یہ پچھلے سال کا واقعہ ہے جب میں بی بی ایس (BBS) کر رہی تھی۔ ہمارے گھر کے پاس ایک دفتر تھا جہاں ایک نوجوان سرکاری ملازم کام کرتا تھا، جو کافی وجیہہ اور اسمارٹ تھا۔ اس نے مجھے گھر کے لان میں کئی مرتبہ دیکھا تھا، اور میری نظر بھی اس پر پڑی تھی لیکن میں نے کبھی خاص توجہ نہ دی۔ ایک دن میرے چھوٹے بھائی نے مجھے ایک خط لا کر دیا اور بتایا کہ یہ ان صاحب نے دیا ہے جو سامنے دفتر میں کام کرتے ہیں۔ مجھے پہلے تو بہت غصہ آیا، لیکن جب خط پڑھا تو اس میں محبت بھری باتیں لکھی تھیں۔ اس نے جواب کا تقاضا کیا تھا، مگر میں نے (باوجود چاہنے کے) جواب نہ دیا۔ دو دن بعد اس نے دوبارہ خط بھیجا۔ میری بہن نے مجھے منع بھی کیا، مگر میں نے چپکے سے خط کا جواب چھوٹے بھائی کے ہاتھ بھجوا دیا۔
یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔ ہمارے گھر میں کسی کو اس بارے میں علم نہ تھا۔ والدین اور بہن بھائی مجھ پر بہت بھروسہ کرتے تھے، وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ میں ایسا کچھ کر سکتی ہوں۔ کچھ عرصے بعد اس نے ملاقات کا اصرار شروع کر دیا۔ پہلے تو میں نہ مانی، مگر جب اس نے تین چار بار کہا تو میں راضی ہو گئی اور مقررہ وقت پر قریبی پارک پہنچ گئی جہاں وہ میرا منتظر تھا۔ صبح کا وقت تھا اس لیے زیادہ رش نہیں تھا، میں دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ کوئی دیکھ نہ لے۔
ہم کینٹین سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر ایک جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، تبھی اس نے اچانک شادی کا فیصلہ سنا دیا۔ میں گھبرا گئی۔ اس نے کہا کہ میں رشتہ بھیجوں گا، لیکن میں نے منع کر دیا۔ اس نے پوچھا: “کیا تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے؟” تو میں نے ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس نے کہا: “پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟” مگر میں بہت سہمی ہوئی تھی اور چاہتی تھی کہ جلد از جلد گھر واپس چلی جاؤں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم واپس آگئے۔
گھر پہنچ کر میں نے شکر ادا کیا کہ کسی کو خبر نہیں ہوئی، لیکن خوف کے مارے میرے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔ اگلے دن اس نے پھر خط لکھ کر شادی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جواب میں انکار کیا، مگر وہ مسلسل شادی اور دوبارہ ملاقات کے لیے بضد تھا اور لکھتا رہا کہ وہ کوئی ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔
اس وقت میں بالکل ناسمجھ تھی۔ جب دوبارہ اس سے پارک میں ملاقات ہوئی تو اس نے کورٹ میرج کی تجویز رکھی، جسے میں نے فوراً مسترد کر دیا۔ اس پر اس نے دوبارہ وہی محبت بھری باتیں شروع کر دیں اور باتوں ہی باتوں میں مجھ سے میرے آبائی گھر کا پتہ معلوم کر لیا۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر مارکیٹ آ گیا۔ وہاں ایک جگہ رک کر اس نے مجھے فوٹو اسٹوڈیو کے اندر آنے کو کہا۔ میرے انکار پر وہ ضد کرنے لگا؛ وہاں لوگوں کا کافی رش تھا اور میں تماشا نہیں بننا چاہتی تھی، اس لیے مجبوراً اس کے ساتھ اندر چلی گئی۔
اس نے فوٹو گرافر سے کہا: “ہم میاں بیوی ہیں، ہماری ایک اچھی سی تصویر بناؤ۔” میں حیرت زدہ کھڑی رہ گئی، وہ میرے ساتھ بیٹھا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ فوٹو گرافر نے فوراً تصویر کھینچ لی۔ یہ سب کچھ اتنی آنی فانی میں ہوا کہ میں حواس باختہ ہو گئی اور سمجھ نہ پائی کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ میں اس کے رویے پر سوچ میں ڈوبی تھی کہ وہ بولا: “یوں حیران مت ہو، ورنہ فوٹو گرافر شک کرے گا۔ یہ ہماری یادگار تصویر ہوگی۔”
