دیوتا - 4

devta urdu novel urdu font

میں اپنی خیالی لہریں چچا تک پہنچا رہا تھا۔ ان کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے تھی، لیکن ان سے خیال کا رابطہ نہ ہو سکا۔ بہت سی آوازیں گڈمڈ ہو رہی تھیں۔ میں سمجھ گیا کہ چچا میلوں دور ہیں۔ اگر وہ اس شہر میں ہوتے تو ان سے فوراً رابطہ ہو جاتا۔

میں سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میرے جسم پر معمولی سا لباس تھا۔ میری جیب میں گنتی کے پیسے تھے۔ میں لاکھوں کی جائیداد کا حق دار ہونے کے باوجود مزید مفلسی کی زندگی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ چچی سے کچھ پیسے لے کر اپنا کام چلایا جائے، کیونکہ ان کے پاس جو کچھ بھی تھا، وہ میرا ہی تھا۔ یہ ہرگز چوری نہ تھی۔

یہ سوچ کر میں نے چچی سے دماغی رابطہ کیا۔ میرے دماغ میں ان کے گنگنانے کی آواز آنے لگی۔ شاید وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں۔ وہ اپنے آپ کو یقین دلا رہی تھیں کہ وہ اب بھی حسین اور کم عمر دکھائی دیتی ہیں۔

میں نے انہیں مخاطب کیا:
"ہیلو، بیگم ناصر! کہاں کی تیاری ہے؟"
وہ ٹھٹھک کر رک گئیں اور سوچنے لگیں کہ میں اپنے آپ کو بیگم ناصر کیوں کہہ رہی ہوں؟
میں نے ان کی سوچ کو اپنی گرفت میں لے لیا اور کہا:
"کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہماری سوچ ہم سے سوال کرتی ہے اور جواب بھی مانگتی ہے۔ اب تم بتاؤ، تم کہاں ہو؟"
وہ پلکیں جھپک جھپک کر دیکھنے لگیں، لیکن سامنے کا منظر واضح نہ ہوا۔
میں نے ان کی سوچ میں کہا:
"غور کرو، ذرا دھیان سے دیکھو کہ تم کہاں موجود ہو۔"
وہ دماغ پر زور دے کر ادھر اُدھر دیکھنے لگیں۔ سامنے سنگھار میز کا شیشہ نظر آ رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے کا منظر دیکھ رہی تھیں۔
"اب بتاؤ، تم کہاں ہو؟"
"میں اپنے کمرے میں ہوں۔"
"تم کہاں جا رہی ہو؟"
"میں غزالہ کی سہیلی کے ہاں شادی پر جا رہی ہوں۔ غزالہ اور ظہیر پہلے ہی جا چکے ہیں۔"
"گھر میں اور کون ہے؟"
"گھر میں صرف ایک چوکیدار ہے۔"
"تمہارے پرس میں کتنے روپے ہیں؟"
"ڈھائی ہزار۔"
"تمہارے کمرے کی سیف میں کتنے روپے ہیں؟"
"تیس ہزار روپے۔"
"اس کے علاوہ اور کیا ہے؟"
"زیورات ہیں: زمرد کی ایک انگوٹھی اور ہیرے کا ایک لاکٹ۔"
"تم اٹھو اور چوکیدار کی چھٹی کرا دو، پھر اپنا پرس لے کر پورچ میں آ جاؤ۔"
وہ معمول کے مطابق اٹھیں، اپنا پرس پکڑا اور باہر آ کر چوکیدار کو آواز دی۔

چوکیدار بھاگتا ہوا پورچ میں آیا۔
"تم اب کوارٹر میں جاؤ، ابھی تمہاری ضرورت نہیں،" انہوں نے چوکیدار سے کہا۔
"اب تم پورچ میں کھڑی ہو کر انتظار کرو۔ ایک ٹیکسی والا آئے گا، اس میں سے ایک اجنبی اترے گا۔ تم نے اسے دیکھا ہوا ہے، لیکن تم اسے نہیں پہچانتیں۔"
وہ سوچنے لگیں: "ہاں، میں اسے نہیں پہچانتیں۔"
اتنے میں میں ٹیکسی سے اتر کر اندر آ گیا۔ ان کا پرس کھولا اور پانچ روپے ٹیکسی والے کو دیے۔ پھر اندر آ کر گیٹ بند کر دیا۔

