دیوتا - 3

devta urdu novel urdu font

اس کے بعد میرا شوق اور دیوانگی بڑھ گئی۔ میں نے روہی کے کنارے ایک مخصوص جگہ پر ایک درخت کے تنے پر چھوٹا سا دائرہ بنایا۔ ہر روز صبح منہ اندھیرے وہاں جا کر بابا جی کی سکھائی ہوئی التسخیر کی مشقیں کرتا۔ مجھے کھانے، پینے، پہننے اور اوڑھنے کا کوئی ہوش نہ رہتا۔ میں کئی کئی دن ایک ہی لباس پہنے رکھتا۔ میری داڑھی بڑھ گئی تھی اور دیوانوں جیسی حالت ہو گئی تھی۔

مشقوں کے دوران مجھ سے کئی بار غلطیاں ہوئیں۔ کبھی ایک انجانا سا خوف طاری ہو جاتا، کبھی وقتی طور پر میرا ذہنی توازن ڈگمگا جاتا، کبھی تیز بخار چڑھ جاتا، لیکن میری ثابت قدمی میں کوئی کمی نہ آئی۔

درخت کے تنے پر بنائے ہوئے دائرے کو میں بتدریج بڑھاتا گیا۔ اسی حالت میں تین سال گزر گئے۔ میری نگاہوں میں ایسی قوت پیدا ہو چکی تھی کہ وہ دائرہ، جو اب چاند کے برابر ہو چکا تھا، میری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا۔ جہاں نظر اٹھا کر دیکھتا، وہاں بے شمار روشن دائرے بننے لگتے۔ مجھے سیاہ دائرے کی تاریکی میں روشنی کا سراغ مل رہا تھا، یا یوں کہیے کہ انسانی دماغ کے تاریک تہہ خانوں میں اترنے کا راستہ نظر آنے لگا تھا۔

اس کے بعد میں نے اپنی حالت سنبھال لی۔ میں داڑھی بنانے اور صاف ستھرے کپڑے پہننے لگا۔ تین سال کی دیوانگی سے فرزانگی کی طرف آیا تو میری شخصیت میں عجیب نکھار پیدا ہو گیا۔ میری آنکھوں میں ایسی مقناطیسی قوت پیدا ہو گئی کہ اس کا اثر سب سے پہلے زرینہ پر پڑا کیونکہ وہ مجھ سے سب سے زیادہ قریب تھی۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہمارا آمنا سامنا ہوتا تھا، اور وہ میری طرف کھنچی چلی آتی۔ بظاہر وہ بہت سادہ اور شرمیلی سی تھی۔

میں نے اپنے علم کو زرینہ پر آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دن جب پھوپھی سکول چلی گئیں تو میں نے دروازے کو اندر سے بند کر دیا۔ زرینہ میری اس حرکت کو چور نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

میں نے کہا، "میرے کمرے میں چلو۔" وہ شرمانے لگی۔ اچانک اس کے رخسار تمتمانے لگے۔ شرماتی لجاتی وہ میرے کمرے میں آ گئی۔
میں نے دھیمے لہجے میں کہا، "بستر پر لیٹ جاؤ۔"
اس نے حیا سے بل کھا کر منہ دوسری طرف کر لیا۔ میں نے قدرے تحکمانہ لہجے میں کہا، "جو میں کہتا ہوں، وہ کرو۔ بستر پر لیٹ جاؤ۔"

ہپناٹزم کے لیے میری آواز میں گونج اور گرج تھی، ساتھ ہی شہد کی سی شیرینی اور ملائمت بھی۔ وہ چپ چاپ سکڑ کر بستر پر لیٹ گئی۔

