہی تھی جو انسانی روپ میں تھا۔
میں نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ جس کے ساتھ میں نے زندگی کا اتنا وقت گزار دیا، جس کے لیے میں نے نجانے کس کس کو قربان کردیا، وہ انسان نہیں بلکہ ایک گندی آتما ہے۔ دھنی سچ کہہ رہا تھا۔ وہ سچ ہی کہہ رہا تھا اور اب اس کی کسی بات میں کوئی شک نہیں رہا تھا۔ مجھ سے محل میں جو داسیاں گم ہوگئی تھیں، یقیناً ان کے جسموں کی ہڈیاں اسی تہہ خانے میں پڑی سوکھ رہی ہوں گی۔ وہ عورت ان سب کی قاتل تھی۔ اس نے انہیں کھا لیا تھا اور یہ تصور میرے لیے اتنا بھیانک تھا کہ میرا بدن ہی میرا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب ہوگئی تھیں۔ روپ کلی بھی یاد آرہی تھی۔ میری وفادار بیوی! جس پر میں نے اس پاپن کی وجہ سے شک کیا تھا۔ کالی داس میرا وفادار ساتھی، میرے بچپن کا دوست! اب اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ وہ اسی پاپن کا بیر تھا۔ مجھے ابھی تک اپنی ذات کو درپیش کسی خطرے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ اسی کے جال میں جکڑا ہوا تھا۔ وہ شاید اپنا پیٹ بھر چکی تھی۔ اس کے بعد اس نے مجھے دیکھا، مسکرائی اور بلی کی طرح دونوں ہاتھ آگے کرکے اور پائوں پیچھے کرکے اس نے انگڑائی لی پھر زمین پر دوچار لوٹیں لگائیں اور اس طرح آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی جیسے سو گئی ہو لیکن میں نے اس کے وجود کو تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بدن کی سیاہی چھٹ گئی اور وہ بالکل پہلے جیسی ہوگئی۔ اس نے قریب ہی پڑا ہوا سفید لباس اپنے کاندھوں پر ڈالا اور پھر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی میرے سامنے پہنچ گئی۔ اب اس کی آنکھیں بھی بالکل ٹھیک تھیں۔ میرے جسم میں جیسے دوبارہ زندگی دوڑ گئی۔
میں نے ایک پھریری سی لی اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ میں نے پھٹی پھٹی آواز میں کہا۔
’’مہاوتی! تو کون ہے؟ آج تیری اصل شکل میرے سامنے آگئی۔ بتا مجھے تو کون ہے؟ میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا، تو… تو میری روپ کلی کی قاتل ہے اور تو نے اتنی داسیوں کو اپنی بھینٹ چڑھایا ہے۔ بتا تو کون ہے… کون ہے تو…؟‘‘
’’آرام سے بیٹھ کر باتیں کرو چندر بھان! یہ جگہ تمہیں کیسی لگی…؟‘‘
’’میں تجھ سے پوچھتا ہوں مرنے سے پہلے مجھے اپنے بارے میں بتا دے تو اچھا ہے۔ تجھے زندہ چھوڑنا میری زندگی کا بدترین گناہ ہوگا۔‘‘
’’کالکی ہوں۔ کالی مائی کی پجارن ہوں اور کیا بتائوں تمہیں! گیان حاصل کررہی ہوں، شکتی حاصل کررہی ہوں، جیون بڑھا رہی ہوں اپنا، یہ انسانی گوشت، انسانی خون میری زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سمجھ رہے ہو نا اور کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’مگر تو… تو…؟‘‘
’’ہاں… ہاں بولو…‘‘
’’تو نے مجھے دھوکا دیا۔ تو مجھے وہاں انسانی روپ میں ملی تھی۔‘‘
’’یہ تو ہمارا کام ہے چندر بھان جی! اگر میں وہاں تمہارے من کو نہ بھاتی تو تم مجھے یہاں تک کیسے لے آتے؟ اگر میں تمہیں سب کچھ سچ سچ بتا دیتی تو سوگندکھا کر کہو، وہی کرتے تم، جو تم نے کیا، مجبوری تھی ایسی کون سی بات ہے، مگر تمہیں اس کھوج میں پڑنا نہیں چاہیے تھا۔ جو کچھ میں کررہی تھی، مجھے کرنے دیتے۔ یہ سب کچھ تو سیکڑوں سال سے کررہی ہوں، سیکڑوں سال سے…!‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’اب سارے ہی مطلب جان لو گے۔ ڈھائی سو سال ہے میری عمر سمجھے! ہوسکتا ہے اس سے بھی کچھ زیادہ ہو۔ ڈھائی سو سال سے جی رہی ہوں میں اور… اور ہزاروں سال جینا چاہتی ہوں، ہزاروں سال جیتی رہوں گی۔ تھوڑا سا کام کرنا ہے مجھے بس! شکتی حاصل کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے اور میں کافی شکتیاں حاصل کرکے اپنے آپ کو امر کرلینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’دوسروں کی زندگیوں سے کھیل کر…؟‘‘