چچی صاحبہ مکمل طور پر میری ہدایات پر عمل کر رہی تھیں۔ میں انہیں لے کر ان کے کمرے میں آ گیا۔
"اب تم صوفے پر بیٹھ جاؤ۔"
وہ صوفے پر بیٹھ گئیں۔
میں ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ ابھی تک میں نے زبان سے ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھیں، اور میں سن رہا تھا۔

"اب یہ بتاؤ کہ زمینوں کے کاغذات کہاں ہیں؟"
وہ سوچنے لگیں: "زمینوں کے دو قسم کے کاغذات ہیں: ایک اصلی، جو فرہاد علی تیمور کے والد کے نام ہیں، اور ایک نقلی، جو میرے خاوند نے پٹواری کے ساتھ مل کر نہایت چالاکی سے اپنے نام پر بنوائے ہیں۔"

میں نے پوچھا: "اصلی کاغذات کہاں ہیں؟"
"بینک کے لاکر میں۔"
"لاکر کس کے نام ہے؟"
"میرے نام۔"
"تمہارا خاوند ناصر اتنے قیمتی کاغذات تمہارے لاکر میں کیوں رکھتا ہے؟"
"میں خود اسے اتنا موقع نہیں دیتی کہ وہ کاغذات اپنے پاس رکھے۔ اگر جوش و جذبات میں اس نے یہ کاغذات فرہاد کو دے دیے تو میرا بیٹا کنگال ہو جائے گا۔"

"تمہارے اکاؤنٹ میں کتنے روپے ہیں؟"
"پندرہ لاکھ۔"
"اور زیورات کہاں ہیں؟"
"لاکر میں۔"
"چلو، اٹھو، اب کوئی سوٹ کیس لاؤ۔"
وہ اٹھیں اور الماری کھولنے لگیں۔ الماری میں بے شمار بیش قیمت کپڑے اور شالیں لٹکی تھیں۔ میرے ذہن میں پھوپھو کے پرانے کپڑوں کا خیال آیا۔ میں نے ساری چیزیں اٹھا کر سوٹ کیس میں رکھیں۔

"اب اس میں سارے پیسے اور زیورات رکھ دو۔"
وہ اٹھیں اور فرمانبرداری سے سارے پیسے اور زیورات نکال کر سوٹ کیس میں رکھ دیے۔
میں نے سوٹ کیس بند کیا اور ان کے دماغ میں کہا:
"تم مجھے یاد نہیں رکھو گی۔ سب بھول جاؤ گی۔"
وہ فرمانبرداری سے میری بات دہرانے لگیں۔
"مرحوم تیمور علی کی زمینوں کے اصلی کاغذات تم نکال کر لاؤ گی۔"
انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
"اب میں جاتا ہوں۔ تم ادھر بیٹھ جاؤ اور گنگناتی رہو۔"
وہ صوفے پر بیٹھ گئیں اور بے سرا گنگنانے لگیں۔

میں خاموشی سے سوٹ کیس اٹھا کر وہاں سے نکل آیا۔ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اپنے پہلے مشن میں کامیاب ہو چکا ہوں۔ میں ٹیکسی کی سیٹ کی پشت پر ٹیک لگائے سوچ رہا تھا کہ اگر ٹیکسی ڈرائیور کا ایمان خراب ہو گیا تو وہ کتنی آسانی سے میری رقم ہڑپ کر سکتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے میں نے اس کی سوچ میں چھلانگ لگائی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک کشمکش سے گزر رہا ہے۔ گھر پر بوڑھی ماں ہے، ایک جوان بہن ہے، اور کھانے کو کچھ نہیں۔ اگر میں اس مسافر کا سامان لوٹ لوں تو کسی کو معلوم نہیں ہوگا۔ پھر وہ خود ہی اپنی بات کی نفی کرتا ہے: "میرے جیسا شریف آدمی یہ کیسے کر سکتا ہے؟ نہیں، نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔"

