میں ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں اور خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ہر آزمائش سے بچایا ہوا ہے، لیکن اپنی ہی نادانی کی وجہ سے میرا سکون لٹ چکا ہے اور سکھ کی روشنی کے باوجود میرے چاروں سو اندھیرا ہے۔ جب یادوں کی راہ گزر پر نظر ڈالتی ہوں، تو دور تک سنہرا غبار سا پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔
آج سے چار سال قبل جب میں نویں جماعت کی طالبہ تھی، دنیا کے اونچ نیچ سے قطعاً واقف نہ تھی اور زندگی کو ہلکی پھلکی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ ہم پانچ بہن بھائی تھے؛ والد صاحب ادویات کا کاروبار کرتے تھے۔ گھر پرانا تھا، مگر ضرورت کی ہر شے وہاں موجود تھی۔ کافی دنوں سے والد صاحب سوچ رہے تھے کہ پرانے گھر کی عمارت گرا کر نیا مکان تعمیر کرا دیں، ہمیں بھی نئے گھر کی چاہ تھی۔ آخر والد صاحب نے تعمیر کا کام شروع کروا دیا اور ہم سب اپنی خالہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ ان دنوں ہمارا ایک کزن فہیم ایم اے کر رہا تھا، وہ ہم سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا اور اس کے اپنے ہی مشاغل تھے، مثلاً جاگنگ، میوزک اور لانگ ڈرائیو وغیرہ۔
گرمیوں کا موسم تھا، امی اور سب بہن بھائی خالہ کے ایک بڑے کمرے میں سوتے تھے جو کہ ایک ہال کی طرح تھا اور جس کے وسط میں چند پلنگ پڑے تھے۔ ایک دوپہر مجھے بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی کیونکہ ہم نے پورے گھر کی صفائی کی تھی۔ مجھے ایسی گہری نیند آئی کہ سب بیدار ہو کر اٹھ گئے مگر میری آنکھ نہ کھلی۔ شام پانچ بجے کے قریب جب میری آنکھ کھلی اور میں آنکھیں بند کیے لیٹی تھی، تو محسوس ہوا کہ کسی نے مجھے چھوا ہے۔ نیند کے غلبے کی وجہ سے کچھ سمجھ نہ پائی مگر اس لمس کو محسوس ضرور کیا۔ اگلے روز جب سب سو رہے تھے، تو میرے بازو پر اچانک کوئی چیز گری۔ میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ فہیم کہیں چھپ گئے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ حرکت ان کی ہو سکتی ہے۔ میں ابھی اسی سوچ میں تھی کہ اچانک وہ غسل خانے سے باہر نکلے، بالکل نارمل ہو کر مسکرائے اور میرے پاس سے گزر گئے۔ میں ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھی؛ وہ فہیم صاحب جو مہینے میں ایک بار بات کرتے تھے، آج مسکرائے بھی تھے، لیکن میں خاموش رہی کہ شاید یہ میرا وہم ہو۔
چند دن بعد جب میں خالہ کے کسی کام سے درمیانے کمرے میں گئی، تو وہ دروازہ جو خالہ اور فہیم کے کمرے کو ملاتا تھا، اچانک کھلا اور میں ڈر گئی۔ فہیم خاموشی سے میرے پاس آئے، میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئے۔ میں نے مزاحمت نہ کی کیونکہ میرا شک اب یقین کا روپ دھار چکا تھا۔ میں پہلی بار ان کے کمرے میں داخل ہوئی تھی، مجھے اچھا تو لگا لیکن فہیم کی یہ حرکت بری لگی۔ انہوں نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور خود گھٹنوں کے بل قالین پر بیٹھ کر بولے: “قسم سے سونیا! میرے نزدیک تم سے زیادہ سلجھی ہوئی لڑکی کوئی نہیں۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”
