میں نے ایک خوشحال گھرانے میں جنم لیا۔ والد صاحب ایک کامیاب بزنس مین تھے اور گھر میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر آسائش موجود تھی۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی؛ بدقسمتی سے میرے بعد انہیں دوبارہ اولاد کی خوشی دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ والد صاحب کی شدید خواہش تھی کہ ان کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ وہ سوچتے تھے کہ اگر خدا نے بیٹا نہیں دیا تو ‘خانم’ کو ہی اپنے کاروبار کا وارث بناؤں گا۔ وہ مجھے اس قابل دیکھنا چاہتے تھے کہ میں ان کا بزنس ایک بیٹے کی طرح سنبھال سکوں، اسی لیے انہوں نے میرا داخلہ شہر کے اس اعلیٰ تعلیمی ادارے میں کرایا جہاں امراء کے بچے پڑھتے تھے۔ چونکہ والد صاحب اس ادارے کی بھاری فیس اور دیگر اخراجات کے متحمل ہو سکتے تھے، لہٰذا انہوں نے میری تعلیم و تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی۔ میرے لیے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام تھا تاکہ میں بروقت اسکول پہنچ سکوں۔
والد صاحب نہایت محنتی اور شریف انسان تھے اور ان کا حلقہ احباب بھی سلجھا ہوا تھا۔ وہ ان لوگوں سے دوستی پسند نہیں کرتے تھے جو اپنا وقت فضول مشاغل میں ضائع کرتے ہوں۔ انہیں وقت کی قدر تھی اور وہ ایک ایک لمحے کی قیمت سے واقف تھے۔ وہ اکثر کہتے: “بیٹی! انسان کو سانس بھی بے مقصد نہیں آتا، اس کا مقصد زندگی کا تسلسل برقرار رکھنا ہے؛ لہٰذا جو کام سے جی چرائے اور کاہلی کو عزیز رکھے، اسے خوشگوار زندگی کے خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔” والد صاحب ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے اور لوگ ان سے عطیات لینے آتے تھے۔ وہ کئی فلاحی اداروں کی مالی معاونت کرتے تھے، یہاں تک کہ ثقافتی پروگراموں کے منتظمین بھی ان سے رابطہ کرتے تو وہ انہیں مایوس نہ کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ ثقافتی شوز میں والد صاحب کو بطور ‘مہمانِ خصوصی’ مدعو کرتے۔ اگر کبھی ان کے پاس وقت نہ بھی ہوتا تو والدہ انہیں مجبور کر کے لے جاتیں۔
ایک بار ان کے بزنس پارٹنر نے ایک گلوکارہ و رقاصہ سے پسند کی شادی کی، لیکن محض ایک سال بعد اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ وہ عورت، جس کا نام ‘تصویر’ تھا، ایک گھریلو زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ جب شوہر نے اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تو وہ والد صاحب کے پاس آئی۔ چونکہ والد صاحب اپنے پارٹنر کے گھر جایا کرتے تھے، اس لیے وہ عورت ان کی خوب خاطر تواضع کرتی اور شوہر کا کاروباری شراکت دار ہونے کے ناطے ان کا بہت احترام کرتی تھی۔
تصویر نے رو رو کر میرے والد کو اپنا حالِ زار سنایا۔ وہ کہنے لگی: “اب میں دوبارہ رقص و موسیقی کی محفلوں کی زینت نہیں بننا چاہتی۔ وہاں میرے دشمن ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ میں نے گھریلو زندگی کی خواہش میں اپنا ٹھکانہ اور پرانے ساتھیوں کو خیرباد کہہ دیا ہے؛ آپ مجھے پناہ دیں تاکہ میں عزت کے ساتھ زندگی گزار سکوں۔” تصویر ذہین بھی تھی اور خوبصورت بھی، اور اس کی شخصیت میں ایک وقار تھا۔ والد صاحب اس کی مظلومیت سے متاثر ہوئے اور اس کے سابقہ شوہر سے پوچھا کہ آخر کس قصور میں اسے گھر سے نکالا؟ تنویر نے جواب دیا: “اس میں تصویر کا کوئی قصور نہیں، میری پہلی بیوی اس کی وجہ بنی۔ وہ میرے ساتھ شرافت سے رہ رہی تھی، مگر پہلی بیوی سے چھپ کر ہم دوسرے گھر میں مقیم تھے۔ میری پہلی بیوی، جو چار بچوں کی ماں ہے، ایک بااثر اور امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بھائی میرے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔ ہمارے ڈرائیور کے ذریعے انہیں علم ہوا کہ میں نے ایک رقاصہ سے خفیہ شادی کر لی ہے۔ انہوں نے وہ گھر ڈھونڈ نکالا جہاں میں نے تصویر کو رکھا ہوا تھا اور ہفتے میں دو دن اس کے پاس گزارتا تھا۔”
تنویر نے مزید بتایا: “جب یہ راز فاش ہوا تو پہلی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ وہ صرف اس شرط پر ساتھ رہنے کو تیار تھی کہ میں تصویر کو طلاق دے دوں۔ چونکہ میرے کاروبار میں سارا سرمایہ میرے سسر کا ہے، اس لیے میں انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے اپنے بچوں کی خاطر یہ ظالمانہ قدم اٹھانا پڑا، حالانکہ مجھے اسے ناحق طلاق دینے کا بے حد افسوس ہے۔ میں بہت مجبور تھا؛ یہ عورت واقعی مظلوم ہے۔ میں چوری چھپے اس کی مالی مدد تو کر سکتا ہوں لیکن اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا، کیونکہ صلح کے وقت میری پہلی بیوی نے اپنے والدین اور بھائیوں کے سامنے مجھ سے قرآن پر حلف لیا ہے کہ میں تصویر سے کوئی رابطہ نہیں رکھوں گا اور اسے حقیقی معنوں میں طلاق دے دوں گا۔”
تنویر کی زبانی حقائق علم میں آئے تو والد صاحب نے اپنے بزنس پارٹنر سے کہا: “اگر میں اس عورت سے نکاح کر لوں تاکہ اسے ایک باعزت زندگی اور مستقل تحفظ مل سکے، تو کیا تمہیں اس پر کوئی اعتراض ہوگا؟” تنویر نے جواب دیا: “مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے! سوائے اس کے کہ میں تمہارے گھر نہیں آؤں گا اور نہ ہی تصویر کو بیوی بنانے کے بعد تم میری کسی دعوت یا پارٹی میں شریک ہو سکو گے۔”
والد صاحب نے تنویر کی رائے سے اتفاق کیا اور تصویر خانم سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصے بعد تنویر نے والد صاحب سے اپنا بزنس الگ کر لیا، کیونکہ اس کے سالوں نے اسے اپنے کاروبار میں شراکت دار بنا لیا تھا تاکہ اس کے سرمائے پر ان کی مکمل نظر اور گرفت رہے۔
والد صاحب کی پہلی شادی ان دنوں دادا جان نے ان کی چچا زاد سے کرائی تھی جب وہ ابھی طالب علم تھے۔ شادی کے وقت ان کی چچا زاد کی عمر محض پندرہ برس تھی۔ ایک سال بعد بچے کی پیدائش کے دوران ان کا انتقال ہو گیا اور ڈاکٹر بچے کی جان بھی نہ بچا سکے۔ والد صاحب اپنی پہلی بیوی سے بچپن سے محبت کرتے تھے؛ دونوں ایک ہی گھر میں پلے بڑھے اور بچپن ساتھ کھیلتے گزرا تھا۔ ان کا نام ‘صنوبر’ تھا۔ صنوبر کی وفات نے میرے باپ کی دنیا اجاڑ دی، چنانچہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک دوسری شادی نہیں کی اور خود کو دادا جان کے بزنس میں مصروف کر لیا۔
