میرا
نام لیلیٰ ہے اور میرا تعلق آزاد کشمیر کے ایک خوشحال گھرانے سے ہے۔ والد
صاحب سرکاری افسر تھے اور بھائی طبی شعبے سے وابستہ تھے۔ اکلوتی ہونے کی
وجہ سے میں خاصی مغرور تھی اور ہر کام اپنی مرضی سے کرتی تھی۔ جب میں نے
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، تو خاندان بھر سے میرے لیے پیغامات آنے لگے،
جن میں اچھے اور اعلیٰ خاندانوں کے رشتے شامل تھے۔ تاہم، والد صاحب نے میرا
رشتہ بچپن میں ہی اپنے بھتیجے عدنان سے طے کر دیا تھا۔ چچا جان اچھا کما
لیتے تھے، مگر وہ ہمارے معیار کے مقابلے میں کچھ نہ تھے۔
عدنان تعلیم مکمل کرنے کے بعد آرمی جوائن کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ نہایت سلجھی ہوئی شخصیت کا مالک اور شریف لڑکا تھا، اسی لیے مجھے بھلا لگتا تھا۔ میں سوچا کرتی تھی کہ اس سادہ انسان کے ساتھ میری زندگی بہت اچھی گزرے گی، بھلا مجھے اس رشتے پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ مجھے عدنان سے محبت تھی اور ہمارے درمیان اکثر تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ میں اکثر سوچتی کہ کبھی اس نیک انسان سے بے وفائی نہیں کروں گی اور ہر حال و ہر مشکل میں اس کا ساتھ دوں گی۔
انہی دنوں میری خالہ جان امریکہ سے آئیں اور ان کے آتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ میری بربادی کی اصل کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ ان کا جوان بیٹا عامر بھی آیا تھا، جو کسی طور عدنان سے کم نہ تھا۔ وہ صورت و سیرت کے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب بھی تھا۔ ایک ہی محلے میں رہنے اور رشتہ دار ہونے کے ناتے اس کا ہمارے گھر کثرت سے آنا جانا شروع ہو گیا۔ ابو کو یہ بات پسند نہیں آئی، البتہ امی اب “آگے” کی سوچنے لگی تھیں۔ وہ کہتیں: “عدنان کے پاس ہے ہی کیا؟ وہ کچھ بھی کر لے عامر کی برابری نہیں کر سکتا۔ امریکہ کے ڈالروں نے اسے کروڑ پتی بنا دیا ہے، ہماری بیٹی وہاں جائے گی اور اگر نہ بھی گئی تو یہ دولت اسے یہاں راج کرائے گی۔ ہمیں اب ان باتوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔”
جب میں نے یہ باتیں سنیں تو میرے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھ گئی کہ عدنان کے مقابلے میں عامر کا رشتہ بہتر ہے۔ ماں نے ان کی امارت کا ایسا نقشہ کھینچا کہ میں جنت کے خواب دیکھنے لگی۔ اب میری جب بھی عدنان سے ملاقات ہوتی یا آمنا سامنا ہوتا، میں اسے نظر انداز کرتی اور نظریں چرانے لگتی۔ وہ اس رویے سے بے حد پریشان رہنے لگا اور چاہتا تھا کہ اس بے رخی کا سبب پوچھے، مگر میں اسے موقع ہی نہ دیتی تھی۔ ایک دن وہ میرے کالج آ گیا اور کہنے لگا: “لیلیٰ! پلیز کچھ تو بتاؤ، آخر اس اچانک تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟” میں نے سوچا کہ آج نہیں تو کل اسے پتا چلنا ہی ہے، چنانچہ میں نے صاف کہہ دیا: “تم میرے معیار پر پورے نہیں اترتے اور میں تمہارے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔”
