Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online
| قسط وار کہانیاں |
جوگی - قسط نمبر2
رائیٹر :انور صدیقی
بنرجی اس وقت بڑے خوشگوار موڈ میں تھے جب میں نے انہیں یکلخت اس طرح خاموش ہوتے دیکھا جیسے سویٹ ڈش کے اندر کوئی کنکری آگئی ہو، ان کے چہرے پر کھلتی دھوپ کی جگہ میں نے اچانک گہرے بادل منڈلاتے دیکھے تو ایک لمحے کو میں بھی سٹپٹا کر رہ گیا پھر ان کی نگاہوں کے تعاقب میں میں نے نظریں گھما کر داخلی دروازے کی سمت دیکھا تو میری نگاہیں بھی اس خاتون پر جم کر رہ گئیں جو ایک شان بے نیازی سے دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی بڑے معنی خیز انداز میں مسکرا رہی تھی۔ میری اس کی نگاہیں چار ہو ئیں تو نہ جانے کیا سوچ کر میں غیر اختیاری طور پر اٹھ کھڑا ہوا۔
ڈرائنگ روم میں وارد ہونے والی خاتون کی عمر تیس سال سے زیادہ نہیں رہی ہو گئی وہ اپنے سراپا میں قیامت نظر آ رہی تھی، اس کا رکھ رکھاؤ بناؤ سنگھار، لباس کا انتخاب کھڑے ہونے کا خوبصورت انداز ہونٹوں پر کھیلنے والی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ، سڈول جسم کے ہیجان انگیز نشیب و فراز آنکھوں میں چھلکتے ہوئے مستی کے ساغر، گداز ہونٹوں کا نازک پنکھڑیوں کی مانند رہ رہ کر کپکپانا سب کچھ جنس مخالف کو سحرزدہ کر دینے کے لئے بہت کافی تھا۔
"کمال" اس نے ایک دلربانہ انداز میں میرے چہرے سے نظر ہٹا کر بنرجی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ” میں مخل تو نہیں ہوئی؟؟ تم دس بجے تک واپسی کا کہہ کر گئی تھیں۔ " بنرجی نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا۔ اتنی جلدی کس طرح واپس آگئیں۔؟
یوں ہی اس نے لا پرواہی سے شانے اچکا کر جواب دیا۔ ”پارٹی بڑی بے مزہ تھی اس لئے میرا دل نہیں لگا۔“"
یہ تمہاری آنٹی ہیں۔ " بنرجی نے خاتون کا تعارف کرایا۔
”خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔" میں نے رسمی انداز میں مسٹر کمال کو مخاطب کیا پھر میں بیٹھنے کے لئے پر تول رہا تھا کہ بنرجی اٹھ کھڑے ہوئے، قدرے الجھے ہوئے لہجے میں بولے۔ " تم شاید اب جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟"
۔ میں نے ان کے چہرے کے تاثرات محسوس کرتے ہوئے کہا۔ ”سفر کی ہے، ہوٹل جا کر آرام کروں گا۔"
وشں یو گڈ لک“ انہوں نے آگے بڑھ
کر مجھ سے رخصتی مصافحہ کیا پھر میرا شانہ تھپتھپا کر بولے۔ صبح میرا ملازم تمہارے پاس پہنچ جائے گا کوئی ضرورت پیش آئے تو فون کر لینا۔ "
میں واپسی کے لئے مڑا تو قدرتی طور پر میری نظریں مسز کمال کی جانب اٹھ گئیں، وہ صوفے پر بیٹھ کر مجھے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی میں رکا نہیں "خدا حافظ " کہتا ہوا ڈرائنگ روم سے باہر آگیا لیکن میرا ذہن بدستور اس معمے کو حل کرنے میں الجھتا رہا کہ خاتون خانہ کے آجانے کے بعد بنرجی کے رویے میں اچانک تبدیلی کیوں آگئی تھی؟ انہوں نے مجھے رخصت کرنے میں خلاف توقع جلد بازی کا مظاہرہ کیوں کیا تھا؟ کیا ان دونوں کے
تعلقات کشیدہ تھے یا اور کوئی بات تھی؟
ہوٹل پہنچ کر میں نے غسل کیا پھر لباس تبدیل کر کے سونے کے ارادے سے لیٹ ہونے کے اراد ہے
گیا۔ تھکا ہوا تھا اس لئے جلدی ہی آنکھ لگ گئی۔ دوسری صبح میری آنکھ حسب معمول اسی وقت کھلی جس وقت میں جاگنے کا عادی تھا، میں نے ضروریات سے فارغ ہو کر روم سروس کو فون کر کے ناشتہ اپنے کمرے میں ہی منگوا لیا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر اخبار پڑھ رہا تھا کہ کمال بنرجی کا ملازم آ گیا وہ خاصہ پھر تیلا اور چاق و چوبند نوجوان تھا، مجھے کوئی زحمت نہیں کرنی پڑی، اس نے بڑے سلیقے سے میرا سامان باندھا پھر میں اس کی رہنمائی میں اپنے اس دو کمروں کے اپارٹمنٹ میں منتقل ہو گیا جو پلٹن روڈ سے دس پندرہ منٹ کے پیدل راستے پر واقع تھا اور ہر اعتبار سے میرے لئے نہایت موزوں تھا۔ ملازم نے میرے استفسار پر بتایا کہ میرا دفتر بھی وہاں سے صرف ڈھائی تین میل کے فاصلے پر تھا، بازار بھی قریب ہی تھا۔ میرے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں تھا پھر بھی بنرجی کے ملازم جس نے اپنا نام عبد السلام بتایا تھا اس مختصر سامان سے گھر کو سجانے میں بڑی مہارت کا ثبوت دیا اس کے مشورے پر میں نے قریبی بازار سے بیڈ کا صوفہ، درمیانی گول میز اور دیگر ضروری سامان بھی منگا لیا۔ دوپہر کا کھانا بھی عبد السلام میری فرمائش پر ہوٹل سے لے آیا لیکن میرے اصرار کرنے کے باوجود وہ میرے ساتھ بیٹھ کر کھانے پر آمادہ نہیں ہوا۔ میں نے کھانے
فارغ ہو کر عبد السلام سے پوچھا۔ تمہیں واپسی کی جلدی تو نہیں ہے؟"
بالکل نہیں۔" اس نے تیزی سے جواب دیا۔ ”صاحب نے کہا تھا کہ میں آپ کے تمام کام پورے کرنے کے بعد آپ کی اجازت لے کر واپس جاؤں۔" کام تو تم نے تقریباً سارے ہی انجام دے دیئے، بس ایک چیز کی کسر باقی رہ گئی ۔ میں نے قدرے بے تکلفی سے کہا۔
" آپ حکم دیں ، میں وہ چیز بھی چٹکی بجاتے میں فراہم کر دوں گا۔ " اگر کھانا پکانے والے کسی ملازم کا بندوبست ہو جائے تو میں ہوٹل آنے جانے سے بچ جاؤں گا۔ " "میرے ہوتے ہوئے آپ فکر ہی نہ کریں، کل تک اس کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ عبد السلام نے بڑی فراخدلی سے کہا۔ ”کھانا پکانے اور برتن باسن کرنے کے علاوہ وہ آپ کے اوپر کے کام بھی کر دیا کرے گا۔ میرے بھروسے کا آدمی ہے آپ کو کسی بات کی پریشانی نہیں ہو گی۔ صبح ناشتے کے وقت آئے گا اور آپ کو رات کا کھانا کھلانے کے بعد واپس جائے گا۔" عبد السلام نے غلط نہیں کہا تھا، اگلے روز ہی اس نے میرے لئے ملازم کا بندوبست بھی کر دیا جو میرے لئے بعد میں بے حد کار آمد اور مددگار ثابت ہوا۔