دادا جان کی وفات کے بعد وہ مکمل طور پر اپنے کاروبار کے ہو گئے۔ صنوبر سے بچھڑ جانے کا غم ایسا تھا کہ صرف یادِ الٰہی ہی اس زخم کا مرہم بن سکتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا، لایعنی دوستوں کی محفلیں چھوڑ دیں اور اپنا تمام وقت کاروبار یا عبادتِ الٰہی میں گزارنے لگے۔ قدرت کو منظور تھا کہ وہ تصویر خانم سے نکاح کر کے ایک بڑی نیکی کی طرف راغب ہوں، سو میری والدہ کو اپنی زندگی میں شامل کر کے انہوں نے اپنا گھر بسا لیا۔ شادی کے دو سال بعد میری پیدائش ہوئی تو والد صاحب کو پہلی بار اولاد کی خوشی دیکھنا نصیب ہوئی۔
ان کی زندگی کے صحرا میں مدتوں بعد بہار آئی تھی، وہ بہت خوش تھے۔ وہ میری تعلیم و تربیت بہترین انداز میں کرنا چاہتے تھے۔ انہیں اولادِ نرینہ کی تمنا تھی، مگر یہ نعمت تو اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔ والد صاحب کے مقدر میں مزید اولاد نہ تھی۔ میری پرورش نہایت ناز و نعم سے ہونے لگی اور میں اسکول جانے لگی۔
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو پیدائشی طور پر کوئی نہ کوئی خوبی عطا کرتا ہے؛ مجھے حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ دلکش آواز سے بھی نوازا گیا تھا۔ بچپن ہی سے مجھے موسیقی میں ایک خاص کشش محسوس ہوتی تھی۔ اسکول کے ہر فنکشن میں میرا انتخاب لازمی ہوتا۔ جب میں بڑی کلاسوں میں پہنچی تو ڈراموں، ٹیبلوز اور لوک ورثہ کے پروگراموں میں میری کارکردگی نمایاں رہنے لگی اور مجھے خوب سراہا گیا، جس سے میرے دل میں موسیقی کا شوق مزید پروان چڑھا۔
محلے میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی میں تمام لڑکیوں میں نمایاں ہوتی۔ عورتیں فرمائش کر کے مجھ سے گانے سنتیں اور لڈی ڈالنے کا اصرار کرتیں۔ انہی دنوں ہمارے اسکول میں ‘میوزک کلاسز’ کا آغاز ہوا تو میں نے بھی اپنا نام لکھوا لیا اور باقاعدہ فنِ موسیقی سیکھنے لگی۔ ہفتے میں دو پیریڈز ہوتے اور میں انہیں اٹینڈ کرتے ہوئے دلی مسرت محسوس کرتی۔ جلد ہی ہمارے میوزک ٹیچر نے بھانپ لیا کہ میرے اندر ایک فنکارہ چھپی ہوئی ہے، جو اگر صحیح رہنمائی ملے تو ایک نامور گلوکارہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پرنسپل سے بات کی، جنہوں نے میری والدہ کو اسکول بلا کر انہیں میری اس صلاحیت سے آگاہ کیا۔
والدہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “یہ اسکول کی حد تک تو مشق جاری رکھ سکتی ہے، لیکن کسی باقاعدہ موسیقی کے ادارے سے رقص و سرور کی تربیت لینے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ ہم اسے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنی بیٹی کو ایسے مشاغل سے دور ہی رکھیں گے جن میں وقت کا زیاں ہو۔” ان دنوں میں آٹھویں جماعت میں تھی کہ اچانک والد صاحب کا ایک فضائی حادثے میں انتقال ہو گیا؛ یہ حادثہ ملک سے باہر دورانِ سفر پیش آیا۔ وہ بزنس کے سلسلے میں بیرونِ ملک گئے تھے، مگر وہ سفر ان کی موت کا پروانہ ثابت ہوا۔
ہماری دنیا لٹ چکی تھی۔ والد کے انتقال کے بعد والدہ بالکل بے آسرا ہو گئیں؛ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں، اس لیے کاروبار سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھیں۔ میں ابھی کم سن تھی اور والد کا کوئی ایسا مخلص رشتہ دار بھی نہ تھا جو ان کا بزنس سنبھال پاتا۔ مجبوراً امی نے ابو کے بزنس پارٹنر ‘قادر’ سے خاموشی کے ساتھ وہ قلیل سرمایہ قبول کر لیا جو اس نے اپنی مرضی سے دے دیا اور دعویٰ کیا کہ آپ کے شوہر کا حصہ بس اتنا ہی بنتا ہے۔ یہ رقم اگرچہ کم تھی، لیکن اس کے سہارے ہم نے پانچ برس گزار لیے۔ اپنا ذاتی گھر ہونے کی وجہ سے چھت کا سہارا میسر تھا۔ میں نے میٹرک تو کر لیا اور کالج میں داخلہ بھی لیا، مگر ذہنی انتشار اور والد کی جدائی کے غم میں تعلیم جاری نہ رکھ سکی۔ دو سال تک پڑھائی کا سلسلہ منقطع رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب گھر چلانے کے لیے والدہ یا مجھے عملی طور پر کچھ کرنا تھا اور ذریعہ معاش تلاش کرنا ناگزیر ہو گیا۔
والدہ ملازمت نہیں کر سکتی تھیں اور نہ ہی ان کا کوئی وسیع سماجی حلقہ تھا۔ جن چند واقف کاروں سے ان کا رابطہ تھا، ان کا تعلق رقص و موسیقی کی دنیا سے ہی تھا۔ والدہ خود گلوکاری کے میدان سے عرصہ ہوا کنارہ کش ہو چکی تھیں، پھر بھی انہوں نے کوشش کی اور ان پرانے شناساؤں سے رابطہ کیا جنہیں وہ جانتی تھیں۔ ان میں سے صرف دو افراد نے ہمیں سہارا دیا؛ ایک صاحب تھیٹر سے وابستہ تھے اور دوسری ایک خاتون جو موسیقی کے پروگراموں کی منتظم تھیں۔
یہ دونوں افراد تعلیم یافتہ تھے، لہٰذا والدہ کی درخواست پر وہ ہمارے گھر تشریف لائے۔ امی نے انہیں چائے پر مدعو کیا تھا۔ جب مرزا صاحب اور نجمہ بیگم آئے، تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے امی سے کہا: “تمہاری مشق چھوٹ چکی ہے، اب دوبارہ گلوکاری کے میدان میں قدم جمانا مشکل ہے۔ آج کل کلاسیکی موسیقی کا دور نہیں رہا، اب پاپ میوزک کا زمانہ ہے، اور تم اداکاری کے لیے بھی موزوں نہیں ہو۔ ہاں! اگر تم اپنی بیٹی کو اس شعبے میں لانا چاہو تو ہم بھرپور مدد کر سکتے ہیں۔”
مجھے تو بچپن ہی سے گانے اور رقص کا جنون تھا، یہ سن کر میں نہال ہو گئی، مگر والدہ تذبذب کا شکار تھیں کہ اتنی کم عمری میں مجھے اسٹیج کی بے رحم دنیا میں لائیں یا نہیں۔ لیکن مجبوری انسان سے سب کچھ کروا لیتی ہے۔ ہمارا گزارہ مشکل ہوتا جا رہا تھا، بینک بیلنس ختم ہو چکا تھا، اور امی نے اخراجات کم کرنے کے لیے تمام ملازم نکال دیے تھے۔ گھر کی بتیاں اکثر بند رہتیں تاکہ بجلی کا بل کم آئے، یہاں تک کہ ٹیلیفون کا کنکشن بھی کٹوا دیا گیا تھا۔
انہیں سوچ میں ڈوبا دیکھ کر میں نے اصرار کیا: “امی! آپ مجھے فنِ موسیقی اور اداکاری کی تربیت کے لیے کسی آرٹ اکیڈمی میں داخل کرا دیں، میں آپ کو مایوس نہیں کروں گی۔ آپ گھبرائیں نہیں، اگر انسان کی اپنی نیت صاف ہو تو کوئی کام برا نہیں ہوتا۔ دیکھیے نا! آپ کا ماضی بھی اسی دنیا سے وابستہ تھا، مگر آپ کی روح میں وہ پاکیزگی تھی جو وہاں رہ کر بھی نہ مر سکی اور آپ نے دولت کے مقابلے میں ایک شریفانہ اور گھریلو زندگی کو ترجیح دی۔ میں ایک نیک باپ اور پاک طینت ماں کی بیٹی ہوں، ان شاء اللہ فنِ موسیقی میں کمال حاصل کر کے ملک کا نام روشن کروں گی اور اپنی کامیابی سے مفلسی کے ان اندھیروں کو دور بھگا دوں گی۔ سچا فنکار برائی سے ہمیشہ دور رہتا ہے۔”
