| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 11
رائیٹر :ایم اے راحت
غلطی کی تھی انہوں نے ان جادوگروں کی زد میں آسکتے تھے۔ میں نے انہیں سہارا دیا اور انتہائی مشکل سے یہ طویل سفر طے ہوا۔ ہم گھر میں داخل ہوگئے۔
’’اب کیاکرو گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا اور میں مسکرا دیا۔
’’اللہ بہتر جانتا ہے۔‘‘
’’میں جائوں…؟‘‘
’’جی۔ آرام کیجیے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ سلامت علی اندر چلے گئے اور میں اپنی رہائش گاہ میں داخل ہوگیا۔ پھر نہ جانے کب تک بستر پر میں اس بارے میں سوچتا رہا تھا۔ دوسری صبح معمول کے مطابق تھی ناشتے پر سلامت علی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ فراست بھی نہیں ملا تھا۔ فرخندہ کچھ دیر کے بعد نظر آئی کچھ پریشان تھی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’ابو کا بخار اور تیز ہوگیا ہے۔‘‘ اس نے تشویش سے کہا اور میں چونک پڑا۔
’’سلامت علی صاحب کو بخار آگیا ہے۔ مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔‘‘
شدید بخار ہے۔ بے ہوشی طاری ہے۔ بحرانی کیفیت ہے اور نہ جانے کیا کیا بڑبڑا رہے ہیں۔ کبھی ’’بھینسا بھینسا چیختے ہیں۔ کہتے ہیں ہٹ جائو سینگ مار دے گا۔ کبھی کہتے ہیں لے گیا لے گیا سر لے گیا…!‘‘ فرخندہ نے بتایا… اور میں نے گہری سانس لی۔ اس بات کا خدشہ تھا مجھے رات ہی کو ان کی کیفیت کا اندازہ ہوگیا تھا۔
’’فراست کہاں ہیں؟‘‘
’’کسی کام سے گئے ہیں۔ آپ چاہیں تو ابو کے پاس چلیں۔‘‘
’’ہاں ضرور…!‘‘ میں نے کہا۔ سلامت علی کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ کبھی آنکھیں کھول کر دیکھتے کبھی عجیب عجیب سا منہ بناتے کسی پر نگاہ نہیں جما رہے تھے۔ میں نے ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ چیخ پڑے۔
’’ٹکر مار دی۔ سر پھٹ گیا۔ گردن کٹ گئی اور دیکھو وہ دیکھو گردن لے گیا۔‘‘
’’سلامت علی صاحب۔ مجھے دیکھیے میں کون ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ پھر گردن گھما کر مجھے دیکھا۔ میں نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ دل میں ایک آیت کا ورد کیا اور وہ مجھے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ اتنی دیر میں فراست واپس آگیا۔
’’ڈاکٹر اشتیاق بھی گئے ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے میں…‘‘
’’نہیں فراست، ضرورت نہیں ہے۔ بخار ابھی تھوڑی دیر میں اتر جائے گا۔‘‘ میں نے کہا۔ فراست نے عجیب سے انداز میں مجھے دیکھا اور پھر ماں کی طرف دیکھنے لگا سب پریشان تھے۔ فراست میرے ساتھ باہر نکل آیا پھر بولا۔
’’کچھ دیر پہلے میں نے ٹمپریچر دیکھا تھا۔ تم یقین کرو ایک سو پانچ بخار ہے یہ بہت خطرناک ہے۔‘‘
’’نہیں ٹھیک ہوجائیں گے فکر مت کرو…!‘‘
’’مسعود ایک بات بتائو گے؟‘‘ فراست عجیب سے لہجے میں بولا۔
’’ہوں۔ ضرور۔‘‘
’’پچھلی رات تم اور ابو کہاں گئے تھے۔‘‘ فراست عجیب سے لہجے میں بولا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اس نے کہا اس وقت میں جاگ رہا تھا۔ میں نے تمہیں اور ابو کو آتے ہوئے دیکھا اور پھر صبح کو… امی نے بتایا کہ بخار رات ہی کو چڑھ آیا۔ وہ سردی سے کپکپا رہے تھے۔ مجھے گمان ہوا کہ فراست کسی بدگمانی کا شکار ہورہا ہے۔ ایک لمحے سوچنے کے بعد میں اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا۔ پھر میں نے کہا۔
’’رات کو میں کالی موری گیا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ سلامت علی صاحب میرا پیچھا کررہے ہیں۔ وہ کالے جادو کی بستی ہے۔ بس وہاں پہنچ کر وہ ڈر گئے ہیں اور کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’گویا ہمارا اندازہ ٹھیک تھا۔ فرخندہ کہہ رہی تھیں کہ تم مانو یا نہ مانو مسعود اس ساحرہ کا شکار ہوگئے ہیں، ان کے انداز سے پتہ چلتا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں حیرت سے بولا۔
’’اس کا حسن شیطانی صفات کا حامل ہے اس کی آنکھوں میں سحر ہے جسے دیکھ لیتی ہے وہ مصیبت میں پھنس جاتا ہے وہ ضرور جادو گرنی ہے۔‘‘
’’کون… خدا کے بندے۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’بننے کی کوشش مت کرو، میں پوجا کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔‘‘ فراست نے سرد لہجے میں کہا۔ میں حیران نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر میں نے ملامت آمیز لہجے میں کہا۔
’’فراست، وہ ہندو ہے اور میں خدا کے فضل سے مسلمان، میرے اور اس کے درمیان ایسا کوئی رابطہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ فراست نے سنجیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ پھر بولا۔
’’اگر ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر تم کالی موری کیوں گئے تھے؟‘‘
’’تمہارے خیال میں کیوں جاسکتا تھا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’بھئی ہمارے ذہن میں تو صرف یہی آتا ہے کہ تم بھی اس کے حسن سے متاثر ہوگئے اور اس کے چکر میں مارے مارے پھر رہے ہو۔‘‘
’’میرا خیال تو یہ ہے کہ بلکہ تھا فراست کہ چونکہ سری رام جی اور سلامت علی صاحب کے انتہائی گہرے دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ تمہاری دادی جان کی دعائوں سے سری رام جی کے ہاں پوجا پیدا ہوئی تھی، ایسے حالات میں تم دونوں بہن بھائی کے بھی اس سے گہرے تعلقات ہوں گے، لیکن یوں لگتا ہے جیسے تم دونوں کے دل میں اس کے لیے کوئی کدورت ہے یا پھر یا پھر…‘‘
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مسعود صاحب، حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگوں نے بچپن ساتھ گزارا ہے۔ پوجا بہت حسین ہے اسے اپنے حسن پر ناز بھی تھا لیکن ہمارے لیے وہ صرف چاچا جی کی بیٹی ہے۔ ہم نے کبھی اسے نہ بہت زیادہ حسین سمجھا اور نہ کوئی مختلف شے مگر بس عجیب و غریب فطرت کی مالک ہے وہ اور پچھلے کچھ عرصے سے تو اس کی کیفیت عجیب ہی ہوگئی ہے، کسی کو منہ ہی نہیں لگاتی لیکن ہمیں ہمیں…‘‘
فراست نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’ہاں کہو آگے کہو…‘‘
’’نہیں بس، فرخندہ کا یہ خیال تھا کہ تم اس میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگے ہو۔‘‘
’’دلچسپی تو میں اس میں لے رہا ہوں فراست…‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’اس کے متعلق جو کہانیاں میں نے سنی ہیں وہ بڑی سنسنی خیز ہیں۔‘‘
’’کوئی خاص کہانی نہیں سنی ہوگی، سوائے ابو کی زبانی، ابو نے جوکچھ تمہیں بتایا ہوگا، بس اتنا ہی ہوگا اور ابو بھلا حقیقتیں کیسے بتاسکتے ہیں کیونکہ معاملہ ان کے دوست سری رام کا ہے۔‘‘
’’اچھا کچھ اور حقیقتیں بھی ہیں؟‘‘
’’ہاں ہیں، بہت سے لوگ جانتے ہیں، مگر مجھے معلوم ہے کہ یہاں چندوسی میں تمہاری ملاقات ہوئی ہی کتنے لوگوں سے ہے۔‘‘
’’کیا کہانی ہے فراست مجھے بتائو…؟‘‘
’’کوئی طویل کہانی نہیں ہے، بس یوں سمجھ لو کہ گووندا اور اس کا خاندان ہندوئوں کی زبان میں نیچ ذات لوگوں کا خاندان ہے۔ گووندا کے ماں باپ سری رام کے نوکر تھے۔ گووندا خود بھی بچپن سے سری رام کی چاکری کرتا رہا تھا اور اسی دوران اسے پوجا سے محبت ہوگئی۔ پوجا بھی سب کچھ بھول کر کہ وہ نیچ ذات ہے یا اونچ ذات اس سے محبت کرنے لگی۔ اب یہ کوئی ایسی بات تو نہیں تھی۔ دونوں جوان ہوگئے اور پھر سری رام جی کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔‘‘
’’اوہ تو تمہارا مطلب ہے کہ پوجا بھی گووندا کو چاہتی ہے؟‘‘
’’یقینی طور پر ایسے معاملات یکطرفہ نہیں ہوتے اور اس کے بعد جب سری رام جی کو یہ بات معلوم ہوگئی تو بس یوں سمجھو کہ گووندا کے خاندان پر عتاب نازل ہوگیا۔ ان کا ذریعۂ معاش ہمیشہ سے سری رام جی کی ملازمت تھا۔ سری رام جی نے انہیں اس سے محروم کردیا۔ وہ بھوکے مرنے لگے۔ گووندا کی ماں مرگئی۔ کچھ عرصے کے بعد باپ مرگیا، بس خاندان کے دوسرے لوگ باقی رہ گئے تھے۔ خود گووندا کی حالت بھی بہت زیادہ خراب تھی۔ سری رام جی نے جب اس سے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ وہ پوجا کو چاہتا ہے تو اس نے سچائی سے اظہار کردیا تھا۔ نتیجے میں اسے چار دن تک بھوکا پیاسا سری رام جی کے گھر کے ایک بند کمرے میں رہنا پڑا اور جب سری رام جی نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھوک سے مرجائے گا اور اپنی ضد نہیں چھوڑے گا تو اسے جوتے مار کر وہاں سے نکلوادیا کہ کہیں وہ ان کے گھر میں ہی نہ مرجائے۔ نجانے کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں بے چارے گووندا نے، اور اس کے بعد وہ یہاں سے غائب ہوگیا تھا، پھر اس نے کیا کیا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ واپس آیا تو وہ شیطان کے مقابلے میں شیطان بن چکا تھا۔ اب یہ دیکھو ناں مسعود کہ اونچی اور نیچی ذات کیا ہوتی ہے۔ ہمارے مذہب میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کے بعد اب گووندا نے سری رام جی کو صحیح طور پر سنبھال رکھا ہے۔‘‘
’’پوجا خود کچھ نہیں کہتی۔‘‘
’’نہیں وہ پاکباز خاتون بس خاموش رہتی ہیں ہر ایک سے ملنا جلنا بات کرنا چھوڑ دیا ہے۔ سری رام جی سے بھی کوئی شکایت نہیں کرتیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں، لیکن لیکن یہ سب دکھاوا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی گووندا کی سازش میں شریک ہے۔‘‘
’’کمال ہے، کمال ہے۔‘‘ میں نے کہا اور اس کے بعد میں خاموش ہوگیا۔ یہ کہانی واقعی عجیب اور دلچسپ تھی اور اب میں الجھ کر رہ گیا تھا۔ فراست تو کچھ دیر میرے پاس بیٹھنے کے بعد چلا گیا۔ میں نے اسے اطمینان دلایا تھا کہ ایسا کوئی احمقانہ تصور میرے ذہن میں موجود نہیں ہے، اور شاید اسے یقین بھی آگیا تھا لیکن اب میرے لیے ذرا الجھن کا مقام پیدا ہوگیا تھا۔ اونچ نیچ ذات کا معاملہ تھا۔ گووندا نے شیطانی علوم سیکھ لیے تھے اور اس کے ذریعے اب وہ طاقت حاصل کرچکا تھا لیکن مجھے اب اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے، دو محبت کرنے والے جن کا تعلق ایک دوسرے سے روحانی تھا، میری وجہ سے کسی عذاب میں گرفتار نہ ہوجائیں۔ یہ مجھے نہیں کرنا چاہیے اور جواب دینے والا ضمیر تھا، اور ضمیر میرے اس خیال سے غیر مطمئن نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ کسی بھی طرح اس کے اس مسئلے میں ٹانگ اڑانا مناسب نہیں ہے۔ اگر میں گووندا کو کوئی نقصان پہنچادوں تو یہ ظلم ہوگا۔ کیونکہ وہ ظلم سے مجبور ہونے کے بعد شیطانی حرکتوں پر اترا ہے، البتہ میں اس کی کسی شیطانی حرکت میں اس کا ساتھ بھی نہیں دے سکتا تھا۔ بہت غور کرنے کے بعد میں نے یہی فیصلہ کیا کہ اس مسئلے میں سری رام جی کی کوئی مدد نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی گووندا کا کوئی ساتھ دیا جاسکتا ہے۔ مجھے ان دونوں کے معاملات سے الگ ہوکر چندوسی سے نکل جانا چاہیے۔ پابند تو تھا نہیں کسی کا، کوئی قید نہیں تھی میری مرضی تھی، جس مسئلے میں چاہتا ٹانگ اڑاتا اور جس میں نہ چاہتا نہ اڑاتا۔ یہ فیصلہ قطعی اور آخری تھا لیکن اب ایسی مصیبت بھی نہیں آئی تھی کہ میں فوراً ہی یہاں سے فرار ہوجاتا۔
کافی وقت یہاں گزرا، فراست تو پہلے ہی چلا گیا تھا، میں اپنی آرام گاہ میں خاصا وقت گزارنے کے بعد باہر نکلا تو فرخندہ نظر آگئی۔ میں نے اسے روک کر سلامت علی صاحب کے بارے میں پوچھا تو اس نے پرسکون لہجے میں بتایا کہ بخار اتر چکا ہے اور اب وہ گہری نیند سو رہے ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ بخار اتر جائے گا۔ فرخندہ اب خاصی مطمئن نظر آرہی تھی۔
تھوڑی دیر کے بعد میں تیار ہوکر چل پڑا۔ گووندا سے ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ پچھلی رات ہی کو اس سے ملتا، اگر سلامت علی صاحب میرا پیچھا کرتے ہوئے وہاں نہ پہنچ جاتے۔ گھر سے نکل آیا، پیدل چلتا رہا۔ کالی موری کا فاصلہ اچھا خاصا تھا۔ دھوپ آہستہ آہستہ تیز ہوتی جارہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں کالی موری کے کھنڈرات میںداخل ہوگیا۔ یہاں وہی لامتناہی سناٹا چھایا ہوا تھا اور کہیں کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ میں گووندا کو تلاش کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا اور پھر میں نے اسے آواز دی۔ میرے آواز دینے پر وہ ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے سے باہر نکل آیا۔ عجیب سا حلیہ بنا رکھا تھا۔ چہرے پر سنگین خاموشی طاری تھی۔ میں اسے دیکھ کر مسکرادیا اور وہ سنجیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھتا رہا۔ میں نے کہا۔
