واحد بخش، مہرو کا چچا زاد تھا۔ ان کی نسبت بھی بچپن سے طے تھی۔ جوانی آئی تو بچپن کا پیار رنگ لایا اور نوعمری کے خوابوں میں شوخ و شنگ رنگ بھرنے لگے۔ شادی کے دن تک دونوں گھرانوں میں محبت قائم رہی تھی۔ ان کو زمانے سے بھی ٹکر نہ لینی پڑی اور شادی دھوم دھام سے ہو گیا۔
cknwrites
شادی کے بعد مہرو کی زندگی کے دن کتنے سہانے تھے۔ لگتا تھا ساری دنیا کی خوشیاں اس کے قدموں میں ہوں۔ واحد بخش اب رفیقِ زندگی بن چکا تھا اور اس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ مہرو کی ذرا سی تکلیف برداشت نہ کرتا تھا، مگر مہرو سے جانے کون سی بھول ہو گئی کہ چند سال بعد ہی اچانک اس کی پھولوں بھری زندگی میں انگاروں کا طوفان اس شدت سے آیا کہ زندگی جل کر راکھ ہو گئی۔ ایک روز وہ کھیتوں میں گنے لینے گئی، تو ایک عورت نے بتایا: “مہرو! سنا ہے تیرا واحد کسی البیلی کے چکر میں ہے۔” اسے یقین نہ آیا کہ اس کی محبت کا بٹوارہ بھی ہو سکتا ہے۔ “یہ بات تم سے کس نے کی ہے؟” اس نے عورت سے پوچھا۔ “اپنے گھر والے سے، اس معاملے کے چرچے تو سارے گاؤں میں ہیں۔ ایک تو ہی بے خبر ہے۔” “مجھ جیسی کوئی عورت ناگن بن کر میری دولت کے اس خزانے کو لوٹ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔” اس نے یقین سے کہا تھا، مگر جب ناگن کا زہر آہستہ آہستہ اس کی ہنستی بستی زندگی کو نیلا کرنے لگا، تو وہ ٹھٹھر کر رہ گئی۔
یہ سچ تھا کہ عزیز از جان رفیقِ حیات ایک اور دوشیزہ کے دامِ الفت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ پھر وہ کچھ ہوا کہ مر جانا بھی اس کے اختیار میں نہ رہا، اس وقت تک وہ تین بیٹیوں کی ماں بن گئی تھی۔ جب شوہر منہ نہ لگائے، تو جینے کو کیونکر جی چاہتا۔ اپنا آپ مٹا کر بھی وہ واحد بخش کو اپنی دنیا میں واپس لانے میں ناکام رہی تھی۔ وہ اس کو آوازیں دیتی، پکارتی، مگر اس کو مہرو کی کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کسی جادوگرنی نے اس کے شوہر پر جادو کر دیا ہے۔ بالآخر وہ دن بھی اس نے دیکھ لیا کہ رفتہ رفتہ اس کا محبوب دور ہوتا چلا گیا اور واحد بخش کی نئی محبت کی کشتی پرلے کنارے جا لگی۔ وہ اب اس گھر میں ساس (چاچی) کے سہارے رہ رہی تھی، جو کہتے تھے کہ: “تو ہی ہماری بہو اور اس گھر کی مالک ہے، ہماری تین پوتیوں کی ماں ہے، ہم کسی اور عورت کو تیری جگہ تسلیم نہ کریں گے۔” وہ اپنے بیٹے کی مہرو سے بے رخی کو دیکھ رہے تھے اور مہرو کے صبر کو بھی، جس نے شوہر کی بے رخی کے طمانچے، اس کی بیزاری و بے وفائی کے گھاؤ اپنے دل پر سہے، مگر اپنی محبت اور خدمت گزاری میں کمی نہ آنے دی اور نہ ساس سسر کو رنجش کا موقع دیا تھا۔
تھک ہار کر وہ بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ اب نہ شکوہ شکایت کرتی اور نہ کوئی فرمائش، جیون ساتھی تب بھی خفا رہتا۔ گرم گرم کھانا اس کے سامنے لا کر رکھتی، وہ دھتکار دیتا۔ ہاتھ جوڑتی کہ کھانا تو کھا لو، وہ ہاتھ جھٹک دیتا۔ اپنی محبت کا واسطہ دے کر کہتی کہ: “کسی عورت سے دل لگا لیا ہے تو بتا دو”, تو وہ مارنے پیٹنے لگتا۔ تب وہ اتنا روتی کہ اس کے آنسوؤں سے واحد بخش کے پیر بھیگ جاتے، مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ مہرو کو دھکا دے کر گھر سے نکل جاتا۔ ساس سسر بیٹے کی اس سنگدلی پر دم بہ خود تھے۔ ان کا واحد کبھی ایسا سفاک تو نہ تھا اور مہرو کے معاملے میں تو اس کا دل ریشم کی طرح نرم تھا۔ ماں باپ کے سمجھانے پر اس نے ان سے بھی بات چیت ختم کر دی۔ اس اثنا میں اللہ نے مہرو کو ایک بیٹا بھی دے دیا، مگر واحد نے بیٹے کی شکل دیکھی نہ گود میں لیا۔ وہ صاحباں کو بیاہ کر گھر لانا چاہتا تھا اور باپ اس کی اجازت نہ دیتا تھا۔ اس خاموش اور سرد جنگ سے ہار کر بالآخر بوڑھے باپ کا انتقال ہو گیا۔