’’ہاں…! یہی تو کالی شکتی کی مانگ ہوتی ہے۔ کالے جادو کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تم! یہی وجہ ہے چندربھان جی! اور عام لوگوں کو جاننا بھی نہیں چاہیے۔ جو جان لیتے ہیں، وہ شکتی مان بن جاتے ہیں یا پھر شکتی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اب تم دیکھو نا جنہوں نے جان لیا، وہ پتھر کے مجسموں میں تبدیل ہوگئے مگر تمہارے ساتھ ایسا کرنا ذرا ٹھیک نہیں رہے گا۔ چندر بھان جی! پتی ہو نا تم میرے، راج محل کے مالک ہو۔ پتا نہیں کہاں تمہاری ضرورت پیش آجائے۔ میں اپنے کام تو کرسکتی ہوں لیکن جو کام تمہیں کرنے ہوتے ہیں، وہ کون کرے گا؟ اس کا ایک ہی طریقہ ہے چندر بھان مہاراج! وہ یہ کہ تم جیتے رہو اور ایسے جیو کہ سنسار سے تمہارا کوئی واسطہ نہ رہے۔ واسطہ رکھو گے تو میرے خلاف کام کرتے پھرو گے۔ جوگیوں، سادھوئوں اور سنتوں کے چکر میں پڑتے پھرو گے، مجھے بھی پریشانی ہوگی، تمہیں بھی اور انہیں بھی! اس سے بچائو کا ایک ہی طریقہ ہے تم بیمار ہوجائو چندر بھان! سمجھے، تم بیمار ہوکر اسی پرانی حویلی میں رہو ،کوئی تکلیف نہیں ہوگی تمہیں، جیتے رہو گے مگر ایسے نہیں کہ یہاں سے کہیں باہر چلے جائو اور میرے لیے پریشانیاں پیدا کرو۔‘‘
’’تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا میں! تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ ہنس پڑی پھر اس نے زمین پر سے کوئی چیز اٹھائی، منہ کے قریب لا کر اس پر کوئی منتر پڑھا اور میری جانب اچھال دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے میرے بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ ایسی آگ کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ میرے کپڑے جل رہے تھے، نہ کہیں سے بدبو اٹھ رہی تھی، نہ دھواں نکل رہا تھا۔ لیکن مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے شعلے مجھے چاٹ رہے ہوں۔ میرے حلق سے دہشت بھری آوازیں نکل رہی تھیں اور میرا شریر جل رہا تھا۔ میں زمین پر گر کر لوٹنے لگا اور اس کے قہقہے تہہ خانے میں گونجتے رہے۔ پھر یہ آگ رفتہ رفتہ ٹھنڈی پڑتی چلی گئی۔ آگ ہی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی مسعود، بلکہ میرا دماغ بھی ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ جب ہوش آیا تو اس کمرے میں تھا جس کمرے میں تم اب مجھے دیکھ رہے ہو۔ میں اب بہتر کیفیت میں تھا۔ بس ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے بدن کا سارا خون نچوڑ لیا ہو، جان ہی نہیں رہی تھی میرے ہاتھوں، پیروں میں! زمین پر چت پڑا ہوا تھا میں۔ بہت دیر اسی طرح گزر گئی پھر ذرا بدن میں کچھ جان واپس آئی تو ہمت پکڑی۔ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ان واقعات کے بارے میں سوچنے لگا۔ پرانی حویلی کے اس کمرے کو میں اچھی طرح پہچانتا تھا۔ ظاہر ہے میرے پرکھوں کی حویلی تھی۔ اس نے مجھے قید کردیا تھا اور یہ بات مجھے اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ دروازہ کھولے بغیر میں باہر نہیں نکل سکتا اور دروازہ باہر سے بند ہو تو کوئی بڑے سے بڑا سورما اسے توڑ نہیں سکتا۔ یہ پرانے دور کے بنے ہوئے دروازے ہیں۔ ان پر بڑی ضربیں لگائی جائیں تب بھی ٹس سے مس نہ ہوں جبکہ میرے پاس یہاں کچھ نہیں تھا، خالی ہاتھ تھا میں۔ تب پہلی بار میں نے مچنڈا کو دیکھا۔ وہ آدمی جو اس دن تمہیں بھی نظر آیا تھا۔ گونگا مچنڈا! وہ کون ہے، کیا ہے، میں نہیں جانتا۔
شکل و صورت سے وہ بھی مجھے کوئی گندی آتما ہی لگتی ہے مگر میں مچنڈا کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔ وہ میرے لیے کھانے پینے کی چیزیں لایا تھا جو ایک تھال میں رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے یہ تھال رکھا واپس پلٹا تو میں نے اس پر چھلانگ لگا دی اور اسے دبوچ لیا۔ وہ گینڈے جیسی طاقت رکھتا ہے۔ کسی بھینسے کی طرح ٹکر مار کر دیواریں ہلا سکتا تھا مگر مقابلہ چندنا سے ہوگیا تھا اور چندنا کے بارے میں، میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ اس کا ثانی بھٹنڈہ اور اس کے آس پاس کہیں نہیں تھا۔ میں اس سے زور آزمائی کرتا رہا۔ وہ مجھ پر حملے نہیں کررہا تھا بلکہ اپنا بچائو کررہا تھا۔ بالآخر میں نے اسے کندھے پر اٹھا کر زمین پر دے مارا اور اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا لیکن مجھے یہ محسوس ہوا کہ پیچھے کوئی آیا ہے اور ایک بار پھر میرے حلق سے دہشت بھری چیخیں نکلنے لگیں۔ اسی آگ نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آہ…! دوبارہ میں اس آگ سے دوچار ہوچکا ہوں اور شاید الفاظ میں تمہیں اس کی جلن نہ بتا سکوں۔ ایسی شدید آگ ہوتی ہے وہ کہ بھگوان ہر انسان کو اس سے محفوظ رکھے۔ وہ نرکھ کی آگ ہے مسعود! نرکھ کی آگ ہے۔ اس آگ نے ایک بار پھر مجھے بے ہوش کردیا اور اس کے بعد جب دوبارہ مجھے ہوش آیا تو آگ ٹھنڈی ہوچکی تھی لیکن میرے ہاتھوں، پیروں اور کمر میں یہ زنجیریں پڑی ہوئی تھیں۔ زنجیروں کی لمبائی اتنی ہے کہ بس میں تھوڑی ہی دور تک پہنچ سکوں۔ مچنڈا آتا ہے میرے لیے کھانے پینے کی چیزیں لاتا ہے۔ مجھے جنگل پانی کو لے جاتا ہے مگر اپنا فاصلہ اتنا رکھتا ہے وہ کہ میں اس تک نہ پہنچ پائوں اور اس وقت سے میں اسی طرح جی رہا ہوں۔ بھگوان کی سوگند ایک بار مجھے ان زنجیروں سے نجات مل جائے تو میں کم ازکم مچنڈا کو ضرور ہلاک کردوں۔ اس پاپی کو جو گونگا ہے لیکن اس عورت کا ہرکارہ ہے۔