’’تمہیں مبارکباد دینا چاہتا ہوں گووندا کہ تم نے نہ صرف اپنا قول نبھایا بلکہ اپنے دشمن کا خاتمہ بھی کردیا…‘‘
’’وہ ہمارا دشمن نہیں تھا میاں جی۔ وہ، بس یوں سمجھ لیں کہ ہم نے یہ سب کچھ نہیں چاہا تھا۔ کالا جادو کرتے ہیں مگر کسی کا جیون نہیں لیتے، پر آپ نے ایسی بات کہہ دی تھی اور، اور وہ نہ ماننے والوں میں سے تھا۔ سو ہم نے اس سے مقابلہ کیا اور وہ ہمارے سامنے شکست کھاگیا۔‘‘
’’مجھے اس کا علم ہے گووندا اور تمہاری کہانی بھی میرے علم میں آگئی ہے۔ تم پوجا سے محبت کرتے ہو…‘‘ گووندا کے چہرے پر عجیب سے آثار پھیل گئے، اس نے کہا۔
’’یہ کہانی، میاں جی! تمہیں چندوسی والوں ہی نے سنائی ہوگی لیکن چندوسی والے سری رام جی کے خوف سے ہمیشہ ادھوری کہانی سناتے ہیں۔ اگر پوری کہانی سننا چاہو تو میں تمہیں سنا سکتا ہوں۔‘‘
’’نہیں گووندا میں نے پوری کہانی ہی سنی ہے۔ مجھے علم ہوگیا ہے کہ سری رام جی نے تمہارے اہل خاندان کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے اور اور تمہیں بھی کافی اذیتیں پہنچائی ہیں۔‘‘
’’اگر سن چکے ہو میاں جی تو پھر خود فیصلہ کر لو کہ ہمارا کیا قصور ہے۔ میں سری رام جی کے مظالم سے تنگ آکر باہر نکل گیا۔ میرے اندر ہمت تھی، میں اگر چاہتا تو بے شمار دولت کما کر ایک امیر آدمی بن سکتا تھا لیکن سری رام جی جیسے ہٹ دھرم کبھی اس بات کو تسلیم نہ کرتے اور یہ نہ مانتے کہ، کہ ایک نیچ ذات ان کا برابر والا ہوسکتا ہے۔ بس اس خیال نے میاں جی دماغ گھمادیا اور پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایسی طاقتیں حاصل کی جائیں جن کے ذریعے سری رام جی کو مجبور کردیا جائے۔ میں نے یہاں پر بھی دھوکہ نہیں کیا اور سری رام جی کو یہ سمجھا دیا کہ میرے پاس کالی قوتیں ہیں۔ وہ اگر سیدھی طرح نہ مانیں گے تو پھر میں بھی انگلیاں ٹیڑھی کر لوں گا۔ میاں جی سب کچھ کر سکتا تھا میں ان کالی قوتوں کو حاصل کرنے کے بعد لیکن میں نے کچھ نہیں کیا۔ میں سری رام جی کو دھوکہ بھی دے سکتا تھا۔ پوجا کو ایسے نقصانات پہنچا سکتا تھا کہ اس کے بعد سری رام جی اسے اپنے ہاتھوں سے نکال کر گھر سے باہر ڈال دیتے، مگر، مگر میں پوجا کو اسی عزت کے ساتھ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں جس طرح لڑکیاں اپنے گھروں سے وداع ہوتی ہیں۔ یہ اس کی عزت کے لیے ہے میاں جی کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ ورنہ میرے کالے جادو کے سامنے کیا سری رام جی اور کیا ان کی اوقات۔‘‘ گووندا نے کہا۔ میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ پھر میں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے گووندا، بہرطور میں تمہیں دعائیں ہی دے سکتا ہوں، اس کے علاوہ اور کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
’’میاں جی، دیکھو ہمارے کالے علم نے بتایا ہے کہ تم کالے علم کے خلاف عمل کرتے ہو۔ ہمارے ساتھ ایسا مت کرنا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ ایک مظلوم کے ساتھ اور ظلم ہوگا۔ بس اس کے علاوہ ہم تم سے اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘
گووندا نے کہا اور میں پُرخیال انداز میں گردن ہلانے لگا۔ پھر میں نے کہا۔
’’نہیں گووندا۔ یہ سب کچھ معلوم کرنے کے بعد میں تمہارے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتا مگر تم سے کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کہو مہاراج…‘‘
’’گووندا۔ میرا تجربہ زیادہ نہیں ہے لیکن ایک بات سب ہی جانتے ہیں محبت آسمانی جذبہ ہوتا ہے۔ تمہارے دین دھرم میں بھی اسے بھگوان کا روپ کہا جاتا ہے۔ بھگوان کے اس سندر روپ کو تم نے شیطان کی آغوش میں کیوں دے دیا؟‘‘
گووندا میری صورت دیکھتا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولا۔ ’’جیون سے زیادہ پیاری ہے وہ ہمیں۔ بچپن سے ہماری ہے وہ۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے سوا کچھ نہیں سوچا۔ بچپن میں بھی وہ کہتی تھی کہ گووندا ہم ہمیشہ ساتھ کھیلا کریں گے، چاہے بوڑھے ہوجائیں، چاہے مرجائیں۔ جوانی میں بھی اسے پوری امید تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ماتا پتا کی اکیلی ہے وہ اس کے لیے جیون دے دیں گے۔ وہ اس کے لیے اونچ نیچ کی ساری دیواریں گرادیں گے اور ہمیں ایک کردیں گے، مگر یہ نہ ہوا۔ سری رام جی اتنے کٹھور ہوگئے کہ انہوں نے ان پر بھی دیا نہ کی جنہوں نے جیون بھر ان کی سیوا کی۔ ہم نے اپنے ماتا پتا اپنے پریم کی بھینٹ چڑھا دیئے۔ میاں جی ہمیں یہ حق نہ تھا۔ ہزار بار مرجاتے ہم اپنے ماتا پتا کے لیے مگر۔ مگر سری رام جی نے۔ پھر ہم پر شیطان آگیا اور، اور ہم شیطان بن گئے۔ سب کچھ کھودیا ہم نے۔ جیون میں بس ایک آشا ہے، پوجا۔ نہیں میاں جی، اتنا بڑا بلیدان دینے کے بعد ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب… پوجا ہماری ہوگی… ورنہ کسی کی نہ ہوسکے گی۔ وہ بھی اس سنسار سے جائے گی ہم بھی جائیں گے۔ شیطان اب انسان نہیں بن سکتا میاں جی، ہمیں معاف کردینا۔‘‘ وہ مڑا اور واپس چلاگیا۔ یہ بات میں خود بھی جانتا تھا کہ شیطان انسان نہیں بن سکتا۔ نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر نتیجہ کچھ بھی ہو میرے لیے اب یہ معاملہ غیر اہم ہوگیا تھا۔ میں وہ نہیں کرسکتا تھا جو سری رام چاہتے تھے۔
کچھ دیر کے بعد میں واپس چل پڑا…
سلامت علی کی حویلی کا ماحول عجیب ہورہا تھا۔ چچی جان یعنی بیگم سلامت علی سب سے پہلے نظر آئی تھیں، مجھے دیکھ کر یکدم ساکت ہوگئیں۔ پھر بے اختیار مجھے سلام کیا اور غڑاپ سے کمرے میں گھس گئیں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔ حیران حیران اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ ایک ملازم کھانے کے لیے پوچھنے آیا تو میں نے کہا۔
’’کھانا نہیں کھائوں گا۔ فراست کہاں ہے؟‘‘
’’اندر ہیں۔‘‘
’’میرے پاس بھیج دو۔‘‘ میں نے کہا اور ملازم چلاگیا۔ میں انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزر گئی فراست نہیں آیا تھا۔ نہ جانے کیا قصہ تھا۔ صورت حال معلوم کرنے کے لیے نکلنا ہی چاہتا تھا کہ دروازے پر آہٹیں محسوس ہوئیں پھر فرخندہ اور فراست ایک ساتھ اندر آئے تھے۔ دونوں نے سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے سلام کیا تھا۔ میں مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا، پھر میں نے کہا۔ ’’یہ کوئی نیا ڈرامہ ہے؟‘‘
’’ہمارا قصور نہیں ہے۔ ہمیں بتایا ہی نہیں گیا تھا…‘‘ فرخندہ نے کہا۔
’’جو بدتمیزی ہوئی صرف اس خیال کے ساتھ ہوئی کہ آپ ابو کے دوست کے بیٹے ہیں اور پھر آپ ہمارے ہم عمر بھی ہیں۔‘‘ فراست بولا۔
’’کیا ہوگیا تم دونوں کو؟‘‘
’’ہمیں اصل بات پتا چل گئی ہے۔‘‘
’’کونسی اصل بات…؟‘‘
’’سری رام چچا، ابو کے پاس آئے تھے۔ ہم دونوں نے ان کی باتیں سنیں اور ہمیں سب معلوم ہوگیا۔ رات کو گنگولی مارا گیا نا…؟‘‘
’’ہمیں معاف کردیجیے شاہ صاحب! ہم نے واقعی آپ کی شان میں بڑی گستاخیاں کی ہیں۔‘‘
’’ارے خدا تمہیں سمجھے۔ تم نے مجھے ایک اور نام دے دیا۔ آئو بیٹھو کیا بات ہوئی سری رام جی اور سلامت علی صاحب کے درمیان…‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ دونوں بڑے احترام سے میرے سامنے بیٹھ گئے۔ پوری طرح سنجیدہ نظر آرہے تھے۔
’’چاچا جی ابو کے بخار کی سن کر آئے تھے، مگر ابو تو اسی وقت ٹھیک ہوگئے جب آپ نے کہا تھا کہ بخار ابھی تھوڑی دیر میں اتر جائے گا۔ ان کی بحرانی کیفیت بھی اسی وقت ٹھیک ہوگئی تھی۔ ابو نے چاچا جی سے کہا کہ سری رام میں تمہیں ایک ایسی خوشخبری سناتا ہوں کہ تم خوشی سے پاگل ہوجائو گے۔ ہمیں بھی دلچسپی پیدا ہوگئی اور ہم دونوں نے چھپ کر ان کی باتیں سنیں تب ہمیں معلوم ہوا۔‘‘
’’کیا معلوم ہوا…؟‘‘
یہی کہ آپ ایک نوجوان درویش ہیں اور جمال گڑھی میں آپ نے بہت کچھ کیا ہے جس کی بناء پر بھلاّ صاحب اور سری رام آپ کو وہاں سے بلاکر لائے اور پچھلی رات آپ کے علم سے گنگولی مارا گیا۔
’’یہ غلط ہے۔ اسے گووندا نے مارا ہے لیکن تم دونوں نے… اوہ میرے خدا کیاچچی جان کو بھی سب کچھ معلوم ہوگیا ہے… تبھی… وہ بھی سلام کررہی تھیں… تو یہ قصہہے۔‘‘
’’شاہ صاحب۔ آپ ہمیں معاف کردیں۔ فرخندہ نے کہا۔ ’’ہم نے انجانے میں بڑی گستاخیاں کی ہیں۔ میں نے تو نہ جانے کیا کیا بکواس کی ہے۔‘‘
’’میں نے کیا کم حماقتیں کی ہیں۔‘‘ فراست بولا۔
’’بھئی تم لوگوں نے خوب روپ بدلا ہے۔‘‘ میں بدستور ہنستے ہو ئے بولا۔
’’آپ اتنی چھوٹی سی عمر میں درویش کیسے بن گئے شاہ صاحب …اور یہ سب کچھ آپ کو کیسے آگیا؟‘‘
’’چلو تم لوگوں کو یہ معلوم ہو ہی گیا تو میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں خوب غور کر کے مجھے جواب دینا۔‘‘
’’جی شاہ صاحب!‘‘
’’گووندا پوجا سے محبت کرتا ہے۔ پوجا بھی اسے چاہتی ہے۔ تم لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوگا۔ سری رام جی اپنی جیسی کر کے ہار گئے اور اب وہ میرے ذریعہ گووندا کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہوگا؟‘‘
’’بالکل نہیں!‘‘ فرخندہ نے فوراً کہا۔
’’ہمارے مذہب میں تو اونچ نیچ نہیں ہے، جو صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے وہ دوسرے کلمہ گو کا ہم پلہ ہے اور پھر سری رام نے گووندا کے ساتھ کیا نہیں کیا۔ اب اگر اس نے مجبور ہو کر شیطانی طاقتوں کا سہارا لے لیا ہے تو سری رام چاچا بھاگتے پھر رہے ہیں۔ ’’فراست بولا اور میں مسکرا خاموش ہوگیا۔ ان دونوں کے الفاظ نے مجھے ڈھارس دی تھی۔ شام کو سری رام جی پھر آگئے ۔ میں سلامت علی کے پاس آکر بیٹھا ہی تھا اور ہم کوئی گفتگو شروع بھی نہ کر پائے تھے کہ سری رام جی کے آنے کی اطلاع ملی تھی۔ سلامت علی نے انہیں یہیں بلوا لیا۔ سری رام جی ہاتھ جوڑے اندر آگئے تھے۔ آج ان کی کھیسیں نکلی ہوئی تھیں۔
’’جے ہو مہاراج کی۔ اندھے ہیں، ہم کیا جانیں کہ کونسا روپ مہان ہے وہ سیوا نہ کر پائے آپ کی جو کرنی چاہیے تھی۔آپ نے تو مشکل ہی ختم کردی ہماری۔ ہمارے آدمی دیکھ آئے سلامت ، پاپی گنگولی کا ڈیرہ اجڑا پڑا ہے۔ بدبو پھیلی ہوئی ہے چاروں طرف… سڑاند اٹھ رہی ہے، جے ہو مہاراج کی اب اس پاپی گووندا کا کریا کرم اور کر دیں مہاراج، جان چھوٹ جائے کمینے سے۔‘‘
’’کچھ کہنا ہے آپ سے سری رام جی، اچھا ہے آپ آگئے۔‘‘
’’حکم دیں مہاراج حکم دیں۔‘‘ سری رام مجسم نیاز بنے ہوئے تھے۔
آپ کا ذاتی معاملہ ہے ہم کسی بات پر زور نہیں دیں گے مگر پتا چلا ہے کہ آپ کی بیٹی بھی بچپن سے گووندا کو چاہتی ہے اور اب بھی ایسا ہی ہے۔‘‘
’’بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں مہاراج، بال ہٹ جانتے ہیں آپ، مگر ذات پات بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ریت رواج بھی کچھ ہوتے ہیں، ہم کھرے برہمن ہیں اور وہ سسرا اچھوت ہے، کوئی جوڑ تو ہو، کوئی میل تو ہو۔ ہمارے در کے ٹکڑے کھا کر جوان ہوا ہے۔ ہمارے برابر کیسے کھڑا ہوسکتا ہے۔ ذات برادری ہے ہماری، بھول کر بھی ایسی بات نہیں سوچ سکتے۔‘‘
’’آپ نے اس پر سختیاں بھی بہت کی ہیں۔‘‘
’’غلطی بھی کی ہے ہم نے۔ رحم کھا گئے اس پر‘‘ زندہ پھنکوا دیا۔ بس اسی کئے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اسی وقت کھیل ختم کر دیتے تو اچھا تھا مگر سمے گزر گیا، اب آپ ہی اسے ٹھکانے لگا سکتے ہیں مہاراج۔‘‘
’’نہیں سری رام جی، یہ کام ہم نہیں کرتے، ہمارا ہر قدم اللہ کے حکم سے اٹھتا ہے۔ کسی انسان کو دوسرے انسان کی زندگی لینے کا حق نہیں ہے۔ اگر اس کا عمل شیطانی ہے تو اسے قدرت سے سزا ملے گی۔ ہم اس کے جادو کا توڑ کر سکتے تھے مگر اس کا ایک مقصد ہے۔ وہ برائی کے راستے چھوڑ کر نیک راستوں پر آسکتا ہے۔ ہمارے دین میں اونچ نیچ نہیں ہوتی۔ انسان سب ایک جیسے ہوتے ہیں، نہ کوئی اچھوت نہ برہمن۔ وہ اگر چاہتا تو شیطانی طاقتوں کا سہارا لے کر کبھی کا آپ کی بیٹی کو اٹھا لے جاتا لیکن بقول آپ کے نیچ ذات ہو کر بھی اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے اپنے پیار کی بے حرمتی نہیں کی۔ وہ اب بھی یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ آپ نے اس کے کالے جادو کی قوتیں اب تو خود دیکھ لیں، میرے خیال میں اب ضد نہ کریں اسے اپنالیں ورنہ وہ آپ کو آسانی سے تباہ کرسکتا ہے۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ سلامت علی نے کہا۔