ماں نہیں چاہتی تھی کہ میں اس کم سنی میں باہر کی دنیا کی تلخیوں کا سامنا کروں، مگر میں اپنی ضد پر اڑی رہی۔ میرے اندر ایک گلوکارہ بننے کا شوق جوالا مکھی بن کر ابل رہا تھا۔ والدہ کی خواہش تھی کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر یا کوئی معزز شخصیت بنوں تاکہ اپنے باپ کا نام روشن کر سکوں، مگر میری ضد کے آگے ممتا نے ہار مان لی اور انہوں نے مجھے اپنی پرانی دوست نجمہ کے سپرد کر دیا۔ وہ مجھے آرٹ کے ادارے میں لے گئیں جہاں میں نے دو سال تک سخت ریاضت اور مشق سے خود کو اس قابل کر لیا کہ میڈیا پر اپنی آواز کا جادو جگا سکوں۔ جب میں آڈیشن کے لیے ٹی وی اسٹیشن گئی تو پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہو گئی۔ آغاز میں مجھے کم پروگرام ملتے تھے، لیکن جلد ہی وہ وقت آ گیا جب مختلف چینلز سے آفرز کی لائن لگ گئی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اسٹیج ڈراموں میں بھی قسمت آزمائی کی کیونکہ اب میں خود مختار ہو چکی تھی۔ شہرت اور دولت کے دروازے مجھ پر کھلنے لگے تھے اور میرے پرستاروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔
ایک رات شو ختم ہونے کے بعد جب میں ڈھائی بجے گھر پہنچی تو والدہ کو شدید مضطرب پایا۔ دروازہ کھلتے ہی انہوں نے مجھ پر ملامت شروع کر دی: “تم نے میری راتوں کی نیند حرام کر دی ہے۔ میں تمہارا یہ انتظار برداشت نہیں کر سکتی اور نہ ہی مجھ میں رات بھر جاگنے کی سکت ہے۔ خبردار! اب تم ایسے کسی شو میں نہیں جاؤ گی جو دیر رات ختم ہوتا ہو۔ زمانہ بہت خراب ہے اور حالات بالکل سازگار نہیں۔”
میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی: “ماں! موسیقی کی محفلیں تو ہوتی ہی رات کو ہیں اور اکثر دیر تک جاری رہتی ہیں۔ شائقین اپنے پسندیدہ فنکاروں کو دیر تک سننا چاہتے ہیں اور بار بار فرمائشیں کرتے ہیں۔ اگر ان کی خواہشات کا احترام نہ کیا جائے تو شوز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ میرے پیشے کا ناگزیر حصہ ہے۔ آپ کو یہ سب برداشت کرنا ہوگا کیونکہ جس راستے پر میں قدم رکھ چکی ہوں، وہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ میری کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کریں، ورنہ میں کہیں کی نہیں رہوں گی۔” میری اس طویل تقریر کا ماں نے مختصر جواب دیا: “آئندہ تم ایسے پروگراموں میں نہیں جاؤ گی، ورنہ محلے والے ہمارا جینا دوبھر کر دیں گے۔ وہ اب تک تمہارے مرحوم باپ کی عزت کی خاطر خاموش ہیں۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے، تم میں اتنی سمجھ بوجھ نہیں کہ یوں راتوں کو غائب رہو۔”
میں نے پیشکش کی: “تو پھر آپ میرے ساتھ چلا کریں۔” انہوں نے فوراً رد کرتے ہوئے کہا: “یہ مجھے نہایت معیوب لگتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ راتوں کو ماری ماری پھروں۔ تم خود سمجھدار بنو، لوگ مجھے کس نظر سے دیکھیں گے؟” میں نے جھنجھلا کر کہا: “ماں! تو پھر میں کیا کروں؟ اگر آپ کو لوگوں کی اتنی ہی فکر ہے تو خود کمانا شروع کر دیں، میں گھر بیٹھ جاتی ہوں۔” اس کے بعد والدہ سے آئے روز تکرار رہنے لگی۔ بالآخر وہ ہار مان کر خاموش ہو گئیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا، کیونکہ اب ان کی روک ٹوک مجھ پر بے اثر ہو چکی تھی۔
سچ ہے کہ چڑیا جب ایک بار اپنے بچے کو اڑنا سکھا دیتی ہے تو وہ پلٹ کر کب واپس آتا ہے۔ میں نے بھی اس رنگین دنیا میں پرواز کے گر سیکھ لیے تھے اور اب میں مزید بلندیوں کو چھونا چاہتی تھی۔ آئے دن میڈیا کے نمائندے اور فوٹو گرافرز گھر آتے، جن سے میں خود ہی ڈیل کرتی جبکہ امی اپنے کمرے تک محدود رہتیں۔ تھیٹر میں میری کارکردگی سب کو حیران کر دیتی اور میں نے فن کی دنیا میں گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری میں بھی اپنا سکہ جما لیا تھا۔ ماڈلنگ میں پیسہ بہت تھا، چنانچہ جب بڑی اشتہاری کمپنیوں نے رابطہ کیا تو میں نے انہیں بھی مایوس نہ کیا۔ میں زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنا چاہتی تھی تاکہ میرا مستقبل محفوظ رہے اور میرا انجام ویسا نہ ہو جیسا میری ماں کا ہوا تھا۔
یہ میڈیا کا دور تھا، جہاں کامیابی کا راز نمائش، فیشن اور چکا چوند میں پوشیدہ تھا۔ اب مجھے بیرونِ ملک پرفارم کرنے کے مواقع بھی ملنے لگے۔ ہوائی جہازوں کے سفر اور وسیع دنیا کی سیر نے مجھے بدل کر رکھ دیا تھا۔ میں اکثر سوچتی کہ میں کیا تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ تعلیم سے تو مجھے کبھی رغبت نہ تھی؛ والد صاحب بھاری فیسیں ادا کرتے مگر میری تعلیمی کارکردگی معمولی ہی رہتی، لیکن میرے اندر جو پیدائشی جوہر تھا، اسے جلا بخشنے کا بھرپور موقع مل چکا تھا۔
مجھے وہ سب کچھ مل گیا تھا جس کے لیے لڑکیاں برسوں تگ و دو کرتی ہیں اور منزل پانے کی حسرت میں جوانی ہی میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جو راستہ دوسروں کے لیے کٹھن تھا، وہ میرے لیے آسان ثابت ہوا کیونکہ میرا فطری میلان ہی فن کی طرف تھا۔ اخبارات میں میرے انٹرویوز چھپتے اور فلمی خبروں میں میرا ذکر رہتا۔ یہ شہرت مجھے خوابوں کی نگری کا باسی بنا دیتی، جس سے میرے اندر مزید جوش پیدا ہوتا اور بہتر سے بہتر کارکردگی کا جذبہ تسکین پاتا۔
لیکن ہر عروج کے بعد زوال یقینی ہوتا ہے، اور میرا زوال تو شاید عروج سے پہلے ہی دستک دینے لگا تھا۔ ایک صاحب، جو انتہائی دولت مند تھے اور میرے بڑے مداح تھے، انہوں نے میرا ایک شو دیکھنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا۔ ان کی عقیدت میں ایک ایسی والہانہ کیفیت تھی کہ میں نے انہیں ملاقات کا وقت دے دیا۔ وہ میرے گھر آئے؛ ایک سمارٹ اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے شادی کی پیشکش کر دی۔