میں اس کی سوچ پڑھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ایک شریف انسان کو خود پر قابو رکھنے کے لیے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے گھر سے کچھ دور پہلے اسے ٹیکسی روکنے کو کہا۔

میں نیچے اترا اور اسے سامان اٹھانے کے لیے کہا۔ وہ نیچے اترا اور ڈگی کھولی۔ میں نے سوٹ کیس کی زپ کھول دی۔ وہ حیرانی سے نوٹوں کو دیکھنے لگا۔

میں نے چھے سات ہزار روپے اٹھا کر اس کی جھولی میں ڈالے اور سوٹ کیس اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑا۔ جیسے ہی میں دروازے پر پہنچا، دروازے پر کسی کا سایہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ گلی کی نیم تاریکی میں پہلے تو وہ پہچانا نہ گیا، پھر میں سمجھ گیا کہ وہ جمال ہے، جس سے زرینہ چھپ چھپ کر بات کرتی تھی۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا اس کے پیچھے آیا۔ وہ ذرا سی آہٹ پا کر چونکا تو میں نے فوراً ایک ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی۔

آدھے کھلے دروازے سے زرینہ ایک سائے کی طرح کھڑی نظر آئی، پھر مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹی اور کمرے کی تاریکی میں گم ہو گئی۔

جمال اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔

میں نے جھٹکا دیتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا:
"جمال، اگر میں بات بڑھاؤں گا تو یہ لڑکی بدنام ہو جائے گی۔ میں اس بار تجھے چھوڑ دیتا ہوں۔ آئندہ اگر میں نے تجھے اس گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا تو تیری لاش گرا دوں گا۔"

میں نے اسے دھکا دیا۔ وہ گرتے گرتے سنبھل کر بھاگ گیا۔ میں دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔ زرینہ کمرے کے ایک گوشے میں لالٹین روشن کر رہی تھی۔ اپنا چہرہ چھپانے کے لیے میری جانب پشت کیے کھڑی تھی۔

ایسے وقت میں اس کے خیالات کو سمجھنا ضروری تھا کہ عشق میں ناکامی کے بعد وہ کیا سوچ رہی ہے۔ میں اس کی سوچ پڑھنے لگا۔ وہ سوچ رہی تھی:
"اے اللہ! میں کیا کروں؟ کیسے اپنی صفائی پیش کروں؟ کیا میں عورت نہیں؟ فرہاد خود تو پتھر ہے، میری طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا، کسی اور کو بھی دیکھنے نہیں دیتا۔ ٹھیک ہے، اگر یہ میری بات نہ مانے تو میں بھی اس پر الزام لگاؤں گی کہ یہ تہمت لگا رہا ہے۔"

میں حیرت زدہ رہ گیا۔
میں نے اسے پکارا: "زرینہ!"

وہ پلٹ کر اپنی صفائیاں دینے لگی۔ میں نے محبت سے کہا:
"میں جانتا ہوں تم نے اسے نہیں بلایا۔ چھوڑو، جانے دو۔ یہ سوٹ کیس کمرے میں لے جاؤ، میں آتا ہوں۔"

میں کمرے میں پہنچا تو وہ سوٹ کیس کے پاس کھڑی تھی۔ اس کا دوپٹہ ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا۔ میں نے دلچسپی سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ یقیناً مجھے متوجہ کرنے کے لیے کھڑی تھی۔ میں نے اس کشش کو دل سے محسوس کیا۔

"زرینہ، یہ سوٹ کیس کھولو۔"
وہ حیرت سے میرے اس معمولی سے حکم پر آگے بڑھی اور سوٹ کیس کھولنے لگی۔ کھلتے ہی اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