یہ ہے میری کہانی مسعود! میں نجانے کب سے یہاں قید ہوں۔ اس نے مجھے بیمار مشہور کررکھا ہے، کسی کو میرے پاس نہیں آنے دیتی۔ بہت چالاک ہے وہ نجانے کس کس طرح لوگوں کو ٹالتی رہتی ہے۔ میں جانتا ہوں جب تک میں جیتا ہوں، وہ میری ضرورت محسوس کرتی ہے۔ مر جائوں گا تو وہ اس وقت تک سارا نظام سنبھال چکی ہوگی۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے کاغذوں پر دستخط کرانے آتی ہے اور میں اس کے جادو کے زیراثر اس کے کہنے پر عمل کرلیتا ہوں مگر جب وہ چلی جاتی ہے تو جادو کا اثر مجھ پر سے ختم ہوجاتا ہے اور اس وقت اس کے لیے میرے دل میں نفرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسی زندگی گزار رہا ہوں میں! یہ زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘
میں شدت حیرت سے گنگ تھا۔ زبان کچھ کہنے سے قاصر تھی۔ اس نے مہاوتی کی جو شکل بتائی تھی، اس شکل میں، میں بھی مہاوتی کو دیکھ چکا تھا۔ ایک لفظ جھوٹ نہیں معلوم ہوتا تھا چندر بھان کا اور اس طرح مہاوتی کی شخصیت بھی سامنے آجاتی تھی۔ کس جال میں پھنس گیا میں…! نہ مجھے اس جادوگرنی کی زندگی سے کوئی دلچسپی تھی، نہ موت سے…! میں تو یہاں سے واپس جانا چاہتا تھا۔ حاجی فیاض الدین احمد نے نجانے مجھے کس مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔ کم بخت نوشاد چلا گیا تھا۔ بھگوتی پرشاد اپنی جان بچا کر نکل گیا تھا اور میں یہاں اس عذاب میں گرفتار ہوگیا تھا۔ اس نے مجھے کیوں قید کررکھا ہے۔ کیا وہ میرا بھی گوشت کھانا چاہتی ہے؟ لیکن اب تک تو جو بات علم میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ عورتوں ہی کو کھاتی ہے اور اس دن بھی میں نے ایک عورت ہی کے جسم کو دیکھا تھا یعنی رجنا وتی! معصوم اور مظلوم رجنا وتی…! چند لمحات کے بعد چندر بھان کی آواز سنائی دی۔ ’’ڈر گئے … ڈر گئے تم…؟‘‘
’’نہیں چندر بھان! سوچ رہا ہوں اس کے بارے میں۔‘‘
’’کوئی اس کے بارے میں ڈرے بغیر بھی سوچ سکتا ہے مگر تم سے وہ ضرور کچھ چاہتی ہوگی۔ دیکھو مشورہ دیتا ہوں تمہیں۔ بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جائو اور اگر نہیں بھاگ سکتے تو پھر جو کچھ وہ کہہ رہی ہے، وہ کرلو… ورنہ پتھر بنا دیئے جائو گے۔ ہوسکتا ہے اگر تم سے اس کا مقصد پورا ہوجائے تو وہ تمہیں نکل جانے دے یا پھر تمہیں اپنا مستقل ساتھی بنا لے۔ اگر ایسا بھی ہوجائے تو تمہارا ہی نہیں بہتوں کا بھلا ہوگا۔ اس سے یہ معلوم کرنا کہ وہ کیسے کسی جال میں پھنس سکتی ہے اور ہم سب کیسے بچ سکتے ہیں۔‘‘
’’چندر بھان! اگر مچنڈا ہلاک ہوجائے تو میں تمہیں یہاں سے رہا کرانے کی کوشش کرسکتا ہوں۔‘‘
’’مچنڈا تمہارے بس کی بات نہیں ہے، کسی کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ میں ہی مار سکتا ہوں اسے! ایک بار وہ میرے قبضے میں آجائے۔ یقین کرو جو زبان سے کہہ رہا ہوں، کرکے دکھا دوں گا۔ نہ کروں تو کتا کہہ دینا، چندر بھان مت کہنا۔‘‘
’’تو پھر ٹھیک ہے چندر بھان! میں کوشش کروں گا کہ مچنڈا تمہارے ہاتھ لگ جائے۔‘‘ چندر بھان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یقینی طور پر میری بات ہی اس کی سمجھ میں نہیں آئی ہوگی لیکن یہ الفاظ بھی بلاوجہ نہیں کہے تھے۔ دروازے کے اوپر ایک ایسی چھوٹی سی جگہ بنی ہوئی تھی جو دروازے ہی کا ایک حصہ تھی لیکن…! لیکن کچھ کیا جاسکتا تھا وہاں سے، کچھ کیا جاسکتا تھا اور میں اس بارے میں سوچتا رہا۔ پھل ختم ہوگئے۔ گل سڑ گئے اور مجھے بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ غالباً تیسرا دن تھا جب آج مچنڈا پھر آیا۔ گلے سڑے پھل اٹھا کر لے گیا، نئے پھل رکھ گیا۔ ابھی تک مہاوتی کی طرف سے مجھے نہ تو کوئی پیام ملا تھا اور نہ ہی کسی نے میری خبرگیری کی تھی۔ مچنڈا کے بارے میں یہ اندازہ میں نے لگا لیا کہ وہ تیسرے ہی دن پھر آئے گا۔ اس دوران میری اور چندر بھان کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ اپنے بارے میں تو میں نے چندر بھان کو کوئی خاص بات نہیں بتائی۔