میں حیران رہ گئی، پھر خوشی کے عالم میں اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ یوں ہمارے درمیان عہد و پیماں کا آغاز ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے جیون ساتھی بنیں گے۔ یہ بظاہر کوئی مشکل کام نہ تھا کیونکہ ہم فرسٹ کزن تھے اور والدین خود اس رشتے کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ رکاوٹ کی کوئی ایسی وجہ نہ تھی جس کا مجھے خوف ہوتا۔ میں اپنے خوابوں کے خمار میں فہیم کے ساتھ محبت کے سفر میں آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی تھی اور گھر والے آنکھیں موندے ہوئے تھے۔ انہیں کچھ ہوش نہ تھا کہ محبت کی یہ گاڑی آگے جا کر کتنے بڑے سانحے کا شکار ہو سکتی ہے۔
آدمی جس سے محبت کرے، اس کے لیے اس کے دل میں عزت و احترام بھی باقی رہنا چاہیے۔ اگر وہ نہ رہے تو محبت داغ دار ہو جاتی ہے؛ میں اپنے جذبوں کو پاکیزہ رکھنا چاہتی تھی، اسی لیے فہیم سے کچھ فاصلہ برقرار رکھنا چاہتی تھی، جبکہ وہ میری اس بات کو نہیں سمجھتا تھا۔ وہ مجھے مجبور کرتا تھا کہ میں اس سے دوری نہ رکھوں۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم ہر لحاظ سے ایک ہیں اور ہمیں آئندہ بھی ایک دوسرے کا ہی ہونا ہے۔ اس کی ان باتوں سے میرے دل میں گرہ پڑتی اور میں اس سے دور ہو جاتی، مگر وہ پھر منت سماجت کر کے مجھے منا لیتا تھا۔ اسی دوران ایک دن امی جان خالہ کے گھر گئیں اور مٹھائی کا ایک بڑا ڈبہ لے کر آئیں۔ معلوم ہوا کہ فہیم کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
تین دن بعد وہ ہمارے گھر آیا، میں چھت پر اکیلی بیٹھی تھی کہ وہ موقع پا کر وہاں آ گیا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ اس کے پرمسرت چہرے کو دیکھ کر میری چیخ نکل گئی۔ اس نے فوراً میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے پھر سے خیالوں کی دنیا میں لے جانے کی کوشش کی، مگر میں نے اسے زور سے دھکا دیا۔ وہ حیران رہ گیا کہ جسے وہ پھولوں کا ہار سمجھتا تھا، وہ اسے یوں دھکا بھی دے سکتی ہے۔ مجھے اس کی بے مروتی پر شدید غصہ تھا کہ اس نے کیسے گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا تھا۔ مجھے اچھی طرح علم تھا کہ اس کے سامنے میرا اور خاندان کی دو مزید لڑکیوں کا نام لیا گیا تھا، مگر اس نے کسی کو قبول نہیں کیا۔ میں اس دوران سخت الجھن میں رہی اور یہی سمجھتی رہی کہ خالہ اور بہنیں محض باتیں کر رہی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، وہ آخر کار میرا ہی نام لے گا۔ مگر خالہ نے جلد ہی منگنی کی تاریخ رکھ دی۔ جانے انہیں کیا جلدی تھی؛ جہاں دو برس خاموش رہیں، اب وہاں دوڑنا شروع کر دیا۔ مقررہ تاریخ پر منگنی ہو گئی اور میں ہکا بکا سارا کھیل اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی۔
اس کی منگیتر کا نام منزہ تھا؛ وہ ایک خوبصورت، سیدھی سادی اور دبلی پتلی لڑکی تھی۔ مجھ پر قیامت توڑ کر بھی وہ بالکل نارمل تھا۔ اس کا رویہ میرے ساتھ پہلے جیسا ہی تھا اور وہ اب بھی میرے آگے پیچھے پھرتا تھا، لیکن میں نے اس سے بے رخی اختیار کر لی۔ اس سب کے باوجود میرے دل میں اس کی محبت سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی تھی۔ محبت کی شدت میں ذرا بھی کمی نہ آئی تھی، مگر اب اس محبت پر حیرت اور صدمہ حاوی ہو چکا تھا۔ صدمے کی دھول میں محبت کا چہرہ چھپ کر میلا ہو گیا تھا، یہاں تک کہ میں خود بھی اس چہرے کو پہچان نہیں پا رہی تھی۔ میں سمجھ رہی تھی کہ میرے دل میں محبت مر گئی ہے اور اب اس کی لاش سڑنے لگی ہے۔ مجھے اپنے وجود سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی اور دل چاہتا کہ دریا میں چھلانگ لگا دوں۔
آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب فہیم کی شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ہم ایک ہفتہ قبل ہی خالہ کے گھر چلے گئے۔ شادی سے دو دن پہلے، جب میں بڑے ہال میں سب کے درمیان سوئی ہوئی تھی، وہ بے خوف ہو کر مجھے جگانے آ گیا۔ میں نیند میں تھی، پہلے تو سمجھ نہ سکی کہ کون ہے، پھر رسوائی کے خوف سے اس کے ساتھ چل پڑی کیونکہ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اگر میں فہیم کو وہاں دھتکارتی تو کسی کی آنکھ کھل سکتی تھی اور بدنامی صرف میری ہوتی۔ تمام شب میں روتی رہی اور وہ جھوٹ پر جھوٹ بول کر مجھے مناتا رہا۔ کبھی ماں، کبھی باپ اور کبھی بھائی بھابھی کو اس جدائی کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا۔ وہ ایک خود مختار انسان تھا، مگر اس وقت خود کو بے حد مجبور ظاہر کر رہا تھا۔ اس کی اس دورخی اور دوغلی پالیسی پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ میں نے کس شخص کو جیون ساتھی چنا اور کس پر بھروسہ کیا تھا! میں نے ایک دوہری شخصیت کے حامل انسان پر اپنی متاعِ حیات لٹا دی تھی۔
آج اپنی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا تھا۔ سوچتی تھی کہ دنیا کی ہر لڑکی سے کہوں کہ خدا کے لیے کسی مرد پر بھروسہ مت کرنا، خواہ وہ اپنے خون سے عہدِ وفا لکھ دے؛ یاد رکھنا، اسے کسی بھی موڑ پر بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ جاتی ہوئی شے اور بھی پیاری لگنے لگتی ہے اور جدائی سے پہلے کی گھڑیاں محبوب کو مزید محبوب بنا دیتی ہیں۔ یہی حال میرا بھی تھا۔ عقل کہتی تھی کہ جب وہ دامن جھٹک رہا ہے تو تم بھی ہاتھ جھٹک دو اور نفرت سے منہ پھیر لو، مگر دل کہتا تھا کہ یہ چند لمحات ہی تیرے پاس ہیں، ان سے اپنی محبت کا دامن بھر لے اور ان سنہری یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لے۔ روتے ہوئے میں نے اپنے بے وفا محبوب کے کندھے پر سر رکھ دیا اور سسکتی رہی۔ اف میرے خدا! وہ کیسی دکھ بھری رات تھی، کیا بتاؤں! صبح ہوئی تو ہم دلہن لینے گئے۔ ان کا گھرانہ امیر تھا اور منزہ اپنی سفید رنگت کی وجہ سے بے حد پرکشش نظر آ رہی تھی۔
میرے دل پر کیا گزری، بیان نہیں کر سکتی۔ صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ میرا دل غم میں ڈوبا ہوا تھا اور میں کسی سے اپنا درد بانٹ نہیں سکتی تھی۔ اچانک مجھے چکر آ گیا، لڑکھڑاتے قدموں سے بمشکل قریب کے ایک کمرے تک پہنچی۔ کمرہ خالی تھا کیونکہ سب لوگ دلہن کے کمرے کے پاس جمع تھے۔ میں نڈھال ہو کر بستر پر گر پڑی۔ میرے دل میں اس قدر شدید درد اٹھا کہ میں پسینے میں نہا گئی۔ بدن ٹھنڈا پڑ رہا تھا اور ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے، مگر میں وہاں اکیلی اور بے یار و مددگار پڑی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مجھے دل کا دورہ پڑا ہو۔ آہستہ آہستہ میں بے سدھ ہوتی گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ میری جان بچ گئی؛ تکلیف تو بہت تھی مگر اللہ نے زندگی دے دی۔