’’ہاں سلامت علی صاحب، بات ذات پات کی آگئی ہے اور یہ تفریق ہمارے مذہب میں گناہ ہے۔ میں اس بنیاد پر کچھ نہیں کرسکتا، مجبوری ہے اگر کوئی شیطان، سفلی قوتوں کا سہارا لے کر کسی بے گناہ کو نقصان پہنچا رہا ہوتا تو دوسری بات تھی مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے۔‘‘
ارے یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ سلامت انہیں سمجھائو، کیا میں، کیا میں اپنی بیٹی اس اچھوت کو، اس چمار کو دے دوں۔‘‘ سری رام کلس کر بولے۔
’’ایسا ہوتا نہیں ہے مسعود میاں۔‘‘ سلامت علی بولے۔
’’اللہ جانے، میں معذور ہوں۔‘‘
’’ڈر گئے ہو گووندا سے میاں جی، یہ کیوں نہیں کہتے۔‘‘ سری رام بولے۔
>’’آپ کو سب کچھ کہنے کا اختیار ہے، سری رام جی۔‘‘
’’ارے بھائی، ہمارا کام کر دو۔ جو مانگو گے دیںگے۔ بیس ہزار، پچاس ہزار بولو کیا لو گے۔ سلامت انہیں سمجھائو۔‘‘ سری رام بے حواس ہوتے جارہے تھے۔
’’یہ پیشکش آپ گووندا کو دیں، ممکن ہے وہ راضی ہو جائے۔ ویسے میری یہی رائے ہے۔ آپ چاہیں تو خاموشی سے کسی دوسرے شہر جا کر یہ کام خاموشی سے کردیں، کچھ بھی کریں یہ ہوگا ضرور۔‘‘
’’ہوں، ٹانگ برابر چھو کرے ہو میاں جی… باتیں لمبی کرتے ہو۔ بڑے آئے پیر ٹنڈن شاہ بن کر۔ ارے تم سن رہے ہو اس کی باتیں سلامت علی۔‘‘ سری رام بگڑ گئے۔ میں مسکراتا رہا۔ سلامت علی دم بخود تھے۔ سری رام کھڑے ہوگئے۔ پھر بولے۔’’ میں جارہا ہوں سلامت، آگ لگا دی ہے میرے من میں اس نے۔ اسے سمجھائو، نہ مانے تو …تو… تم جانو تمہارا کام۔‘‘ وہ تیزی سے آگے بڑھ گئے۔ سلامت علی مسلسل خاموش تھے…! میں نے مسکرا کر انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی محترم سلامت صاحب، کیا حکم ہے آپ کا۔‘‘ سلامت علی خاموشی سے کچھ سوچ رہے تھے۔ پھر انہوں نے کہا۔
’’دوستی دنیا تک ہے۔ مسعود شاہ صاحب، اس کے بعد قبر میں جانا ہے۔ ایک ایسے کام کی حمایت کیسے کرسکتا ہوں، جس کی اجازت مذہب نہ دیتا ہو۔ آپ سب کچھ بہتر سمجھتے ہیں، میں بھلا یہ بینائی کہاں رکھتا ہوں۔ آپ کا فیصلہ بہتر ہے اب وہ جانے اور اس کا کام۔‘‘
’’شکریہ… بیشک وہ ہمارے ہم مذہب نہیں مگر جیتے جاگتے انسان ہیں۔ خیر میرا فیصلہ اٹل ہے مگر اب یہاں میرا رکنا مناسب نہیں ہے۔ آپ کی دوستی میں رخنہ پڑے گا۔ سری رام میرے یہاں رہنے سے خوش نہیں ہوگا چنانچہ آپ مجھے اجازت دیجیے۔‘‘
’’ابھی… اسی وقت۔‘‘
’’ہاں جب ایک کام کرنا ہے تو دیر مناسب نہیں ہے۔ آپ سری رام سے کہہ دیں کہ اس گفتگو کے بعد میں یہاں نہیں رکا۔‘‘ میں نے کہا اور سلامت علی صاحب افسردہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا۔
’’ہمیں تو خدمت کی سعادت حاصل ہی نہ ہو سکی۔ کم نگاہ تھے کہ آپ کو سمجھ ہی نہ سکے۔ بچے آپ کے جانے سے اداس ہو جائیں گے۔‘‘ میں نے سلامت صاحب سے کہا کہ وہ فراست اور فرخندہ کو کچھ نہ بتائیں ورنہ وہ مجھ سے رکنے کی ضد کریں گے۔ انہیں دونوں کی وجہ سے میں جلدی وہاں سے چل پڑا۔ سلامت علی کو میں نے اسٹیشن تک چلنے کے لیے منع کردیا تھا اور خود تانگے میں بیٹھ کر چل پڑا تھا۔ چندوسی کے چھوٹے سے اسٹیشن پر کہیں سے ایک ٹرین آکر رکی تھی۔ میں خاموشی سے اس میں سوار ہوگیا۔ سلامت علی نے انتہائی خوشامد کر کے کچھ پیسے دے دیئے تھے۔ مجبوری تھی کیونکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ٹکٹ وغیرہ خریدنے کے جھمیلے میں اس لیے نہیں پڑا تھا کہ کہیں فراست اور فرخندہ کو میری روانگی کے بارے میں معلوم نہ ہو جائے اور وہ جذباتی ہو کر اسٹیشن دوڑ پڑیں۔ ٹرین کہاں سے آئی ہے کہاں جائے گی، کچھ پتا نہیں تھا، چند لمحات کے بعد اس نے اسٹیشن چھوڑ دیا۔ نچلے درجے کا ڈبہ تھا۔ معمولی قسم کے مسافر بھرے پڑے تھے۔ ایک مسافر نے اپنے قریب جگہ دے دی اور میں بیٹھ گیا۔ ٹرین کی آواز ذہن کو سلائے دے رہی تھی، رات کے بارہ بجے کے قریب ٹکٹ کلکٹر آگیا اور سوتے ہوئے مسافروں کو جگا جگا کر ٹکٹ مانگنے لگا۔ میں نے جیب سے پیسے نکال لیے اور ٹکٹ کلکٹر کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا، جب وہ قریب پہنچا تو میں نے پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’چندوسی کے اسٹیشن سے سوار ہوئے ہیں بھائی، یہ ریل جہاں جا رہی ہے وہاں کا ٹکٹ دے دو۔‘‘ ٹکٹ چیکر نے چونک کر مجھے دیکھا اور پھر سلام کر کے آگے بڑھ گیا۔ میں ہاتھ میں پیسے لیے منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔ میرے برابر ہی ایک میلے کچیلے سے کمبل میں منہ ڈھک کر سوتے ہوئے شخص نے کمبل کا کونہ سرکایا اور ’’شی شی‘‘ کا اشارہ کر کے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ایک بوڑھا باریش آدمی تھا، ہنس کر بولا۔
’’آرام بڑی چیز ہے، منہ ڈھک کر سوئیے۔‘‘ میں نہیں سمجھ سکھا کہ اس نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے۔ اس نے دوبارہ کمبل منہ پر ڈھک لیا تھا۔ میں پریشان نظروں سے دور پہنچ جانے والے ٹکٹ چیکر کو دیکھنے لگا تو اچانک باریش شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور بڑی زور سے مجھے اپنی طرف گھسیٹ لیا اور پھر کمبل میرے چہرے پر بھی ڈھک دیا۔ میرے بدن میں سناٹا سا پھیل گیا تھا۔ کمبل کی تاریکی میں ایک لمحے کے لیے گھٹن کا احساس ہوا اور پھر فنا ہوگیا۔ مدھم مدھم سے مناظر نگاہوں میں ابھرنے لگے۔ آہستہ آہستہ عجیب سی روشنی پھیلتی جارہی تھی۔ میں حیرانی سے اس روشنی کو دیکھنے لگا۔ ایک شخص ہاتھ میں جھاڑو لیے قریب آتا ہوا محسوس ہوا اور پھر مجھ سے کچھ فاصلے پر رک کر اس نے جھاڑو دینا شروع کردی۔ گرد اُڑ رہی تھی۔ میں نے گرد سے بچنے کے لیے کمبل سر پر اوڑھ لیا اور چہرہ ڈھک لیا۔ جھاڑو کی آوازیں مسلسل ابھر رہی تھیں۔ جب وہ دور چلی گئیں تو میں نے چہرہ کھول کر دیکھا۔ صبح کا سہانا وقت تھا۔ کافی فاصلے پر لال رنگ کے پتھروں سے بنی ہوئی ایک عمارت نظر آرہی تھی۔ غالباً مسجد تھی، اس کی سیڑھیوں سے نمازی نماز پڑھ کر نیچے اتر رہے تھے۔ دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا، چونک کر چاروں طرف دیکھا۔ نہ ٹرین تھی، نہ ٹرین کے مسافر اور نہ ہی وہ کمبل پوش مسافر، لیکن کمبل میرے پاس تھا اور سو فیصدی وہی تھا جس میں مجھے چھپا لیا گیا تھا۔ دل کو احساس ہوا جیسے میرے پاس کائنات کی ساری دولت آگئی ہو، مگر حیرانی اپنی جگہ تھی۔ یہ سب ہوا کیا۔ ہوش و حواس کے عالم میں ریل میں بیٹھا تھا اور سب کچھ غائب ہوگیا۔ یہ کونسی جگہ ہے اور… آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ دور سے ایک گھوڑا گاڑی نظر آئی جو اسی طرف آرہی تھی۔ میرے قریب سے گزر کر وہ مسجد کے سامنے رک گئی۔ اس سے کچھ لوگ نیچے اترے اور کچھ سامان اتارنے لگے۔ پھر کچھ خواتین گھوڑا گاڑی سے نیچے اتر آئیں۔ قیمتی لباس پہنے ہوئے تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس سے بہت سے گدڑی پوش مرد عورتیں گھوڑا گاڑی کے پاس آگئے اور ہنگامہ آرائی ہونے لگی، لیکن گاڑی سے اترنے والے چار آدمیوں نے انہیں دھکے دے کر پیچھے ہٹایا اور پھر شاید ان کے کہنے سے وہ قطار بنا کر بیٹھ گئے۔ میں دلچسپی سے یہ تماشا دیکھنے لگا۔ انہیں شاید کھانا تقسیم کیا جارہا تھا۔ میرے پیٹ میں ایک دم کھلبلی مچ گئی۔ شدید بھوک کا احساس ہوا مگر قدم اس طرف نہ اٹھ سکے۔ میں خاموشی سے ادھر دیکھتا رہا۔ اچانک ایک آدمی میری طرف بڑھا اور قریب آگیا۔
’’ناشتہ لے لو بابا جی۔ ادھر قطار میں آجائو۔‘‘ ایک دم سے دل میں انا جاگی۔ میں فقیر تو نہیں ہوں مگر ذہن نے فوراً ٹوکا۔ رزق ٹھکرانا گناہ ہے اور جھوٹی انا دشمنی۔ رزق کے لینے کے لیے بڑھنے والے ہاتھ انسان کے سامنے نہیں اللہ کے سامنے پھیلتے ہیں۔ اٹھا اور اس شخص کے ساتھ چل پڑا… کمبل جسم سے لپٹا ہوا تھا۔ اس لیے جسم کا صاف ستھرا لباس چھپا رہا، فراست کے دیئے ہوئے کپڑے تھے، قیمتی اور خوبصورت۔ ان لوگوں نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے۔ اس لیے کمبل اور سنبھال لیا۔ اس شخص نے مجھے بھی قطار میں بٹھا دیا۔ حلوہ پوریاں اور ترکاری تھی۔ یہ چیزیں بڑے بڑے تھالوں میں سجی ہوئی تھیں۔ ڈھاک کے پتوں کے دونے بنے ہوئے تھے۔ ایک شخص تھال سنبھالے ہوئے تھا۔ دو اس کے پیچھے تھے۔ دونوں جوان لڑکیاں جو قیمتی پوشاک پہنے ہوئے تھیں تھال کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ ایک لڑکی دونے اٹھا کر دوسری کو دیتی اور دوسری یہ دونے فقیروں کو دے دیتی۔ غالباً یہ خیرات دوسری لڑکی کے ہاتھوں تقسیم کرائی جارہی تھی۔ تھال خالی ہوتا تو دوسرا تھال گھوڑا گاڑی سے آجاتا۔ آہستہ آہستہ وہ میرے قریب پہنچتے جارہے تھے۔ دونوں لڑکیاں بے حد خوبصورت تھیں۔ میں نے ایک نگاہ ان پر ڈال کر جھکائی مگر اس سرسری نگاہ ہی سے مجھے ایک انوکھا احساس ہوا۔ میں نے کچھ دیکھا تھا… اور جو کچھ دیکھا تھا ناقابل یقین تھا۔ گہرے کالے رنگ کا ایک ناگ ایک لڑکی کے جسم کے گرد بل ڈالے لپٹا ہوا تھا۔ وہ بہت لمبا اور پتلا تھا۔ اس کا نچلا حصہ لڑکی کی کمر سے لپٹا ہوا تھا اور باقی بدن بل کھاتا اوپر چلا گیا تھا۔ اپنے اس شہبے کو یقین کی شکل دینے کے لیے میں نے جلدی سے گردن اٹھائی، اسے دوبارہ دیکھا۔ وہ دونوں اب میرے سامنے تھیں۔ دونے لڑکی کے ہاتھ میں تھے اور وہ مجھے دینے کے لیے جھک رہی تھی۔ میں نے اس بار سانپ کو بخوبی دیکھ لیا، اس کا پھن لڑکی کے سر کے اوپر رکھا تھا اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ ایک دم انسانی کمزوری کا غلبہ ہوا۔ لڑکی جھکی تو میں چیخ مار کر پیچھے ہٹ گیا۔ اور میرے منہ سے آواز نکلی۔
’’سانپ، سانپ۔‘‘
دونے لڑکی کے ہاتھ سے نیچے گر گئے اور ان کا سامان بکھر گیا۔ سب چونک پڑے تھے۔ دونوں لڑکیاں بھی متوحش ہوگئی تھیں۔
’’کہاں ہے سانپ… کیسا سانپ؟ ‘‘ تھال سنبھالنے والوں نے کپکپاتے ہوئے بمشکل تھال سنبھال کر نیچے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ… یہ… میں انگلی سے سانپ کی طرف اشارہ کر کے ایک دم کھڑا ہوگیا۔ سانپ کا اونگھتا ہوا سر جنبش کرنے لگا۔ اس نے ایک دم آنکھیں کھول دیں اور اس کی ننھی سرخ چنگاریوں جیسی آنکھیں مجھے گھورنے لگیں۔ ان میں کینہ توزی کی جھلک تھی۔ میرا اشارہ چونکہ لڑکی کے جسم کی طرف تھا اس لیے ان لوگوں نے لڑکی کو بھی دیکھا۔ پھر ایک بولا۔
’’پاگل لگتا ہے۔ اٹھا یہ رزق… سب کچھ گرا دیا۔‘‘
’’تم لوگ…تم لوگ۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ میرے چہرے سے کمبل سرک گیا تھا۔ دوسری لڑکی نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور پھر سے دونے اٹھا کر تقسیم کرنے والی لڑکی کو دے کر بولی۔
’’لو مہر، زمین پر گری چیزیں خراب ہوگئی ہیں اور دے دو!‘‘ میں شدت حیرت سے گنگ ہوگیا۔ یہ لوگ لڑکی کے جسم سے لپٹے سانپ کو دیکھ نہیں پا رہے یا…! اس بار دونے میرے ہاتھوں میں آگئے تھے مگر میں نے کچھ پیچھے ہٹ کر انہیں لیا تھا۔ وہ آگے بڑھ گئیں مگر میں پاگلوں کی طرح انہیں دیکھ رہا تھا۔ یا الٰہی یہ کیا قصہ ہے۔ کالے سانپ نے لڑکی کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے اور یہ لوگ نہ تو اس سے خوف کھا رہے ہیں اور نہ اسے کوئی اہمیت دے رہے ہیں۔ دونوں لڑکیاں ناشتہ تقسیم کرنے والے آخری فقیروں کو بھی ناشتہ دے چکے تو واپس پلٹے۔ انہوں نے مجھے دیکھا میں اسی طرح دونے پکڑے بیٹھا ہوا تھا۔ اس بار انہوں نے مجھے ہمدردی سے دیکھا تھا۔ سب گھوڑا گاڑی میں بیٹھ گئے اور کوچوان نے اپنی جگہ سنبھال لی۔
’’ابے پیٹ بھرا ہوا ہے کیا پہلوان۔‘‘ میرے برابر بیٹھے ہوئے فقیر نے للچائی ہوئی نظروں سے میرے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایں…! میں چونک پڑا۔
’’میرے کو دے دے خلیفہ، کلّن کا پیٹ چار پوریوں سے نہیں بھرنے کا۔ دے دے استاد اللہ تیرا بھلا کرے گا۔‘‘ اس نے لجاجت سے کہا اور میں نے دونے اس کی طرف بڑھا دیئے۔
’’ارے ارے، کھانے دے اسے کلن، اللہ تیرا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا۔‘‘ قریب بیٹھی ایک عورت نے کہا۔ اس کے ساتھ دو بچے تھے جو جلدی سے نیچے گری ہوئی پوریاں اور حلوہ اٹھا کر بھاگے۔
’’اے بی تمہیں کیا ہو رہا ہے۔ اپنی خوشی سے دیا ہے اس نے، آئیں کہیں سے بی ہمدرد۔ کلّن نے پوریوں کے نوالے بناتے ہوئے کہا۔ اسی وقت دوسرا فقیر چیخا۔