مگر وہ اپنے پرکھوں کے بارے میں نجانے کیا کیا کہانیاں سناتا رہتا تھا۔ معذرت بھی کرتا تھا۔ مجھ سے کہ وہ زیادہ بولتا ہے مگر میں نے اسے اجازت دے دی تھی۔ میں جانتا تھا کہ انسان کی ذہنی کیفیت تنہا رہ کر کیا ہوجاتی ہے۔ پھر چھٹا دن ہوگیا۔ کچھ پھل بچ گئے تھے، زیادہ تر میں نے کھا لیے تھے۔ کمرے میں ناقابل برداشت بدبو پھیل چکی تھی۔ طبیعت ویسے ہی ہر وقت متلاتی رہتی تھی۔ آج زندگی اور موت کی بازی لگانے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ پہلے مچنڈا سے نمٹ لیا جائے اور اگر اس میں کامیابی ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر جو بھی ہوگا، دیکھا جائے گا۔ یہاں رہنا اب میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ مچنڈا کے آنے کا وقت ہوگیا۔ میں نے اپنے جسم کو سمیٹا اور دروازے کے اوپر بنی ہوئی چھوٹی سی جگہ چڑھ گیا۔ اس مختصر جگہ پر خود کو سنبھالنا بہت مشکل کام تھا لیکن یہ زندگی بچانے کا معاملہ تھا اور ایسے اوقات میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے جو عام حالات میںکسی طور ممکن نہ ہو۔ میں چھپکلی کی طرح وہاں چپکا رہا۔ خوش قسمتی سے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ دروازے پر آہٹ ہوئی، دروازہ کھلا اور مچنڈا نئے پھل اٹھائے اندر داخل ہوگیا۔ وہ جھونک میں سیدھا آگے بڑھ گیا۔ یہی موقع تھا میں نے بدن کو سکوڑ لیا اور جھپاک سے دروازے سے باہر رینگ گیا۔ مجھے نہ پا کر مچنڈا کی کیا کیفیت ہوئی، اس کا اندازہ لگانا تو ممکن نہیں تھا لیکن اس وقت صورتحال اچانک دہری شکل اختیار کر گئی۔ یہاں سے نکل کر بھاگ سکتا تھا۔
ایسی سمت اختیار کرسکتا تھا جس سے محل سے ہی باہر نکل جائوں۔ لیکن یہاں ایک مصیبت زدہ اور تھا۔ تنہا بے آسرا…! یہ غیر انسانی عمل تھا۔ اپنی ذات سے پیار کسی اور سے اپنی ذات کے لیے اجتناب تو پوری زندگی نہیں کیا تھا، اب کیا کرتا۔ سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ جو کچھ بھی کرنا تھا، برق رفتاری سے کرنا تھا۔ چنانچہ آگے بڑھ کر چندر بھان کے کمرے کی کنڈی کھولی اور دروازے کا پٹ بھی تھوڑا سا کھول دیا۔ چندر بھان کی بتائی ہوئی کچھ باتیں یاد تھیں اور اس وقت ان پر عمل کرنا تھا۔ چھپنے کے لیے ایک ستون تلاش کیا ہی تھا کہ مچنڈا کی غراہٹیں سنائی دیں۔ وہ آندھی طوفان کی طرح باہر نکلا اور ادھر ادھر دوڑنے لگا۔ اس پر دیوانگی سی طاری تھی۔ میں ستون کی آڑ میں چھپ کر اسے دیکھنے لگا۔ پھر مچنڈا کی نگاہ چندر بھان کے قید خانے کے دروازے پر پڑی۔ وہ اس طرف دوڑا۔ دروازے کو پورا کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ مچنڈا کمرے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اور چندر بھان اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ شاندار تن و توش کے مالک چندر بھان کے چہرے پر مچنڈا کے لیے نفرت کے آثار تھے۔ اس نے مجھے دیکھ لیا جبکہ مچنڈا کی پشت میری طرف تھی۔ دروازے سے اندر گھستے ہی میں نے خود کو سنبھالا اور پھر پوری قوت سے مچنڈا کو آگے دھکیل دیا۔ اس کے ساتھ ہی میں نیچے گر گیا۔
’’چندر بھان! سنبھالو اسے!‘‘ مچنڈا سنبھل نہ پایا اور چندر بھان سے کچھ فاصلے پر جاگرا۔ چندر بھان فوراً میرا مقصد سمجھ گیا۔ اپنی وزنی زنجیریں سنبھالے وہ مچنڈا کے پیچھے آگیا۔
’’کھڑا ہوجا اے مہاوتی کے کتے! بڑا لمبا حساب کرنا ہے تجھ سے۔‘‘ اس نے ہاتھ پھیلا کر کہا۔
مچنڈا کے چہرے پر خوف کے آثار صاف نظر آرہے تھے۔ وہ بھاگنے کا راستہ تلاش کررہا تھا چندربھان چیخا۔ ’’دروازہ… دروازہ…!‘‘ میں نے پھرتی سے پلٹ کر دروازہ بند کردیا۔ مچنڈا نے بھیانک چیخ ماری اور ایک طرف ہوکر نکل بھاگنے کی کوشش کی لیکن چندر بھان نے زنجیر اٹھا دی اور وہ الجھ کر گر پڑا۔ ’’بڑے دنوں کی پیاس ہے سسرے! آج بجھے گی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ مچنڈا پر ٹوٹ پڑا۔ اس نے مچنڈا پر گرفت قائم کرلی اور مچنڈا اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگانے لگا۔ چندر بھان بولا۔ ’’تم مسعود ہو نا۔‘‘
’’ایں… ہاں!‘‘
’’میں نے تمہیں چندنا کے بارے میں بتایا تھا؟‘‘
’’ایں… ہاں!‘‘