کچھ عرصہ میں سخت پریشان رہی اور مجھے کوئی منزل سجھائی نہ دیتی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے میری غم زدہ روح اندھیروں میں بھٹک رہی ہو۔ میں رو رو کر خدا سے دعا کرتی کہ “اے خدا! تو ہی مجھے روشنی دکھا اور تو ہی میری منزل متعین فرما۔ میں نے تیری اطاعت اور حکم سے روگردانی کی تو اپنی راہ کھو بیٹھی اور آج ان اندھیروں میں بھٹک رہی ہوں”۔ بے شک جو انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، وہ اپنی منزل کھو دیتے ہیں اور سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ میری سزا یہ تھی کہ جس محبت پر میں نے اپنے خاندان کی ناموس قربان کر دی تھی، وہی مجھ سے چھن گئی اور اب مجھے اس شخص کے بغیر جینا تھا جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال تھا۔
جلد ہی اللہ تعالیٰ نے میری پکار سن لی اور میرا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا۔ اس طرح میری زندگی کا ایک مقصد سامنے آ گیا اور مجھے جینے کا بہانہ مل گیا۔ رفتہ رفتہ میں نے فہیم کو بھلا دیا۔ وہ کچھ عرصہ تو اپنی نئی زندگی کی خوشیوں میں مگن رہا، پھر جب اس کا دل اپنی بیوی سے بھر گیا تو وہ دوبارہ میرے دیدار کا مشتاق ہونے لگا۔ مگر میرا دل ایک بار ٹھوکر کھا چکا تھا اور میرے لیے وہ ایک ہی ٹھوکر کافی تھی۔ وہ پھر سے میرے گن گانے لگا اور مجھے اپنے جال میں پھنسانے کی تدبیریں کرنے لگا، مگر اب میرا دل اس سے مکمل طور پر بیزار ہو چکا تھا۔ میں نے اپنی تمام تر توجہ اپنے مقصد پر مرکوز کر دی تھی اور ماضی سمیت ہر چیز کو بھلا کر اسے دھتکار دیا۔
میری محنت رنگ لائی اور بالآخر میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ آج مجھے فہیم کو ٹھکرا دینے پر کوئی ملال ہے نہ کوئی رنج؛ میں اسے مکمل طور پر فراموش کر چکی ہوں۔ کون کہتا ہے کہ پہلی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا؟ اگر نیت نیک ہو، عزم صادق ہو اور نظر مقصد پر جمی ہو، تو ہر شے بھلائی جا سکتی ہے—پہلی محبت بھی اور وہ محبوب بھی جس کے بغیر جینا ناممکن لگتا تھا۔ یاد تو صرف اسے رکھا جاتا ہے جو بے وفا نہ ہو۔ دھوکے باز کو یاد رکھنے کا مطلب خود کو دھوکا دینا اور اپنی ہی نظروں میں گر جانا ہے۔ یہ میرا اپنا تجربہ ہے اور اج یہی میری سوچ ہے۔ اب میں نہیں، بلکہ فہیم اپنی سزا بھگت رہا ہے، اور یہ کتنی عبرت ناک سزا ہے!
میری محنت رنگ لائی اور میں بالآخر ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ آج مجھے فہیم کو ٹھکرا دینے پر کوئی ملال ہے نہ کوئی رنج؛ میں اسے مکمل طور پر فراموش کر چکی ہوں۔ کون کہتا ہے کہ پہلی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا! اگر نیت نیک ہو، عزم صادق ہو اور مقصد پر نظر جمی ہو، تو ہر شے بھلائی جا سکتی ہے—پہلی محبت بھی اور وہ محبوب بھی جس کے بغیر جینا محال لگتا تھا۔ یاد تو صرف اسے رکھا جاتا ہے جو مخلص ہو، کسی دھوکے باز کو یاد رکھنا اپنی ہی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔
آج میں ایک معزز مقام پر فائز ہوں، جبکہ فہیم اپنی ہی بچھائی ہوئی نفرت اور بیزاری کی آگ میں جل رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ پرمسرت چمک نہیں بلکہ ایک گہرا پچھتاوا جھلکتا ہے۔ وہ اب بھی مجھ سے رابطہ کرنے کی ناکام کوششیں کرتا ہے، کبھی میسج تو کبھی مشترکہ رشتہ داروں کے ذریعے اپنی “مجبوریوں” کا رونا روتا ہے، مگر اب میرے پاس اس کے لیے صرف خاموشی اور بیزاری ہے۔ وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں سکون کو ترس رہا ہے کیونکہ جو شخص کسی کے خلوص کی قدر نہیں کرتا، اسے پھر کہیں پناہ نہیں ملتی۔ یہ اس کے لیے قدرت کا وہ انصاف ہے جس سے وہ اب کبھی راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔
آج سے چار سال قبل جب میں نویں جماعت کی طالبہ تھی، دنیا کے اونچ نیچ سے قطعاً واقف نہ تھی اور زندگی کو ہلکی پھلکی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ ہم پانچ بہن بھائی تھے؛ والد صاحب ادویات کا کاروبار کرتے تھے۔ گھر پرانا تھا، مگر ضرورت کی ہر شے وہاں موجود تھی۔ کافی دنوں سے والد صاحب سوچ رہے تھے کہ پرانے گھر کی عمارت گرا کر نیا مکان تعمیر کرا دیں، ہمیں بھی نئے گھر کی چاہ تھی۔ آخر والد صاحب نے تعمیر کا کام شروع کروا دیا اور ہم سب اپنی خالہ کے گھر منتقل ہو گئے۔ ان دنوں ہمارا ایک کزن فہیم ایم اے کر رہا تھا، وہ ہم سے زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا اور اس کے اپنے ہی مشاغل تھے، مثلاً جاگنگ، میوزک اور لانگ ڈرائیو وغیرہ۔
گرمیوں کا موسم تھا، امی اور سب بہن بھائی خالہ کے ایک بڑے کمرے میں سوتے تھے جو کہ ایک ہال کی طرح تھا اور جس کے وسط میں چند پلنگ پڑے تھے۔ ایک دوپہر مجھے بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی کیونکہ ہم نے پورے گھر کی صفائی کی تھی۔ مجھے ایسی گہری نیند آئی کہ سب بیدار ہو کر اٹھ گئے مگر میری آنکھ نہ کھلی۔ شام پانچ بجے کے قریب جب میری آنکھ کھلی اور میں آنکھیں بند کیے لیٹی تھی، تو محسوس ہوا کہ کسی نے مجھے چھوا ہے۔ نیند کے غلبے کی وجہ سے کچھ سمجھ نہ پائی مگر اس لمس کو محسوس ضرور کیا۔ اگلے روز جب سب سو رہے تھے، تو میرے بازو پر اچانک کوئی چیز گری۔ میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ فہیم کہیں چھپ گئے ہیں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ حرکت ان کی ہو سکتی ہے۔ میں ابھی اسی سوچ میں تھی کہ اچانک وہ غسل خانے سے باہر نکلے، بالکل نارمل ہو کر مسکرائے اور میرے پاس سے گزر گئے۔ میں ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھی؛ وہ فہیم صاحب جو مہینے میں ایک بار بات کرتے تھے، آج مسکرائے بھی تھے، لیکن میں خاموش رہی کہ شاید یہ میرا وہم ہو۔
چند دن بعد جب میں خالہ کے کسی کام سے درمیانے کمرے میں گئی، تو وہ دروازہ جو خالہ اور فہیم کے کمرے کو ملاتا تھا، اچانک کھلا اور میں ڈر گئی۔ فہیم خاموشی سے میرے پاس آئے، میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئے۔ میں نے مزاحمت نہ کی کیونکہ میرا شک اب یقین کا روپ دھار چکا تھا۔ میں پہلی بار ان کے کمرے میں داخل ہوئی تھی، مجھے اچھا تو لگا لیکن فہیم کی یہ حرکت بری لگی۔ انہوں نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور خود گھٹنوں کے بل قالین پر بیٹھ کر بولے: “قسم سے سونیا! میرے نزدیک تم سے زیادہ سلجھی ہوئی لڑکی کوئی نہیں۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”
میں حیران رہ گئی، پھر خوشی کے عالم میں اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ یوں ہمارے درمیان عہد و پیماں کا آغاز ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے جیون ساتھی بنیں گے۔ یہ بظاہر کوئی مشکل کام نہ تھا کیونکہ ہم فرسٹ کزن تھے اور والدین خود اس رشتے کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ رکاوٹ کی کوئی ایسی وجہ نہ تھی جس کا مجھے خوف ہوتا۔ میں اپنے خوابوں کے خمار میں فہیم کے ساتھ محبت کے سفر میں آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی تھی اور گھر والے آنکھیں موندے ہوئے تھے۔ انہیں کچھ ہوش نہ تھا کہ محبت کی یہ گاڑی آگے جا کر کتنے بڑے سانحے کا شکار ہو سکتی ہے۔