ان دنوں میری عمر چوبیس برس تھی۔ میرے دل میں بھی ایک جیون ساتھی اور گھر بسانے کی خواہش سر اٹھانے لگی تھی۔ مشتاق نے جس والہانہ انداز میں شادی کی پیشکش کی، میں اسے فوراً رد نہ کر سکی اور سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگ لیا۔ میرا اتنا کہنا ہی اس کے لیے بہت تھا۔ وہ مجھے مسلسل فون کرتا اور میں جب بھی فارغ ہوتی، اس سے بات کرتی۔ رفتہ رفتہ اس کی آواز کا جادو مجھ پر چلنے لگا اور میرے دل میں اس کے لیے محبت کے جذبات جنم لینے لگے۔ بالآخر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ یہ جوانی، یہ حسن، یہ شہرت اور چکا چوند والی زندگی آخر کب تک رہے گی؟ جوں ہی حسن ماند پڑے گا، پرستار بھی رخصت ہو جائیں گے اور میری جگہ کوئی اور حسین و نوخیز چہرہ لے لے گا۔ تب میں کیا کروں گی؟ گھر بسانے کی یہی صحیح عمر ہے، کیوں نہ مشتاق کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کروں۔
والدہ اکثر بیمار رہنے لگی تھیں اور اب صاحبِ فراش تھیں۔ ان کی بھی یہی تمنا تھی کہ میں اب اپنا گھر بسا لوں۔ چنانچہ میں نے مشتاق کی پیشکش قبول کر لی اور اس کے بارے میں زیادہ چھان بین کرنا ضروری نہ سمجھا اور ہمارا نکاح ہو گیا۔ نکاح کے بعد اس نے پہلی شرط یہ رکھی کہ اب میں کسی شو میں حصہ نہیں لوں گی، گلوکاری چھوڑ دوں گی اور شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ دوں گی۔ اگرچہ میں اس رنگین دنیا سے ناطہ توڑنا نہیں چاہتی تھی، مگر میں مشتاق کو بھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔ ایک مستحکم گھر اور شوہر کی خاطر میں نے اپنے فن کی قربانی دے دی اور گھریلو زندگی کا انتخاب کر لیا۔
انسان بعض اوقات انتخاب میں بہت بڑی غلطی کر جاتا ہے؛ میں نے بھی مشتاق کو شریکِ حیات چن کر ایسی ہی ایک ٹھوکر کھائی تھی۔ وہ ویسا ہرگز نہ تھا جیسا میں اسے سمجھتی رہی تھی۔ وہ ایک قطعی غیر مخلص انسان تھا، جو پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ تھا، مگر اس نے یہ حقیقت مجھ سے چھپائے رکھی۔ اس کی بیوی اور بچے گاؤں میں رہتے تھے؛ وہ خود تو ان سے ملنے جاتا مگر انہیں کبھی شہر نہ لاتا تھا۔
رفتہ رفتہ اس کے کردار کے عیوب مجھ پر آشکار ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ وہ لوگوں کو ناجائز طریقے سے بیرونِ ملک بھجوانے کا مکروہ دھندہ کرتا ہے۔ وہ سادہ لوح لوگوں سے ویزے کے نام پر لاکھوں روپے بٹورتا اور انہیں چھوٹی کشتیوں میں بھر کر سمندر کے پرخطر سفر پر روانہ کر دیتا۔ یہ ایک باقاعدہ گروہ تھا جسے صرف دولت جمع کرنے سے غرض تھی؛ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہ تھا کہ وہ غریب لوگ، جو اپنی جمع پونجی ان کے حوالے کر دیتے تھے، منزلِ مقصود تک پہنچیں گے بھی یا بیابانوں میں رل جائیں گے۔ لانچ والے انہیں کسی انجانے ساحل پر یہ کہہ کر اتار دیتے کہ کل دوسری لانچ آئے گی جو تمہیں آگے لے جائے گی۔
یہ سب سراسر جھوٹ ہوتا۔ وہاں کوئی لانچ نہ آتی اور وہ مسافر انتظار کرتے کرتے جنگلوں میں بھٹکتے رہتے۔ کئی بھوک اور پیاس سے دم توڑ دیتے اور پھر ان کی لاشیں گدھوں اور بھیڑیوں کی خوراک بن جاتیں۔ ان میں اکثر وہ دیہاتی نوجوان ہوتے جنہیں یونان لے جا کر محنت مزدوری کروانے کا جھانسا دیا جاتا تھا۔
جب مجھے ان حقائق کا علم ہوا تو میں نے مشتاق کو ٹوکا: “یہ سب بند کر دو! میں نے اپنے فن اور محنت سے شہرت اور دولت کمائی تھی، مگر تم نے اسے ‘برا پیشہ’ کہہ کر مجھے روک دیا اور میں نے تمہاری خاطر سب چھوڑ دیا۔ اب تم بھی میری بات مان لو، کیونکہ جس طریقے سے تم پیسہ کما رہے ہو، وہ ایک شرمناک اور نہایت غلیظ دھندا ہے۔” میری بات تسلیم کرنے کے بجائے، اس نے غصے میں میرے منہ پر ایک زوردار تھپڑ دے مارا۔
اس دن سے ہمارے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گئی۔ اس نے مجھے دھمکی دی: “اگر میں چاہوں تو تمہیں بھی غیر ملک اسمگل کر کے بیچ سکتا ہوں۔” اس دھمکی نے میرے وجود کو لرزا کر رکھ دیا؛ جس انسان کا ضمیر مر چکا ہو، اس سے کسی بھی قبیح فعل کی توقع کی جا سکتی تھی۔ مجھے اپنے ہی شوہر سے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ انہی کٹھن دنوں میں والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور میں اس وسیع دنیا میں بالکل تنہا رہ گئی۔ میں نے اپنی محنت سے جو کچھ بھی کمایا تھا، وہ اب مشتاق کے قبضے میں تھا، مگر میں نے اس مالی نقصان کو بھی برداشت کر لیا اور ایک روز محض تین کپڑوں میں اس کے چنگل سے نکل بھاگی۔
میں نے نجمہ آنٹی کے گھر پناہ لی اور ان کے ذریعے مشتاق کو فون کرایا۔ نجمہ آنٹی نے اسے صاف کہہ دیا: “اگر تم نے شرافت سے طلاق نہ دی تو یہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی اور وہاں تمہارے تمام کالے کرتوتوں کے ثبوت بھی پیش کر دے گی۔” یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور مشتاق نے مجھے طلاق دے دی، لیکن ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی: “اگر میرے بارے میں کسی کو زبان ہلائی تو یاد رکھنا، تمہاری مسخ شدہ لاش کسی جھاڑی سے ملے گی۔” نجمہ آنٹی نے مجھے سمجھایا: “بچی! تم اس بدمعاش کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک پورا گروہ ہے اور یقیناً کوئی طاقتور ہاتھ ان کی پشت پناہی کر رہا ہوگا۔ تمہاری جان چھوٹ گئی، بس اسی پر شکر ادا کرو اور اس کے بارے میں کبھی لب کشائی نہ کرنا، ورنہ واقعی جان سے جاؤ گی۔ ایسے لوگوں کو اللہ خود اپنے وقت پر پکڑتا ہے۔”
نجمہ آنٹی کی بات درست تھی۔ میں خاموش ہو گئی اور دوبارہ ان کے توسط سے شوبز میں چھوٹے موٹے کام حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کر دی، کیونکہ طویل غیر حاضری کی وجہ سے میری شہرت کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا۔
ایک دن اچانک خبر ملی کہ مشتاق گرفتار ہو چکا ہے۔ اس پر منی لانڈرنگ، انسانی اسمگلنگ، بردہ فروشی اور منشیات کی تجارت جیسے سنگین الزامات تھے۔ میں تو دعا ہی کرتی تھی کہ وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے؛ آخر اللہ نے میری اور ان دکھی ماؤں کی سن لی جن کے جگر گوشوں کو اس نے بیرونِ ملک کے جھانسے دے کر سمندر کی بے رحم لہروں کے سپرد کر دیا تھا۔ نہ جانے کتنے معصوم نوجوان سفر کے دوران سمندر میں غرق ہوئے اور کتنے ہی منزل تک پہنچنے سے پہلے صحراؤں کی بھوک پیاس کی نذر ہو گئے۔ جو کسی طرح سرحد پار کر بھی گئے، وہ سیکیورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر جیلوں کی نذر ہو گئے۔