’’تو دیکھو چندنا کو! یہ حرام خور مہاوتی کا کتا ہے۔ گندی آتما کی پیداوار…! مگر جب چندنا اکھاڑے میں ہوتا ہے تو پھر چندنا ہی ہوتا ہے۔ ذرا دیکھو اس کو، یہ کلی پٹکا ہے، چندنا کا مخصوص دائو!‘‘ چندر بھان نے مچنڈا کے اوپری سمت آکر پہلے اس کی ٹانگوں میں دونوں ہاتھ پھنسائے، اپنی ٹھوڑی اس کی ریڑھ کی ہڈی پر رکھی اور اس کے بعد اپنے ہی لمبے ہاتھوں سے مچنڈا کی دونوں کلائیاں پکڑ لیں، حالانکہ زنجیریں اسے اس برق رفتاری سے اپنا عمل کرنے کا موقع نہیں دے رہی تھیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ چندر بھان جسمانی طور پر کسی ہاتھی جیسی قوت کا مالک تھا۔ مچنڈا کو اس طرح اٹھا لینا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ ٹھوڑی اس کی ریڑھ کی ہڈی سے ٹکا کر اور اس کے دونوں ہاتھوں کی کلائیاں پکڑ کر چندر بھان نے اپنے گھٹنے زمین پر ٹکائے اور مچنڈا کے دونوں ہاتھ پیچھے سے گھسیٹ کر اسے اپنے شانوں پر لیے کھڑا ہوگیا اور اس کے بعد وہ برق رفتاری سے دوڑا اور مچنڈا کو دیوار سے دے مارا۔ مچنڈا کے حلق سے نکلنے والی چیخ اس قدر زور دار تھی کہ کانوں کے پردے جھنجھنا کر رہ گئے۔ اس کا سر پھٹ گیا تھا اور خون کی دھاریں بہنے لگی تھیں۔ چندر بھان نے ایک ہی دائو میں اسے ادھ مرا کردیا تھا لیکن اس کے باوجود مچنڈا نے زمین پر لوٹ کر اپنے آپ کو سنبھالا۔ چندر بھان ہی کی زنجیروں کا سہارا لیا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کا چہرہ خون سے سرخ ہوکر اتنا بھیانک لگ رہا تھا کہ کمزور دل والا آدمی اسے دیکھ لیتا تو وہیں اس کے دل کی حرکت بند ہوجاتی۔ اس کے فوراً بعد وہ اندھوں کی طرح چندر بھان پر لپکا تھا لیکن چندر بھان اپنی پہلوانی کے دائو پیچ دکھا رہا تھا۔
اس نے ایک بار پھر اپنے بدن کو بل دیا۔ مچنڈا کی کمر میں دونوں ہاتھ ڈالے اسے اٹھا کر کندھے پر رکھا اور پشت کی طرف سے زمین پر دے مارا۔ ایک ضرب چہرے پر لگی تھی، دوسری سر کے پچھلے حصے میں شانے اور گردن پوری قوت سے زمین سے ٹکرائی تھیں۔ مچنڈا کے حلق سے اب درد بھری آوازیں نکلنے لگی تھیں۔ اس نے پھر اپنے آپ کو بچا کر نکلنا چاہا لیکن اس بار وہ جونہی گھٹنوں کے بل اٹھا، چندر بھان پہلے سے تیار تھا۔ اس نے موٹی کڑیوں والی زنجیر مچنڈا کے گلے میں لپیٹ دی اور اسے دو بل دینے کے بعد مچنڈا کی پشت پر سوار ہوگیا۔ درحقیقت اس وقت چندر بھان ایک وحشی جانور لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر شدید نفرت کے آثار تھے، دانت بھنچے ہوئے تھے اور وہ مچنڈا کی گردن زنجیر سے دبا رہا تھا۔
میں ساکت کھڑا طاقت کا یہ کھیل دیکھتا رہا۔ مچنڈا کے حلق سے نکلنے والی غراہٹیں اب خرخراہٹوں میں تبدیل ہونے لگی تھیں اور اس کے اعضاء ڈھیلے پڑتے جارہے تھے۔ دونوں ہاتھ سیدھے ہوکر بار بار نیچے گر رہے تھے۔ زبان باہر نکل آئی تھی۔ اب وہ زنجیر پکڑنے کی کوشش بھی نہیں کررہا تھا۔ غالباً اس کے ہاتھوں میں اتنی جان ہی نہیں رہی تھی کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق رخ تبدیل کرسکیں۔ چندر بھان نے چند لمحات اس طرح اس کی گردن پر طاقت صرف کی اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ اس کے چہرے پر شدید وحشت نظر آرہی تھی۔ پھر اس نے ادھر ادھر دیکھا اور میری نگاہیں اس کی نگاہوں سے ملیں تو وہ کچھ معتدل ہوا۔ مچنڈا زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا۔ چندر بھان نے اس کے سینے پر پائوں رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ ہے مہاوتی کا بیر سمجھے مسعود، دیکھا تم نے چندنا کو میرے مدمقابل جب بھی اکھاڑے میں میرے سامنے آتے تھے، ان کے بدن پر پہلے ہی کپکپی طاری ہوجاتی تھی کیونکہ اس سے پہلے وہ میری دوسری کشتیاں دیکھ چکے ہوتے تھے۔
اپنے مدمقابل کے لیے میرا دل یہ کبھی نہیں چاہتا کہ وہ اپنے پیروں سے اکھاڑے سے واپس جائے۔ بعض اوقات تو بارہا میرے دل میں یہ خواہش ابھری کہ لوگ مجھے یہ بتائیں کہ جس نے مجھ سے کشتی لڑی تھی، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے مگر میرے دوست اوہو… اوہو! تم… تم!‘‘ چندر بھان کو اب اس بات کا احساس ہوا تھا کہ یہ سب کیا ہوگیا۔ میرا اس قید خانے سے نکل آنا اور اس کے بعد مچنڈا کو چندر بھان کی طرف دھکیل دینا، ان ساری باتوں پر اب اسے حیرت ہوئی تھی۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے کہا۔
’’اور جو منصوبہ میں نے بنایا تھا چندر بھان! وہ اس حد تک کامیاب ہوگیا…؟‘‘