میں نے کہا، "اس طرح نہیں، چت لیٹ کر ہاتھ پاؤں سیدھے کرو اور میری طرف دیکھتی رہو۔"
اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا، پھر دیکھتی رہی۔ آہستہ آہستہ اس نے ہاتھ پاؤں سیدھے کر لیے اور چت لیٹ گئی۔ میری نگاہیں اس کی نگاہوں میں اترنے لگیں، اس کی آنکھوں کے راستے اس کے دماغ تک پہنچنے لگیں۔

میں نے بھاری لہجے میں بولنا شروع کیا، "تم آرام اور سکون سے لیٹی رہو۔ میری آنکھوں کے سوا اس دنیا کا کوئی نظارہ تمہارے سامنے نہیں ہے۔ تم اپنے آس پاس کے ماحول سے غافل ہوتی جا رہی ہو۔"

اس کی آنکھیں یوں کھلی تھیں جیسے سوتے سوتے کھلی رہ گئی ہوں۔ اس پر تنویمی نیند طاری ہو گئی تھی۔ میں رک رک کر کہتا جا رہا تھا، "میں ایک سے دس تک گنتا ہوں، ہر گنتی پر تم اس دنیا کے نظاروں سے دور ہوتی جا رہی ہو۔"

وہ بالکل خاموش پڑی ہوئی تھی اور پلکیں جھپکائے بغیر مجھے دیکھے جا رہی تھی۔ میں دو دو سیکنڈ کے وقفے سے گننے لگا۔ دس تک گننے کے بعد میں نے اسے مخاطب کیا، "میں تم سے مخاطب ہوں، تم میری آواز سن رہی ہو؟"

اس کی آواز کسی اندھے کنویں سے آئی، "ہاں، میں سن رہی ہوں۔"
"تمہارا نام زرینہ ہے؟"
"ہاں، میرا نام زرینہ ہے۔"
"نہیں، تمہارا نام حسینہ ہے،" میں نے حاکمانہ لہجے میں کہا۔
"میرا نام حسینہ ہے،" وہ ایک محکوم کی طرح بولی۔
"تم میری مطیع اور فرمانبردار ہو۔ میں جو کچھ پوچھوں گا، تم صحیح جواب دو گی۔ تمہاری عمر کتنی ہے؟"
"چوبیس برس۔"
"دوسروں کو اپنی عمر کیا بتاتی ہو؟"
"سولہ سال۔"
"تم میرے متعلق کیا سوچتی ہو؟"

"میں ہر وقت تمہارے متعلق سوچتی ہوں۔ تمہارا چہرہ، پہاڑ جیسا قد، اور فولاد جیسا جسم ہر وقت میرے حواس پر چھایا رہتا ہے۔ پھر کچھ دنوں سے تمہاری آنکھیں مجھے پکار رہی ہیں۔ تم جب دیکھتے ہو تو میرا وجود تمہاری طرف پرواز کرنے پر مائل ہو جاتا ہے۔ میں بار بار تمہارے کمرے میں آتی ہوں، لیکن تم انجان بن جاتے ہو۔"

میں حیرت زدہ اس شرمیلی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو معصومیت سے نظریں جھکائے رہتی تھی۔ اس کے بعد زرینہ نے جو کچھ بتایا، وہ میرے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ وہ نیند میں ڈوبی بتاتی رہی کہ وہ محلے کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتی تھی، لیکن میرے آنے کے بعد اس کے ارادے بدل گئے۔ وہ مجھے کسی بھی طرح حاصل کرنا چاہتی تھی اور مجھے متوجہ کرنے کے منصوبے بناتی رہتی تھی۔ اگر وہ مجھے اپنی طرف مائل نہ کر سکی تو وہ غزالہ کی طرح مجھ پر الزام لگا دے گی، اور چاروں ناچار مجھے اس سے شادی کرنی پڑے گی۔

وہ اتنی خوبصورت تھی کہ میں بغیر کسی منصوبے کے اس سے متاثر ہو سکتا تھا، لیکن میرے مستقبل میں شادی کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا تھا، اور شادی کا جھنجھٹ نہیں پال سکتا تھا۔ بظاہر وہ اتنی اچھی تھی کہ اس سے نفرت نہیں کی جا سکتی تھی، لیکن اس کے منصوبے نے مجھے بیزار کر دیا۔