رہائش اور ملازم کا مناسب بندوبست ہو جانے کے بعد میرا اخلاقی فرض تھا کہ کمال بنرجی سے ملاقات کر کے ان کا شکریہ ادا کرتا لیکن پہلی ہی ملاقات میں الوداع ہوتے وقت جو بلی راستہ کاٹ گئی تھی اس نے میرے ذہن پر کوئی اچھا تاثر نہیں ڈالا تھا۔ بلی سے میری مراد مسسز کمال سے ہے جس کے آجانے سے بنرجی کی ساری خوش مزاجی ختم ہو گئی تھی، وہ یکلخت سنجیدہ ہو گئے تھے۔ میں نے خاص طور پر یہ بھی محسوس کیا تھا کہ وہ بیوی کے آ جانے کے بعد میرا وہاں زیادہ دیر تک رکنا پسند نہیں کرتے تھے اسی لئے انہوں نے خود اٹھ کر بڑی عجلت میں مجھے ٹالنے کی کوشش کی تھی۔ میں پہلی بار ان کے گھر پر گیا تھا اس لئے انہیں اخلاقاً مجھ سے کم از کم چائے کے لئے ضرور پوچھنا چاہئے تھا۔ خاتون خانہ کے آنے سے پیشتر وہ کسی بے تکلف دوست کی طرح مجھ سے ہنس بول رہے تھے، مجھے امید تھی رات کا کھانا کھلائے بغیر مجھے رخصت نہیں کریں گے لیکن پھر جو کچھ ہوا میں بھی حیران رہ گیا۔ ان دونوں کے اندرونی تعلقات یقیناً آپس میں خراب ہونگے۔ اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہو گیا تھا جب بنرجی نے چبتے
ہوئے لہجے میں بیوی سے جلدی گھر واپس آجانے کی وجہ دریافت کی تھی۔ جہاں دو برتن ہوتے ہیں وہاں ان کے آپس میں ٹکرانے کی آواز بھی ضرور پیدا ہوتی ہے۔ بنرجی اور ان کی بیوی کے درمیان کشیدگی کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں، ممکن ہے بنرجی کو بیوی کا زیادہ سوشل ہونا پسند نہ ہو یا پارٹیوں میں تنہا جانا ناگوار خاطر ہو تا ہو، ضرورت سے زیادہ میک اپ بناؤ سنگھار اور آزاد خیالی بھی اکثر میاں بیوی کے درمیان کھینچا تانی کی فضا پیدا کر دیتی ہے۔ اور بھی بے شمار باتیں ممکن تھیں لیکن میرے ذہن میں فوری طور پر جو وجہ ابھری تھی وہ بنرجی جی اور ان کی بیوی کے درمیان عمروں کا تعضاد تھا لیکن اس خیال کے ساتھ ساتھ ایک سوال یہ بھی ذہن میں ابھرتا تھا کہ دونوں کے درمیان اگر تیسں بتیس سال کا فرق ہی بنائے مخاصمت تھا تو پھر انہوں نے ایک دوسرے کو کیوں پسند کیا تھا؟ کیا ان دونوں کی شادی محضن محبت کا نتیجہ تھی کوئی جذباتی فیصلہ تھی یا کسی مجبوری نے انہیں رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا تھا؟ بہر حال وہ ان دونوں کا قطعی گھر یلو اور نجی معاملہ تھا لیکن میں نے یہ بات ضرور محسوس کی تھی کہ بنرجی نے بیوی کے آجانے کے بعد میرا اپنی کوٹھی میں رکنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
ایسی صورت میں میرا وہاں جانا کچھ مناسب نہیں لگتا تھا، مگر یہ بھی میرا اخلاقی فرض تھا کہ میں رہائش کے سلسلے میں بنرجی کا شکریہ ضرور ادا کر دوں۔ چنانچہ میں نے انہیں فون کی ٹھان لی ان کا نمبر میرے پاس تھا اس لئے مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی، رابطہ ہونے پر بنرجی نے ایک بار پھر مجھ سے نہایت دوستانہ انداز میں گفتگو کی، بزرگوں کی طرح اونچ نیچ سے بھی آگاہ کیا اور خاص طور پر پھر تاکید کی کہ میں اپنے اور ان کے مراسم کے بارے میں اپنے دفتر میں کسی سے بھی کوئی تذکرہ نہ کروں۔ اس بات کی معذرت بھی چاہی کہ پہلی ملاقات پر انہوں نے میری خاطر تواضع نہیں کی۔ بنرجی کو فون کرنے کے بعد میرے ذہن سے ایک بوجھ اتر گیا، میں نے طے کر لیا تھا کہ ڈھاکہ میں قیام کے دوران بنرجی سے زیادہ تر فون پر ہی رابطہ رکھوں گا اور اُس وقت تک ان کی کوٹھی کا رخ نہیں کروں گا جب تک وہ از خود اصرار نہ کریں لیکن کاش ہر بات اختیار میں ہوتی۔ عبد السلام نے مجھے جو ملازم دیا تھا اس کا نام جلیل تھا ، انتہائی پھرتیلا اور صحت مند ہونے کے ساتھ خاصہ ذہین بھی تھا، کھانے بھی بے حد لذیذ بناتا تھا۔ میں نے اس
کی وجہ دریافت کی تو بڑے فخر سے بولا۔
صاب! ہمارا باپ ادھر ایک بڑے ہوٹل میں باورچی رہ چکا ہے، اس نے مجھے کھانا بنانا سکھایا تھا۔"
کیا مطلب؟" میں نے ازراہ ہمدردی پوچھا۔ ”کیا اب وہ تمہارے ساتھ نہیں چھوڑ گیا۔"
اوپر چلا گیا صاب!" جلیل نے سرد آہ بھر کر جواب دیا۔ ”ہم کو ادھر دھرتی پہلے بھی کہیں کام کر چکے ہو ؟“ میں نے بات بدل کر پوچھا۔
کئی جگہ دھکے کھا چکا ہوں صاب" اس نے دبی زبان میں کہا۔ چھ مہینے وہاں بھی کام کیا جہاں عبد السلام ابھی تک اٹکا ہوا ہے۔"
تمہارا اشارہ کمال بنرجی کی طرف ہے؟" میں چونکا۔
جی صاب جلیل نے کڑوا سا منہ بنا کر جواب دیا۔ ”بنرجی صاب ایک نمبر آدمی ہے لیکن اس کی گھر والی جھرنا میم صاب ہمارا سمجھ میں نہیں آیا۔ شروع شروع میں وہ بھی ہمارے کھانے کی بہت تعریف کرتا تھا، ہمارا بہت خیال رکھتا تھا لیکن پھر ایک دن اس نے بڑے غصے میں مجھے گٹ آؤٹ بول کر ڈس مس کر دیا۔" کیوں؟" میں نے کریدنے کی خاطر دریافت کیا۔ "کیا تم سے کوئی غلطی ہو گئی تھی ؟"
اوپر والا ہی جانے۔" وہ شانے اچک کر بولا۔ "ہم غریب لوگ ہے صاب! غلطی کسی کا ہو کان ہمیشہ اپنا ہی پکڑا جاتا ہے۔“ میں نے خاص طور پر محسوس کیا کہ جلیل اصل وجہ بتانے سے گریز کر رہا ہے۔ میں نے بھی اسے زیادہ ٹولنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ ہر حال میرا ملازم تھا اور میں کم از کم بنرجی یا ان کی بیگم " جھرنا میم صاحب" کے بارے میں اس سے زیادہ بے تکلف ہونا پسند نہیں کرتا تھا لیکن یہ بات میرے ذہن میں ضرور کلبلاتی رہی کہ جھرنا ہی کی وجہ سے جلیل کو بنرجی کی ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا اور بنرجی نے جھرنا ہی کی وجہ سے خلاف توقع مجھ سے اپنا طرز عمل بدل دیا تھا۔ آخر کیوں؟ جھرنا بنرجی کی زندگی میں کیا تھی؟ بنرجی ایک ریٹائرڈ کرنل تھا، ان کے چہرے سے رعب و دبدبہ جھلکتا تھا
ان کی آواز میں بھی گولیوں کی گھن گرج موجود تھی لیکن وہ بھی جھرنا کے سلسلے میں کسی نہ کسی گھٹن کا شکار تھے۔ میں نے یہی محسوس کیا تھا۔ اصل وجہ کیا تھی، میں قبل از وقت اس کے بارے میں بھی کچھ انکشاف کرنے سے گریز کروں گا۔ جس روز مجھے ڈھاکہ کے نئے دفتر میں ڈیوٹی رپورٹ کرنا تھا اس روز میں نے خاص طور پر یہ بات طے کر لی تھی کہ دفتر کے معاملات میں صرف اپنے کام سے کام رکھوں گا اور ایمانداری اور بے ایمانی" کے سلسلے میں ڈپٹی بشیر علی کی نصیحتوں اور مشوروں پر عمل