خدا جانے انسان اتنا سنگ دل کیسے ہو جاتا ہے جو دولت کی ہوس میں اپنے جیسے انسانوں کو مصائب کی دلدل میں دھکیل کر بھی پرسکون رہتا ہے اور اسے کبھی ضمیر کی ملامت محسوس نہیں ہوتی۔ ان سے تو ہم فنکار ہی بہتر ہیں جو اپنی محنت سے مقام بناتے ہیں اور ضمیر کے اطمینان کے ساتھ جیتے ہیں۔ مشتاق سے شادی اور طلاق کے حادثے نے میری شہرت کو جو دھچکا پہنچایا، اس کی وجہ سے میں وہ مقام تو دوبارہ حاصل نہ کر سکی، مگر پھر بھی مطمئن ہوں کہ میں ایک صاف ستھری زندگی گزار رہی ہوں اور امید ہے کہ کسی نہ کسی دن اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ پا لوں گی۔
والد صاحب نہایت محنتی اور شریف انسان تھے اور ان کا حلقہ احباب بھی سلجھا ہوا تھا۔ وہ ان لوگوں سے دوستی پسند نہیں کرتے تھے جو اپنا وقت فضول مشاغل میں ضائع کرتے ہوں۔ انہیں وقت کی قدر تھی اور وہ ایک ایک لمحے کی قیمت سے واقف تھے۔ وہ اکثر کہتے: “بیٹی! انسان کو سانس بھی بے مقصد نہیں آتا، اس کا مقصد زندگی کا تسلسل برقرار رکھنا ہے؛ لہٰذا جو کام سے جی چرائے اور کاہلی کو عزیز رکھے، اسے خوشگوار زندگی کے خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔” والد صاحب ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے اور لوگ ان سے عطیات لینے آتے تھے۔ وہ کئی فلاحی اداروں کی مالی معاونت کرتے تھے، یہاں تک کہ ثقافتی پروگراموں کے منتظمین بھی ان سے رابطہ کرتے تو وہ انہیں مایوس نہ کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ ثقافتی شوز میں والد صاحب کو بطور ‘مہمانِ خصوصی’ مدعو کرتے۔ اگر کبھی ان کے پاس وقت نہ بھی ہوتا تو والدہ انہیں مجبور کر کے لے جاتیں۔
ایک بار ان کے بزنس پارٹنر نے ایک گلوکارہ و رقاصہ سے پسند کی شادی کی، لیکن محض ایک سال بعد اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ وہ عورت، جس کا نام ‘تصویر’ تھا، ایک گھریلو زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ جب شوہر نے اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تو وہ والد صاحب کے پاس آئی۔ چونکہ والد صاحب اپنے پارٹنر کے گھر جایا کرتے تھے، اس لیے وہ عورت ان کی خوب خاطر تواضع کرتی اور شوہر کا کاروباری شراکت دار ہونے کے ناطے ان کا بہت احترام کرتی تھی۔
تصویر نے رو رو کر میرے والد کو اپنا حالِ زار سنایا۔ وہ کہنے لگی: “اب میں دوبارہ رقص و موسیقی کی محفلوں کی زینت نہیں بننا چاہتی۔ وہاں میرے دشمن ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ میں نے گھریلو زندگی کی خواہش میں اپنا ٹھکانہ اور پرانے ساتھیوں کو خیرباد کہہ دیا ہے؛ آپ مجھے پناہ دیں تاکہ میں عزت کے ساتھ زندگی گزار سکوں۔” تصویر ذہین بھی تھی اور خوبصورت بھی، اور اس کی شخصیت میں ایک وقار تھا۔ والد صاحب اس کی مظلومیت سے متاثر ہوئے اور اس کے سابقہ شوہر سے پوچھا کہ آخر کس قصور میں اسے گھر سے نکالا؟ تنویر نے جواب دیا: “اس میں تصویر کا کوئی قصور نہیں، میری پہلی بیوی اس کی وجہ بنی۔ وہ میرے ساتھ شرافت سے رہ رہی تھی، مگر پہلی بیوی سے چھپ کر ہم دوسرے گھر میں مقیم تھے۔ میری پہلی بیوی، جو چار بچوں کی ماں ہے، ایک بااثر اور امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بھائی میرے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔ ہمارے ڈرائیور کے ذریعے انہیں علم ہوا کہ میں نے ایک رقاصہ سے خفیہ شادی کر لی ہے۔ انہوں نے وہ گھر ڈھونڈ نکالا جہاں میں نے تصویر کو رکھا ہوا تھا اور ہفتے میں دو دن اس کے پاس گزارتا تھا۔”
تنویر نے مزید بتایا: “جب یہ راز فاش ہوا تو پہلی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ وہ صرف اس شرط پر ساتھ رہنے کو تیار تھی کہ میں تصویر کو طلاق دے دوں۔ چونکہ میرے کاروبار میں سارا سرمایہ میرے سسر کا ہے، اس لیے میں انہیں نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے اپنے بچوں کی خاطر یہ ظالمانہ قدم اٹھانا پڑا، حالانکہ مجھے اسے ناحق طلاق دینے کا بے حد افسوس ہے۔ میں بہت مجبور تھا؛ یہ عورت واقعی مظلوم ہے۔ میں چوری چھپے اس کی مالی مدد تو کر سکتا ہوں لیکن اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا، کیونکہ صلح کے وقت میری پہلی بیوی نے اپنے والدین اور بھائیوں کے سامنے مجھ سے قرآن پر حلف لیا ہے کہ میں تصویر سے کوئی رابطہ نہیں رکھوں گا اور اسے حقیقی معنوں میں طلاق دے دوں گا۔”
تنویر کی زبانی حقائق علم میں آئے تو والد صاحب نے اپنے بزنس پارٹنر سے کہا: “اگر میں اس عورت سے نکاح کر لوں تاکہ اسے ایک باعزت زندگی اور مستقل تحفظ مل سکے، تو کیا تمہیں اس پر کوئی اعتراض ہوگا؟” تنویر نے جواب دیا: “مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے! سوائے اس کے کہ میں تمہارے گھر نہیں آؤں گا اور نہ ہی تصویر کو بیوی بنانے کے بعد تم میری کسی دعوت یا پارٹی میں شریک ہو سکو گے۔”
والد صاحب نے تنویر کی رائے سے اتفاق کیا اور تصویر خانم سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصے بعد تنویر نے والد صاحب سے اپنا بزنس الگ کر لیا، کیونکہ اس کے سالوں نے اسے اپنے کاروبار میں شراکت دار بنا لیا تھا تاکہ اس کے سرمائے پر ان کی مکمل نظر اور گرفت رہے۔
والد صاحب کی پہلی شادی ان دنوں دادا جان نے ان کی چچا زاد سے کرائی تھی جب وہ ابھی طالب علم تھے۔ شادی کے وقت ان کی چچا زاد کی عمر محض پندرہ برس تھی۔ ایک سال بعد بچے کی پیدائش کے دوران ان کا انتقال ہو گیا اور ڈاکٹر بچے کی جان بھی نہ بچا سکے۔ والد صاحب اپنی پہلی بیوی سے بچپن سے محبت کرتے تھے؛ دونوں ایک ہی گھر میں پلے بڑھے اور بچپن ساتھ کھیلتے گزرا تھا۔ ان کا نام ‘صنوبر’ تھا۔ صنوبر کی وفات نے میرے باپ کی دنیا اجاڑ دی، چنانچہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک دوسری شادی نہیں کی اور خود کو دادا جان کے بزنس میں مصروف کر لیا۔
دادا جان کی وفات کے بعد وہ مکمل طور پر اپنے کاروبار کے ہو گئے۔ صنوبر سے بچھڑ جانے کا غم ایسا تھا کہ صرف یادِ الٰہی ہی اس زخم کا مرہم بن سکتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا، لایعنی دوستوں کی محفلیں چھوڑ دیں اور اپنا تمام وقت کاروبار یا عبادتِ الٰہی میں گزارنے لگے۔ قدرت کو منظور تھا کہ وہ تصویر خانم سے نکاح کر کے ایک بڑی نیکی کی طرف راغب ہوں، سو میری والدہ کو اپنی زندگی میں شامل کر کے انہوں نے اپنا گھر بسا لیا۔ شادی کے دو سال بعد میری پیدائش ہوئی تو والد صاحب کو پہلی بار اولاد کی خوشی دیکھنا نصیب ہوئی۔