میں اس خوف میں مبتلا تھی کہ کہیں وہ تصویر ابو یا بھائیوں تک نہ پہنچ جائے، اس لیے کئی روز تک لان میں نہ نکلی۔ پھر اس کا خط ملا جس میں لکھا تھا: “باہر کیوں نہیں آتیں؟ کیا ناراض ہو؟ اگر تم ایک بار مجھ سے مل لو تو میں وہ تصویر اور نیگیٹو تمہارے سامنے جلا دوں گا۔” یہ سوچ کر کہ تصویر کا قصہ ختم ہو جائے گا، میں اس سے ملنے چلی گئی۔ ہم ایک ہوٹل پہنچے ہی تھے کہ تھوڑی دیر بعد وہ ہوا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
دو پولیس والے وہاں پہنچ گئے اور ہم سے ہمارا رشتہ پوچھا۔ میرا تو خون خشک ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ہم میاں بیوی ہیں، جس پر پولیس نے نکاح نامہ طلب کیا۔ کاغذات نہ ہونے پر وہ ہمیں پکڑ کر تھانے لے گئے اور میرا پتہ پوچھا جو مجھے ناچار دینا پڑا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ گھر سے کسے بلوائیں، تو میں نے ابو کا نام لیا۔ پولیس کا ایک اہلکار سادہ کپڑوں میں ابو کے دفتر پہنچا اور انہیں سارا واقعہ سنایا۔ ابو نے کہا: “آپ کو کسی نے غلط بتایا ہے، میری بیٹی ایسا نہیں کر سکتی۔” لیکن جب پولیس والے نے میرا نام اور حلیہ بتایا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
وہ فوراً تھانے پہنچے اور مجھے وہاں دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ میں شرم کے مارے ان سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی، جی چاہتا تھا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔ انسپکٹر نے ابو کو بٹھایا اور مجید کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ وہ لڑکا ہے۔ پھر تھانے دار گویا ہوا: “لگتا ہے یہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، بہتر ہے آپ ان کی شادی کر دیں ورنہ بعد میں آپ کی عزت پر حرف آئے گا۔”
مجھے اس وقت کسی بات کا ہوش نہ تھا، بس ابو کے سامنے شدید ندامت تھی۔ پولیس انسپکٹر دراصل رقم بٹورنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم نے آپ کی عزت بچائی ہے، لہذا “فیس” بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ ابو نے پہلے تیس ہزار پیش کیے مگر وہ نہ مانا، آخر کار پچاس ہزار روپے دے کر پرچہ کٹنے سے بچایا گیا۔
ابو مجھے ساتھ لے کر گھر روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک جگہ گاڑی روکی اور روتے ہوئے پوچھا: “انیلا! یہ سب کیا ہے؟ تم نے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے کیا سوچا تھا؟ اللہ کا شکر ہے کہ پردہ رہ گیا، ورنہ میں تو جیتے جی مر جاتا۔” میں حیا سے مٹی ہو رہی تھی، میں نے انہیں تصویر اور خطوط کے بارے میں مختصر بتا دیا۔ ابو نے مجھ سے حلف لیا کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہوگی۔ اگلے دن مجید نے ایک استاد کے ذریعے رشتے کا پیغام بھیجا، مگر ابو نے سختی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بہت اصرار کیا کہ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے، لیکن ابو اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔
کچھ دنوں بعد مجید میرے کالج کے اسٹا پ پر آ گیا، جہاں میں روزانہ بس کا انتظار کرتی تھی۔ وہ میرے قریب آ کر کھڑا ہوا اور بات کرنا چاہی، لیکن میں خاموش رہی۔ تب اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا: “کل فلاں جگہ پہنچ جانا، مجھے ضروری بات کرنی ہے۔ اگر تم نہ آئیں تو میں تمہارے خطوط اور وہ تصویر تمہارے والد کو دکھا دوں گا۔” چونکہ ابو نے مجھے اس سے ملنے سے سختی سے منع کیا تھا، اس لیے میں نہ گئی۔