کروں گا لیکن انسان سوچتا کچھ ہے اور ہو تا کچھ اور ہے۔ میرے نئے افسر رحیم الدین کے بارے میں بنرجی پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وہ نہایت ڈیم فول قسم کا آدمی تھا۔ ماتحتوں کو شکار کرنے اور اپنی مرضی پر چلانے کے معاملے میں کسی آکٹوپس سے بھی زیادہ چالاک، عیار اور خطرناک حربے استعمال کرنے کا عادی تھا۔ چنانچہ میں نے بھی ٹھان لی تھی کہ اس سے نہ صرف محتاط رہنے کی کوشش کروں گا بلکہ کوئی ایسا درمیانی راستہ اختیار کروں گا کہ سانپ بھی حملہ کرنے کی کوشش نہ کرے اور لاٹھی کو بھی کوئی گزند نہ پہنچے۔ دانشوروں کا قول بھی یہی ہے کہ ایک چپ ہزار بلائیں ٹالتی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تقدیر کا لکھا ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی وہی ہوا جو پہلے سے لوحِ محفوظ پر رقم کر دیا گیا تھا۔
ڈھاکہ میں آئے دن بارشوں کا زور رہتا ہے، بادلوں کی ٹکڑیاں ہر وقت آسمان پر منڈلاتی رہتی ہیں اس لئے کسی وقت بھی بادلوں کا گٹھ جوڑ بارش کا سبب بن سکتا تھا۔ جلیل کے بار بار اصرار کرنے پر میں نے ایک عدد چھتری خرید لی تھی۔ جس روز میں کیل کانٹے سے لیس ہو کر پہلی بار دفتر جانے کے لئے نکلا اس روز موسم کے تیور صبح سے خطرناک نظر آ رہے تھے۔ جلیل میرے ساتھ تھا میں نے اپارٹمنٹ سے نکل کر ایک رکشہ پکڑا اور خدا کا نام لے کر چل پڑا۔ عبد السلام مجھے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ اپارٹمنٹ سے میرے دفتر کا فاصلہ مشکل ڈھائی تین میل تھا، یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ میں جس زمانے کا ذکر کر رہا ہوں اس زمانے میں سائیکل اور موٹر رکشہ خال خال ہی نظر آتے تھے۔ ڈھاکہ میں تو وہاں کے مقامی لوگ کھینچ کر چلاتے تھے۔ میں نے جلیل سے کئی بار اصرار کیا کہ وہ میرے ساتھ رکشے پر بیٹھ جائے لیکن وہ آمادہ نہ ہوا اور رکشے والے کے ساتھ ساتھ اپنی زبان میں گفتگو کرتا ہوا آہستہ آہستہ دوڑتا رہا۔
ہم ابھی اپارٹمنٹ سے ڈیڑھ دو میل دور پہنچے تھے کہ موسلادھار بارش شروع ہو گئی، دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں پر چاروں طرف جل تھل ہو گیا، موٹر کاریں اور بسیں گزرتی ، تو پانی کے چھینٹے پیدل چلنے والوں اور رکنے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے لباس پر بھی آتے تھے۔ شاید اسی خیال سے جلیل کی ہدایت پر رکشے والے نے تیزی سے رکشہ کنارے کر کے روک لیا دوسروں کے دیکھا دیکھی میں بھی رکشے سے اتر کر ایک عمارت کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا، گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے آٹھ کا وقت تھا، مجھے کوئی جلدی بھی نہیں تھی، وہ چونکہ ڈیوٹی جوائن کرنے کا پہلا دن تھا اس لئے قانون کے اعتبار سے بارہ بجے تک بھی حاضر ہو سکتا تھا۔ آپ پریشان مت ہوں صاب !" جلیل نے میرے قریب آکر کہا۔ ”ادھر ایسا ہی ہوتا ہے، بارش کا زور دس پندرہ منٹ میں ٹوٹ جائے گا آپ کا دفتر بھی زیادہ دور نہیں ہے، ہم پیدل بھی جاسکتے ہیں۔" کیا خیال ہے ، رکشہ چھوڑ دوں؟" میں نے آہستہ سے دریافت کیا پھر جلیل کے مشورے پر میں نے رکشے والے کو اس کی اجرت دے کر فارغ کر دیا اور عمارتوں کے سائبان کے نیچے سے پیدل ہی چل پڑا اور بھی بہت سارے افراد میری طرح سواری کے بجائے پیدل نظر آ رہے تھے۔ جلیل مجھے وہاں کے بازاروں اور مشہور عمارتوں کے سلسلے میں اپنی معلومات سے آگاہ کرتا رہا، مجھے اپنے لباس کی فکر تھی کہ کہیں گندا نہ ہو جائے لہذا میں دیوار کے ساتھ ساتھ مل کر قدم اٹھا رہا تھا۔ ایک جگہ ہمیں سڑک عبور کرنی تھی، بارش کا زور ابھی ٹوٹا نہیں تھا اس لئے میں ایک دکان کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی جانب کھڑا ہو گیا۔ جلیل نے سامنے کی جانب ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ جو بڑی عمارت نظر آ رہی ہے اس کے الٹے ہاتھ پر گھوم کر بس دو فرلانگ کے فاصلے پر آپ کا دفتر ہے۔“ کیا تم پہلے کبھی اس دفتر میں جا چکے ہو؟" میں نے پوچھ لیا۔ دفتر میں تو نہیں گیا لیکن اس آفس کا بورڈ ضرور پڑھا تھا۔“
گویا تم پڑھے لکھے بھی ہو ؟“ میں نے قدرے حیرت کا اظہار کیا۔ 8 کلاس تک پڑھا تھا جب باپ کا بلاوا آگیا۔" جلیل نے عجیب انداز میں کہا باپ ہمیشہ کی نیند سو گیا۔ سارا بوجھ میرے اوپر آگیا اس لئے پڑھائی
چھوڑ کر دوسرے دھندوں سے لگ گیا۔ پیٹ کا تندور بھرنے کے لئے انسان کو ہاتھ پیر تو مارنا ہی پڑتا ہے۔"
تمہارے گھر پر تمہارے علاوہ اور کون کون ہے؟"
ایک بوڑھی ماں ہے، دو بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی بھی ہے۔"
" تم سب کا خرچ اکیلے پورا کر لیتے ہو ؟" میں نے حیرت کا اظہار کیا۔
”ماں بھی ایک بڑے صاب کے گھر برتن برسن اور جھاڑو لگانے کا کام کرتی ہے، تنخواہ کے علاوہ بچا کھچا کھانا بھی ساتھ لے آتی ہے۔" جلیل نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
بس گزارا ہو جاتا ہے۔" "کمال بنرجی کے پاس تمہیں کیا تنخواہ ملتی تھی؟" میں نے کچھ سوچ کر سوال کیا۔ وہ بڑے آدمی تھے اس لئے دو سو روپے دے دیتے تھے ورنہ دوسرے صاب لوگ تو سو سوا پر ہی ٹال دیتے ہیں۔" جھرنا میم صاحب نے تمہیں کیوں ڈس مس کر دیا تھا؟" لاشعوری طور پر وہ سوال میری زبان تک آگیا جس سے میں بچنا چاہتا تھا۔
جلیل نے کچھ کہتے کہتے جلدی سے بات بنا دی۔ ” مجھے یاد
آیا صاب آپ نے گھر سے چلتے وقت اپنے کمرے کا وہ دروازہ بند نہیں کیا تھا جو سڑک کی طرف کھلتا ہے، بارش کا پانی اندر آگیا تو آپ کا سارا سامان خراب ہو جائے گا۔"
اب جو کچھ بھی ہو، میرے لئے دفتر جاتا سامان سے زیادہ ضروری ہے۔ میں نے جواز پیش کیا لیکن یہ بات بھی خاص طور پر محسوس کی کہ جلیل نے جھرنا کے سلسلے میں اصل بات سے کترانے کی کوشش کی تھی۔ "صاب" جلیل نے بڑی خوبصورتی سے مجھے ٹالنے کی خاطر کہا۔ " آپ دفتر جاؤ" میں واپس گھر جاتا ہوں، آپ کا کمرہ بھی ٹھیک کر دوں گا اور واپسی پر آپ کو فسٹ کلاس مچھی بھات (مچھلی اور ابلے ہوئے چاول) کھلاؤں گا۔" میں نے جلیل کو جانے کی اجازت دے دی، مجھے خود بھی اپنی غلطی کا احساس ہو رہا جلیل سے جھرنا کے بارے میں کچھ پوچھنا زیب نہیں دیتا تھا۔ بہر حال جلیل کے جانے کے بعد میں کچھ دیر دکان کی سیڑھیوں پر کھڑا رہا پھر بارش کا زور کم ہوا تو سڑک عبور کر کے دوسری طرف چلا گیا۔ جلیل نے جس بڑی عمارت کی طرف اشارہ کیا تھا وہاں پہنچ