ان کی زندگی کے صحرا میں مدتوں بعد بہار آئی تھی، وہ بہت خوش تھے۔ وہ میری تعلیم و تربیت بہترین انداز میں کرنا چاہتے تھے۔ انہیں اولادِ نرینہ کی تمنا تھی، مگر یہ نعمت تو اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔ والد صاحب کے مقدر میں مزید اولاد نہ تھی۔ میری پرورش نہایت ناز و نعم سے ہونے لگی اور میں اسکول جانے لگی۔
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو پیدائشی طور پر کوئی نہ کوئی خوبی عطا کرتا ہے؛ مجھے حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ دلکش آواز سے بھی نوازا گیا تھا۔ بچپن ہی سے مجھے موسیقی میں ایک خاص کشش محسوس ہوتی تھی۔ اسکول کے ہر فنکشن میں میرا انتخاب لازمی ہوتا۔ جب میں بڑی کلاسوں میں پہنچی تو ڈراموں، ٹیبلوز اور لوک ورثہ کے پروگراموں میں میری کارکردگی نمایاں رہنے لگی اور مجھے خوب سراہا گیا، جس سے میرے دل میں موسیقی کا شوق مزید پروان چڑھا۔
محلے میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی میں تمام لڑکیوں میں نمایاں ہوتی۔ عورتیں فرمائش کر کے مجھ سے گانے سنتیں اور لڈی ڈالنے کا اصرار کرتیں۔ انہی دنوں ہمارے اسکول میں ‘میوزک کلاسز’ کا آغاز ہوا تو میں نے بھی اپنا نام لکھوا لیا اور باقاعدہ فنِ موسیقی سیکھنے لگی۔ ہفتے میں دو پیریڈز ہوتے اور میں انہیں اٹینڈ کرتے ہوئے دلی مسرت محسوس کرتی۔ جلد ہی ہمارے میوزک ٹیچر نے بھانپ لیا کہ میرے اندر ایک فنکارہ چھپی ہوئی ہے، جو اگر صحیح رہنمائی ملے تو ایک نامور گلوکارہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پرنسپل سے بات کی، جنہوں نے میری والدہ کو اسکول بلا کر انہیں میری اس صلاحیت سے آگاہ کیا۔
والدہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا: “یہ اسکول کی حد تک تو مشق جاری رکھ سکتی ہے، لیکن کسی باقاعدہ موسیقی کے ادارے سے رقص و سرور کی تربیت لینے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ ہم اسے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنی بیٹی کو ایسے مشاغل سے دور ہی رکھیں گے جن میں وقت کا زیاں ہو۔” ان دنوں میں آٹھویں جماعت میں تھی کہ اچانک والد صاحب کا ایک فضائی حادثے میں انتقال ہو گیا؛ یہ حادثہ ملک سے باہر دورانِ سفر پیش آیا۔ وہ بزنس کے سلسلے میں بیرونِ ملک گئے تھے، مگر وہ سفر ان کی موت کا پروانہ ثابت ہوا۔
ہماری دنیا لٹ چکی تھی۔ والد کے انتقال کے بعد والدہ بالکل بے آسرا ہو گئیں؛ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں، اس لیے کاروبار سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتی تھیں۔ میں ابھی کم سن تھی اور والد کا کوئی ایسا مخلص رشتہ دار بھی نہ تھا جو ان کا بزنس سنبھال پاتا۔ مجبوراً امی نے ابو کے بزنس پارٹنر ‘قادر’ سے خاموشی کے ساتھ وہ قلیل سرمایہ قبول کر لیا جو اس نے اپنی مرضی سے دے دیا اور دعویٰ کیا کہ آپ کے شوہر کا حصہ بس اتنا ہی بنتا ہے۔ یہ رقم اگرچہ کم تھی، لیکن اس کے سہارے ہم نے پانچ برس گزار لیے۔ اپنا ذاتی گھر ہونے کی وجہ سے چھت کا سہارا میسر تھا۔ میں نے میٹرک تو کر لیا اور کالج میں داخلہ بھی لیا، مگر ذہنی انتشار اور والد کی جدائی کے غم میں تعلیم جاری نہ رکھ سکی۔ دو سال تک پڑھائی کا سلسلہ منقطع رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب گھر چلانے کے لیے والدہ یا مجھے عملی طور پر کچھ کرنا تھا اور ذریعہ معاش تلاش کرنا ناگزیر ہو گیا۔
والدہ ملازمت نہیں کر سکتی تھیں اور نہ ہی ان کا کوئی وسیع سماجی حلقہ تھا۔ جن چند واقف کاروں سے ان کا رابطہ تھا، ان کا تعلق رقص و موسیقی کی دنیا سے ہی تھا۔ والدہ خود گلوکاری کے میدان سے عرصہ ہوا کنارہ کش ہو چکی تھیں، پھر بھی انہوں نے کوشش کی اور ان پرانے شناساؤں سے رابطہ کیا جنہیں وہ جانتی تھیں۔ ان میں سے صرف دو افراد نے ہمیں سہارا دیا؛ ایک صاحب تھیٹر سے وابستہ تھے اور دوسری ایک خاتون جو موسیقی کے پروگراموں کی منتظم تھیں۔
یہ دونوں افراد تعلیم یافتہ تھے، لہٰذا والدہ کی درخواست پر وہ ہمارے گھر تشریف لائے۔ امی نے انہیں چائے پر مدعو کیا تھا۔ جب مرزا صاحب اور نجمہ بیگم آئے، تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے امی سے کہا: “تمہاری مشق چھوٹ چکی ہے، اب دوبارہ گلوکاری کے میدان میں قدم جمانا مشکل ہے۔ آج کل کلاسیکی موسیقی کا دور نہیں رہا، اب پاپ میوزک کا زمانہ ہے، اور تم اداکاری کے لیے بھی موزوں نہیں ہو۔ ہاں! اگر تم اپنی بیٹی کو اس شعبے میں لانا چاہو تو ہم بھرپور مدد کر سکتے ہیں۔”
مجھے تو بچپن ہی سے گانے اور رقص کا جنون تھا، یہ سن کر میں نہال ہو گئی، مگر والدہ تذبذب کا شکار تھیں کہ اتنی کم عمری میں مجھے اسٹیج کی بے رحم دنیا میں لائیں یا نہیں۔ لیکن مجبوری انسان سے سب کچھ کروا لیتی ہے۔ ہمارا گزارہ مشکل ہوتا جا رہا تھا، بینک بیلنس ختم ہو چکا تھا، اور امی نے اخراجات کم کرنے کے لیے تمام ملازم نکال دیے تھے۔ گھر کی بتیاں اکثر بند رہتیں تاکہ بجلی کا بل کم آئے، یہاں تک کہ ٹیلیفون کا کنکشن بھی کٹوا دیا گیا تھا۔
انہیں سوچ میں ڈوبا دیکھ کر میں نے اصرار کیا: “امی! آپ مجھے فنِ موسیقی اور اداکاری کی تربیت کے لیے کسی آرٹ اکیڈمی میں داخل کرا دیں، میں آپ کو مایوس نہیں کروں گی۔ آپ گھبرائیں نہیں، اگر انسان کی اپنی نیت صاف ہو تو کوئی کام برا نہیں ہوتا۔ دیکھیے نا! آپ کا ماضی بھی اسی دنیا سے وابستہ تھا، مگر آپ کی روح میں وہ پاکیزگی تھی جو وہاں رہ کر بھی نہ مر سکی اور آپ نے دولت کے مقابلے میں ایک شریفانہ اور گھریلو زندگی کو ترجیح دی۔ میں ایک نیک باپ اور پاک طینت ماں کی بیٹی ہوں، ان شاء اللہ فنِ موسیقی میں کمال حاصل کر کے ملک کا نام روشن کروں گی اور اپنی کامیابی سے مفلسی کے ان اندھیروں کو دور بھگا دوں گی۔ سچا فنکار برائی سے ہمیشہ دور رہتا ہے۔”
