جب سے ہوش سنبھالا، شرارتوں میں دل لگ گیا۔ کتابوں سے بھاگتی تھی، اسکول میں بھی تعلیمی پوزیشن بہتر نہ تھی۔ امی کہتیں، “خدا جانے اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے جو دل لگا کر پڑھتی ہی نہیں”۔ ابو جان کافی عرصے سے سعودی عرب میں تھے، وہاں ان کا کاروبار تھا۔ ہم بچے امی جان کی نگرانی میں پرورش پا رہے تھے۔ میرا پانچویں جماعت کا امتحان تھا۔ امی کو بے حد فکر تھی کہ یہ پڑھتی نہیں ہے، ضرور فیل ہو گی؛ تب انہوں نے شکیب کے ذمے یہ کام لگا دیا کہ وہ شام کو ایک دو گھنٹے مجھے اور دوسرے بچوں کو پڑھائے۔
شکیب رشتے میں ہمارا کزن لگتا تھا۔ وہ اس بات پر رضا مند ہو گیا۔ ان دنوں اس کی عمر اٹھارہ سال تھی اور میں بمشکل بارہ برس کی تھی۔ ماشاء اللہ میری صحت قابلِ رشک تھی، اس لیے میں سولہ برس کی لگتی تھی۔ خیالات بھی جلد ہی آسمان تک پرواز کرنے لگے۔ شکیب سے گھر کے تمام بچے دلچسپی کے ساتھ پڑھ رہے تھے، لیکن میں پڑھائی میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی تھی۔ پڑوس میں میری ایک سہیلی بنی ہوئی تھی جس کا نام کوکب تھا۔ وہ مجھ سے چار سال بڑی تھی لیکن اسکول نہیں جاتی تھی۔ اس نے پانچویں جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی اور اب گھر میں بور ہوتی تھی۔ وہ اکثر مجھے بلا لیتی اور کبھی خود آ جاتی تھی۔ جب سے اسے پتا چلا کہ میرا کزن ہمیں پڑھانے آتا ہے، اسے تجسس لگ گیا۔ وہ ہر وقت پوچھتی کہ “وہ کیسا ہے؟ تم سے باتیں کرتا ہے؟ کیا باتیں کرتا ہے؟ ایسی ویسی باتیں تو نہیں کرتا؟” اس کی اپنی طبیعت ہی ایسی تھی، اس لیے خیالات بھی بھٹکے ہوئے تھے۔ اسے گھر میں اکیلے گھٹن ہوتی تھی، تبھی ہماری طرف رخ کرتی۔
اس نے مجھے “ایسی ویسی” باتوں کا مطلب سمجھانا شروع کر دیا اور جو کچھ خود نہ کر سکتی تھی، مجھے سکھانے لگی۔ کبھی رومانوی اشعار لکھ دیتی کہ “جب شکیب تمہیں کاپی پر ہوم ورک دے تو یہ شعر لکھ دینا” اور کبھی سمجھاتی کہ ایک بات کے دو مطلب بھی ہوتے ہیں، کچھ ایسی باتیں سیکھ لو۔ شروع میں میرا ذہن پراگندہ رہنے لگا۔ ایک تو مجھے پڑھائی سے بخار چڑھتا تھا، دوسرے کوکب میری جان کو آ گئی۔ میں تنگ آ کر اسے کہتی، “ارے مدھو بالا! تو خود آ کر شکیب سے پڑھ لے، مجھے کیوں خوار کرنا چاہتی ہے؟ وہ بے چارہ معصوم سا لڑکا ہے، کہیں امی جان سے میری شکایت نہ کر دے”۔ آپ حیران نہ ہوں، میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ٹین ایج کی لڑکیاں اکثر ایسے رویے اپناتی ہیں اور اسی قسم کی باتیں سوچتی ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے جس سے والدین اکثر غافل ہوتے ہیں، حالانکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں آگے چل کر بڑے مسائل پیدا کرتی ہیں۔
جو اشارے مجھے کوکب نے سکھائے تھے، اب میں نے ان سے کام لینا شروع کر دیا۔ مثلاً شکیب مجھے پڑھا رہا ہوتا تو میں اچانک بیچ میں بول پڑتی، “آپ کتنے اچھے ہیں، کل کیوں نہیں آئے؟ اف! کیا بتاؤں مجھے کتنی پریشانی ہوئی، آپ کا بہت انتظار کیا”۔ وہ جواب دیتا، “پڑھتی تو ہو نہیں، پھر پریشانی کیوں ہوتی ہے اور انتظار کس بات کا؟” میں کہتی، “میں نے سوچا کہیں آپ کو بخار نہ ہو گیا ہو، بس اسی بات سے پریشانی ہو گئی تھی”۔ وہ کہتا، “بخار تو تمہیں کتاب دیکھ کر چڑھتا ہے۔ پڑھنے سے جی چراتی ہو، دیکھو اگر تم نہیں پڑھو گی تو پچھلے سال کی طرح فیل ہو جاؤ گی۔ اب تک دو سال سے پانچویں میں ہو، یہ بڑے شرم کی بات ہے”۔ اس کی نصیحتیں شروع ہو جاتیں اور مجھے نیند آنے لگتی؛ میں منہ پھاڑ پھاڑ کر جمائیاں لینے لگتی تو وہ مایوس ہو جاتا۔ وہ نیک نیت تھا اور میری امی کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔ مسلسل کوششیں انسان کو کامیابی سے ہمکنار کر دیتی ہیں۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ اس کے دل میں میرے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہو چکا ہے، مگر وہ اس کا اظہار کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ ایک غریب لڑکا تھا۔ امی جان اسے ٹیوشن فیس کے طور پر کافی رقم دیتی تھیں جس سے وہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا۔ یہ رقم اس کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں تھی، وہ بھلا اتنی اچھی آمدنی کو ہاتھ سے کیوں جانے دیتا؟
دو سال تک شکیب ہمارے گھر بچوں کو پڑھانے آتا رہا۔ اب میں مزید خوبصورت اور قد آور ہو گئی تھی۔ میری ماں کے سلیقے کی شہرت تھی، اس لیے میرے لیے رشتے آنے لگے۔ لوگوں کو پتا تھا کہ ماں سلیقہ مند ہے اور والدین جہیز میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ خاندان کے ہر گھر کی خواہش تھی کہ میں ہی ان کے گھر کی بہو بنوں، چنانچہ کافی رشتے آئے۔ اسی دوران ایک خاتون جو شادیاں کرواتی تھی، امی کے پاس آئی اور بتایا کہ “ایک رشتہ میری نظر میں ہے۔ لڑکا پڑھا لکھا اور ہنرمند ہے، دولت مند لوگ ہیں اور لاہور میں بزنس ہے۔ اگر تم رضا مند ہو جاؤ تو تمہاری بیٹی ساری زندگی عیش کرے گی”۔ ان دنوں شکیب ملتان چلا گیا تھا جہاں اسے امتحانات دینے تھے۔ گھر والوں کے پاس اس کا نیا پتا نہیں تھا، لہٰذا امی جان اسے میری شادی کا کارڈ نہ بھیج سکیں جس کا انہیں بے حد دکھ تھا۔ خیر، گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا۔