کر میں بائیں ہاتھ کو گھوم کر ایک فرلانگ ہی دور گیا تھا کہ مجھے اپنے دفتر کا بورڈ دور ہی سے
نظر آگیا۔
دفتر کا بورڈ نظر آتے ہی پھر میرے ذہن میں کمال بنرجی کی وہ باتیں گونجنے لگیں جو انہوں نے میرے آفیسر رحیم الدین کے بارے میں کہی تھیں۔ پٹنہ میں ملازمت کے دوران مجھے ذاتی طور پر بھی اس بات کا بخوبی تجربہ ہو گیا تھا کہ دریا میں رہ کر مگر مجھ سے بیر مول لیتا دانشمندی کے منافی ہے۔ پٹنہ سے روانگی کے وقت ڈپٹی بشیر علی نے بھی مجھے کھل کر یہ بات سمجھا دی تھی کہ اگر ملازمت کو برقرار رکھنا ہے تو صرف اپنے گریبان پر نظر رکھنا، دوسروں کی قبروں میں جھانکنے کی کوشش کرو گے تو ملازمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے اور عین ممکن ہے کہ مخالفوں کے بچھائے ہوئے کسی جال میں پھنس کر اپنی عزت اور شرافت کا بھرم بھی گنوا بیٹھو۔ کمال بنرجی نے بھی یہی مشورہ دیا تھا کہ میں دوسروں کے معاملات میں ٹانگ پھنسانے سے گریز کروں۔ میں اپنے خیالات میں گم دفتر کی سمت قدم بڑھا رہا تھا کہ اچانک کسی نے میرا بایاں ہاتھ تھام لیا' میں نے چونک کر نظریں گھمائیں تو ایک پاگل بھکاری میرا ہاتھ تھامے کھڑا . مجھے گھور رہا تھا۔ مجھے اس کی حالت دیکھ کر گھن آنے لگی، اس کا سارا جسم گرد و غبار اور غلاظتوں میں لتھڑا ہوا تھا، سر اور ڈاڑھی کے بال بے حد لمبے اور خودرو جھاڑیوں کی طرح بے ترتیب اور الجھے الجھے تھے ، اس کے جسم پر ستر پوشی کے لئے ایک گندی اور نجاست سے آلود لنگوئی نہ جھول رہی ہوتی تو اس کے لئے مادر زاد برہنہ کی اصطلاح بھی استعمال کی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے وجود سے جو ناقابل برداشت بدبو کے بھبکے پھوٹ رہے تھے وہ بھی میرے لئے ناقابل برداشت تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ جھٹک کر اس کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔
میں نے اپنے اطراف میں نظر ڈالی لیکن یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ کوئی دوسرا شخص اس دیوانے کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا، شاید انہیں اس پاگل بوڑھے سے زیادہ اپنے اپنے کام پر جانے کی جلدی لاحق تھی۔ سڑکوں پر اس قسم کے پاگل اور دیوانے فقیروں کا نظر آنا کوئی تعجب خیز بات نہیں تو ڈھاکہ میں وہ میری ملازمت کا پہلا دن تھا، اس کے علاوہ رحیم الدین تو گیا ہوا تھا اس لئے خلاف توقع اس دیوانے نے میرا ہاتھ تھام کر روکا تو مجھے یقین تھا کہ اس کا ہاتھ ہٹنے کے بعد میری اجلی قمیض پر بھی گندگی اور
نجاست کے داغ دھبے ضرور نظر آئیں گے۔ میں نے تلملا کر اسے حقارت بھری نظروں سے دیکھا، دوبارہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس بار بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی گرفت میرے لئے اپنی شکنجوں سے زیادہ مضبوط تھی۔ اس کی سرخ سرخ نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں۔ اس کے دیکھنے کا انداز بھی کچھ عجیب سا تھا۔ میری جھلاہٹ ہر لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی لیکن میں نے صبر سے کام لے کر اسے مخاطب کیا۔
”بابا کیا چاہئے تجھے ؟" ایک ٹکا دے دے کھرا " اس نے بدستور مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ ہاتھ چھوڑو۔" میں نے خون کا گھونٹ پی کر درخواست کی۔ ”میں تمہیں ٹکا دیتا
نہیں۔" بوڑھے نے اپنے غلیظ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے جواب دیا تو بدبو کا ایک اور بھپکا میرے دماغ کو پراگندہ کر گیا۔ ” پہلے سیدھے ہاتھ سے ٹکا نکال کر دے پھر جدھر سے آیا ہے اُدھر ہی الٹے قدموں واپس لوٹ جا آگے بھونچال کھڑا ہے۔" بوڑھے کا ذہنی توازن یقیناً خراب تھا ورنہ وہ بھونچال کی بات کبھی نہ کرتا۔ کبھی کبھی صدمے انسان کو عقل و خرد سے اس قدر بیگانہ کر دیتے ہیں کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، بہکی بہکی باتیں شروع کر دیتا ہے، جو کچھ وہ دیوانگی کی حالت میں کہتا ہے خود بھی اس کا مطلب نہیں سمجھتا، شب و روز کا فرق بھی اس کے لئے مٹ جاتا ہے۔ شاید غموں کی انتہا اسے خود اپنے آپ سے بھی بیگانہ کر دیتی ہے، موسموں کا تغیر بھی اس کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ جاڑا گرمی ہو یا برسات وہ ہر حال میں مست رہتا ہے۔ فکر فردا غم دنیا اور غم روزگار سے نجات پا جاتا ہے پھر اس کے اپنے بھی اس سے نظریں کترا کر گزر جاتے ہیں۔ خون خون کو شناخت کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔مجھ سے ٹکرانے والا وہ خبطی بوڑھا بھی غالباً زمانے کی گردشوں کا شکار ہو کر دیوانگی کے عالم میں بھٹکتا پھر رہا تھا۔ مقامی لوگ شاید اس کے واہی تباہی بکنے کے عادی ہو چکے تھے جو کسی نے اس کی حالت پر ترس کھانے یا توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ میرے پاس وقت ہوتا تو میں اسے کسی نہ کسی طرح کسی خیراتی ہسپتال تک پہنچانے کی کوشش کرتا لیکن اس وقت میں بھی موقع اور حالات کی نزاکت کے تحت اس سے پیچھا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں نے الٹا ہاتھ جیب میں ڈال کر ایک کے بجائے دو ٹکے نکال کر اسے دے دیا
اس نے دونوں ٹکوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ آنکھوں کے سامنے لے جا کر اس طرح دیدے پھاڑ کر گھورنے لگا جیسے اسے خلاف توقع قارون کا خزانہ آ گیا ہو پھر اس نے یکلخت بوکھلا کر دونوں ٹکوں کو ہوا میں اچھال دیا اور قہقہہ لگا کر بولا۔ کنگلا خیرات بانٹ رہا ہے، ایک مانگا دو ملے پھر دونوں چھو منتر ہو گئے۔ ہاہا ..