کچھ دن بعد وہ خود ابو کے دفتر پہنچ گیا اور معافی مانگنے لگا۔ اس نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن والد صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “ہمارا پیچھا چھوڑ دو، ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔” اس پر مجید کو بھی غصہ آ گیا اور اس نے جیب سے وہی تصویر نکال کر ابو کو دکھا دی۔ اس نے دھمکی دی: “آپ رشتہ قبول کر لیں، ورنہ یہ تصویر آپ کے آبائی گاؤں پہنچا دوں گا۔” میرے والد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور مجید وہاں سے بے نیل و مرام (ناکام) واپس آ گیا۔ شکر ہے کہ ابو نے یہ بات بڑی بہن کے علاوہ گھر میں کسی کو نہ بتائی، ورنہ سب مجھے ملامت کرتے۔
اس واقعے کے چند روز بعد مجید کا تبادلہ شورکوٹ ہو گیا، جس پر میں نے اور ابو نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ اس کے فوراً بعد ہم نے مکان بھی تبدیل کر لیا۔ ابو ہر وقت دعا کرتے رہتے: “اے رب! ہماری عزت محفوظ رکھنا۔” میں بھی رو رو کر دعائیں مانگتی کہ کاش وہ تمام خطوط، تصویر اور نیگیٹو معجزانہ طور پر جل کر راکھ ہو جائیں۔ خدا جانے مجید کیسا انسان تھا، لیکن ان چیزوں کے ذریعے اس نے جیسے ہماری جان اپنی مٹھی میں کر رکھی تھی۔ وہ جب چاہتا ہمیں تکلیف دے سکتا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ محبت ایسا جذبہ نہیں جو محبوب کو اذیت دے؛ جو لوگ ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں وہ محبت نہیں بلکہ بلیک میلنگ کرتے ہیں۔
میں آج بھی خوف کے سائے میں جی رہی ہوں۔ ہر سانس کے ساتھ یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کب مجید کا دماغ پھر جائے اور وہ میری اور میرے والد کی عزت مٹی میں ملا دے۔ جب کبھی کسی اچھے گھرانے سے رشتہ آتا ہے، تو میں اسی خوف سے انکار کر دیتی ہوں کہ شادی کے بعد اگر اسے پتہ چلا تو کیا ہوگا؟ اگر اس نے انتقاماً میرے شوہر کو وہ تصویر دکھا دی تو میری بستی بسائی اجڑ جائے گی۔ اس نے نہ تصویر واپس کی اور نہ خطوط لوٹائے۔ خدا جانے اس کے دل میں کیا تھا کہ اسے مجھ پر ذرا رحم نہ آیا۔ اسی وجہ سے میں آج زندگی کی حقیقی خوشیوں کو ترس رہی ہوں۔ اے کاش! اسے کبھی رحم آ جائے اور وہ میری تصویر، نیگیٹو اور خطوط واپس کر دے تاکہ میں سکون اور بے خوفی کے ساتھ اپنی زندگی جی سکوں۔
یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔ ہمارے گھر میں کسی کو اس بارے میں علم نہ تھا۔ والدین اور بہن بھائی مجھ پر بہت بھروسہ کرتے تھے، وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ میں ایسا کچھ کر سکتی ہوں۔ کچھ عرصے بعد اس نے ملاقات کا اصرار شروع کر دیا۔ پہلے تو میں نہ مانی، مگر جب اس نے تین چار بار کہا تو میں راضی ہو گئی اور مقررہ وقت پر قریبی پارک پہنچ گئی جہاں وہ میرا منتظر تھا۔ صبح کا وقت تھا اس لیے زیادہ رش نہیں تھا، میں دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ کوئی دیکھ نہ لے۔
ہم کینٹین سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے کر ایک جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، تبھی اس نے اچانک شادی کا فیصلہ سنا دیا۔ میں گھبرا گئی۔ اس نے کہا کہ میں رشتہ بھیجوں گا، لیکن میں نے منع کر دیا۔ اس نے پوچھا: “کیا تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے؟” تو میں نے ڈرتے ڈرتے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس نے کہا: “پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟” مگر میں بہت سہمی ہوئی تھی اور چاہتی تھی کہ جلد از جلد گھر واپس چلی جاؤں۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم واپس آگئے۔