میری شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ میں اور نجیب بالآخر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ کچھ دن تو خوشی میں گزرے، لیکن پھر تلخ حقیقتیں سامنے آنے لگیں۔ بزنس کا اصل مالک نجیب کا بڑا بھائی تھا اور اسی کی کمائی پر پورے خاندان کا گزارہ تھا۔ نجیب کو کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے بزنس سے یہ کہہ کر علیحدہ کر دیا کہ “اب اپنا کماؤ اور اپنا کھاؤ”۔ ان کی کپڑے کی دکانیں لاہور کے مشہور بازار میں تھیں، جہاں سے لاکھوں کی آمدنی ہوتی تھی۔ نجیب کو ہر ماہ ایک معقول رقم (وظیفہ) ملتی تھی، جبکہ مکان اور گاڑیاں ان کے والد صاحب کے تصرف میں تھیں۔
شروع میں تمام گھر والے مجھے بہت چاہتے تھے۔ ساس تو بالکل بیٹیوں جیسا سمجھتی تھیں۔ جب گھر میں مہمان آتے تو مجھے بڑی خوشی ہوتی، میں ان کی خاطر تواضع کرتی اور ان سے خوب باتیں کرتی۔ لیکن رفتہ رفتہ ساس کا رویہ بدلنے لگا۔ وہ کہنے لگیں، “آخر کب تک بڑا بھائی کمائے گا اور چھوٹا بیٹھا کھائے گا؟ اب نجیب کو خود کمانا چاہیے”۔ میں نے ایک روز کہا، “امی جان! آپ ان کو بھی کوئی کاروبار سیٹ کروا دیں تاکہ یہ بھی کمانے لگیں”۔ وہ کہنے لگیں، “ہم چلتے ہوئے کاروبار سے سرمایہ نہیں نکال سکتے۔ ہم نجیب کو صرف دکان دے سکتے ہیں، تم اپنے والدین سے کہو کہ وہ سرمایہ لگا کر دکان سیٹ کر دیں تاکہ یہ کمانے لگے۔ اس کی کمائی تمہارے ہی کام آئے گی، ہم اس میں سے کچھ نہیں لیں گے”۔
یہ سن کر میں پریشان ہو گئی۔ میری امی نے ان لوگوں کو امیر سمجھ کر میرا رشتہ دیا تھا، کیا خبر تھی کہ یہ سرمایہ بھی ہم سے مانگیں گے۔ جب کوئی بیٹی دیتا ہے تو اچھی توقعات کے ساتھ دیتا ہے، اس وقت ذہن میں ایسی کاروباری باتیں نہیں ہوتیں کیونکہ ایسی باتیں شادی کو کامیاب بنانے کے بجائے ناکامی سے ہمکنار کر دیتی ہیں۔ میں نے جب اپنے والد سے رقم مانگنے سے انکار کر دیا، تو ساس کا رویہ بالکل بدل گیا۔ وہ بات بات پر الجھنے لگیں اور مجھے ذہنی طور پر پریشان کرنے لگیں۔ میں نے نجیب سے شکایت کی تو اس نے کہا، “وہ ماں باپ ہیں، میں کیا کر سکتا ہوں؟ اگر کچھ کہوں گا تو یہ جو ہر ماہ وظیفہ ملتا ہے، یہ بھی بند ہو جائے گا، پھر ہم کیا کریں گے؟” کپڑے، دیگر اخراجات اور گاڑی کا پیٹرول وغیرہ ہم انہی پیسوں سے پورا کرتے تھے۔ ساس سسر کے ساتھ مشترکہ فیملی سسٹم میں رہنے کی وجہ سے بجلی کے بل اور کھانا وغیرہ ان کی طرف سے ہوتا تھا۔
ساس نے گھر سے ملازم نکال دیے۔ جیٹھانی کم کام کرتی تھی کیونکہ اس کے شوہر کی اپنی آمدنی تھی۔ اب مجھ سے گھر کا سارا کام کروایا جانے لگا؛ برتن، جھاڑو، پونچھا اور کپڑے دھونا گویا اب میں اس گھر کی بہو نہیں بلکہ ملازمہ تھی، کیونکہ میرا شوہر کما کر نہیں لاتا تھا۔ میں نے بھلا کبھی ایسی زندگی گزاری تھی؟ میرے میکے میں دس نوکر ہوتے تھے اور میں نے کبھی کام کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ اب مجبوراً کچن سنبھالنا پڑا۔ برتن دھونے سے ہاتھ خراب ہو گئے، جھاڑو لگاتے ہوئے کمر میں درد ہو جاتا اور پونچھا لگانے سے ہاتھوں میں گٹھے پڑنے لگے۔ میں کام کرتے ہوئے روتی جاتی اور سوچتی کہ کاش میری ماں خود سلیقہ شعار ہونے کے ساتھ مجھے بھی گھر کا کام سکھا دیتیں، تو آج مجھے اتنی دشواری نہ ہوتی۔
دو ماہ بھی یہ سختی تاب نہ لا سکی اور امی جان کو فون کر کے سب حالات بتا دیے۔ میں نے کہا، “یہ لوگ میرے والدین سے سرمایہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ داماد کو کام دلواؤ ورنہ یہ بھوکے مریں گے، میں تو ان حالات میں مر جاؤں گی”۔ امی جان نے آ کر ساس سے بات کی اور پوچھا کہ “کیا آپ لوگوں نے رقم کے لیے رشتہ کیا تھا؟ اگر ایسی بات تھی تو پہلے بتاتے”۔ وہ کہنے لگیں، “بیٹیوں کا بھی جائیداد میں حصہ ہوتا ہے، آپ اس کا حصہ سرمائے کی صورت میں دے دیں، اس کے اپنے کام آئے گا۔ جب وقت آئے گا اور جائیداد بٹے گی، تو اس کا حصہ اسے مل جائے گا”۔ امی جان یہ کہہ کر چلی گئیں۔
ان کے جانے کے بعد میری شامت آ گئی۔ جیٹھ نے ماہانہ رقم دینا بند کر دی۔ کچھ دن نجیب نے ان کی دکان پر بطور ملازم کام کیا، لیکن بھائی کا رشتہ ہو تو ملازم بن کر کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب بھائی نے ڈانٹ ڈپٹ کی تو اس نے کام پر جانا چھوڑ دیا۔ میرے والد صاحب نے کہلوایا کہ میں داماد کو کسی اچھی ملازمت پر لگوا دیتا ہوں کیونکہ ان کا کافی اثر و رسوخ تھا۔ جب میں نے نجیب سے یہ بات کی، تب یہ انکشاف ہوا کہ وہ بی اے پاس بھی نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کے لیے جعلی ڈگریاں دکھائی تھیں۔ وہ پڑھا لکھا ہونا تو دور، اپنا نام بھی بمشکل لکھ سکتا تھا۔ ان حالات نے نجیب کو مجھ سے بدظن کرنا شروع کر دیا۔ وہ گھر والوں کے رویے سے سخت پریشان تھا، جبکہ میں اس کی پریشانی کم کرنے کا سوچتی رہتی، اسی لیے گھر کا سارا کام کرتی، روتی جاتی اور خاموشی سے ذمہ داریاں نبھاتی رہتی۔