انسان کی شخصیت عجیب خطوط پر استوار ہوتی ہے۔ جانور کی وفا کا بھروسہ کیا جا سکتا ہے مگر انسان کا نہیں۔ ہر آدمی کی طبیعت میں لالچ کا کچھ نہ کچھ عنصر ضرور ہوتا ہے؛ کوئی اس پر قابو پا لیتا ہے اور کوئی مغلوب ہو جاتا ہے۔ حرص انسان کے نفس کو ایسے جکڑ لیتی ہے جیسے شکاری شکار کو یا باز چڑیا کو۔ کس کے ساتھ بندھن باندھنے میں خیر ہے اور کس کے ساتھ نہیں، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔ انسان تو محض عقل کے پیچ لڑاتا ہے، اسی لیے کبھی کبھی وہ نادانی میں عذاب کا انتخاب کر بیٹھتا ہے۔ جو شے اسے بظاہر جنت نظر آتی ہے، درحقیقت وہ جہنم ہوتی ہے۔
عدنان نے مجھے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی اور قائل کرنا چاہا کہ “میں تمہارے لیے یہ کروں گا، وہ کروں گا”، لیکن میں نے اسے بری طرح ٹھکرا دیا۔ وہ کہتا رہا کہ میں خوب محنت کروں گا، عامر سے زیادہ دولت کماؤں گا اور تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا، مگر میری آنکھوں پر دولت کی پٹی بندھی تھی، اس کی کسی بات کا مجھ پر اثر نہ ہوا۔ پھر وہ زندہ دل اور ہمیشہ مسکرانے والا لڑکا میرے سامنے کسی بچے کی طرح رونے لگا، مگر ان آنسوؤں نے بھی میرے دل کو نہ پگھلایا۔
ایک بات بتاتی چلوں کہ اس سے قبل عامر بھی گاہے بگاہے مجھ سے محبت کا اظہار کرتا رہتا تھا اور میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھی تھی۔ مختصر یہ کہ چچی کی ناراضی مول لیتے ہوئے، امی کی پرزور کوششوں سے میری منگنی عامر کے ساتھ ہو گئی۔ گھر میں کچھ لوگ خوش تھے اور کچھ عدنان کی وجہ سے افسردہ، مگر امی کی تو جیسے عید ہو گئی تھی۔ اب سوچتی ہوں کہ شاید میری عمر ہی ایسی تھی کہ میں اپنے لیے بہتر فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ خاندان بھر میں یہی تذکرہ تھا کہ لیلیٰ کی امی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
خیر، منگنی کے چھ ماہ بعد میری اور عامر کی شادی ہو گئی۔ میں خوشی سے ہواؤں میں اڑنے لگی، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے یہ دنیا بنی ہی میرے لیے ہے، لیکن یہ سب محض ایک خواب تھا۔ جب آنکھ کھلی تو سارے سہانے منظر غائب ہو چکے تھے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں ہم بہت خوش تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ خوشیوں کے حصول کے لیے دولت کتنی اہمیت رکھتی ہے، پھر رفتہ رفتہ مجھ میں رعونت آنے لگی۔ غرور کے باعث باقی انسان میرے نزدیک مٹی کے کھلونوں کی مانند رہ گئے، یہاں تک کہ میں نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کی کہ بیچارے عدنان پر میری بے وفائی اور میری ماں کی طوطا چشمی کی وجہ سے کیا گزری۔
بیاہ کر کچھ عرصہ امریکہ میں رہی، مگر وہاں میرا دل نہ لگا۔ ماں باپ اور بہن بھائیوں کی جدائی ستاتی تھی، اس لیے میں اکثر عامر سے ضد کرتی کہ واپس چلیں، میرا جی یہاں نہیں لگتا۔ بمشکل ایک سال وہاں رہ سکی؛ میری اداسی اور رونا دھونا دیکھ کر آخر کار عامر مجھے پاکستان لے آئے۔ یہاں اپنوں میں آکر میں دوبارہ خوش و خرم رہنے لگی۔