باپ کے مرنے سے رہا سہا لحاظ جاتا رہا اور وہ ماں کی خفگی کو نظر انداز کر کے اپنی البیلی کو بیاہ کر گھر لے آیا۔ جس روز شوہر نے دوسری عورت کے ساتھ گھر میں قدم رکھا، مہرو کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کئی دن تک کونوں کھدروں میں وہ منہ چھپا کر روتی رہی۔ ایک روز روتے روتے بے ہوش ہو گئی، تب ساس نے اسے کچھ دن کے لیے میکے بھیج دیا۔ مہرو نے بھی سوچا، اچھا ہے ان سے دور ہو جاؤں تاکہ وہ کھل کر اپنی نئی دلہن سے ہنس بول سکے۔ شاید اس طرح ان کو اور خود اس کو بھی سکون مل جائے، مگر سکون کیسے ملتا؟ یہ تو سچ ہے کہ انسان اپنے جسم کے دو ٹکڑے ہونا تو گوارا کر سکتا ہے، مگر اپنی محبت کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ نہیں سکتا۔ میکے میں بھی مہرو کو چین نہ ملا۔ یہاں واحد بخش کی بہن اس کی بھابھی تھی، جو اوپر سے ہمدردی کرتی مگر دل سے خوش تھی کہ اس کا بھائی نئی نویلی دلہن بیاہ لایا تھا۔ مہرو رات کو سوتے سوتے اٹھ بیٹھتی اور واحد کا نام پکارنے لگتا۔ ماں اور بھائی منع کرتے کہ اب اس بے وفا کا نام بھی اپنے لب پر نہ لایا کرو، مگر یہ اس کے اختیار کی بات نہ تھی۔ بچپن سے اس کے دل میں واحد بخش کی محبت ایسے گڑی تھی، جیسے زمین کے سینے میں پہاڑ پیوست ہوتا ہے۔
مہرو کو سال بھر تک بھائی نے واپس اس کے سسرال نہیں جانے دیا۔ اس دوران اس کی سوتن ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ اب وہ اس گھر کی بہو تسلیم کر لی گئی۔ مہرو کی بھابھی اس کو مبارک باد دینے گئی اور ساس نے بھی دوسری بیوی کے بیٹے کو دل سے لگا لیا۔ ادھر مہرو اپنی بچیوں کے لیے پریشان رہتی تھی۔ آخر ایک روز اس نے ساس کو پیغام بھجوایا کہ: “آ کر مجھے لے جاؤ۔ میرا واحد بخش سے کوئی واسطہ نہ سہی، کم از کم اپنی بیٹیوں کے پاس تو رہوں گی۔” ساس خود بھی یہی چاہتی تھی کہ مہرو آ جائے۔ وہ بڑھاپے میں اس کی بیٹیوں کو نہیں سنبھال سکتی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کو بلا کر کہا کہ: “تم اپنے شوہر کو سمجھاؤ، وہ مہرو کو نہ روکے۔ وہ گھر آنا چاہتی ہے تو آنے دے۔ حضور بخش نے کیوں اس کو زبردستی روک رکھا ہے؟ واحد بخش اپنی بچیاں نہ دے گا، مہرو ان کی جدائی میں تڑپتی رہ جائے گی۔ کیا حاصل کہ اتنے برس جدائی کا ماتم کرتے رہیں۔”
مہرو کی بھابھی نے ماں کے کہنے پر اپنے شوہر یعنی مہرو کے بھائی کو بہت سمجھایا اور اس کو راضی کر لیا کہ بہن کو دوبارہ اس کے شوہر کے گھر چھوڑ آئے۔ حضور بخش نے کہا: “مہرو جانا چاہتی ہے تو بے شک جائے، میں چھوڑنے نہ جاؤں گا۔ میں جانتا ہوں وہاں اس کی مٹی پلید ہو جائے گی۔ اگر تمہاری ماں خود آ کر لے جائے، تو بے شک لے جائے، میں نہ روکوں گا۔” بیٹی کا پیغام ملا تو ساس مہرو کو لینے آ گئی۔ ماں نے بھی سمجھایا کہ: “اب وہاں جا کر خوش خوش رہنا۔ مرد اور شادیاں کرتے ہی ہیں، عورت کو اپنی چاردیواری اور اپنی اولاد کی فکر کرنی چاہیے، مرد کی نہیں۔” مہرو نے شوہر سے دستبرداری کا سمجھوتہ کر لیا۔ وہ خاموشی سے سارے گھر کا کام کرتی اور کسی سے بھی کلام نہ کرتی۔ واحد بخش تو اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا، گویا اس کا وجود اس گھر میں موجود ہی نہ تھا۔