نجیب کی طبیعت میں چڑچڑا پن آ گیا۔ جب سے جیب خرچ بند ہوا، وہ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑنے لگا۔ میں امی کو فون کرتی تو وہ اپنے ڈرائیور کے ہاتھ دو چار ہزار روپے بھجوا دیتیں۔ جب رقم ختم ہو جاتی تو نجیب کا موڈ پھر خراب ہو جاتا۔ امی کبھی کسی کے ہاتھ تو کبھی کسی کے ذریعے پیسے بھجواتی رہتیں۔ میں جب ان سے بات کرتی تو نجیب کو میرا اپنے عزیزوں سے باتیں کرنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ مجھے بات بات پر ڈانٹتا اور کہتا، “کسی سے اتنی فری مت ہوا کرو، بس اپنے کام سے کام رکھا کرو”۔ ہر انسان اپنے ماحول سے بنتا ہے اور اس کا رویہ اس کے ماحول کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ آدمی کو بچپن سے جو پرورش اور ماحول ملتا ہے وہ اسے کیسے بھول سکتا ہے؟ لیکن نجیب اب بالکل بدل چکا تھا اور ذرا ذرا سی بات پر مجھ سے لڑنے جھگڑنے لگا تھا۔
ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ “میرے کپڑے دھو کر کلف لگا دو اور استری کر دو”۔ وہ کل دس جوڑے تھے، سوتی اور سفید رنگ کے۔ ان کو کلف لگا کر استری کرنا بڑے دل گردے کا کام تھا، اور ایسے کام میں نے میکے میں کبھی نہیں کیے تھے۔ میں نے کلف بنایا تو وہ بہت سخت بن گیا۔ جب کپڑوں کو لگایا تو کلف پانی میں گھلنے کے بجائے پھٹکیاں بن گیا اور کپڑوں پر جگہ جگہ چپک گیا۔ کپڑے لکڑی کے تختے کی مانند اکڑ گئے۔ صبح سات بجے سے استری کرنے بیٹھی تو دوپہر ہو گئی مگر مجھ سے دو جوڑے بھی استری نہ ہو سکے۔ میں پسینہ پسینہ ہو گئی اور رونے لگی۔ تب ساس چلانے لگیں کہ “بجلی کا کتنا بل آ جائے گا! صبح سے استری کر رہی ہو اور کپڑے ویسے کے ویسے رکھے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ دھوبی کو بھجوا دو”۔
اصل میں یہ کام دھوبی کا ہی تھا، لیکن میں دھوبی کو کیسے بھجواتی؟ دس جوڑوں کی دھلائی اور وہ بھی کلف والی، اتنا بل میں کہاں سے دیتی؟ اسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ مجھے نجیب سے ہمدردی کی امید تھی مگر اس نے الٹا مجھے ہی ڈانٹا کہ “اتنا سا کام نہیں کر سکتیں؟ بیویاں تو شوہروں کے کپڑے تیار کرتی ہیں، اس نواب زادی سے تو کچھ نہیں ہوتا”۔ میں نے پلٹ کر کہا، “وہ دھوبنیں رہی ہوں گی، میں کسی دھوبی کے خاندان سے نہیں ہوں کہ یہ کام جانوں۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ میرے ہاں تمام کپڑے دھوبیوں سے دھلوائے جاتے ہیں، یہ ریشم یا نائیلون کے کپڑے تو نہیں جو گھر میں آسانی سے دھل جائیں”۔ ساس نے فوراً کہا، “یہ بہو ہمارے کام کی نہیں ہے، اسے میکے بھجوا دو، یہ ہمارے آگے زبان چلاتی ہے”۔ ساس کے اکسانے پر نجیب نے مجھے خوب مارا یہاں تک کہ میرے بدن پر نیل پڑ گئے۔ میں نے روتے ہوئے امی کو فون کیا تو وہ کہنے لگیں، “تمہارے جھگڑے کے بیچ میں ہم نہیں آئیں گے ورنہ بات اور بڑھ جائے گی، تم رکشہ پکڑ کر گھر آ جاؤ، باقی ہم بعد میں دیکھ لیں گے”۔ گاڑی کی چابی نجیب کے پاس تھی اس لیے اسے کہنا بے کار تھا، میں نے رکشہ لیا اور امی کے پاس آ گئی۔
امی نے میرا حال دیکھا تو تڑپ اٹھیں، لیکن اب کیا کر سکتی تھیں؟ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ ایک دن بیٹی کو بابل کا گھر چھوڑ کر پرائے گھر جانا ہی پڑتا ہے، یہ ازل کی ریت ہے۔ تمام والدین اپنی بیٹی کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن تقدیر پر کسی کا زور نہیں ہوتا، اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ “ماں باپ بر (رشتہ) دیکھ سکتے ہیں، تقدیر نہیں”۔ ڈیڈی کا کہنا تھا کہ نجیب فی الحال پانچ لاکھ سے کام شروع کر دے، جب کام جم جائے گا اور مزید سرمایے کی ضرورت ہو گی تو میں انتظام کر دوں گا، مگر نجیب کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اس کا اصرار تھا کہ وہ یکمشت پچاس لاکھ سے کاروبار شروع کرے گا کیونکہ تھوڑے سرمایے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ وہ بھی برباد ہو جاتا ہے۔