میں نے کہا، "اچھی بات ہے۔ نہ میں تمہیں بدنام کرنا چاہتا ہوں، نہ خود بدنام ہونا چاہتا ہوں۔ ابھی تم میرا حکم مانو۔ جو میں کہتا ہوں، اس پر عمل کرو۔ بولو، تمہارے دل میں اب میری خواہش پیدا ہو گی؟"

وہ میرے حکم کے مطابق کہنے لگی، "میرے دل میں اب تمہاری خواہش پیدا نہیں ہو گی۔"
"تم مجھے بدنام نہیں کرو گی۔"
"میں تمہیں بدنام نہیں کروں گی۔"
"تم ایک شریف زادی کی طرح اپنے جذبات پر قابو رکھو گی۔"
میں بار بار اپنی بات دہراتا رہا، پھر اسے حکم دیا، "چلو، اب سو جاؤ۔ ایک گھنٹے بعد جب تم اٹھو گی تو میری ہدایت پر عمل کرو گی۔"

یہ عمل ختم کر کے میں کچھ دیر وہاں کھڑا رہا، پھر کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جلد از جلد مجھے اپنی آمدنی کا کوئی بندوبست کرنا چاہیے۔ یہاں مزید رکنا اب بدنامی کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ اچھا ہوا کہ میرا عمل کامیاب ہو گیا، ورنہ یہاں بھی غزالہ کی طرح ذلت اٹھانی پڑتی۔

ایک گھنٹے کے بعد وہ بیدار ہو گئی۔ آنکھ کھلتے ہی وہ حیرانی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی اور جلدی سے دوپٹہ اٹھا کر اپنا جسم ڈھانپنے لگی۔ اس وقت وہ ایسی بھولی اور معصوم نظر آ رہی تھی جیسے دھوکے اور فریب سے بالکل ناواقف ہو۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ تنویمی عمل کے دوران اس نے اپنے دل کے سارے راز اگل دیے تھے۔
"زرینہ، میں نے تمہیں لیٹنے کے لیے کہا تھا، تم لیٹتے ہی سو گئیں۔"

اس کی آنکھوں سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ سہمی ہوئی ہے اور سوچ رہی ہے کہ کہیں میں نے اس پر کوئی عمل تو نہیں کر دیا۔ وہ لاکھ سوچتی، مگر یہ نہیں جان سکتی تھی کہ میں تنویمی عمل کے ذریعے اس کی سوچ اور منصوبوں کو جان چکا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی۔

یہ حقیقت واضح ہو گئی تھی کہ انسان کا اصل چہرہ دیکھنے اور اس کے جھوٹ سچ کو سمجھنے کے لیے اس کے دماغ کی چھپی ہوئی باتوں کو جاننا ضروری ہے۔ میں اس قابل ہو گیا تھا کہ کسی کو ہپناٹائز کر کے اس کے دماغ کے پوشیدہ گوشوں تک پہنچ سکتا۔ اس وقت مجھے بڑی شدت سے بابا جی کی یاد آئی۔ مجھے اپنی اگلی منزل، یعنی خیال خوانی، کے لیے ان کی رہنمائی کی سخت ضرورت تھی۔ ویسے، میں ابتدائی معلومات کے ذریعے خیال خوانی کا علم سیکھ سکتا تھا۔ تنویمی عمل بھی میں نے اپنی خود اعتمادی کے سہارے سیکھا تھا۔ چنانچہ، میں نے اللہ کا نام لے کر اپنے طور پر کشفِ سمعی کی مشقیں شروع کر دیں۔

