دادا جان کے ایک چچازاد بھائی کمال دین کی بیٹی فاطمہ بہت خوبصورت تھی اور والد صاحب کو پسند تھی، لیکن وہ عمر میں میرے والد سے پندرہ برس چھوٹی تھی۔ اس کا باپ راضی نہیں تھا۔ اس کا باپ بیٹی کے بدلے وٹے سٹے میں رشتہ حاصل کر کے خود بھی شادی کرنا چاہتا تھا۔ والد صاحب نے پھپھو سے کہا کہ اگر کمال دین بدلے میں رشتہ مانگ رہا ہے، تو میں اپنی بیٹی شاداں کا نکاح اس کے ساتھ کرنے پر تیار ہوں۔
👇cknwrites👇
👇cknwrites👇
اسکول گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ دادا نے چاہا کہ چھوٹا بیٹا ہی تعلیم حاصل کر لے، بڑے دونوں تو کھیتی باڑی میں مگن رہتے تھے۔ یوں ابا سے انہوں نے امیدیں وابستہ کر لیں، لیکن انہوں نے پڑھائی میں دلچسپی نہ لی۔ صرف سات جماعتیں پاس کیں اور مڈل کا امتحان دے کر اسکول سے بھاگ نکلے۔دادا نے سختی کی کہ تم نے اسکول جانا ہے، کم از کم میٹرک تو کر لو۔ اس سختی کا یہ اثر ہوا کہ ابا بگڑے ہوئے لڑکوں کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے لگے۔ پہلے سگریٹ، پھر چرس شروع کر دی۔ اس صورتِ حال سے گھبرا کر دادا جان نے سوچا کہ بیٹے کو شادی کے بندھن میں باندھ دینا چاہیے، شاید اس طرح حالات ٹھیک ہو جائیں اور آوارگی کم ہو جائے۔ قرعہ فال میری والدہ بشریٰ کے نام نکلا اور ان کی قسمت میرے ابا جان کے ساتھ پھوٹ گئی۔امی نے چھ جماعتیں پاس کی تھیں، تب ان کی عمر محض سولہ برس تھی، اور وہ دادا کے بھائی کی بیٹی تھیں۔
گاؤں کے رواج کے مطابق ان دنوں رشتے صرف اپنے خاندان میں ہوتے تھے، خواہ جوڑ کے ہوں یا بے جوڑ، یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔والد نصیر الدین غالباً شادی کی ذمہ داریوں کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ اپنی شادی سے خوش نہیں تھے۔ یوں وہ سدھرنے کے بجائے اور زیادہ بگڑ گئے۔ یہ شادی انہوں نے اپنے والد کے دباؤ میں کی تھی، دل سے اپنی دلہن کو قبول نہیں کیا تھا۔ پہلے روز سے ہی بے رخی اختیار کر لی۔وہ بیوی کو اہمیت نہیں دیتے تھے، نہ ہی ہنس کر بات کرتے، تبھی ان کی شریکِ حیات مغموم رہتیں۔ شادی سے پہلے وہ کھیتوں میں تھوڑا بہت کام بھی کر لیا کرتے تھے، اب وہ بھی چھوڑ دیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ رہتے۔دادا جان سمجھے، چند دن کا ماتم ہے، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا، بیوی سے بھی دل لگ جائے گا، مگر ایسا نہ ہوا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، وہ اور سست اور کاہل ہوتے گئے۔ زیادہ وقت پہلوانی، کبڈی اور یار باشی میں بسر کرنے لگے یا پھر چرس کا کش لگا کر لمبی تان کر سو جاتے۔تمام دن دوستوں میں گزار کر آتے، تو گھر میں سب سے منہ بنا ہوتا۔ بیوی کچھ کہنے کی کوشش کرتیں، تو انہیں بے بھاؤ کی سنا دیتے۔ کبھی ہاتھ بھی اٹھ جاتا۔ اس ڈر سے بیچاری سانس گھونٹ گھونٹ کر ہماری ماں جی رہی تھیں۔