آخر کار نجیب نے حالات سے تنگ آ کر مجھے اتنا مارا کہ میری حالت غیر ہو گئی۔ میں روتی چلاتی ماں کے پاس پہنچی، میری حالت دیکھ کر ماں بے ہوش ہو گئیں۔ جب انہیں ہوش آیا تو میں نے صاف کہہ دیا کہ “اب میں اس کے پاس نہیں جاؤں گی، اس سے بہتر ہے کہ زہر کھا کر مر جاؤں، ورنہ آپ کو میری لاش ہی ملے گی”۔ ماں میری بات سمجھ گئی کیونکہ وہ ماں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عورت بھی تھی، اور ایک عورت ہی دوسری عورت کے دکھ کو محسوس کر سکتی ہے۔ ان دنوں میں امید سے تھی، لیکن نجیب نے پھر بھی مجھے طلاق دے دی۔ سات ماہ بعد قدرت نے مجھے ایک پھول سی بچی سے نوازا جس کا نام امی جان نے “حنا” رکھا۔ حنا کے آنے سے میرے دکھی دل کو سہارا مل گیا۔ میری بیٹی بہت خوبصورت تھی، وہ ایک کھلونے کی طرح تھی۔ گھر والے سب اس سے بہت پیار کرتے تھے اور میں اسے دیکھ کر ہی جیتی تھی۔ نجیب اور اس کے گھر والوں نے اصرار کیا کہ بچی ان کے حوالے کر دی جائے، لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچی بلوغت تک ماں کے پاس ہی رہے گی۔
ان دنوں شکیب پھر سے ہمارے گھر آنے لگا تھا کیونکہ اسے گل کو پڑھانا تھا۔ جب اس نے میرے حالات اور میری بدلی ہوئی حالت دیکھی تو وہ پریشان ہو گیا، کیونکہ شادی سے پہلے میں بہت ہنس مکھ اور شرارتی ہوا کرتی تھی۔ آخر ایک دن اسے مجھ سے بات کرنے کا موقع مل گیا، تب اس نے کہا، “نائلہ! میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ تبھی ممکن ہے جب تم مجھ سے شادی کر لو”۔ میں نے اس کی مفلسی سے دامن بچانے کے لیے کہا، “لیکن یہ ممکن نہیں ہے”۔ میرا جواب سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ ان دنوں شکیب کے والدین اس کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہے تھے؛ کئی رشتے دیکھے گئے مگر شکیب نے ہر بار انکار کر دیا۔ اب میں طلاق یافتہ اور ایک بیٹی کی ماں تھی، مگر شکیب اب بھی مجھے اپنانا چاہتا تھا۔ وہ میرے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتا تھا۔ ایسے حالات میں کون کسی کی طرف دیکھتا ہے؟ لیکن وہ خلوصِ نیت کے ساتھ میرا ہاتھ تھامنے کو تیار تھا۔ یہ ایک بہت اچھا رشتہ تھا، وہ ایک بہترین ہم سفر اور میری بچی کے لیے بہترین باپ ثابت ہو سکتا تھا۔
شکیب نے کئی بار کوشش کی، مگر جانے کیوں میں نے ہر بار اسے کوئی نہ کوئی بے کار سا جواب دے کر ٹال دیا۔ آخر کار اس نے اپنے ماں باپ کی بات مان لی اور جہاں انہوں نے کہا، وہاں ایک فرماں بردار بیٹے کی طرح سر جھکا دیا۔ اس کی شادی ایک متوسط گھرانے کی لڑکی سے ہو گئی۔ وہ اندر سے غمگین تھا مگر اوپر سے خوشی ظاہر کر رہا تھا۔ میں نے بھی بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس کی شادی میں شرکت کی۔
وہ اب بھی ہمارے گھر گل کو پڑھانے آتا تھا، مگر یہ بات اس کی بیوی کو پسند نہ تھی۔ جب وہ مجھ سے بات کرتا تو وہ ناراض ہو جاتی اور اپنے والدین سے کہتی کہ “شکیب نائلہ کی خاطر وہاں جاتا ہے، اسے وہاں نہیں جانا چاہیے اور نہ ہی اس سے بات کرنی چاہیے”۔ اس بات پر جب ساس نے شکیب سے باز پرس کی تو اس نے صاف کہہ دیا، “میں آج سے نہیں، اس وقت سے گل کو پڑھانے جا رہا ہوں جب وہ چوتھی کلاس میں تھا اور اب تو اسے ایف ایس سی کی تیاری کرنی ہے، میں وہاں نائلہ کی خاطر نہیں جاتا”۔
خدا انسان کے حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رکھتا، کبھی دن بڑے ہوتے ہیں تو کبھی راتیں۔ کچھ عرصے بعد ہی شکیب کو بہت اچھی ملازمت مل گئی اور ان کے گھریلو حالات سنور گئے۔ پھر ان کے تایا، جو انگلینڈ میں طویل عرصے سے مقیم تھے اور بے اولاد تھے، ان کا انتقال پاکستان میں ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کر کے اپنا تمام سرمایہ اور عمر بھر کی کمائی شکیب کے نام کر دی تھی۔ اچانک اتنی بڑی رقم ملنے سے شکیب کے وارے نیارے ہو گئے۔ اتنی دولت دیکھ کر میری بھی آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یقین ہو گیا کہ خدا جسے چاہے اور جب چاہے نواز دیتا ہے اور جسے چاہے کنگال کر دیتا ہے۔ دولت مند ہونے کے باوجود شکیب ہمارے گھر آتا تھا، مگر وہ دکھی نظر آتا تھا کیونکہ اسے اپنی بیوی کا پیار نہ مل سکا تھا۔ وہ افسردہ اور بجھا بجھا سا رہتا تھا۔ بظاہر ہنستا مسکراتا تھا لیکن اندر سے بہت سنجیدہ اور بکھرا ہوا تھا۔
انہیں دنوں ابو جان کو سعودیہ میں ہارٹ اٹیک ہو گیا، جس کے بعد ہمیں مالی پریشانیوں نے گھیر لیا۔ اب احساس ہوا کہ دولت تو آنی جانی شے ہے۔ ماں ہر وقت یہی سوچتی تھی کہ “جوان بیٹی کو کب تک گھر بٹھا کر رکھوں گی؟ اس کا مستقبل کیا ہوگا؟” ایک دن شکیب آیا تو وہ بہت پُر وقار لگ رہا تھا، اس کا خوبصورت سوٹ اس کی شخصیت پر جچ رہا تھا۔ امی کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی تھیں، اسے دیکھ کر شکیب نے کہا، “خالہ جان! میں کس لیے ہوں؟ آپ مجھے بتائیے کیا بات ہے؟ میں آپ کی ہر پریشانی دور کر دوں گا”۔
یہ الفاظ اس نے اتنے خلوص اور سچائی سے کہے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ تب میں سوچنے لگی کہ واقعی اچھے انسان کبھی کبھی ہی ملتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہوتی ہے کہ ہم انہیں پہچان نہیں پاتے، اور اگر پہچان بھی لیں تو قدر نہیں کرتے۔ اے کاش! میں بتا سکتی کہ امی جان کو میری ہی پریشانی کھائے جا رہی ہے۔ کاش میں نے وقت پر شکیب سے شادی کر لی ہوتی تو آج امی کو یہ دکھ نہ ہوتا اور ہم دونوں بھی کتنے خوش رہتے۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا، وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ اگر صحیح وقت پر صحیح فیصلہ نہ کیا جائے تو صرف پچھتاوا ہی باقی رہ جاتا ہے، کیونکہ گیا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔
شکیب رشتے میں ہمارا کزن لگتا تھا۔ وہ اس بات پر رضا مند ہو گیا۔ ان دنوں اس کی عمر اٹھارہ سال تھی اور میں بمشکل بارہ برس کی تھی۔ ماشاء اللہ میری صحت قابلِ رشک تھی، اس لیے میں سولہ برس کی لگتی تھی۔ خیالات بھی جلد ہی آسمان تک پرواز کرنے لگے۔ شکیب سے گھر کے تمام بچے دلچسپی کے ساتھ پڑھ رہے تھے، لیکن میں پڑھائی میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی تھی۔ پڑوس میں میری ایک سہیلی بنی ہوئی تھی جس کا نام کوکب تھا۔ وہ مجھ سے چار سال بڑی تھی لیکن اسکول نہیں جاتی تھی۔ اس نے پانچویں جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑ دی تھی اور اب گھر میں بور ہوتی تھی۔ وہ اکثر مجھے بلا لیتی اور کبھی خود آ جاتی تھی۔ جب سے اسے پتا چلا کہ میرا کزن ہمیں پڑھانے آتا ہے، اسے تجسس لگ گیا۔ وہ ہر وقت پوچھتی کہ “وہ کیسا ہے؟ تم سے باتیں کرتا ہے؟ کیا باتیں کرتا ہے؟ ایسی ویسی باتیں تو نہیں کرتا؟” اس کی اپنی طبیعت ہی ایسی تھی، اس لیے خیالات بھی بھٹکے ہوئے تھے۔ اسے گھر میں اکیلے گھٹن ہوتی تھی، تبھی ہماری طرف رخ کرتی۔
اس نے مجھے “ایسی ویسی” باتوں کا مطلب سمجھانا شروع کر دیا اور جو کچھ خود نہ کر سکتی تھی، مجھے سکھانے لگی۔ کبھی رومانوی اشعار لکھ دیتی کہ “جب شکیب تمہیں کاپی پر ہوم ورک دے تو یہ شعر لکھ دینا” اور کبھی سمجھاتی کہ ایک بات کے دو مطلب بھی ہوتے ہیں، کچھ ایسی باتیں سیکھ لو۔ شروع میں میرا ذہن پراگندہ رہنے لگا۔ ایک تو مجھے پڑھائی سے بخار چڑھتا تھا، دوسرے کوکب میری جان کو آ گئی۔ میں تنگ آ کر اسے کہتی، “ارے مدھو بالا! تو خود آ کر شکیب سے پڑھ لے، مجھے کیوں خوار کرنا چاہتی ہے؟ وہ بے چارہ معصوم سا لڑکا ہے، کہیں امی جان سے میری شکایت نہ کر دے”۔ آپ حیران نہ ہوں، میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ٹین ایج کی لڑکیاں اکثر ایسے رویے اپناتی ہیں اور اسی قسم کی باتیں سوچتی ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے جس سے والدین اکثر غافل ہوتے ہیں، حالانکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں آگے چل کر بڑے مسائل پیدا کرتی ہیں۔
جو اشارے مجھے کوکب نے سکھائے تھے، اب میں نے ان سے کام لینا شروع کر دیا۔ مثلاً شکیب مجھے پڑھا رہا ہوتا تو میں اچانک بیچ میں بول پڑتی، “آپ کتنے اچھے ہیں، کل کیوں نہیں آئے؟ اف! کیا بتاؤں مجھے کتنی پریشانی ہوئی، آپ کا بہت انتظار کیا”۔ وہ جواب دیتا، “پڑھتی تو ہو نہیں، پھر پریشانی کیوں ہوتی ہے اور انتظار کس بات کا؟” میں کہتی، “میں نے سوچا کہیں آپ کو بخار نہ ہو گیا ہو، بس اسی بات سے پریشانی ہو گئی تھی”۔ وہ کہتا، “بخار تو تمہیں کتاب دیکھ کر چڑھتا ہے۔ پڑھنے سے جی چراتی ہو، دیکھو اگر تم نہیں پڑھو گی تو پچھلے سال کی طرح فیل ہو جاؤ گی۔ اب تک دو سال سے پانچویں میں ہو، یہ بڑے شرم کی بات ہے”۔ اس کی نصیحتیں شروع ہو جاتیں اور مجھے نیند آنے لگتی؛ میں منہ پھاڑ پھاڑ کر جمائیاں لینے لگتی تو وہ مایوس ہو جاتا۔ وہ نیک نیت تھا اور میری امی کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔ مسلسل کوششیں انسان کو کامیابی سے ہمکنار کر دیتی ہیں۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ اس کے دل میں میرے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہو چکا ہے، مگر وہ اس کا اظہار کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ ایک غریب لڑکا تھا۔ امی جان اسے ٹیوشن فیس کے طور پر کافی رقم دیتی تھیں جس سے وہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا۔ یہ رقم اس کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں تھی، وہ بھلا اتنی اچھی آمدنی کو ہاتھ سے کیوں جانے دیتا؟
دو سال تک شکیب ہمارے گھر بچوں کو پڑھانے آتا رہا۔ اب میں مزید خوبصورت اور قد آور ہو گئی تھی۔ میری ماں کے سلیقے کی شہرت تھی، اس لیے میرے لیے رشتے آنے لگے۔ لوگوں کو پتا تھا کہ ماں سلیقہ مند ہے اور والدین جہیز میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ خاندان کے ہر گھر کی خواہش تھی کہ میں ہی ان کے گھر کی بہو بنوں، چنانچہ کافی رشتے آئے۔ اسی دوران ایک خاتون جو شادیاں کرواتی تھی، امی کے پاس آئی اور بتایا کہ “ایک رشتہ میری نظر میں ہے۔ لڑکا پڑھا لکھا اور ہنرمند ہے، دولت مند لوگ ہیں اور لاہور میں بزنس ہے۔ اگر تم رضا مند ہو جاؤ تو تمہاری بیٹی ساری زندگی عیش کرے گی”۔ ان دنوں شکیب ملتان چلا گیا تھا جہاں اسے امتحانات دینے تھے۔ گھر والوں کے پاس اس کا نیا پتا نہیں تھا، لہٰذا امی جان اسے میری شادی کا کارڈ نہ بھیج سکیں جس کا انہیں بے حد دکھ تھا۔ خیر، گزرا ہوا وقت واپس نہیں آ سکتا۔