’’لو اور ناشتہ آرہا ہے کلّن استاد… ‘‘ گھوڑا گاڑی پھر واپس آرہی تھی۔ کلّن نے سرگوشی میں کہا۔
’’میاں بھائی۔ تیرے کو اگر ضرورت نہیں ہے تو میرے لیے لے لیجیئو۔ اللہ تجھے خوش رکھے میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔‘‘ گھوڑا گاڑی کچھ فاصلے پر رک گئی۔ اس بار اس سے عورتیں نیچے نہیں اتری تھیں بلکہ ایک بھاری جسامت کا دراز قامت شخص نیچے اترا تھا۔ اس کے جسم پر قیمتی شیروانی تھی، چوڑی دار پاجامہ، سیاہ وارنش کے پمپ پہنے ہوئے تھا۔ اس کے پیچھے ہی دونوں آدمی بھی نیچے اترے تھے جو پہلے تھال اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ تینوں اس طرف بڑھنے لگے۔ کلّن نے انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ابے لو، پھوٹ لے خلیفہ… کوئی اور چکر ہے‘ نکل لے، نکل لے۔‘‘ وہ جلدی سے اٹھا اور پیچھے کھسک گیا۔
شیروانی والا شخص پروقار چال چلتا ہوا میرے سامنے آگیا۔ ان دونوں افراد نے میری طرف اشارہ کردیا۔ دوسرے فقیر ابھی ناشتہ ہی کر رہے تھے۔
’’آپ ناشتہ نہیں کر رہے میاں صاحب۔‘‘ پُر رعب شخص نے مجھے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایل لو، کیسے ناشتہ کرے بے چارہ، وہ کالیا کلّن جو چار سو بیسی کر کے اس کا ناشتہ لے گیا۔ بے چارے کو اور دے دو میاں جی بھوکا ہے۔‘‘ عورت نے سفارش کی۔
’’آپ کو تھوڑی سی زحمت دینا چاہتا ہوں میاں صاحب، غریب خانے تک زحمت کرنی ہوگی۔‘‘
’’مم میں… وہ…وہ۔‘‘ میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
’’بعد میں آپ جہاں حکم دیں گے وہاں پہنچا دیا جائے گا، خدارا انکار نہ کیجیے۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔ میاں فتح محمد کوئی تانگہ کر کے میاں صاحب کو احترام سے گھر لے آئو۔ وہ دیکھو، وہ خالی تانگہ گزر رہا ہے۔‘‘ اس شخص نے ایک سمت اشارہ کیا، اور دوسرا آدمی تانگے کی طرف دوڑ گیا۔ میں گہری سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ تقدیر کے فیصلے اہم ہوتے ہیں۔ ہر تحریک کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ آخر مجھے کسی کام کے لیے ہی یہاں بھیجا گیا ہے اور کام… وہ تو شاید میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔
تانگہ آگیا، اس شخص نے مجھے اپنے سامنے تانگے میں سوار کرایا۔ دونوں ملازم نما آدمی بھی تانگے میں بیٹھ گئے اور شیروانی والے نے تانگے والے سے کہا ’’ہماری گاڑی کے پیچھے پیچھے آ جائو۔‘‘
’’جی سرکار عالی۔‘‘ تانگہ گھوڑا گاڑی کے پیچھے چلتا رہا۔ میں دونوں طرف بنی عمارتوں کو دیکھ رہا تھا۔ کوئی بڑا شہر تھا مگر میرے لیے اجنبی تھا۔ اپنا تجسس نہ روک سکا اور پوچھ بیٹھا۔
’’یہ کونسا شہر ہے بھائی…‘‘ میرے قریب بیٹھے دونوں ملازم چونک پڑے۔ ’’تانگے والا بے اختیار بول پڑا۔‘‘
’’دلی ہے بھائی میاں، کہیں باہر سے آئے ہو۔‘‘
’’تم تانگہ چلائو شیخ جی، میاں صاحب کا بھیجہ ٹلاّ ہے۔‘‘فتح محمد نے کہا اور دوسرا ملازم اسے گھورنے لگا۔
’’تیری کترنی کبھی قابو میں نہیں آئے گی، فتے چپکا بیٹھ…‘‘
’’اماں تو مرچی کائے کو چبارئے ہو، میں نے کیا کر دیا؟‘‘ فتح محمد نے برا مانتے ہوئے کہا۔
’’بس تو چپکا بیٹھا رہ…‘‘
’’کمال ہے۔ عمر قید نہیں۔ کائے کو میرے اوپر حکم چلاتے رہتے ہو، تمہارا دبیل ہوں؟‘‘
’’ لڑنا بری بات ہے بھائی تحمل سے کام لو…‘‘ میں نے انہیں ٹوکا۔
’’ابے لے، بول پڑے مرلی داس، میاں بھائی سب تمہارا کیا دھرا ہے۔‘‘ فتح محمد نے کہا۔
’’میرا؟‘‘
’’تو اور کیا میاں بھائی، وہ سانپ کاں سے نظر آگیا تمہارے کو…‘‘
’’سانپ۔‘‘ میں آہستہ سے بولا۔
’’سن لو بندو خاں صاحب، میاں جی بھول گئے، اور سنائو بڑے میاں صاحب کو سانپ کی کہانی۔‘‘
’’خدا کے لیے چپ رہو ۔ گھر جاکر بات کرلینا۔‘‘ دوسرے ملازم نے کہا۔
’’یہ شہر دہلی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اماں تم کیا بارہ بنکی سے آئے ہو۔‘‘
’’ہاں، میں یہاں اجنبی ہوں۔‘‘
’’کاں کے رہنے والے ہو۔‘‘ فتح محمد بولا۔
’’چندوسی سے آیا ہوں۔‘‘
’’تو یہ نہیں پتا کہ دلی میں اترے ہو۔ ابے بھائی میاں کیا ہوائی جہاز سے گر گئے تھے۔‘‘
’’نہیں بس یونہی۔‘‘ میں نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’دلی میں ہو پہلوان اور فتح پوری کی جمعہ مسجد پر بیٹھے تھے۔ اب سمجھ میں آگئی مگر وہ سانپ کاں سے نظر آگیا تمہیں۔‘‘
فتح محمد بولنے کا مریض تھا…!
’’وہ کون صاحب ہیں جو شیروانی پہنے ہوئے تھے؟‘‘
’’شیخ عبدالقدوس اچھے نواب بہت بڑی سرکار ہے۔ آدھی دلی ان کی ہے اللہ کے فضل سے۔‘‘ فتح محمد بولا۔
وہ دونوں لڑکیاں کون تھیں…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ایک مہر النسا، شیخ صاحب کی چھوٹی بٹیا اور دوسری…‘‘
’’فتح محمد قسم کھا رہا ہوں اچھے نواب سے تیری شکایت ضرور کروں گا۔ رستے میں بک بک کیے جارہا ہے یہ کوئی اچھی بات ہے۔‘‘ ملازم بندو خان نے کہا اور فتح محمد برا سا منہ بناکر خاموش ہوگیا۔
میں نے بھی خاموشی اختیار کرلی لیکن حالات کا کچھ اندازہ ضرور ہو رہا تھا۔ وہ لڑکی میرے لیے معمہ بنی ہوئی تھی جس کے جسم پر میں نے پورے ہوش و حواس کے عالم میں سانپ لپٹے ہوئے دیکھا تھا۔ مگر دوسرے اس سے لاعلم تھے۔ کیوں آخر کیوں پھر ایک قدیم طرز کی شاندار حویلی کے احاطے کے سامنے تانگہ رک گیا۔ گھوڑا گاڑی اندر داخل ہوگئی تھی۔ ہم تانگے سے نیچے اتر آئے۔ گھوڑا گاڑی کی سواریاں اندر چلی گئی تھیں۔ شیروانی والے شیخ صاحب ہمارا انتظار کررہے تھے۔ ان کے پاس ایک اور شخص کھڑا ہوا تھا جسے دیکھ کر اچانک میرے دماغ میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ چہرہ، یہ چہرہ میں پہچان گیا تھا۔
یہ وہی نواب قسم کا آدمی تھا جسے میں نے اس وقت دیکھا تھا جب لوگ مجھے رتنا کہتے تھے۔ اسی شخص کے ساتھ میں نے ماموں ریاض کو شکنتا کے کوٹھے پر جاتے ہوئے دیکھا تھا اور بعد میں یہ مجھے نہیں مل سکا تھا۔ مجھے اس کا نام نہیں یاد تھا مگر اتنا پتا چلا تھا کہ یہ لوگ الٰہ آباد کے رہنے والے تھے۔ بعد میں ان لوگوں کا کوئی پتا نہیں چل سکا تھا۔ آہ کیا ماموں ریاض بھی اس کے ساتھ ہیں۔ شیخ عبدالقدوس احترام سے آگے بڑھے اور بولے۔
’’تکلیف دہی کی معافی چاہتا ہوں قبلہ! دلی آرزو ہے کہ ایک مختصر وقت کے لیے مجھے شرف میزبانی بخشیں۔‘‘
’’آپ کو کوئی کام ہے ہم سے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اس حقیقت سے انکار کرکے جھوٹ بولنے کا جرم نہیں کروں گا۔‘‘ شیخ صاحب بولے۔
’’اگر آپ کا خیال ہے کہ ہم آپ کے کسی کام آسکتے ہیں تو ہم حاضر ہیں۔ اگر آپ کا کام ہم سے نہ ہوسکے تو ہمیں مجرم قرار نہ دیجیے گا۔‘‘
’’وہ میری تقدیر ہوگی۔ آپ کے قدموں کی برکت ہی سے فیضیاب ہولوں گا۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا۔ پھر فتح محمد سے بولے۔ ’’میاں فتح محمد! میاں صاحب کو مہمان خانے لے جائو اور عزت و احترام سے وہاں قیام کرائو۔ تمہاری خدمات ان کے لیے ہیں، انہیں کوئی تکلیف ہوئی تو سزا پائو گے۔‘‘
’’جی سرکار۔‘‘ فتح محمد نے خم ہوکر کہا۔ پھر میرے سامنے گردن جھکا کر بولے۔ ’’آیئے میاں صاحب!‘‘ میں شانے ہلا کر اس کے ساتھ چل پڑا۔ مہمان خانہ حویلی کے بغلی حصے میں تھا۔ اس میں داخل ہونے کا راستہ بھی دوسری سمت سے تھا۔ اس طرف آم اور شریفے کے درختوں کی بھرمار تھی۔ تین چوڑی سیڑھیاں عبور کرکے ایک عریض دالان آیا اور فتح محمد نے دالان میں بنے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا۔
’’سب سے بڑھیا کمرہ دے رہا ہوں میاں صاحب! تمہارے کو قسم اللہ کی نصیب کھل گئے تمہارے تو۔ ابھی چار دن پہلے نواب مینڈو گئے ہیں۔ اس کمرے سے جاتے ہوئے سو روپے دے گئے تھے میرے کو، کہنے لگے میاں فتح! جب بھی یاں سے نوکری چھوڑو، میرے پاس آجائیو نہال کردوں گا۔ ویسے بھائی میاں! کونسی بینٹی گھما دی تم نے ہمارے شیخ صاحب پر! بڑا دم بھر رہے ہیں تمہارا۔‘‘
’’تم واقعی بہت زیادہ بولتے ہو فتح محمد!‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میاں صاحب! ہم تو یہ سوچیں ہیں کہ زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور مردہ دلی کو دلی سے باہر نکال پھینکنا چاہیے۔ بالکل ٹھیک کہا ہے مرزا جی نے! میاں ہنس بول کر زندگی گزار لو۔‘‘
’’ہاں! یہ تو ٹھیک ہے۔ ایک بات بتائو فتح محمد! یہ شیخ صاحب کے ساتھ جو ایک صاحب کھڑے ہوئے تھے، وہ کون تھے؟‘‘
’’نبّن میاں!‘‘
’’میں ان کا نام نہیں جانتا۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’ابے وہ ہاں… ایل لو… میاں صاحب! وہ اچھے نواب کی بڑی بٹیا فخرالنساء کے ممیا سسر ہیں۔ نام ہے ان کا الیاس خان الٰہ آبادی امرود… پیار سے سب لوگ انہیں نبّن میاں کہتے ہیں۔ ایک بات بتائوں پتے کی۔‘‘
’’بتائو!‘‘
’’بس میاں کھائو کمائو ہیں۔ کبھی اس کے گھر جا پڑے، کبھی اس کے گھر جا پڑے۔ شیخ صاحب بٹیا کے سسرال کا خیال کرتے ہیں۔ اب کوئی بیس دن ہوگئے یاں پڑے ہوئے، کھا رہے ہیں، اینڈ رہے ہیں۔‘‘
’’الٰہ آباد کے رہنے والے ہیں۔‘‘
’’ہاں! بڑی بٹیا کی سسرال الٰہ آباد میں ہے۔‘‘
’’ان کے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔‘‘
’’لو ان کے ساتھ اور کون ہوگا۔ آگے ناتھ نہ پیچھے پگا! بس یار دوست ہیں اور رنگ رلیاں…! ابے کیا بتائوں میاں صاحب!‘‘ فتح محمد کی بات ادھوری رہ گئی۔ بندو خان ناشتہ لے آئے تھے۔
’’تم میاں باتیں منٹھار رہے ہوگے۔ پتا ہے میاں صاحب نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔‘‘
’’اماں ہاں… لو! بھول ہی گیا۔ تم بھی خدمت کر لو میاں صاحب کی۔ ایک سٹے کا نمبر مل گیا تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔‘‘ فتح محمد نے ہنستے ہوئے کہا۔ ناشتہ بڑے اہتمام سے لایا گیا تھا۔ میری بھوک پھر چمک اٹھی۔ میں خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ بندو خان نے فتح محمد کو کوئی کام بتا کر وہاں سے بھیج دیا تھا۔ خود بندو خان سمجھدار اور سنجیدہ آدمی تھا۔ خاموش بیٹھا رہا۔ میں نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ پھر وہ برتن اٹھا کر چلا گیا۔ مہمان خانے کا یہ کمرہ بے مثال سجاوٹ کا حامل تھا۔ مسہری بے حد قیمتی تھی، دوسری چیزیں بھی اسی معیار کی تھیں۔ میں گہری سانسیں لے کر ایک گوشے میں جا بیٹھا۔ جو کچھ ہوا تھا، اس پر غور کررہا تھا۔ چندوسی سے ریل میں بیٹھا تھا۔ کمبل پوش کے الفاظ سنے تھے اور بس! اس کے بعد یہ سب کچھ۔ وہ کمبل اب میرے پاس تھا۔ اس سے بڑی حقیقت اور کیا ہوسکتی تھی۔ مگر دل سے سوال کرتا تو جواب ملتا کہ مجھے یہاں بھیجا گیا ہے اور یہ سب کچھ بے مقصد نہیں ہے۔ مجھے اس مقصد کے سامنے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ البتہ دل میں رہ رہ کر الٰہ آباد کے الیاس خان کا خیال آرہا تھا۔ اس شخص سے اگر ماموں ریاض کے بارے میں کچھ معلوم ہوسکے تو۔ باہر آہٹیں ابھریں۔ پھر شیخ عبدالقدوس اندر داخل ہوگئے۔ میں نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔
’’مجھے گناہ گار نہ کیجیے میاں صاحب! آپ تشریف رکھیے۔ کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں آپ سے!‘‘
’’حکم فرمایئے۔‘‘
’’میاں صاحب! اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ اس نے آپ کو کیا دولت عطا کی ہے۔ آپ نے میری بچی کو دیکھ کر کچھ سانپ کا حوالہ دیا تھا، وہ کیا تھا؟ تانگے میں بیٹھ کر میرے ملازموں نے یہ تذکرہ کیا تھا اور میرا دل بے اختیار چاہا تھا کہ آپ کو غریب خانے پر زحمت دوں۔‘‘
’’وہ خاتون آپ کی صاحبزادی ہیں۔‘‘
’’جی! میری دو بیٹیاں ہیں۔ معبود کریم نے یہی دو بیٹیاں عنایت فرمائی ہیں۔ بڑی کے فرض سے سبکدوش ہوچکا ہوں، چھوٹی کے لیے ابھی کچھ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس مصیبت کا شکار ہوگئی۔‘‘
’’وہ مصیبت کیا ہے؟‘‘
’’آپ کے سوال کا جواب دینا میرا فرض ہے۔ حالانکہ میرا سوال تشنہ رہ گیا ہے۔ آپ نے اس وقت سانپ، سانپ کیوں کہا تھا؟‘‘
’’کیا آپ لوگ ان کے بدن سے لپٹے ہوئے سانپ سے خوف زدہ نہیں ہوتے؟‘‘
’’بدن سے لپٹے ہوئے سانپ سے…؟‘‘ شیخ صاحب نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
’’ہاں! اس کا پھن ان کے سر پر رکھا ہوا تھا۔ وہ نیلا، چمکیلا سانپ گہرا سیاہ تھا اور وہ ان کے پورے بدن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔‘‘ میں نے کہا اور شیخ صاحب دہشت زدہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے کہا۔ ’’وہ آپ کو نظر آیا تھا؟‘‘