وقت گزرنے لگا، سوتن کا بیٹے چھ برس کا ہو گیا۔ وہ مہرو کے بیٹے کو مارتا پیٹتا اور وہ اف نہ کر سکتی تھی۔ جاڑے کے دنوں میں واحد بخش کے چھوٹے لڑکے کو بخار ہو گیا۔ وہ پریشان حال اس کو ڈاکٹر کے پاس لیے پھرا۔ کچھ دنوں بعد مہرو کے بچوں کو بھی بخار نے آ لیا۔ اس نے ساس سے کہا کہ واحد بخش سے کہو اس کو بھی ڈاکٹر کو دکھا دے۔ یہ سن کر وہ آپے سے باہر ہو گیا اور مہرو کے منہ پر تھپڑ مار کر بولا: “کیا تو یہی چاہتی ہے کہ میں بیٹیوں کو ڈاکٹر کو دکھانے لے جاؤں؟ یہاں گاؤں میں بے غیرت لڑکیوں کو ہسپتال لے جاتے ہیں؟ بخار کی گولی کھلا دو، خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی۔ آئندہ لڑکیوں کو گھر سے باہر لے جانے کی بات نہ کرنا، ورنہ جان سے مار دوں گا۔” اگلے دن منجھلی لڑکی کی حالت خراب ہو گئی۔ ممتا سے مجبور ہو کر وہ سوتن کے کمرے میں چلی گئی اور واحد بخش سے منت سماجت کرنے لگی کہ: “لڑکی کو بہت تیز بخار ہے، خدارا اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔” واحد بخش خاموش لیٹا رہا، اس نے کوئی جواب نہ دیا تو مہرو نے اس کے پیر پکڑ لیے۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور مہرو کو اتنے زور کا دھکا دیا کہ اس کا سر صندوق سے جا ٹکرایا۔ سر سے خون بہہ نکلا۔ وہ روتی ہوئی باہر آ گئی۔ بیٹی بخار سے بے ہوش پڑی تھی۔ اس نے پڑوسن کو بھیج کر بھائی کو بلوایا اور کہا کہ: “تم ہی میری بچی کو ہسپتال لے جاؤ، ورنہ وہ مر جائے گی۔” بھائی نے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی: “روؤ مت میری بہن! زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ ٹھیک ہو جائے گی۔ اگر میں تیری لڑکی کو ہسپتال لے گیا تو واحد بخش فساد کرے گا۔ بہتر ہے کہ تم میرے ہمراہ چلو اور بچیوں کو ان کے باپ کے پاس رہنے دو۔”
مہرو ماں کا دل رکھتی تھی۔ اس نے بھائی کی بات نہ مانی اور وہ واپس لوٹ گیا۔ اگلے دن بچی کا انتقال ہو گیا۔ اب مہرو کے دل کی دنیا لٹ گئی، وہ بین کرنے لگی۔ تب شوہر نے سالے کو بلایا اور کہا: “اپنی بہن کو ساتھ لے جاؤ، یہ روز بین کر کے ہمارا سکون خراب کرے گی۔ بچی میری بھی تھی، اس کے مرنے کا دکھ مجھے بھی ہے، مگر خدا کی مرضی، اس کی زندگی ہی اتنی تھی۔ صبر تو کرنا پڑتا ہے، مگر تمہاری بہن نے تو بیٹی کے مرنے کو تماشا بنا لیا ہے۔” صاف ظاہر تھا کہ وہ مہرو کو رکھنا نہ چاہتا تھا اور اپنی بہن کی وجہ سے اس کو گھر سے نکال بھی نہ سکتا تھا۔ صاحباں کہتی کہ: “مہرو چلی گئی تو اب میں پال لوں گی تمہاری بچیوں کو، یوں بھی ان کو مہرو کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ہوں نا ان کو ماں کا پیار دینے والی۔” جب حضور بخش نے بہن کے سر میں خون لگا دیکھا تو پوچھا: “کیسے چوٹ لگی ہے؟” وہ شوہر کا پردہ رکھ گئی اور کہا کہ: “صندوق سے لحاف نکال رہی تھی، اس کا ڈھکن سر پر آ لگا، تبھی چوٹ لگ گئی۔” یہ سن کر واحد بخش کمرے سے نکلا اور بولا: “یہ جھوٹ کہتی ہے، اسے ڈھکن لگنے سے چوٹ نہیں آئی بلکہ میں نے مارا ہے اسے۔ تم اپنی بہن کو گھر لے جاؤ، ورنہ میں یوں ہی مار مار کر اس کو ختم کر دوں گا۔” تبھی حضور بخش کو بھی غصہ آ گیا، کہنے لگا: “مجھے اگر اپنے بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی تمہاری بہن کو دروازے پر پہنچا دیتا۔” پھر مہرو سے کہا کہ: “کیا اب بھی ادھر رہو گی؟ چلو میرے ساتھ، ورنہ میں بھی تم ہی کو مار دوں گا۔” وہ زبر دستی مہرو کو اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ باپ فالج زدہ تھا اور ماں بیچاری کیا کر سکتی تھی۔ مہرو نے بھائی کا مان رکھ لیا اور واپس شوہر کے گھر نہ گئی۔
بچیوں کی جدائی اس کو ستاتی تھی، تب مہرو کی چچی کسی بہانے ان کو ماں سے ملانے لے آتی۔ بچیاں جب یاد آتیں، تو اس پتھر کی مورتی کی آنکھوں سے آنسو ضرور بہہ نکلتے تھے۔ بیٹا پاس تھا، شاید اسی کی خاطر سانس چلتی تھی، ورنہ اس کو خود اپنا وجود فاضل اور بیکار لگتا۔ سوچتی تھی، نجانے کیوں زندہ ہے، کس لیے جی رہی ہے؟ بیٹا دس برس کا ہو گیا۔ وہ جب چاہتا باپ سے مل سکتا تھا، لیکن بیٹیاں واحد کی اجازت کے بغیر اپنی پھوپھی کے گھر بھی نہیں جا سکتی تھیں جہاں ان کی سگی ماں رہتی تھی۔ البتہ حضور بخش کی بیوی جب مہرو کو بہت زیادہ اداس دیکھتی، تو اس کا دل پسیج جاتا۔ تب وہ کسی بہانے ماں کو کہلواتی، یوں بچیاں دادی کے ہمراہ پھوپھی کے گھر آ جاتیں اور مہرو سے مل لیتیں۔
کہتے ہیں مالک کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ ایک دن واحد بخش رنجیدہ صورت لیے مہرو کو لینے آ گیا کہ: “صاحباں کے تینوں بچے بن ماں کے ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی ہے اور ان معصوموں کو ماں کی ضرورت ہے، تبھی میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ مہرو، گھر چلو۔” وہ اپنے محبوب شوہر کا منہ تکنے لگی۔ اس کا اداس اور اجڑا ہوا چہرہ دیکھ کر مہرو کا دل پھٹنے لگا، تبھی وہ بے ساختہ بول پڑی: “کیا ہوا ہے تیری صاحباں کو؟ مجھے بتا، میں جا کر اس کو منا لاتی ہوں۔ میں تجھے اداس نہیں دیکھ سکتی۔” واحد بخش خاموش رہا۔ “زیادہ دیر مت کر، چادر اٹھا اور اب چل۔” “بھائی سے تو پوچھ لوں؟” “ان سب کو چھوڑ، صاحباں کا انتقال ہو گیا ہے۔” “انتقال ہو گیا ہے؟ کیسے، کب؟” وہ حیرت زدہ ہو گئی تھی کہ واحد جھوٹ کہہ رہا ہے۔ “بچے کی پیدائش کے وقت۔” واحد نے مختصراً جواب دیا۔ “اور بچہ؟” “وہ حیات ہے، خیریت سے ہے، اماں کے پاس ہے، مگر وہ نہیں سنبھال سکتیں۔” تبھی اس نے مہرو کی ماں سے کہا: “تائی! میں مہرو کو لیے جا رہا ہوں۔ جلدی میں ہوں، گھر پر صاحباں کی میت تیار ہے۔ قبرستان لے جانا ہے اسے، آپ اب زہرہ بہن کو لے کر آنے کی کریں۔”
باہر موٹر سائیکل کھڑی تھی، واحد نے مہرو کو اپنے ساتھ ٹھایا اور گھر لوٹ آیا۔ باہر دری بچھی تھی، کچھ لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایسا سوگ کا عالم تھا کہ اس کا کلیجہ باہر آنے لگا۔ اس کی سوتن کی وفات ہو گئی تھی، گھر کی دہلیز پار کرتے ہی وہ دوڑی ہوئی اندر گئی۔ عورتوں کے مجمع کو چیرتی ہوئی اس نے صاحباں کے روتے ہوئے بچوں کو بانہوں میں بھر لیا اور ان کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سوتن نہیں، وہ خود مر گئی ہو۔ دراصل اس کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے صاحباں نہیں مری، آج وہ خود حقیقی معنوں میں مر گئی ہے۔