"یہ پیسے، یہ زیورات، اور اتنی ساڑھیاں؟ یہ کہاں سے لائے ہو؟"
"یہ پیسے میرے ہیں، اور یہ زیورات اور ساڑھیاں تمہاری ہیں۔"
میں نے ہیرے کا لاکٹ اٹھا کر اسے پہنانے لگا۔
"تم نے کبھی اصلی ہیرا دیکھا ہے؟"
اس نے نفی میں سر ہلایا اور اس جگمگاتے ہیرے کو دیکھنے لگی۔
میں نے کہا، "میں اس ہیرے کو تمہارے گلے کا ہار بنا رہا ہوں۔"

میں اپنے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے لے جا کر ہار کی ہک لگانے لگا۔ اگرچہ وہ برسوں سے کسی مرد کی قربت میں بہکنے کے لیے تڑپ رہی تھی، میں نے محسوس کیا کہ اس کے باوجود وہ اپنے ارمانوں کی پہلی دہلیز پر سہمی سہمی سی لرز رہی تھی۔

پچھلے کئی برسوں سے تنویمی عمل کے دوران میں عامل رہا اور وہ معمولہ۔ وہ اس وقت بھی ایک معمولہ تھی، لیکن ایک عامل کی طرح مجھے سحرزدہ کر رہی تھی۔ وہ مجھے ٹرانس میں لا رہی تھی، اور میں اسے ٹرانس میں لا رہا تھا۔ مٹھائی پر چاندی کا ورق چڑھا ہو تو بھلا لگتا ہے، لیکن عورت پر سونے چاندی کا لباس ہو تو بوجھ لگتا ہے۔

میں اس مٹھاس سے ایک ورق ہٹانے لگا۔ لذت، حرارت، نزاکت، اور بے چینیوں سے بھرپور ایک عورت کے نازک بدن میں کتنی سحر انگیزیاں چھپی ہوتی ہیں، یہ میں سمجھ رہا تھا۔ کچھ سیکھ رہا تھا، کچھ سکھا رہا تھا۔ میری زندگی کا ایک حسین اور رنگین باب کھل رہا تھا۔ رات اپنے جوبن پر آ گئی تھی۔ وقت گزر رہا تھا۔

ہم جذبات کے طوفان میں بہتے بہتے رات کے آخری حصے میں آ گئے۔ زرینہ اب مجھ سے اپنا آپ چھڑانے لگی، اور میں تشنگی کا احساس لیے پیچھے ہٹ رہا تھا۔

صبح میری آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں نہیں تھی۔ میرا خیال تھا کہ اب وہ کسی جمال یا کمال کے پیچھے اپنی زندگی برباد کرنے نہیں جائے گی۔

میں سوٹ کیس اٹھا کر پھوپھی کے پاس لے آیا۔ اچھا لباس پہنا، کچھ نوٹ جیب میں رکھے، اور باہر نکل گیا۔ آج کچھ تفریح کا موڈ تھا۔ پہلی بار میری جیب نوٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کہ پیسے لٹاؤں، جو جی چاہے خریدوں، جسے دل کرے دے دوں۔ مگر میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ صبر سے کام لینا چاہیے۔ کل بینک کھلنے کا انتظار کرنا چاہیے۔ اپنے اہم مقصد کو بھول کر عیش و آرام میں گم ہو جانا دانشمندی نہیں۔

یہ سوچ کر میں نے دس میل کا فاصلہ طے کیا اور اسی درختوں کے جھنڈ میں چلا آیا۔ وہاں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور چچی کی سوچ سے رابطہ کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

چچی کے دماغ میں جھنجھلاہٹ اور پریشانی تھی۔ وہ سوچ رہی تھیں: "میں کیا کروں؟ کسے بتاؤں کہ پیسے اور زیورات تجوری سے غائب ہو چکے ہیں، جبکہ چابی بھی میرے پاس تھی؟ کون میرا یقین کرے گا؟ گھر میں بھی کوئی نہیں آیا۔"

وہ میری ہدایت کے مطابق میرے بارے میں سب کچھ بھول چکی تھیں۔ اتنے میں غزالہ کی آواز سنائی دی۔ میں اس کے دماغ میں نہیں جا سکتا تھا، کیونکہ ایک وقت میں دو لوگوں کے دماغ کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔

چچی کی سوچ نے کہا: "آؤ، غزالہ! بیٹی، دروازہ بند کر دو۔"

میں سمجھ گیا کہ چچی کے کمرے میں غزالہ آئی ہے۔ میں نے چچی سے دماغی رابطہ توڑ کر غزالہ کی سوچ سے رابطہ کیا۔ وہ کہہ رہی تھی:
"کیا بات ہے، ممی؟ آپ کچھ پریشان ہیں؟"

جواب میں خاموشی چھا گئی۔ چچی کہہ رہی تھیں، اور غزالہ سن رہی تھی۔ میں ایک وقت میں دونوں سے رابطہ قائم نہیں کر سکتا تھا۔

تھوڑی دیر بعد غزالہ کی سوچ نے کہا: "یہ کیسے ممکن ہے، ممی؟ چابی بھی آپ کے پاس تھی، اور پیسے بھی غائب ہیں، زیورات بھی غائب ہیں۔ آپ کہہ رہی ہیں کہ کوئی کمرے میں آیا ہی نہیں؟"

وہ یقین نہیں کر رہی تھی، جبکہ چچی اسے یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

غزالہ کی سوچ پڑھ کر مجھے اس سے جڑے پرانے واقعات یاد آنے لگے۔ کس طرح اس نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگا کر مجھے ذلیل کیا تھا۔ میرے اندر انتقام کی آگ بھڑکنے لگی۔ میں سوچنے لگا کہ کس طریقے سے غزالہ سے بدلہ لیا جائے۔ یوں تو ہوش و حواس کے عالم میں ہر انسان گناہ سے نفرت کرتا ہے، لیکن گناہ کرنے کا کوئی نہ کوئی جواز بھی پیدا کر لیتا ہے۔ میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ غزالہ تو مجھے خوامخواہ بدنام کر چکی ہے۔ میں ایک ناکردہ گناہ کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں، تو کیوں نہ اس کے حسن و شباب سے فیض حاصل کروں؟

چچی کہہ رہی تھیں: "یہ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے ڈیڈی سے کہہ دوں گی کہ سیف کی چابی گم ہو گئی ہے یا کہیں رکھ کر بھول گئی ہوں۔ پانچ دس ہزار کی ضرورت پڑی تو تم دے دینا۔ کل بینک کھلتے ہی میں تمہیں واپس کر دوں گی۔"

پھر غزالہ اٹھ کر وہاں سے نکل آئی۔ میں نے اس کی سوچ پڑھی۔ وہ اپنی ماں کے خلاف سوچ رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ ممی نے اپنی عیاشیوں کے لیے پیسے ہڑپ کر لیے ہیں۔ وہ اپنی ماں کی گھٹیا فطرت سے خوب واقف تھی۔

میں نے غزالہ سے خیالی رابطہ ختم کر دیا۔ فی الحال میں ظہیر پر توجہ دینا چاہتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ مال روڈ والی ساری دکانیں ظہیر کے نام ہیں۔ مجھے کوئی ایسا قانونی طریقہ سوچنا تھا جس سے وہ دکانیں میرے نام ہو جائیں۔ قانونی دستاویزات کے مطابق میں زمینوں کا مالک بن سکتا تھا، لیکن کوٹھی اور ان دکانوں پر اپنی ملکیت ثابت نہیں کر سکتا تھا۔

کوئی بہت ہی دانشمندانہ طریقہ سوچنے کے لیے میں نے ظہیر کا تصور کیا تاکہ اس سے معلومات حاصل کر سکوں۔ اس کی سوچ کو پڑھتے ہی معلوم ہوا کہ وہ قدرے بیمار ہے۔ کل کی شادی کی دعوت میں اس نے زیادہ کھا لیا تھا، جس سے وہ بدہضمی کا شکار ہو گیا تھا۔