ہاہا ۔۔پاگل بوڑھا آسمان کی طرف نظریں اٹھائے فلک شگاف قہقہے لگا رہا تھا، میں نے وہاں رکنا مناسب نہیں سمجھا اور تیزی سے قدم بڑھاتا آگے نکل گیا' بوڑھے نے میرا پیچھا نہیں کیا لیکن اس کے قہقہوں کی آواز دور تک میرا تعاقب کرتی رہی۔ میرا دفتر ایک پانچ منزلہ عمارت کی تیسری منزل پر واقع تھا، مجھے وہاں تک پہنچنے اور رحیم الدین کا کمرہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی لیکن میں فوری طور پر اندر نہیں جا سکا، رحیم الدین کے پی اے نے مجھے بتایا کہ اس وقت مقامی افسروں کی میٹنگ ہو رہی ہے اس لئے مجھے کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ میں خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کمرے میں خاموشی رہی پھر پی اے نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ هماری میٹنگ اکثر طول پکڑ جاتی ہے۔ اگر آپ کو صاحب سے کوئی ضروری کام نہ ہو کل کسی وقت تشریف لے آئیں۔" میں کوئی ملاقاتی نہیں ہوں۔" میں نے مسکرا کر کہا۔ ”پٹنہ سے ٹرانسفر ہو کر یہاں آیا ہوں، آج مجھے جوائننگ رپورٹ (Joinning Report) دینی ہے۔"پی اے نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے دبی زبان میں کہا۔ تو آپ ہیں مسٹر آذر؟" اس کی آواز میں ایسا تجس تھا جیسے وہ میرے بارے میں بہت کچھ جانتا
ہو۔میں نے محسوس کیا کہ وہ میرا نام سنتے ہی اپنی کرسی پر کسمسا کر رہ گیا تھا ممکن ہے اس کی وہ حرکت محض اتفاقیہ ہو لیکن اس کی آنکھوں میں ابھرنے والے تاثرات یقیناً اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ اسے میری آمد کا انتظار تھا، نہ ہو تا تو میرا نام سن کر اس کے اندر کوئی اضطراری کیفیت کبھی نہ پیدا ہوتی۔ یہ بات بھی قرین قیاس تھی کہ میرے کامات اس کی نظر سے گزر چکے ہوں، مجھے دیکھ کر اس نے محض عادتاً ایک لیکن ان تمام پہلوؤں کے باوجود میں نے اس کے سوال کو بطور خاص
محسوس کیا تھا چنانچہ میں نے سرسری انداز میں دریافت کیا۔ کیا آپ میرے بارے میں پہلے سے واقفیت رکھتے ہیں؟
صرف اس حد تک کہ آپ پٹنہ سے ٹرانسفر ہو کر آئے ہیں اور وہاں آپ کا ریکارڈ بہت اچھا تھا۔" اس نے ایک بار پھر مجھے غور سے دیکھا پھر قبل اس کے کہ میں بات کو مزید آگے بڑھاتا اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا۔ "میرا خیال ہے کہ مجھے باس کو آپ کی آمد کی اطلاع دے دینی چاہئے ، ممکن ہے وہ آپ کو بھی میٹنگ میں شریک کرنا پسند کریں۔ اس بہانے دوسرے ساتھیوں سے بھی آپ کا تعارف ہو جائے گا۔" پھر اس نے میرے جواب کا انتظار کئے بغیر انٹر کام کا رسیور اٹھا کر بزل دبا دیا دوسری جانب سے کال اٹینڈ کئے جانے کے بعد اس نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔ ” پٹنہ سے جو انسپکٹر آنے والے تھے وہ اس وقت میرے آفس میں موجود ہیں جی ہاں مسٹر آذر رائٹ سر! اس نے رسیور رکھ کر میری طرف دیکھا۔ ” میرا خیال غلط نہیں تھا سر نے آپ کو اندر بلایا ہے۔" میں اٹھنے لگا تو پی اے نے دبی زبان میں کہا۔
.مسٹر آذر! مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔"
"آپ کا اسم گرامی؟" میں نے خندہ پیشانی سے سوال کیا۔
مجھے سروش کہتے ہیں۔" اس نے مجھ سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ ”آپ فی الحال میٹنگ اٹینڈ کر لیں اس کے بعد ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔“
میں اپنی فائل اٹھا کر کانفرنس روم میں داخل ہوا جہاں ایک لمبی بینوی میز کے اطراف دس گیارہ افراد بیٹھے تھے، ایک دو کے جسم پر دردی بھی موجود تھی جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ بھی انسپکٹر ہیں۔ سامنے رحیم الدین اپنی ریوالونگ چیئر پر بیٹھا تھا، میز پر اس کے سامنے اس کا نام اور عہدے کی پلیٹ بھی موجود تھی۔ میں نے سرسری طور پر اس کا جائزہ لیا وہ پستہ قد اور دوہرے بدن کا مالک تھا اس کی کشادہ پیشانی اس بات کی دلیل تھی کہ وہ ذہین آدمی تھا لیکن اس کی نظروں سے چھلکنے والا تجسس اس بات کی کر رہا تھا کہ وہ اپنے سائے سے بھی چوکنا رہنے کا عادی ہے، اس کے لباس سے اندازہ ہوتا تھا لیکن کرسی پر اس کے بیٹھنے کا انداز چغلی کھا رہا تھا کہ وہ ماتحتوں پر ڈر قائم رکھنے کا عادی ہے۔
میں نے آگے بڑھ کر اپنی جو ائنگ رپورٹ فائل سے نکال کر اس کے سامنے رکھ دی، میرے سلام کا جواب اس نے سر کی خفیف جنبش سے دینے پر اکتفا کیا اس کی تیز نظریں بدستور میرے چہرے پر پھیل رہی تھیں۔ کانفرنس روم میں بیٹھے ہوئے دوسرے بھی مجھے دلچسپ نظروں سے دیکھ رہے تھے، مجھے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ میرے ساتھی انسپکٹروں کو بھی میری آمد کا علم پہلے سے تھا۔
آپ کو آئے کتنی دیر ہوئی؟" رحیم الدین نے قدرے سرد لہجے میں دریافت کیا۔
دو تین منٹ۔" میں نے مختصراً جواب دیا۔
بیٹھیں۔" اس نے ایک خالی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔
میرے بیٹھنے کے بعد اس نے کچھ خشک انداز میں دوسرے انسپکٹروں ۔ تعارف کرایا پھر گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع کر دیا جہاں سے ٹوٹ چکا تھا۔ میں محتاط انداز میں اپنی نشست پر بیٹھا ہمہ تن گوش تھا۔ موضوع بحث ناجائز تجارت اور بغیر محصول ادا کئے اشیاء کی نقل و حرکت اور آبکاری سے متعلق دوسرے جرائم تھے۔ رحیم الدین ٹھہرے ہوئے لہجے میں تقریر کر رہا تھا لیکن میں اس کے انداز گفتگو سے یہ بات محسوس کر رہا تھا کہ وہ اپنی تمام تر ظاہری عاجزی اور انکساری کے برخلاف سخت گیر طبیعت کا مالک نظر آتا تھا اور ماتحتوں کو اس بات کا بار بار احساس دلانا اس کی فطرت کا خاصہ تھا کہ اس کے قلم کی ایک معمولی جنبش بھی ان کے پورے کیر میر (Career) پر سیاہی ہی پھیر سکتی ہے۔ تقریر کے درمیان اس نے کئی بار اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس کی وصولیابی کے سلسلے میں عوام کو اعتماد میں ضرور لیا جائے، ان کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے لیکن جو نادہندہ افراد ہیں ان کے ساتھ کوئی رعایت یا نرمی نہ کی جائے۔ تقریر کے آخر میں اس نے پہلو بدل کر بڑے سخت انداز میں کہا۔ اگر آپ میں سے کسی آفیسر کے ذہن میں یہ خیال ہے کہ میں دفتر میں بیٹھ کر صرف فائل الٹتا پلٹتا ہوں اور مجھے بیرونی حالات کا علم نہیں ہو تا تو اس معمل خیال اور غلط ضمی کو ذہن سے نکال دیں۔ میں ایک ایک آفیسر کی کارکردگی اور اس کی صلاحیتوں سے باخبرکون کس قدر ایمانداری اور دیانتداری سے کام کر رہا ہے اور کون حکومت کو دھوکہ دیکر اپنی جیبیں بھر رہا ہے، مجھے ایک ایک لمحے کی خبر ملتی رہتی ہے۔ میری خاموشی کو آپ میری کمزور نہ سمجھیں۔ میں اگر آپ کے ساتھ دوستانہ عمل کرتا ہوں تو مجھے سختی کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے اور ایک بات اور ذہن نشین کر لیں۔" رحیم الدین نے اس بار خاص طور پر مجھے کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے بڑے خشک اور کھردرے لہجے میں کہا۔ کسی کا سابقہ ریکارڈ میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، آپ کو میرے ساتھ کام کر کے اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہو گا میں جانتا ہوں کہ کچھ افراد کے تعلقات اوپر تک بھی ہیں۔