جب شوہر عزت نہ کرے، دکھ سکھ کا خیال نہ رکھے، تو دوسرے بھی اس عورت کو عزت نہیں دیتے، خصوصاً سسرال والے۔ ہماری ماں کی بھی اہمیت بس اتنی تھی کہ سسرال میں سب ان سے کام کرواتے اور انہیں گھر کی باندی سمجھتے تھے۔ وہ خاموشی سے کام کرتیں، منہ سے ایک لفظ نہ نکالتیں۔اللہ کریم نے سال کے سال ان کی گود میں بچے بھی ڈالنے شروع کر دیے، تو وہ اولاد کے بوجھ تلے دبتی چلی گئیں۔ جب تک دادا، دادی حیات تھے، وہ ہمارا کچھ خیال کر لیتے تھے۔ ان کے بعد ماں بالکل بے آسرا ہو گئیں، کیونکہ جس عورت کا شوہر ساتھ نہ دے، اس کی اولاد دوسروں کے رحم و کرم پر پلتی ہے۔اور دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والوں کا جو حال ہوتا ہے، وہی ہمارا بھی ہونے لگا۔ ماں تمام دن گھر اور کھیتوں میں کام کرتیں، چارہ کاٹ کر لاتیں، دودھ دوہتیں، مکھن نکال کر گھی بناتیں، جو ہمارے چچا شہر لے جا کر فروخت کر دیا کرتے تھے۔
شہر میں فروخت کرنے کو امی چٹائیاں اور چنگیریں تک بُنتی تھیں تاکہ خرچہ کسی اور سے مانگنا نہ پڑے۔ گندم، دودھ اور سبزیاں وغیرہ گھر کی ہوتی تھیں، پھر بھی کپڑے لتے، جوتا، صابن، تیل کے لیے رقم درکار ہوتی تھی۔اور ہمارے باپ کا یہ حال تھا کہ وہ چرس کا ایک سگریٹ پی کر جاڑے کی دھوپ میں چارپائی پر چادر اوڑھ کر سو جاتے، تو شام کو اٹھتے، جب کھانا تیار ہو جانے پر اس کی خوشبو ان کی ناک میں جاتی۔ہماری ماں اتنی محنت کے باوجود رقم جمع نہ کر پاتیں۔ ہمیں ضرورت کی اشیاء کے لیے تایا اور چچا کی طرف دیکھنا پڑتا تھا۔ میرے والد کو یہ احساس بھی نہ تھا کہ ان کے بھائی کے بچے اسکول جاتے ہیں، اچھا کھاتے پہنتے ہیں، اور ان کے اپنے بچے اسکول کی وردی اور کتابوں کو ترستے ہیں۔ہم اسی طرح ماں کی محنت پر جی رہے تھے۔ ان دنوں میری عمر صرف بارہ سال تھی، جب امی ٹی بی میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئیں۔ ان کو تو ہر غم سے نجات مل گئی، مگر ہمارے دکھ دوگنے سے بھی بڑھ کر ہو گئے۔امی کو ہمہ وقت ہلکا ہلکا بخار رہتا، خشک کھانسی رہتی تھی، مگر انہیں شہر کے اسپتال لے جانے کے تردد سے ہر کوئی بچتا رہا، یہاں تک کہ بیماری نے مکڑی کے جالے کی طرح ان کے وجود کو جکڑ لیا۔آخر دم میں انہیں اسپتال لے جایا گیا، مگر اس ناتواں پنجر میں اب بچا ہی کیا تھا؟ تب بھی سب ملال کر رہے تھے، مگر اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
ہم چار بچوں کو روتا دیکھ کر ابا بھی ہاتھ ملنے لگے کہ بچوں کو سنبھالنے والی، دن رات ان کی خدمت کرنے والی، آناً فاناً اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی اور ساری ذمہ داری ابا پر آ پڑی تھی۔ تب والد صاحب زندگی میں پہلی بار واقعی پریشان دکھائی دینے لگے۔تائی اور چچی نے ہمیں اپنے ساتھ رکھنے سے صاف انکار کر دیا۔ کوئی چارہ نہ پا کر ابا نے ہم چاروں بچوں کو اپنی بڑی بہن کے گھر پہنچا دیا۔ اب سب نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ دوبارہ گھر بسا لیں، ورنہ بچے یوں ہی دربدر رہیں گے۔ یہی مشورہ پھپھو نے بھی دیا، کیونکہ ان کے بس میں نہیں تھا کہ چار بچوں کی پرورش کریں، جب کہ ان کے اپنے بھی چھ بچے تھے۔