ماں نہیں چاہتی تھی کہ میں اس کم سنی میں باہر کی دنیا کی تلخیوں کا سامنا کروں، مگر میں اپنی ضد پر اڑی رہی۔ میرے اندر ایک گلوکارہ بننے کا شوق جوالا مکھی بن کر ابل رہا تھا۔ والدہ کی خواہش تھی کہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر یا کوئی معزز شخصیت بنوں تاکہ اپنے باپ کا نام روشن کر سکوں، مگر میری ضد کے آگے ممتا نے ہار مان لی اور انہوں نے مجھے اپنی پرانی دوست نجمہ کے سپرد کر دیا۔ وہ مجھے آرٹ کے ادارے میں لے گئیں جہاں میں نے دو سال تک سخت ریاضت اور مشق سے خود کو اس قابل کر لیا کہ میڈیا پر اپنی آواز کا جادو جگا سکوں۔ جب میں آڈیشن کے لیے ٹی وی اسٹیشن گئی تو پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہو گئی۔ آغاز میں مجھے کم پروگرام ملتے تھے، لیکن جلد ہی وہ وقت آ گیا جب مختلف چینلز سے آفرز کی لائن لگ گئی۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اسٹیج ڈراموں میں بھی قسمت آزمائی کی کیونکہ اب میں خود مختار ہو چکی تھی۔ شہرت اور دولت کے دروازے مجھ پر کھلنے لگے تھے اور میرے پرستاروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔
ایک رات شو ختم ہونے کے بعد جب میں ڈھائی بجے گھر پہنچی تو والدہ کو شدید مضطرب پایا۔ دروازہ کھلتے ہی انہوں نے مجھ پر ملامت شروع کر دی: “تم نے میری راتوں کی نیند حرام کر دی ہے۔ میں تمہارا یہ انتظار برداشت نہیں کر سکتی اور نہ ہی مجھ میں رات بھر جاگنے کی سکت ہے۔ خبردار! اب تم ایسے کسی شو میں نہیں جاؤ گی جو دیر رات ختم ہوتا ہو۔ زمانہ بہت خراب ہے اور حالات بالکل سازگار نہیں۔”
میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی: “ماں! موسیقی کی محفلیں تو ہوتی ہی رات کو ہیں اور اکثر دیر تک جاری رہتی ہیں۔ شائقین اپنے پسندیدہ فنکاروں کو دیر تک سننا چاہتے ہیں اور بار بار فرمائشیں کرتے ہیں۔ اگر ان کی خواہشات کا احترام نہ کیا جائے تو شوز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ میرے پیشے کا ناگزیر حصہ ہے۔ آپ کو یہ سب برداشت کرنا ہوگا کیونکہ جس راستے پر میں قدم رکھ چکی ہوں، وہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ میری کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کریں، ورنہ میں کہیں کی نہیں رہوں گی۔” میری اس طویل تقریر کا ماں نے مختصر جواب دیا: “آئندہ تم ایسے پروگراموں میں نہیں جاؤ گی، ورنہ محلے والے ہمارا جینا دوبھر کر دیں گے۔ وہ اب تک تمہارے مرحوم باپ کی عزت کی خاطر خاموش ہیں۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے، تم میں اتنی سمجھ بوجھ نہیں کہ یوں راتوں کو غائب رہو۔”
میں نے پیشکش کی: “تو پھر آپ میرے ساتھ چلا کریں۔” انہوں نے فوراً رد کرتے ہوئے کہا: “یہ مجھے نہایت معیوب لگتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ راتوں کو ماری ماری پھروں۔ تم خود سمجھدار بنو، لوگ مجھے کس نظر سے دیکھیں گے؟” میں نے جھنجھلا کر کہا: “ماں! تو پھر میں کیا کروں؟ اگر آپ کو لوگوں کی اتنی ہی فکر ہے تو خود کمانا شروع کر دیں، میں گھر بیٹھ جاتی ہوں۔” اس کے بعد والدہ سے آئے روز تکرار رہنے لگی۔ بالآخر وہ ہار مان کر خاموش ہو گئیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا، کیونکہ اب ان کی روک ٹوک مجھ پر بے اثر ہو چکی تھی۔
سچ ہے کہ چڑیا جب ایک بار اپنے بچے کو اڑنا سکھا دیتی ہے تو وہ پلٹ کر کب واپس آتا ہے۔ میں نے بھی اس رنگین دنیا میں پرواز کے گر سیکھ لیے تھے اور اب میں مزید بلندیوں کو چھونا چاہتی تھی۔ آئے دن میڈیا کے نمائندے اور فوٹو گرافرز گھر آتے، جن سے میں خود ہی ڈیل کرتی جبکہ امی اپنے کمرے تک محدود رہتیں۔ تھیٹر میں میری کارکردگی سب کو حیران کر دیتی اور میں نے فن کی دنیا میں گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری میں بھی اپنا سکہ جما لیا تھا۔ ماڈلنگ میں پیسہ بہت تھا، چنانچہ جب بڑی اشتہاری کمپنیوں نے رابطہ کیا تو میں نے انہیں بھی مایوس نہ کیا۔ میں زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنا چاہتی تھی تاکہ میرا مستقبل محفوظ رہے اور میرا انجام ویسا نہ ہو جیسا میری ماں کا ہوا تھا۔
یہ میڈیا کا دور تھا، جہاں کامیابی کا راز نمائش، فیشن اور چکا چوند میں پوشیدہ تھا۔ اب مجھے بیرونِ ملک پرفارم کرنے کے مواقع بھی ملنے لگے۔ ہوائی جہازوں کے سفر اور وسیع دنیا کی سیر نے مجھے بدل کر رکھ دیا تھا۔ میں اکثر سوچتی کہ میں کیا تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ تعلیم سے تو مجھے کبھی رغبت نہ تھی؛ والد صاحب بھاری فیسیں ادا کرتے مگر میری تعلیمی کارکردگی معمولی ہی رہتی، لیکن میرے اندر جو پیدائشی جوہر تھا، اسے جلا بخشنے کا بھرپور موقع مل چکا تھا۔
مجھے وہ سب کچھ مل گیا تھا جس کے لیے لڑکیاں برسوں تگ و دو کرتی ہیں اور منزل پانے کی حسرت میں جوانی ہی میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جو راستہ دوسروں کے لیے کٹھن تھا، وہ میرے لیے آسان ثابت ہوا کیونکہ میرا فطری میلان ہی فن کی طرف تھا۔ اخبارات میں میرے انٹرویوز چھپتے اور فلمی خبروں میں میرا ذکر رہتا۔ یہ شہرت مجھے خوابوں کی نگری کا باسی بنا دیتی، جس سے میرے اندر مزید جوش پیدا ہوتا اور بہتر سے بہتر کارکردگی کا جذبہ تسکین پاتا۔
لیکن ہر عروج کے بعد زوال یقینی ہوتا ہے، اور میرا زوال تو شاید عروج سے پہلے ہی دستک دینے لگا تھا۔ ایک صاحب، جو انتہائی دولت مند تھے اور میرے بڑے مداح تھے، انہوں نے میرا ایک شو دیکھنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا۔ ان کی عقیدت میں ایک ایسی والہانہ کیفیت تھی کہ میں نے انہیں ملاقات کا وقت دے دیا۔ وہ میرے گھر آئے؛ ایک سمارٹ اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے شادی کی پیشکش کر دی۔
ان دنوں میری عمر چوبیس برس تھی۔ میرے دل میں بھی ایک جیون ساتھی اور گھر بسانے کی خواہش سر اٹھانے لگی تھی۔ مشتاق نے جس والہانہ انداز میں شادی کی پیشکش کی، میں اسے فوراً رد نہ کر سکی اور سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگ لیا۔ میرا اتنا کہنا ہی اس کے لیے بہت تھا۔ وہ مجھے مسلسل فون کرتا اور میں جب بھی فارغ ہوتی، اس سے بات کرتی۔ رفتہ رفتہ اس کی آواز کا جادو مجھ پر چلنے لگا اور میرے دل میں اس کے لیے محبت کے جذبات جنم لینے لگے۔ بالآخر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ یہ جوانی، یہ حسن، یہ شہرت اور چکا چوند والی زندگی آخر کب تک رہے گی؟ جوں ہی حسن ماند پڑے گا، پرستار بھی رخصت ہو جائیں گے اور میری جگہ کوئی اور حسین و نوخیز چہرہ لے لے گا۔ تب میں کیا کروں گی؟ گھر بسانے کی یہی صحیح عمر ہے، کیوں نہ مشتاق کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کروں۔