میری شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ میں اور نجیب بالآخر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ کچھ دن تو خوشی میں گزرے، لیکن پھر تلخ حقیقتیں سامنے آنے لگیں۔ بزنس کا اصل مالک نجیب کا بڑا بھائی تھا اور اسی کی کمائی پر پورے خاندان کا گزارہ تھا۔ نجیب کو کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے بزنس سے یہ کہہ کر علیحدہ کر دیا کہ “اب اپنا کماؤ اور اپنا کھاؤ”۔ ان کی کپڑے کی دکانیں لاہور کے مشہور بازار میں تھیں، جہاں سے لاکھوں کی آمدنی ہوتی تھی۔ نجیب کو ہر ماہ ایک معقول رقم (وظیفہ) ملتی تھی، جبکہ مکان اور گاڑیاں ان کے والد صاحب کے تصرف میں تھیں۔
شروع میں تمام گھر والے مجھے بہت چاہتے تھے۔ ساس تو بالکل بیٹیوں جیسا سمجھتی تھیں۔ جب گھر میں مہمان آتے تو مجھے بڑی خوشی ہوتی، میں ان کی خاطر تواضع کرتی اور ان سے خوب باتیں کرتی۔ لیکن رفتہ رفتہ ساس کا رویہ بدلنے لگا۔ وہ کہنے لگیں، “آخر کب تک بڑا بھائی کمائے گا اور چھوٹا بیٹھا کھائے گا؟ اب نجیب کو خود کمانا چاہیے”۔ میں نے ایک روز کہا، “امی جان! آپ ان کو بھی کوئی کاروبار سیٹ کروا دیں تاکہ یہ بھی کمانے لگیں”۔ وہ کہنے لگیں، “ہم چلتے ہوئے کاروبار سے سرمایہ نہیں نکال سکتے۔ ہم نجیب کو صرف دکان دے سکتے ہیں، تم اپنے والدین سے کہو کہ وہ سرمایہ لگا کر دکان سیٹ کر دیں تاکہ یہ کمانے لگے۔ اس کی کمائی تمہارے ہی کام آئے گی، ہم اس میں سے کچھ نہیں لیں گے”۔
یہ سن کر میں پریشان ہو گئی۔ میری امی نے ان لوگوں کو امیر سمجھ کر میرا رشتہ دیا تھا، کیا خبر تھی کہ یہ سرمایہ بھی ہم سے مانگیں گے۔ جب کوئی بیٹی دیتا ہے تو اچھی توقعات کے ساتھ دیتا ہے، اس وقت ذہن میں ایسی کاروباری باتیں نہیں ہوتیں کیونکہ ایسی باتیں شادی کو کامیاب بنانے کے بجائے ناکامی سے ہمکنار کر دیتی ہیں۔ میں نے جب اپنے والد سے رقم مانگنے سے انکار کر دیا، تو ساس کا رویہ بالکل بدل گیا۔ وہ بات بات پر الجھنے لگیں اور مجھے ذہنی طور پر پریشان کرنے لگیں۔ میں نے نجیب سے شکایت کی تو اس نے کہا، “وہ ماں باپ ہیں، میں کیا کر سکتا ہوں؟ اگر کچھ کہوں گا تو یہ جو ہر ماہ وظیفہ ملتا ہے، یہ بھی بند ہو جائے گا، پھر ہم کیا کریں گے؟” کپڑے، دیگر اخراجات اور گاڑی کا پیٹرول وغیرہ ہم انہی پیسوں سے پورا کرتے تھے۔ ساس سسر کے ساتھ مشترکہ فیملی سسٹم میں رہنے کی وجہ سے بجلی کے بل اور کھانا وغیرہ ان کی طرف سے ہوتا تھا۔
ساس نے گھر سے ملازم نکال دیے۔ جیٹھانی کم کام کرتی تھی کیونکہ اس کے شوہر کی اپنی آمدنی تھی۔ اب مجھ سے گھر کا سارا کام کروایا جانے لگا؛ برتن، جھاڑو، پونچھا اور کپڑے دھونا گویا اب میں اس گھر کی بہو نہیں بلکہ ملازمہ تھی، کیونکہ میرا شوہر کما کر نہیں لاتا تھا۔ میں نے بھلا کبھی ایسی زندگی گزاری تھی؟ میرے میکے میں دس نوکر ہوتے تھے اور میں نے کبھی کام کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ اب مجبوراً کچن سنبھالنا پڑا۔ برتن دھونے سے ہاتھ خراب ہو گئے، جھاڑو لگاتے ہوئے کمر میں درد ہو جاتا اور پونچھا لگانے سے ہاتھوں میں گٹھے پڑنے لگے۔ میں کام کرتے ہوئے روتی جاتی اور سوچتی کہ کاش میری ماں خود سلیقہ شعار ہونے کے ساتھ مجھے بھی گھر کا کام سکھا دیتیں، تو آج مجھے اتنی دشواری نہ ہوتی۔
دو ماہ بھی یہ سختی تاب نہ لا سکی اور امی جان کو فون کر کے سب حالات بتا دیے۔ میں نے کہا، “یہ لوگ میرے والدین سے سرمایہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ داماد کو کام دلواؤ ورنہ یہ بھوکے مریں گے، میں تو ان حالات میں مر جاؤں گی”۔ امی جان نے آ کر ساس سے بات کی اور پوچھا کہ “کیا آپ لوگوں نے رقم کے لیے رشتہ کیا تھا؟ اگر ایسی بات تھی تو پہلے بتاتے”۔ وہ کہنے لگیں، “بیٹیوں کا بھی جائیداد میں حصہ ہوتا ہے، آپ اس کا حصہ سرمائے کی صورت میں دے دیں، اس کے اپنے کام آئے گا۔ جب وقت آئے گا اور جائیداد بٹے گی، تو اس کا حصہ اسے مل جائے گا”۔ امی جان یہ کہہ کر چلی گئیں۔
ان کے جانے کے بعد میری شامت آ گئی۔ جیٹھ نے ماہانہ رقم دینا بند کر دی۔ کچھ دن نجیب نے ان کی دکان پر بطور ملازم کام کیا، لیکن بھائی کا رشتہ ہو تو ملازم بن کر کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب بھائی نے ڈانٹ ڈپٹ کی تو اس نے کام پر جانا چھوڑ دیا۔ میرے والد صاحب نے کہلوایا کہ میں داماد کو کسی اچھی ملازمت پر لگوا دیتا ہوں کیونکہ ان کا کافی اثر و رسوخ تھا۔ جب میں نے نجیب سے یہ بات کی، تب یہ انکشاف ہوا کہ وہ بی اے پاس بھی نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کے لیے جعلی ڈگریاں دکھائی تھیں۔ وہ پڑھا لکھا ہونا تو دور، اپنا نام بھی بمشکل لکھ سکتا تھا۔ ان حالات نے نجیب کو مجھ سے بدظن کرنا شروع کر دیا۔ وہ گھر والوں کے رویے سے سخت پریشان تھا، جبکہ میں اس کی پریشانی کم کرنے کا سوچتی رہتی، اسی لیے گھر کا سارا کام کرتی، روتی جاتی اور خاموشی سے ذمہ داریاں نبھاتی رہتی۔