کبھی پھپھو ہم سے پیار کرتیں، تو کبھی مار بھی دیتی تھیں۔ اتنے سارے بچوں نے مل کر انہیں پاگل کر رکھا تھا، تاہم وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ ہم سب کافی سمجھ دار ہو گئے اور اپنے آپ کو کسی حد تک سنبھالنے لگے۔دادا جان کے ایک چچازاد بھائی کمال دین تھے، جن کی زمین ہمارے دادا کی زمین کے قریب تھی۔ ان کی بیٹی فاطمہ بہت خوبصورت تھی اور والد صاحب کو پسند تھی، لیکن وہ عمر میں میرے والد سے پندرہ برس چھوٹی تھی۔
والد صاحب چاہتے تھے کہ اس لڑکی سے شادی کر لیں، لیکن اس کا باپ راضی نہیں تھا۔ دراصل وہ بے حد حسین لڑکی تھی، اور اس کا باپ بیٹی کے بدلے وٹے سٹے میں رشتہ حاصل کر کے خود بھی شادی کرنا چاہتا تھا۔ والد صاحب نے پھپھو سے کہا کہ اگر کمال دین بدلے میں رشتہ مانگ رہا ہے، تو میں اپنی بیٹی شاداں کا نکاح اس کے ساتھ کرنے پر تیار ہوں۔یہ سودا درحقیقت بڑے گھاٹے کا تھا، کیونکہ والد صاحب تو ابھی جوان آدمی تھے اور فاطمہ سے صرف پندرہ سال بڑے تھے، جبکہ کمال دین عمر رسیدہ شخص تھا، اور شاداں بہن ابھی صرف پندرہ سال کی بچی تھی۔والد صاحب کو اپنی خواہش عزیز تھی، لہٰذا انہوں نے یہ سودا منظور کر لیا، کیونکہ گھاٹا انہیں نہیں بلکہ شاداں کو ہو رہا تھا۔ یوں بیچاری شاداں، باپ کی خواہش کی خاطر پینسٹھ سالہ کمال دین کے نکاح میں دے دی گئی، اور فاطمہ ایک جھلملاتی پری کی مانند ہمارے ابا کے گھر آ گئی۔نئی ماں کے آتے ہی پھپھو نے ہمیں والد کے گھر واپس بھیج دیا، کیونکہ اب ہمیں روٹی پکا کر کھلانے والی آ گئی تھی۔
فاطمہ اچھی لڑکی تھی، وہ ہم سے محبت کرتی تھی اور ہمارا خیال رکھتی تھی۔ وہ ہمارے لیے خوش نصیب ثابت ہوئی۔ اس سے شادی کے بعد ابا نے کھیتی باڑی میں دلچسپی لینی شروع کر دی، اور اپنے حصے کی زمین بھائیوں سے الگ کر کے خود محنت کرنے لگے۔ اس طرح ہم کچھ آسودہ حال ہو گئے۔کچھ عرصہ گزرا تو ابا نے سوچا کہ کھیتی باڑی میں سخت محنت درکار ہے، جو ان کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے اپنے حصے کی زمین فروخت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ جب تایا اور چچا کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ابا کو روکنے آئے اور کہنے لگے کہ زمین سے ہی عزت ہے، یہ روزی روٹی کا مستقل ذریعہ ہے۔ اگر اسے بیچ دیا تو تم کنگال ہو جاؤ گے۔ نہ تم پڑھے لکھے ہو، نہ نوکری ملے گی، آخر کرو گے کیا مگر والد صاحب کے دل میں کاروبار کرنے کا ارادہ گھر کر چکا تھا۔ انہوں نے بھائیوں کی بات نہ مانی۔ تب بھائیوں نے سوچا کہ ابا کے حصے کی زمین خود ہی خرید لیں اور رقم دے کر زمین اپنے نام کروا لیں۔والد صاحب کو جب رقم ملی، تو وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ ان کا ایک دوست شہر میں رہتا تھا، ابا نے اس سے مشورہ کیا۔ دوست نے کہا کہ تم رقم لے کر شہر آ جاؤ، میں تمہیں یہاں کاروبار کرا دوں گا۔وہ دوست خود بھی کاروبار کرتا تھا اور اچھا خاصا کامیاب تھا۔ اس نے ابا کو ایک دکان دلوا دی، تو انہوں نے ایک جنرل اسٹور کھول لیا۔ دکان اچھی چلنے لگی اور گھر کا گزارہ بہتر ہو گیا۔زندگی میں پہلی بار ہم نے سکھ کا سانس لیا، پیٹ بھر کر روٹی کھائی۔ کسی قسم کی مالی پریشانی نہیں تھی۔ ابا اب سدھر چکے تھے، لیکن یہ سکھ میری پہلی ماں کے نصیب میں نہ تھا۔فاطمہ کی تقدیر اچھی نکلی۔ وہ واقعی قسمت کی دھنی ثابت ہوئی۔ خیر، یہ سب اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے۔