کشفِ سمعی سے اس فضا میں بکھری گم گشتہ آوازوں کو سننے کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ میں روزانہ گھر سے دس کلومیٹر دور چلا جاتا اور انہی درختوں کے جھنڈ میں پہنچ کر مراقبہ کرتا۔ پہلے نگاہوں کی قوت سے دوسروں کے دماغ میں اترنے کی مشقیں کی تھیں، اب قوتِ سماعت سے دوسروں کی سوچ کو پڑھنے کی مشقیں جاری تھیں۔ لیکن سننے کا عمل کانوں سے نہیں، دماغ سے تھا۔ میں اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لیتا تاکہ کسی پرندے کی آواز یا پتوں کی سرسراہٹ میرے کانوں تک نہ پہنچے۔ پھر آنکھیں بند کر کے اپنی تمام تر توجہ اس خیال پر مرکوز کر دیتا کہ میں اس کائنات میں صدیوں سے بکھری آوازوں کو سن رہا ہوں۔

یہ ایک دو دن کا عمل نہیں تھا، اس کے لیے برسوں کی ریاضت درکار تھی۔ اسے میری دیوانگی کہیے یا مستقل مزاجی، میں اپنی دھن کا پکا ہوں۔ جس کام کا قصد کر لوں، اسے تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہوں۔

اس عمل کے دوران میں آوازوں کی ایک نادیدہ اور پراسرار دنیا کا سفر کرتا رہا۔ کچھ عرصے کے بعد آوازوں کی دھند چھٹنے لگی، انتشار ختم ہونے لگا۔ میں ایک وقت میں ایک ہی آواز کو سننے کی کوشش کرتا اور باقی صداؤں کو جھٹک دیتا۔

ایسے ہی ایک موقع پر، جب میں ایک ہی آواز کو سن رہا تھا، مجھے بوڑھے بابا کی آواز سنائی دی۔ پہلے تو میں انہیں پہچان نہ سکا۔ وہ کہنے لگے:
"میں تمہارا ہی خیال ہوں۔ پہلے اپنی سوچ کو سمجھو کہ یہ ہے کیا؟ میں تمہاری سوچ کو پڑھ رہا ہوں۔ میں وہی بوڑھا ہوں جسے تم ٹرین میں ملے تھے اور جس سے میں نے دوبارہ رابطہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ میں اپنا وعدہ پورا کر رہا ہوں۔"

میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ میں اس وقت ان کی کمی شدت سے محسوس کر رہا تھا۔ میں ان سے سوال پر سوال کرنے لگا۔ وہ میری سوچ کو پڑھ رہے تھے، میرا جوش دیکھ رہے تھے۔

"تم علم کی اس حد تک پہنچ گئے ہو جہاں تم کسی بھی مانوس چہرے کے دماغ تک پہنچ سکتے ہو۔ تم اس چہرے کو تصور میں لا کر اس کی سوچ کو پڑھ سکتے ہو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔"

میرا دل خوشی سے معمور ہو گیا۔
"تم کسی دوست یا دشمن کا چہرہ تصور میں لاؤ،" بابا جی نے میری سوچ میں مجھے حکم دیا۔

میں کچھ دیر سوچتا رہا کہ کسے ذہن میں لاؤں۔ چچا، چچی، غزالہ، ظہیر اور شاہینہ کے ساتھ میرا بچپن گزرا تھا۔ شاہینہ کا خیال آتے ہی میرا دل اپنی بہن کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ اس کے سامنے ہر چہرہ ہیچ تھا۔

بابا جی نے میری سوچ کو پڑھ لیا۔ پھر میرے دماغ میں ان کا مشورہ گونجنے لگا:
"اچھی بات ہے، تم اس کام کا آغاز اپنی بہن سے کرنا چاہتے ہو۔ میرے دل میں تمہارے لیے احترام بڑھ گیا ہے۔ خدا کرے تم ہر نیک مقصد میں کامیاب رہو۔ اب میں تم سے رابطہ توڑ رہا ہوں۔ تم اپنی بہن سے رابطہ کرو۔"