وہ سوچ رہا تھا: "پلاؤ اور قورمہ کھا کر کس مصیبت میں پڑ گیا ہوں۔ پیٹ میں سخت درد ہے۔ ایک گولا سا ہے جو ادھر اُدھر گھومتا محسوس ہو رہا ہے۔"

میں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اس کی سوچ میں کہا: "درد بڑھتا جا رہا ہے۔ میرے پیٹ میں پتہ نہیں کیا ہے، سمجھ نہیں آ رہا۔"
وہ شروع سے ہی وہمی تھا۔ اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور ادھر اُدھر چکر لگانے لگا۔
میں نے اس کے وہم کو مزید ہوا دی: "میرا درد بڑھتا جا رہا ہے۔ میرا سانس بند ہو رہا ہے۔ کیا میں مرنے لگا ہوں؟"
موت کے خیال سے اس کی حالت غیر ہونے لگی۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا: "کلمہ پڑھو۔"
اسے کلمہ یاد نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر سوچنے لگا۔ میں رک رک کر، ٹھہر ٹھہر کر اس کی سوچ میں کلمہ پڑھنے لگا۔ وہ میرے پیچھے پیچھے دہرانے لگا۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا: "ہاں، اب سکون آ رہا ہے۔ ایمان کی دولت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔"
وہ اطمینان محسوس کرنے لگا۔ میں نے اس کی سوچ سے رابطہ ختم کر دیا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ کچھ دیر مذہبی سوچوں کو اپنے ذہن میں حاوی رکھے گا۔

میرا منصوبہ یہ تھا کہ میں آہستہ آہستہ اس کے دماغ پر ایمان کا نشہ حاوی کر دوں گا اور اسے مولوی بنا دوں گا۔ وہ دولت کی بجائے ایمان سے اپنی دنیا سنوارنے کے لیے تگ و دو کرے گا۔ اپنی دکانیں شاہینہ کے نام کر دے گا۔ میں اسے نیکی کے راستے پر لگا کر دکانیں اپنے نام نہیں کرانا چاہتا تھا، کیونکہ پھر وہ نیکی نہ ہوتی۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا کہ میں نے جائیداد کے لیے مذہب کے حربے کو استعمال کیا ہے۔ لہٰذا، میں نے اپنی کوئی غرض یا لالچ نہیں رکھا۔

میں وہاں سے شہر چلا آیا۔ شہر پہنچ کر میں نے دو سوٹ کا کپڑا خرید کر درزی کو دیا، چار ریڈی میڈ سوٹ خریدے، کچھ جوتے لے لیے، پھوپھو اور زرینہ کے لیے کچھ کپڑے خریدے، اور گھر واپس آ گیا۔

پھوپھو میرا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے چچا کے سامنے والی کوٹھی کرائے پر لے لی تھی۔ وہ چچا سے جلی بھنی بیٹھی تھیں۔ ایک عرصے بعد انہیں چچا کو نیچا دکھانے کا موقع مل رہا تھا۔ میں نے انہیں صرف ضروری چیزیں ساتھ لے جانے کو کہا۔ زرینہ ان کے ساتھ بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر اس نے منہ پھیر لیا۔

میں نے پھوپھو کو شفٹنگ کی تیاری کا کہہ کر کمرے میں چلا آیا۔ نہا کر نیا لباس پہنا۔ میری شخصیت میں نکھار آ گیا تھا۔

میں باہر نکلا تو زرینہ، جس نے تھوڑی دیر پہلے منہ پھیر لیا تھا، دیکھتی رہ گئی۔ اس بار میں نے منہ پھیر کر نکل آیا۔ پھوپھو کے پاس ڈوپلیکیٹ چابیاں تھیں۔ میں نے ایک سیٹ لیا اور کہا:
"آپ زرینہ کے ساتھ مل کر شام تک وہاں آ جائیں۔ یہ سب سامان خیرات کر دیں۔"

میں نے سوٹ کیس میں پیسے چیک کیے اور اٹھا کر گلبرگ فرنیچر مارکیٹ چلا گیا۔ وہاں جا کر میں نے بیڈ رومز اور ڈرائنگ روم کے لیے نیا سامان خریدا۔