نجیب کی طبیعت میں چڑچڑا پن آ گیا۔ جب سے جیب خرچ بند ہوا، وہ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑنے لگا۔ میں امی کو فون کرتی تو وہ اپنے ڈرائیور کے ہاتھ دو چار ہزار روپے بھجوا دیتیں۔ جب رقم ختم ہو جاتی تو نجیب کا موڈ پھر خراب ہو جاتا۔ امی کبھی کسی کے ہاتھ تو کبھی کسی کے ذریعے پیسے بھجواتی رہتیں۔ میں جب ان سے بات کرتی تو نجیب کو میرا اپنے عزیزوں سے باتیں کرنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ مجھے بات بات پر ڈانٹتا اور کہتا، “کسی سے اتنی فری مت ہوا کرو، بس اپنے کام سے کام رکھا کرو”۔ ہر انسان اپنے ماحول سے بنتا ہے اور اس کا رویہ اس کے ماحول کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ آدمی کو بچپن سے جو پرورش اور ماحول ملتا ہے وہ اسے کیسے بھول سکتا ہے؟ لیکن نجیب اب بالکل بدل چکا تھا اور ذرا ذرا سی بات پر مجھ سے لڑنے جھگڑنے لگا تھا۔
ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ “میرے کپڑے دھو کر کلف لگا دو اور استری کر دو”۔ وہ کل دس جوڑے تھے، سوتی اور سفید رنگ کے۔ ان کو کلف لگا کر استری کرنا بڑے دل گردے کا کام تھا، اور ایسے کام میں نے میکے میں کبھی نہیں کیے تھے۔ میں نے کلف بنایا تو وہ بہت سخت بن گیا۔ جب کپڑوں کو لگایا تو کلف پانی میں گھلنے کے بجائے پھٹکیاں بن گیا اور کپڑوں پر جگہ جگہ چپک گیا۔ کپڑے لکڑی کے تختے کی مانند اکڑ گئے۔ صبح سات بجے سے استری کرنے بیٹھی تو دوپہر ہو گئی مگر مجھ سے دو جوڑے بھی استری نہ ہو سکے۔ میں پسینہ پسینہ ہو گئی اور رونے لگی۔ تب ساس چلانے لگیں کہ “بجلی کا کتنا بل آ جائے گا! صبح سے استری کر رہی ہو اور کپڑے ویسے کے ویسے رکھے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ دھوبی کو بھجوا دو”۔
اصل میں یہ کام دھوبی کا ہی تھا، لیکن میں دھوبی کو کیسے بھجواتی؟ دس جوڑوں کی دھلائی اور وہ بھی کلف والی، اتنا بل میں کہاں سے دیتی؟ اسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ مجھے نجیب سے ہمدردی کی امید تھی مگر اس نے الٹا مجھے ہی ڈانٹا کہ “اتنا سا کام نہیں کر سکتیں؟ بیویاں تو شوہروں کے کپڑے تیار کرتی ہیں، اس نواب زادی سے تو کچھ نہیں ہوتا”۔ میں نے پلٹ کر کہا، “وہ دھوبنیں رہی ہوں گی، میں کسی دھوبی کے خاندان سے نہیں ہوں کہ یہ کام جانوں۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ میرے ہاں تمام کپڑے دھوبیوں سے دھلوائے جاتے ہیں، یہ ریشم یا نائیلون کے کپڑے تو نہیں جو گھر میں آسانی سے دھل جائیں”۔ ساس نے فوراً کہا، “یہ بہو ہمارے کام کی نہیں ہے، اسے میکے بھجوا دو، یہ ہمارے آگے زبان چلاتی ہے”۔ ساس کے اکسانے پر نجیب نے مجھے خوب مارا یہاں تک کہ میرے بدن پر نیل پڑ گئے۔ میں نے روتے ہوئے امی کو فون کیا تو وہ کہنے لگیں، “تمہارے جھگڑے کے بیچ میں ہم نہیں آئیں گے ورنہ بات اور بڑھ جائے گی، تم رکشہ پکڑ کر گھر آ جاؤ، باقی ہم بعد میں دیکھ لیں گے”۔ گاڑی کی چابی نجیب کے پاس تھی اس لیے اسے کہنا بے کار تھا، میں نے رکشہ لیا اور امی کے پاس آ گئی۔
امی نے میرا حال دیکھا تو تڑپ اٹھیں، لیکن اب کیا کر سکتی تھیں؟ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ ایک دن بیٹی کو بابل کا گھر چھوڑ کر پرائے گھر جانا ہی پڑتا ہے، یہ ازل کی ریت ہے۔ تمام والدین اپنی بیٹی کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن تقدیر پر کسی کا زور نہیں ہوتا، اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ “ماں باپ بر (رشتہ) دیکھ سکتے ہیں، تقدیر نہیں”۔ ڈیڈی کا کہنا تھا کہ نجیب فی الحال پانچ لاکھ سے کام شروع کر دے، جب کام جم جائے گا اور مزید سرمایے کی ضرورت ہو گی تو میں انتظام کر دوں گا، مگر نجیب کو یہ بات منظور نہ تھی۔ اس کا اصرار تھا کہ وہ یکمشت پچاس لاکھ سے کاروبار شروع کرے گا کیونکہ تھوڑے سرمایے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ وہ بھی برباد ہو جاتا ہے۔
آخر کار نجیب نے حالات سے تنگ آ کر مجھے اتنا مارا کہ میری حالت غیر ہو گئی۔ میں روتی چلاتی ماں کے پاس پہنچی، میری حالت دیکھ کر ماں بے ہوش ہو گئیں۔ جب انہیں ہوش آیا تو میں نے صاف کہہ دیا کہ “اب میں اس کے پاس نہیں جاؤں گی، اس سے بہتر ہے کہ زہر کھا کر مر جاؤں، ورنہ آپ کو میری لاش ہی ملے گی”۔ ماں میری بات سمجھ گئی کیونکہ وہ ماں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عورت بھی تھی، اور ایک عورت ہی دوسری عورت کے دکھ کو محسوس کر سکتی ہے۔ ان دنوں میں امید سے تھی، لیکن نجیب نے پھر بھی مجھے طلاق دے دی۔ سات ماہ بعد قدرت نے مجھے ایک پھول سی بچی سے نوازا جس کا نام امی جان نے “حنا” رکھا۔ حنا کے آنے سے میرے دکھی دل کو سہارا مل گیا۔ میری بیٹی بہت خوبصورت تھی، وہ ایک کھلونے کی طرح تھی۔ گھر والے سب اس سے بہت پیار کرتے تھے اور میں اسے دیکھ کر ہی جیتی تھی۔ نجیب اور اس کے گھر والوں نے اصرار کیا کہ بچی ان کے حوالے کر دی جائے، لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچی بلوغت تک ماں کے پاس ہی رہے گی۔