میں نے ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے شاہینہ کا چہرہ اپنے تصور میں لانے کی کوشش کی۔ میں اس کی سوچ سن رہا تھا۔ پتہ نہیں شاہینہ کہاں تھی، کس حال میں تھی۔ اچانک میری سوچ کی لہریں اس کے معصوم دماغ سے ٹکرائیں۔ وہ اپنے محبوب کے تصور میں ڈوبی ہوئی تھی۔ میں اس کی سوچ پڑھنے لگا۔ اس سے پتہ چلا کہ میری بہن نے اپنا جیون ساتھی چن لیا ہے۔

میں نے اپنی سوچ کی قوت سے اسے پکارا:
"شاہینہ!"

وہ ٹھٹھک گئی۔ اس نے سوچا کہ میں اپنے آپ کو شاہینہ کہہ کر کیوں مخاطب کر رہی ہوں۔ اسی وقت میری سوچ نے کہا:
"شاہینہ، میں تمہاری سوچ ہوں۔ ہر انسان کے اندر مختلف سوچیں ہوتی ہیں: ایک مثبت، ایک منفی، ایک سوالیہ، دوسری جوابیہ۔ میں تمہاری سوالیہ سوچ ہوں۔ بتاؤ، تمہیں اپنے فرہاد بھائی جان کی یاد آتی ہے؟"

اس کے خیالات سنائی دیے:
"ہائے اللہ! میں اپنے پیارے بھائی کو بہت یاد کرتی ہوں۔ پانچ سال ہو گئے انہیں دیکھے ہوئے۔ پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوں گے۔ امی ابو نے بہت ظلم کیا۔ آج کل میں پنڈی آئی ہوئی ہوں۔ سوچا تھا شاید یہاں ان سے ملاقات ہو جائے، لیکن اب کل اسی طرح اداس واپس چلی جاؤں گی۔"

میں نے اس کی سوچ کو ٹوک دیا:
"تم واپس نہ جاؤ۔ کل تمہارے بھائی جان آ کر تم سے ملیں گے۔"

میں نے شاہینہ سے اس کی پسند کے بارے میں پوچھا، جس سے پتہ چلا کہ اس کا نام زبیر ہے۔ وہ اس کی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اور بہت امیر ماں باپ کا بیٹا ہے۔ میں اس کی سوچ کو مثبت سمت میں موڑتا رہا، اسے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا مشورہ دیا اور رابطہ منقطع کر دیا۔

میرے ذہن میں بوڑھے بابا جی کا تصور چلا آیا۔ وہ مجھے راستہ دکھا کر پھر سے غائب ہو گئے تھے، لیکن میں ان کا پیچھا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ میں نے ان کے چہرے کا تصور کیا۔ میری نگاہوں کے سامنے ان کا عکس ابھرنے لگا: جھریوں والا چہرہ، سفید داڑھی، سفید بھنویں اور سر کے سفید بال۔ ان کے چہرے کے اطراف دودھیا روشنی کا ہالہ تھا۔ میں نے ان کی بوڑھی آنکھوں میں جھانکا۔

وہ سوچ رہے تھے:
"موت کو سر پر دیکھ کر انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ زندگی کا خاتمہ یقینی ہے۔ انسان مختصر سی زندگی میں کیسے کیسے تماشے کرتا ہے، اپنے فائدے کے لیے کیا کیا علوم سیکھتا ہے۔ میں نے بھی ایسے ہی کیا۔ ایامِ جوانی میں غلط راستے پر چل نکلا، ایسے گناہ کیے جن پر شرمسار ہوں۔ جب جوانی کا زور نہ رہا تو نہ عورت رہی، نہ دولت کام آئی۔ قبر میں تنہا جانا ہے، سب یہیں رہ جائے گا۔"