ان تعلقات کی وجہ کیا ہے، مجھے اس کا بھی بخوبی علم ہے۔ اس لئے میں آپ کو فرداً فرداً یہ باور کرانا چاہوں گا کہ صرف اپنے کام سے کام رکھیں، حکومت نے جو ہدف مقرر کیا ہے اسے حاصل کریں اور کوشش کریں کہ اس ہدف سے زیادہ وصولیابی کر کے خود کو انعام کا مستحق ثابت کریں۔"رحیم الدین کی نرم گرم اور دھواں دھار تقریر تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی پھر اس نے میٹنگ برخاست کر دی۔ میں نے خاص طور پر محسوس کیا کہ اس میٹنگ میں صرف انسپکٹروں کو طلب کیا گیا تھا، دوسرے افسروں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا تھا لیکن یہ ایسی خاص بات بھی نہیں تھی جس پر میں بلاوجہ اپنی انرجی ضائع کرتا۔میٹنگ ختم ہونے کے بعد انسپکٹرجانے لگے تو میں بھی اٹھ کھڑا ہوا لیکن رحیم الدین نے مجھے اور ایک دوسرے انسپکٹر کو روک لیا۔ جب دوسرے تمام انسپکٹر کا نفرنس روم سے چلے گئے تو رحیم الدین نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ
ہوں، میں اپنی جگہ سٹپٹا کر رہ گیا۔
آپ کا تبادلہ پٹنہ سے کیوں ہوا؟" اس نے چبتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ "کوی خاص وجہ؟"
میں کچھ ذاتی وجوہ کی بنا پر وہاں رہنا نہیں چاہتا تھا۔“ میں نے محتاط انداز میں
جواب دیا۔
وہ گویا آپ نے از خود اپنا تبادلہ کرایا ہے؟".
.
"جی ہاں۔" میں نے مختصراً کہا۔
میں آپ کا سابقہ ریکارڈ دیکھ چکا ہوں۔" اس نے پہلو بدل کر کہا۔ " مجھے خوشی ھے آپ ایک ایماندار اور محنتی آفیسر ہیں۔"
شکریہ
میں چاہوں گا کہ آپ ڈھاکہ میں رہ کر بھی اپنی سابقہ ایمانداری اور کار کردگی کو . برقرار رکھیں۔"
” میری یہی کوشش ہو گی کہ میں کسی کو شکایت کا موقع نہ دو آپ ایک نوجوان اور ذہین آفیسر ہیں، بہتر کارکردگی کا ثبوت پیش کر کے آپ ترقی بھی کر سکتے ہیں۔" اس نے مسکرا کر میری حوصلہ افزائی کی پھر سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ "کیا ڈھاکہ میں آپ کبھی پہلے بھی رہ چکے ہیں؟"
"جی نہیں۔"
پھر تو آپ کو خاصی دشواری پیش آئے گی، میرا مطلب ہے کہ کسی نئی جگہ پر خود کو اڈ جسٹ کرنے میں کچھ وقت ضرور لگتا ہے۔" رحیم الدین نے کچھ سوچتے ہوئے کہا پھر قریب بیٹھے ہوئے دوسرے انسپکٹر کی جانب اشارہ کر کے بولا۔ ان سے ملئے انسپکٹر تحمل بخاری، میں نے ان کو خاص طور پر آپ ہی کی وجہ سے روکا ہے۔" رحیم الدین نے اپنی بات جاری ر رکھتے ہوئے کہا۔ "یہ میرے قابل اعتماد اور تجربہ کار انسپکٹر ہیں، ڈھاکہ کا چپہ چپر ان کا دیکھا ہوا ہے، یہ آپ کی بھی ہر طرح سے رہنمائی کر سکتے ہیں۔" میں نے جواب دینے کے بجائے اثبات میں سر کو جنبش دے کر شکریہ کا اظہار کیا۔
میں فی الحال آپ کو مسٹر بخاری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مشورہ دوں گا۔" رحیم الدین نے فیصلہ کن انداز میں کہا پھر اٹھتے ہوئے بولا۔ ”آپ کی پوسٹنگ (Posting) کے بارے میں میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کروں گا۔" رحیم الدین اپنی بات مکمل کرنے کے بعد رکا نہیں، تیزی سے گھوم کر اپنے آفس میں چلا گیا جس کا ایک دروازہ کانفرنس روم میں بھی کھلتا تھا۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا مگر تحمل بخاری نے جسے صرف بخاری کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، مجھے اشارہ سے بیٹھنے کو کہا۔ ڈھاکہ میں میری ملازمت کا وہ پہلا دن تھا اس لئے بخاری کے اشارے پر عمل کرنے کے سوا میرے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ رحیم الدین نے جس انداز میں اس کا تعارف کرایا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ بخاری اس کا نہ صرف خاص آدمی ہے لین دین بھی اسی کے ذریعہ ہوتی ہو گی، ذاتی طور پر بھی بخاری مجھے پہلی نظر میں نظر نہیں آیا۔ پستہ قد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی بے ڈول جسم کا مالک آنکھوں میں ہر وقت گلابی ڈورے تیرتے تھے جو اس بات کی علامت تھے کہ
وہ شراب پینے کے معاملے میں بلا نوش واقع ہوا ہے بالوں میں خضاب بھی اس انداز میں لگاتا تھا کہ اس کی رنگت علیحدہ نظر آتی تھی۔ اس کے گفتگو کرنے کا انداز بھی بڑا لچھے دار تھا۔ مجھے یہ بات بعد میں معلوم ہوئی کہ محکمے کے دوسرے انسپکڑوں کے علاوہ اس کے افسران بھی اس سے دامن بچا کر چلنے کے عادی تھے جس کا سبب بخاری اور رحیم الدین کے وہ تعلقات تھے جس کا علم ہر شخص کو تھا۔ بہر حال میں اس کے اشارے پر بیٹھ گیا تو اس نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر میری طرف بڑھایا۔ "سوری" میں نے معذرت کی۔ ”میں سگریٹ نہیں پیتا۔"
میرے ساتھ رہو گے تو عادی ہو جاؤ گے۔ " اس نے گفتگو کی ابتدا ہی انتہائی بے تکلفی اور بھونڈے انداز میں کی پھر سگریٹ جلا کر ایک طویل کش لیتا ہوا بولا۔ ” تم خوش قسمت ہو جو بڑے صاحب نے تمہیں میرے ساتھ لگا دیا، میں کوشش کروں گا کہ تم کو بہت جلد مقامی حالات سے باخبر کرنے کے بعد کوئی ایسی پرائز پوسٹ دلوا دوں جو ہر اعتبار سے تمہارے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔ میں اس کی بات کا مفہوم سمجھ رہا تھا، اس کے جملوں کی ساخت بتا رہی تھی کہ وہ نہ صرف ایک نمبر کا رشوت خور ہے بلکہ انتہائی ڈھیٹ اور مغرور بھی ہے۔ میں نے تمہاری پٹنہ والی فائل دیکھی ہے۔" اس نے انتہائی بازاری انداز میں کثیف دھوئیں کے چھوٹے بڑے دائرے منہ سے خارج کرتے ہوئے نہایت دیدہ دلیری سے کہا۔ " تم ایک ایماندار آفیسر رہے ہو لیکن اب وہ اپنا جملہ نامکمل چھوڑ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگا۔ کیا یہاں پرسنل اور کانفی ڈنشل ریکارڈ کو سیکرٹ نہیں رکھا جاتا؟" میں نے تعجب سے پوچھا۔ رکھا جاتا ہے۔" بخاری شانے اچکا کر بولا۔ ”بڑے صاحب اپنی ڈیوٹی میں بہت محتاط رہنے کے عادی ہیں لیکن دوسروں کی حد تک۔" میں سمجھا نہیں۔" میں نے پہلو بدل کر پوچھا۔ ”دوسروں کی حد تک سے آپ کا مطلب کیا ہے؟میرا مطلب نہایت واضح تھا۔ " اس نے بڑی لاپرواہی سے اپنے جملے کا مفہوم بناتے ہوئے کہا۔ ”میرے اور بڑے صاحب کے درمیان کوئی بات راز نہیں رہتی شاید