’’مگر تم نکلے کیسے وہاں سے…؟‘‘
’’بس! ایک تدبیر کارگر ہوگئی تھی۔‘‘
’’آہ! مچنڈا سے تو ہمیں نجات مل گئی ہے لیکن اس زنجیر کو اور ان کڑوں کو توڑنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ یہاں مچنڈا کے علاوہ اور کوئی پہریدار نہیں ہوتا تھا۔ تم…تم کوئی ایسی چیز تلاش کرو مسعود! جس سے میری زنجیریں کھل جائیں۔ کوئی بڑا ہتھوڑا، کوئی ایسی چیز یہ سب کچھ یہ سب کچھ توڑنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ ہزار کوششیں کرچکا ہوں۔ بس کلائیاں زخمی ہوجاتی ہیں، پائوں زخمی ہوجاتے ہیں، کمر دکھنے لگتی ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔‘‘
میں نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، ان کڑوں کو ایک بار پھر قریب سے دیکھا۔ کھینچا تانی کی لیکن یہ ساری کارروائی مجھے مضحکہ خیز ہی لگ رہی تھی۔ یہ سب کچھ کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی اور اب اس کے علاوہ اور کوئی چارئہ کار نہیں تھا کہ باہر نکل کر کوئی ایسی چیز تلاش کروں۔ میں نے چندر بھان سے کہا۔
’’ہمت نہیں ہارنا چندر بھان! میں اگر چاہتا تو اکیلا بھی بھاگ سکتا تھا لیکن میںنے یہی سوچا کہ پہلے مچنڈا سے نجات حاصل کرلی جائے۔ اس کے بعد دونوں یہاں سے فرار کا پروگرام بنائیں گے۔‘‘ چندر بھان کے چہرے پر شکر گزاری کے آثار نظر آئے۔اس نے کہا۔
’’دیر نہ کرو، جائو کوئی ایسی چیز تلاش کرو جس سے یہ کڑیاں کھل سکیں اور کچھ نہ ہوسکے تو یہ زنجیروں کی کڑیاں ہی درمیان سے ٹوٹ جائیں۔ کام بن جائے گا۔‘‘ میں نے دروازے کی جانب رخ کیا۔ دل ڈر رہا تھا کہ مہاوتی اس طرح یہ سارا معاملہ مچنڈا کے شانوں پر چھوڑ کر بے خبر تو نہ ہوگئی ہوگی۔ پہلے صرف چندر بھان اس کا قیدی تھا۔ چلو ٹھیک ہے چندر بھان کے بارے میں وہ سب کچھ جانتی تھی لیکن میرے بارے میں بھی جانتی تھی۔ کہیں یوں نہ ہو کہ ساری محنت اکارت چلی جائے لیکن اب جبکہ اتنا عمل کرچکا تھا تو چندر بھان کو بے سہارا چھوڑنا حماقت کی بات تھی۔ میں وہاں سے نکلا اور چاروں طرف بھٹکنے لگا۔ یہ پرانی حویلی عجیب و غریب طرز تعمیر کا نمونہ تھی۔ پیچ در پیچ کمرے، پتلی پتلی راہداریاں جن کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ایک طرح سے بھول بھلیاں ہی بنی ہوئی تھیں اور میں ان بھول بھلیوں میں سے گزر کر چاروں طرف نگاہیں دوڑاتا ہوا کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھا جس سے چندر بھان کے ان کڑوں کی زنجیریں توڑی جاسکیں لیکن یقین نہیں تھا۔ ایسی کون سی مضبوط چیز ہاتھ آسکتی ہے۔ وہ ایک کمرہ تھا جس میں، میں داخل ہوا۔ نیم تاریک ماحول میں وہاں مجھے کچھ چیزیں نظر آئیں اور جب میری آنکھوں نے ایک وزنی ہتھوڑا دیکھا تو خوشی سے چمک اٹھیں۔ یہ ہتھوڑا ایک سمت سپاٹ اور دوسری طرف سے چھینی کا سا ڈیزائن رکھتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ اسی مقصد کے لیے یہاں رکھا گیا ہو کہ میں چندر بھان کی زنجیر کاٹ دوں۔ پھرتی سے ہتھوڑے کی طرف لپکا اور میں نے اس کا دستہ پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا۔
دستہ جونہی سیدھا ہوا، مجھے اپنے عقب میں سرسراہٹیں محسوس ہوئیں۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو لوہے کا ایک فولادی جنگلہ میرے اور اس دروازے کے درمیان حائل ہوگیا تھا جس سے میں اندر داخل ہوا تھا۔ عقبی سمت سپاٹ دیواریں تھیں اور بہت چھوٹی سی جگہ تھی۔ میں حیرت سے اس ہتھوڑے کو دیکھنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنی جگہ جتنا میں اسے اٹھا چکا تھا، وہاں ساکت ہوگیا ہے۔ اس کا اگلا سرا زمین پر ویسے ہی پڑا ہوا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے نیچے سے وہ زمین میں پیوست ہو۔ چند لمحات کے بعد یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ یہ کوئی ہتھوڑا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی چیز تھی جسے اس آہنی دروازے کا کنٹرول سسٹم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس کا دستہ اٹھانے سے آہنی دروازہ چھت سے
نکل کر دستہ اٹھانے والے اور دروازے کے درمیان حائل ہوجائے۔ ناقابل یقین سی بات تھی۔ یہ سب کچھ کیسے سوچا گیا تھا ۔کیا مہاوتی مجھ پر نگاہیں رکھ رہی ہے، کیا یہ سب کچھ اس کی اسکیم کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا سوچا جاسکتا تھا۔ ہتھوڑے کے دستے کو میں نے بدن کی پوری قوت سے نیچے دبانے کی کوشش کی۔ یہ سوچ کر کہ شاید آہنی دروازہ واپس اپنی جگہ چلا جائے لیکن وہ اس طرح ساکت ہوگیا تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا۔ گویا میں قید ہوگیا۔