ان دنوں شکیب پھر سے ہمارے گھر آنے لگا تھا کیونکہ اسے گل کو پڑھانا تھا۔ جب اس نے میرے حالات اور میری بدلی ہوئی حالت دیکھی تو وہ پریشان ہو گیا، کیونکہ شادی سے پہلے میں بہت ہنس مکھ اور شرارتی ہوا کرتی تھی۔ آخر ایک دن اسے مجھ سے بات کرنے کا موقع مل گیا، تب اس نے کہا، “نائلہ! میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ تبھی ممکن ہے جب تم مجھ سے شادی کر لو”۔ میں نے اس کی مفلسی سے دامن بچانے کے لیے کہا، “لیکن یہ ممکن نہیں ہے”۔ میرا جواب سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ ان دنوں شکیب کے والدین اس کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہے تھے؛ کئی رشتے دیکھے گئے مگر شکیب نے ہر بار انکار کر دیا۔ اب میں طلاق یافتہ اور ایک بیٹی کی ماں تھی، مگر شکیب اب بھی مجھے اپنانا چاہتا تھا۔ وہ میرے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتا تھا۔ ایسے حالات میں کون کسی کی طرف دیکھتا ہے؟ لیکن وہ خلوصِ نیت کے ساتھ میرا ہاتھ تھامنے کو تیار تھا۔ یہ ایک بہت اچھا رشتہ تھا، وہ ایک بہترین ہم سفر اور میری بچی کے لیے بہترین باپ ثابت ہو سکتا تھا۔
شکیب نے کئی بار کوشش کی، مگر جانے کیوں میں نے ہر بار اسے کوئی نہ کوئی بے کار سا جواب دے کر ٹال دیا۔ آخر کار اس نے اپنے ماں باپ کی بات مان لی اور جہاں انہوں نے کہا، وہاں ایک فرماں بردار بیٹے کی طرح سر جھکا دیا۔ اس کی شادی ایک متوسط گھرانے کی لڑکی سے ہو گئی۔ وہ اندر سے غمگین تھا مگر اوپر سے خوشی ظاہر کر رہا تھا۔ میں نے بھی بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس کی شادی میں شرکت کی۔
وہ اب بھی ہمارے گھر گل کو پڑھانے آتا تھا، مگر یہ بات اس کی بیوی کو پسند نہ تھی۔ جب وہ مجھ سے بات کرتا تو وہ ناراض ہو جاتی اور اپنے والدین سے کہتی کہ “شکیب نائلہ کی خاطر وہاں جاتا ہے، اسے وہاں نہیں جانا چاہیے اور نہ ہی اس سے بات کرنی چاہیے”۔ اس بات پر جب ساس نے شکیب سے باز پرس کی تو اس نے صاف کہہ دیا، “میں آج سے نہیں، اس وقت سے گل کو پڑھانے جا رہا ہوں جب وہ چوتھی کلاس میں تھا اور اب تو اسے ایف ایس سی کی تیاری کرنی ہے، میں وہاں نائلہ کی خاطر نہیں جاتا”۔
خدا انسان کے حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رکھتا، کبھی دن بڑے ہوتے ہیں تو کبھی راتیں۔ کچھ عرصے بعد ہی شکیب کو بہت اچھی ملازمت مل گئی اور ان کے گھریلو حالات سنور گئے۔ پھر ان کے تایا، جو انگلینڈ میں طویل عرصے سے مقیم تھے اور بے اولاد تھے، ان کا انتقال پاکستان میں ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی وصیت کر کے اپنا تمام سرمایہ اور عمر بھر کی کمائی شکیب کے نام کر دی تھی۔ اچانک اتنی بڑی رقم ملنے سے شکیب کے وارے نیارے ہو گئے۔ اتنی دولت دیکھ کر میری بھی آنکھیں کھل گئیں اور مجھے یقین ہو گیا کہ خدا جسے چاہے اور جب چاہے نواز دیتا ہے اور جسے چاہے کنگال کر دیتا ہے۔ دولت مند ہونے کے باوجود شکیب ہمارے گھر آتا تھا، مگر وہ دکھی نظر آتا تھا کیونکہ اسے اپنی بیوی کا پیار نہ مل سکا تھا۔ وہ افسردہ اور بجھا بجھا سا رہتا تھا۔ بظاہر ہنستا مسکراتا تھا لیکن اندر سے بہت سنجیدہ اور بکھرا ہوا تھا۔
انہیں دنوں ابو جان کو سعودیہ میں ہارٹ اٹیک ہو گیا، جس کے بعد ہمیں مالی پریشانیوں نے گھیر لیا۔ اب احساس ہوا کہ دولت تو آنی جانی شے ہے۔ ماں ہر وقت یہی سوچتی تھی کہ “جوان بیٹی کو کب تک گھر بٹھا کر رکھوں گی؟ اس کا مستقبل کیا ہوگا؟” ایک دن شکیب آیا تو وہ بہت پُر وقار لگ رہا تھا، اس کا خوبصورت سوٹ اس کی شخصیت پر جچ رہا تھا۔ امی کسی گہری سوچ میں گم بیٹھی تھیں، اسے دیکھ کر شکیب نے کہا، “خالہ جان! میں کس لیے ہوں؟ آپ مجھے بتائیے کیا بات ہے؟ میں آپ کی ہر پریشانی دور کر دوں گا”۔
یہ الفاظ اس نے اتنے خلوص اور سچائی سے کہے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ تب میں سوچنے لگی کہ واقعی اچھے انسان کبھی کبھی ہی ملتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہوتی ہے کہ ہم انہیں پہچان نہیں پاتے، اور اگر پہچان بھی لیں تو قدر نہیں کرتے۔ اے کاش! میں بتا سکتی کہ امی جان کو میری ہی پریشانی کھائے جا رہی ہے۔ کاش میں نے وقت پر شکیب سے شادی کر لی ہوتی تو آج امی کو یہ دکھ نہ ہوتا اور ہم دونوں بھی کتنے خوش رہتے۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا، وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ اگر صحیح وقت پر صحیح فیصلہ نہ کیا جائے تو صرف پچھتاوا ہی باقی رہ جاتا ہے، کیونکہ گیا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔
(ختم شد)