بالآخر میرے اصرار پر عامر نے پاکستان ہی میں رہ کر کاروبار کرنے کا ارادہ کر لیا۔ شروع کے دو تین سال میں کافی سرمایہ ضائع ہوا کیونکہ انہیں یہاں کے کاروباری حالات کا تجربہ نہ تھا اور لوگ بھی مخلص نہیں تھے۔ قدم قدم پر دھوکا دہی کی وجہ سے بہت روپیہ ضائع ہوا، تب کہیں جا کر کاروبار جما اور آمدنی شروع ہوئی۔ اس دوران انہوں نے میرے لیے ایک شاندار کوٹھی لے لی تھی، جہاں نوکر چاکر اور عیش و عشرت کی ہر سہولت موجود تھی۔ زندگی کی اس چہل پہل میں مجھے کسی کے دکھ کا کوئی احساس نہ تھا۔ شادی کے ایک سال بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹے سے نوازا تو میں خوشیوں کے اڑن کھٹولے پر مزید اونچی اڑان بھرنے لگی۔ وقت پلک جھپکتے گزر گیا اور اگلے سال میں ایک بیٹی کی ماں بن گئی۔
اب میرا رویہ نوکروں کے ساتھ ہتک آمیز ہو گیا تھا۔ کام میں ذرا سی دیر یا معمولی غلطی پر میں ان پر برس پڑتی۔ اپنے بچوں کے معاملے میں ان کی ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کرتی تھی اور اکثر سزا کے طور پر انہیں کھانا نہیں دیتی تھی یا گھنٹوں دھوپ میں کھڑا کر دیتی تھی۔ عامر مجھے سمجھاتے تھے: “لیلیٰ! ایسا نہ کیا کرو۔ خدا جانے ہمیں یہ سب کس کے نصیب سے مل رہا ہے؟ ایسا نہ ہو کہ دینے والا ناراض ہو جائے۔” تب میں غرور سے کہتی: “کسی کا نصیب کسی کو نہیں ملتا، میرا اپنا نصیب اچھا ہے کہ مجھے یہ سب ملا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم ملے ہو، ورنہ اگر میری شادی کسی اور (عدنان) سے ہوئی ہوتی تو مجھے کیا ملتا؟” مجھے کیا پتا تھا کہ نصیب سدا ایک جیسا نہیں رہتا، ورنہ میں غرور کے ایسے کلمات کبھی نہ بولتی۔ نجانے اللہ کو میری کون سی بات بری لگی کہ میں ایسی بدقسمتی کے بھنور میں پھنسی کہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی۔
ہوا یوں کہ ہماری شادی کے چند سال بعد ہی عامر ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنی دونوں ٹانگیں اور آنکھیں گنوا بیٹھے۔ سب جانتے ہیں کہ جب کاروبار ملازموں کے رحم و کرم پر آ جائے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو انجام کیا ہوتا ہے۔ میں ایک گھریلو لڑکی تھی اور کاروباری معاملات سے بالکل ناواقف تھی، اس لیے میں ان کا کام نہ سنبھال سکی۔ خالہ اور خالو ان دنوں اپنے دیگر بچوں کے ہمراہ امریکہ میں تھے۔ ہمارا مینیجر، جو بظاہر ہمارا ہمدرد بنا ہوا تھا، اس نے ہمیں لاکھوں کا نقصان پہنچایا۔ میں اس کی چالاکیاں نہ سمجھ سکی، یہاں تک کہ جب ابو جان اسے چیک کرنے کی کوشش کرتے تو میں آڑے آ جاتی کہ “ابو! یہ بہت شریف آدمی ہیں، آپ انہیں کچھ نہ کہیں۔” یوں وقت گزرنے کے ساتھ مینیجر کی گرفت مضبوط ہوتی گئی اور ہمیں تب پتا چلا جب ہم بینک کے کروڑوں کے مقروض ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ گھر اور کاروبار سب کچھ نیلام ہو گیا۔ تب میں اپنے معذور شوہر کے ساتھ ابوجان کے گھر منتقل ہو گئی۔