گھر پہنچ کر میں نے شکر ادا کیا کہ کسی کو خبر نہیں ہوئی، لیکن خوف کے مارے میرے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔ اگلے دن اس نے پھر خط لکھ کر شادی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جواب میں انکار کیا، مگر وہ مسلسل شادی اور دوبارہ ملاقات کے لیے بضد تھا اور لکھتا رہا کہ وہ کوئی ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔
اس وقت میں بالکل ناسمجھ تھی۔ جب دوبارہ اس سے پارک میں ملاقات ہوئی تو اس نے کورٹ میرج کی تجویز رکھی، جسے میں نے فوراً مسترد کر دیا۔ اس پر اس نے دوبارہ وہی محبت بھری باتیں شروع کر دیں اور باتوں ہی باتوں میں مجھ سے میرے آبائی گھر کا پتہ معلوم کر لیا۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر مارکیٹ آ گیا۔ وہاں ایک جگہ رک کر اس نے مجھے فوٹو اسٹوڈیو کے اندر آنے کو کہا۔ میرے انکار پر وہ ضد کرنے لگا؛ وہاں لوگوں کا کافی رش تھا اور میں تماشا نہیں بننا چاہتی تھی، اس لیے مجبوراً اس کے ساتھ اندر چلی گئی۔
اس نے فوٹو گرافر سے کہا: “ہم میاں بیوی ہیں، ہماری ایک اچھی سی تصویر بناؤ۔” میں حیرت زدہ کھڑی رہ گئی، وہ میرے ساتھ بیٹھا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ فوٹو گرافر نے فوراً تصویر کھینچ لی۔ یہ سب کچھ اتنی آنی فانی میں ہوا کہ میں حواس باختہ ہو گئی اور سمجھ نہ پائی کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ میں اس کے رویے پر سوچ میں ڈوبی تھی کہ وہ بولا: “یوں حیران مت ہو، ورنہ فوٹو گرافر شک کرے گا۔ یہ ہماری یادگار تصویر ہوگی۔”
میں اس خوف میں مبتلا تھی کہ کہیں وہ تصویر ابو یا بھائیوں تک نہ پہنچ جائے، اس لیے کئی روز تک لان میں نہ نکلی۔ پھر اس کا خط ملا جس میں لکھا تھا: “باہر کیوں نہیں آتیں؟ کیا ناراض ہو؟ اگر تم ایک بار مجھ سے مل لو تو میں وہ تصویر اور نیگیٹو تمہارے سامنے جلا دوں گا۔” یہ سوچ کر کہ تصویر کا قصہ ختم ہو جائے گا، میں اس سے ملنے چلی گئی۔ ہم ایک ہوٹل پہنچے ہی تھے کہ تھوڑی دیر بعد وہ ہوا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
دو پولیس والے وہاں پہنچ گئے اور ہم سے ہمارا رشتہ پوچھا۔ میرا تو خون خشک ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ہم میاں بیوی ہیں، جس پر پولیس نے نکاح نامہ طلب کیا۔ کاغذات نہ ہونے پر وہ ہمیں پکڑ کر تھانے لے گئے اور میرا پتہ پوچھا جو مجھے ناچار دینا پڑا۔ جب انہوں نے پوچھا کہ گھر سے کسے بلوائیں، تو میں نے ابو کا نام لیا۔ پولیس کا ایک اہلکار سادہ کپڑوں میں ابو کے دفتر پہنچا اور انہیں سارا واقعہ سنایا۔ ابو نے کہا: “آپ کو کسی نے غلط بتایا ہے، میری بیٹی ایسا نہیں کر سکتی۔” لیکن جب پولیس والے نے میرا نام اور حلیہ بتایا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
وہ فوراً تھانے پہنچے اور مجھے وہاں دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ میں شرم کے مارے ان سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی، جی چاہتا تھا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔ انسپکٹر نے ابو کو بٹھایا اور مجید کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ وہ لڑکا ہے۔ پھر تھانے دار گویا ہوا: “لگتا ہے یہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، بہتر ہے آپ ان کی شادی کر دیں ورنہ بعد میں آپ کی عزت پر حرف آئے گا۔”
مجھے اس وقت کسی بات کا ہوش نہ تھا، بس ابو کے سامنے شدید ندامت تھی۔ پولیس انسپکٹر دراصل رقم بٹورنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم نے آپ کی عزت بچائی ہے، لہذا “فیس” بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ ابو نے پہلے تیس ہزار پیش کیے مگر وہ نہ مانا، آخر کار پچاس ہزار روپے دے کر پرچہ کٹنے سے بچایا گیا۔