’’آپ کو نظر نہیں آتا؟‘‘
’’نہیں! ہمیں یہ بصیرت نہیں ملی، حضرت! اب میں آپ کو پوری تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔ مختصر عرض کرتا ہوں۔ میں دہلی کا قدیم باشندہ ہوں، اجداد دور مغلیہ سے یہاں آباد تھے، یہ حویلی بھی اسی دور کی ہے۔ دہلی میں تھوڑی بہت جائداد اور کاروبار ہے۔ اللہ کے کرم سے عزت سے گزر رہی ہے۔ اولاد نرینہ سے محروم ہوں اور یہی دو بچیاں سرمایۂ حیات ہیں۔ مہرالنساء میری چھوٹی بچی کا نام ہے۔ کوئی آٹھ ماہ پہلے وہ ایک خوش گفتار، ہنس مکھ اور زندگی سے بھرپور بچی تھی۔ اچانک ایک رات وہ خواب کے عالم میں ڈر گئی اور سانپ، سانپ چیخنے لگی۔ ہم سب جاگ گئے اور اسے بیدار کیا تو وہ پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اور دہشت زدہ نظروں سے چھت میں لٹکے ہوئے فانوس کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ فانوس میں سانپ ہے۔ وہ نیچے لٹکا ہوا تھا اور اس پر گرنا چاہتا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ خواب دیکھ رہی تھی۔ تاہم اس وقت سارے ملازموں کو بلا کر بھاری فانوس اتارا گیا اور اس کے سامنے چکناچور کردیا گیا۔ سانپ کہیں نہیں تھا۔ اسے اطمینان تو ہوگیا تھا مگر وہ بدستور سہمی رہی۔ پھر دوسری صبح اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ یہ سانپ کئی دن سے دیکھ رہی ہے۔ کبھی یہ اسے پائیں باغ کے کسی درخت کی جڑ میں بیٹھا نظر آتا ہے، کبھی پھولوں کے کسی کنج میں مگر پھر وہ غائب ہوجاتا ہے لیکن اس کی ننھی، چمکدار آنکھیں اسے نظر آتی رہتی ہیں۔ نذر نیاز کی گئی، صدقے اتارے گئے۔ جو ممکن تھا، کرلیا گیا مگر اسے افاقہ نہ ہوا۔
وہ ملول اور خوف زدہ رہنے لگی۔ دو تین بار اس نے سانپ کا تذکرہ کیا اور پھر خاموش ہوگئی۔ اس کے بعد بارہا اس سے سانپ کے بارے میں پوچھا گیا مگر اس نے کچھ نہیں بتایا بلکہ اس تذکرے پر وہ خاموش ہوجاتی ہے۔ اس میں وہ تمام صفات ختم ہوگئیں۔ پہلے وہ بلبل کی طرح چہکتی رہتی تھی، اب بالکل خاموش بلکہ ایک طرح سے نیند کے عالم میں رہتی ہے۔ بس کبھی کبھی وہ اس خول سے نکلتی ہے۔ اس سے کچھ پوچھا جاتا ہے تو رونے لگتی ہے۔ ساتھ ہی کچھ عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے ہیں جو ناقابل فہم ہیں۔‘‘
’’وہ کیا…؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا اور شیخ صاحب کسی سوچ میں گم ہوگئے جیسے ان عجیب و غریب واقعات کو یاد کر رہے ہوں۔ پھر انہوں نے کہا۔
’’اس کے کمرے میں خوشبوئیں بکھری رہتی ہیں۔ گلدانوں میں ایسے ایسے حسین پھولوں کے گلدستے سجے نظر آتے ہیں جو شاید پورے ہندوستان میں کہیں نہ ملیں، دہلی تو کیا۔ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ اس کے لباس کی الماری میں اطلس کا ایک ایسا جوڑا ملا جس میں ہیرے ٹنکے ہوئے تھے۔ وہ آدھی آدھی رات کو باغ میں چلی جاتی ہے اور وہاں بیٹھی رہتی ہے۔ بس ایک بار رات کا چوکیدار اسے دیکھ کر اس کے پاس چلا گیا تھا دوسری صبح وہ بے ہوش ملا اور پھر پاگل ہوگیا۔ ایسے ہی کچھ اور واقعات!‘‘
’’انہوں نے سانپ کا تذکرہ دوبارہ نہیں کیا۔‘‘
’’نہیں! اس کے بعد نہیں۔‘‘
’’آپ لوگوں نے ان کے پاس کسی سانپ کو نہیں دیکھا؟‘‘
’’کبھی نہیں!‘‘
’’آج کل بھی نہیں؟‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘
’’آپ نے انہیں کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا؟‘‘
’’میرے خاندان کے بزرگوں نے منع کردیا۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’ان کا کچھ اور خیال ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ اپنے منہ سے کچھ نہ کہوں۔‘‘
’’آٹھ ماہ سے ان کی یہ حالت ہے۔‘‘
’’ہاں… لگ بھگ!‘‘
’’کوئی ایسا واقعہ جس کا رابطہ ان واقعات سے کیا جاسکے؟‘‘
’’ہاں!‘‘ شیخ صاحب نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’بتایئے۔‘‘
’’دہلی سے کچھ فاصلے پر غازی آباد ہے۔ غازی آباد میں بھی میری زمینیں اور جائداد ہے۔ وہیں ایک قدیم حویلی بھی ہے جو کوئی سو سال سے ویران پڑی ہے۔ ایک ہندو بنیے نے اس پر اپنا حق جتا دیا اور ہمارے درمیان مقدمہ بازی شروع ہوگئی۔ میں وہ مقدمہ جیت گیا۔ مقدمے کے دوران حویلی سیل کردی گئی تھی۔ مجھے اس کا قبضہ دیا گیا اور چونکہ یہ تنازع عرصے سے چل رہا تھا اس لیے جب ہم قبضہ لینے گئے تو تمام گھر والے ساتھ تھے۔ مہرالنساء بھی تھی۔ حویلی تباہ حال پڑی ہوئی تھی، جھاڑ جھنکاڑ سے بھری ہوئی۔ میں نے ایک کمرہ صاف کرایا اور ہم نے ایک رات وہاں قیام کیا تھا۔‘‘
’’جی۔ پھر…؟‘‘
’’بس! اس کے بعد ہی مہر النساء کی یہ کیفیت شروع ہوگئی۔‘‘
’’اس رات کے قیام میں کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔‘‘
’’بالکل نہیں۔ خوشگوار چاندنی رات تھی۔ بچے صاف ستھرے علاقے میں ساری رات آنکھ مچولی کھیلتے رہے تھے۔‘‘
’’آپ نے کسی عالم سے رجوع کیا؟‘‘
’’نہیں! دراصل میرا ذہن کچھ مختلف ہے۔ اس بارے میں، میں نے اپنے اہل خاندان سے اختلاف کیا ہے مگر اب۔ اور پھر میاں صاحب! آپ نے براہ راست مجھے متاثر کیا ہے۔ ایسے کام میں کرتا رہتا ہوں۔ اس کا صدقہ اتارتا رہتا ہوں، کھانا وغیرہ اس طرح تقسیم کرتا رہتا ہوں جس طرح آج آپ نے دیکھا۔‘‘
’’میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘
’’آپ بہتر سمجھتے ہیں میاں صاحب! اللہ کا حکم ہوا ہے تو آپ میری مدد کریں۔ وہ بچپن سے اپنے پھوپھی زاد بھائی سے منسوب ہے۔ میری بہن، بہنوئی یورپ میں رہتے ہیں اور ہمارے درمیان طے ہے کہ ہم دونوں بچوں کی شادی کریں گے۔ سلطان میاں کی تعلیم مکمل ہونے والی ہے۔‘‘
’’صاحبزادی اپنے منگیتر سے مطمئن ہیں؟‘‘
’’اس نے خالص مشرقی ماحول میں میری والدہ سے تربیت حاصل کی ہے اور مشرقی لڑکیاں صرف اتنا سوچتی ہیں جتنا انہیں بتایا جائے۔ اس کی اداسی اور غم آلود کیفیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسے اپنے مستقبل کا خیال ہے۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا اور میں سوچ میں ڈوب گیا۔ نہ میں عالم تھا، نہ درویش! ان حالات پر اپنا تبصرہ کیا کرتا۔ مجھے تو رہنمائی درکار تھی۔ سوچنے لگا کہ شیخ صاحب کو کیا جواب دوں۔ بالآخر کہا۔
’’قبلہ شیخ صاحب! میں آپ سے اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ میں خود بھی ایک ناواقف انسان ہوں۔ ہاں اس اعتراف سے گریز کرکے جھوٹ کا مرتکب نہ ہوں گا کہ میں نے مہرالنساء کے جسم سے ایک پتلا، لمبا سانپ لپٹے ہوئے دیکھا تھا جس کا پھن ان کے سر پر رکھا ہوا تھا، اسی لیے ناشتے کے دونے میرے ہاتھ سے گر گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ آپ سب لوگ بھی اسے دیکھ رہے ہوں گے مگر اللہ کا حکم! اگر اس نے مجھے یہ بینائی بخشی ہے تو اس کی کچھ وجوہ بھی ہوں گی۔ میں دہلی میں نووارد ہوں، چندوسی سے آیا ہوں۔ بس یوں سمجھ لیجیے خدا کے نیک بندوں سے فیض حاصل کرنے نکلا ہوں۔ ہوسکتا ہے اس بارے میں، میں کوئی خدمت سرانجام دینے میں کامیاب ہوجائوں۔ آپ کے درِ دولت پر چند روز قیام کا خواہشمند ہوں۔ دو وقت کی روٹی کے سوا کچھ درکار نہ ہوگا۔ اگر بزرگان دین سے کچھ رہنمائی حاصل ہوئی تو یہاں ٹھہروں گا ورنہ آپ سے اجازت لے کر چلا جائوں گا۔ خدارا مجھے ایک گناہ گار انسان کے سوا کچھ تصور نہ فرمایئے گا۔ ہوسکتا ہے صاحبزادی کی صحت یابی کی سرخروئی مجھے عنایت ہوجائے۔‘‘
’’سبحان اللہ۔ میاں صاحب! آپ کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ جسے عاجزی اور انکساری کی دولت مل جائے، اس سے زیادہ امیر کون ہوسکتا ہے ورنہ یہاں تو دو ٹکوں پر اچھلنے والوں کی بہتات ہے۔ آپ کا قیام میرے لیے بڑی ڈھارس کا باعث ہوگا۔ آپ یہاں قیام فرمایئے، میں آپ کا احسان مانوں گا۔ ویسے حضور! کوئی نام تو ہوگا آپ کا؟‘‘
’’جی! آپ مجھے مسعود احمد کہہ سکتے ہیں۔‘‘
’’جس شے کی حاجت ہو، ارشاد فرما دیجیے گا۔‘‘
’’شکریہ! مہرالنساء بیگم سے ملتے رہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ مجھے ان کے لیے بھائی کا درجہ دیا جائے اور حویلی کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کی اجازت بھی!‘‘
’’سب کو ہدایت مل جائے گی۔ آپ اطمینان رکھیں۔‘‘
’’مہرالنساء پر کسی بھی وقت کوئی خاص کیفیت طاری ہو، مجھے ضرور اطلاع دیجیے گا۔‘‘
’’بہت بہتر۔ ویسے آپ چاہیں تو ابھی اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ نورجہاں میری بھتیجی ہے اور مہر کے ساتھ رہتی ہے۔ اسے سب سے زیادہ مہر سے لگائو ہے میں اسے بھی ہدایت کردوں گا۔‘‘
’’ابھی کچھ توقف فرمایئے، بعد میں ان سے ملاقات کرلوں گا۔‘‘ میں نے کہا اور شیخ صاحب اٹھ گئے۔ رخصتی الفاظ ادا کرکے وہ باہر نکل گئے اور میں احمقوں کی طرح دروازہ دیکھتا رہ گیا۔ کیا میں اس سلسلے میں کچھ کرسکوں گا، مگر کیسے۔ میرا عمل کیا ہونا چاہیے۔ بابا فضل میں نابینا ہوں، میں کچھ نہیں جانتا۔
’’آرام بڑی چیز ہے، منہ ڈھک کے سویئے۔‘‘ میرے کانوں میں آواز ابھری اور میں اچھل پڑا۔ آواز اتنی صاف تھی کہ کوئی دھوکا نہیں ہوا تھا اور یہ آواز… یہ آواز! میری نگاہ اس کمبل کی طرف اٹھ گئی۔ اس کمبل کا ان الفاظ سے گہرا تعلق تھا۔ مگر اس وقت پھر میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور اس طرح آیا کہ میں خود کو اس سے باز نہ رکھ سکا۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور کمبل کو بڑے احترام سے اٹھا کر مسہری کی طرف بڑھ گیا۔ مسہری پر دراز ہوکر میں نے کمبل اوڑھ لیا۔ تاریکی پھیل گئی۔ سب کچھ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا مگر میں صبر و سکون سے لیٹا رہا۔ پھر اچانک میری نظروں میں روشنی کا ایک نکتہ ابھرا۔ یہ نکتہ رفتہ رفتہ پھیل رہا تھا۔ پھر احساس ہی نہ رہا کہ میں کہاں ہوں، کس حال میں ہوں۔ میرے اطراف تیز روشنی تھی اور اس روشنی میں، میں بہت کچھ دیکھ رہا تھا، سن رہا تھا، سمجھ رہا تھا۔ میرے ذہن کے دریچے کھلتے جارہے تھے اور ان دریچوں میں نہ جانے کیا کیا تھا۔
دروازہ زور زور سے پیٹا گیا تو میں جاگا اور آنکھیں پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ مہمان خانہ ہی تھا۔ میں مسہری پر تھا اور دروازہ مسلسل پیٹا جارہا تھا۔ کمبل احترام سے تہہ کرکے میں نے ایک طرف رکھا اور اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ فتح محمد تھا۔
’’اماں بھائی میاں روٹی نئیں کھائو گے کیا، ڈیڑھ بج رہا ہے۔ اماں گھوڑے بیچ کر سو گئے تھے کیا؟‘‘
’’نہیں فتح محمد! کھانا لے آئے ہو کیا؟‘‘
’’اماں کھانا لانے میں کونسی دیر لگے گی، ابھی لائے۔‘‘ فتح محمد نے کہا اور چلا گیا۔ میرا سر چکرا رہا تھا۔ جو کیفیت طاری ہوئی تھی، وہ نیند نہیں تھی بلکہ کچھ اور تھا اور اس میں جو کچھ بتایا گیا تھا، اس نے مجھے بہت اعتماد بخشا تھا۔ کھانے کے بعد فرصت تھی۔ کچھ دیر آرام کیا پھر غسل کرکے لباس سلیقے سے پہنا۔ فراست کا دیا ہوا یہ لباس قیمتی تھا۔ مجھے وہ حلیہ بنانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جو درویشوں اور گوشہ نشینوں کا ہوتا ہے۔ کہا گیا تھا۔
’’وہ روپ ہوتا ہے، بہروپ نہیں۔ اور روپ ملتا ہے، بنایا نہیں جاتا۔ جذب کی وہ منزل عمر ناتمام کی گرفت میں نہیں ہاں کسی مرد حق کی نظر ہوجائے۔ سو جو بہروپ بھرتے ہیں، وہ جھوٹے ہوتے ہیں اور جھوٹ سے ہمیشہ خسارہ ہوتا ہے۔ سو دنیا کو دنیا داروں ہی کی طرح گزارنا بہتر ہے اور بہروپ بھرنا گناہ!‘‘ تب میں نے سوچا کہ مجھے دوسرے لباس بھی درکار ہیں اور میرے ہاتھ، پائوں مضبوط۔ کسی کے چھوٹے موٹے کام کے لیے اس کے در پر جانا پڑتا۔ رزق حلال کا حصول تو نہیں۔ اس کے لیے تو بساط بھر محنت کرنی ہوتی ہے۔ لیکن ابھی کچھ ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ اس کے بعد یہ سوچوں گا کہ کیا کرنا چاہیے۔‘‘