دو چار سال بعد ہمارے مالی حالات اتنے اچھے ہو گئے کہ والد صاحب نے مکان بھی خرید لیا اور ایک اور دکان کھول لی۔ میں اور مجھ سے چھوٹا بھائی اب باشعور ہو چکے تھے۔ چھوٹی بہن فرزانہ ان دنوں سات آٹھ برس کی تھی اور وہ اسکول جاتی تھی۔ والد صاحب نے دوسری دکان بھائی کے حوالے کر دی۔ وہ اس کی شادی چچا کی بیٹی نعیمہ سے کرنا چاہتے تھے۔جن دنوں ہم بھائی کی شادی کے لیے گاؤں گئے ہوئے تھے، انہی دنوں میری بڑی بہن شاداں کا خاوند کمال الدین چل بسا اور وہ بھری جوانی میں بیوہ ہو گئی۔ یہ دکھ بڑا بھاری تھا اور اس سے بھی بڑھ کر دکھ کی بات یہ تھی کہ آپا کے جیٹھ، جو کمال الدین سے بھی دو چار سال بڑے تھے، اب اپنی بیوہ بھاوج یعنی میری آپا شاداں سے شادی کے خواستگار تھے۔ ان کی منطق یہ تھی کہ ہم نے فاطمہ کے بدلے شاداں کو لیا تھا؛ فاطمہ واپس کر دو اور شاداں کو لے جاؤ، ورنہ تمہاری لڑکی کو جیٹھ سے شادی کرنا ہو گی تاکہ فاطمہ کا گھر بار قائم رہے۔ یہ گاؤں والوں کی ایک بد رسم تھی، جو آج بھی یہاں کے بہت سے دیہات میں رائج ہے۔ اب بیچاری شاداں پریشان تھی کہ پہلے ہی زندگی کے چند نوخیز سال ایک بوڑھے کے ساتھ گزار چکی تھی؛ اب دوسرے کی بیوی بننے پر ہر گز آمادہ نہ تھی۔
فاطمہ کو اس کے تایا نے کہلوایا کہ اگر شاداں مجھ سے نکاح ثانی پر راضی نہیں، تو تم نصیر الدین کا گھر چھوڑ کر آجاؤ۔ جب تم آؤ گی تو ہم عدالت سے تمہارے نکاح کی تنسیخ کروالیں گے۔ آپا شاداں روتی ہوئی میرے بھائی کے پاس آئی اور فریاد کی کہ میرے بھائی، تم ہی کچھ کرو اور مجھے ان بڑوں سے نجات دلواؤ، ورنہ مجھے کنویں میں دھکا دے دو۔ ادھر فاطمہ پریشان تھی؛ وہ نہ میکے جانا چاہتی تھی اور نہ ہی عدالت سے خلع لینا چاہتی تھی۔بھائی بغیر والد کو بتائے شاداں کے جیٹھ کے پاس گیا اور کہا کہ وہ اپنی بیوہ بہن کو لینے آیا ہے، کیونکہ اس کے اولاد بھی نہیں ہوئی، لہٰذا اس کا اب سسرال میں رہنے کا جواز نہیں ہے۔ وہ تم سے نکاح پر راضی نہیں۔ زبردستی نکاح کرواؤ گے تو میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا اور یہ بھی سن لو، امی فاطمہ تمہارے گھر آنے پر راضی نہیں، وہ اپنا باپ یا گھر اجاڑنے والی عورت نہیں۔ وہ عدالت جا سکتی ہیں۔ اس سے تمہاری نہ صرف عزت مجروح ہو گی بلکہ مقدمے پر روپیہ بھی ضائع ہو گا۔ بہتر ہے کہ اس وٹے کے بدلے کی ضد چھوڑ دو۔ ہاں، اگر رقم لینا چاہتے ہو تو بتاؤ، میں تیار ہوں۔فاطمہ کے تایا ایک سمجھدار آدمی تھے۔