اس حقیقت سے آشنا ہو کر میں نے توبہ کر لی۔ آہ! ہمیں کس وقت خدا یاد آتا ہے۔ میں اس دنیا میں اکیلا آیا تھا، اب اکیلا جا رہا ہوں۔

میں ان سے بہت متاثر ہوا۔ بے اختیار ان کی سوچ میں بولا:
"بابا، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں اور مرتے دم تک ساتھ رہوں گا۔ میں فرہاد ہوں۔ آپ نے میرے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، میں ہمیشہ آپ کے کام آؤں گا۔"

انہوں نے جواب دیا:
"تم میرے قریب نہیں رہ سکتے۔ اگر تم میرے کام آنا چاہتے ہو تو ہمیشہ میری بات یاد رکھنا: دوسروں کے کام آنا، اپنے فائدے کے لیے کسی کو نقصان نہ پہنچانا، صرف اپنے جائز حقوق کی حفاظت کرنا۔ دشمن للکارے تو اس کا جواب دو، ورنہ مسکرا کر ٹال دو۔ میرا آخری وقت ہے، یہ وقت میں اکیلے گزارنا چاہتا ہوں۔ میں تنہا موت کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔"

یہ کہہ کر انہوں نے مجھ سے رابطہ ختم کر دیا۔ یہ بابا جی کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔

بہرحال، بابا جی نے مجھے خود اعتمادی اور حوصلہ بخشا کہ میں اپنے طور پر خیال خوانی کے علم کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ مسلسل محنت کے بعد میں اس مقام پر پہنچ گیا تھا کہ میلوں دور بیٹھے کسی شخص کے دماغ سے رابطہ کر لیتا۔ پہلے پہل ان مشقوں کے لیے میں نے زرینہ کو اپنا معمول بنایا۔ وہ جہاں ہوتی، جس حال میں ہوتی، میں اس کی سوچ پر قابض ہو جاتا۔ شروع میں وہ ڈر جاتی، پھر آہستہ آہستہ میری مشقوں کا حصہ بننے لگی۔ وہ میری آنکھوں سے دیکھنے لگی۔ ایسے وقت میں اگر میں اسے قتل کرنے کا حکم دیتا تو وہ ذرا بھی نہ ہچکچاتی۔

میں اب تک لڑکیوں پر تجربات کرتا رہا تھا اور اپنی صلاحیتوں کو آزماتا رہا، پھر یہ سلسلہ ختم کر دیا۔ ایک مدت بعد میں اپنی محدود دنیا سے باہر نکلا۔ دوسرے لفظوں میں، یوں کہنا چاہیے کہ میں پہلی بار اس وسیع دنیا کے میدانِ عمل میں آیا، جہاں کتنے ہی ہنگامے اور قدم قدم پر للکارنے والے انجانے دشمن میرا انتظار کر رہے تھے۔ 
میرا پہلا ہدف میرے چچا تھے۔

ایک شام میں لارنس گارڈن وقت گزارنے چلا گیا۔ یہاں کی سرسبز و شاداب فضا، رنگ برنگے پھولوں اور مسکراتی حسیناؤں کے گلنار چہروں، اڑتے ہوئے رنگین آنچلوں نے ذہن کے انوکھے در کھٹکھٹائے۔ یہ نظارے ان دعوتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے جنہیں میں دانستہ بھول چکا تھا۔ میرے عزائم اور تھے، میری منزل مجھے پکار رہی تھی۔

میں تقریباً ایک گھنٹے تک پھولوں کی انجمن میں خرامان خرامان ٹہلتا رہا، پھر گارڈن کے نسبتاً سنسان گوشے میں چلا گیا۔ رات کی سیاہی آہستہ آہستہ پھیلتی جا رہی تھی۔ میں ایک جھاڑی کے پیچھے گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے اور مراقبے میں چلا گیا۔ میرا رخ شمال کی طرف تھا۔ میں نے اپنے دماغ کی لہریں چچا کے دماغ تک پہنچا دیں۔