اس دنیا میں جتنے بھی کھیل ہوتے ہیں، سب پیسے کے کھیل ہیں۔ کل میرے پاس پیسے نہ تھے۔ لنڈے کے جوتے اور کپڑے پہنتا تھا۔ آج اتنی دولت تھی کہ میں نے دس ہزار کا فرنیچر خرید لیا۔

رات کے گیارہ بجے تک میں نے پورا گھر سیٹ کر دیا۔ پھر ڈنر کے لیے ایک چائنیز ریستوران چلا گیا۔ وہاں کا ماحول خوابناک اور رومان پرور تھا۔ ہر طرف خوش باش مسکراتے چہرے اور رنگین آنچل تھے۔ میں تنہائی محسوس کرنے لگا۔ اس رومان پرور ماحول میں مجھے زرینہ کی رنگین صحبت یاد آ گئی۔ وہ پہلی دوشیزہ تھی جس نے مجھے انسانی مسرتوں کے ایک نئے ذائقے سے روشناس کروایا۔

اس وقت بھی میں چاہتا تو کسی حسینہ کی سوچ تک رسائی حاصل کر کے اسے اپنی طرف مائل کر سکتا تھا، لیکن میں نے اپنے آپ سے سختی سے وعدہ کر رکھا تھا کہ میں اپنے علم کو گناہ یا کسی غلیظ مقصد کے لیے استعمال نہیں کروں گا۔

یہ سوچتے ہوئے مجھے غزالہ یاد آ گئی۔ اس کی یاد کے ساتھ اس کا سراپا نگاہوں کے سامنے طلوع ہو گیا۔ چاندنی سے تراشا ہوا بدن سفید نائٹی میں جھلمل جھلمل ستاروں کی طرح جھانکنے لگا۔

ایک وقت تھا جب اس نے اپنے آپ کو میرے حوالے کرنا چاہا، اور میں نے اپنی نادانی میں اسے گنوا دیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے لذت گناہ ملتی ہے، پھر بدنامی سے واسطہ پڑتا ہے۔ لیکن غزالہ کے سلسلے میں، میں پہلے ہی بدنام ہو چکا تھا۔

ایک عرصے بعد پھر سے اس تک پہنچنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ میری موجودہ شخصیت کو دیکھتے ہی پگھل جائے گی۔ اس کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر ہوتی بھی تو میں اسے غزالہ کے لیے ہرگز استعمال نہ کرتا۔ مضبوط ارادے اور مستحکم منصوبہ بندی میرے کردار کی خصوصیات ہیں۔

میں اپنے جذبات کو علم کی مٹھی میں بند کر سکتا ہوں، مگر علم کو جذبات کے دھارے پر نہیں چھوڑ سکتا۔ آدمی کی سوچ صحت مند ہو تو وہ بہت سی غلطیوں سے بچ جاتا ہے۔ اس وقت بھی میں نے یہی سوچا کہ مجھے اگلے دن کی منصوبہ بندی کر کے سو جانا چاہیے۔

میں وہاں سے اٹھ کر نئے گھر میں آ گیا۔ اپنے بیڈ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھا، ایک سگریٹ سلگایا، اور کل کے لیے کچھ چیزیں سوچیں، پھر سو گیا۔ سونے سے پہلے اپنے دماغ کو صبح پانچ بجے اٹھنے کی ہدایت دی۔

صبح مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے میری آنکھ کھل گئی۔ میں اپنی علمی مشقوں کے لیے اوپر بنے کمرے میں چلا آیا۔ ابھی چاروں طرف اندھیرا اور خاموشی تھی۔ میں نے حبسِ دم یعنی سانس روکنے کی مشق شروع کر دی۔ جب اچھی طرح دن نکل آیا تو ناشتہ کرنے کے لیے بازار چلا گیا۔ واپس آ کر اپنے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ابھی آٹھ بجے تھے۔ بینک کھلنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ میں چچی کی سوچ پڑھنا چاہتا تھا۔