شام کے چھ بجنے والے تھے۔ مہمان خانے سے نکلا اور حویلی کے باغ کی بہار دیکھتا ہوا درختوں کی آڑ میں دور نکل آیا۔ تب ایک برگد کا قدیم درخت نظر آیا جو کئی سو سال پرانا ہوگا۔ اس کی داڑھیاں بے شمار تھیں اور نیچے آکر زمین کی گہرائیوں میں اتر گئی تھیں مگر مجھے جس شے نے اپنی طرف متوجہ کیا وہ ایک زنگ خوردہ کلسا تھا جو تانبے کا بنا ہوا تھا اور زنگ تانبہ کھا گئی تھی مگر کلسے میں سونا چمک رہا تھا۔ کلسا چمکدار سونے کی گنیوں سے بھرا ہوا تھا اور یہ مال تھا زمانہ قدیم کے ایک سود خور بنیے کا جس نے ہر اچھے برے ذریعے سے اسے جمع کیا اور یہاں دفن کردیا مگر وہ اسے استعمال نہ کرسکا اور مر گیا اور اب اسے کسی کی ملکیت بن جانا چاہیے مگر میری نہیں۔ نہ ہی میرے دل میں اس کی طمع پیدا ہوئی تھی مگر میں نے پائوں سے اس جگہ کو کرید کر دیکھا اور اندازہ ہوگیا کہ کلسا گہرائی میں ہے۔ پھر کچھ باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں اور گردن گھوم گئی۔ وہ دونوں اسی طرف آرہی تھیں اور زیادہ دور نہیں تھیں۔ میں نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے مجھے مگر وہ خود میری طرف بڑھ آئی تھیں۔ اور اس وقت مہرالنساء سانپ کی گرفت میں نہیں تھی۔
’’لو دیکھ لو یہی ہیں۔‘‘ نورجہاں نے شوخی سے مسکرا کر کہا اور مہرالنساء نے اسے ٹہوکا دیا۔ ’’مجھے کیوں پیٹ رہی ہو۔ خود ہی تو دیکھنا چاہ رہی تھیں مگر کمال ہے اس عمر میں فقیری! مجھے تو کچھ اور ہی لگتا ہے۔ کیوں جناب شاہ صاحب! آپ کچھ بتائیں گے؟‘‘
’’کیا بتائوں…؟‘‘
’’انہیں تو پہچان لیا ہوگا آپ نے؟‘‘ نورجہاں نے مہرالنساء کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
’’جی ہاں!‘‘
’’اس وقت ہم نے بھی آپ کو غور
سے نہیں دیکھا تھا۔ مگر بعد میں آپ کی بڑی تعریفیں سنیں۔ وہ تعریفیں سچ ہیں یا کوئی اور قصہ ہے؟‘‘
’’قصہ کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بس وہی کہ اک محلے میں تھا ہمارا گھر۔ وہیں رہتا تھا ایک سوداگر یعنی مثنوی زہرعشق۔ یا پھر زیب النساء اور عاقل خان والا معاملہ۔‘‘ نورجہاں بہت تیز اور شوخ تھی۔
’’اتنی بے لگامی اچھی نہیں ہوتی نورجہاں!‘‘ مہرالنساء نے واپس ہوتے ہوئے کہا۔
’’سنو تو، ارے رکو تو۔‘‘ نورجہاں نے کہا۔ مگر مہرالنساء تیزی سے آگے بڑھ گئی تھی۔ مجبوراً نورجہاں کو بھی اس کے پیچھے جانا پڑا۔ میں خاموشی سے ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور دوبارہ اس وقت چونکا جب ایک درخت کے عقب سے تالیاں بجنے کی آوازیں سنیں۔ دیکھا تو الیاس خان، فتح محمد کے ساتھ نظر آئے اور درخت کے عقب سے نکل کر میرے پاس پہنچ گئے۔
’’سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بھی بعض اوقات بڑے ذہین نکل آتے ہیں جیسے ہمارے شاہ صاحب! مگر تمہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نورجہاں سچ کہہ رہی تھی۔‘‘ میں نے الیاس خان کو دیکھ کر سلام کیا۔ اس شخص سے میں بھی راہ رسم چاہتا تھا۔ ’’جیتے رہو، جیتے رہو۔ ہمارا کیا جاتا ہے۔‘‘ الیاس خان مکاری سے بولا۔ صورت سے ہی شاطر آدمی معلوم ہوتا تھا۔
’’کیسے مزاج ہیں خان صاحب؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میاں! ہم تو سدابہار ہیں مگر تمہارا چکر ذرا سمجھنے سمجھانے کا ہے۔‘‘ الیاس خان صاحب نے معنی خیز نگاہوں سے مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میں سمجھا نہیں خان صاحب!‘‘
’’خیر سمجھ تو سب کچھ گئے ہوگے۔ یہ دوسری بات ہے کہ بننے کی کوشش کررہے ہو۔ مگر سنو! ہم تو یاروں کے یار ہیں۔ بڑے چکر چلا چکے ہیں خود بھی جوانی کی عمر کا اندازہ ہے ہمیں! یہ عمر ایسے ہی کھیل کھیلنے کے لیے ہوتی ہے مگر کسی سمجھدار کو رازدار بنا لینا اچھا ہوتا ہے۔ کیا چکر ہے جان من؟‘‘ الیاس خان نے ایک آنکھ دبا کر مسکراتے ہوئے کہا اور میں بھی مسکرا دیا۔
’’گو آپ کی باتیں واقعی میری سمجھ میں نہیں آئیں لیکن سمجھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ملی بھگت چل رہی ہے، کس سے! نورجہاں سے یا مہرالنساء سے؟‘‘
’’اوہ یہ بات ہے۔ نہیں خان صاحب! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ کا یہ خیال غلط ہے۔‘‘
’’دیکھو میاں! جب آدمی بہت زیادہ چالاک بننے کی کوشش کرے تو اگلے کو بھی غصہ آسکتا ہے اور پھر یہ تو تمہیں پتا چل ہی گیا ہوگا فتح محمد سے، فتح محمد نے ہمیں بتایا تھا کہ تم ہمارے بارے میں بھی پوچھ رہے تھے۔ تو یہ تو تمہیں معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ اس گھر میں ہماری رشتے داری ہے دور کی سہی۔ مگر آتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور پھر بیچارے اپنے شیخ عبدالقدوس اللہ میاں کی گائے ہیں بلکہ اللہ میاں کے بیل! ایک منٹ میں ہر ایک پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ ملی بھگت کی بات ہے اور کوئی کھیل کھیل رہے ہو۔ صورت سے بھی فقیر نہیں معلوم ہوتے، یہ سوٹ بھی بڑھیا پہنا ہوا ہے، حلیہ بگاڑنے سے کیا ہوتا ہے۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں لیکن یاروں سے یاری کرنا زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ یہ فتح محمد تو بائولا ہے، کہنے لگا کہ خان صاحب ذرا شاہ جی سے بات چیت کرکے سٹے کا نمبر معلوم کریں، اسی لیے پیچھے لگا آیا تھا۔ ہم نے تمہیں مہمان خانے میں دیکھا اور پھر اس طرف آتے ہوئے تب پتا چلا کہ صاحبزادے کوئی دوسرا ہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ رازدار بنا لو، فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔‘‘ میں بدستور مسکراتا رہا۔ میں نے کہا۔
’’خان صاحب! سٹے کا نمبر معلوم کرنا چاہتے ہیں آپ…؟‘‘
’’پہلے تو یہی سوچا تھا کہ فتح محمد کی بات پر یقین کرلیں مگر اب جو کچھ سامنے آیا ہے، وہ کچھ اور ہے۔‘‘
’’ہوں! آپ سے اس کے علاہ بھی کچھ باتیں کرنی ہیں مجھے خان صاحب!‘‘
’’ابے دیکھا، بھائی فتے بھیا! اپنی عمر سے اونچی اڑان اڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم نے بھی اچھے اچھوں کے حوصلے پست کردیے ہیں۔ چلو بولو کیا بات ہے، کیا قصہ ہے، ہوسکتا ہے ہم کام آہی جائیں۔‘‘
’’تنہائی میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’چل بے فتح محمد پھوٹ لے اور سن زبان بند رکھیو۔ ورنہ تو جانتا ہے الیاس خان کو۔‘‘
’’نہیں خان صاحب! ہم تو نوکر ہیں آپ کے جی! مجال ہے قسم اللہ کی کہ ادھر سے ادھر ہوجائیں، مگر ایک وعدہ کرلینا بھائی میاں! کچھ ہاتھ لگے تو اس میں تھوڑا سا حصہ ہمارا بھی ہونا چاہیے۔‘‘
’’اب جاتا ہے یا لگائوں لات!‘‘ الیاس خان نے کہا اور فتح محمد ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا۔ الیاس خان ایک بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔
’’آئو پہلوان! بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ کسی اچھے گھرانے کے لگتے ہو۔ صورت شکل سے بھی، حلیے اور لباس سے بھی! کیا چکر تھا مہرالنساء سے کوئی معاملہ چل رہا ہے یا نورجہاں سے! ویسے آدمی ذہین ہو۔ سانپ وانپ کا قصہ سن لیا ہوگا کہیں سے اور عین موقع پر پوبارہ کردیے اور شیخ عبدالقدوس تمہیں یہاں لے آئے۔‘‘
’’خان صاحب! میں آپ کو جانتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور الیاس خان چونک پڑے۔ چند لمحات میرا چہرہ دیکھتے رہے پھر بولے۔
’’فتح محمد سے پوچھا ہوگا میرے بارے میں؟‘‘
’’نہیں! میں نے آپ کو شکتی پور میں دیکھا تھا۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘ خان صاحب چونک کر بولے۔
’’شکتی پور میں، شکنتا کے کوٹھے پر! آپ کے ساتھ چند افراد اور تھے اور آپ شکنتا بائی کے ہاں رقص و سرود دیکھنے گئے تھے۔‘‘ الیاس خان صاحب نے حیران نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ دیکھتے رہے پھر ایک دم ہنس پڑے اور بولے۔
’’تم وہاں کیا کررہے تھے شہزادے۔‘‘
’’آپ کے ساتھ جو افراد تھے، الیاس خان صاحب! میں ان کے بارے میں تفصیل جاننا چاہتا ہوں۔ جہاں تک آپ کے اس خیال کا معاملہ ہے کہ میں یہاں مہرالنساء یا نورجہاں کے چکر میں آیا ہوں تو بہتر یہ ہوگا کہ اسے دل سے نکال دیجیے۔ میں کوئی فقیر یا درویش نہیں ہوں، ایک گناہ گار بندہ ہوں اللہ کا! بس کبھی کبھی نظر عنایت ہوجاتی ہے اللہ والوں کی اور حکم ملتا ہے کہ کسی کا کوئی کام کردیا جائے تو کوشش کرتا ہوں۔‘‘
’’لے وہ کتے کی دم والی بات ہورہی ہے کہ بارہ برس نلکی میں رہی مگر ٹیڑھی کی ٹیڑھی! یعنی اب تمہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہم نے اور تم پھر وہی رام کہانی سنا رہے ہو ہمیں۔‘‘ الیاس خان صاحب نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں آپ کو یقین دلا دوں گا الیاس خان صاحب! لیکن ان لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں جو شکتی پور میں آپ کے ساتھ تھے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے مگر تمہاری اس معلومات سے ہمارے اوپر کیا فرق پڑتا ہے، بھائی دنیا دار ہیں، کم ازکم فقیر بن کر عشق و محبت کا ناٹک نہیں کھیلتے، جیسے تم کھیل رہے ہو۔ رنگین مزاج ہیں، شوق رکھتے ہیں، مال خرچ کرتے ہیں، کوٹھوں پر جاتے ہیں۔ اگر تمہیں یہ پتا چل گیا تو اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوگا شہزادے! مگر تم ان لوگوں کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
’’ان میں ایک صاحب میرے شناسا تھے۔ ان کے بارے میں آپ سے معلومات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا نام تھا…؟‘‘ الیاس خان نے پوچھا۔
’’ریاض…!‘‘ میں نے جواب دیا اور الیاس خان سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر بڑبڑاتے ہوئے بولے۔
’’اس دن ہمارے ساتھ رشید خان صاحب تھے، غلام علی تھا، فرید احمد تھے۔ ہاں… ہاں! یاد آگیا۔ تم منشی ریاض کی بات کررہے ہو، بالکل ٹھیک ہے۔ فرید احمد کے ہاں منشی ہے وہ شخص! فرید احمد ذرا یارباش قسم کا آدمی ہے، نوکروں سے بھی دوستی ہی رکھتا ہے۔ کسی کام سے گئے تھے ہم لوگ شکتی پور، منشی ریاض بھی ساتھ تھا اور جب ہم گانا سننے گئے تو منشی ریاض کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ بس اس کے علاوہ اور کوئی ریاض نہیں تھا ہمارے ساتھ…!‘‘ میرا دل دھڑکنے لگا۔ میں نے حسرت بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’کیا منشی ریاض صاحب، فرید احمد کے ساتھ الٰہ آباد میں رہتے ہیں؟‘‘
’’ہاں بھئی فرید احمد الٰہ آباد کا ایک بڑا کاروباری ہے۔ منشی ریاض بہت عرصے سے اس کے ساتھ کام کرتا ہے۔‘‘
’’آپ کو کچھ اور بھی معلوم ہے اس شخص کے بارے میں…؟‘‘ میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا اور الیاس خان مجھے گھورنے لگے۔
’’ابے عقل کی بات کرو بھائی! کسی آدمی کے منشی کے بارے میں، میں اس سے زیادہ اور کیا جان سکتا ہوں؟‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ منشی ریاض اس وقت بھی الٰہ آباد ہی میں ہیں۔‘‘
’’جب فرید احمد الٰہ آباد میں ہے تو منشی ریاض الٰہ آباد میں کیوں نہ ہوں گے مگر تمہارا اس شخص سے کیا تعلق ہے؟‘‘ میں گہری سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ الیاس خان کہنے لگے۔ ’’اچھا! اب تو بتا دو کہ قصہ کیا ہے؟‘‘
’’اگر کوئی قصہ ہے بھی خان صاحب تو آپ اس میں دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟‘‘
’’تمہارے بھلے کے لیے سمجھے، تمہارے بھلے کے لیے! ہوسکتا ہے ہم تمہارے کسی کام آجائیں ویسے سچ مچ بتا دو یہ روپ بدلا ہے ناں تم نے یا کچھ جانتے بھی ہو۔‘‘
’’ان باتوں کو جانے دیجیے الیاس خان صاحب! آپ اپنی بات کیجیے۔ سٹے کا نمبر معلوم کرنا چاہتے ہیں آپ…؟‘‘
’’چلو بے وقوف بنانا شروع کردیا تم نے ہمیں! بتا سکتے ہو تم سٹے کا نمبر…؟‘‘ الیاس خان نے پوچھا۔
’’نہیں! لیکن آپ کی خواہش پوری کرسکتا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا اور الیاس خان چونک پڑا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میں آپ کو سٹے سے حاصل ہونے والی رقم یہیں اور اسی جگہ دے سکتا ہوں لیکن اس کے لیے ایک شرط ہوگی۔‘‘
الیاس خان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے مجھے گھورتا رہا۔ غالباً بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ ’’سٹے کا نمبر معلوم کرکے ظاہر ہے آپ سٹہ کھیلیں گے، اس سے آپ کو رقم حاصل ہوگی۔ وہ سب کچھ اگر یہیں مل جائے تو کیا حرج ہے؟‘‘
’’کیا آسمان سے دولت برسے گی؟‘‘ الیاس خان کہا۔
’’نہیں! زمین سے حاصل ہوگی، لیکن الیاس خان صاحب! آپ پر وہ دولت اس وقت حلال ہوگی جب آپ میرا بھی ایک کام کردیں۔‘‘ الیاس خان عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے پھر کہا۔ ’’میں آپ کو ایک چھوٹا سا خزانہ دے رہا ہوں لیکن اس کے بدلے جب آپ الٰہ آباد جائیں تو فرید احمد کے ہاں موجود منشی ریاض سے ملاقات کریں اور ان سے کہیں کہ ایک شخص کچھ عرصے کے بعد آپ سے ملنے آرہا ہے، کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ اس شخص کا آپ سے ملنا بے حد ضروری ہے، آپ اس کا انتظار کریں، اس کا نام مسعود احمد ہے اور اس کے باپ کا نام محفوظ احمد بتایئے الیاس خان صاحب، آپ میرا یہ کام کردیں گے؟‘‘