بیچارہ چندر بھان… بیچارہ چندر بھان! اس کی تقدیر میں شاید آزادی نہیں۔ فولادی سلاخوں والے دروازے کو میں نے بری طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر دیکھا لیکن اس میں کوئی جنبش نہیں تھی۔ بالکل سوچی سمجھی اسکیم تھی، بالکل سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ میں ایک قید خانے سے نکل کر دوسرے قیدخانے میں جا پڑا تھا اور اب مچنڈا بھی یہاں موجود نہیں تھا۔ بہت دیر تک جدوجہد کرتا رہا۔ ہتھوڑے پر بھی جس قدر طاقت صرف کرسکتا تھا، کرلی اور جب تھک ہار گیا تو ننگے فرش پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ بلاشبہ تعجب خیز بات تھی لیکن کم ازکم میرے لیے نہیں کیونکہ اب تک جن حالات سے گزر چکا تھا، ان میں انہونے واقعات اس قدر ہوئے تھے کہ کسی بھی واقعے پر بہت زیادہ حیرت نہیں ہوتی تھی۔ دکھ ہورہا تھا یہ سوچ سوچ کر چندر بھان کی نگاہیں دروازے پر لگی ہوں گی۔ اس کے دل میں آس پیدا ہوگئی ہوگی۔ ہر آہٹ پر منتظر ہوگا اس بات کا کہ میں واپس پہنچوں اور اسے اس طویل ترین قید سے نجات مل جائے۔ درحقیقت اپنی کوئی فکر میں نے پہلے بھی نہیں کی تھی، اب بھی نہیں تھی لیکن بیچارہ چندر بھان ان تمام سوچوں کے علاوہ اس وقت اور کچھ نہیں رہ گیا تھا۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ اس نئی قید میں میرا کیا حشر ہوتا ہے۔ مہاوتی کو میری اس نئی قید کے بارے میں معلوم ہے بھی یا نہیں اور جب اسے یہ معلوم ہوگا کہ مچنڈا مرچکا ہے تو اس پر کیا ردعمل ہوگا۔ وقت گزرتا رہا۔ رات گئی۔ بیٹھے بیٹھے تھک گیا تو لیٹ گیا۔ روشندانوں سے سفید چاندنی چھن رہی تھی۔ اب تک کوئی آواز نہیں سنائی دی تھی۔ کسی کو میری اس افتاد کے بارے میں نہیں معلوم ہوسکا تھا۔ اب جو ہوگا، دیکھا جائے گا۔
بھاڑ میں جائے سب کچھ! رات گزری، صبح ہوئی، دوپہر پھر شام! گھپ اندھیرا پھیل گیا اور اچانک مجھے کچھ سرسراہٹیں محسوس ہوئیں۔ سلاخوں دار دروازہ یونہی تھا لیکن پچھلی دیوار کھسک رہی تھی اور اس سے روشنی کی لکیریں اندر آنے لگی تھیں۔ پھر دیوار پوری ہٹ گئی اور سامنے وہی باغ نظر آنے لگا جسے میں دیکھ چکا تھا۔ ہوائوں کے جھونکے اندر آگئے اور بڑی تازگی محسوس ہوئی۔ دوڑ کر باہر نکل آیا مگر باہر قدم رکھتے ہی ٹھٹھک گیا۔ سامنے ہی سندری نظر آرہی تھی۔ وہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے بڑے سکون سے کہا۔
’’آئو!‘‘ میں آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس کے قریب پہنچ گیا۔ اس کے نزدیک خوش رنگ پھلوں کے تھال رکھے ہوئے تھے۔ ’’بیٹھو!‘‘ وہ بولی۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تمہارا انتظار! بیٹھو نا؟‘‘
’’نہ بیٹھوں تو…؟‘‘ میں نے کہا اور وہ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔ پھر بولی۔ ’’کوئی فائدہ نہ ہوگا۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’اپنی سمجھ سے کام نہیں لیتے۔‘‘
’’جو کچھ کہہ رہی ہو، صاف الفاظ میں کہو۔‘‘
’’اس سے پہلے تم اپنے قید خانے سے نکل سکے۔ تم خود جانتے ہو کہ تمہیں نکالا گیا ہے اور جب نکالا گیا ہے تو یہ بھی سوچا گیا ہوگا کہ تم بھاگ سکتے ہو گے۔ یہ سوچا ہوگا تو بندوبست بھی کیا گیا ہوگا کہ بھاگ نہ سکو۔ کیا فائدہ ایک کے بعد دوسری مصیبت میں پھنسنے سے!‘‘
’’خوب! بات تو سمجھداری کی ہے۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’تو بیٹھو۔‘‘ اس نے کہا اور میں گہری سانس لے کر بیٹھ گیا۔
’’گویا اب میں ایک آزاد قیدی ہوں۔‘‘
’’لو پھل کھائو۔ تم بھوکے ہو۔‘‘
’’کیا چھپا ہے ان پھلوں میں؟‘‘
’’تمہاری سوگند یہ پوتر ہیں، پیڑوں سے اترے ہوئے۔‘‘
’’قسم بھی میری کھا رہی ہو۔‘‘
’’ہاں! اس کی وجہ ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا اور سندری خاموش ہوگئی۔ دیر تک کچھ نہ بولی۔ پھر اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور مدھم لہجے میں بولی۔
’’پہلے میں صرف مہا دیوی کے حکم سے تم سے ملتی تھی۔ اب بھی انہی کے حکم سے یہاں آئی ہوں مگر میرے من میں تمہاری ہمدردی اتر آئی ہے۔ تم میرے محسن ہو، تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔‘‘