انہی دنوں بدقسمتی سے خالو جان کو ہارٹ اٹیک ہوا تو ساس بھی پاکستان آ کر یہیں رہنے لگیں۔ خالہ جان اب کافی بدل چکی تھیں اور بیٹے کا حال دیکھ کر انہیں جیسے چپ لگ گئی تھی۔ اب سب کچھ ابو ہی سنبھال رہے تھے، جنہیں اپنا کاروبار اور کنبہ بھی دیکھنا ہوتا تھا۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور چھ برس گزر گئے۔ حادثے میں عامر کی بینائی تو چلی ہی گئی تھی، اب ان کی عام صحت بھی گرنے لگی۔ کوئی بیماری انہیں اندر ہی اندر جکڑ رہی تھی اور وہ صرف دواؤں کے سہارے جی رہے تھے۔ شاید ان دواؤں کا ردِ عمل تھا یا کوئی اندرونی چوٹ، جو وقت کے ساتھ ساتھ کینسر میں بدل گئی۔ آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب وہ گلے کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے اور میں بیوگی کی چادر اوڑھ کر گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ جو بھی مجھے دیکھتا، میری حالت پر ترس کھاتا۔ بھائی نے بہت سمجھایا کہ دوسری شادی کر لو اور اپنی زندگی اور جوانی کو یوں مٹی میں نہ ملاؤ، مگر میں نے صاف انکار کر دیا۔
اب تنہائی کے لمحوں میں اکثر عدنان کا خیال آتا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ اس کا دل توڑ کر آخر میں نے کیا پایا؟ محض چند سالوں کا عارضی آرام اور آسائش! اب تپتے ہوئے دن، سیاہ طویل راتیں اور میرے رت جگے تھے۔ میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ مجھے یہ دن دیکھنا پڑیں گے۔ اب جب اپنا ماضی کا غرور یاد آتا، تو میں بے بسی سے سر جھکا دیتی۔ مجھے یاد آتا کہ جب میرا نصیب عروج پر تھا، تو میں نے کس کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔ خاص طور پر عدنان کی یاد تڑپاتی، جس کے ساتھ میں نے وفاکے عہد و پیمان باندھے اور پھر اچانک بے وفائی کی راہ اپنا لی۔ اس کے دل پر جو گزری سو گزری، لیکن مجھے آج بھی اس کی وفا پر اعتبار تھا اور اس کا انتظار بھی۔ مجھے علم تھا کہ اس نے میری خاطر ابھی تک شادی نہیں کی، اور سچ تو یہ ہے کہ میرا من کہتا تھا کہ اس کے دل میں آج بھی میری جگہ برقرار ہے۔ وہ اب بھی مجھے چاہتا ہے، اور میرا یہ اندازہ غلط نہ تھا۔
اہلِ خانہ کے اصرار پر اب میں نے خاندان کی تقریبات میں شرکت کرنا شروع کر دی تھی، جہاں عدنان سے بھی علیک سلیک ہونے لگی۔ ایک دن ہمارا آمنا سامنا ہوا تو میں نے پوچھ لیا: “عدنان! تم تو ماشاء اللہ اب ایک بڑے آفیسر ہو، تم شادی کیوں نہیں کر لیتے؟” اس نے جواب دیا: “لیلیٰ! میں نے تمہارا بہت انتظار کیا، مگر تم میرے جذبات کو نہ سمجھ سکیں اور دولت کی خاطر مجھ سے منہ پھیر لیا۔ تمہیں اگر دولت کی اتنی ہی خواہش تھی، تو تمہیں یاد ہوگا کہ میں نے تمہاری ہر فرمائش پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر تم نے میری وفا کو محض دولت کے ترازو میں تولا۔ میں پچھلے آٹھ سال سے جس آگ میں جلا ہوں، اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ اب کچھ عرصہ تم بھی اس جدائی کی تپش کو محسوس کرو تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ ہجر کی آگ انسان کو کیسے جھلساتی ہے۔ میں تمہارے پاس ضرور لوٹ کر آؤں گا، لیکن کچھ عرصے بعد۔”
یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں چاہتی تو اس کا انتظار نہ کرتی، مگر میں اب دوبارہ اس کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ جس کی بے لوث محبت کو میں نے اور امی جان نے دولت کے ترازو میں تولا تھا، خدا گواہ ہے کہ وہ بے وفائی کا نہیں بلکہ سچی محبت ہی کا حق دار تھا۔