’’یہ سب کچھ تو خیر میں کر ہی دوں گا مگر تم وہ دولت والی بات کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
’’آپ وعدہ کرتے ہیں کہ میرا یہ کام کردیں گے؟‘‘ میں نے پھر کہا۔ دل بری طرح دھڑک رہا تھا، آنکھوں میں امیدوں کی چمک آگئی تھی۔ الیاس خان نے شانے ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’کردیں گے بھائی! کردیں گے چلو وعدہ کرتے ہیں۔ مگر وہ بات ادھوری رہ گئی۔‘‘
’’دولت کی ضرورت ہے؟‘‘
’’کس کو نہیں ہوتی؟‘‘ الیاس خان نے کہا۔
’’تمہاری ضرورت برگد کے اس درخت کے اس حصے کو کھود کر پوری ہوسکتی ہے جہاں وہ اس کی سب سے چوڑی داڑھی زمین میں پیوست ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میاں! تانبے کا ایک کلسا گڑھا ہوا ہے جس میں سونے کی اشرفیاں بھری ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
الیاس خان مجھے گھورنے لگا۔ پھر بولا۔ ’’کیوں بے تکی چھوڑ رہے ہو شہزادے! وہاں اشرفیاں گڑھی ہوئی ہیں اور تم یہاں بیٹھے ہوئے ہو…‘‘ اس نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
’’وہ تمہارے لیے ہیں۔ لیکن انہیں نکالنے کے لیے مناسب وقت کا تعین کرنا اور پا لو تو میری بات کا خیال رکھنا۔ صلے میں مجھے بس وہی چاہیے جو میں نے تم سے کہا ہے۔‘‘
’’اور اگر نہ پائوں تو…؟‘‘ وہ بولا۔
’’مجھے اپنی پسند کے مطابق سزا دے لینا۔‘‘
’’کان کھول کر سن لو شہزادے! مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش خطرناک ثابت ہوگی تمہارے لیے میرا نام الیاس خان ہے۔‘‘ اس نے کہا اور میں مسکرا دیا۔ وہ چلا گیا تھا۔
عشاء کی نماز کے بعد رات کا کھانا کھایا اور پھر بستر پر دراز ہوگیا۔ دل کمبخت بڑی ظالم چیز ہوتی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے، یہ سرکشی ضرور کرتا ہے۔ الیاس خان کے مل جانے سے نہ جانے کیا امنگیں جاگ اٹھی تھیں۔ ایک بار پھر وہ سارے چہرے آنکھوں میں آبسے تھے۔ ایک بار پھر اسی پُر بہار زندگی کے خواب نظر آنے لگے تھے۔ ماموں ریاض نوکری کررہے ہیں۔ محمود ملک سے باہر ہے۔ ہوسکتا ہے ابو ان حالات کا شکار ہوکر صاحبِ فراش ہوگئے ہوں اور گھر کی ذمہ داریاں ماموں نے سنبھال لی ہوں۔ ایک بار، صرف ایک بار ان لوگوں کے سارے حالات معلوم ہوجائیں۔ اس کے بعد… اس کے بعد۔
دروازہ زور سے بجا اور سارے خیالات چکناچور ہوگئے۔ جلدی سے اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔ بندو خان صاحب تھے۔ سلام کرکے بولے۔ ’’وہ حضور اچھے نواب نے سلام کہا ہے۔‘‘
’’شیخ صاحب…؟‘‘
’’جی! بلایا ہے۔‘‘
’’خیریت ہے؟‘‘
’’بٹیا کی طبیعت بگڑ گئی ہے، آپ کو بلا رہے ہیں۔‘‘
’’رکو۔ چلتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور جلدی سے متبرک کمبل شانے پر ڈال کر بندو خان کے ساتھ چل پڑا۔ حویلی کے اس حصے میں پہلی بار داخل ہوا تھا جو قابل دید تھا۔ بندو خان میری رہنمائی کررہے تھے۔ راستے طے کرتا ہوا اندرونی حصے میں داخل ہوگیا۔ مکمل خاموشی طاری تھی مگر ایک کمرے کے سامنے روشنی میں کئی افراد نظر آئے ان میں خواتین بھی تھیں جنہوں نے دوپٹے سر پر ڈال لیے۔ شیخ صاحب کراہتے ہوئے میرے قریب آگئے۔
’’پھر… پھر حالت بگڑی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’کیا کیفیت ہے…؟‘‘
’’آپ کو طلب کیا ہے۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا۔
’’مجھے…؟‘‘
’’ہاں! نام لے کر… کہا بلائو اس استاد اعظم کو۔ ذرا اس سے بات کرلوں۔ اس کی یہاں آنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ میں نے پوچھا کسے تو جواب ملا مسعود کو اور میں نے آپ کو بلا بھیجا۔‘‘
’’خوب! مجھے انتظار تھا آیئے۔‘‘ میں نے کہا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ حسین خواب گاہ تھی۔ ایک تپائی پر مہرالنساء بیٹھی ہوئی تھی۔ دراز گھنے سیاہ بال چھتری کی طرح کھلے ہوئے تھے۔ دروازے کی طرف پشت تھی اور رخ دوسری طرف تھا لیکن اچانک گردن گھومی اور چہرہ مڑ کر پیچھے ہوگیا۔ بڑا خوفناک انداز تھا۔ یعنی جسم کا رخ دوسری طرف تھا اور چہرہ مکمل میری طرف! مہرالنساء کو شام کو بھی دیکھا تھا۔ سبک اور ملیح چہرہ، چمپئی رنگ، نرم و نازک نقوش، گہری سیاہ آنکھیں لیکن اس وقت جو چہرہ نظر آیا، یہ شام والا چہرہ نہیں تھا۔ خدوخال بگڑے ہوئے تھے، آنکھیں شرر بار تھیں اور ان میں نیلاہٹیں جگمگا رہی تھیں۔ رنگ میں تپش تھی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ میں نے کہا۔ مگر وہ مجھے گھورتی رہی۔ میں نے ترش لہجے میں کہا۔ ’’کیا والدین نے سلام کا جواب دینا بھی نہیں سکھایا؟‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘ ایک کرخت مردانہ آواز مہرالنساء کے منہ سے ابھری۔ میں مسکرا دیا۔ پھر میں نے کہا۔ ’’جب ہم ایک دوسرے کی سلامتی کے خواہاں ہیں تو دشمنی کا تصور تو خودبخود مٹ جاتا ہے۔‘‘
’’اس دشمنی کی داغ بیل تو تم ڈال رہے ہو۔‘‘
’’میں نے تو ابھی کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘
’’یہاں سے چلے جائو۔‘‘
’’یہی مطالبہ میرا ہے۔‘‘
’’تم کون ہوتے ہو؟‘‘ وہ مردانہ آواز میں بولی۔
’’بندئہ خدا ہوں اور اس بچی کو مشکل سے بچانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’خود مشکل میں پڑ جائو گے۔‘‘
’’اللہ مالک ہے۔‘‘
’’سوچ لو۔‘‘
’’سوچنا تو تمہیں ہے غلام جلال، مسلمان کے بیٹے ہو، سب کچھ جانتے ہو، تمہیں علم ہے کہ وہ بچپن سے ایک نوجوان سے منسوب ہے۔ نیک والدین کی نیک اولاد ہے اور اس تصور سے دور نہیں ہوسکتی جو بچپن سے اس کے ذہن میں ہے۔ تم اسے کیوں پریشان کررہے ہو؟‘‘
’’بہت کم وقت رہ گیا ہے جب اس کے دل میں میرے سوا کوئی تصور نہیں ہوگا۔‘‘
’’یہ تصور نہیں، تسلط کہلائے گا اور اس سے ایک خاندان بدترین المیے کا شکار ہوجائے گا۔‘‘
’’مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔‘‘
’’یہ بات شرافت کے منافی ہے۔‘‘
’’جو کچھ بھی ہو۔‘‘
’’میں تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’نہ مانوں تو۔‘‘
’’خود ذمہ دار ہوگے۔ تم نے مجھے بلایا ہے اور اب جب میرا اور تمہارا آمنا سامنا ہوگیا ہے تو پھر فیصلہ ہی ہوجانا چاہیے۔‘‘
’’میں تمہیں فنا کردوں گا۔‘‘
’’یہ الفاظ کفر کے مترادف ہیں۔ آئو ذرا تمہاری قوت کا جائزہ لے لیا جائے۔‘‘ میں آگے بڑھا اور میں نے مہرالنساء کے چھتری کی طرح بکھرے بالوں کا کچھ حصہ اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔ شیخ صاحب کے ساتھ کچھ دوسری چیخیں بھی سنائی دی تھیں۔ نہ جانے کون کون اندر آگیا تھا مگر میں کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ میں نے شانے پر پڑا کمبل مہرالنساء پر ڈال دیا۔ اس کے ساتھ ہی مہرالنساء تپائی سے نیچے آرہی۔ مگر فوراً ہی کمبل کے ایک کھلے ہوئے حصے سے ایک کالے ناگ کا پھن برآمد ہوا اور وہ برق کی سی تیزی سے باہر نکل آیا۔ باہر آتے ہی اس نے پھن اٹھا کر مجھ پر حملہ کیا مگر میں غافل نہیں تھا۔ میں نے پینترا بدل کر ایک زوردار تھپڑ اس پھن پر رسید کیا اور سانپ اچھل کر دیوار سے ٹکرا گیا۔ کمرے میں ڈری ڈری چیخیں ابھر رہی تھیں۔ سانپ ایک لمحے بے حس و حرکت پڑا رہا۔ پھر وہ ادھر ادھر رینگنے لگا جیسے نکل بھاگنے کی راہ تلاش کررہا ہو۔ میری نظر اس کھلی کھڑکی پر پڑی جو کمرے کی پشت پر تھی۔ اس کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے، سانپ دیواروں سے ٹکریں مار رہا تھا جیسے اسے نظر نہ آرہا ہو۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھایا اور کھلی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ اسے پھینکتے ہوئے میں نے کہا۔
’’بہتر یہ ہوگا غلام جلال کہ آئندہ ادھر کا رخ نہ کرنا۔ ورنہ اس کے بعد جو کچھ ہوگا، اس میں میرا قصور نہیں ہوگا۔‘‘
میں نے کھڑکی کے دونوں پٹ بند کیے اور واپس پلٹا۔ پھر میں نے کمبل سمیٹ کر تہہ کیا اور اسے شانے پر ڈال لیا۔ مہرالنساء بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ میں نے شیخ صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’انہیں مسہری پر لٹا دیں۔‘‘ میری ہدایت کی تعمیل کی گئی۔ عورتیں کمرے میں رہ گئیں۔ شیخ صاحب میرے ساتھ باہر نکل آئے۔ ان کا بدن کپکپا رہا تھا اور منہ سے آواز نہیں نکل پا رہی تھی۔ ’’خود کو سنبھالیے شیخ صاحب!‘‘
’’آپ… مسعود صاحب! آپ تو میرے لیے امداد غیبی ثابت ہوئے۔ سخت شرمسار ہوں کہ آپ کو وہ مقام نہ دے سکا جو ہونا چاہیے تھا۔ آہ! میں آپ کو آپ کے شایان شان تعظیم نہ دے سکا۔‘‘ شیخ صاحب نے کہا۔
’’گناہ گار نہ کریں شیخ صاحب! مجھے اور کیا درکار تھا۔ بڑی عزت دی ہے آپ نے مجھے! اللہ آپ کو عزت بخشے۔‘‘
’’آپ اس کا نام بھی جانتے تھے شاہ صاحب! وہ کون تھا اور…؟‘‘
’’ابھی خاموشی اختیار کریں۔ جوانی سرکش ہوتی ہے۔ اگر اس نے مزید سرکشی کی تو اسے نقصان پہنچانا پڑے گا لیکن آپ اطمینان رکھیں، ہم فیصلہ کرکے ہی واپس جائیں گے۔ اجازت ہے؟‘‘ شیخ صاحب میرے ساتھ اٹھنے لگے تو میں نے انہیں روک دیا اور خود باہر نکل کر خاموشی سے مہمان خانے کی طرف چل پڑا۔ مجھے یہی کرنا تھا اور اسی کی ہدایت کی گئی تھی مجھے۔ اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔ نہ جانے کب تک لیٹا اس بارے میں سوچتا رہا۔ غلام جلال کا نام بھی مجھے بتایا گیا تھا ورنہ میں اس کو کیا جانتا البتہ یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ اس کے بعد غلام جلال کا قدم کیا ہوگا۔ پھر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کوشش میں شاید کامیاب ہوگیا تھا مگر یہ رات سونے کے لیے نہیں تھی۔ پھر دروازہ بجایا گیا تھا۔ دروازہ کھولا تو اندھیرے میں کوئی کھڑا نظر آیا لیکن جو کوئی بھی تھا، کالی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ میں اسے پہچان نہ پایا کہ اس کی آواز ابھری۔
’’پیر و مرشد! میں الیاس خان ہوں۔‘‘
’’الیاس خان! اندر آجائو۔‘‘ میں نے کہا اور الیاس خان اندر داخل ہوتے ہی جھک کر میرے پیروں سے لپٹ گیا۔
’’معاف کردیں مرشد! معاف کردیں شاہ صاحب! بڑی گستاخیاں کی ہیں آپ کی شان میں۔ معاف کردیں۔ آپ تو اللہ والے ہیں۔ میں نے بڑی بدتمیزی کی آپ سے۔‘‘
’’خدا کے بندے! اٹھو کیوں مجھے گناہ گار کررہے ہو۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں…؟‘‘
’’مجھے وہ مل گیا جو آپ نے بتایا تھا۔ دلدر دور ہوگئے میرے تو… بڑا مقروض تھا مرشد! عزت پر بنی ہوئی تھی۔ قرض خواہوں سے چھپتا پھرتا تھا۔ اب آپ کی عنایت سے عزت سے جی سکوں گا۔ اتنا عاجز آگیا تھا اپنی بداعمالیوں کے نتیجے میں چڑھ جانے والے قرض سے کہ دو ہی صورتیں رہ گئی تھیں میرے لیے یا تو جرم کروں یا خودکشی! مگر مرشد! آہ آپ کتنے رحم دل ہیں۔ میری بدتمیزی کو نظرانداز کرکے آپ نے مجھے نئی زندگی دے دی۔‘‘ الیاس خان کا رنگ ہی بدلا ہوا تھا۔ نہ وہ تیکھا پن تھا، نہ اکڑفوں! مجسم نیاز بنا ہوا تھا۔
’’چلو تمہارا کام بن گیا۔ ہمیں بھی خوشی ہوئی مگر ہماری وہ شرط قائم ہے۔‘‘
’’حضور! میرے ساتھ ہی الٰہ آباد چلیے، غلاموں کی طرح خدمت کروں گا۔ سارے کام کروں گا جو آپ حکم دیں گے۔‘‘
’’ہمیں بس اپنا پتا بتا دو۔ ہم آئیں گے تمہارے پاس، ابھی یہاں کام ہے۔‘‘
’’آپ مجھے بس حکم دے دیں، خود لینے آجائوں گا دوبارہ آپ کہیں تو ریاض صاحب کی بھی خدمت کروں۔‘‘
’’جو تمہارا دل چاہے کرنا، ہمیں پتا بتا دو۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا اور الیاس خان نے مجھے الٰہ آباد میں اپنا پتا ذہن نشین کروایا۔ اس کے بعد وہ نہ جانے کیا کیا اول فول بکتا رہا تھا۔ بمشکل تمام ٹلا۔ صبح کو جارہا تھا۔ یہ سونا چاندی بھی کیا چیز ہوتی ہے۔ انسان میں کیا کیا تبدیلیاں رونما کردیتی ہے۔
سورج کی کرنوں نے پپوٹے چیرنے شروع کر دیئے۔ نیند ایسی ٹوٹی تھی کہ آنکھ کھولنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ دفعتاً ہی حواس جاگے اور ہڑبڑا کر اُٹھ گیا۔ فجر کی نماز قضا ہوگئی تھی۔ دِل ہی دِل میں لاحول پڑھتا ہوا اُٹھ گیا۔ نہ جانے آنکھ کیوں نہیں کھلی تھی۔ غسل خانے جا کر وضو کیا اور قضا پڑھنے بیٹھ گیا۔ غلطی مجھ سے ہی ہوئی تھی۔ جائے نماز بچھانے سے پہلے دروازہ کھول دینا چاہیے تھا۔ نماز شروع ہی کی تھی کہ دروازہ بجایا جانے لگا۔ جو شخص بھی دروازہ بجا رہا تھا نہایت احمق تھا۔ اسے جواب نہ ملنے پر رُکنا چاہیے تھا۔ مگر وہ ہاتھ ہٹانے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ سخت غصّہ آیا مگر کیا کرتا۔ خدا خدا کر کے سلام پھیرا اور غصّے سے دروازے کی طرف بڑھا، اندازہ ہوگیا تھا کہ فتح محمد کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ مجھے دیکھتے ہی بولا۔