cknwrites
شادی کے بعد مہرو کی زندگی کے دن کتنے سہانے تھے۔ لگتا تھا ساری دنیا کی خوشیاں اس کے قدموں میں ہوں۔ واحد بخش اب رفیقِ زندگی بن چکا تھا اور اس کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ مہرو کی ذرا سی تکلیف برداشت نہ کرتا تھا، مگر مہرو سے جانے کون سی بھول ہو گئی کہ چند سال بعد ہی اچانک اس کی پھولوں بھری زندگی میں انگاروں کا طوفان اس شدت سے آیا کہ زندگی جل کر راکھ ہو گئی۔ ایک روز وہ کھیتوں میں گنے لینے گئی، تو ایک عورت نے بتایا: “مہرو! سنا ہے تیرا واحد کسی البیلی کے چکر میں ہے۔” اسے یقین نہ آیا کہ اس کی محبت کا بٹوارہ بھی ہو سکتا ہے۔ “یہ بات تم سے کس نے کی ہے؟” اس نے عورت سے پوچھا۔ “اپنے گھر والے سے، اس معاملے کے چرچے تو سارے گاؤں میں ہیں۔ ایک تو ہی بے خبر ہے۔” “مجھ جیسی کوئی عورت ناگن بن کر میری دولت کے اس خزانے کو لوٹ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔” اس نے یقین سے کہا تھا، مگر جب ناگن کا زہر آہستہ آہستہ اس کی ہنستی بستی زندگی کو نیلا کرنے لگا، تو وہ ٹھٹھر کر رہ گئی۔
یہ سچ تھا کہ عزیز از جان رفیقِ حیات ایک اور دوشیزہ کے دامِ الفت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ پھر وہ کچھ ہوا کہ مر جانا بھی اس کے اختیار میں نہ رہا، اس وقت تک وہ تین بیٹیوں کی ماں بن گئی تھی۔ جب شوہر منہ نہ لگائے، تو جینے کو کیونکر جی چاہتا۔ اپنا آپ مٹا کر بھی وہ واحد بخش کو اپنی دنیا میں واپس لانے میں ناکام رہی تھی۔ وہ اس کو آوازیں دیتی، پکارتی، مگر اس کو مہرو کی کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کسی جادوگرنی نے اس کے شوہر پر جادو کر دیا ہے۔ بالآخر وہ دن بھی اس نے دیکھ لیا کہ رفتہ رفتہ اس کا محبوب دور ہوتا چلا گیا اور واحد بخش کی نئی محبت کی کشتی پرلے کنارے جا لگی۔ وہ اب اس گھر میں ساس (چاچی) کے سہارے رہ رہی تھی، جو کہتے تھے کہ: “تو ہی ہماری بہو اور اس گھر کی مالک ہے، ہماری تین پوتیوں کی ماں ہے، ہم کسی اور عورت کو تیری جگہ تسلیم نہ کریں گے۔” وہ اپنے بیٹے کی مہرو سے بے رخی کو دیکھ رہے تھے اور مہرو کے صبر کو بھی، جس نے شوہر کی بے رخی کے طمانچے، اس کی بیزاری و بے وفائی کے گھاؤ اپنے دل پر سہے، مگر اپنی محبت اور خدمت گزاری میں کمی نہ آنے دی اور نہ ساس سسر کو رنجش کا موقع دیا تھا۔
تھک ہار کر وہ بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ اب نہ شکوہ شکایت کرتی اور نہ کوئی فرمائش، جیون ساتھی تب بھی خفا رہتا۔ گرم گرم کھانا اس کے سامنے لا کر رکھتی، وہ دھتکار دیتا۔ ہاتھ جوڑتی کہ کھانا تو کھا لو، وہ ہاتھ جھٹک دیتا۔ اپنی محبت کا واسطہ دے کر کہتی کہ: “کسی عورت سے دل لگا لیا ہے تو بتا دو”, تو وہ مارنے پیٹنے لگتا۔ تب وہ اتنا روتی کہ اس کے آنسوؤں سے واحد بخش کے پیر بھیگ جاتے، مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ مہرو کو دھکا دے کر گھر سے نکل جاتا۔ ساس سسر بیٹے کی اس سنگدلی پر دم بہ خود تھے۔ ان کا واحد کبھی ایسا سفاک تو نہ تھا اور مہرو کے معاملے میں تو اس کا دل ریشم کی طرح نرم تھا۔ ماں باپ کے سمجھانے پر اس نے ان سے بھی بات چیت ختم کر دی۔ اس اثنا میں اللہ نے مہرو کو ایک بیٹا بھی دے دیا، مگر واحد نے بیٹے کی شکل دیکھی نہ گود میں لیا۔ وہ صاحباں کو بیاہ کر گھر لانا چاہتا تھا اور باپ اس کی اجازت نہ دیتا تھا۔ اس خاموش اور سرد جنگ سے ہار کر بالآخر بوڑھے باپ کا انتقال ہو گیا۔