آدمی جس سے محبت کرے، اس کے لیے اس کے دل میں عزت و احترام بھی باقی رہنا چاہیے۔ اگر وہ نہ رہے تو محبت داغ دار ہو جاتی ہے؛ میں اپنے جذبوں کو پاکیزہ رکھنا چاہتی تھی، اسی لیے فہیم سے کچھ فاصلہ برقرار رکھنا چاہتی تھی، جبکہ وہ میری اس بات کو نہیں سمجھتا تھا۔ وہ مجھے مجبور کرتا تھا کہ میں اس سے دوری نہ رکھوں۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم ہر لحاظ سے ایک ہیں اور ہمیں آئندہ بھی ایک دوسرے کا ہی ہونا ہے۔ اس کی ان باتوں سے میرے دل میں گرہ پڑتی اور میں اس سے دور ہو جاتی، مگر وہ پھر منت سماجت کر کے مجھے منا لیتا تھا۔ اسی دوران ایک دن امی جان خالہ کے گھر گئیں اور مٹھائی کا ایک بڑا ڈبہ لے کر آئیں۔ معلوم ہوا کہ فہیم کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
تین دن بعد وہ ہمارے گھر آیا، میں چھت پر اکیلی بیٹھی تھی کہ وہ موقع پا کر وہاں آ گیا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ اس کے پرمسرت چہرے کو دیکھ کر میری چیخ نکل گئی۔ اس نے فوراً میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے پھر سے خیالوں کی دنیا میں لے جانے کی کوشش کی، مگر میں نے اسے زور سے دھکا دیا۔ وہ حیران رہ گیا کہ جسے وہ پھولوں کا ہار سمجھتا تھا، وہ اسے یوں دھکا بھی دے سکتی ہے۔ مجھے اس کی بے مروتی پر شدید غصہ تھا کہ اس نے کیسے گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا تھا۔ مجھے اچھی طرح علم تھا کہ اس کے سامنے میرا اور خاندان کی دو مزید لڑکیوں کا نام لیا گیا تھا، مگر اس نے کسی کو قبول نہیں کیا۔ میں اس دوران سخت الجھن میں رہی اور یہی سمجھتی رہی کہ خالہ اور بہنیں محض باتیں کر رہی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، وہ آخر کار میرا ہی نام لے گا۔ مگر خالہ نے جلد ہی منگنی کی تاریخ رکھ دی۔ جانے انہیں کیا جلدی تھی؛ جہاں دو برس خاموش رہیں، اب وہاں دوڑنا شروع کر دیا۔ مقررہ تاریخ پر منگنی ہو گئی اور میں ہکا بکا سارا کھیل اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی۔
اس کی منگیتر کا نام منزہ تھا؛ وہ ایک خوبصورت، سیدھی سادی اور دبلی پتلی لڑکی تھی۔ مجھ پر قیامت توڑ کر بھی وہ بالکل نارمل تھا۔ اس کا رویہ میرے ساتھ پہلے جیسا ہی تھا اور وہ اب بھی میرے آگے پیچھے پھرتا تھا، لیکن میں نے اس سے بے رخی اختیار کر لی۔ اس سب کے باوجود میرے دل میں اس کی محبت سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی تھی۔ محبت کی شدت میں ذرا بھی کمی نہ آئی تھی، مگر اب اس محبت پر حیرت اور صدمہ حاوی ہو چکا تھا۔ صدمے کی دھول میں محبت کا چہرہ چھپ کر میلا ہو گیا تھا، یہاں تک کہ میں خود بھی اس چہرے کو پہچان نہیں پا رہی تھی۔ میں سمجھ رہی تھی کہ میرے دل میں محبت مر گئی ہے اور اب اس کی لاش سڑنے لگی ہے۔ مجھے اپنے وجود سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی اور دل چاہتا کہ دریا میں چھلانگ لگا دوں۔
آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب فہیم کی شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ہم ایک ہفتہ قبل ہی خالہ کے گھر چلے گئے۔ شادی سے دو دن پہلے، جب میں بڑے ہال میں سب کے درمیان سوئی ہوئی تھی، وہ بے خوف ہو کر مجھے جگانے آ گیا۔ میں نیند میں تھی، پہلے تو سمجھ نہ سکی کہ کون ہے، پھر رسوائی کے خوف سے اس کے ساتھ چل پڑی کیونکہ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اگر میں فہیم کو وہاں دھتکارتی تو کسی کی آنکھ کھل سکتی تھی اور بدنامی صرف میری ہوتی۔ تمام شب میں روتی رہی اور وہ جھوٹ پر جھوٹ بول کر مجھے مناتا رہا۔ کبھی ماں، کبھی باپ اور کبھی بھائی بھابھی کو اس جدائی کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا۔ وہ ایک خود مختار انسان تھا، مگر اس وقت خود کو بے حد مجبور ظاہر کر رہا تھا۔ اس کی اس دورخی اور دوغلی پالیسی پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ میں نے کس شخص کو جیون ساتھی چنا اور کس پر بھروسہ کیا تھا! میں نے ایک دوہری شخصیت کے حامل انسان پر اپنی متاعِ حیات لٹا دی تھی۔
آج اپنی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا تھا۔ سوچتی تھی کہ دنیا کی ہر لڑکی سے کہوں کہ خدا کے لیے کسی مرد پر بھروسہ مت کرنا، خواہ وہ اپنے خون سے عہدِ وفا لکھ دے؛ یاد رکھنا، اسے کسی بھی موڑ پر بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ جاتی ہوئی شے اور بھی پیاری لگنے لگتی ہے اور جدائی سے پہلے کی گھڑیاں محبوب کو مزید محبوب بنا دیتی ہیں۔ یہی حال میرا بھی تھا۔ عقل کہتی تھی کہ جب وہ دامن جھٹک رہا ہے تو تم بھی ہاتھ جھٹک دو اور نفرت سے منہ پھیر لو، مگر دل کہتا تھا کہ یہ چند لمحات ہی تیرے پاس ہیں، ان سے اپنی محبت کا دامن بھر لے اور ان سنہری یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لے۔ روتے ہوئے میں نے اپنے بے وفا محبوب کے کندھے پر سر رکھ دیا اور سسکتی رہی۔ اف میرے خدا! وہ کیسی دکھ بھری رات تھی، کیا بتاؤں! صبح ہوئی تو ہم دلہن لینے گئے۔ ان کا گھرانہ امیر تھا اور منزہ اپنی سفید رنگت کی وجہ سے بے حد پرکشش نظر آ رہی تھی۔
میرے دل پر کیا گزری، بیان نہیں کر سکتی۔ صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، اور کر بھی کیا سکتی تھی؟ میرا دل غم میں ڈوبا ہوا تھا اور میں کسی سے اپنا درد بانٹ نہیں سکتی تھی۔ اچانک مجھے چکر آ گیا، لڑکھڑاتے قدموں سے بمشکل قریب کے ایک کمرے تک پہنچی۔ کمرہ خالی تھا کیونکہ سب لوگ دلہن کے کمرے کے پاس جمع تھے۔ میں نڈھال ہو کر بستر پر گر پڑی۔ میرے دل میں اس قدر شدید درد اٹھا کہ میں پسینے میں نہا گئی۔ بدن ٹھنڈا پڑ رہا تھا اور ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے، مگر میں وہاں اکیلی اور بے یار و مددگار پڑی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے مجھے دل کا دورہ پڑا ہو۔ آہستہ آہستہ میں بے سدھ ہوتی گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ میری جان بچ گئی؛ تکلیف تو بہت تھی مگر اللہ نے زندگی دے دی۔
کچھ عرصہ میں سخت پریشان رہی اور مجھے کوئی منزل سجھائی نہ دیتی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے میری غم زدہ روح اندھیروں میں بھٹک رہی ہو۔ میں رو رو کر خدا سے دعا کرتی کہ “اے خدا! تو ہی مجھے روشنی دکھا اور تو ہی میری منزل متعین فرما۔ میں نے تیری اطاعت اور حکم سے روگردانی کی تو اپنی راہ کھو بیٹھی اور آج ان اندھیروں میں بھٹک رہی ہوں”۔ بے شک جو انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، وہ اپنی منزل کھو دیتے ہیں اور سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ میری سزا یہ تھی کہ جس محبت پر میں نے اپنے خاندان کی ناموس قربان کر دی تھی، وہی مجھ سے چھن گئی اور اب مجھے اس شخص کے بغیر جینا تھا جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال تھا۔