انہوں نے جان لیا کہ میرا بھائی دباؤ میں آنے والا بندہ نہیں ہے۔ یوں انہوں نے ایک لاکھ روپے کے بدلے شاداں کو واپس کرنا منظور کر لیا۔ بھائی نے رقم ادا کر دی اور اپنی بہن کو گھر لے آیا۔ بھائی نے یہ کام ابا سے مشورہ کیے بغیر کیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک لاکھ دے کر بیٹی واپس میکے لانے پر ابا راضی نہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹی تو کسی نہ کسی کو بیاہنی ہی ہوتی ہے، لیکن روپیہ بڑی مشکل سے آتا ہے۔ گویا شاداں کو اس کے جیٹھ کے ساتھ بیاہنے میں میرے والد کو کوئی ہرج نظر نہیں آ رہا تھا؛ اسی لیے بھائی نے معاملہ ان کے علم میں لائے بغیر از خود حل کر لیا۔ابا ابھی گاؤں میں تھے۔ بھائی نے ایک لاکھ کی ادائیگی کے لیے وہ دکان فروخت کر دی تھی جس پر وہ بیٹھا کرتا تھا۔ جب ابا کو اس معاملے کا علم ہوا تو وہ غصے میں بھائی کو برا بھلا کہنے لگے کہ بہن کو واپس لانے کے لیے تم نے اپنے رزق کا ذریعہ فروخت کر دیا۔
وہ جس گھر بہو بن کر گئی تھی، دوبارہ اسی گھر کی بہو بن کر وہاں رہنے میں کیا عیب تھا؟ اس طرح ہمارا رشتہ بھی ان لوگوں سے نہ ٹوٹتا۔ اب دوبارہ کیسے دکان خرید سکے گا؟ کب کمائے گا اور تیرا گھر آباد ہو گا؟ جب روزگار نہ ہو گا، کون تم کو لڑکی دے گا؟ یہ تو تم نے بڑا گھاٹے کا سودا کر لیا۔ ابا کی باتیں سن کر شاداں رونے لگی۔ تب بھائی نے اسے گلے لگایا اور کہا کہ ابا نے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے تمہیں قربانی کا بکرہ بنایا اور ایک بوڑھے سے بیاہ دیا، مگر میں اب کبھی اپنی بہنوں کے ساتھ ایسا ظلم نہیں ہونے دوں گا۔ شکر ہے کہ ہم شہر میں آباد ہیں اور میں نے کالج سے تعلیم حاصل کر لی۔ تعلیم نے میری سوچوں کو روشنی عطا کی۔ واقعی تعلیم یافتہ ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ مجھے سمجھ آ چکی ہے کہ میں آئندہ اپنی بہنوں کی زندگیاں برباد نہ ہونے دوں گا۔ میں جوان ہوں، دوبارہ پیسہ کما لوں گا۔
محنت مشقت کر کے دوبارہ دکان بنا لوں گا۔ اس نے ابا کو بھی تسلی دی کہ ایک لاکھ روپیہ کچھ نہیں۔ تم ایک لاکھ پر روتے ہو، میں تم کو ان شاء اللہ کئی لاکھ کما کر دوں گا، مگر اب ان رسموں کو ختم ہونا چاہیے۔ بھائی کوشش کرتے رہے۔ بالآخر ایک دوست کی وساطت سے انہیں دبئی جانے کا موقع ملا، جہاں انہیں اچھی ملازمت حاصل ہو گئی۔ انہوں نے وہاں سے کافی رقم کما کر گھر بھیجنی شروع کر دی۔ بھائی نے اللہ پر بھروسہ کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی۔پانچ سال بعد جب وہ وطن واپس لوٹے، تو اتنی رقم ساتھ لائے کہ دوبارہ دکان خرید لی۔ کچھ عرصے بعد وہ دکان ایک بڑے جنرل اسٹور میں تبدیل ہو گئی۔ تایا نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دے دی، یوں بھائی کا گھر بھی بس گیا۔ ہم بہنوں کی شادیاں بھی بغیر وٹے سٹے کی رسم کے، اپنے چچا زاد بھائیوں سے ہو گئیں۔ابا کہتے ہیں کہ جو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، ان کا بیڑا ایسے ہی پار ہو جاتا ہے، اور وہ غلط رسم و رواج کی بیڑیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