باپ کے مرنے سے رہا سہا لحاظ جاتا رہا اور وہ ماں کی خفگی کو نظر انداز کر کے اپنی البیلی کو بیاہ کر گھر لے آیا۔ جس روز شوہر نے دوسری عورت کے ساتھ گھر میں قدم رکھا، مہرو کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کئی دن تک کونوں کھدروں میں وہ منہ چھپا کر روتی رہی۔ ایک روز روتے روتے بے ہوش ہو گئی، تب ساس نے اسے کچھ دن کے لیے میکے بھیج دیا۔ مہرو نے بھی سوچا، اچھا ہے ان سے دور ہو جاؤں تاکہ وہ کھل کر اپنی نئی دلہن سے ہنس بول سکے۔ شاید اس طرح ان کو اور خود اس کو بھی سکون مل جائے، مگر سکون کیسے ملتا؟ یہ تو سچ ہے کہ انسان اپنے جسم کے دو ٹکڑے ہونا تو گوارا کر سکتا ہے، مگر اپنی محبت کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ نہیں سکتا۔ میکے میں بھی مہرو کو چین نہ ملا۔ یہاں واحد بخش کی بہن اس کی بھابھی تھی، جو اوپر سے ہمدردی کرتی مگر دل سے خوش تھی کہ اس کا بھائی نئی نویلی دلہن بیاہ لایا تھا۔ مہرو رات کو سوتے سوتے اٹھ بیٹھتی اور واحد کا نام پکارنے لگتا۔ ماں اور بھائی منع کرتے کہ اب اس بے وفا کا نام بھی اپنے لب پر نہ لایا کرو، مگر یہ اس کے اختیار کی بات نہ تھی۔ بچپن سے اس کے دل میں واحد بخش کی محبت ایسے گڑی تھی، جیسے زمین کے سینے میں پہاڑ پیوست ہوتا ہے۔
مہرو کو سال بھر تک بھائی نے واپس اس کے سسرال نہیں جانے دیا۔ اس دوران اس کی سوتن ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ اب وہ اس گھر کی بہو تسلیم کر لی گئی۔ مہرو کی بھابھی اس کو مبارک باد دینے گئی اور ساس نے بھی دوسری بیوی کے بیٹے کو دل سے لگا لیا۔ ادھر مہرو اپنی بچیوں کے لیے پریشان رہتی تھی۔ آخر ایک روز اس نے ساس کو پیغام بھجوایا کہ: “آ کر مجھے لے جاؤ۔ میرا واحد بخش سے کوئی واسطہ نہ سہی، کم از کم اپنی بیٹیوں کے پاس تو رہوں گی۔” ساس خود بھی یہی چاہتی تھی کہ مہرو آ جائے۔ وہ بڑھاپے میں اس کی بیٹیوں کو نہیں سنبھال سکتی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کو بلا کر کہا کہ: “تم اپنے شوہر کو سمجھاؤ، وہ مہرو کو نہ روکے۔ وہ گھر آنا چاہتی ہے تو آنے دے۔ حضور بخش نے کیوں اس کو زبردستی روک رکھا ہے؟ واحد بخش اپنی بچیاں نہ دے گا، مہرو ان کی جدائی میں تڑپتی رہ جائے گی۔ کیا حاصل کہ اتنے برس جدائی کا ماتم کرتے رہیں۔”
مہرو کی بھابھی نے ماں کے کہنے پر اپنے شوہر یعنی مہرو کے بھائی کو بہت سمجھایا اور اس کو راضی کر لیا کہ بہن کو دوبارہ اس کے شوہر کے گھر چھوڑ آئے۔ حضور بخش نے کہا: “مہرو جانا چاہتی ہے تو بے شک جائے، میں چھوڑنے نہ جاؤں گا۔ میں جانتا ہوں وہاں اس کی مٹی پلید ہو جائے گی۔ اگر تمہاری ماں خود آ کر لے جائے، تو بے شک لے جائے، میں نہ روکوں گا۔” بیٹی کا پیغام ملا تو ساس مہرو کو لینے آ گئی۔ ماں نے بھی سمجھایا کہ: “اب وہاں جا کر خوش خوش رہنا۔ مرد اور شادیاں کرتے ہی ہیں، عورت کو اپنی چاردیواری اور اپنی اولاد کی فکر کرنی چاہیے، مرد کی نہیں۔” مہرو نے شوہر سے دستبرداری کا سمجھوتہ کر لیا۔ وہ خاموشی سے سارے گھر کا کام کرتی اور کسی سے بھی کلام نہ کرتی۔ واحد بخش تو اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا، گویا اس کا وجود اس گھر میں موجود ہی نہ تھا۔