جلد ہی اللہ تعالیٰ نے میری پکار سن لی اور میرا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو گیا۔ اس طرح میری زندگی کا ایک مقصد سامنے آ گیا اور مجھے جینے کا بہانہ مل گیا۔ رفتہ رفتہ میں نے فہیم کو بھلا دیا۔ وہ کچھ عرصہ تو اپنی نئی زندگی کی خوشیوں میں مگن رہا، پھر جب اس کا دل اپنی بیوی سے بھر گیا تو وہ دوبارہ میرے دیدار کا مشتاق ہونے لگا۔ مگر میرا دل ایک بار ٹھوکر کھا چکا تھا اور میرے لیے وہ ایک ہی ٹھوکر کافی تھی۔ وہ پھر سے میرے گن گانے لگا اور مجھے اپنے جال میں پھنسانے کی تدبیریں کرنے لگا، مگر اب میرا دل اس سے مکمل طور پر بیزار ہو چکا تھا۔ میں نے اپنی تمام تر توجہ اپنے مقصد پر مرکوز کر دی تھی اور ماضی سمیت ہر چیز کو بھلا کر اسے دھتکار دیا۔
میری محنت رنگ لائی اور بالآخر میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ آج مجھے فہیم کو ٹھکرا دینے پر کوئی ملال ہے نہ کوئی رنج؛ میں اسے مکمل طور پر فراموش کر چکی ہوں۔ کون کہتا ہے کہ پہلی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا؟ اگر نیت نیک ہو، عزم صادق ہو اور نظر مقصد پر جمی ہو، تو ہر شے بھلائی جا سکتی ہے—پہلی محبت بھی اور وہ محبوب بھی جس کے بغیر جینا ناممکن لگتا تھا۔ یاد تو صرف اسے رکھا جاتا ہے جو بے وفا نہ ہو۔ دھوکے باز کو یاد رکھنے کا مطلب خود کو دھوکا دینا اور اپنی ہی نظروں میں گر جانا ہے۔ یہ میرا اپنا تجربہ ہے اور اج یہی میری سوچ ہے۔ اب میں نہیں، بلکہ فہیم اپنی سزا بھگت رہا ہے، اور یہ کتنی عبرت ناک سزا ہے!
میری محنت رنگ لائی اور میں بالآخر ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ آج مجھے فہیم کو ٹھکرا دینے پر کوئی ملال ہے نہ کوئی رنج؛ میں اسے مکمل طور پر فراموش کر چکی ہوں۔ کون کہتا ہے کہ پہلی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا! اگر نیت نیک ہو، عزم صادق ہو اور مقصد پر نظر جمی ہو، تو ہر شے بھلائی جا سکتی ہے—پہلی محبت بھی اور وہ محبوب بھی جس کے بغیر جینا محال لگتا تھا۔ یاد تو صرف اسے رکھا جاتا ہے جو مخلص ہو، کسی دھوکے باز کو یاد رکھنا اپنی ہی تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔
آج میں ایک معزز مقام پر فائز ہوں، جبکہ فہیم اپنی ہی بچھائی ہوئی نفرت اور بیزاری کی آگ میں جل رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ پرمسرت چمک نہیں بلکہ ایک گہرا پچھتاوا جھلکتا ہے۔ وہ اب بھی مجھ سے رابطہ کرنے کی ناکام کوششیں کرتا ہے، کبھی میسج تو کبھی مشترکہ رشتہ داروں کے ذریعے اپنی “مجبوریوں” کا رونا روتا ہے، مگر اب میرے پاس اس کے لیے صرف خاموشی اور بیزاری ہے۔ وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں سکون کو ترس رہا ہے کیونکہ جو شخص کسی کے خلوص کی قدر نہیں کرتا، اسے پھر کہیں پناہ نہیں ملتی۔ یہ اس کے لیے قدرت کا وہ انصاف ہے جس سے وہ اب کبھی راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔
(ختم شد)
.jpg)