’’شکر ہے اللہ کا زندہ ہو۔ ہمیں تو اندیشہ ہو گیا تھا کہ چل بسے۔ اماں کیا ازار بند نکل گیا تھا؟‘‘
’’فتح محمد، تم نہایت بے وقوف انسان ہو۔‘‘
’’لو اول لو، ماں بھائی جی یہ تو سب ہی کہتے ہیں تم نے کونسی نئی کئی، کچھ خبر بھی ہے بسنت کی؟‘‘
’’کیا ہوا بندئہ خدا؟‘‘
’’بھائی پھوٹ لیے نہار منہ، خبر دینے آئے ہیں۔‘‘
’’کون؟‘‘
’’الیاس خاں، منہ اندھیرے بسترا بغل میں دبا کر نکل لیے۔ اللہ خیر کرے اچھے نواب کو دَبی زبان سے بتا تو دیا ہے، کچھ بولے نہیں، بس اتنا کہا کہ فتح محمد انہیں جانا تھا مگر قسم اللہ کی دال میں کچھ کالا ضرور ہے ورنہ وہ… دو دن پہلے سے کہتے ہیں جانا ہے۔ ناشتے کے بعد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں پھر سوچتے ہیں کھا کر جائیں گے۔ مگر اس مرتبہ تو وہ چپ چاپ نکل لیے۔ ضرور کچھ دال میں کالا ہے۔‘‘
’’اماں کچھ ہاتھ لگ گیا، لے کر نکل لیے بھائی کے سُسرال کا مال سمجھ کے۔‘‘
’’کیا تمہیں ایسی باتیں کرنی چاہئیں فتح!‘‘ میں نے ملامت کرتے ہوئے کہا۔
’’اماں تو کونسی کسی غیر سے کر رئے ہیں، تم اتے شریف آدمی ہو کہ دل کی کہہ لیتے ہیں۔ پر ایک بات ہے بھائی میاں، غریب کا کوئی نئیں ہوتا، گھٹنے پیٹ کی طرف ہی مڑتے ہیں۔ کل تم نے بھی انہیں سٹّے کا نمبر بتاتے ہوئے ہمیں بھگا دیا۔ اماں ان کی کیا ہے خود بھی گھر کے کھاتے پیتے ہیں اور پھر اِدھر اُدھر سے مارتے کھاتے رہتے ہیں۔ اماں بھائی میاں ہمیں بھی کچھ دے دو بڑے غریب آدمی ہیں۔ بال بچوں کو دُعا دیں گے۔‘‘
’’میں نے انہیں سٹّے کا نمبر نہیں دیا فتح محمد!‘‘ میں نے کہا۔
’’اماں ہم سے اَڑ رہے ہو۔ اُڑتے کبوتر کے پر گن لیتے ہیں، ہم بھی تاڑ میں لگے رئے تھے ان کی، رات کو برگد کی جڑ میں تعویذ گاڑتے ہوئے بھی دیکھ لیا تھا ہم نے۔‘‘
’’تعویذ گاڑتے ہوئے…؟‘‘ میں حیرت سے بولا۔
’’قسم اللہ کی برگد کی جڑ میں گڑھا کھود رئے تھے۔ پھر برابر بھی کر دیا۔ جب چلے گئے تو ہم نے قریب جا کر بھی دیکھا مٹی برابر کی گئی تھی۔ تعویذ کی بات نہ ہوتی تو کھود کر دیکھتے۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ میں نے گہری سانس لی بات سمجھ میں آ گئی تھی، باہر سے آواز آئی۔
’’فتح محمد، او فتے لگ گئے باتیں بنانے میں۔‘‘
’’لو وہ آ گئے نصیحت علی خاں، اب نصیحتیں کریں گے۔‘‘
’’اماں آ رہا ہوں بندو خاں پوچھ رہا تھا کہ…‘‘
’’ناشتے کی پوچھنے آئے تھے تم… اور یہاں جم گئے… لو چلو ناشتہ رکھو سنبھال کر۔‘‘ بندو خاں خود ناشتے کی ٹرے لے آئے تھے۔ فتح محمد نے جلدی سے ٹرے سنبھال لی۔ ’’ناشتے کے بعد رحیم الدین کے پاس چلے جانا۔‘‘
’’اور کچھ…؟‘‘ فتح محمد نے پوچھا۔
’’اور یہ کہ میاں صاحب کا بھیجہ مت کھایا کرو۔‘‘
’’بہت بڑھ بڑھ کر بولنے لگے ہو بندو خاں صاحب… برابر کے عہدے ہیں ہمارے تمہارے۔ حکم مت چلایا کرو میرے پر…!‘‘
’’عہدے برابر ہیں فتح محمد، مگر عمر تم سے زیادہ ہے سمجھے۔‘‘ بندو خاں مسکرا کر بولے اور پھر کہنے لگے۔ ’’اچھا یوں کرو تم میاں کو ناشتہ کرائو، میں رحیم الدین کے پاس چلا جاتا ہوں۔‘‘ اچھا چلتا ہوں۔ ’’بندو خاں مسکرا کر باہر نکل گئے۔ فتح محمد نے گردن ٹیڑھی کی، منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا اور اس کے بعد میرے لیے ناشتہ لگانے لگا۔ میں نے اسے بھی ناشتے کی پیشکش کی تو وہ کہنے لگا۔‘‘
’’نہیں میاں صاب، آپ کر لو آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں پوچھا، مگر شکایت یہی کرتے رہیں گے غریب آدمی کی بھی سننی چاہیے، اصل ضرورت ہماری ہے ان کا کیا ہے، سٹّہ لگائیں گے، مال کمائیں گے، عیاشی کریں گے، یہاں تو بارہ بچوں کا معاملہ ہے۔‘‘ میں خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا پھر میں نے کہا۔
’’برتن لے جائو…‘‘ وہ شاید مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر سکا تھا۔ برتن اُٹھا کر باہر نکل گیا۔ میں تھوڑی دیر تک بیٹھا سوچتا رہا اور اس کے بعد خود بھی باہر نکل آیا۔
حویلی کے ملازم اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ مالی کیاریاں دُرست کر رہا تھا۔ دُوسرے لوگ اِدھر اُدھر آ جا رہے تھے۔ صفائی کرنے والا، صفائی کر رہا تھا، میں ٹہلتا ہوا دُور تک نکل آیا اور اتفاق سے ہی اس وقت برگد کے اسی درخت کے قریب پہنچ گیا، جس کی جڑ سے الیاس خاں کا کام بنا تھا، یونہی نگاہ اس کی جڑ پر جاپڑی اور بس، قدرت نے یہ عطیہ عطا فرما دیا تھا، جس کا احساس اس وقت پھر ہوا، آنکھوں نے ان گہرائیوں میں دیکھا، کلسا غائب تھا لیکن مٹی میں چند اشرفیاں نظر آ رہی تھیں، دس بارہ سے کم نہیں ہوں گی، فوراً ہی اندازہ ہوگیا کہ یہ وہ اشرفیاں ہیں جو مٹی میں مل جانے کی وجہ سے الیاس خاں کو نظر نہیں آ سکیں، ویسے بھی اس نے یہ کام رات میں کیا تھا اور یقینی اَمر ہے کہ افراتفری کے عالم میں کیا ہوگا، چنانچہ یہ اشرفیاں رہ گئیں۔ دل خوش ہو گیا بیچارے فتح محمد کے کام آ سکتی ہیں۔ یہ بتا دوں گا اسے پھر وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر چلا تھا کہ فتح محمد نظر آ گیا، میں اسے دیکھ کر مسکرایا اور وہ بھی مسکراتا ہوا وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ میں نے ابھی اسے کچھ بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ چھوٹا آدمی تھا، چھوٹی طبیعت کا مالک، میرے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی پاگل ہو جاتا اور پھر خواہ مخواہ کہانی عام ہو جاتی، دُوسروں کو پتا چلتا تو نجانے کیا کیا قیاس آرائیاں ہوتیں۔ ٹہلتا ہوا حویلی کے عقبی حصے میں جا نکلا اور اس وقت پیچھے سے مہرالنساء، نورجہاں کے ساتھ آتی ہوئی نظر آئی، دونوں تیز تیز قدموں سے میری طرف آ رہی تھیں، نورجہاں نے مجھے سلام کیا۔ مہرالنساء البتہ عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں بھی رُک گیا، سلام کا جواب دے کر میں نے ان دونوں کی خیریت پوچھی، اور مہرالنساء کہنے لگی۔
’’مسعود صاحب، ہم مہمان خانے میں آپ کی قیام گاہ تک گئے تھے۔ آپ اس طرف چہل قدمی کے لیے نکلے ہوئے تھے۔‘‘
’’اب آپ کی طبیعت کیسی ہے مہرالنساء؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’بہت عرصے کے بعد میں اپنے آپ کو زندہ محسوس کر رہی ہوں اور مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں بھی جینے والوں میں شامل ہوں، مطلب یہی ہے کہ جو کچھ مجھ پر بیت رہی تھی میں صحیح الفاظ میں تو ان لوگوں کو نہیں بتا سکتی تھی لیکن، لیکن زندگی سے بیزار تھی۔ میں آہ کاش میری یہ کیفیت مستقل ہو، میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی اور اسی لیے آپ کے پاس پہنچی تھی۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ آپ کو مکمل صحت عطا فرمائے، میری یہی دُعا ہے۔‘‘
’’اب جبکہ مہرالنساء نے آپ کو، آپ کے نام سے مخاطب کیا ہے مسعود صاحب، تو میں بھی اس میں کوئی ہرج نہیں سمجھتی، براہ کرم آپ ہماری گستاخی کا برا نہ مانئے گا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ ہماری ہی عمر کے ہیں، اور اگر ہم آپ کو کسی احترام کے نام سے پکاریں تو بڑا مضحکہ خیز لگے گا۔‘‘
’’کوئی ہرج نہیں ہے نورجہاں صاحبہ آپ کو میرا نام معلوم ہے، بس اتنا کافی ہے۔ آپ مجھے میرے نام سے پکار لیجیے۔‘‘
’’بے حد شکریہ، دراصل مہرالنساء چاہتی ہیں کہ اگر آپ کسی بھی طرح یہاں قیام کے لیے کچھ وقت نکال سکیں تو ان کا خوف دُور ہو جائے۔ مجھ سے باتیں کرتی رہی ہیں اور شیخ صاحب سے بھی، انہوں نے یہی کہا ہے۔ اوہو دیکھیے وہ شیخ صاحب آ گئے۔‘‘ نورجہاں ایک دَم بولی اور میری نظریں بھی اس جانب اُٹھ گئیں، شیخ عبدالقدوس ادھر ہی چلے آ رہے تھے۔ سلام کر کے مجھ سے ہاتھ ملایا اور پھر کہنے لگے۔
’’یہ اچھا ہوا کہ یہ لڑکیاں خود ہی آپ کے پاس آ گئیں مسعود میاں، کیا انہوں نے اپنا مقصد بتایا آپ کو؟‘‘
’’جی جی، مہرالنساء صاحبہ کا کہنا ہے کہ اگر میں یہاں کچھ عرصے قیام کروں تو ان کے دل سے خوف نکل جائے گا، لیکن اچھا ہوا آپ تشریف لے آئے، آپ کے سامنے کچھ حقیقتیں عرض کر دوں۔ میں بے شک ابھی کچھ وقت یہاں ہوں، لیکن جائوں گا تو ایک ایسا اطمینان بخش حل چھوڑ جائوں گا جس کے بعد یہ خطرہ موجود نہ رہے گا۔ اس سے زیادہ قیام ظاہر ہے کسی بھی طرح میرے لیے ممکن نہیں ہوگا۔‘‘
مہرالنساء اور نورجہاں اس اطمینان کے بعد واپس لوٹ گئیں کہ ابھی میں یہاں قیام کروں گا۔ نورجہاں واقعی بڑی شوخ و شریر تھی، نجانے کیا کیا مہرالنساء کے کان میں بدبداتی رہی تھی، لیکن مہرالنساء سنجیدہ لڑکی تھی۔ بہرحال شیخ صاحب بھی چلے گئے اور میں واپس اپنی آرام گاہ میں آ گیا۔ اب یہاں قیام کرنا واقعی ایک مشکل اَمر تھا۔ دِل میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسا کیا عمل ہو جس کی بنیاد پر مہرالنساء مکمل محفوظ سمجھی جائے، اور میں یہاں سے الٰہ آباد کا رُخ کروں۔ وہاں ہو سکتا ہے ماموں ریاض کے ساتھ ساتھ امی، ابو اور بہن بھی مل جائیں، آہ کیا ایسا ہو سکے گا۔ کیا میری زندگی میں ایک بار پھر وہی دن لوٹ آئیں گے۔ بس حسرتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ نجانے کیوں تقدیر پر اتنا بھروسہ نہیں رہا تھا کہ وہ مجھے میری لٹی ہوئی دُنیا واپس کر دے۔
شام کو تقریباً ساڑھے آٹھ بجے میں نے خود فتح محمد کو اپنے پاس بلایا اور وہ میرے قریب آ گیا۔
’’لگتا ہے فتح محمد کچھ ناراض ہوگئے ہو مجھ سے۔‘‘
’’کیا لے لیں گے میاں جی آپ سے ناراض ہو کر ہم نے تو پہلے بھی کہا تھا کہ بس شکایت ہے ہمیں تم سے۔‘‘
’’فتح محمد دیکھو، میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ الیاس خان کو میں نے کوئی نمبر وغیرہ نہیں بتایا، وہ وہاں کیا کر رہا تھا، یہ وہ جانتا ہے لیکن میرے علم نے مجھے بتایا ہے کہ برگد کے اسی درخت پر، اس کے نیچے نظر آنے والے مٹی سے ڈھکے ہوئے گڑھے میں کوئی ایسی چیز موجود ہے، جو تمہارے کام آ سکتی ہے۔‘‘
’’ایں…‘‘ فتح محمد نے منہ پھاڑ کر کہا۔
’’ہاں فتح محمد تم بھی اسی وقت جب الیاس خاں نے درخت کی جڑ میں گڑھا کھودا تھا وہاں پہنچنے کے بعد وہ گڑھا کھودنا اس کی مٹی کو اچھی طرح تلاش کر لینا، ممکن ہے تمہیں اس میں کوئی ایسی چیز مل جائے جو تمہارے لیے کارآمد ہو۔ بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اگر واقعی کچھ مل جائے تو اسے اپنے پاس پوشیدہ کر کے گڑھا برابر کر دینا سمجھ رہے ہو ناں۔‘‘
’’ابھی چلا جائوں۔‘‘ فتح محمد نے کہا۔
’’ابھی تمہیں وہاں دیکھ لیا جائے گا اور جو کچھ تمہارے ہاتھ لگا وہ اس گھر کے مالکوں کی ملکیت ہوگا تم اسے اپنے قبضے میں نہیں لے سکو گے۔‘‘
’’اماں تو کیا الیاس کو بھی وہاں کچھ مل گیا تھا؟‘‘ فتح محمد نے پوچھا۔
’’اب یہ تو مجھے نہیں معلوم، الیاس خاں نے مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی مگر تم یہ کام احتیاط کے ساتھ کر لینا، بعد میں مجھ سے یہ مت کہنا کہ میں نے تمہارے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘
’’ارے بھائی میاں تم نے تو دِل ہولا دیا ہے قسم اللہ کی، اب میرے کو صبر کیسے آئے گا، ابے کیا کروں پیارے بھائی، بب… بس، خدا جانے رات کس وقت ہوگی۔‘‘
’’جائو جائو سکون سے اپنا کام سرانجام دینا، جلد بازی کی تو جو نقصان اُٹھائو گے اس کے خود ذمّے دار ہو گے۔‘‘
’’نہیں، نہیں، میاں صاحب جو آپ نے کہہ دیا ہے وہی کروں گا قسم اللہ کی۔‘‘ فتح محمد نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ بس اس کے بعد کوئی خاص مشغلہ نہیں تھا… لیکن یہاں اس حویلی میں گھسے رہنا بھی ایک مشکل کام تھا۔ رات کو دل میں یہ آئی کہ یہاں دہلی میں جو مقدس مزارات کا شہر ہے۔ کیوں نہ مزارات کی زیارتیں کروں اور کچھ نہیں تو کم از کم دل کو سکون ہی ملے گا۔ زیادہ تو نہیں سن سکا تھا، لیکن تھوڑی بہت باتیں کانوں تک پہنچی تھیں کہ دہلی میں بڑے بڑے جیّد بزرگوں کے مزارات ہیں، اب مجھے ان تمام چیزوں سے دلچسپی ہوگئی تھی۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
کالا جادو - پارٹ 12
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