وقت گزرنے لگا، سوتن کا بیٹے چھ برس کا ہو گیا۔ وہ مہرو کے بیٹے کو مارتا پیٹتا اور وہ اف نہ کر سکتی تھی۔ جاڑے کے دنوں میں واحد بخش کے چھوٹے لڑکے کو بخار ہو گیا۔ وہ پریشان حال اس کو ڈاکٹر کے پاس لیے پھرا۔ کچھ دنوں بعد مہرو کے بچوں کو بھی بخار نے آ لیا۔ اس نے ساس سے کہا کہ واحد بخش سے کہو اس کو بھی ڈاکٹر کو دکھا دے۔ یہ سن کر وہ آپے سے باہر ہو گیا اور مہرو کے منہ پر تھپڑ مار کر بولا: “کیا تو یہی چاہتی ہے کہ میں بیٹیوں کو ڈاکٹر کو دکھانے لے جاؤں؟ یہاں گاؤں میں بے غیرت لڑکیوں کو ہسپتال لے جاتے ہیں؟ بخار کی گولی کھلا دو، خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی۔ آئندہ لڑکیوں کو گھر سے باہر لے جانے کی بات نہ کرنا، ورنہ جان سے مار دوں گا۔” اگلے دن منجھلی لڑکی کی حالت خراب ہو گئی۔ ممتا سے مجبور ہو کر وہ سوتن کے کمرے میں چلی گئی اور واحد بخش سے منت سماجت کرنے لگی کہ: “لڑکی کو بہت تیز بخار ہے، خدارا اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔” واحد بخش خاموش لیٹا رہا، اس نے کوئی جواب نہ دیا تو مہرو نے اس کے پیر پکڑ لیے۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور مہرو کو اتنے زور کا دھکا دیا کہ اس کا سر صندوق سے جا ٹکرایا۔ سر سے خون بہہ نکلا۔ وہ روتی ہوئی باہر آ گئی۔ بیٹی بخار سے بے ہوش پڑی تھی۔ اس نے پڑوسن کو بھیج کر بھائی کو بلوایا اور کہا کہ: “تم ہی میری بچی کو ہسپتال لے جاؤ، ورنہ وہ مر جائے گی۔” بھائی نے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی: “روؤ مت میری بہن! زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ ٹھیک ہو جائے گی۔ اگر میں تیری لڑکی کو ہسپتال لے گیا تو واحد بخش فساد کرے گا۔ بہتر ہے کہ تم میرے ہمراہ چلو اور بچیوں کو ان کے باپ کے پاس رہنے دو۔”
مہرو ماں کا دل رکھتی تھی۔ اس نے بھائی کی بات نہ مانی اور وہ واپس لوٹ گیا۔ اگلے دن بچی کا انتقال ہو گیا۔ اب مہرو کے دل کی دنیا لٹ گئی، وہ بین کرنے لگی۔ تب شوہر نے سالے کو بلایا اور کہا: “اپنی بہن کو ساتھ لے جاؤ، یہ روز بین کر کے ہمارا سکون خراب کرے گی۔ بچی میری بھی تھی، اس کے مرنے کا دکھ مجھے بھی ہے، مگر خدا کی مرضی، اس کی زندگی ہی اتنی تھی۔ صبر تو کرنا پڑتا ہے، مگر تمہاری بہن نے تو بیٹی کے مرنے کو تماشا بنا لیا ہے۔” صاف ظاہر تھا کہ وہ مہرو کو رکھنا نہ چاہتا تھا اور اپنی بہن کی وجہ سے اس کو گھر سے نکال بھی نہ سکتا تھا۔ صاحباں کہتی کہ: “مہرو چلی گئی تو اب میں پال لوں گی تمہاری بچیوں کو، یوں بھی ان کو مہرو کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ہوں نا ان کو ماں کا پیار دینے والی۔” جب حضور بخش نے بہن کے سر میں خون لگا دیکھا تو پوچھا: “کیسے چوٹ لگی ہے؟” وہ شوہر کا پردہ رکھ گئی اور کہا کہ: “صندوق سے لحاف نکال رہی تھی، اس کا ڈھکن سر پر آ لگا، تبھی چوٹ لگ گئی۔” یہ سن کر واحد بخش کمرے سے نکلا اور بولا: “یہ جھوٹ کہتی ہے، اسے ڈھکن لگنے سے چوٹ نہیں آئی بلکہ میں نے مارا ہے اسے۔ تم اپنی بہن کو گھر لے جاؤ، ورنہ میں یوں ہی مار مار کر اس کو ختم کر دوں گا۔” تبھی حضور بخش کو بھی غصہ آ گیا، کہنے لگا: “مجھے اگر اپنے بچوں کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی تمہاری بہن کو دروازے پر پہنچا دیتا۔” پھر مہرو سے کہا کہ: “کیا اب بھی ادھر رہو گی؟ چلو میرے ساتھ، ورنہ میں بھی تم ہی کو مار دوں گا۔” وہ زبر دستی مہرو کو اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ باپ فالج زدہ تھا اور ماں بیچاری کیا کر سکتی تھی۔ مہرو نے بھائی کا مان رکھ لیا اور واپس شوہر کے گھر نہ گئی۔
بچیوں کی جدائی اس کو ستاتی تھی، تب مہرو کی چچی کسی بہانے ان کو ماں سے ملانے لے آتی۔ بچیاں جب یاد آتیں، تو اس پتھر کی مورتی کی آنکھوں سے آنسو ضرور بہہ نکلتے تھے۔ بیٹا پاس تھا، شاید اسی کی خاطر سانس چلتی تھی، ورنہ اس کو خود اپنا وجود فاضل اور بیکار لگتا۔ سوچتی تھی، نجانے کیوں زندہ ہے، کس لیے جی رہی ہے؟ بیٹا دس برس کا ہو گیا۔ وہ جب چاہتا باپ سے مل سکتا تھا، لیکن بیٹیاں واحد کی اجازت کے بغیر اپنی پھوپھی کے گھر بھی نہیں جا سکتی تھیں جہاں ان کی سگی ماں رہتی تھی۔ البتہ حضور بخش کی بیوی جب مہرو کو بہت زیادہ اداس دیکھتی، تو اس کا دل پسیج جاتا۔ تب وہ کسی بہانے ماں کو کہلواتی، یوں بچیاں دادی کے ہمراہ پھوپھی کے گھر آ جاتیں اور مہرو سے مل لیتیں۔
کہتے ہیں مالک کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ ایک دن واحد بخش رنجیدہ صورت لیے مہرو کو لینے آ گیا کہ: “صاحباں کے تینوں بچے بن ماں کے ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی ہے اور ان معصوموں کو ماں کی ضرورت ہے، تبھی میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ مہرو، گھر چلو۔” وہ اپنے محبوب شوہر کا منہ تکنے لگی۔ اس کا اداس اور اجڑا ہوا چہرہ دیکھ کر مہرو کا دل پھٹنے لگا، تبھی وہ بے ساختہ بول پڑی: “کیا ہوا ہے تیری صاحباں کو؟ مجھے بتا، میں جا کر اس کو منا لاتی ہوں۔ میں تجھے اداس نہیں دیکھ سکتی۔” واحد بخش خاموش رہا۔ “زیادہ دیر مت کر، چادر اٹھا اور اب چل۔” “بھائی سے تو پوچھ لوں؟” “ان سب کو چھوڑ، صاحباں کا انتقال ہو گیا ہے۔” “انتقال ہو گیا ہے؟ کیسے، کب؟” وہ حیرت زدہ ہو گئی تھی کہ واحد جھوٹ کہہ رہا ہے۔ “بچے کی پیدائش کے وقت۔” واحد نے مختصراً جواب دیا۔ “اور بچہ؟” “وہ حیات ہے، خیریت سے ہے، اماں کے پاس ہے، مگر وہ نہیں سنبھال سکتیں۔” تبھی اس نے مہرو کی ماں سے کہا: “تائی! میں مہرو کو لیے جا رہا ہوں۔ جلدی میں ہوں، گھر پر صاحباں کی میت تیار ہے۔ قبرستان لے جانا ہے اسے، آپ اب زہرہ بہن کو لے کر آنے کی کریں۔”
باہر موٹر سائیکل کھڑی تھی، واحد نے مہرو کو اپنے ساتھ ٹھایا اور گھر لوٹ آیا۔ باہر دری بچھی تھی، کچھ لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایسا سوگ کا عالم تھا کہ اس کا کلیجہ باہر آنے لگا۔ اس کی سوتن کی وفات ہو گئی تھی، گھر کی دہلیز پار کرتے ہی وہ دوڑی ہوئی اندر گئی۔ عورتوں کے مجمع کو چیرتی ہوئی اس نے صاحباں کے روتے ہوئے بچوں کو بانہوں میں بھر لیا اور ان کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سوتن نہیں، وہ خود مر گئی ہو۔ دراصل اس کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے صاحباں نہیں مری، آج وہ خود حقیقی معنوں میں مر گئی ہے۔
(ختم شد)