اب میں انتظار کے باقی دن اسی امید پر گزار رہی ہوں کہ کسی نہ کسی دن وہ میرا ہاتھ تھامنے ضرور آئے گا۔ چاہے میں بوڑھی ہی کیوں نہ ہو جاؤں، میں اس کا انتظار کرتی رہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا وعدہ نبھائے گا اور لوٹ آئے گا، کیونکہ وہ بے وفا نہیں ہے۔ اب میں بھی اس سے مرتے دم تک وفا کروں گی، کیونکہ میرا نام ‘لیلیٰ’ ہے۔
عدنان تعلیم مکمل کرنے کے بعد آرمی جوائن کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ نہایت سلجھی ہوئی شخصیت کا مالک اور شریف لڑکا تھا، اسی لیے مجھے بھلا لگتا تھا۔ میں سوچا کرتی تھی کہ اس سادہ انسان کے ساتھ میری زندگی بہت اچھی گزرے گی، بھلا مجھے اس رشتے پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ مجھے عدنان سے محبت تھی اور ہمارے درمیان اکثر تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ میں اکثر سوچتی کہ کبھی اس نیک انسان سے بے وفائی نہیں کروں گی اور ہر حال و ہر مشکل میں اس کا ساتھ دوں گی۔
انہی دنوں میری خالہ جان امریکہ سے آئیں اور ان کے آتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ میری بربادی کی اصل کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ ان کا جوان بیٹا عامر بھی آیا تھا، جو کسی طور عدنان سے کم نہ تھا۔ وہ صورت و سیرت کے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب بھی تھا۔ ایک ہی محلے میں رہنے اور رشتہ دار ہونے کے ناتے اس کا ہمارے گھر کثرت سے آنا جانا شروع ہو گیا۔ ابو کو یہ بات پسند نہیں آئی، البتہ امی اب “آگے” کی سوچنے لگی تھیں۔ وہ کہتیں: “عدنان کے پاس ہے ہی کیا؟ وہ کچھ بھی کر لے عامر کی برابری نہیں کر سکتا۔ امریکہ کے ڈالروں نے اسے کروڑ پتی بنا دیا ہے، ہماری بیٹی وہاں جائے گی اور اگر نہ بھی گئی تو یہ دولت اسے یہاں راج کرائے گی۔ ہمیں اب ان باتوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔”
جب میں نے یہ باتیں سنیں تو میرے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھ گئی کہ عدنان کے مقابلے میں عامر کا رشتہ بہتر ہے۔ ماں نے ان کی امارت کا ایسا نقشہ کھینچا کہ میں جنت کے خواب دیکھنے لگی۔ اب میری جب بھی عدنان سے ملاقات ہوتی یا آمنا سامنا ہوتا، میں اسے نظر انداز کرتی اور نظریں چرانے لگتی۔ وہ اس رویے سے بے حد پریشان رہنے لگا اور چاہتا تھا کہ اس بے رخی کا سبب پوچھے، مگر میں اسے موقع ہی نہ دیتی تھی۔ ایک دن وہ میرے کالج آ گیا اور کہنے لگا: “لیلیٰ! پلیز کچھ تو بتاؤ، آخر اس اچانک تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟” میں نے سوچا کہ آج نہیں تو کل اسے پتا چلنا ہی ہے، چنانچہ میں نے صاف کہہ دیا: “تم میرے معیار پر پورے نہیں اترتے اور میں تمہارے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔”
انسان کی شخصیت عجیب خطوط پر استوار ہوتی ہے۔ جانور کی وفا کا بھروسہ کیا جا سکتا ہے مگر انسان کا نہیں۔ ہر آدمی کی طبیعت میں لالچ کا کچھ نہ کچھ عنصر ضرور ہوتا ہے؛ کوئی اس پر قابو پا لیتا ہے اور کوئی مغلوب ہو جاتا ہے۔ حرص انسان کے نفس کو ایسے جکڑ لیتی ہے جیسے شکاری شکار کو یا باز چڑیا کو۔ کس کے ساتھ بندھن باندھنے میں خیر ہے اور کس کے ساتھ نہیں، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔ انسان تو محض عقل کے پیچ لڑاتا ہے، اسی لیے کبھی کبھی وہ نادانی میں عذاب کا انتخاب کر بیٹھتا ہے۔ جو شے اسے بظاہر جنت نظر آتی ہے، درحقیقت وہ جہنم ہوتی ہے۔