والدہ اکثر بیمار رہنے لگی تھیں اور اب صاحبِ فراش تھیں۔ ان کی بھی یہی تمنا تھی کہ میں اب اپنا گھر بسا لوں۔ چنانچہ میں نے مشتاق کی پیشکش قبول کر لی اور اس کے بارے میں زیادہ چھان بین کرنا ضروری نہ سمجھا اور ہمارا نکاح ہو گیا۔ نکاح کے بعد اس نے پہلی شرط یہ رکھی کہ اب میں کسی شو میں حصہ نہیں لوں گی، گلوکاری چھوڑ دوں گی اور شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ دوں گی۔ اگرچہ میں اس رنگین دنیا سے ناطہ توڑنا نہیں چاہتی تھی، مگر میں مشتاق کو بھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔ ایک مستحکم گھر اور شوہر کی خاطر میں نے اپنے فن کی قربانی دے دی اور گھریلو زندگی کا انتخاب کر لیا۔
انسان بعض اوقات انتخاب میں بہت بڑی غلطی کر جاتا ہے؛ میں نے بھی مشتاق کو شریکِ حیات چن کر ایسی ہی ایک ٹھوکر کھائی تھی۔ وہ ویسا ہرگز نہ تھا جیسا میں اسے سمجھتی رہی تھی۔ وہ ایک قطعی غیر مخلص انسان تھا، جو پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ تھا، مگر اس نے یہ حقیقت مجھ سے چھپائے رکھی۔ اس کی بیوی اور بچے گاؤں میں رہتے تھے؛ وہ خود تو ان سے ملنے جاتا مگر انہیں کبھی شہر نہ لاتا تھا۔
رفتہ رفتہ اس کے کردار کے عیوب مجھ پر آشکار ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ وہ لوگوں کو ناجائز طریقے سے بیرونِ ملک بھجوانے کا مکروہ دھندہ کرتا ہے۔ وہ سادہ لوح لوگوں سے ویزے کے نام پر لاکھوں روپے بٹورتا اور انہیں چھوٹی کشتیوں میں بھر کر سمندر کے پرخطر سفر پر روانہ کر دیتا۔ یہ ایک باقاعدہ گروہ تھا جسے صرف دولت جمع کرنے سے غرض تھی؛ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہ تھا کہ وہ غریب لوگ، جو اپنی جمع پونجی ان کے حوالے کر دیتے تھے، منزلِ مقصود تک پہنچیں گے بھی یا بیابانوں میں رل جائیں گے۔ لانچ والے انہیں کسی انجانے ساحل پر یہ کہہ کر اتار دیتے کہ کل دوسری لانچ آئے گی جو تمہیں آگے لے جائے گی۔
یہ سب سراسر جھوٹ ہوتا۔ وہاں کوئی لانچ نہ آتی اور وہ مسافر انتظار کرتے کرتے جنگلوں میں بھٹکتے رہتے۔ کئی بھوک اور پیاس سے دم توڑ دیتے اور پھر ان کی لاشیں گدھوں اور بھیڑیوں کی خوراک بن جاتیں۔ ان میں اکثر وہ دیہاتی نوجوان ہوتے جنہیں یونان لے جا کر محنت مزدوری کروانے کا جھانسا دیا جاتا تھا۔
جب مجھے ان حقائق کا علم ہوا تو میں نے مشتاق کو ٹوکا: “یہ سب بند کر دو! میں نے اپنے فن اور محنت سے شہرت اور دولت کمائی تھی، مگر تم نے اسے ‘برا پیشہ’ کہہ کر مجھے روک دیا اور میں نے تمہاری خاطر سب چھوڑ دیا۔ اب تم بھی میری بات مان لو، کیونکہ جس طریقے سے تم پیسہ کما رہے ہو، وہ ایک شرمناک اور نہایت غلیظ دھندا ہے۔” میری بات تسلیم کرنے کے بجائے، اس نے غصے میں میرے منہ پر ایک زوردار تھپڑ دے مارا۔
اس دن سے ہمارے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گئی۔ اس نے مجھے دھمکی دی: “اگر میں چاہوں تو تمہیں بھی غیر ملک اسمگل کر کے بیچ سکتا ہوں۔” اس دھمکی نے میرے وجود کو لرزا کر رکھ دیا؛ جس انسان کا ضمیر مر چکا ہو، اس سے کسی بھی قبیح فعل کی توقع کی جا سکتی تھی۔ مجھے اپنے ہی شوہر سے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ انہی کٹھن دنوں میں والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور میں اس وسیع دنیا میں بالکل تنہا رہ گئی۔ میں نے اپنی محنت سے جو کچھ بھی کمایا تھا، وہ اب مشتاق کے قبضے میں تھا، مگر میں نے اس مالی نقصان کو بھی برداشت کر لیا اور ایک روز محض تین کپڑوں میں اس کے چنگل سے نکل بھاگی۔
میں نے نجمہ آنٹی کے گھر پناہ لی اور ان کے ذریعے مشتاق کو فون کرایا۔ نجمہ آنٹی نے اسے صاف کہہ دیا: “اگر تم نے شرافت سے طلاق نہ دی تو یہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی اور وہاں تمہارے تمام کالے کرتوتوں کے ثبوت بھی پیش کر دے گی۔” یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور مشتاق نے مجھے طلاق دے دی، لیکن ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی: “اگر میرے بارے میں کسی کو زبان ہلائی تو یاد رکھنا، تمہاری مسخ شدہ لاش کسی جھاڑی سے ملے گی۔” نجمہ آنٹی نے مجھے سمجھایا: “بچی! تم اس بدمعاش کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک پورا گروہ ہے اور یقیناً کوئی طاقتور ہاتھ ان کی پشت پناہی کر رہا ہوگا۔ تمہاری جان چھوٹ گئی، بس اسی پر شکر ادا کرو اور اس کے بارے میں کبھی لب کشائی نہ کرنا، ورنہ واقعی جان سے جاؤ گی۔ ایسے لوگوں کو اللہ خود اپنے وقت پر پکڑتا ہے۔”
نجمہ آنٹی کی بات درست تھی۔ میں خاموش ہو گئی اور دوبارہ ان کے توسط سے شوبز میں چھوٹے موٹے کام حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کر دی، کیونکہ طویل غیر حاضری کی وجہ سے میری شہرت کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا۔
ایک دن اچانک خبر ملی کہ مشتاق گرفتار ہو چکا ہے۔ اس پر منی لانڈرنگ، انسانی اسمگلنگ، بردہ فروشی اور منشیات کی تجارت جیسے سنگین الزامات تھے۔ میں تو دعا ہی کرتی تھی کہ وہ خدا کی پکڑ میں آ جائے؛ آخر اللہ نے میری اور ان دکھی ماؤں کی سن لی جن کے جگر گوشوں کو اس نے بیرونِ ملک کے جھانسے دے کر سمندر کی بے رحم لہروں کے سپرد کر دیا تھا۔ نہ جانے کتنے معصوم نوجوان سفر کے دوران سمندر میں غرق ہوئے اور کتنے ہی منزل تک پہنچنے سے پہلے صحراؤں کی بھوک پیاس کی نذر ہو گئے۔ جو کسی طرح سرحد پار کر بھی گئے، وہ سیکیورٹی اہلکاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر جیلوں کی نذر ہو گئے۔
خدا جانے انسان اتنا سنگ دل کیسے ہو جاتا ہے جو دولت کی ہوس میں اپنے جیسے انسانوں کو مصائب کی دلدل میں دھکیل کر بھی پرسکون رہتا ہے اور اسے کبھی ضمیر کی ملامت محسوس نہیں ہوتی۔ ان سے تو ہم فنکار ہی بہتر ہیں جو اپنی محنت سے مقام بناتے ہیں اور ضمیر کے اطمینان کے ساتھ جیتے ہیں۔ مشتاق سے شادی اور طلاق کے حادثے نے میری شہرت کو جو دھچکا پہنچایا، اس کی وجہ سے میں وہ مقام تو دوبارہ حاصل نہ کر سکی، مگر پھر بھی مطمئن ہوں کہ میں ایک صاف ستھری زندگی گزار رہی ہوں اور امید ہے کہ کسی نہ کسی دن اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ پا لوں گی۔
(ختم شد)