اس لئے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، دوسرے ہاتھ کو بھی شامل نا ضروری ہوتا ہے۔ کیا سمجھے؟" اس نے اپنا آخری جملہ بائیں آنکھ جھپکا کر ادا کیا تو میں اپنی نشست پر سمٹ کر رہ گیا۔ " تم یہاں نئے آئے ہو اس لئے میں ایک بات کھل کر بتا دوں۔" اس بار اس نے قدرے بدلے ہوئے انداز میں کہا۔ " انسان کو جیسا دیس ویسا بھیس کے اصولوں پر عمل کرنا پڑتا ہے، جو ایسا نہیں کرتے وہ بڑے گھاٹے میں رہتے ہیں۔۔میں آپ کی باتوں کا مقصد کچھ کچھ کچھ سمجھ رہا ہوں۔" میں نے سنجیدگی سے جواب دیا
کچھ کچھ نہیں مسٹر آذر!" بخاری نے میری سنجیدگی کو محسوس کر کے بڑی صاف گوئی سے کہا۔ "تمہیں بہت کچھ سمجھنا پڑے گا نہ سمجھو گے تو شاید ڈھاکہ میں زیادہ عرصہ نہ رہ سکو گے۔"
کیا مطلب؟" میں نے گر بہ گشتن روز اول کے فارمولے پر عمل کرنے کی خاطر تیور بدلے تو بخاری نے پھر ایک طویل کش لے کر سارا دھواں میری طرف اڑاتے ہوئے
جواب دیا۔ مطلب یہ ہے میری جان کہ ایمانداری کا ڈھونگ اس طرح رچاؤ کہ کسی کو تمہاری جانب انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے لیکن کام وہ کرو جس سے تمہاری مالی حالت بھی مستحکم رہے اور افسران بھی خوش رہیں۔"
اور اگر کوئی ایسا نہ کر سکے تو ؟" میں نے خون کا گھونٹ پی کر سوال کیا۔ میری زبان میں اسے بد نصیب کہا جائے گا۔ " اس نے کھل کر کہا۔ " زندگی میں ترقی کرنے کے مواقع بار بار نہیں ملتے اس کے علاوہ بہتی گنگا میں ہاتھ نہ دھونا بھی میرے نزدیک محض حماقت ہے۔"
آپ شاید ... جس حمام میں سب مادر زاد ننگے ہوں وہاں ایک دو افراد کا لباس میں ہونا بڑا سمجھا جاتا ہے۔ بخاری نے میری بات کاٹ کر تیزی سے اٹھتے ہوئے کہا۔ ” تم دو باتوں پر غور کر لو اس کے بعد کوئی فیصلہ کرنا مجھے یا بڑے صاحب بتا دینا
"ٹھیک ہے۔" میں نے کچھ سوچ کر سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ ”میں آپ کے مشوروں پر غور کرنے کی کوشش کروں گا۔"دو چار باتوں کو اور ذہن نشین کر لو۔ " اس بار بخاری نے مجھے بڑی رعونت سے گھورتے ہوئے کہا۔ ”جو باتیں ہمارے درمیان ہوئی ہیں ان کے بارے میں کسی اور سے مشورہ کرنے کی غلطی مت کرنا۔ ہو سکتا ہے سروش تم سے گھلنے ملنے کی کوشش کرے لیکن اس سے دور ہی رہنا ورنہ ممکن ہے تمہاری پوسٹنگ (Posting) کسی ایسے دور دراز علاقے میں کر دی جائے جس کے بارے میں دوسرے سوچنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ایک بات اور کسی سفارش یا بڑے آدمیوں کے تعلقات کو کبھی درمیان میں لانے کی غلطی نہ کرنا بڑے صاحب ایسے ماتحتوں کو پسند نہیں کرتے۔ " میں آپ کی باتوں کا خیال رکھوں گا۔ " میں نے دل پر جبر کر کے سادگی سے کہا۔ "تمہارا قیام کہاں ہے؟"
پلٹن میدان کے قریب دو کمروں کا ایک اپارٹمنٹ حاصل کر لیا ہے۔" فون ہے وہاں؟؟؟
جی نہیں۔"ڈونٹ وری" بخاری نے میرا پتہ نوٹ کرتے ہوئے نہایت فراخدلی سے کہا۔ دو روز کے اندر اندر میں تمہارے لئے فون کا بندوبست بھی کرا دوں گا۔" شکریہ۔" میں نے انکساری کا اظہار کیا۔ ”میں کل ہی آپ کو درخواست لکھ
دونگا وہ مغرور لیجے میں بولا۔ ”جہاں بخاری کا نام درمیان میں آجائے وہاں درخواستوں کی ضرورت نہیں پڑتی کیا سمجھے؟" سمجھ گیا۔ " مجھے مجبوراً مسکرانا پڑا۔
ایک آخری بات اور سمجھ لو۔" بخاری نے کہا۔ "جس روز تمہارے تبادلے کے آرڈر موصول ہوئے نیچے کے صاحب کے مخصوص آدمیوں نے اپنا کام شروع کر دیا تھا، مجھے یقین ہے کہ باس کو ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد سے لے کر آج تک کی تمام رپورٹ مل چکی ہوگی۔ میرا مشورہ ہے کہ تم اپنے سائے سے بھی محفو
بخاری اپنا جملہ مکمل کر کے تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے میں بھی باہر نکلا تو محکمے کے کچھ انسپکٹر وہاں موجود تھے، ان سے رسمی علیک سلیک کرنے کے بعد میں رحیم الدین کے پی اے کے کمرے میں دوبارہ گیا سروش کوئی ضروری ڈرافٹ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا، میں خاموشی سے ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دس منٹ بعد اس نے میری طرف دیکھا تو اس طرح چونکا جیسے مجھے پہچانے کی کوشش کر رہا ہو، اس کی وہ حرکت میرے لئے تعجب خیز اور حیران کن تھی اس لئے کہ مجھے اس سے ملاقات کئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی، اس نے کانفرنس روم میں بھیجنے سے پیشتر مجھ سے بڑی خوش مزاجی سے کہا تھا کہ آپ میٹنگ اٹینڈ کر لیں اس کے بعد ملاقاتیں ہوتی رہیں گی لیکن اب اس کی نظروں میں اجنبیت کا احساس تھا، میں گڑ بڑا کر رہ گیا، میں نے دوبارہ اپنا تعارف کرایا تو خشک لہجے میں بولا۔
" آپ کو فی الحال مسٹر بخاری کے ساتھ اٹیچ کیا گیا ہے، آپ کی پوسٹنگ کا انحصار بھی مسٹر بخاری کی رپورٹ پر ہو گا۔ آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اس کے بارے میں بھی مسٹر بخاری آپ کو بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔" میرے ذہن میں بخاری کے وہ جملے گونجنے لگے جو اس نے خاص طور پر سروش کے بارے میں کہے تھے ، عین ممکن تھا کہ سروش نے بھی مجھ سے اسی وجہ سے بے اعتنائی برتی ہو کہ اسے بھی رحیم الدین کے فیصلے کا علم ہو گیا ہو اور وہ اپنی جگہ محتاط ہو گیا ہو۔ بہر حال میں نے وہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں سمجھا اور رسمی طور پر سلام کر کے باہر آگیا۔ نئے دفتر میں پہلے روز کا تجربہ ہی میرے لئے خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔ بخاری نے جس انداز میں کھل کر باتیں کی تھیں اس کے واضح مطلب یہی نکلتے تھے کہ اگر مجھے ملازمت برقرار رکھنی ہے تو ایمانداری کا چولا اتارنا ہو گا، بصورت دیگر مجھے سزا کے طور پر کسی ایسی جگہ تعینات کیا جا سکتا تھا جہاں زندگی کی ساری سہولتیں میسر نہ ہوں ، بخاری نے دبی زبان میں کسی ایسی جگہ پوسٹنگ کا حوالہ بھی دیا تھا جس کے بارے میں مقامی افسران بھی سوچنا پسند نہیں کرتے تھے۔