عدنان نے مجھے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی اور قائل کرنا چاہا کہ “میں تمہارے لیے یہ کروں گا، وہ کروں گا”، لیکن میں نے اسے بری طرح ٹھکرا دیا۔ وہ کہتا رہا کہ میں خوب محنت کروں گا، عامر سے زیادہ دولت کماؤں گا اور تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا، مگر میری آنکھوں پر دولت کی پٹی بندھی تھی، اس کی کسی بات کا مجھ پر اثر نہ ہوا۔ پھر وہ زندہ دل اور ہمیشہ مسکرانے والا لڑکا میرے سامنے کسی بچے کی طرح رونے لگا، مگر ان آنسوؤں نے بھی میرے دل کو نہ پگھلایا۔
ایک بات بتاتی چلوں کہ اس سے قبل عامر بھی گاہے بگاہے مجھ سے محبت کا اظہار کرتا رہتا تھا اور میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھی تھی۔ مختصر یہ کہ چچی کی ناراضی مول لیتے ہوئے، امی کی پرزور کوششوں سے میری منگنی عامر کے ساتھ ہو گئی۔ گھر میں کچھ لوگ خوش تھے اور کچھ عدنان کی وجہ سے افسردہ، مگر امی کی تو جیسے عید ہو گئی تھی۔ اب سوچتی ہوں کہ شاید میری عمر ہی ایسی تھی کہ میں اپنے لیے بہتر فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ خاندان بھر میں یہی تذکرہ تھا کہ لیلیٰ کی امی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
خیر، منگنی کے چھ ماہ بعد میری اور عامر کی شادی ہو گئی۔ میں خوشی سے ہواؤں میں اڑنے لگی، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے یہ دنیا بنی ہی میرے لیے ہے، لیکن یہ سب محض ایک خواب تھا۔ جب آنکھ کھلی تو سارے سہانے منظر غائب ہو چکے تھے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں ہم بہت خوش تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ خوشیوں کے حصول کے لیے دولت کتنی اہمیت رکھتی ہے، پھر رفتہ رفتہ مجھ میں رعونت آنے لگی۔ غرور کے باعث باقی انسان میرے نزدیک مٹی کے کھلونوں کی مانند رہ گئے، یہاں تک کہ میں نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہ کی کہ بیچارے عدنان پر میری بے وفائی اور میری ماں کی طوطا چشمی کی وجہ سے کیا گزری۔
بیاہ کر کچھ عرصہ امریکہ میں رہی، مگر وہاں میرا دل نہ لگا۔ ماں باپ اور بہن بھائیوں کی جدائی ستاتی تھی، اس لیے میں اکثر عامر سے ضد کرتی کہ واپس چلیں، میرا جی یہاں نہیں لگتا۔ بمشکل ایک سال وہاں رہ سکی؛ میری اداسی اور رونا دھونا دیکھ کر آخر کار عامر مجھے پاکستان لے آئے۔ یہاں اپنوں میں آکر میں دوبارہ خوش و خرم رہنے لگی۔
بالآخر میرے اصرار پر عامر نے پاکستان ہی میں رہ کر کاروبار کرنے کا ارادہ کر لیا۔ شروع کے دو تین سال میں کافی سرمایہ ضائع ہوا کیونکہ انہیں یہاں کے کاروباری حالات کا تجربہ نہ تھا اور لوگ بھی مخلص نہیں تھے۔ قدم قدم پر دھوکا دہی کی وجہ سے بہت روپیہ ضائع ہوا، تب کہیں جا کر کاروبار جما اور آمدنی شروع ہوئی۔ اس دوران انہوں نے میرے لیے ایک شاندار کوٹھی لے لی تھی، جہاں نوکر چاکر اور عیش و عشرت کی ہر سہولت موجود تھی۔ زندگی کی اس چہل پہل میں مجھے کسی کے دکھ کا کوئی احساس نہ تھا۔ شادی کے ایک سال بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹے سے نوازا تو میں خوشیوں کے اڑن کھٹولے پر مزید اونچی اڑان بھرنے لگی۔ وقت پلک جھپکتے گزر گیا اور اگلے سال میں ایک بیٹی کی ماں بن گئی۔