’’میں نے … احسان…؟‘‘
’’تو اور کیا…! مجھے شنکھا اٹھا لے گیا تھا بھینٹ چڑھانے، کوئی میری رکھشا نہ کرسکا تھا۔ اگر تم شنکھا کی بات ماننے سے انکار نہ کردیتے تو میرا جیون چلا گیا تھا۔ اس لیے اب تمہارا یہ احسان مجھ پر ہے۔‘‘
’’اوہو…! اچھا تو پھر اس احسان کے کچھ اور بدلے بھی چکائو۔‘‘
’’کہو۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے گردن ہلائی۔
’’کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’یہ پھل کھائو، ان میں کوئی کھوٹ نہیں ہے، پیڑوں سے اتارے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کھا لوں گا۔ مجھے جلدی نہیں ہے۔‘‘
’’عجیب ہو۔ خیر پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’بہت سے سوال ہیں۔‘‘
’’پوچھو۔‘‘
’’پہلا سوال۔ مجھے کیوں نکالا گیا ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتی۔ بس مجھے یہاں تمہاری سیوا کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘
’’مہاوتی کہاں ہے؟‘‘
’’محل میں۔‘‘
’’اسے میری نئی قید کے بارے میں معلوم تھا؟‘‘
’’کیوں نہیں! جو ہورہا ہے، مہا دیوی کی مرضی سے ہورہا ہے۔ ویسے تمہارے لیے مہا دیوی بھی حیران ہیں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’شمبھو مہاراج اور وہ باتیں کرتے ہیں۔ مہا دیوی کہتی ہیں کہ تم بڑے شکتی مان ہو۔ بہت کچھ کرسکتے ہو مگر نہیں کرتے۔ نہ جانے کیوں؟‘‘
’’اب وہ کیا چاہتی ہے؟‘‘
’’تمہاری ہی سوگند مجھے نہیں معلوم۔‘‘
’’سندری! تمہیں شنکھا اٹھا لے گیا تھا۔ فرض کرو اگر میں اس کی بات مان لیتا تو تمہاری زندگی تو ختم ہوگئی تھی۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مہاوتی نے تمہاری مدد نہیں کی؟‘‘
’’اوّل تو مہادیوی کالی جاپ کرنے گئی ہوئی تھیں اور پھر شنکھا سے تو وہ مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں۔‘‘
’’وہ اپنے گیان میں شنکھا سے ہلکی ہے؟‘‘
’’اس کا کوئی جواب نہیں دے سکوں گی۔‘‘
’’مجھے یہاں سے نکال سکتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا اور وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگی۔ پھر اداسی سے بولی۔ ’’نہیں!‘‘
’’بس اور کچھ نہیں پوچھنا مجھے!‘‘
وہ خاموش بیٹھی رہی۔ میں نے ایک تھال سے انگوروں کا ایک گچھا نکال لیا۔ خود بھی سمجھتا تھا کہ ہزار آنکھیں میری نگرانی کررہی ہوں گی۔ نکلنا ممکن نہیں ہے، بہتر ہے کہ آئندہ پیش آنے والے واقعات کا انتظار کروں۔ پھل کھاتا رہا پھر آسمان پر چاند نے سر ابھارا اور مصنوعی روشنیاں مدھم پڑ گئیں۔ پورا کھلا چاند تھا۔ سندری بھی چاند کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ’’پورا چاند ہے۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
’’پورن ماشی ہے آج۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر کچھ سوچنے لگا۔ پھر اچانک ایک عمل ہوا۔ ایک جانا پہچانا عمل! چاند کی کچھ روشن کرنیں سیدھی زمین پر پڑیں اور انہوں نے میرے گرد احاطہ کرلیا۔ پھر یہ کرنیں سفید روشن غبار میں بدلنے لگیں اور میرے منہ سے بے اختیار یہ نکل گیا۔ ’’پورنیاں!‘‘ روشن غبار حسین عورتوں کی شکل اختیار کرنے لگا۔ یہ منظر ایک بار پہلے بھی سامنے آچکا تھا۔ ایک معصوم پنڈت کے گھر کے احاطے میں! گویا پورن ماشی کی رات یہ جادو کی پتلیاں نیچے اترتی ہیں اور پورن بھگتی کرتی ہیں۔ میری نگاہ سندری پر پڑی۔ وہ آنکھیں پھاڑے ششدر بیٹھی تھی۔ طرح طرح کے ساز لیے چھ عورتیں انسانی شکل اختیار کئے میرے سامنے تھیں۔ ان کی آنکھیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں اور ان آنکھوں میں محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
’’چھ…!‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ پہلے یہ سات تھیں۔ ایک میں نے کشنا کی شکل میں ہلاک کردی تھی۔ بہت سی باتیں خود سمجھ میں آرہی تھیں۔ پورنیاں اس وقت میرے پاس آتی ہیں جب میں پورے چاند کے نیچے کسی کھلی جگہ موجود ہوں۔ کسی بند جگہ وہ نہیں آتیں۔ انہوں نے وہی کھیل شروع کردیا جو میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ سندری زمین پر اوندھی ہوگئی تھی۔ بہت دیر تک ان کا عمل جاری رہا پھر معمول کے مطابق ختم ہوگیا اور پورنیاں واپس چلی گئیں۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
کالا جادو - پارٹ 21
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