مجھے اس وقت احسان انکل اور ڈپٹی بشیر علی بڑی شدت سے یاد آئے۔ شاید میں نے سے دور جانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست نہیں تھا، پٹنہ میں میرے والدین کاسایہ ضرور اٹھ گیا تھا لیکن پھر بھی دس اپنے اور دس غیر جاننے والے موجود تھے۔ ڈھاکہ میرے لئے بالکل اجنبی شہر تھا، یہاں کی تہذیب اور بود وباش بھی پٹنہ سے بہت مختلف تھی۔ اس دیارِ غیر میں صرف ایک کرنل بنرجی تھے ، میں جن پر انحصار کر سکتا تو لیکن وہاں جھرنا موجود تھی جس کا وجود غالباً بنرجی کو منظور نہیں تھا لیکن وہ کسی مجبوری کے تحت اس کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے گزارا کر رہے تھے۔ میرا دل چاہا کہ بخاری سے ملنے کے بعد سیدھا ان کے پاس جاؤں اور حالات کے پیش نظر ان سے مشورہ مانگوں لیکن میں نے اس ارادے کو ترک کر دیا۔ بخاری نے کانفرنس روم سے جاتے جاتے مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ رحیم الدین کے خاص آدمی اسے ایک ایک پل کی خبر پہنچاتے رہتے ہیں۔ ایئر پورٹ پر اترنے کے بعد سے انہوں نے میرا بھی تعاقب کیا تھا، اگر بخاری نے مجھے محض خوفزدہ کرنے کی خاطر وہ بات نہیں کہی تھی تو رحیم الدین کو کرنل کمال بنرجی سے میری ملاقات کا علم بھی ضرور ہو چکا ہو گا۔ خود بنرجی نے بھی مجھے تاکید کی تھی کہ رحیم الدین یا دفتر کے کسی اور عملے کو یہ بات بتانے سے گریز کروں کہ میں ان سے کسی طرح بھی واقف ہوں۔میرا ذہن بُری طرح چکرا رہا تھا، محض اپنی ایمانداری کو برقرار رکھنے کی خاطر میں نے اپنا وطن چھوڑ دیا تھا لیکن اب جو صورت حال درپیش تھی وہ پٹنہ سے زیادہ خراب تھی۔
بخاری کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ مجھے ہر قیمت پر ناجائز آمدنی کے مذموم کاروبار میں ملوث ہونا پڑے گا انکار کی صورت میں میری ملازمت خطرے میں پڑ سکتی تھی، مجھے ملازمت سے زیادہ ایمانداری پسند تھی لیکن ایک نئے شہر میں جہاں قدم رکھےمجھے چار دن ہی گزرے تھے میں بخاری جیسے گرگ جہاں دیدہ سے پیر مول لینے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا۔ وہ رحیم الدین کا دست راست تھا، رحیم الدین کروڑوں میں کھیلنے کا عادی تھا، میں ان کی بات ماننے سے انکار کر دیتا تو وہ ڈھاکہ میں میرے اوپر عرصہ حیات بھی تنگ کر سکتے تھے۔ مجھے صرف دو تین روز کی مہلت دی گئی تھی۔ اس محدود مدت میں مجھے اپنی زندگی اور موت کا اہم فیصلہ کرنا تھا۔ میرے پاس کئی طریقے تھے سب سے محفوظ راستہ یہ تھا کہ ملازمت کو خیر باد کہہ کر خاموشی سے ڈھاکہ سے واپس پٹنہ چلا جاتا، دوسرا راستہ یہ بھی میں حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر آمادہ ہو جانا۔ بخاری کو صاف لفظوں میں بتادین میں دیانتداری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوں، ایک آخری طریقہ یہ بھی ممکن تھا کہ میں فون پر کرنل کمال بنرجی کو تمام صورت حال سے باخبر ک دیتا پھر جو مشورہ وہ دیتے اس پر آنکھ بند کر کے عمل کرتا۔ میں دفتر سے گھر پہنچا تو جلیل نے مسکراتی نظروں سے میرا خیر مقدم کیا۔ اس کے جس سے مچھلی کی بو آرہی تھی۔
مجھے یاد آ گیا اس نے کہا تھا کہ وہ آج "مچھی بھات" سے میری تواضع کرنے گا اس غریب کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ اس وقت مجھے مچھی بھات سے زیادہ کسی ایسے دوست کی ضرورت تھی جو اس آڑے وقت میں میرا ساتھ دے سکتا، میرے کام آنے کے قابل ہو تا، مجھے اس کھائی میں اوندھے منہ گرنے سے بچا سکتا جو میرے لئےایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہلے سے تیار کی گئی تھی۔ کیا بات ہے صاب؟" جلیل نے میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔ " آپ پریشان نظر
آتا ہے؟"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔" میں نے اسے ٹالنے کی خاطر کہا۔ ” تھوڑی تکان
ہے، کچھ دیر آرام کروں گا تو جاتی رہے گی۔" ٹھیک ہے صاب! آپ لباس بدل کر آرام کرو میں رسوئی میں جا کر اپنا کام کرتا ہوں، کھانا تیار ہونے کے بعد جگا دوں گا۔" جلیل کچن میں چلا گیا، میں اپنے کمرے میں آگیا جسے جلیل نے میری غیر موجودگی میں بڑے سلیقے سے ترتیب دیا تھا، بارش ہونے کے سبب ہوا میں ہلکی ہلکی نمی باقی تھی چنانچہ میں نے بالکونی کا دروازہ بند کیا اور جوتے اتارنے کے بعد لباس تبدیل کئے بغیر ہی بستر پر دراز ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔ میرے ذہن میں خیالات کا ہجوم ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ مجھے اس ایک لمحے پر غصہ آ رہا تھا جب میں نے پٹنہ سے تبادلہ کرانے کے بارے میں سوچا تھا۔
وہاں رہ کر میں مخالفتوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طور پر کر سکتا تھا لیکن ڈھاکہ میں میرا کوئی یار و مددگار نہیں تھا اور اب قدم آگے بڑھا کر پیچھے پلٹنا بھی میرے اختیار کی بات نہیں تھی لیکن میں نے ایک بات کا فیصلہ بہر حال کر لیا تھا کہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں میں خود کو رشوت اور بددیانتی کے گھناؤنے کاروبار میں کسی قیمت پر ملوث نہیں ہونے دوں گا خواہ اس امر پر مجھے کتنے ہی مصائب و آلام کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے بخاری کی لچھے دار باتوں نے مجھے خوفزدہ کر دیا تھا، میں بڑی دور ایک نئے شہر میں سکون کی سانس لینے کی غرض سے آیا تھا
جوگی - پارٹ 3
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu
stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral,
Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love
stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in
Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu
detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids,
Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu
suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu
font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز
کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu
kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,