اب میرا رویہ نوکروں کے ساتھ ہتک آمیز ہو گیا تھا۔ کام میں ذرا سی دیر یا معمولی غلطی پر میں ان پر برس پڑتی۔ اپنے بچوں کے معاملے میں ان کی ذرا سی کوتاہی بھی برداشت نہیں کرتی تھی اور اکثر سزا کے طور پر انہیں کھانا نہیں دیتی تھی یا گھنٹوں دھوپ میں کھڑا کر دیتی تھی۔ عامر مجھے سمجھاتے تھے: “لیلیٰ! ایسا نہ کیا کرو۔ خدا جانے ہمیں یہ سب کس کے نصیب سے مل رہا ہے؟ ایسا نہ ہو کہ دینے والا ناراض ہو جائے۔” تب میں غرور سے کہتی: “کسی کا نصیب کسی کو نہیں ملتا، میرا اپنا نصیب اچھا ہے کہ مجھے یہ سب ملا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم ملے ہو، ورنہ اگر میری شادی کسی اور (عدنان) سے ہوئی ہوتی تو مجھے کیا ملتا؟” مجھے کیا پتا تھا کہ نصیب سدا ایک جیسا نہیں رہتا، ورنہ میں غرور کے ایسے کلمات کبھی نہ بولتی۔ نجانے اللہ کو میری کون سی بات بری لگی کہ میں ایسی بدقسمتی کے بھنور میں پھنسی کہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی۔
ہوا یوں کہ ہماری شادی کے چند سال بعد ہی عامر ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنی دونوں ٹانگیں اور آنکھیں گنوا بیٹھے۔ سب جانتے ہیں کہ جب کاروبار ملازموں کے رحم و کرم پر آ جائے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو انجام کیا ہوتا ہے۔ میں ایک گھریلو لڑکی تھی اور کاروباری معاملات سے بالکل ناواقف تھی، اس لیے میں ان کا کام نہ سنبھال سکی۔ خالہ اور خالو ان دنوں اپنے دیگر بچوں کے ہمراہ امریکہ میں تھے۔ ہمارا مینیجر، جو بظاہر ہمارا ہمدرد بنا ہوا تھا، اس نے ہمیں لاکھوں کا نقصان پہنچایا۔ میں اس کی چالاکیاں نہ سمجھ سکی، یہاں تک کہ جب ابو جان اسے چیک کرنے کی کوشش کرتے تو میں آڑے آ جاتی کہ “ابو! یہ بہت شریف آدمی ہیں، آپ انہیں کچھ نہ کہیں۔” یوں وقت گزرنے کے ساتھ مینیجر کی گرفت مضبوط ہوتی گئی اور ہمیں تب پتا چلا جب ہم بینک کے کروڑوں کے مقروض ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ گھر اور کاروبار سب کچھ نیلام ہو گیا۔ تب میں اپنے معذور شوہر کے ساتھ ابوجان کے گھر منتقل ہو گئی۔
انہی دنوں بدقسمتی سے خالو جان کو ہارٹ اٹیک ہوا تو ساس بھی پاکستان آ کر یہیں رہنے لگیں۔ خالہ جان اب کافی بدل چکی تھیں اور بیٹے کا حال دیکھ کر انہیں جیسے چپ لگ گئی تھی۔ اب سب کچھ ابو ہی سنبھال رہے تھے، جنہیں اپنا کاروبار اور کنبہ بھی دیکھنا ہوتا تھا۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور چھ برس گزر گئے۔ حادثے میں عامر کی بینائی تو چلی ہی گئی تھی، اب ان کی عام صحت بھی گرنے لگی۔ کوئی بیماری انہیں اندر ہی اندر جکڑ رہی تھی اور وہ صرف دواؤں کے سہارے جی رہے تھے۔ شاید ان دواؤں کا ردِ عمل تھا یا کوئی اندرونی چوٹ، جو وقت کے ساتھ ساتھ کینسر میں بدل گئی۔ آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب وہ گلے کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے اور میں بیوگی کی چادر اوڑھ کر گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ جو بھی مجھے دیکھتا، میری حالت پر ترس کھاتا۔ بھائی نے بہت سمجھایا کہ دوسری شادی کر لو اور اپنی زندگی اور جوانی کو یوں مٹی میں نہ ملاؤ، مگر میں نے صاف انکار کر دیا۔