ابو مجھے ساتھ لے کر گھر روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک جگہ گاڑی روکی اور روتے ہوئے پوچھا: “انیلا! یہ سب کیا ہے؟ تم نے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے کیا سوچا تھا؟ اللہ کا شکر ہے کہ پردہ رہ گیا، ورنہ میں تو جیتے جی مر جاتا۔” میں حیا سے مٹی ہو رہی تھی، میں نے انہیں تصویر اور خطوط کے بارے میں مختصر بتا دیا۔ ابو نے مجھ سے حلف لیا کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہوگی۔ اگلے دن مجید نے ایک استاد کے ذریعے رشتے کا پیغام بھیجا، مگر ابو نے سختی سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بہت اصرار کیا کہ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے، لیکن ابو اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔
کچھ دنوں بعد مجید میرے کالج کے اسٹا پ پر آ گیا، جہاں میں روزانہ بس کا انتظار کرتی تھی۔ وہ میرے قریب آ کر کھڑا ہوا اور بات کرنا چاہی، لیکن میں خاموش رہی۔ تب اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا: “کل فلاں جگہ پہنچ جانا، مجھے ضروری بات کرنی ہے۔ اگر تم نہ آئیں تو میں تمہارے خطوط اور وہ تصویر تمہارے والد کو دکھا دوں گا۔” چونکہ ابو نے مجھے اس سے ملنے سے سختی سے منع کیا تھا، اس لیے میں نہ گئی۔
کچھ دن بعد وہ خود ابو کے دفتر پہنچ گیا اور معافی مانگنے لگا۔ اس نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن والد صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “ہمارا پیچھا چھوڑ دو، ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔” اس پر مجید کو بھی غصہ آ گیا اور اس نے جیب سے وہی تصویر نکال کر ابو کو دکھا دی۔ اس نے دھمکی دی: “آپ رشتہ قبول کر لیں، ورنہ یہ تصویر آپ کے آبائی گاؤں پہنچا دوں گا۔” میرے والد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور مجید وہاں سے بے نیل و مرام (ناکام) واپس آ گیا۔ شکر ہے کہ ابو نے یہ بات بڑی بہن کے علاوہ گھر میں کسی کو نہ بتائی، ورنہ سب مجھے ملامت کرتے۔
اس واقعے کے چند روز بعد مجید کا تبادلہ شورکوٹ ہو گیا، جس پر میں نے اور ابو نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ اس کے فوراً بعد ہم نے مکان بھی تبدیل کر لیا۔ ابو ہر وقت دعا کرتے رہتے: “اے رب! ہماری عزت محفوظ رکھنا۔” میں بھی رو رو کر دعائیں مانگتی کہ کاش وہ تمام خطوط، تصویر اور نیگیٹو معجزانہ طور پر جل کر راکھ ہو جائیں۔ خدا جانے مجید کیسا انسان تھا، لیکن ان چیزوں کے ذریعے اس نے جیسے ہماری جان اپنی مٹھی میں کر رکھی تھی۔ وہ جب چاہتا ہمیں تکلیف دے سکتا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ محبت ایسا جذبہ نہیں جو محبوب کو اذیت دے؛ جو لوگ ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں وہ محبت نہیں بلکہ بلیک میلنگ کرتے ہیں۔
میں آج بھی خوف کے سائے میں جی رہی ہوں۔ ہر سانس کے ساتھ یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کب مجید کا دماغ پھر جائے اور وہ میری اور میرے والد کی عزت مٹی میں ملا دے۔ جب کبھی کسی اچھے گھرانے سے رشتہ آتا ہے، تو میں اسی خوف سے انکار کر دیتی ہوں کہ شادی کے بعد اگر اسے پتہ چلا تو کیا ہوگا؟ اگر اس نے انتقاماً میرے شوہر کو وہ تصویر دکھا دی تو میری بستی بسائی اجڑ جائے گی۔ اس نے نہ تصویر واپس کی اور نہ خطوط لوٹائے۔ خدا جانے اس کے دل میں کیا تھا کہ اسے مجھ پر ذرا رحم نہ آیا۔ اسی وجہ سے میں آج زندگی کی حقیقی خوشیوں کو ترس رہی ہوں۔ اے کاش! اسے کبھی رحم آ جائے اور وہ میری تصویر، نیگیٹو اور خطوط واپس کر دے تاکہ میں سکون اور بے خوفی کے ساتھ اپنی زندگی جی سکوں۔
(ختم شد)