اب تنہائی کے لمحوں میں اکثر عدنان کا خیال آتا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ اس کا دل توڑ کر آخر میں نے کیا پایا؟ محض چند سالوں کا عارضی آرام اور آسائش! اب تپتے ہوئے دن، سیاہ طویل راتیں اور میرے رت جگے تھے۔ میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ مجھے یہ دن دیکھنا پڑیں گے۔ اب جب اپنا ماضی کا غرور یاد آتا، تو میں بے بسی سے سر جھکا دیتی۔ مجھے یاد آتا کہ جب میرا نصیب عروج پر تھا، تو میں نے کس کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔ خاص طور پر عدنان کی یاد تڑپاتی، جس کے ساتھ میں نے وفاکے عہد و پیمان باندھے اور پھر اچانک بے وفائی کی راہ اپنا لی۔ اس کے دل پر جو گزری سو گزری، لیکن مجھے آج بھی اس کی وفا پر اعتبار تھا اور اس کا انتظار بھی۔ مجھے علم تھا کہ اس نے میری خاطر ابھی تک شادی نہیں کی، اور سچ تو یہ ہے کہ میرا من کہتا تھا کہ اس کے دل میں آج بھی میری جگہ برقرار ہے۔ وہ اب بھی مجھے چاہتا ہے، اور میرا یہ اندازہ غلط نہ تھا۔
اہلِ خانہ کے اصرار پر اب میں نے خاندان کی تقریبات میں شرکت کرنا شروع کر دی تھی، جہاں عدنان سے بھی علیک سلیک ہونے لگی۔ ایک دن ہمارا آمنا سامنا ہوا تو میں نے پوچھ لیا: “عدنان! تم تو ماشاء اللہ اب ایک بڑے آفیسر ہو، تم شادی کیوں نہیں کر لیتے؟” اس نے جواب دیا: “لیلیٰ! میں نے تمہارا بہت انتظار کیا، مگر تم میرے جذبات کو نہ سمجھ سکیں اور دولت کی خاطر مجھ سے منہ پھیر لیا۔ تمہیں اگر دولت کی اتنی ہی خواہش تھی، تو تمہیں یاد ہوگا کہ میں نے تمہاری ہر فرمائش پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر تم نے میری وفا کو محض دولت کے ترازو میں تولا۔ میں پچھلے آٹھ سال سے جس آگ میں جلا ہوں، اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ اب کچھ عرصہ تم بھی اس جدائی کی تپش کو محسوس کرو تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ ہجر کی آگ انسان کو کیسے جھلساتی ہے۔ میں تمہارے پاس ضرور لوٹ کر آؤں گا، لیکن کچھ عرصے بعد۔”
یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں چاہتی تو اس کا انتظار نہ کرتی، مگر میں اب دوبارہ اس کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ جس کی بے لوث محبت کو میں نے اور امی جان نے دولت کے ترازو میں تولا تھا، خدا گواہ ہے کہ وہ بے وفائی کا نہیں بلکہ سچی محبت ہی کا حق دار تھا۔
اب میں انتظار کے باقی دن اسی امید پر گزار رہی ہوں کہ کسی نہ کسی دن وہ میرا ہاتھ تھامنے ضرور آئے گا۔ چاہے میں بوڑھی ہی کیوں نہ ہو جاؤں، میں اس کا انتظار کرتی رہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا وعدہ نبھائے گا اور لوٹ آئے گا، کیونکہ وہ بے وفا نہیں ہے۔ اب میں بھی اس سے مرتے دم تک وفا کروں گی، کیونکہ میرا نام ‘لیلیٰ’ ہے۔
(ختم شد)

